Learn Quran with Hafiza Bint e Qasim
Our insitute is conducting five different courses and these course are being conduced by our insitutions highly qualified teachers..
14/06/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: قیامت کے دن عرش کے نیچے تین چیزیں ہوں گی
عن عبد الرحمن بن عوف عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ثلاثة تحت العرش يوم القيامة القرآن يحاج العباد له ظهر وبطن والأمانة والرحم تنادي : ألا من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله . رواه في شرح السنة
ترجمہ:
حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن عرش کے نیچے تین چیزیں ہوں گی ایک تو قرآن جو بندوں سے جھگڑے گا اور قرآن کے لئے ظاہر بھی ہے اور باطن بھی۔ عرش کے نیچے دوسری چیز امانت ہوگی تیسری چیز جو پکارے گی، خبردار ! جس شخص نے مجھے بلایا (یعنی میرے حق کی رعایت کی بایں طور کہ میرے احکام کی فرمانبرداری کا جو حق اس پر ہے اس کو ادا کیا) تو اللہ تعالیٰ اسے بھی (اپنی رحمت کے ساتھ) ملائے گا اور جس شخص نے مجھے توڑا (یعنی میرے حق کو ادا نہیں کیا) توا للہ تعالیٰ بھی اس شخص کو توڑے گا (یعنی اس پر رحمت خاص متوجہ نہ ہوگی) ۔ (شرح السنہ)
14/06/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: قرآن سیکھنے اور سکھانے والا سب سے بہتر ہے
عن عثمان رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن وعلمه . رواه البخاري
ترجمہ:
حضرت عثمان (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔ (بخاری)
06/06/2022
02/04/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: روزے کا بیان
باب: ماہ رمضان کے فضائل وبرکات
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد : يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ن ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة . رواه الترمذي وابن ماجه
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات کو قید کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا اور اعلان کرنے والا فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اے بھلائی (یعنی نیکی وثواب) کے طلب گار ! اللہ کی طرف متوجہ ہوجا اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے برائی سے باز آ جا کیونکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے یعنی اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے وسیلے میں بہت لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرتا ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ تو بھی ان لوگوں میں شامل ہوجائے۔ اور یہ اعلان رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔ (ترمذی ابن ماجہ، امام احمد نے بھی اس روایت کو ایک شخص سے نقل کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
01/04/2022
like and share my post
20/03/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: روزے کا بیان
باب: رمضان، برکات وسعادت کا مہینہ
وعن سلمان قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر يوم من شعبان فقال : يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك شهر فيه ليلة خير من ألف شهر جعل الله تعالى صيامه فريضة وقيام ليله تطوعا من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساة وشهر يزداد فيه رزق المؤمن من فطر فيه صائما كان له مغفرة لذنوبه وعتق رقبته من النار وكان له مثل أجره من غير أن ينقص من أجره شيء قلنا : يا رسول الله ليس كلنا يجد ما نفطر به الصائم . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يعطي الله هذا الثواب من فطر صائما على مذقة لبن أو تمرة أو شربة من ماء ومن أشبع صائما سقاه الله من حوضي شربة لا يظمأ حتى يدخل الجنة وهو شهر أوله رحمة وأوسطه مغفرة وآخره عتق من النار ومن خفف عن مملوكه فيه غفر الله له وأعتقه من النار . رواه البيهقي
ترجمہ:
حضرت سلمان فارسی (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے (جمعہ کا یا بطور تذکیر و نصیحت) خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! باعظمت مہینہ تمہارے اوپر سایہ فگن ہو رہا ہے (یعنی ماہ رمضان آیا ہی چاہتا ہے) یہ بڑا ہی بابرکت اور مقدس مہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کئے ہیں اور اس کی راتوں قیام (عبادت خداوندی) جاگنا نفل قرار دیا ہے جو اس ماہ مبارک میں نیکی (یعنی نفل) کے طریقے اور عمل کے بارگاہ حق میں تقرب کا طلبگار ہوتا ہے تو وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے جس نے رمضان کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں فرض ادا کیا ہو (یعنی رمضان میں نفل اعمال کا ثواب رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں فرض اعمال کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور جس شخص نے ماہ رمضان میں (بدنی یا مالی) فرض ادا کی تو وہ اس شخص کی مانند ہوگا جس نے رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں ستر فرض ادا کئے ہوں (یعنی رمضان میں کسی ایک فرض کی ادائیگی کا ثواب دوسرے دنوں میں ستر فرض کی ادائیگی کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور ماہ رمضان صبر کا مہینہ ہے (کہ روزہ دار کھانے پینے اور دوسری خواہشات سے رکا رہتا ہے) وہ صبر جس کا ثواب بہشت ہے ماہ رمضان غم خواری کا مہینہ ہے لہٰذا اس ماہ میں محتاج و فقراء کی خبر گیری کرنی چاہئے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں (دولت مند اور مفلس ہر طرح) مومن کا (ظاہر اور معنوی) رزق زیادہ کیا جاتا ہے جو شخص رمضان میں کسی روزہ دار کو (اپنی حلال کمائی سے) افطار کرائے تو اس کا یہ عمل اس کے گناہوں کی بخشش و مغفرت کا ذریعہ اور دوزخ کی آگ سے اس کی حفاظت کا سبب ہوگا اور اس کو روزہ دار کے ثواب کی مانند ثواب ملے گا بغیر اس کے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی ہو۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم میں سب تو ایسے نہیں ہیں جو روزہ دار کی افطاری کے بقدر انتظام کرنے کی قدرت رکھتے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ ثواب اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی عنایت فرماتا ہے جو کسی روزہ دار کو ایک گھونٹ لسی یا کھجور اور یا ایک گھونٹ پانی ہی کے ذریعے افطار کرا دے اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلائے تو اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض (یعنی حوض کوثر) سے اس طرح سیراب کرے گا کہ وہ (اس کے بعد) پیاسا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ بہشت میں داخل ہوجائے اور ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت ہے درمیانی حصہ بخشش ہے یعنی وہ مغفرت کا زمانہ ہے اور اس کے آخری حصے میں دوزخ کی آگ سے نجات ہے (مگر تینوں چیزیں مومنین کے لئے ہی مخصوص ہیں کافروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے) اور جو شخص اس مہینے میں اپنے غلام و لونڈی کا بوجھ ہلکا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اسے آگ سے نجات دے گا۔
09/03/2022
مشکوٰۃ شریف
کتاب: فضائل قرآن کا بیان
باب: قیامت کے دن قرآن کریم کی سفارش
وعن النواس بن سمعان قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : يؤتى بالقرآن يوم القيامة وأهله الذين كانوا يعملون به تقدمه سورة البقرة وآل عمران كأنهما غمامتان أو ظلتان سوداوان بينهما شرق أو كأنهما فرقان من طير صواف تحاجان عن صاحبهما . رواه مسلم
ترجمہ:
حضرت نو اس بن سمعان (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن لایا جائے گا قرآن کو اور ان لوگوں کو جو قرآن پڑھتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے سارے قرآن کے آگے دو سورتیں سورت بقرہ اور سوہ آل عمران ہوں گی، اس طرح گویا کہ وہ ابر کے دو ٹکڑے ہیں یا ابر کے دو سیاہ ٹکڑے ہیں اور ان میں ایک چمک ہے یا گویا دو ٹکڑیاں صف بستہ پرندوں کی ہیں جو پڑھنے والوں کی طرف جھگڑیں گی (یعنی اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کریں گی) (مسلم)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore Punjab
Lahore