12/02/2024
*ایک عالم پر کتنی محنت کی جاتی ہے۔....؟؟؟؟*
کتنا طویل عرصہ وہ گھر سے دور رہ کر گزارتا ہے۔ ماں باپ سے دور بہن بھائی سے دور انکی محبتوں اور شفقتوں سے دور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے دور سالہا سال تک وہ مسافرانہ زندگی گزارتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ہی گھر میں اجنبی سا بن جاتا ہے سال بعد چند عشروں کیلئے مہمان بن کر آتا ہے۔ اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔
اس طویل ترین دورانئے میں کس قدر کھٹن تکلیف دہ اور صبر آزمالمحات آتے ہیں۔ وہ چپ چاپ سہہ لیتا ہے۔ بھول جاتا ہے نہ بھولے تو بتکلف بھلا دیتا ہے۔
بیماری، تنہائی، اکیلے پن اجنبیت ڈر و خوف، گھر کی یاد اور گھر والوں کی یاد ستا کر اسکو بے حال کردیتی ہے۔ تنگ آکر زیادہ سے زیادہ وہ بستر میں سر لپیٹ کر رو دیتا ہے۔ اگلے دن وہ نئے عزم نئے حوصلے اور نئی مسکراہٹ کے ساتھ درسگاہ جاتا ہے علم سیکھتا ہے اسی میں دل لگاتا ہے اور اتنا لگاتا ہے کہ بس اسی کا رہ جاتا ہے۔ باقی سارے غم بھول جاتا ہے۔
اس عالم کے والدین بہن بھائی بھی جگر چھیل کر اپنے بیٹے کی جدائی سہتے ہیں۔گزارہ کر کر کے پیٹ کاٹ کاٹ کر اس کیلئےکسی نہ کسی طرح خرچ کا انتظام کرتے ہیں ۔ غرض قربانی ہی قربانی عزیمت ہی عزیمت ہے مگر لوگ اس سے بلکل بے خبر ہوتے ہیں کہ ایک عالم پر کتنی محنت کی جاتی ہے۔ اس کیلئے کتنے لوگ قربانیاں دیتے ہیں۔
اسکے عمر رسیدہ اساتذہ اپنی پیرانہ سالی میں کس قدر محنت و مشقت سے پڑھاتے ہیں۔ کس درد سے تربیت فرماتے ہیں۔ کس شوق سے حوصلے ابھارتے ہیں۔ ایک پورا مدرسہ اور ادارہ اپنے طلباء پر کس قدر محنت کرتا ہے۔
مگر عوام کو اسکی چنداں خبر و فکر نہیں ۔ بس آتے ساتھ ہی مفت کے مشورے ٹھونسے جاتے ہیں فلاں جگہ پوسٹ آئی ہے۔ فلاں میرا جاننے والا ہے آپکو کام پہ رکھ لے گا۔ کوئی تجارت کے مشورے دیتا ہے تو کوئی ملازمت کے۔ ابھی سالانہ پرچے بھی نہیں دئیے ہوتے کہ لوگ پوچھ پوچھ کر کان کھا جاتے ہیں۔
"آگے کیا ارادہ ہے ؟ کیا کام کروگے۔۔۔۔۔؟"