21/04/2024
آج شاعر مشرق، حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال کا یوم وفات ہے۔
آپ بر صغیر پاک و ہند کے عظیم فلسفی شاعر تھے جنہوں نے کائنات اور انسان کے باہمی تعلق کو بہت عمدگی سے بیان کرتے ہوئے مقصد زندگی اور عظمت انسانیت کو اجاگر کیا ہے۔
علامہ اقبال کی تمام تر فارسی اور اردو شاعری دراصل اسلام اور قرآن کی عملی تشریح ہے۔ آپ کی شاعری میں اصلاحی اسلوب بہت نمائیاں ہے۔
نئن نسل کو فکر اقبال سے روشناس ہونے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے اعلی و ارفع مقاصد کو سمجھ سکیں اور دین دنیا کی کامیابیاں حاصل کر سکیں۔
آپ اردو زبان کے واحد شاعر ہیں جنہیں زندگی میں ہی ایک مضمون کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔
اللہ پاک آپ کی منازل بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
علامہ اقبال نے اپنی نظم "محاور مابین خدا اور انسان" میں بڑی عمدگی سے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشان دہی کرتے ہوئے اسے نائب خدا اور اشرف المخلوقات ثابت کیا ہے ۔۔۔۔!!
محارہ ما بین خدا و انسان
( خدا اور انسان کے درمیان مکالمہ)
خدا
جہان را ز یک آب و گل آفریدم
تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
مفہوم:
میں نے دنیا کو ایک ہی مٹی اور پانی سے بنایا تھا یعنی تمام انسانوں کو یکساں پیدا کیا مگر تو نے ایران ، تاتار اور حبش (مختلف ممالک) بنا لیے اور رنگ و نسل کا امتیاز پیدا کر دیا۔
من از خاک پولاد ناب آفریدم
تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی
مفہوم:
میں نے مٹی سے خالص لوہا پیدا کیا تھا تو نے اس سے تلوار اور تیر اور بندوق گھڑ لی یعنی مختلف قسم کے ہتھیار بنا لیے ۔
تبر آفریدی نہال چمن را
قفس ساختی طایر نغمہ زن را
مفہوم:
تو نے چمن کے پودے کے لیے کلہاڑی بنا لی اور چہچہاتے پرندے کے لیے پنجرا بنایا یعنی میں نے آسائش اور امن، اتفاق اور بھائی چارہ کے سامان پیدا کیے مگر تو نے فساد، جنگ اور تقسیم کے سامان پیدا کر لیے تو دنیا میں ساری خرابی تجھ انسان وجہ سے ہے۔
انسان
تو شب آفریدی چراغ آفریدم س
فال آفریدی ایاغ آفریدم
مفہوم:
(اے اللہ)تو نے رات بنائی مگر میں نے (انسان نے) اس کو روشن رکھنے کے لیے چراغ بنا لیا ۔ تو نے مٹی پیدا کی میں نے اسی مٹی سے پیالہ بنا لیا ۔
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
مفہوم:
تو نے صحرا اور پہاڑ اور جنگل تخلیق کیے، میں نے ّان میں کیاری اور پھلواری اور باغ بنائے ۔
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
مفہوم:
میں وہ ہوں کہ پتھر سے آئینہ بناتا ہوں ، میں وہ ہوں کی زہر سے تریاق نکالتا ہوں یعنی میں مانتا ہوں کہ مجھ میں کچھ عیب ہیں لیکن میری باتیں اچھی بھی تو ہیں۔
میں نہ ہوتا تو کل کائنات بے رونق ہوتی۔
(تحریر: مشرف محمود)