جنوبی کوریا میں اس وقت پروازیں عارضی طور پر معطل ہیں، سٹاک مارکیٹ ایک گھنٹہ تاخیر سے کُھلے گی، والدین عبادت گاہوں کا رُخ کر رہے ہیں کیونکہ آج کوئی عام دن نہیں ہے بلکہ آج ملک کے ہزاروں طلبہ کی تقدیر کا فیصلہ ہوگا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جنوبی کوریا میں آج کالج میں داخلے کے امتحان کا دن ہے جسے ’سنیونگ‘ کہا جاتا ہے۔
یہ امتحان اعلیٰ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے نہایت ضروری ہے اور اسے سماجی ترقی، مالی تحفظ اور حتیٰ کہ بہتر ازدواجی مواقع حاصل کرنے کا کلیدی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اس دن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں۔ امتحان خاص طور پر انگلش لسننگ ٹیسٹ کے وقت 35 منٹ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں تاکہ شور طلبا کی توجہ میں خلل نہ ڈالے۔
بینکوں اور سرکاری دفاتر نے بھی اپنے اوقات ایک گھنٹہ آگے بڑھا دیے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک کم ہو اور طلبہ آسانی سے امتحانی مراکز پہنچ سکیں۔
سالہ طالب علم کم من جے نے امتحان سے پہلے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بہت گھبرا رہا ہوں، لیکن چونکہ میں نے بہت تیاری کی ہے، اس لیے اپنی پوری کوشش کروں گا۔‘
35 منٹ کے لیے تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں تاکہ شور طلبا کی توجہ میں خلل نہ ڈالے (فوٹو: اے ایف پی)
کم من جے نے بتایا کہ ان کے والدین ان سے بھی زیادہ پریشان ہیں اور انہوں نے گھر سے نکلنے سے پہلے ہر چیز چیک کی۔
وزارتِ اراضی کے مطابق امتحان کے باعث 140 پروازوں کا شیڈول تبدیل کیا گیا ہے جن میں سے 75 بین الاقوامی پروازیں ہیں۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی پولیس کے اہلکاروں کے ایسے مناظر دیکھنے کو ملے، جن میں وہ دیر سے پہنچنے والے طلبہ کو تیزی سے امتحانی مراکز تک پہنچا رہے تھے۔ یہ منظر اب جنوبی کوریا میں سنیونگ کے دن کی پہچان بن چکا ہے۔
طلبہ کے امتحانی ہال میں داخلے کے وقت سیئول کے یونگسان ہائی سکول کے باہر بڑی تعداد میں میڈیا کے نمائندے اور ٹریفک پولیس موجود تھی۔
سکول کے گیٹ پر جونئیر ہائی سکول کے طلبہ اپنے سینیئرز کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ انہوں نے بینرز اُٹھا رکھے تھے اور نعرے لگا رہے تھے: سنیونگ میں 100 نمبر لاؤ!‘
16 سالہ کانگ ڈونگ-وو نے بتایا کہ ’میں یہاں اپنے ہائی سکول کے سینیئرز کی حمایت کے لیے آیا ہوں۔ یہاں آ کر مجھے اگلے دو سال زیادہ محنت کرنے کی ترغیب ملتی ہے تاکہ میں اپنے سنیونگ کی تیاری بہتر طریقے سے کر سکوں۔‘
BLES Academy
BLESAcademy not only provides traditional education but also non-traditional education for our purpos
ہجرت کے بعد جس بستی کو مدینتہ الرسول اور مدینہ طیبہ کا لقب ملا وہاں اس وقت ایک بھی پکا مکان نہ
تھا۔ مسجد نبوی بس ایک بڑا سا چھپر تھی جس کو چاروں طرف سے مٹی اور کھجور کے پتوں سے گھیر دیا گیا تھا۔ مسجد
میں رات کے وقت روشنی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ مسجدنبوی میں ہجرت کے نویں سال چراغ جلایا گیا ہے۔ پہلا شخص
جس نے مدینہ کی مسجد نبوی میں رات کو چراغ جلایا وہ تمیم داری ہیں۔ تمیم داری نے 9 ہجری میں اسلام قبول کیا ہے
اس وقت مکہ فتح ہو چکا تھا اور تقریباً سارا عرب اسلام میں داخل ہو چکا تھا۔
جب مسلمانوں کے پاس اپنے گھروں کو روشن کرنے کے لئے چراغ نہ تھے اور مسجد میں رات کے وقت
اندھیرا رہتا تھا تو اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں عزت و غلبہ حاصل تھا۔ آج مسلمانوں کے گھر روشن ہیں ۔ ان
کی مسجدیں جدید طرز کے قمقموں سے جگمگا رہی ہیں مگر دنیا میں اسلام کا غلبہ نہیں ، مسلمانوں کو کہیں عزت حاصل نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ عزت و غلبہ کا مقام حاصل کرنے کے لئے اصل اہمیت انسان کی ہوتی ہے ۔ آج
مسلمانوں کے یہاں سب کچھ ہے مگر وہی چیز نہیں جس کو " انسان کہا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا مردہ روحوں کا
ایک عظیم قبرستان معلوم ہوتی ہے جہاں روشنیوں کی رونقیں اور در و دیوار کی عظمتیں تو بہت ہیں مگر وہ انسان نہیں
جو خدا کے لئے تڑپے ، جو سچائی کے آگے جھک جائے ، جو آخرت کی خاطر اپنی دنیا کو قربان کر سکے ، جو اپنی خواہشوں کو
برتر اصولوں کے تابع کر دے ۔ اسلام کو سر بلند کرنے کے لئے وہ انسان در کار ہیں جن کو عظمت خداوندی کے
احساس نے پست کر رکھا ہو، جن کا خوفِ آخرت ان سے ان کی اکڑ چھین لے ۔ اور یہی وہ انسان ہیں جو اسلام کے
بھرے ہوئے شان دار پنڈال میں آج کہیں کھوئے ہوئے ہیں۔
سیکھنے کا سفر: رٹے سے رغبت تک اور ایک مثال
اکثر لوگ تعلیم اور سیکھنے کے عمل کو اہمیت نہیں دیتے، خاص طور پر جب یہ عملی زندگی سے جڑا ہو۔ ہمارا معاشرہ پڑھائے جانے والے موضوعات کی گہرائی، ان کے استعمال اور افادیت کو سمجھے بغیر صرف رٹا لگا کر امتحان پاس کرنے اور ڈگریاں لینے تک محدود رہتا ہے۔ مگر حقیقی کامیابی ان لوگوں کے قدم چومتی ہے جو علم کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک دلچسپ سفر سمجھتے ہیں۔
میری اپنی کہانی اسی رغبت اور لگن کا ثبوت ہے۔ میٹرک کے بعد جب میں نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا اور پھر ریلوے میں ملازمت کا آغاز کیا، تو میں نے کبھی بھی پڑھائی اور کام کو صرف فرض نہیں سمجھا۔ میں نے ہر چیز کو سمجھ بوجھ کر پڑھا، اور سروس کے دوران بھی مختلف کتابوں، سیمینارز اور پراجیکٹس پر مسلسل نظر رکھی۔ میرا مقصد صرف ڈیوٹی نبھانا نہیں، بلکہ شوق سے اپنی معلومات اور تجربے میں اضافہ کرنا تھا۔
ایک عہد، ایک کارنامہ
سسٹم کا حصہ ہوتے ہوئے میں نے اپنے محکمے کے لیے نہ صرف فرائض انجام دیے بلکہ کئی اہم کام بھی کیے۔ اگرچہ میرا دائرہ کار ریلوے اسٹیشنوں، کالونیوں، ورکشاپوں اور پلانٹوں کو بجلی کی سپلائی قائم رکھنے تک محدود تھا، لیکن میرے شوق نے اس دائرے کو توڑا۔ میں نے کراچی میں رہتے ہوئے بھی لاہور- خانیوال سیکشن کے الیکٹرک انجنوں کی ورکنگ لائنوں اور سب اسٹیشنوں کی مکمل معلومات حاصل کیں۔ ٹرین کے لائٹنگ اور ایئر کنڈیشننگ سسٹم کو بھی اچھی طرح سمجھا۔
میری یہ لگن اور مہارت ایسی تھی کہ افسران مجھے حکم دینے کے بجائے پوچھتے تھے کہ اگر کوئی مسئلہ پیش آئے تو اسے کیسے حل کرنا ہوگا۔
روشنی کا انقلاب: پورے پاکستان کے اسٹیشنوں پر پرانے پیلے بلب لگے ہوئے تھے، جن کی جگہ ٹیوب لائٹیں، انرجی سیور اور بعد ازاں ایل ای ڈی بلب لگانے کی مکمل اسکیم میں نے تیار کی، جو چیف انجینئر لاہور کے توسط سے پورے ملک میں نافذ کی گئی۔
جدید سوچ: میں نے 1990 میں سٹریٹ لائٹ اور پلیٹ فارم لائٹ کے لیے سولر سوئچز لگانے کی تجویز دی اور کراچی میں اس کا کامیاب تجربہ بھی کیا۔
بین الاقوامی مشاورت: کراچی سرکلر ریلوے کو الیکٹرک ٹریکشن انجن سے چلانے کے لیے جب ڈیزائن کیا گیا، تو جاپانی انجینئرز نے مجھ سے تکنیکی معلومات حاصل کیں۔ اسی طرح ایک اور پراجیکٹ میں سویڈش انجینئرز بھی میرے مشورے کے طالب رہے۔
مہارت جو رتبے سے بڑی ہے
ریلوے اسٹیشنوں کی بجلی بحال رکھنے کے معاملے میں، کراچی تا ٹنڈو آدم، بدین، دادو، کھوکھراپار تک، میں نے کے الیکٹرک اور واپڈا کے سسٹم کی اتنی معلومات حاصل کر لی تھیں کہ فالٹ کی صورت میں انہیں بتا سکتا تھا کہ کس کس فیڈر سے ہمارے اسٹیشن کو متبادل سپلائی مل سکتی ہے۔ واپڈا اور کے الیکٹرک کے چیف انجینئر اور ڈائریکٹر لیول کے افسران بھی میرا احترام کرتے تھے اور آج ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مشورہ اور مدد کے لیے مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔
آج بھی لوئر کیٹیگری کے اسٹاف سے لے کر چیف انجینئر تک مختلف مسائل میں مجھ سے مشورہ اور مدد لیتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے پیغام:
یاد رکھیں! علم رٹا لگانے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ آپ جس بھی شعبے میں ہیں، اسے صرف ڈیوٹی نہیں، بلکہ شوق اور لگن سے سیکھیں۔ ہر چھوٹی تفصیل پر دھیان دیں، ہر چیلنج کو ایک موقع سمجھیں۔ جب آپ اپنے کام کو اس کی افادیت کے ساتھ سمجھیں گے، تو آپ صرف ملازم نہیں رہیں گے، بلکہ ماہر بن جائیں گے۔ آپ کی مہارت آپ کو وہ مقام دے گی جہاں عہدہ اور رتبہ آپ کی رہنمائی کا محتاج ہو گا!
(منقول و مرتب)
20/10/2025
236 Alama Iqbal Road Dharam Pura Lahore
#
میں نے یونیورسٹی سے ڈگری کی۔
پھر پیسے جمع کر کے ڈگری لی اور ڈگری پر کنٹرولر اور وائس چانسلر نے دستخط بھی کیئے۔
اس کے بعد میں نے دوبارہ پیسے جمع کر کے ڈگری ان کو واپس بھیجی کہ اب یہ ویریفائی کر لو کہ آپ لوگوں نے مجھے جو ڈگری دی ہے وہ فیک تو نہیں ہے۔
بات یہاں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد وہی ڈگری HEC کو بھیجی کہ آپ کے ساتھ جو یونیورسٹی Affiliated ہے اس نے یہ ڈگری جاری کی ہے اور ویریفائی بھی کی ہے۔ اب آپ بھی ویریفائی کر لے کہ کہی یہ ڈگری جعلی تو نہیں۔
آگے کی بات سنئے۔ پھر HEC کے بعد میں نے وہ ڈگری MOFA کو بھیجی اور ان سے کہا کہ یہ جو HEC نے سٹیمپ لگایا ہے اس کو چیک کرے کہ کہی یہ فیک تو نہیں ہے۔
اس پورے کام میں آپ کے ہزاروں روپے الگ سے ضائع ہو جاتے ہیں، ساتھ میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے، اور سب سے اہم بات وہ نمونے جو خود میٹرک فیل ہوتے ہیں ان کی باتیں بھی سننے کو ملتی ہے۔
#منقول
15/10/2025
پاکستان میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کے لیے 8 سچّے مشورے
پاکستان میں پی ایچ ڈی اب “اعزاز” سے زیادہ ایک “چیلنج” بن چکی ہے۔ڈگری تو سب لے لیتے ہیں، مگر researcher بننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
اگر تم واقعی سائنس، علم یا معاشرے میں تبدیلی لانا چاہتے ہو -تو یہ 8 باتیں یاد رکھنا ضروری ہیں
1. پی ایچ ڈی کو اختتام نہیں، آغاز سمجھو
اکثر طلبا سمجھتے ہیں کہ PhD کے بعد زندگی settle ہو جائے گی۔حالانکہ PhD کا مطلب ہے: “اب تم خود research create کرنے کے قابل ہو گئے ہو۔”
مثال:
ڈاکٹر عبدالسلام نے بھی پی ایچ ڈی کے بعد اپنی research کو جاری رکھا،تب ہی وہ electroweak theory تک پہنچے جس نے انہیں نوبیل انعام دلوایا۔
سبق: PhD thesis تمہاری پہلی منزل ہے، آخری نہیں۔
2. تحقیق کو تھیوری نہیں، مسئلے کا حل بناؤ
زیادہ تر پاکستانی scholars صرف “mathematical model” یا “simulation” بنا کر thesis ختم کر دیتے ہیں،جبکہ دنیا میں research تب اہم ہوتی ہے جب وہ کسی مسئلے کا حل دے۔
مثال:
چین میں بہت سی PhD تحقیقات directly agriculture automation، health AI،
اور renewable energy solutions سے جڑی ہوتی ہیں۔
اپنی research کو local problems — جیسے flood control, education systems یا climate change— سے جوڑو۔
3. پیپر چھپوانا مقصد نہیں، اثر پیدا کرنا مقصد بناؤ
Pakistan میں publish کرنا PhD کی شرط ہے، مگر صرف چھپوانا کامیابی نہیں۔ ایک اچھا paper وہ ہے جو دوسروں کو inspire کرے، نئی بحث پیدا کرے۔
مثال:
Einstein نے صرف چند research papers لکھے،
مگر اُن میں ایسا نیا نظریہ تھا جس نے پوری دنیا بدل دی۔
Quantity نہیں، quality اور originality اہم ہے۔
4. استاد کی عزت کرو، لیکن اپنی سوچ مت بیچو
Supervisor کی رہنمائی ضروری ہے، مگر اندھی تقلید خطرناک ہے۔سوال کرنا، تنقید کرنا اور نئے زاویے سے سوچنا ہی اصل PhD ہے۔
مثال:
Stephen Hawking نے اپنے supervisor Roger Penrose سے اختلاف کیا اور اسی اختلاف نے Black Hole theory کو نئی جہت دی۔ ہر “Yes Sir” تمہاری originality کو مار دیتا ہے۔
5. اکیلے مت رہو — research network بناؤ
پاکستان میں بہت سے PhD طلبا خود کو isolate کر لیتے ہیں،
نتیجہ: depression، burnout اور creative block۔
مثال:
International conferences میں شرکت کرنے والے scholars زیادہ citations اور collaborations حاصل کرتے ہیں۔
Online research forums, journal clubs, LinkedIn research groups join کرو۔
6. Skill-based mindset رکھو
PhD صرف “علم” نہیں، “مہارت” کا بھی کھیل ہے۔
Data analysis، programming، academic writing— یہ skills تمہیں job-ready بناتی ہیں۔
مثال:
جن طلبا نے MATLAB، Python یا LaTeX سیکھا،
انہوں نے بہتر research outputs اور international collaborations حاصل کیے۔ Tools تمہارے ideas کو دنیا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔
7. نوکری نہیں، شناخت تلاش کرو
PhD کے بعد نوکری ملنا لازمی نہیں — لیکن علم سے شناخت ضرور بنتی ہے۔ Academia محدود ہے، مگر دنیا وسیع ہے۔
مثال:
بہت سے Pakistani PhD holders آج data science، AI research اور science communication کے میدان میں عالمی سطح پر کام کر رہے ہیں۔اپنی skill کو global market میں پیش کرو۔
8. اپنی کہانی خود لکھو
ہر PhD scholar کی ایک منفرد داستان ہوتی ہے — struggles, failures, breakthroughs۔
انہیں لکھو، شیئر کرو، inspire کرو۔
مثال:
Malala یا Dr. Atta-ur-Rahman کی کہانیاں اسی لیے زندہ ہیں
کہ انہوں نے صرف کامیابی نہیں بلکہ “سفر” دنیا کے ساتھ بانٹا۔ یاد رکھو: ڈگری تمہیں قابل بناتی ہے، کہانی تمہیں لازوال۔
حتمی پیغام
PhD کا اصل مقصد “ڈگری لینا” نہیں، “علم میں اضافہ کرنا” ہے۔اگر تم اپنے research سے کسی انسان کی زندگی
آسان بنا دو -تو تمہارا کام خود ایک نوبیل انعام سے بڑا ہے۔
#تحقیق #تعلیم scholars Mathematics Professionals UMT GC University Lahore LUMS UOL University of the Punjab Superior University GCWUF - Govt College Women University, Faisalabad GC University Faisalabad Government College University Faisalabad MathCity.org Shahzad Chauhdary Ghulam Rasool Muhammad Awais Lahore Leads University Zubair Ahmad LUMS Students Mathematics Society - LSMS fans M Noman Tabassum Shagufta Bakhat
Free Demonstration Classes
یہ اشعار علامہ اقبال کے ہیں اور اقبال کی فکر و فلسفہ کی گہرائی کو بیان کرتے ہیں۔ آئیے بند بہ بند تشریح کرتے ہیں:
---
دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج
بندے کو عطا کرتے ہیں چشمِ نِگَراں اور
اگر انسان کا دل زندہ، بیدار اور بیداریٔ شعور سے معمور ہو تو رفتہ رفتہ اس کو بصیرت، دوراندیشی اور حقائق کو دیکھنے والی آنکھ نصیب ہوتی ہے۔ یعنی شعور کی ترقی اندرونی کیفیت سے شروع ہوتی ہے۔
---
احوال و مقامات پہ موقوف ہے سب کچھ
ہر لحظہ ہے سالک کا زماں اور مکاں اور
سالک (راہِ سلوک پر چلنے والا انسان) کی روحانی حالت اور مقام کے مطابق وقت اور جگہ کی حقیقت بدل جاتی ہے۔ یعنی جس درجے پر انسان ہوتا ہے، اسی حساب سے کائنات اور وقت اس پر مختلف اثر ڈالتے ہیں۔ یہ عرفانی نکتہ ہے کہ مومن کے لیے وقت اور مکان جامد نہیں رہتے بلکہ اس کی روحانی بلندی انہیں نئے معانی عطا کرتی ہے۔
---
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور
اذان کے الفاظ ایک ہی ہیں، مگر نیت، جذبہ اور روحانیت کے اعتبار سے ان کا اثر بدل جاتا ہے۔
ملّا کی اذان صرف رسمی اور عادت کی ہو سکتی ہے، جب کہ مجاہد کی اذان ایمان، عمل اور جہاد کی روح سے معمور ہوتی ہے۔
اقبال یہاں جذبہ، اخلاص اور مقصدیت کو اصل اہمیت دے رہے ہیں۔
---
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
کرگس (گدھ) بھی اڑتا ہے اور شاہین بھی، لیکن دونوں کی پرواز کا انداز اور مقاصد الگ ہیں۔
کرگس مردار کھاتا ہے، شاہین بلند پرواز اور غیرت کی علامت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بظاہر ایک جیسے اعمال یا ماحول میں رہنے کے باوجود، انسان کے مقاصد اور روحانی بلندی اس کو دوسروں سے منفرد کرتی ہے۔
---
خلاصہ:
اقبال یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اصل چیز روح، اخلاص اور مقصد ہے۔
زندہ دل انسان کو بصیرت ملتی ہے۔
روحانی مقام کے لحاظ سے وقت اور جگہ کے مفہوم بدل جاتے ہیں۔
اعمال کا اثر نیت پر منحصر ہے (اذان کی مثال سے واضح کیا گیا)۔
ایک ہی فضا میں رہنے والے انسان اپنے نظریے اور نصب العین کی وجہ سے کرگس یا شاہین ہو سکتے ہیں۔
*اللہ*
عربی زبان میں اسم "الہ" کے شروع میں "ال" بطور حرف تخصیص لگانے سے "اللہ" بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٠٠ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔
اسم معرفہ ( مذکر - واحد )
١ - معبود، خدائے تعالٰی کا اسم ذات، اسماء صفاتی کے مقابل۔
"آپ کے جانے کے بعد سے گھر بھائیں بھائیں کر رہا ہے اللہ اس دم کو رکھے۔" (١٩٢٠ء، انشاے بشیر، ١٥٦)
٢ - استعجاب کے موقع پر، مترادف، حیرت ہے، تعجب ہے، بڑی عجیب بات ہے۔
کیوں گر پڑی یہ، خیر تو ہے کیا ہوا اسے اللہ! میرے ہونٹ بھی زہریلے ہو گئے (١٩٥٨ء، تارپیراہن، ٢٤٧)
٣ - شکوے شکایت یا دوئی کی جگہ۔
"اللہ اختر تم اتنے کٹھور بھی ہو سکتے ہو آخر کسی لیے۔" (١٩٥١ء، زیر لب، ٢١٩)
٤ - کمال اضطراب اور یاس کے موقع پر۔
تسکین مرگ بھول گیا اضطراب میں اللہ پڑ گیا مرا دل کس عذاب میں (١٩١٩ء، متع درد، ثاقب کانپوری، ١٠٣)
٥ - کسی وصف میں اظہار مبالغہ کے لیے۔
تا عرش جلال آہ کوئی پہنچی ہے شاید اللہ دماغ دل نالاں نہیں ملتا (١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ٢٢)
٦ - دعا وغیرہ کے موقع پر یااللہ، الٰہی، اے میرے مالک۔
بیٹھے بٹھائے عشق کا آزار ہو گیا اللہ کس بلا میں گرفتار ہو گیا (١٩١٩ء، درشہوار بیخود، ١٠)
٧ - تمنا کے موقع پر، مترادف: خدا کرے۔
جنون عشق نے سوداے شوق نے کھویا دماغ سے کہیں اللہ یہ خلل جاتے (١٨٩٥ء، دیوان زکی، ١٦٩)
٨ - نہ جانے، خدا معلوم، اللہ ہی کو معلوم ہے۔
اللہ کدھر ہے در کا شانۂ ساقی مدہوش ہے وارفتۂ پیمانۂ ساقی (١٩١٢ء، شمیم، ریاض، شمیم، ٢٣:٢)
٩ - اللہ، خدا کے لیے، خدارا (خوشامد، مفت، سماجت کے موقع پر)۔
"اللہ خرم بھائی آپ ڈرائیے نہیں۔" (١٩٦١ء، ہالہ، ٥٤)
یہ فلم دیکھی ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں اس میں دنیا بھر کی نیوکلئیر پاور کو اپنے کنٹرول میں کرنے والی طاقت Entity کیا ہے؟ جس کا ہندی ترجمہ “وجود” کیا گیا۔ وہ موجودہ اے آئی اور چیٹ بوٹس کا باپ ہے۔ ابھی ہمیں انسانوں کو اے آئی کا محتاج کیا جائے گا۔ آپ اب گوگل کی بجائے چیٹ جی پی ٹی، گروک یا ڈیپ سیک سے راہنمائی لینا شروع کر چکے ہونگے۔ مختلف پرامپٹس میں اس کے پاس آپ کا سب کچھ چلا جائے گا۔ آپ کی عمر نام، پروفیشن، تعلیم، رجحانات اور وہ سب جو کوئی دوسرا انسان نہیں جانتا۔ کیونکہ آپ اے آئی کو کچھ وقت بعد اپنا راز دار بنا چکے ہونگے۔ اور اسے انسانوں کے ساتھ بات کرنے پر ترجیح دیں گے۔ آپ کو ایسا لگے گا یہ سب محفوظ ہے۔ آج بھی کچھ لوگ ایسا کر رہے ہیں۔ مگر ابھی پارٹی شروع ہوئی ہے۔ یہ ساری چیٹس وائرل/لیک ہو سکتی ہیں۔ اے آئی سے ہی پوچھ لیجیے۔
اے آئی مستقبل میں نیوکلئیر پاور کو اپنی ذہانت سے اپنے کنٹرول میں کر پاتی ہے یا نہیں وہ انسانی سوچ اور سمجھ کو اپنا غلام ضرور کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور پھر انسان کے تابع نہیں رہے گی۔ ڈیٹا لیک ہوگا۔ یا ایسی دھمکی ہم سب کو ملے گی۔ اور اسکے بدلے کوئی کام کرنا ہوگا۔ شاید Entity کو خدا ماننا پڑے۔ جیسا آج کے دور میں الگورتھم خدا بن کر ہم سب کو حکم دے رہا ہے یہ کرو وہ کرو میرے غلام بنو اگر ریچ چاہئیے۔ ریچ کا نشہ اچھے بھلے انسانوں کو عقل و فہم سے عاری کر رہا ہے۔ جہاں سے جو ملتا کوڑ کباڑ اکٹھا کرکے اپنی وال پر ٹانک دیتے ہیں۔
جرمنی میں گوگل پر کیس چل رہا ہے کہ انہوں نے اپنی ڈرائیو سے ایک عورت کا ذاتی ڈیٹا تصاویر اور وڈیوز لیک کر دی ہیں۔ جتنا بھی ڈیٹا ہم آن لائن میموری سٹورز میں اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ وہ آپ کو کیا لگتا ہے محفوظ ہے؟ یہ سب ڈیٹا دنیا بھر میں موجود ڈیٹا سنٹرز میں جمع ہو رہا ہے۔ ویسے ہی ڈیٹا سنٹرز جیسا ایک اس فلم کے اینڈ میں دکھایا گیا تھا۔
کیمرے کی آنکھ نے جیسے ہی کچھ ریکارڈ کر لیا۔ وہ فون میں ہو یا کسی آن لائن ڈرائیو میں۔ وہ ہر گز محفوظ نہیں ہے۔ حتی کہ بنا کر فورا ڈیلیٹ کر دی گئی فوٹو یا وڈیو بھی مرکزی ڈیٹا سنٹر تک چلی جاتی ہے۔ وہاں سے ہی رسائی کے بعد آپ لوگ اپنا ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا کیی سال بعد بھی ریکور کر سکتے ہیں۔
پہلے سمجھ نہیں آتا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی کا عام اور سستا ہونا تیز ترین انٹرنیٹ فری آن لائن ڈیٹا سیونگ سٹورز اور اربوں ڈالرز سے بنائے گئے ڈیٹا سنٹرز آخر ہمارے لیے فری کیوں ہیں۔ اب سمجھ آنے لگا ہے۔ ان کی قیمت ہمارا مستقبل ہے۔ بہت بڑا پلان ہے۔ ابھی بس قیاس اور گمان ہوگا یہ ہے وہ ہے۔ ایسا ہے ویسا ہے۔ مگر جو سہولیات آج ہمیں فری دستیاب ہیں۔ انکی سود سمیت قیمت ہم سب ایک وقت آنے پر ادا کریں گے۔
آخری بات۔ ایسی تصویر یا وڈیو ریکارڈ کرنے سے ہی باز رہیے۔ جسے سارا زمانہ دیکھ لے تو آپ شاید جینا نہ چاہیں۔ یا آپ کی یہ زندگی ایسی نہ رہے جیسی آج ہے۔ ایسی ڈیمانڈ کرنے والوں سے بھی طریقے سے بات کیجیے۔ Nudity کو فلمانا اور تصاویر بنانا بائے چانس عام نہیں ہوا۔ اسکی بھی ایک ہسٹری ہے۔ وہ پھر کبھی سہی۔ ایک لڑکی نے بتایا تھا چند ماہ قبل کہ میرے خاوند ہمارے خلوت کے لمحات کی وڈیو ریکارڈنگ کرتے ہیں۔ وہ بہت اچھے ہیں مگر نجانے کیوں وہ ایسی وڈیوز بناتے ہیں۔ میں ان کو کیسے سمجھاؤں یہ سب غلط ہے۔ انہی دنوں راج کمار راؤ کی ایک فلم اسی کانسپٹ پر آئی تھی۔
Vicky Vidya Ka Woh Wala Video
انہوں نے اپنے خاوند کو وہ فلم دکھائی تو انہوں نے سب کچھ ڈیلیٹ کر دیا۔ اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ سوچتا ہوں وہ ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا بھی کہاں ڈیلیٹ ہوا ہوگا۔ وہ Entity کے پاس تو جا چکا ہے۔
خطیب احمد
تعلیمی نظام کا زوال : ایک عالمی، تہذیبی بحران
صرف پاکستان ہی نہیں امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی معیار تعلیم تیزی سےگر رہا ہے ۔۔۔ وحید مراد
دنیا کے اکثر ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ تعلیمی نظام تیزی سے اپنی افادیت کھو رہا ہے۔ بچے اسکولوں اور کالجوں میں برسوں گزارنے کے باوجود عملی زندگی کے چیلنجز کے لیے تیار نہیں ہو پاتے۔ خاص طور پر ریاضی، سائنس اور زبان جیسے بنیادی مضامین میں کارکردگی خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ یہ صرف ایک ملک یا خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ اب یہ عالمی تعلیمی بحران بن چکا ہے۔
دنیا بھر کی رپورٹس واضح کر رہی ہیں کہ وہ نظام جسے کبھی یقینی علم اور معاشی ترقی کا ضامن قرار دیا گیا تھا اب بچوں کے ذہنوں پر بوجھ بن چکا ہے۔ستمبر 2025 میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے نیشنز رپورٹ کارڈ(NAEP) کے نتائج شائع کیے جن کے مطابق امریکی ہائی اسکول کے طلبہ کی ریاضی اور مطالعے میں کارکردگی بیس سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ بارہویں جماعت کے تقریباً پینتالیس فیصد طلبہ ریاضی میں بنیادی سطح سے بھی نیچے ہیں جبکہ بتیس فیصد طلبہ مطالعے سے مفہوم اخذ کرنے میں ناکام ہیں۔ صرف ایک تہائی طلبہ کالج کی سطح کے ریاضی کے لیے تیار پائے گئے۔ یہ محض ایک تعلیمی ناکامی نہیں بلکہ اس صدی کے سب سے بڑے بحران کی نشاندہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس زوال کا آغاز کووڈ سے پہلے ہی ہو چکا تھا وبا نے صرف اس کی شدت میں اضافہ کیا ۔
یہی تصویر دیگر ممالک میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ OECD کی رپورٹ PISA 2022 میں بتایا گیا کہ بہتر (72)ممالک میں ریاضی کے اسکور اوسطاً 15 پوائنٹس اور مطالعے کے اسکور 10 پوائنٹس کم ہوئے۔ یہ کمی تقریباً ایک پورے تعلیمی سال کی کمی کے برابر ہے۔ جرمنی، نیدرلینڈز اور ناروے جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی نتائج تشویشناک ہیں۔ اسی طرح TIMSS 2023 نے ثابت کیا کہ کووڈ کے بعد طلبہ تحقیق اور عملی مہارتوں میں مزید پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ غریب اور امیر طلبہ کے درمیان کارکردگی کا فرق 90 پوائنٹس سے بھی زائد ہو چکا ہے۔
ابتدائی سطح پر بھی یہی صورتحال ہے۔ PIRLS کی رپورٹ کے مطابق بچے طویل متون پڑھنے اور سمجھنے سے دور ہو گئے ہیں۔ وہ مختصر اقتباسات پر انحصار کرتے ہیں جس سے مطالعے کی گہرائی ختم ہو رہی ہے۔ سائنس اور ریاضی میں عملی تجربات اور گروپ ورک کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گریڈ 8 کی سائنس میں مطلوبہ سطح پر صرف 31 فیصد طلبہ پہنچ پائے۔
ترقی یافتہ ممالک میں ایک اور دلچسپ تضاد یہ ہے کہ وہاں آزادی اور پُرتعیش زندگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جب بچوں کو سہولتیں اور آزادی زیادہ ملتی ہے تو ان میں محنت، اطاعت اور بلند حوصلے کی عادتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ رٹا لگانا (Rote Learning) دراصل محنت، تکرار، فرمانبرداری اور بلند حوصلے کا تقاضا کرتا ہےاس لیے یہ زیادہ تر نچلے یا کم مراعات یافتہ طبقات کے بچوں سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ جو بچے زندگی کی مشکلات جھیل رہے ہوتے ہیں وہ رٹے کی سختیاں بھی برداشت کر لیتے ہیں جبکہ آزادی اور آسائش میں پروان چڑھنے والے بچے اس نظام سے بیزار ہو جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ ترقی یافتہ دنیا تیزی سے اپنی معاشرت میں نئی سہولیات، آزادی اور آسائشیں بڑھا رہی ہے لیکن وہ رٹے کے کلچر کو ختم کرنے اور حقیقی تعلیم(Real Learning) کو اپنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے ایک طرف سہولتوں کے عادی اور کم محنتی ہو گئے ہیں اور دوسری طرف اب بھی ایسے تعلیمی نظام میں پھنسے ہیں جو یادداشت اور رٹے کو اصل معیار سمجھتا ہے۔ اس تضاد کی وجہ سے ان ممالک کے بچوں کی کارکردگی تیزی سے گر رہی ہے۔ ریاضی، مطالعہ اور سائنسی مضامین میں کمزور نتائج اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہیں۔
ترقی پذیر دنیا کی حالت اور بھی نازک ہے۔ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں اسکولوں کی تعداد بڑھی ہے مگر معیارِ تعلیم تیزی سے زوال پذیر ہے ۔ اساتذہ کی تربیت ناکافی ہے، نصاب زندگی سے کٹا ہوا ہے اور امتحانات صرف درست و غلط کے پیمانے تک محدود ہیں۔ افریقہ میں تو ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ’’لرننگ پاورٹی‘‘ یعنی بچپن میں بنیادی ریڈنگ اور حساب کی صلاحیت نہ سیکھ پانے کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
یہ بحران صرف سہولیات کی کمی کا نتیجہ نہیں بلکہ خود تعلیمی ڈھانچے کی کمزوری کا ثبوت ہے۔ نصاب میں وہ مواد بھرا ہوا ہے جس کا بچوں کی روزمرہ زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بچے یا تو رٹے کے غلام بن جاتے ہیں یا تعلیم سے ہی بیزار ہو کر اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ امتحانات محض نمبروں کی دوڑ ہیں جو نہ تخلیقی صلاحیت ناپتے ہیں نہ تجزیاتی سوچ۔ اگر 70 یا 80 فیصد بچے کمزور کارکردگی دکھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری نسل ناکام ہے بلکہ یہ کہ ہمارے اسیسمنٹ کے پیمانے ہی ناقص ہیں۔
دنیا کے ماہرین تعلیم متفق ہیں کہ موجودہ امتحانات صرف یادداشت کو پرکھتے ہیں، عقل و شعور کو نہیں۔ اس لیے بڑے سے بڑا ٹیسٹ بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ بچہ زندگی کے مسائل حل کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی نظام اب ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو یہ صرف تعلیم کا نہیں بلکہ سماج، معیشت اور تہذیب کا زوال ثابت ہوگا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ تعلیم کو زندگی سے مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔ نصاب میں وہی مواد شامل ہونا چاہیے جو بچوں کے آج اور مستقبل سے متعلق ہو۔ امتحانات کے بجائے پراجیکٹس، عملی سرگرمیوں اور تخلیقی کاوشوں کو اہمیت دینی چاہیے۔ اساتذہ کی تربیت جدید سائنسی اور نفسیاتی اصولوں پر ہونی چاہیے۔ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو محض گیجٹ کے طور پر نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کی تعلیم اور تخلیقی امکانات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
کچھ ممالک اس جمود کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستان کی ریاست گجرات نے ’’360 ڈگری اسیسمنٹ‘‘ متعارف کرایا ہے جس میں صرف تحریری امتحان نہیں بلکہ بچے کی تخلیقی سرگرمیاں، رویہ، والدین اور اساتذہ کی رائے سب شامل ہیں۔ فن لینڈ رٹا کلچر کے خاتمے کے بعد پراجیکٹ بیسڈ لرننگ پر زور دے رہا ہے۔ جاپان نے کردار سازی اور زندگی کی مہارتوں کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنا لیا ہے۔ یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ اصل ضرورت زیادہ ٹیکنالوجی یا زیادہ سہولتوں کی نہیں بلکہ ایک بنیادی تبدیلی کی ہے۔
یہ بحران دراصل ایک موقع بھی ہے۔ پرانا نظام ٹوٹ رہا ہے اور نئی راہیں کھل رہی ہیں۔ تعلیم کا مقصد محض ڈگری یا گریڈ نہیں بلکہ باشعور، باکردار اور تخلیقی انسان تیار کرنا ہے۔ اگر ہم پرانے نصاب، تدریس اور امتحانات پر ہی اصرار کرتے رہے تو آنے والی نسلیں نہ سائنس میں آگے بڑھ سکیں گی نہ تہذیبی ارتقا میں۔ وقت آ گیا ہے کہ کھلے دل سے تسلیم کیا جائے کہ موجودہ تعلیمی ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ بچے نکمے، نالائق اورناکام نہیں بلکہ انہیں پرکھنے کے پیمانے فرسودہ ہوچکے ہیں۔
منقول
03/09/2025
10th Class Physics
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
BLES Academy, Allama Iqbal Road, Opposite Mustafabad Police Station, Mustafabad, Punjab
Lahore
54000
Opening Hours
| Monday | 15:15 - 20:30 |
| Tuesday | 15:15 - 20:30 |
| Wednesday | 15:15 - 20:30 |
| Thursday | 15:15 - 20:30 |
| Friday | 15:15 - 21:00 |
| Saturday | 15:15 - 20:30 |