26/05/2025
سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد!
ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں،
کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے ہرا ہوجاتا...
انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے،
اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.
اللہ رب العزت کی قدرت کا مظاہرہ۔۔۔ کسی چھوٹی سی چیز کو بھی حقیر نہ جانو۔۔۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بےکار بنائی ہی نہیں۔
1. چیونٹیوں کے پھیپھڑے نہیں ہوتے۔
2. چیونٹیوں کے کان نہیں ہوتے۔
3. چیونٹیاں کسان ہیں، یعنی بہت محنتی ہیں۔
4. چیونٹیوں کے دو پیٹ ہوتے ہیں۔
5. چیونٹیاں تیر سکتی ہیں۔
6. چیونٹیاں غلاموں کی مالک ہیں۔
7. چیونٹیاں ڈائنوسار جتنی پرانی ہیں۔
8. دنیا بھر میں چیونٹیوں کی 12,000 سے زیادہ اقسام ہیں۔
9. ایک چیونٹی اپنے وزن سے 20 گنا سے زیادہ وزن اٹھا سکتی ہے۔
10. کچھ ملکہ چیونٹیاں برسوں تک زندہ رہ سکتی ہیں اور ان کی لاکھوں نسلیں ہوتی ہیں۔
11. جب چیونٹیاں لڑتی ہیں تو وہ عام طور پر موت سے لڑتی ہیں۔
12. جب کالونی کی رانی مر جاتی ہے تو کالونی صرف چند ماہ تک زندہ رہ سکتی ہے۔
13. چیونٹیاں آکسیجن کے بغیر دو گھنٹے تک زندہ رہ سکتی ہیں۔
14. چیونٹیوں میں خون نہیں ہوتا۔
15. چیونٹیوں کی آبادی ہر جگہ ہے سوائے انٹارکٹیکا کے۔
اپنے آپ پر غور و فکر کیا کریں اور شکر بھی۔
سوچنے کی بات..!
ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟
یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے....
سبحان الله وَ بِحَمدہ
سبحان اللہ العظیم...