18/12/2022
*** خالص دودھ اور خالص ایمان دونوں ہاضمہ خراب کرتے ہیں ***
دیہات میں رہنے والے افراد عموما خالص دودھ کی نایاب نعمت سے محروم نہیں ہیں۔ جب کہ شہر میں رہنے والے شائد سب لوگ ہی خالص دودھ کی نعمت سے محروم ہیں۔ ہمارے جسم ملاوٹ شدہ دودھ پی پی کر اسی کا عادی ہو گیا ہے۔
ہمارے ایک دوست ایک مرتبہ دیہات میں گئے جہاں پر انہیں خالص دودھ دیا گیا۔ چونکہ شہر میں رہنے کے باعث جسم ملاوٹ شدہ دودھ کا ہی عادی ہو چکا ہوا تھا لہذا دوست نے دو دن بعد میزبان سے گزارش کی کہ یار یہ خالص دودھ مجھے ہضم نہیں ہوتا لہذا اس میں پانی ڈال کر دیا کرو۔
اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دوست کے والد نے کوشش کی کسی جگہ سے خالص دودھ حاصل کرنے کی۔ وہ خالص دودھ لے کر لیکن گھر والوں نے یقین نہیں کیا اور کہا کہ خالص کا ذائقہ پسند نہیں آ رہا۔
بنیادی طور پر اگر ہم اپنے ہاں دینی معاملات کو دیکھیں تو وہ بھی ہوبہو ملاوٹ شدہ دودھ جیسے ہی ہیں۔ ہماری عوام نے اتنی کثرت سے ملاوٹ شدہ دین سنا ہے کہ اب طبیعتیں آمادہ ہی نہین ہو رہی ہیں خالص دین کے لئے۔ خالص دین اگر بیان کیا جائے تو وہ طبیعت پر بھاری گزرتا ہے اور بہت سوں کو تو شدید بدہضمی کر جاتا ہے۔
جب کہ ملاوٹ شدہ دین سن سن کر ملاوٹی دین سے محبت بھی ہو گئی اور طبیعت کے بھی مطابق سیٹ ہو گیا اور ملاوٹی دین ہی اصل دین لگنے لگ گیا۔
اب یہاں پر خالص دین دینے والا بھی جانتا ہے کہ جب وہ خالص دین پیش کرے گا تو عوام کا ہاضمہ خراب ہونے کے باعث عوام کیا حال کرے گی۔ اسلام کے ساتھ شروع سے یہی ہوا اسی لئے ملاوٹی لوگ سکوں سے حکومت کرتے رہے اور جیسے ہی ولایت کا نظام قائم ہوا تو لوگوں کا ہاضمہ خراب ہونے لگ گیا۔
امام خمینی (رض) بھی دین ناب (یعنی خالص دین) کی اصطلاح استعمال کرتے تھے جس کے احیاء کی ضرورت ہے۔ دین ناب یعنی وہ دین جو خالص ہو۔ کسی بھی قسم کی ملاوٹ سے پاک۔
آج پاکستانی معاشرہ ملاوٹی دین اور خالص دین کے نتائج کا مکمل عکاس ہے۔ یہاں بھی کسی نے قدم اٹھانا ہے ملاوٹ کو پاک کرنا ہے اور ہاضمہ خراب افراد سے گالی کھانی ہے!
فرزندان رہبر