21/04/2024
آج شاعر مشرق، حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال کا یوم وفات ہے۔
آپ بر صغیر پاک و ہند کے عظیم فلسفی شاعر تھے جنہوں نے کائنات اور انسان کے باہمی تعلق کو بہت عمدگی سے بیان کرتے ہوئے مقصد زندگی اور عظمت انسانیت کو اجاگر کیا ہے۔
علامہ اقبال کی تمام تر فارسی اور اردو شاعری دراصل اسلام اور قرآن کی عملی تشریح ہے۔ آپ کی شاعری میں اصلاحی اسلوب بہت نمائیاں ہے۔
نئن نسل کو فکر اقبال سے روشناس ہونے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے اعلی و ارفع مقاصد کو سمجھ سکیں اور دین دنیا کی کامیابیاں حاصل کر سکیں۔
آپ اردو زبان کے واحد شاعر ہیں جنہیں زندگی میں ہی ایک مضمون کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔
اللہ پاک آپ کی منازل بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔
علامہ اقبال نے اپنی نظم "محاور مابین خدا اور انسان" میں بڑی عمدگی سے انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کی نشان دہی کرتے ہوئے اسے نائب خدا اور اشرف المخلوقات ثابت کیا ہے ۔۔۔۔!!
محارہ ما بین خدا و انسان
( خدا اور انسان کے درمیان مکالمہ)
خدا
جہان را ز یک آب و گل آفریدم
تو ایران و تاتار و زنگ آفریدی
مفہوم:
میں نے دنیا کو ایک ہی مٹی اور پانی سے بنایا تھا یعنی تمام انسانوں کو یکساں پیدا کیا مگر تو نے ایران ، تاتار اور حبش (مختلف ممالک) بنا لیے اور رنگ و نسل کا امتیاز پیدا کر دیا۔
من از خاک پولاد ناب آفریدم
تو شمشیر و تیر و تفنگ آفریدی
مفہوم:
میں نے مٹی سے خالص لوہا پیدا کیا تھا تو نے اس سے تلوار اور تیر اور بندوق گھڑ لی یعنی مختلف قسم کے ہتھیار بنا لیے ۔
تبر آفریدی نہال چمن را
قفس ساختی طایر نغمہ زن را
مفہوم:
تو نے چمن کے پودے کے لیے کلہاڑی بنا لی اور چہچہاتے پرندے کے لیے پنجرا بنایا یعنی میں نے آسائش اور امن، اتفاق اور بھائی چارہ کے سامان پیدا کیے مگر تو نے فساد، جنگ اور تقسیم کے سامان پیدا کر لیے تو دنیا میں ساری خرابی تجھ انسان وجہ سے ہے۔
انسان
تو شب آفریدی چراغ آفریدم س
فال آفریدی ایاغ آفریدم
مفہوم:
(اے اللہ)تو نے رات بنائی مگر میں نے (انسان نے) اس کو روشن رکھنے کے لیے چراغ بنا لیا ۔ تو نے مٹی پیدا کی میں نے اسی مٹی سے پیالہ بنا لیا ۔
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
مفہوم:
تو نے صحرا اور پہاڑ اور جنگل تخلیق کیے، میں نے ّان میں کیاری اور پھلواری اور باغ بنائے ۔
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم
مفہوم:
میں وہ ہوں کہ پتھر سے آئینہ بناتا ہوں ، میں وہ ہوں کی زہر سے تریاق نکالتا ہوں یعنی میں مانتا ہوں کہ مجھ میں کچھ عیب ہیں لیکن میری باتیں اچھی بھی تو ہیں۔
میں نہ ہوتا تو کل کائنات بے رونق ہوتی۔
(تحریر: مشرف محمود)
15/01/2024
تذکیر و تانیث
اردو میں تذکیر و تانیث کے مسائل کے بارے میں ایک دلچسپ نظم ملاحظہ کیجیے۔
بہت پُر لطف گو اردو زباں ہے
مذکر اور مونث کی ہے دقّت
پریشاں کُن ہے یہ تذکیرو تانیث
اگر ہر چیز کی دیکھو حقیقت
’مصائب ‘ جمع کا صیغہ مذکر
مونث ہے مگر واحد ’مصیبت‘
غضب ہے’ خوف ‘و’ خطرہ ‘ہے مذکر
مونث ہے’ شجاعت‘ اور’ ہمت‘
بہت ہیبت فگن ہے ’تیغِ برّاں‘
ہوئی تانیث لیکن اس کی قسمت
’حجاب ‘و ’پردہ‘،’ گھونگھٹ‘ اور’ برقع‘
مذکرہے یہ کُل سامانِ عورت
مونث ہے جنابِ شیخ کی’ ریش‘
ہو کچھ بھی اس کی مقدار وطوالت
مذکرہو گیا ’گیسوے جاناں‘
ہوئی اس کی طوالت کی یہ عزت
’دوپٹہ‘ عورتوں کا ہے مذکر
مونث کیوں ہے’ دستارِ فضیلت‘
’فراق ‘و’وصل‘ ہیں دونوں مذکر
مونث ہے مگر واعظ کی ’صحبت‘
ضروری تھا ہو چہرہ کی صفائی
عبث ہے نوجوانوں سے شکایت
ہوئیں جب’ مونچھ‘ اور ’داڑھی‘ مونث
تو پھر کرنا پڑا دونوں کو رخصت
(شاعر: حافظ ولایت الله ، متوفی 1949ء)
17/12/2023
عزیز دوستو!
تصویر میں دیا گیا میرا دوسرا اکاؤنٹ ہے۔
برائے مہربانی اس کو بھی ایڈ کر لیں کیونکہ اس اکاونٹ میں کچھ ٹیکنیکل مسائل کا سامنا ہے۔ شکریہ
https://www.facebook.com/profile.php?id=100006316729045&mibextid=hIlR13
15/12/2023
Do you know
"Smart means"
Specific, measurable, attainable, relevant and time-bound.
09/11/2023
CMM
ملت اسلامیہ اور دو قومی نظریہ کی علم بردار قوم کو یوم اقبال مبارک ہو۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ محمد اقبال بر صغیر کے عظیم فلسفی شاعر تھے جنہوں نے قوم کی فکری رہنمائی کے لئے اپنی شاعری کا خوب صورتی سے استعمال کیا۔
یوم اقبال کی مناسبت سے چند تاریخی حقائق اور گذارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کو صرف گمراہ کرنا ہے اور انہیں کبھی بھی حقیقت اور سچائی کے قریب نہیں آنے دینا ہے۔
ایک فرضی، بے بنیاد اور کھوکھلا قسم کا سرکاری بیانیہ تخلیق کر کہ پورے نصاب کو اس کی ترویج و اشاعت میں جھونک دیا گیا ہے اور تمام وسائل اسی بیانیہ کی پروموشن کے لئے وقف کر دیے گئے ہیں۔
اس فرضی بیانیہ کی وضاحت کے لئے سر دست صرف چند مثالیں پیش کرنے کی جسارت کر رہا یوں۔
ہم قائد اعظم کے حالات زندگی کے حوالے سے شروع سے ایک ہی بات پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ انہوں نے میٹرک کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کیا اور انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں بے کبھی میٹرک کا امتحان پاس ہی نہیں کیا اور ان کی سکول ایجوکیشن تین سے چار سال پر مشتمل ہے۔
انگلینڈ کے قوانین کے مطابق بیرسٹر کی ڈگری کے لئے گریجویشن کی شرط نہیں ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی تاریخی طور پر غلط ہے کہ قائد اعظم پاکستان کو ایک مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے بلکہ وہ پاکستان کو ایک ایسی سیکولر ریاست بنانے کے حامی تھے جس میں اقلیتوں کو مکمل حقوق حاصل ہوں گے اور کسی بھی عہدے کے لئے مذہب کی بنیاد پر تخصیص نہیں کی جائے۔
علامہ اقبال کی عظمت ثابت کرنے کے لئے نصابی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ انہوں نے ایک اے فلسفہ میں گولڈ میڈل حاصل کیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس مضمون میں پاس ہونے والے یونیورسٹی کے واحد طالب تھے سو وہی گولڈ میڈل کے حقدار قرار پائے۔
اسی طرح سرکاری بیانیے کے مطابق علامہ محمد اقبال دو قومی نظریہ کے بانیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے دو قومی نظریہ پیش کیا جس کے مطابق بر صغیر کے وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، انہیں ملا کر مسلمانوں کا ایک علیحدہ اور خود مختار ملک بنا دیا جائے۔
حالانکہ حقیقت میں علامہ اقبال اس دو قومی نظریہ سے واضح طور پر مکمل لاتعلقی کا اعلان اور مختلف جگہوں پر برملا اظہار کر چکے تھے۔
علامہ محمد اقبال نے مسٹر تھامسن کے نام اپنے چوابی خط میں واضح طور پر اس خیال کی تردید کی کہ وہ دو قومی نظریہ کے بانیوں میں سے ہیں
وہ خط میں تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان کے دو قومی نظریے کا منصوبہ کیمرج یعنی انگلستان میں بنایا گیا ہے اور یہ میرا منصوبہ نہیں ہے۔ میں نے تو مسلمانوں کے لیے ایک صوبے کی بات کی تھی جو کہ غیر منقسم ہندوستان میں ہو اور یہ صوبہ وفاقِ متحدہ ہندوستان کا ہی حصہ ہو۔
تاریخ کا مضمون اس لئے پڑھایا جاتا ہے کہ نوجوان نسل اس سے سبق حاصل کرے مگر ہم تاریخ کے نام پر ایک فرضی اور بے بنیاد بیانیہ کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جو نوجوان نسل سے شعور اور سچائی کی طاقت چھین کر انہیں تصوراتی دنیا میں رہنے پر قائل اور مائل کر رہا ہے۔
(تحریر: مشرف محمود)
۔
02/11/2023
CMM
اردو کے چند مشہور ضرب المثل اشعار
(حروفِ تہجی کے اعتبار سے)
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
(شعیب بن عزیز)
۔
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا (میر تقی میر)
۔
اب یادِ رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں
(فراق گورکھپوری)
۔
اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن
بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائی کا
(عزیز لکھنوی)
۔
اسی لئے تو قتلِ عاشقاں سے منع کرتے ہیں
اکیلے پھر رہے ہو یوسفِ بے کاررواں ہو کر
(خواجہ وزیر)
۔
اقبال بڑا اپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
(علامہ اقبال)
۔
الجھا ہے پائوں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
(مومن خان مومن)
۔
اگر بخشے زہے قسمت نہ بخشے تو شکایت کیا
سر تسلیمِ خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
(میر تقی میر)
۔
امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی ہاں بھی اب نہیں معلوم ہوتی ہے
(حسرت)
۔
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
(علامہ اقبال)
۔
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
(امیر مینائی)
۔
اے عدم احتیاط لوگوں سے
لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں
(عبدالحمید عدم)
۔
ایک محبت کافی ہے
باقی عمراضافی ہے
(محبوب خزاں)
۔
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
(سید محمد خاں رند)
۔
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
(مرزا غالب)
۔
آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈتا تیری محفل میں رہ گیا
(حیدر علی آتش)
۔
بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا (محبوب خزاں)
۔
بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
(ثاقب لکھنوی)
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
(مرزا غالب)
۔
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
تماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں
(مرزا غالب)
۔
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
(مادھو رام فرخ جوہر آبادی)
۔
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو تیرے آستاں سے اٹھتا ہے
(میر تقی میر)
۔
بہت کچھ کہنا ہے کرو میر بس
کہ اللہ بس اور باقی ہوس (میر تقی میر)
۔
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
(علامہ اقبال)
۔
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
(علامہ اقبال)
۔
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
(میر تقی میر)
۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
(علامہ اقبال)
۔
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
(احمد فراز)
۔
تنگ دستی اگر نہ ہو سالک
تن درستی ہزار نعمت ہے (قربان علی سالک)
۔
توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے
(حسرت موہانی)
۔
جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی
(مرزا غالب)
۔
جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھہ بھول ہوئی ہے
(ساغر صدیقی)
۔
جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں
(اقبال ساجد)
۔
چل ساتھ کہ حسرت دلِ محروم سے نکلے
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
(فدوی عظیم آبادی)
۔
حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھہ لے کے چلو
(مخدوم محی الدین)
۔
خلاف شرع کبھی شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں
(اکبر الہ آبادی)
۔
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
(امیر مینائی)
۔
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فشاں لا الہ الا اللہ
(علامہ اقبال)
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
(کلیم عاجز)
۔
داور حشر میرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
(محمد دین تاثیر)
۔
درم و دام اپنے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
(مرزا غالب)
۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
(مہتاب رائے تاباں)
۔
دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن
رات کٹتی نظر نہیں آتی (سید محمد اثر)
۔
دنیا میں ہوں، دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں
(اکبر الہ آبادی)
۔
دیکھ آؤ مریض فرقت کو
رسم دنیا بھی ہے، ثواب بھی ہے
(حسن بریلوی)
۔
دیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار
جب تک شراب آئے کئی دور ہو گئے
(شاد عظیم آبادی)
دی مؤذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
(مرزا داغ دہلوی)
دیکھ کر ہر درو دیوار کو حیراں ہونا
وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا
(عزیز لکھنوی)
۔
دینا وہ اُس کا ساغرِ مئے یاد ہے نظام
منہ پھیر کر اُدھر کو اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ
(نظام رام پوری)
۔
دیارِعشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
(علامہ اقبال)
۔
دیوار چمن پر زاغ و زغن مصروف ہیں نوحہ خوانی میں
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
(کمال سالار پوری)
۔
دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے
(سبط علی صبا)
۔
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
(مرزا غالب)
۔
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی انجام بھی رسوائی
(غلام مصطفےٰ تبسم)
۔
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا (ناصرکاظمی)
۔
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
(شیخ ابراہیم ذوق)
۔
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
(ابراہیم ذوق)
۔
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانےکس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
(ساغر صدیقی)
۔
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں (مرزا داغ دہلوی)
سخت کافر تھا جس نے پہلے میر
مذہبِ عشق احتیار کیا (میر تقی میر)
۔
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں (میر حسن)
۔
سرخ رو ہوتا ہے انساں ٹھوکریں کھانے کے بعد
رنگ لاتی ہے حنا پتھر پہ پس جانے کے بعد
(غلام محمد مست کلکتوی)
۔
سیف اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
(سیف الدین سیف)
۔
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے (میر تقی میر)
۔
شریکِ جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی
(ازہر درانی)
۔
صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک دور
نکلے جو مے کدے سے تو دنیا بدل گئی
(گستاخ رام پوری)
۔
غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
(مرزا غالب)
۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
(شہیر مچھلی شہری)
۔
فصل بہار آئی، پیو صوفیو شراب
بس ہو چکی نماز، مصلّا اٹھائیے
(حیدر علی آتش)
۔
فکر معاش، عشقِ بتاں، یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے
(رفیع سودا)
۔
فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچ کچھ
بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لئے
(مصطفیٰ شیفتہ)
۔
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
(مولانا محمد علی جوہر)
۔
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
(میاں داد خان سیاح)
۔
کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
(مرزا غالب)
۔
کوچۂ عشق کی راہیں کوئی ہم سے پوچھے
خضر کیا جانیں غریب، اگلے زمانے والے
(وزیر علی صبا)
۔
گرہ سے کچھ نہیں جاتا ہے پی لے زاہد
ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں
(امیر مینائی)
۔
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
(خاطر غزنوی)
۔
گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں
کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
(مرزا غالب)
۔
لگا رہا ہوں مضامینِ نو کے انبار خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو (میر انیس)
۔
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
(ثاقب لکھنوی)
۔
مری نمازہ جنازہ پڑھی ہے غیروں نے
مرے تھےجن کے لئے، وہ رہے وضو کرتے
(حیدر علی آتش)
۔
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے (مرزا غالب)
۔
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد (میر تقی میر)
۔
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
(میرتقی میر)
۔
نیرنگئ سیاست دوراں تو دیکھئے منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے (محسن بھوپالی)
۔
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
(علامہ اقبال)
۔
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
(انشا اللہ خان انشا)
۔
وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
(ظریف لکھنوی)
۔
وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
(مہاراج بہادر برق)
۔
وہ آئے گھر میں ہمارے، خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو، کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
(مرزا غالب)
۔
وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زہد کی
میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے
(نواب مصطفیٰ شیفتہ)
۔
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئی
(عزیز الحسن مجذوب)
۔
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
(اکبر الہ آبادی)
۔
ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا
یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا
(نظیر اکبر آبادی)
ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا
(نواب مصطفیٰ شیفتہ)
۔
ہم فقیروں سے بے ادائی کیا
آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا
(میر تقی میر)
۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
(مرزا غالب)
۔
ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت (الطاف حسین حالی)
۔
یہ بزم مئے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے
محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھہ میں وہ جام اسی کا ہے
(شاد عظیم آبادی)
۔
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
(علامہ اقبال)
۔
یہی فرماتے رہے تیغ سے پھیلا اسلام
یہ نہ ارشاد ہوا توپ سے کیا پھیلا ہے
(اکبر الہ آبادی)
۔
(تحقیق و تدوین: پروفیسر مشرف محمود)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23/10/2023
مہدی افادی اردو کے وہ عظیم ادیب ہیں جنہوں نے اردو کے عناصر خمسہ کی ترکیب اور ان کی فہرست تیار کی۔
04/10/2023
اپنی کتاب بیچنے کے لئے لوگ کیا کیا طریقے اور حربے استعمال کرتے ہیں اور اس کے لئے مذہبی ٹچ کا بھی بخوبی استعمال کرتے ہیں اور یہاں تو لاکھوں کے انعام کا بھی لالچ دیا گیا ہے تاکہ کتاب خوب بکے ۔۔۔۔۔۔۔!!
۔
یہ میری پہلی رائے تھی جو یہ یہ اشتہار دیکھنے کے بعد میں نے قائم کی مگر مزید سچائی جاننے کے لئے جب میں نے تحقیق کی تو یہ پہلی رائے بالکل غلط ثابت ہو گئی۔
تفاصیل جاننے پر معلوم ہوا کہ کہ رائے منظور صاحب ایک پڑھے لکھے اور دانشور بیوروکریٹ ہیں اور ان کا تعلق مالی طور پر ایک خوش حال گھرانے سے ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ حب نبوی سے سر شار ہیں۔
وہ قبل ازیں پنجاب کریکولم بورڈ کے سربراہ کی حیثیت سے نصابی کتب میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے بہت سی بنیادی اغلاط کی نشان دہی اور اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی متنازع کتب پر پابندی بھی عائد کر چکے ہیں جس پر انہیں مذہبی اور علمی حلقوں میں خوب پزیرائی حاصل ہوئی۔
ان کی سیرت النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر یہ کتاب ایک شاندار علمی کاوش ہے اور سیرت طیبہ کو وسیع پیمانے پر عوام سے روشناس کرانے کے لئے انہوں نے اپنی جیب سے انعامات کا یہ سلسلہ بھی متعارف کرایا ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس طرف راغب کیا جا سکے۔
انعام سے قطع نظر یہ کتاب واقعی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے جس میں سیرت پاک کو قابل فہم اور آسان الفاظ میں سمجھانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے لہذا یہ کتاب تمام مسلمانوں کو لازمی طور پر پڑھنی چاہئے۔
جو یہ کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں، ان کے لئے پی ڈی ایف فارم میں بلا معاوضہ بھی دستیاب ہے مگر میرے خیال میں یہ کتاب ہر گھر کی زینت ہونی چاہیے۔
اللہ پاک صاحب کتاب کی مساعی کو کامیاب فرمائے اور انہیں انہیں یہ منفرد کار خیر شروع کرنے کا اجر عطا فرمائے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے جس کی کامیابی کے لئے میں دعا گو ہوں۔
(تحریر: مشرف محمود)
04 اکتوبر 2023.
۔
29/09/2023
CMM
اہل اسلام کو عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشیاں مبارک ہوں۔
اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ
نبی پاک مصطفی قیامت تک کے تمام انسانوں کی تمام حیثیتوں کے لئے بہترین عملی نمونہ ہیں جن کی تقلید کر کہ ہم دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
۔
27/09/2023
حجت حق کا ظہور
ہنوز آں ابر رحمت درفشاں است
خم و خمخانہ با مہر و نشاں است
اج کی ساعت سعید اس عظیم الشان واقعہ کی یادگار ہے جو ابتدائے افرینش سے لے کر اس وقت تک اپنی نظیر اپ ہے اور اس وقت سے لے کر قیامت تک اپنا جواب اپ ہوگا۔
اج دنیا کا وہ سب سے بڑا انقلاب برپا ہوا جس نے دنیا والوں کی کایا پلٹ دی۔خدائے بزرگ و برتر کی دیرینہ حجت اپنے بندوں پر ختم ہو گئی۔
وہ چیتا جاگتا ارمان جو ازر کے حقیقت شناس بیٹے کے سینے میں مضطرب تھا تڑپ کر باہر نکل ایا۔
وہ زندہ تمنا جو موسی اور عیسی مریم کے دلوں میں سمائی رہی ساری کائنات میں ایک ہنگامہ رستخیز برپا کرنے کے لیے اشکار ہو گئی۔
باطل ہمیشہ کے لیے سر نگوں ہو گیا۔
حق ابدا اباد تک کے لیے سر بلند ہو گیا۔
انسان کے پاؤں سے غلامی کی زنجیریں کٹ گئیں۔
ازادی کی بنیادیں استوار ہو گئیں۔
الست والے بھولے ہوئے میثاق کی تجدید ہوئی۔
مدتوں کا بھاگا ہوا غلام اقا کے قدموں میں آ گرا۔
کالے اور گورے کا امتیاز اٹھ گیا۔
اونچ نیچ کا فرق جاتا رہا۔
مسندوں والے اور کملیوں والے ایک بورئیے پر بٹھا دیے گئے۔
خزاں رخصت ہوئی بہار اگئی۔
رات بیت گئی دن نکل ایا،
یعنی حضور رحمت عالمیاں، صفوت آدمیاں، تتمہ دور زماں محمد مصطفی احمد مجتبی بآ بائنا ہووا مہتا تنا جلوہ افروز منصہ شہود ہوئے۔
ہمارے اقائے نامدار آئے اور دونوں جہانوں کی رحمتیں اپنے جلو میں لے کر ائے۔
ابر نیساں کی طرح جس کی لطافت طبع پر چمن اور دمن کا یکساں حق ہے۔
ہمارے حضور کا لطف نہایت بھی اپنے اغوش رافت کو مشرق و مغرب اور سپید و سیاہ کے لیے ایک سی فیاضی کے ساتھ کھولے ہوئے ہے۔
بلال حبشی اور سلیمان فارسی یہاں ایک کانٹے میں تلتے ہیں۔
مکہ ہو یا ہر دوار، مدینہ ہو یا لندن، حضور کی اواز ہر جگہ ایک ہی لے میں گونج رہی ہے اور وہ اواز یہ ہے۔
"اپنے پروردگار کا ورد کر اور سب سے ٹوٹ کر اسی کا ہو. وہ مشرق و اور مغرب کا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں۔ پس تو اسی کی کارسازی کا دامن تھام لے۔"
جن سعیدان ازلی نے اس اواز پر کان دھرا اور ما سوائے سے رشتہ توڑ کر اواز بلند کرنے والوں کی طرح اپنے اللہ ہی کے ہو رہے، ان کے عالم افگن کارناموں پر گزشتہ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے۔
اس اواز میں اب بھی وہی اثر ہے اور اگر دل کے کان اس کے قبول کرنے پر امادہ ہو جائیں تو تاریخ اپنا اعادہ کرنے میں ذرا تعامل نہ کرے گی اور حضور خواجہ دوسرا کے غلام اج کل کے قیصروں اور کسراؤں کے تخت از سر نو الٹتے ہوئے دیکھے جائیں گے۔
ہمارے اقا مولا جب دنیا میں تشریف لائے تو بالکل اکیلے تھے، صرف رفیق الاعلی ساتھ تھا کہ وہ بہترین رفیق ہے۔
اسی رفاقت کے بل پر حضور نے یکہ و تنہا سارے عرب کو مسخر کیا اور جب دنیا کا یہ سب سے بڑا گلیم پوش تاجدار جو ایک ہی وقت میں فقیر بھی تھا اور بادشاہ بھی، عابد شب زندہ دار تھا اور افواج جرار کا سپہ سالار بھی، ابجد ناشناس بھی تھا اور فلسفیان عالم کا ادب آموز بھی، مجسمہ جمال بھی تھا اور پیکر جلال بھی، سونے چاندی کے انباروں سے گھرا ہوا بھی تھا اور پیٹ پر پتھر باندھ کر کئی دن تک فاقہ کرنے والا بھی، تئیس سال کی قلیل مدت میں مفاسد کو زیر و زبر کر کے رہ گرائےعالم جاودانی ہوا تو اپنے جان نثاروں کو یہ پیغام دیتا گیا۔
"تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں، ان کے ساتھ خدا کا پختہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں روئے زمین کی سلطنت اسی طرح عطا کرے گا جس طرح اگلی امتوں کو عطا ہوئی اور اس دین (اسلام) کو جو ان کے لیے پسند کیا گیا ہے، پائندہ و استوار بنائے گا اور ان کے خوف کو امن و اعمال سے بدل دے گا۔"
یہ اٹل اور امٹ پیغام مسلمانوں کی فرمانروانہ حیثیت کے لیے بارگاہ رب السموات والارض سے ایک جاودانی سند ہے۔
ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان جن کی تعداد سے بدر کے تین سو تیرہ جان بازوں کی کوئی نسبت نہیں، اس وعدہ الہی کے الفاظ پر غور کریں۔
اپنے اقا اور مولا کی حیات طیبہ کے ایک ایک واقعے سے سبق لیں اور پھر خود ہی اس سوال کا جواب دے لیں کہ اس ملک میں جہاں دو ہزار سال تک نقارہ اناولا غیری بجا چکے ہیں، کم از کم عزت و ابرو کی زندگی بسر کرنے کا سامان کر سکتے ہیں یا نہیں؟
اگر وہ یہ نہ کریں تو پھر اج کا دن جو ان کی ہستی کا اسمانی دیباچہ ہے، ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ قند بر !
مولانا ظفر علی خان
روز نامہ "زمیندار"
16 دسمبر 1927
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
24/09/2023
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں نئے تعلیمی سال کے لئے داخلوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
۔
https://www.facebook.com/100064748586888/posts/693859106115703/?mibextid=675ZYk
IUB | E-Portal