Positive Vibes

Positive Vibes

Share

Articles on Various Topics Shared after complete research

18/12/2022

*** خالص دودھ اور خالص ایمان دونوں ہاضمہ خراب کرتے ہیں ***

دیہات میں رہنے والے افراد عموما خالص دودھ کی نایاب نعمت سے محروم نہیں ہیں۔ جب کہ شہر میں رہنے والے شائد سب لوگ ہی خالص دودھ کی نعمت سے محروم ہیں۔ ہمارے جسم ملاوٹ شدہ دودھ پی پی کر اسی کا عادی ہو گیا ہے۔

ہمارے ایک دوست ایک مرتبہ دیہات میں گئے جہاں پر انہیں خالص دودھ دیا گیا۔ چونکہ شہر میں رہنے کے باعث جسم ملاوٹ شدہ دودھ کا ہی عادی ہو چکا ہوا تھا لہذا دوست نے دو دن بعد میزبان سے گزارش کی کہ یار یہ خالص دودھ مجھے ہضم نہیں ہوتا لہذا اس میں پانی ڈال کر دیا کرو۔

اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دوست کے والد نے کوشش کی کسی جگہ سے خالص دودھ حاصل کرنے کی۔ وہ خالص دودھ لے کر لیکن گھر والوں نے یقین نہیں کیا اور کہا کہ خالص کا ذائقہ پسند نہیں آ رہا۔

بنیادی طور پر اگر ہم اپنے ہاں دینی معاملات کو دیکھیں تو وہ بھی ہوبہو ملاوٹ شدہ دودھ جیسے ہی ہیں۔ ہماری عوام نے اتنی کثرت سے ملاوٹ شدہ دین سنا ہے کہ اب طبیعتیں آمادہ ہی نہین ہو رہی ہیں خالص دین کے لئے۔ خالص دین اگر بیان کیا جائے تو وہ طبیعت پر بھاری گزرتا ہے اور بہت سوں کو تو شدید بدہضمی کر جاتا ہے۔

جب کہ ملاوٹ شدہ دین سن سن کر ملاوٹی دین سے محبت بھی ہو گئی اور طبیعت کے بھی مطابق سیٹ ہو گیا اور ملاوٹی دین ہی اصل دین لگنے لگ گیا۔

اب یہاں پر خالص دین دینے والا بھی جانتا ہے کہ جب وہ خالص دین پیش کرے گا تو عوام کا ہاضمہ خراب ہونے کے باعث عوام کیا حال کرے گی۔ اسلام کے ساتھ شروع سے یہی ہوا اسی لئے ملاوٹی لوگ سکوں سے حکومت کرتے رہے اور جیسے ہی ولایت کا نظام قائم ہوا تو لوگوں کا ہاضمہ خراب ہونے لگ گیا۔

امام خمینی (رض) بھی دین ناب (یعنی خالص دین) کی اصطلاح استعمال کرتے تھے جس کے احیاء کی ضرورت ہے۔ دین ناب یعنی وہ دین جو خالص ہو۔ کسی بھی قسم کی ملاوٹ سے پاک۔

آج پاکستانی معاشرہ ملاوٹی دین اور خالص دین کے نتائج کا مکمل عکاس ہے۔ یہاں بھی کسی نے قدم اٹھانا ہے ملاوٹ کو پاک کرنا ہے اور ہاضمہ خراب افراد سے گالی کھانی ہے!
فرزندان رہبر

18/09/2022

زیارت اربعین کا اہم ترین جملہ:

فَأَعْذَرَ فِی الدُّعَاءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیك لِیسْتَنْقِذَ عِبَادَك مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَیرَةِ الضَّلالَةِ

"پس حجت تمام کر دی انہوں نے دعوت حق میں اور اپنی نصیحت کو پیش کیا اور اپنے خون و دل کو تیری راہ میں بہا دیا تا کہ تیرے بندوں کو جہالت اور ضلالت کی کنفیوژن سے نکالیں ۔۔۔۔۔۔۔"

پس اربعین کی زیارت میں بھی امام نے بتایا کہ مقصد کیا ہے اور مقصد فقط وہی ہے جو مقصد رسالت و امامت ہے۔ بلکہ مقصد توحید بھی (ظلمات سے نور کی طرف) لوگوں کو جہالتوں کی کنفیوژن سے نکالنا۔

کاش اربعین کی زیارت کے لئے جو بھی نکلے وہ اس زیارت کے فلسفہ کو بھی مکمل کرتے ہوئے اپنے اندر سے جہالت و کنفیوژن کو نکال دے جس مقصد کے لیے امام حسین (ع) ٹکڑے ٹکڑے ہوئے اور اگر ایسا ہو جائے تو قوم کی تقدیر ہی بدل جائے۔۔۔۔۔۔۔
فرزندان رہبر

02/09/2022

*** ایک عجیب تبدیلی - مولانا عامر عثمانی ***

ماضی قریب میں برصغیر کے اندر ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت مولانا مودودی گزرے ہیں۔ آپ نے خلافت و ملوکیت کے نام سے ایک کتاب لکھی جس نے برصغیر میں طوفان بدتمیزی شروع کیا۔

اس کا جواب بہت سوں نے پڑھے بغیر لکھا اور ہر ہر مسلک نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ البتہ بعض اوقات معاملات عجیب طرح سے تبدیل ہو جاتے ہیں۔

مولانا عامر عثمانی دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور برصغیر میں ایک بہت ہی مشہور ماہنامے تجلی کے بانی تھے۔ مولانا عامر عثمانی کا حال یہ تھا کہ آپ نے برصغیر کی سب سے بڑی ناصبی شخصیت محمود احمد عباسی کی رسوائے زمانہ کتاب خلافت معاویہ و یزید تک کا دفاع کیا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جس وقت مولانا مودودی کی کتاب شائع ہو کر مارکیٹ میں آئی تو آپ نے بھی اس کا جواب لکھنے کی بھرپور تیاری کی۔ لیکن آپ کے ضمیر نے آواز دی کہ جس کا جواب لکھنے لگا ہوں اس کا ایک مرتبہ مطالعہ ہی کر لوں۔ پھر آپ نے خلافت و ملوکیت کا مطالعہ شروع کیا اور یہیں تک نہ رہے بلکہ جن جن کتب کے مولانا نے ریفرنس دیے تھے ان تک کو پڑھ ڈالا۔

یہ سب پڑھنے کے بعد آپ کی طبیعت میں مکمل مختلف انقلاب برپا ہو گیا اور آپ خلافت و ملوکیت کے نا صرف شیدائی ہو گئے بلکہ آپ نے خلافت و ملوکیت کے دفاع میں خوب قلم چلایا اور بڑے بڑوں کی ناقص تحقیقات و جاہلانہ جوابات کا تار پور بکھیر کر رکھ دیا اور اس کے لئے آپ نے کسی قسم کا خوف نہیں کھایا بلکہ بڑے بڑوں کے نام لکھ کر ان کی عبارات کا جھول ثابت کیا۔

خود مولانا مودودی کہا کرتے تھے کہ عامر عثمانی میرے صبر کا پھل ہے۔ مولانا عامر عثمانی کی کتاب "تجلیات صحابہ" 661 صفحات پر شائع ہوئی ہے۔ خود عامر عثمانی صاحب نے کتاب کے صفحہ 314 پر عنوان "ہم رجوع کرتے ہیں" کے بعد 322 تک آٹھ صفحات میں اپنے رجوع کی مکمل روئداد بیان کی ہے جو کہ پڑھنے کے قابل ہے۔

ہمارے ہاں جو لوگ یہ جاننا چاہیں کہ بڑے بڑے ملاں جس وقت حسد کا شکار ہوتے ہیں دوسرے عالم سے تو وہ کس طرح سے مخالف عالم دین کی بات کو کاٹتے چھانٹے اور تحریفات کا سہارا لیتے ہیں تو ان کو اس کتاب کا حتما مطالعہ کرنا چاہئے۔

آج اگر ہم تشیع کو دیکھیں تو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں بھی منظر کچھ ایسا ہی ہے۔ بہت سے ملاں اور ملاوں کی دیکھا دیکھی عوام بھی کسی حق شناس عالم کے بغض میں کتر بیونت کر رہے ہیں، نامکمل و ادھورے بیانات کاٹ کر پراپوگنڈہ کر رہے ہیں۔ کسی سے اختلاف کرنا بھی ہو تب بھی دین کا تقاضہ ہے کہ اس کی مکمل بات سنی و پڑہی جائے لیکن ایسا کون کرے یہاں۔۔۔۔۔۔۔

جب کہ جن علماء کے خلاف ملاں یہ سب کر رہے ہیں ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے بچپن کے سنے سنائے بت توڑنے کی جسارت کی ہے۔ اور ملاں و خرافاتی عوام کو یہ منظور نہیں۔

کیونکہ جس وقت بہت سے لوگ مکمل بات سنیں گے یا پڑہیں گے تو وہ کلئیر ہو جائیں گے۔ اسی وجہ سے بہت سے ملاں و عوام بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے اس طرح سے نظر آئیں گے کہ وہ مکمل دینی حدود کو پائمال کرتے ہوئے حق شناس عالم کی بات کو سمجھے و مکمل سنے بغیر آگ برسانا شروع ہو جائیں گے۔

حتی بہت سوں نے تو شائد کبھی پوری زندگی میں ان حق شناس علماء کو سننا بھی گوارا نہ کیا ہو لیکن بہتی گنگا میں ہاتھ ضرور دھوئیں گے۔۔۔۔۔۔۔

پس جو اختلاف حسد و جلن کی بنیاد پر ہو اس میں انصاف کو بری طرح سے چیرا جاتا ہے۔
فرزندان رہبر

01/09/2022

*** اویس قرنی (رض) و دانت توڑنے والی کہانی ؟ ***

بہت سے لوگوں یہ شکوہ رہا ہے کہ ہم بچپن سے جو سنتے آئے ہیں وہ کی غلط تھا۔

نہیں معلوم کہ ذمہ دار کون ہے ان غلط باتوں کو ہوا دینے کا جس کی وجہ سے لوگ پختہ و راسخ ہو چکے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ جنہوں نے بھی غیر مستند کہانیوں کو بنا تحقیق ہوا دی وہ سب برابر کے قصور وار ہیں۔

البتہ خوش قسمتی اصلا ان افراد کی ہے جو حقیقت کو جان لینے کے بعد اسے تسلیم کر لیں اور یقینا یہ صفت بہت ہی کم لوگوں میں اللہ نے رکھی ہے۔

بچپن سے سنی ہوئی اویس قرنی (رض) کے متعلق ایک کہانی کا بھی حال دیکھ لیجئے کہ کیا ہے۔ کسی قدیمی معتبر و مستند کتاب میں یہ بات نقل نہیں ہے نہ ہی عشق میں کبھی بھی کسی سالم العقل شخصیت نے اپنے آپ کو لہو لہان کیا ہے بلکہ عشق میں تو لوگ مالک اشتر بنتے ہیں یا حبیب ابن مظاہر۔۔۔۔۔۔۔۔
فرزندان رہبر

31/08/2022

*** آقائے حائری کا بیان اور بعض افراد کے غلط تجزئے ***

بعض حقائق ایسے ہوتے ہیں جو دلیل کے محتاج نہیں ہوتے۔ جیسے دن کے وقت سورج اپنے وجود کے لئے دلیل کا محتاج نہیں۔ ان حقائق کے لئے انسان کے پاس فقط نور بصیرت ہونا ضروری ہے۔

عراق کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمی کاظم حائری نے حالیہ اپنے ایک انتہائی اہم بیان میں اپنی مرجعیت سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو ساتھ ہی عوام کو امام الخامنہ ای کہ اطاعت کا حکم دیا۔ اس کی وجہ آپ نے ان الفاظ میں بیان کی:

"ایسے حالات میں کہ جب اسلامِ نابِ محمدی کے خلاف کفر و شر کی قوتیں ایک ہو چکی ہوں، وہی قوم کی رہبری و قیادت اور ظالم اور استکباری قوتوں کے خلاف مقابلہ کا انتظام کرنے کی سب سے زیادہ لیاقت اور شائستگی رکھتے ہیں۔"

آپ کے اس بیان کے بعد بہت سے لوگ عجیب و غریب باتیں کہنا شروع ہوئے کہ آقائے حائری نے کسی فلاں محترم مرجع کی جانب رجوع کرنے کا کیوں نہیں کہا۔ ان افراد نے آقائے حائری کے بیان کو اگر بغور پڑھا ہوتا تو کبھی یہ بات نہ کہتے۔

جس طرح دن چڑھے سورج کا ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں اسی طرح یہ بات بھی کسی دلیل کی محتاج نہیں ہے کہ عالمی استکبار کے خلاف اس وقت تمام عالم اسلام میں فقط ایک ہستی ہی نبرد آزما ہیں اور صرف وہی ہستی ہی امت کی ان مسائل میں رہنمائی کر رہی ہے۔ اس ہستی کا نام امام الخامنہ ای ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے فقط نور بصیرت ہونا ضروری ہے۔

عراق کے لوگ یا اس وقت امت مسلمہ کو طہارت کے مسائل سے زیادہ استکباری طاقتوں کے خلاف رہنمائی کی ضرورت ہے اور یہ رہنمائی فقط امام خامنہ ای ہی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ فقہی رہنمائی کے لئے عوام کے پاس متعدد مستند دروازے موجود ہیں الحمدللہ لیکن مراجع بھی اس بات کو جانتے ہیں کہ امت کی اجتماعی رہنمائی اس وقت فقط رہبر ہی کی جانب سے انجام دی جا رہی ہے۔

پس آقائے حائری نے بھی اسی وجہ سے اپنی مشکلات میں پھنسی ہوئی قوم کو امام خامنہ ای کی اطاعت کا حکم دیا تا کہ اہل عراق بھی اہل لبنان کی مانند ولایت کے نور سے کسب فیض کر کے اپنی مشکلات سے نجات حاصل کریں۔

لہذا جو شخص بھی آج رہنمائی لینا چاہے اس کے لئے امام خامنہ ای ہی رہبر ہونگے اور اسے اسی جانب ہی رجوع کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالی آقائے حائری کو جزائے خیر عطا فرمائے آپ نے عراق میں رہ کر اپنی ذمہ داری انتہائی احسن طریقہ سے انجام دی اور مکمل دیانت کے ساتھ دینی امانت کو صحیح جگہ پر لوٹایا۔

پس آقائے حائری کے جملات پر دقت کیجئے کیونکہ آج یہ جملے عین حقیقت ہیں جن کا انکار وہی کر سکتا ہے جو آنکھوں کی نعمت سے محروم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالی تمام مراجع بالخصوص آقائے سیستانی (حفظہ اللہ) آقائے حائری (حفظہ اللہ) وغیرہا اور رہبر معظم کو طول عمر عطا فرمائے اور ہماری قوم کو بھی اس واضح و شفاف حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
فرزندان رہبر

Photos from Positive Vibes's post 24/08/2022

*** یزید کے لعن و کفر پر ایک علمی شاہکار کتاب ***

تاریخ اسلام میں امام حسین (ع) کے قاتل یزید کے متعلق کبھی کسی نے رحمت اللہ علیہ کا اشتباہ نہیں ایجاد کیا۔ بعض لوگوں نے تھوڑی بہت اگر مگر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی برملا اتنی جرات نہ کر سکے۔

برصغیر کو بہت سے امتیازات حاصل ہیں انہیں میں سے ایک افسوسناک امتیاز یزید کے متعلق مثبت جذبات ہے۔ اس کی ابتداء محمود احمد عباسی نے کی۔ محمود احمد عباسی کی حیات میں عباسی کے ہی بہت سے عشاق اس کام پر مکھی پر مکھی مارتے رہے اور یزیدیت کا دفاع کرتے رہے۔

ایک عرصہ سے یہ سب حامی یزید کے پاس پہنچ گئے اور اب کوئی نامی گرامی فرد اس جماعت کا نظر نہیں آ رہا تھا۔ البتہ ابھی آج کل انڈیا میں ہی ایک اہلحدیث مکتب فکر کے عالم دین اٹھے ہیں جنہوں نے اس ناپاک تحریک میں ایک نئی روح پھونکی ہے اور یہ مسئلہ پھر سے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

یزید پر لعن و کفر سے متعلق اہلسنت حضرات میں کچھ کام ہوا البتہ وہ کام عموما ایسے افراد کی جانب سے کیا گیا جنہیں زیادہ شہرت حاصل نہیں تھی۔

ایک عرصہ سے ہم منتظر تھے کہ ڈاکٹر طاہر قادری صاحب کو اس موضوع پر قلم چلانا چاہئے جیسا کہ آپ اس سے پہلے بھی فضائل اہلبیت سے متعلق قیمتی رسالے لکھ چکے ہیں۔

الحمدللہ یہ خواہش پوری ہوئی اور ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے اس موضوع کا حق ادا کرتے ہوئے "القول المتین فی ام یزید اللعین" نام سے کتاب لکھ ڈالی جو کہ حقیقتا اس موضوع پر ایک شاہکار انسائیکلوپیڈیا ہے۔ کتاب کے 650 سے زائد صفحات ہیں اور کتاب کے اندر اس موضوع سے متعلق بھرپور تحقیق کی گئی ہے۔

ابھی مارکیٹ میں اس موضوع پر معروف و غیر معروف نامی جتنی بھی کتب و رسائل موجود ہیں ان سب پر یہ کتاب علمی و تحقیقی اعتبار سے حاوی ہے۔

یہ بات کہنے میں بالکل بھی کوئی حرج نہیں ہے کہ اس موضوع پر ایک بلند پایہ اہلسنت امام ابن جوزی کا بھی ایک مفید رسالہ موجود ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی کتاب سب پر بھاری ہے۔

میرے خیال میں اس کتاب کی اشاعت کو زیادہ سے زیادہ عام کرنا چاہئے تا کہ پاکستان میں منحوس یزیدی افکار کا قلع قمع کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اس کتاب کے متعلق آگاہ کرنا چاہئے تا کہ وہ یزیدیت کے جراثیم سے پاک رہ سکیں۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ ڈاکٹر صاحب کو اس عظیم تحقیقی کارنامے پر اجر عظیم عطا فرمائے نیز اس راہ پر استقامت بھی عطا فرمائے۔ آمین۔
فرزندان رہبر

24/08/2022

*** قیامت کے دن چار سوال کونسے ہونگے ؟ ***

حضرت امام علی بن حسین زین العابدین (ع) فرماتے ہیں:

"قیامت کے دن اس وقت تک جان نہیں چھٹے گی جب تک چار چیزوں کے متعلق سوال نہیں ہو گا:

1۔ اپنے وقت کے متعلق کہ اسے کس حال میں گزارا۔

2۔ اپنی جوانی کو کس کام میں گزارا۔

3۔ اپنے مال کے متعلق کہ کہاں سے کمایا۔

4۔ اور ہم آل محمد (ع) کی محبت کے متعلق۔

(خصال، شیخ صدوق، صفحہ 231 منقول از حیات امام علی ابن حسین، سید باقر شریف قرشی، صفحہ 256، طبع قم)

اس روایت کا تیسرا اور چوتھا حصہ تو آسانی کے ساتھ سمجھ آ جائے گا لیکن پہلے و دوسرے حصے پر تھوڑی توجہ کی ضرورت ہے۔

امام نے جب پہلے فرما دیا کہ وقت/ زندگی کے متعلق سوال ہو گا تو پھر الگ سے جوانی کا سوال کیوں کیا جائے گا ؟ کیونکہ جوانی بھی تو زندگی کا حصہ ہی ہے۔

لہذا جوانی کے متعلق الگ سے سوال کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو جو لوگ جوانی کو رنگینوں میں گزار دیتے ہیں اور بڑھاپے میں پہنچ کر تسبیح پکڑ لیتے ہیں انہیں اس جانب متوجہ کیا جائے کہ تسبیح پکڑ لینا 60 سال کو پہنچ کر لیکن جوانی کے متعلق سوال پھر بھی ہر حال میں ہو گا۔

پھر دوسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح سے کسی بھی محکمے کو ریٹائیرڈ بندے نہیں چاہئے ہوتے۔ کیونکہ ریٹائیرڈ بندہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ لہذا جب دنیاوی امور سے متعلق محکموں کو ریٹائیرڈ بندے نہیں چاہئیں تو پھر دین کو کیسے یہ لوگ چاہئے ہونگے ؟؟ دین کو نوجوان چاہئیں تا کہ اپنی پوری طاقت و وقت کو دین کے لئے وقف کر کے اپنے امام و رہبر کا سہارا بنیں اور دین کی حفاظت کریں۔

لہذا نوجوان متوجہ رہیں۔ ہم سب سے سوال ہو گا نوجوانی کے متعلق۔۔۔۔۔۔۔
فرزندان رہبر

23/08/2022

سیلاب زدگان کی مدد کے لئے سب لوگ مذہب و مسلک کی قید سے بالاتر ہو کر مدد کریں۔

19/08/2022

*** رجل الفقیہ! ***

بعض متاخر کتب میں امام حسین (ع) کا ایک خط ملتا ہے جو امام نے حضرت حبیب ابن مظاہر کے نام لکھا۔ اس خط کے آغاز میں یہ جملہ ملتا ہے:

"من الحسین بن علی بن ابی طالب الی الرجل الفقیہ حبیب ابن مظاہر۔۔۔۔۔" "حسین ابن علی کی جانب سے مرد فقیہ حبیب ابن مظاہر کو خط۔۔۔۔۔"

یقینا رجل الفقیہ کا لفظ ایسی ہستی کو ہی جچتا ہے جو کہ اس وقت جب باقی خواص ڈر گئے ہوں یا بے بصیرت ہوں لیکن یہ ہستی باہر نکل کر امام کی نصرت کے لئے قدم اٹھائے اور امامت کا حق ادا کر دے۔۔۔۔۔۔۔

جب سب ڈر رہے ہوں، سب کسی اور طرف جا رہے ہوں اور مصلحت کا شکار ہوں تو رجل الفقیہ تمام بیڑیوں کو توڑ کر امام کی راہ کو ہموار کرتا ہوا امام تک پہنچتا ہے اور فقیہ کا معنی سمجھا جاتا ہے!

اور ممکن ہے کہ بعض اوقات پوری امت میں فقط چند ایک ہی رجل الفقیہ ہوں اور باقی سب مصلحت پسند ہوں۔
سلام بر حبیب ابن مظاہر۔

18/08/2022

*** آئمہ کا کلچر کیا تھا ؟ ***

امام حسین کے متعلق ملتا ہے کہ جب آپ کا لاشہ پائمال ہو گیا تو بنی اسد نے آ کر دیکھا کہ آپ کے کندھوں پر کچھ ایسے نشان ہیں جو تلوار و نیزے کے نہیں ہیں۔ انہوں نے امام سجاد سے پوچھا تو امام سجاد نے فرمایا کہ یہ بوریوں کے وزن کے نشان ہیں جو امام حسین اپنی کمر پر اٹھا کر لوگوں کے گھروں تک پہنچانے تھے۔

ڈاکٹر حسن رحیم پور ازغدی کے مطابق یہ آئمہ کا کلچر تھا جو ان میں سے ہر ایک ہستی کی کمر پر نظر آتا تھا شور جس طرح مہر نبوت کندھوں کے درمیان ہوتی تھی اسی طرح یہ بوریوں کے وزن کی مہر بھی مہر امامت کے طور پر آئمہ کے کندھوں و کمر پر ہوتی تھی۔

یہ کلچر آئمہ نے خود adopt کیا اور اسے ایک کے بعد دوسرے تک پہنچایا۔

کس قدر خوبصورت کلچر ہے یہ جس کا فائدہ دنیا کو پہنچتا ہے اور کس قدر خوبصورت نشانات ہیں یہ جو کمر پر بنائے گئے۔

کاش اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی اپنی کمروں پر صرف یہی نشان بنا سکیں اور صرف اسی کلچر کو پروموٹ کر سکیں جو کہ آئمہ کی سیرت سے مطابقت رکھتا ہے۔
فرزندان رہبر۔

17/08/2022

ہر خیر خواہ محب ضرور ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ناصر بھی ہو۔ امام حسین (ع) کی تحریک گواہ ہے کہ امام کو خیر خواہ و محب افراد نے کوفہ نہ جانے کے مشورے دئے بلکہ ایک خیرخواہ تو یزید کے گورنر سے امام کے لئے امان نامہ بھی لکھوا لائے۔

البتہ خیرخواہ سے آگے ایک گروہ ہے جو ناصرین امام تھے۔ یہ امام کے ساتھ چلے اور امام کے ساتھ ہی شہید ہوئے!

پس ہمیں صرف خیرخواہ محب نہیں بلکہ ناصر بننا ہے۔

16/08/2022

*** آیت اللہ العظمی محسن الحکیم اور قمہ زنی کی ہڈی ؟ ***

جس طرح بہت سے مراجع تقلید مشروط طور پر خونی ماتم کی اجازت دیتے ہیں بالکل ویسے ہی بہت سے ایرانی عراقی و لبنانی مراجع خونی ماتم سے منع بھی کرتے ہیں اور اس کو تحریف میں شمار کرتے ہیں۔ جب کہ عموما ہمارے ہاں لوگ اس بات سے لاعلم ہیں۔ ان کی لاعلمی کو ختم کرنے کے لئے یہ پوسٹ تحریر کی گئی ہے۔

اس ضمن میں فتاوی تو بہت ہیں لیکن سب سے اہم فتوی مشہور و معروف مرجع تقلید آیت اللہ العظمی محسن الحکیم (رح) کا ہے جس کی تصویر آپ کی خدمت میں شئیر کر رہا ہوں۔

اس فتوے کی آخر سطر نہایت اہم ہے۔ آقائے حکیم کہتے ہیں کہ "قمہ زنی تو ہمارے گلے میں پھنسی ہوئی ہڈی ہے۔"

یہ سطر نہایت اہم ہے اور دقت کے لائق ہے۔ اسے اگر سمجھ لیا جائے تو کافی سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

ہم اس کو سمجھانے کے لئے صرف ایک مثال دیں گے کہ جس وقت عالم تشیع کی محقق ہستی آیت اللہ محسن الامین (رح) (جو کہ تشیع کے بزرگوں کے انٹروڈکشن پر سب سے بڑی کتاب کے مصنف ہیں) نے خونی ماتم کے خلاف بات کی تو منحرفین نے انہیں بنی امیہ کا ایجنٹ کہنے کا پراپوگنڈہ شروع کیا۔ یہ ہے

چنانچہ اس وجہ سے اس ہڈی کو باہر پھینکنا مشکل ہے کیونکہ منحرفین سنت اموی پر عمل پیرا ہوتے ہیں جس کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں۔

فتوی کا عربی متن:

إن قضیة‌ التطبیر هی غصة فی حلقومنا! إن هذه الممارسات هی لیست من الدین و مضرة بالمسلمین و لم أر أیّ واحد من العلماء عندما راجعت النصوص و الفتاوی یقول بأن هذا العمل مستحب، یمکن أن تتقرب به إلی الله سبحانی و تعالی

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Lahore