سیلاب کیوں آتے ہیں ؟
Human Lover
This page is created for the sake of Human Welfare in the light if collectivism philosophy.
25/06/2025
یہ فرق صرف دولت اور علم کا نہیں، یہ فکر اور غلامی کا فرق ہے۔ ایران نے علم سے عزت کمائی، سعودی عرب نے دولت سے غلامی خریدی۔جس کے پاس فلسفہ، سیاست، ثقافت اور سائنس ہو، وہ زمانے کو بدل دیتا ہے اور جس کے پاس صرف ڈالر ہو، وہ سامراج کی غلامی کرتا ہے۔
ملٹی نیشنل غذائی نظام پر قابض کارپوریشنز کس طرح کھانے کے نام پر کیمیکلز و زہر ہر طرف سے ہمیں فروخت کرتے ہیں اور اس کے لیے media outlets کے بدولت ذہن سازی و لوگوں کو قائل کرنے کا عالمی پروپیگنڈا سسٹم،اس 11 منٹ کی ویڈیو کلپ میں بڑے اچھے سے سمجھایا گیا ہے
باشعور لوگ وہ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کے آج انسانیت کو جو بھی مسائل درپیش ہیں اور بربادیاں و محرومیاں ہیں
وہ ان چند عالمی سرمائے دارانہ کمپنیز کے تسلط کا نتیجہ ہے۔
21/06/2025
#انقلاب #بذریعہ #الیکشن، #حقیقت یا #فسانہ ؟"
✅ انتخابی عمل (Electoral Process):
یہ ایک جمہوری نظام کا حصہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے لوگ اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ اس کا مقصد حکومت یا قیادت کی تبدیلی ہوتا ہے، نظام کی تبدیلی نہیں۔ اس میں عوام قانونی و آئینی دائرے میں رہ کر ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ عمل عام طور پر موجودہ نظام کے اصولوں کو تسلیم کرتے ہوئے ہوتا ہے۔
🔹 مثال: سیاسی جماعتوں کا الیکشن میں حصہ لینا اور اقتدار حاصل کرنا۔
✅ انقلاب (Revolution):
انقلاب ایک گہری، ہمہ گیر اور بنیادی تبدیلی کا نام ہے جو نظام، نظریہ، اقدار، اور اداروں کو بدل دیتا ہے۔ یہ صرف چہروں یا حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ، معیشت، سماج، اور سیاست کی بنیادوں کو ہلا دیتا ہے۔ یہ عمل اکثر غیر رسمی، غیر روایتی یا مزاحمتی راستوں سے ہوتا ہے۔ انقلاب کے پیچھے ہمیشہ نظریہ، شعور، جدوجہد اور قربانی ہوتی ہے۔
🔹 مثال: روسی انقلاب، چینی انقلاب، اسلامی انقلابِ ایران
✅ خلاصہ کلام (Summary):
انتخابی عمل ایک جمہوری طریقہ ہے، جس کے ذریعے عوام موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنے نمائندے چنتے ہیں اور یوں قیادت یا حکومت کی تبدیلی عمل میں آتی ہے۔ مگر نظام کی بنیادی ساخت جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔ اس کے برعکس انقلاب ایک ہمہ گیر، گہری اور نظریاتی تبدیلی کا نام ہے، جو محض چہرے نہیں بلکہ پورے نظام، اقدار، معیشت اور معاشرت کو جڑ سے بدل دیتا ہے۔ انتخابی عمل قانون اور آئین کے دائرے میں محدود ہوتا ہے، جب کہ انقلاب مزاحمتی جذبے، فکری بیداری، عوامی قربانی اور نظریاتی بنیادوں پر پروان چڑھتا ہے۔ اس لیے انتخابی عمل اصلاح کی ایک سطحی کوشش ہے، جبکہ انقلاب تبدیلی کی ایک انقلابی اور بنیاد شکن تحریک۔
20/06/2025
معدنیات کی آزادی ــ نسلوں کی بقا کا مقدمہ
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ رِیکو ڈِک کی سُنہری مٹی سے جھانکتے تانبے اور سونے کے ذرات صرف پتھر نہیں، ہماری آنے والی نسلوں کی سانسوں میں دوڑنے والا آکسیجن ہیں؟ آج واشنگٹن کی میزوں پر جو مسودے بچھے ہیں، اُن میں جملے ہمارے ہاتھوں کے حرارت پر نہیں، زیرِ زمین چھپے ہوئے خزانے کے درجۂ حرارت پر لکھے جا رہے ہیں۔ یہ معاہدے صرف سرمایہ کاری کی دستاویز نہیں، یہ آہنی زنجیریں ہیں جو اگر ہم نے وقت پر توڑ نہ دیں تو ہماری ارضِ وطن کو کاغذی سودے کے عوض گروی رکھ دیں گی۔
پاکستان کے باسی! ہماری زمین کوئی کانسی کے سکے نہیں، کہ ہم غربت کے کرب میں تڑپ کر کسی عالمی منڈی کے ترازو پر کوڑیوں کے مول تول دیں۔ ایک طرف واشنگٹن ہے، جہاں پالیسی ساز ہمارے لتھیم، نِکل اور ریئر ارتھ عناصر کو ’’کلین انرجی‘‘ کے لیے لازم قرار دے کر اپنے صنعتی مستقبل کے مدار طے کر رہے ہیں؛ دوسری طرف کوئٹہ، چاغی اور ڈی آئی خان جیسے خطّے ہیں جو ابھی تک پینے کے صاف پانی اور بنیادی صحت کے مراکز کو ترس رہے ہیں۔ یہ تفاوت خود گواہی ہے کہ غیر منصفانہ معاہدہ ترقی کا راستہ نہیں، نئی غلامی کا پھندا ہے۔
کیوں ہمیں ’’نظامِ مظہر‘‘ بدلنا ہوگا؟
وسائل کی لعنت ہر اُس قوم کو مسلط ہوتی ہے جو مٹی بیچ کر ٹیکنالوجی درآمد کرے۔
ڈچ بیماری کی طرح کرنسی کا وقتی بخار ہمارے ٹیکسٹائل، آئی ٹی اور زرعی شعبوں کو بے حال کر دے گا۔
سستی رائلٹی کے بدلے ماحولیاتی قبرستان اور بے روزگاری کی فوج ہمارے حصے میں آئے گی۔
معاہدے کی پہلی شرط یہ ہونی چاہیے کہ خام دھات پاکستان کی سرحد پار نہیں جائے گی جب تک اُس پر ویلیو ایڈیشن کی آخری مہر مقامی زمین پر نہ لگے
رِیکو ڈِک یا تھرکول: ہر بڑے منصوبے کی نگرانی ایک منتخب عوامی بورڈ کرے، جس کی کارروائیاں ریئل ٹائم میں آن لائن عوام کے سامنے ہوں۔
رائلٹی فنڈ برائے تعلیم و سائنس
ہر بیرل، ہر ٹن پر موصول ہونے والی رائلٹی براہِ راست ایک ’’معدنیات امانت فنڈ‘‘ میں جمع ہو اور صرف STEM جامعات، وکیشنل ٹریننگ اور گرین ٹیک ریسرچ پر خرچ ہو۔
غیر ملکی کمپنی کو چھینک بھی لینے سے پہلے مقامی اسٹیک ہولڈرز کے حصے کی رائے لینا ہوگی؛ مزدور یونین، قبائلی نمایندگان، ماحولیات کے ماہرین سب میز پر برابر ہوں گے۔
معاہدوں کو ’’قومی راز‘‘ کہہ کر بھاری فائلوں کے نیچے دفن نہ کیا جائے؛ ہر شہری کو معلوم ہو کہ کس نے، کب، کتنے ارب ڈالر کے عوض کس قدرتی سرمائے پر دستخط کیے
اے نوجوانو! میرے عرض وطن کے لوگو
اگر تم نے آج آواز بلند نہ کی تو کل یہی زمین—جس کے میدانوں میں تم کرکٹ کھیلتے ہو، جس کی پہاڑیوں پر تم غروبِ آفتاب دیکھ کر خواب بُنتے ہو—کسی غیر ملک کی کان کنی مشینوں کی دھمک میں دفن ہو جائے گی۔ قلم اُٹھاؤ، سوشل میڈیا کو نعرۂ مژدہ بناؤ، پارلیمان کے دروازوں تک سوال لے کر جاؤ۔ بتا دو کہ یہ تانبہ، یہ لیتھیم، یہ کولا—اُسی قوم کی امانت ہے
ہماری تاریخ نے ہمیں ایک موقع اور دیا ہے:
یا تو ہم اپنے خزانوں کے پہرے دار بن جائیں،
یا کسی عالمی طاقت کے معاہدہ ناموں میں اپنا آینده گروی رکھ دیں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہےاور وقت… تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
01/04/2025
جب تک ایک غریب کا بچہ حسرت سے دوسرے بچوں کو دیکھتا رہے، تب تک ہماری عید نامکمل ہے۔ عید اس دن ہوگی، جب کوئی غریب شرمندہ نہ ہو اور کوئی امیر مغرور نہ ہو۔ عید کا دن صرف خوشی کا نہیں، احساس کا بھی ہوتا ہے۔ اگر تم نے کسی غریب کے دکھ کو محسوس کیا، تو تمہاری عید مکمل ہوئی۔ عید کی حقیقی خوشی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں ہے، نہ کہ اپنی ذات کے لیے آسائشیں اکٹھی کرنے میں۔
05/03/2025
غالباً ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ پاکستان ایک ڈیپ سٹیٹ ہے
اسوقت مجھے شدید غصہ آیا تھا پھر جب میں نے اس سٹیٹ کا مطالعہ کیا تو مجھے یہ لفظ بہت چھوٹا سا لگا۔
ارمغان کا باپ پچھلے تیس سال سے سمگلنگ اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہے لیکن ایجنسیوں کو پتا ہی نہیں
اسکا 24 سال کا بیٹا منشیات منی لانڈرنگ عالمی بینک فراڈ اغوا برائے تاوان جعلی شناختی کارڈ اور چھوٹی عمر کی بچیوں کے ریپ میں ملوث ہے لیکن نادرا اور اینجسیاں سو رہی ہیں
اداکار ساجد حسن کا بیٹا کراچی میں منشیات کا ہول سیلر تاجر ہے اہجنسیاں خراٹے لے رہی ہیں
چوبیس سالا مصطفے عامر ایک عرصے سے نان کسٹم گاڑیاں اور منشیات کے عالمی دھندے میں ملوث ہے لیکن ایجنسیوں کو پتا ہی نہیں (اور اسکا باپ کسٹم کا ایک آفیسر رہا ہے)
اس ملک میں افغانی ہیروئین اور اسلحہ ان کو لا لا کر بیچ رہے ہیں
ایران سے ہزاروں بیرل پیٹرول پشاور لاہور کراچی میں پیٹرول پمپوں پر فروخت ہورہا ہے ظاہر ہے ڈھائی سو چیک پوسٹیں کراس کرکے آتا ہے تو سوال یہ ہے کہ یہ اسلحہ منشیات پیٹرول کیسے آتا ہے کیا ارباب اقتدار ارباب اختیار جنرل جج سیاستدانوں کمشنرز بولس افسران کو نہیں معلوم کہ سامان کہاں سے آتا ہے ظاہر ہے انہیں انکا حصہ مل جاتا ہے جو دوبئی میں جائیدادیں بنانے کے کام آتا ہے۔
ارمغان کا باپ اپنے آپ کو ایک ایجنسی کا ایجنٹ کہتا ہے کوئی بولتا کیوں نہیں
کیوں کہ سبھی کانے ہیں
ایک طوائیف جب پول کھولتی ہے تو وہ ننگی نہیں ہوتی پھر وہ تمام اشرافیہ کو ننگا کرتی ہے
مصطفے قتل کیس میں ملوث ارمغان کی پیشی کے موقع پر جج بھی نظریں نہیں ملاتا ریمانڈ میں توسیع روک دیتا ہے جیسے ارمغان سے ادھار لے رکھا یو یا بیٹی دے رکھی ہو
اس دوران اعلا پولیس افسران شوہدات مٹانے میں مصروف رہے
نجانے کراچی میں ارمغان جیسے کتنےمنشیات اور فراڈ کے ڈیلرز موجود ہیں
کراچی لاہور اسلام اباد کی سڑکوں پر روزانہ درجنوں ویگوز ستر ستر کروڑ کی نان کسٹم بمب پروو گاڑیاں (جن پر مشکوک پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز بیٹھے نظر اتے ہیں جو سائیرن بجاتی اور چیختی چنگھاڑتی کہ ہٹو بچو ورنہ کچل دیئے جاو گے) اس مکروہ دھندے میں ملوث ہیں
نتاشا نامی ایک برطانوی لے پالک جو بنا لائیسنس گاڑی چلا رہی تھی چھ افراد کو کچل ڈالا
مگر نتاشا کی گاڑی کو مکمل سپورٹ ملی بلکہ اسکو ریجنرز نے سامنے مارکیٹ سے لاکر جوس بھی پلایا اور پچکاریان بھی لیں
اینجسیاں جانتی ہے یا نہیں لیکن عالمی سروے کے مطابق دوبئی کی ستر فیصد اکانومی پاکستانی کرپشن کے پیسے پر کھڑی ہے
اگر کوئی ایماندار حکومت
یہ پیسہ مانگ لے
تو پورا دوبئی واپس
سندھ کے اس گوٹھ کی مانند ہوجاوے
جہاں صرف بھٹو زندہ ہے
مگر سوال یہ ہے کہ پیسہ کون واپس لائے
جرنیل ؟؟؟ جن کے اپنے بچے دوبئی میں بیٹھے ہیں جہاں انکے اپنے اکاونٹس ہیں یا امریکہ میں پیزوں کی دوکانیں ہیں
سیاست دان ؟؟؟
بیورو کریٹس ؟؟؟
اعلا پولیس حکام ؟؟؟
ججز ؟؟؟
اسٹلشمنٹ ؟؟؟
تاریخ میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک عورت کو زنا کے جرم میں سنگسار کرنے کی سزا ہوئی
عورت کو باندھ دیا گیا
لوگوں نے اسکو مارنے کے لئے پتھر اٹھا لئے
اس عورت نے چیخ کر کہا
مجھے پہلا پتھر وہ مارے جس نے زنا نہ کیا ہو
اب سوال یہ ہے کہ دوبئی سے پیسہ کون واپس لائے گا ؟؟؟
یہاں تو سبھی چور اچکے ہیں
ڈاکو ہیں
رہزن ہیں
بس لیب ٹاپ آٹا چینی اور بے نظیر انکم سکیم کے تحت چند ہزار بانٹنے جاو
مگر شعور مت دینا
کیونکہ شعور مل گیا تو عوام کی یہ جو دو ✌🏻 ہیں ان کے ذریعے ان حرامیوں کے حلق سے اپنا پیسہ نکال لے گی
لیکن خوش ائیند بات ہے کہ تمہاری اگلی کئی نسلیں دوبئی امریکہ سوئیٹزلیینڈ میں مزید عیاشیاں کرسکتے ہیں کیونکہ ابھی اس قوم میں شعور آنے میں کافی صدیاں باقی ہیں
منقول کاپی پیسٹ
”ہم سب کچھ تو انگریزی میں سیکھ رہے ہیں،
اب ہمارے سپنوں کو تو اپنی زبان میں رہنے دو۔“
کسی قوم کو معاشی طور پر کنگال کر دیا جائے تو وہ دوبارہ محنت کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتی ہے اسی طرح اگر سیاسی طور پر مفلوج کر دیا جائے تو بھی اسی قوم سے سیاسی رہنما اس قوم کو سیاسی طور پر مضبوط بنا دیتے ہیں، لیکن اگر کسی قوم کی تہذیب و تمدن فکر اور زبان کو مسخ کر دیا جائے تو اس قوم کو اپنی اصلی تہذیب و تمدن اور فکر کے احیاء میں صدیاں لگ جاتی ہیں ۔
یہ ہمارے بر عظیم پاک و ہند کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔
حقیقت کو پس پردہ ڈال کر اسے کسی اور طریقہ سے پیش کرنا دجل/دھوکا کہلاتا ہے۔
اس وقت دنیا دجالی فتنے کے زیر اثر ہے۔ یہ فتنہ طبقاتی مفادات کے لیے کام کرتا ہے ( فرعونی سیاست کی طرح) ۔ یہ چیز انسانی و قرآنی اصولوں کے خلاف جاتی ہے ۔
بنگلہ دیش ، پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر جتنے واقعات رونما ہوتے ہیں وہ اتنے سیدھے ہوتے نہیں جتنے نظر آتے ہیں
علم اور تحقیق کے بغیر محض میڈیا کی پٹی کی بنیاد پر رائے قائم کرنا ایک انتہائی غلط عمل ہے۔
جماعت اسلامی کے بانی
سید ابوالاعلیٰ مودودی کے صاحبزادے سید حسین فاروق مودودی لکھتے ہیں
" جب ہمارے والد نے جماعت اسلامی بنانے کا ارادہ باندھا تو مولانا ابوالکلام آزاد نے جماعت کا مینی فیسٹو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا
چنانچہ مولانا عبدالسلام نیاز رح کے ترکمان گیٹ دہلی والے حجرے میں انہوں نے فراہم کردہ مینی فیسٹو کا بغور مطالعہ کیا اور ٹھنڈی آہ بھر کر کہا
ابوالاعلیٰ ! اخلاصِ نیت کے باوجود اس مینی فیسٹو سے جو جماعت معرض وجود میں آئے گی وہ ایک فاشسٹ جماعت ہوگی ۔ مذہبی جرائم پیشہ افراد سانپ بچھو بن کر تمہارے گرد اکٹھے ہوجائیں گے اور ان کی اصلاح ممکن نہ ہوگی
صفہ 197
آفتاب علم و عرفان / سید ابوالاعلیٰ مودودی
مصنف ۔ سید حسین فاروق مودودی
07/08/2024
🇵🇰
پاکستان برطانوی پارلیمنٹ کے ایک قانون کے تحت وجود میں آیا تھا۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 ہی پاکستان کا حقیقی آئین تھا۔ فوج اور سول انتظامیہ کے گورنر جنرل کے بجائے براہِ راست تاجِ برطانیہ کے ماتحت تھے۔
پاکستان کا گورنر جنرل تاجِ برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت سے ملک کا اعلی ترین عہدیدار ہوتا تھا۔
پاکستان کے گورنر جنرل 1947ء سے 1952ء تک برطانوی شاہ جارج ششم اور 1952ء سے 1956ء تک ملکہ ایلزبتھ کے آئینی طور پر نمائندے رہے تھے۔
ہمارے پہلے گورنر جنرل سے لے کر 1956 تک (محمد علی جناح، خواجہ نظام الدین، ملک غلام محمد اور سکندر مرزا) گورنر جنرل اپنے حلف میں تاجِ برطانیہ سے اپنے وفادار رہنے کا عہد کیا کرتے تھے۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے چئیرمن جوگندر ناتھ منڈل بنے۔
پہلے وزیرِ خارجہ ایک قادیانی سر ظفر اللہ کو بنایا گیا۔
ہماری فوج کے پہلے اور دوسرے سربراہ جنرل سر فرینک مسروی اور جنرل سر ڈوکلس ڈیوڈ گریسی تھے۔
پنجاب کے گورنر سر فرانس موڈی، سرحد کے گورنر جارج کنگھم، سندھ کے گورنر انگریزو کے مراعت یافتہ تھے۔
M Abbas Shad
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore