*ایک عالم پر کتنی محنت کی جاتی ہے۔....؟؟؟؟*
کتنا طویل عرصہ وہ گھر سے دور رہ کر گزارتا ہے۔ ماں باپ سے دور بہن بھائی سے دور انکی محبتوں اور شفقتوں سے دور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے دور سالہا سال تک وہ مسافرانہ زندگی گزارتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے ہی گھر میں اجنبی سا بن جاتا ہے سال بعد چند عشروں کیلئے مہمان بن کر آتا ہے۔ اور یہ سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔
اس طویل ترین دورانئے میں کس قدر کھٹن تکلیف دہ اور صبر آزمالمحات آتے ہیں۔ وہ چپ چاپ سہہ لیتا ہے۔ بھول جاتا ہے نہ بھولے تو بتکلف بھلا دیتا ہے۔
بیماری، تنہائی، اکیلے پن اجنبیت ڈر و خوف، گھر کی یاد اور گھر والوں کی یاد ستا کر اسکو بے حال کردیتی ہے۔ تنگ آکر زیادہ سے زیادہ وہ بستر میں سر لپیٹ کر رو دیتا ہے۔ اگلے دن وہ نئے عزم نئے حوصلے اور نئی مسکراہٹ کے ساتھ درسگاہ جاتا ہے علم سیکھتا ہے اسی میں دل لگاتا ہے اور اتنا لگاتا ہے کہ بس اسی کا رہ جاتا ہے۔ باقی سارے غم بھول جاتا ہے۔
اس عالم کے والدین بہن بھائی بھی جگر چھیل کر اپنے بیٹے کی جدائی سہتے ہیں۔گزارہ کر کر کے پیٹ کاٹ کاٹ کر اس کیلئےکسی نہ کسی طرح خرچ کا انتظام کرتے ہیں ۔ غرض قربانی ہی قربانی عزیمت ہی عزیمت ہے مگر لوگ اس سے بلکل بے خبر ہوتے ہیں کہ ایک عالم پر کتنی محنت کی جاتی ہے۔ اس کیلئے کتنے لوگ قربانیاں دیتے ہیں۔
اسکے عمر رسیدہ اساتذہ اپنی پیرانہ سالی میں کس قدر محنت و مشقت سے پڑھاتے ہیں۔ کس درد سے تربیت فرماتے ہیں۔ کس شوق سے حوصلے ابھارتے ہیں۔ ایک پورا مدرسہ اور ادارہ اپنے طلباء پر کس قدر محنت کرتا ہے۔
مگر عوام کو اسکی چنداں خبر و فکر نہیں ۔ بس آتے ساتھ ہی مفت کے مشورے ٹھونسے جاتے ہیں فلاں جگہ پوسٹ آئی ہے۔ فلاں میرا جاننے والا ہے آپکو کام پہ رکھ لے گا۔ کوئی تجارت کے مشورے دیتا ہے تو کوئی ملازمت کے۔ ابھی سالانہ پرچے بھی نہیں دئیے ہوتے کہ لوگ پوچھ پوچھ کر کان کھا جاتے ہیں۔
"آگے کیا ارادہ ہے ؟ کیا کام کروگے۔۔۔۔۔؟"
NOON Online QURAN Academy
نبیﷺ کے فرمان کی
دھوم مچادو قرآن کی
صرف واٹس ایپ نمبر
+923088990258
اب آپ کے بچے گھر بیٹھے دینی تعلیم حاصل کریں
ہم پڑھاتے ہیں قرآن، حدیث،تفسیر، فقہ، دعائیں اور مکمل دینی تعلیم خواتین اور بچوں کےلئے کوالیفائیڈ لیڈیز ٹیچر کا انتظام ہے
نوٹ:عمر کی کوئی قید نہیں بچے، جوان،اور بوڑھے سب حضرات ایڈمیشن لے سکتے ہیں
خواہشمند حضرات اس نمبر پر رابطہ کریں
+923088990258
نیز یہ وٹس ایپ نمبر بھی ہے
بشری لمن كان له قلب سليم
ألأن يمكن لأطفالكم أن يتحصلوا التعل
مخالفت کھل کر کریں
مگر منافقت مت کریں
مخالفت جرا ٕت مند دلیر بہادر اور اعلی نسل انسان کی علامت ہے اور منافقت بے نسل بے کردار انسان کی صفت ہے
ان شاء اللہ العزیز بہت جلد منافقین کوپاوں تلے روند ڈالوں گا ۔
وطن زندگی
✨❄ *اِصلاحِ اَغلاط: عوام میں رائج غلطیوں کی اصلاح* ❄✨
🌻 *حضور اقدس ﷺ کی تاریخِ وِلادت باسَعادت کی مفصَّل تحقیق*
(تصحیح ونظر ثانی شدہ)
🌼 *حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی وِلادت مبارکہ کا سال:*
حضور اقدس حبیبِ خدا خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ولادت بابرکات عامُ الفِیل میں ہوئی۔ عام الفیل سے مراد وہ سال ہے جس سال اَبرہہ بادشاہ نے ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبے پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے کمزور پرندوں کے ذریعے ان کو نیست ونابود کیا تھا، جس کا ذکر سورۃ الفیل میں ہے۔
☀️ مستدرک حاکم میں ہے:
4180: عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ولد النبي ﷺ عام الفيل.
☀️ المعجم الکبیر میں ہے:
12432: عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: ولد رسول الله ﷺ عام الفيل.
▪️امام بیہقی رحمہ اللہ نے ’’دلائلُ النُبُوَّۃ‘‘ میں اس بات پر اہلِ علم کا اتفاق نقل فرمایا ہے:
وَالَّذِي لَا يَشُكُّ فِيهِ أَحَدٌ مِنْ عُلَمَائِنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ وُلِدَ عَامَ الْفِيلِ، وَبُعِثَ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنَ الْفِيلِ.
(باب العام الذي ولد فيه رسول الله ﷺ)
🌼 *حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی وِلادت باسعادت کا مہینہ:*
ماہِ ربیع الاوّل کو یہ عظیم الشان شرف حاصل ہے کہ اس میں حبیبِ خدا خاتَمُ الانبیاء فخرِ موجودات حضور اقدس ﷺ دنیا میں جلوہ افروز ہوئے، یقینًا یہ شرف اور مقام کسی اور مہینے کو حاصل نہیں، اس لیے اس حیثیت سے ماہِ ربیع الاوّل کو سال بھر کے تمام مہینوں پر فضیلت وفوقیت حاصل ہے۔
▪️ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ’’التمہید‘‘ میں اس بات پر اتفاق نقل فرمایا ہے:
وَلَا خِلَافَ أَنَّهُ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِمَكَّةَ فِي رَبِيع الْأَوَّلِ عَامَ الْفِيلِ، وَأَنَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ أَوَّلُ يَوْمٍ أَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ فِيهِ.
🌼 *حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ولادت باسعادت کا دن:*
حضور سرورِ کائنات ﷺ کی مبارک ولادت بروزِ پیر ہوئی، جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے:
▫️ صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: پیر کے روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھے نبوت عطا کی گئی (یا: پیر کے روز مجھ پر وحی نازل کی گئی)۔
وَسُئِلَ ﷺ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ، قَالَ ﷺ: «ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهِ».
(صحیح مسلم کتاب الصيام حدیث: 2804)
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی ولادت باسعادت پیر کے دن ہوئی۔
💐 *خلاصہ: تین مُتَّفَق عَلیہ باتیں:*
اس تفصیل سے تین باتیں معلوم ہوئیں جن پر امت کے اکابر اہلِ علم کا اتفاق ہے:
1⃣ حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ولادت باسعادت عامُ الفِیل میں ہوئی۔
2⃣ حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ولادت باسعادت ماہِ ربیع الاوّل میں ہوئی۔
3⃣ حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ولادت باسعادت پیر کے روز ہوئی۔
مذکورہ بالا تین باتوں پر جمہور کا اتفاق اور اجماع ہےجیسا کہ:
☀️ ملا علی قاری رحمہ اللہ ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں فرماتے ہیں:
وُلِدَ عَامَ الْفِيلِ عَلَى الصَّحِيحِ الْمَشْهُورِ، وَادَّعَى الْقَاضِي عِيَاضٌ الْإِجْمَاعَ عَلَيْهِ، وَاتَّفَقُوا عَلَى أَنَّهُ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فِي شَهْرِ رَبِيع الْأَوَّلِ. (بَابُ الْمَبْعَثِ وَبَدْءِ الْوَحْيِ)
☀️ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ ’’التمہید‘‘ میں فرماتے ہیں:
وَلَا خِلَافَ أَنَّهُ وُلِدَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِمَكَّةَ فِي رَبِيع الْأَوَّلِ عَامَ الْفِيلِ، وَأَنَّ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ أَوَّلُ يَوْمٍ أَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ فِيهِ.
🌼 *حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی تاریخِ ولادت بابرکات:*
حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی وِلادت مبارکہ سے متعلق سال، مہینے اور دن کے بارے میں امت کے اہلِ علم کے اتفاق کے بعد اس بات میں شدید اختلاف ہے کہ حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ولادت باسعادت کی تاریخ کیا تھی؟ اس حوالے سے امت کے حضرات اکابر کے متعدد اقوال ہیں جس کے نتیجے میں ربیع الاوّل کی 2، 8، 10، 12، 13، 14 تاریخیں ملتی ہیں۔
1⃣ امام نووی رحمہ اللہ نے ’’تہذیبُ الاَسماء واللُّغات‘‘ میں اس حوالے سے چار مشہور اقوال نقل فرمائے ہیں: 2، 8، 10، 12 ربیع الاوّل:
واتفقوا على أنه ولد يوم الاثنين من شهر ربيع الأول، واختلفوا هل هو فى اليوم الثانى أم الثامن أم العاشر أم الثانى عشر، فهذه أربعة أقوال مشهورة.
(الترجمة النبوية الشريفة)
2⃣ امت کے مؤرخین اور سیرت نگاروں کے دلائل اور تجزیے ملاحظہ کیے جائیں تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے طور پر کسی ایک تاریخ کو راجح قرار دیا ہے جس کی وجہ سے متعدد اقوال سامنے آتے ہیں، ان مذکورہ اقوال میں سے زیادہ تر ربیع الاوّل کی 2، 8، 10 یا 12 تاریخ کو بعض یا اکثر حضرات نے ترجیح دی ہے۔ بعض حضرات نے ربیع الاوّل کی 12 تاریخ کو مشہور قول قرار دیا ہے جیسا کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے ’’سیرت خاتم الانبیاء ﷺ‘‘ میں تاریخِ ولادت سے متعلق مذکورہ بالا متعدد اقوال نقل کرکے فرمایا کہ مشہور قول بارہویں تاریخ کا ہے۔ جبکہ متعدد حضرات نے ربیع الاوّل کی 8 تاریخ کو ترجیح دی ہے۔
▪️ علامہ احمد قسطلانی رحمہ اللہ کی کتاب ’’المواہب‘‘ سے ایک اہم اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’تاریخِ ولادت سے متعلق ایک قول 8 ربیع الاوّل کا ہے، شیخ قطب الدین قسطلانی فرماتے ہیں کہ یہی قول اکثر محدثین نے اختیار فرمایا ہے، حضرت ابن عباس اور حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم سے بھی یہی منقول ہے، اہلِ تاریخ ونسب نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، علامہ حمیدی اور ان کے شیخ ابن حزم کا بھی یہی قول ہے، شیخ قضاعی نے عُیون المعارف میں اس پر اجماع نقل کیا ہے، امام زہری نے امام محمد بن جبیر بن مطعم سے یہی روایت کیا ہے، وہ عرب کے نسب کے ماہر تھے اور انھوں نے اپنے والد حضرت جبیر رضی اللہ عنہ سے یہی بات روایت کی ہے۔‘‘
☀️ المواهب اللدنية بالمنح المحمدية:
وقيل: لثمان خلت منه، قال الشيخ قطب الدين القسطلانى: وهو اختيار أكثر أهل الحديث، ونقل عن ابن عباس وجبير بن مطعم، وهو اختيار أكثر من له معرفة بهذا الشأن، واختاره الحميدى، وشيخه ابن حزم، وحكى القضاعى فى «عيون المعارف» إجماع أهل الزيج عليه، ورواه الزهرى عن محمد بن جبير بن مطعم، وكان عارفا بالنسب وأيام العرب، أخذ ذلك عن أبيه جبير. (آيات ولادته ﷺ)
3⃣ شیخ التفسیر حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’سیرت المصطفی ﷺ‘‘ میں فرماتے ہیں:
’’ولادت باسعادت کی تاریخ میں مشہور قول تو یہ ہے کہ حضور پر نور ﷺ 12 ربیع الاوّل کو پیدا ہوئے، لیکن جمہور محدثین اور مؤرخین کے نزدیک راجح اور مختار قول یہ ہے کہ حضور ﷺ 8 ربیع الاوّل کو پیدا ہوئے۔‘‘
⭕ *تنبیہ:*
مصر کے مشہور ماہر فلکیات محمود پاشا صاحب نے 9 ربیع الاول کو تاریخِ ولادت قرار دیا جس کو مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ نے’’سیرت خاتم الانبیا ﷺ‘‘ میں جمہور کے خلاف بے سند بات قرار دیا ہے، اور مشہور محقق نامور فلکی حضرت اقدس مولانا موسی خان روحانی بازی صاحب رحمہ اللہ نے بھی ’’فلکیات جدیدہ‘‘ میں اس کی تردید فرمائی ہے۔
🌼 *حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی وِلادتِ مبارکہ کی تاریخ میں اختلاف کیوں؟؟*
یہاں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ جب حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ذاتِ بابرکات اس قدر عظیم الشان ہستی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ ہی کا مرتبہ ہے: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔۔۔ اسی طرح حضرات صحابہ کرام جو کہ حضور اقدس ﷺ کے جانثار تھے اور حضور اقدس ﷺ کی ہر ایک ادا انھوں نے محفوظ فرمائی تو پھر تاریخِ ولادت کی درست تعیین کیوں نہ ہوسکی؟؟ تو اس شبہ کے متعدد جوابات دیے گئے ہیں جن میں سےایک درست جواب یہ بھی ہےکہ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی ولادت مبارکہ کی تاریخ سے متعلق امت کا کوئی شرعی حکم وابستہ نہیں تھا اس لیے منجانب اللہ اس کی حفاظت کا اہتمام نہیں کیا گیا، سال بھر کی جن تاریخوں سے شریعت کے احکام وابستہ تھے تو ان سے متعلق حضور اقدس ﷺ کے ارشادات امت کے سامنے ہیں اور ان تاریخوں کو محفوظ رکھنے کا اہتمام امت نے بخوبی کیا، لیکن حضور اقدس ﷺ کی ولادت کی تاریخ سے متعلق قرآن وسنت میں کوئی مخصوص حکم نہیں ملتا اس لیے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی اِقدامات حضرات صحابہ کرام کی جانب سے اجتماعی طور پر سامنے نہیں آئے اور نہ ہی حضور اقدس ﷺ کی جانب سے ایسا کوئی حکم دیا گیا۔
📿 *حضور خاتَمُ الانبیاء ﷺ کی تاریخِ ولادت میں اختلاف سے واضح ہونے والا ایک اہم نکتہ:*
ماقبل کی تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی تاریخِ ولادت کی تعیین میں متعدد اقوال ہیں، یہ اختلاف خود اس طرف اشارہ کررہا ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی تاریخِ ولادت سے متعلق نہ تو حضور اقدس ﷺ نے کوئی حکم یا فضیلت بیان فرمائی، نہ ہی حضرات صحابہ کرام میں اس حوالے سے کسی خاص عمل یا جشن وغیرہ کا اہتمام تھا اور نہ ہی حضرات تابعین وتبع تابعین میں، کیوں کہ اگر اس تاریخ سے متعلق حضور اقدس ﷺ، حضرات صحابہ وتابعین کرام میں کوئی مخصوص عمل یا اہتمام یا جشن وغیرہ رائج ہوتا تو امت میں اس تاریخ ِ ولادت سے متعلق اس قدر اختلاف نہ ہوتا۔ اس اہم نکتے میں ہر مسلمان کے لیے بہت بڑا سبق ہے!! (تفصیل دیکھیے: اصلاحی خطبات)
✍۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
*مروجہ میلاد* */ضرب ھزارہ/*
اسلامی سال کے مطابق جب بھی ربیع اول کا ماہ مبارک اپنے چاند کے ساتھ طلوع ھوتا ھے ۔ تو دیکھتے ھی دیکھتے “”محقیقن “ المشتق من الحقہ ”سوشل میڈا “ پر مینڈک کی طرح بر آمد ھوجاتا ہیں ۔ موسم عاشق بھی عشق کا پرچم بلند کر دیتے ہیں ۔۔۔
یہ ھی حالت تقریبا محرم الحرام میں بھی دیکھنے کو ملتی اور بعض محقیقن المشتق من الحقہ تو علم کی بلندیوں کو چھوتے ھوۓ اپنی پرواز کو اڑانے بھرتے ھوے ،بلند و بالا دعوے اور بے تکی کے دلاٸل کے انبار لگاتے ھوے زمانہ کے مغلفین سے داد وصول کر کہ سالانہ پونچی کر لیتے ہیں باقی رہ گی کسر گیارویں شریف ، قل شریف وغیرہ پر پوری ھو جاتی ھے ۔
یہ زمانہ سٶشل میڈا کا ھے کسی مسلک کے عالم کی ادھوری وڈیوز کے کلب کاٹ کر ایک تماشا کا سین شروع کیا جاتا پھر اس پر عالی فہم کے لوگ تبصرے کرتے ہیں، کہ فلاں مسلک کے عالم ،مفتی ،خطیب نے یہ کہا اب اس پر اس کے ھم مسلک اس کے اوپر کیا فتوی ہیں ؟
قارٸین ! سب سے پہلے ھم اس میلاد النبی ﷺ کے معنی کو لیتے ہیں ،کہ اس کا مطلب کیا ھے ؟
میلاد عربی زبان کا لفظ ھے اس کا معنی ھے پیداٸش کا دن اور اردو زبان میں بھی مستعمل ھے اور معنی پیداٸش ھی ہے ۔۔
ملاحظہ : فرماٸیں :
مصباح اللغات صفحہ 966 اردو لغت فیروز اللغات صفحہ 719 ۔۔۔
جب میلاد کا معنی آپ نے پڑھ لیا ھے تو اس صورت میں ایک سوال ھے :
سوال یہ ھے کہ کیا میلاد النبی ﷺ کا کوٸی منکر دنیا میں ھے ؟ یقینا جواب میں نفی میں ہے ۔
میرا خیال تو یہ ھے کہ دنیا میں مسلمان تو بہت دور کی بات ھے کہ کوٸی میلاد کا منکر ھو، بلکہ کوٸی کافر بھی میلاد ”النبی“ ﷺ کا منکر نہیں ملے گا ۔
آپ ﷺ کے دنیا میں تشریف آوری کا منکر کوٸی نہیں ھے ۔
اصل مسٸلہ دنیا میں آنے کا نہیں بلکہ دنیا میں آنے کے بعد ملنے والے فریضہ کا ھے ، وہ فریضہ نبوت کا منصب ھے ۔
آج ھمارے ساری قوت صرف ھورہی ھے کہ میلاد مانو میلاد مانو بھاٸی اس کا منکر ھی کوٸی نہیں ھے ۔تو پھر میلاد مانو مانو کی رٹ چہ معنی دار؟ ورنہ پھر اگلے سوال کا جواب عنایت فرماٸیں اپنی قبر و حشر کو سامنے رکھ کر کہیں آپ صحابہ کرام کی قربانی پر پانی پھرنے کی بھر پور جد جہد میں مصروف عمل ہیں تو نہیں ہیں ؟ کیونکہ صحابہ ؓ نے اگر تلوار اٹھاٸی بدر ، احد ، حنین ،خیبر وغیرہ میں کیا وہ اس لیے تھی کہ مانو محمد ﷺ پیدا ھوگیں ہیں ؟
اگر جواب یہ ھی کہ صحابہ ؓ کی تمام تر قربانیاں میلاد منوانے کے لیے تھی پھر آپ کا قصور نہیں ھے ، بلکہ آپ کے ایمان میں تزلزل ھے ۔۔
*مروجہ میلاد*
علما۶ دیوبند کا نقطہ نظر کیا ھے مروجہ میلاد کے متعلق ؟
امام اہلسنت شیخ الحدیث والتفسیر حضرت علامہ سرفراز خان صاحب رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
”اس میں کوٸی شک و شبہ کی ادنی گنجاٸش بھی نہیں ھے کہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ عشق و عقیدت اور محبت عین ایمان ہے ۔ اور آپ کی ولادت سے لے کر وفات تک زندگی کے ھر شعبہ کے صحیح حالات و واقعات اور آپ ﷺ کے اقوال و افعال کو پیش کرنا باعث نزول رحمت خدا وندی ھے ۔ اور ھر مسلمان کا یہ فریضہ ھے کہ وہ آپ کی زندگی کے حالات کو معلوم کرے اور ان کو مشعل راہ بناے ۔ سال کے ھر مہینہ اور ھر مہینہ کے ہر ہفتہ میں اور ہر ہفتہ ہر دن میں اور دن کے ہر گھنٹے اور منٹ میں کوٸی اسیا وقت اسیا نہیں جس میں آپ کی زندگی کے حالات بیان کرنے اور سننے ممنوع ھوں۔ یہ بات محل نزاع نہیں ھے ۔۔
المنھاج الواضح صفحہ 160
قارٸین!
آپ نے پڑھ لیا علما۶ دیوبند کا نظریہ کہ علما دیو بند اللہ کے نبی ﷺ کے ذکر کو باعث رحمت خدا وندی سمجھتے ہیں ۔
پھر سوال یہ ھے کہ اصل مسٸلہ کیا ھے ؟
وہ مسٸلہ یہ ھے کہ کیا ربیع اول ک کی بارھویں تاریخ کا دن مقرر کر کہ اس میں میلاد منانا ، محفل اور مجلس میلاد کا انعقاد ، جلوس نکالنا یا کیک کاٹنا اور جھنڈیاں لگانا ڈانس اور شور غل ایک دوسرے کو جشن عید میلاد النبی کے مبارک دینا اور تشبہ مسجد نبیوی ، تشبہ بیت اللہ بنانا ،اسی دن کو خاص کر کہ فقرا۶ اور مساکین کو کھانا کھلانا ، وغیر یہ کام آنحضرت ﷺ اور حضرات صحابہ ؓ کرام اور اہل خیر القرون سے ثابت ھے ؟ اگر ثابت ھے تو کسی مسلمان کو انکار کرنے کا حق حاصل نہیں ھے کیونکہ جو کچھ انہوں نے کیا خواہ وہ فعلا یا ترکا کیا، وہ ھی دین ھے۔
اور اس کی مخالفت دین کی مخالفت ھے ۔ لیکن 23 سالہ دور نبوت اور 30 سالہ دور خلافت راشدہ کے گزرے ہیں اور ایک سو دس ہجری تک حضرت صحابہ کرام کا زمانہ رہا ھے ۔۔ کم پیش دو سو بیس سال تک اتباع تابعین کا دور تھا، عشق ان میں کامل تھا ،محبت ، عقیدت،ان میں زیادہ تھی ۔آنحضرت کی تعظیم ، احترام ان سے بڑھ کر کوٸی کرسکتا ھے ؟
اگر کوٸی ہمت کر کے ثابت کردے تو کسی اہل ایمان کو اس سے سر مو اختلاف نہیں ھوسکتا۔ یقینا پیش نہیں کیا جاسکتا ، تو سوال یہ کہ باوجود محرک اور سبب کے یہ بابرکت کام اور کار ثواب اس وقت کیوں نہیں ھوا؟
*محفل میلاد اور مجلس میلاد*
یہ دنوں الگ ہیں ۔ محفل میلاد و مجلس میلاداور چیز ھے اور آنحضرت ﷺ کا نفس ذکر ولادت باسعادت اور چیز ھے ۔
چنانچہ مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ المتوفی 1323ھ تحریر فرماتے ہیں :
”نفس ذکر ولادت مندوب ھے اور اس میں کراہت قیود کے سبب سے آٸی ھے (ج1ص 102 قدیم ایڈیشن)۔ نیز لکھتے ہیں: نفس ذکر ولادت فخر دو عالم علیہ الصلوة السلام کا مندوب ھے مگر بسبب انضمام ان قیود کے یہ مجلس ممنوع ھوگٸی “۔۔ *(ج 1 ص 110)*
اگر کسی کو محقق کے فہم میں قصور و فتور کی وجہ سے نفس ذکر ولادت اور عقد مجلس اور محفل میلاد میں فرق سمجھ نہ آٸے تو اس کج فہمی کاھمارے پاس کیا علاج ھوسکتا ھے ؟
آنکھیں اگر ہیں بند تو پھر دن بھی رات ھے
اس میں بھلا قصور کیا ھے آفتاب کا
اگر اس عنوان کو مزید پڑھنے چاہتے ہیں تو مطلع کر یں تاکہ ھم اگلی قسط مجلس میلاد کی تاریخی حقیقت آپ کے سامنے پیش کریں ؟
*خرم شھزاد ھزاروی*
*دار الافتا۶ ن والقلم گلبہار ٹاون لاھور*
*مَوْلايَ صَلِّ وَسَلِّـمْ دَائِمـاً أَبـَـدًا*
*عَلى حَبِيْبِـكَ خَيْــرِ الْخَلْقِ كُلِّهِـمِ*
مُحَمَّدٌ سَـيِّدُ الْكَــوْنَيْنِ وَالثَّقَلَـيْنِ
وَالْفَرِيْقَـيْنِ مِنْ عُـرْبٍ وَّمِنْ عَجَـمِ
أَمِنْ تَـذَكُّرِ جِيْرَانٍم بِـذِيْ سَـلَمِ
مَزَجْتَ دَمْعـاً جَرٰى مِنْ مُّقْلَةٍم بِدَمِ
أَمْ هَبَّـتِ الرِّيْحُ مِنْ تِلْقَآءِ كَاظِمَـةٍ
وَأَوْمَضَ الْبَرْقُ فِي الظَّلْماءِ مِنْ إِضَمِ
فَمَا لِعَيْنَيْكَ إنْ قُلْتَ اكْفُفَا هَمَتَــا
وَمَا لِقَلْبِكَ إنْ قُلْتَ اسْتَفِقْ يَهِـمِ
أيَحْسَـبُ الصَّبُّ أنَّ الْحُبَّ مُنْكَتِـمٌ
مَا بَيْنَ مُنْسَــجِمٍ مِّنْهُ وَمُضْطَـرِمِ
لَوْلاَ الْهَوٰى لَمْ تُرِقْ دَمْعاً عَلىٰ طَلِلِ
وَلاَ أَرِقْتَ لِـذِكْرِ الْبَـانِ وَالْعَلَـمِ
فَكَيْفَ تُنْكِـرُ حُبًّام بَعْدَمَا شَـهِدَتْ
بِهِ عَلَيْـكَ عُدُوْلُ الدَّمْعِ وَالسَّـقَمِ
وَأَثْبَتَ الْوَجْدُ خَطَّيْ عَبْرَةٍ وَّضَـنًى
مِّثْلَ الْبَهَـارِ عَلىٰ خَدَّيْكَ وَالْعَنَـمِ
نَعَمْ سَرٰى طَيْفُ مَنْ أَهْوٰى فَـأَرَّقَنِي
وَالْحُبُّ يَعْتَـرِضُ اللَّـذَّاتِ بِالأَلَـمِ
يَا لائِمِيْ فِي الْهَوٰى الْعُذْرِيِّ مَعْذِرَةً
مِّنِّي إِلَيْكَ وَلَوْ أنْصَفْـتَ لَمْ تَلُـمِ
عَدَتْكَ حَالِيْ لاَ سِـرِّي بِمُسْـتَتِرٍ
عَنِ الْوُشَـاةِ وَلاَ دَائِي بِمُنْحَسِـمِ
مَحَّضْتَنِي النُّصْحَ لكِنْ لَسْتُ أسْمَعُهُ
إِنَّ الْمُحِبَّ عَنِ الْعُذَّالِ فِيْ صَمَمِ
اِنِّي اتَّهَمْتُ نَصِيْحَ الشَّيْبِ فِيْ عَذَلٍ
وَالشَّيْبُ أَبْعَدُ فِيْ نُصْحٍ عَنِ التُّهَمِ
يَـا أَكْرَمَ الْخَلْقِ مَا لِي مَنْ أَلُوْذُ بِه
سِـوَاكَ عِنْـدَ حُلُوْلِ الْحَادِثِ الْعَمَمِ
وَلَنْ يَّضِيْقَ رَسُـوْلَ اللهِ جَاهُكَ بِيْ
إِذَا الْكَرِيْمُ تَجَلَّى بِــاسْمِ مُنْتَقِـمِ
فَإِنَّ مِنْ جُوْدِكَ الدُّنْيَا وَضَرَّتَهَا
وَمِنْ عُلُوْمِكَ عِلْمُ اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ
يَا نَفْـسُ لا تَقْنَطِي مِنْ زَلَّةٍ عَظُمَتْ
إِِنَّ الْكَبَـائِرَ فِي الْغُفْرَانِ كَـاللَّمَـمِ
لَعَـلَّ رَحْمَةَ رَبِّيْ حِيْنَ يَقْسِــمُهَا
تَأْتِيْ عَلى حَسَبِ الْعِصْياَنِ فِي الْقِسَمِ
يَا رَبِّ وَاجْعَلْ رَجَائِيْ غَيْرَ مُنْعَكِسٍ
لَدَيْـكَ وَاجْعَلْ حِسَابِيْ غَيْرَ مُنْخَرِمِ
وَالْطُفْ بِعَبْدِكَ فِي الدَّارَيْنِ إِِنَّ لَـهُ
صَبْراً مَّتٰى تَـدْعُهُ الأَهْـوَالُ يَنْهَزِمِ
وَائْذَنْ لِّسُحْبِ صَلاةٍ مِّنْكَ دَائِمَةٍ
عَـلَى النَّبِيِّ بِمُنْهَــلٍّ وَّمُنْسَـجِمِ
وَالآلِ وَالصَّحْبِ ثُمَّ التَّابِعِيْنَ فَهُـمْ
أَهْلُ التُّقٰى وَالنُّقٰى وَالْحِلْمِ وَالْكَـرَمِ
ثُمَّ الرِّضَـا عَنْ أَبِيْ بَكْرٍ وَّعَنْ عُمَرَ
وَعَنْ عَلِيٍّ وَّعَنْ عُثْمَـانَ ذِي الْكَرَمِ
مَا رَنَّحَتْ عَذَبَاتِ الْبَانِ رِيْحُ صَبَـا
وَأَطْرَبَ الْعِيْسَ حَادِي الْعِيْسِ بِالنَّغَمِ
فَاغْفِرْ لِنَاشِدِها وَاغْفِرْ لِقَارِئِهَا
سَاَلْتُكَ الْخَيْرَ يَا ذَا الْجُوْدِ وَالْكَرَمِ
يَا رَبِّ بِالْمُصْطَفی بَالِّغْ مَقَاصِدَنَا
وَاغْفِرْلَنَا مَامَضی يَا وَاسِعَ الْکَرَمِ
Surat No 16 : سورة النحل - Ayat No 3
*خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳﴾*
*اُس(اللّٰهِ ) نے آسمانوں اور زمینوں کو برحق پیدا فرمایا وہ بہت بلند ہے اس سے جو وہ(اسکا) شریک ٹھہراتے ہیں۔*
=============
Noon Online Qraan Academy
03088990258
*درس حدیث*
*ہمیں کب خاموش رہنا چاہیے؟*
*خاموش رہیے،*
جب آپ غصے میں ہوں. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ کے پاس دلائل نہ ہوں. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ نے کسی بات کی تحقیق نہ کی ہو. ❕
*خاموش رہیے،*
جب سننے اور سیکھنے کا وقت ہو. ❕
*خاموش رہیے،*
جب کوئی گناہ کی بات کو لے کر مذاق کرنے لگیں. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ کی باتوں کا غلط مفہوم لیا جانے لگے. ❕
*خاموش رہیے،*
جب دوسرے اپنے معاملات طے کر رہے ہوں. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ کا بولنا کسی کی دوستی توڑنے کا سبب بننے لگے. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ کسی پر تنقید کرنے لگیں. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ بات کو پر خلوص طریقے سے نہ کہہ سکیں. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ کو کچھ بول کر پھچتانا پڑے. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ کسی بات کو کئی بار کہہ چکے ہوں. ❕
*خاموش رہیے،*
جب آپ کے الفاظ کسی کے لیے ناگوار بن جائیں یا بن جانے کا اندیشہ ہو. ❕
💭 قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
*مَنْ صَمَتَ نَجَا*
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *"جو شخص خاموش رہا اس نے نجات پائی."*
📌 تو نجات کے لیے کچھ جگہوں پر خاموش رہنا بہتر ہے۔۔۔
___________________
01/10/2022
ادارہ ن والقلم لاہور
کی طرف سے شیلڈ
01/10/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
صدیق اکبرؓ سٹریٹ کچی ٹاکی لکھوڈہر لاہور
Lahore
BAGHBANPURA