Fakhar fakhri

Fakhar fakhri

Share

مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ ان شاء اللہ عزوجل

22/04/2026
Photos from Pakistan lok Virsa's post 25/04/2024

یہ انسانی فطرت عجب ہے خدایا
کہ جو دَور گزرا وہی دل کو بھایا
جوانی میں اسکول دفتر میں کالج
ضعیفی مں دفتر بڑا یاد آیا

مزاج بشر میں تغیر سمایا
کبھی آدمی مطمئن ہو نہ پایا

کہیں شام گزری، کہیں رات کاٹی
سفر در سفر زندگی کو بِتایا
یہ جیون ہے سانسوں کی اک ریل گاڑی
یہ دنیا ہے چلتے مسافر کا سایا

جہاں تھک گئے شام کی چائےپی لی
سرائے میں سوئے تو ہوٹل میں کھایا
یہ گندم کی روٹی کے چند ایک لقمے
اِنہی کے لیے آدمی نے کمایا

یہ مصروف شہروں کی مشغول دنیا
یہاں کسبِ دولت نے سب کو تھکایا
گھڑی کی طرح زندگی کو چلایا
مگر وقت نے آدمی کو ہرایا

بھلے ہیں بہت گاؤں کے کچے رستے
وہ گیہوں کے کھیت اور درختوں کا سایا
وہ لسی ، وہ سرسوں کا ساگ اُس پہ مکھن
دُھلے ہاتھ نہروں سے، کھیتوں میں کھایا

یہ شہروں کی دنیا عجب ہے خدایا
رہا ساتھ پر آدمی مِل نہ پایا
سمجھنے سمجھنے میں جیون بِتایا
کوئی بھی کسی کی سمجھ میں نہ آیا

میسر سے دل مطمئن ہو نہ پایا
عدم دستیابی کا ہی راگ گایا
مِلا سب کو وہ ! جو نہیں چاہیے تھا
یہاں حسبِ منشاء کسی نے نہ پایا

یہ دنیا ہے وحشی درندوں کا جنگل
اصولوں سے انساں نے اس کو سجایا
مگر رسمِ عالم ہے قانونِ طاقت
توانا نے لاغر پہ سکہ جمایا

ابھی کوئی گزرا ، ابھی کوئی آیا
پلٹتی ہے انساں کی دم بھر میں کایا
نہ ہے کوئی مائی، نہ ہے کوئی جایا
مرا آج بندہ ہوا کل پرایا

سبھی نے گھروں کو اِرم سا بنایا
مگر چار دن صرف ڈیرا جمایا
دُکھوں کی ہے دھوپ اور سُکھوں کی ہے چھایا
زمانہ سراب اور دنیا ہے مایا

یہاں آدمی مطئن ہو نہ پایا
یہاں آدمی مطمئن ہو نہ پایا

کاپی

18/04/2024

تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر

سیدنا عمر پاک نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو جب بحرین کا گورنر بنایا تو وہاں کے ( آزاد منش ) لوگ آپ کو ناپسند کرنے لگے اور آپ کے مخالف ہوگئے ۔

( جب مرکز خلافت میں اطلاع پہنچی تو ) سیدنا عمر پاک نے آپ کو واپس بلا لیا ۔

لیکن بحرین والوں کو یہ کھٹکا محسوس ہوا کہ ( جب تفتیش ہوگی اور ہم جھوٹے نکلیں گے تو ) کہیں سیدنا عمر انھیں دوبارہ ہمارا گورنر نہ بنادیں ۔
تواُن کے ( ایک کھوچل ) سردار نے انھیں کہا:
اگر تم میرے کہنے کے مطابق عمل کرو گے تو مغیرہ گورنر بن کر کبھی واپس نہیں آسکیں گے ۔

لوگوں نے کہا ہم تمھاری بات مانیں گے ۔

کہنے لگا:

ایک لاکھ درہم جمع کر کے مجھے دو ، میں یہ لے کر حضرت عمر کے پاس جاؤں گا اور انھیں کہوں گا:

یہ وہ رقم ہے جو مغیرہ نے خیانت کر کے میرے پاس رکھوائی تھی ۔

لوگوں نے اس کے کہنے پرایک لاکھ درہم جمع کر کے اسے دے دیے جنھیں لے کر وہ سیدنا عمر پاک کے حضور پیش ہوگیا ، اور پلان کے مطابق سیدنا مغیرہ پر جھوٹا الزام لگادیا ۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو طلب کیا اور کہا:

سنو یہ شخص تمھارے متعلق کیا کَہ رہا ہے !

سیدنا مغیرہ ( نے اس خبیث کی چال کو سمجھ لیا اور ) کہنے لگے:

اللہ آپ کا بھلا کرے ، یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔
جو پیسے میں نے اس کے پاس رکھوائے تھے وہ تو دو لاکھ درہم‌ تھے ( ایک لاکھ تو یہ خود کھاگیا ) ۔

آپ نے پوچھا:

مغیرہ تم نے ایسی حرکت کیوں کی ؟

عرض گزار ہوئے:

اہل و عیال کے اخراجات اور دیگر ضروریات نے مجبور کیا ۔

سیدنا عمرنے اس شخص سے کہا
اب تم کیا کہو گے !

( یہ سارا معاملہ دیکھ کر تو اس کے تو اوسان خطا ہوگئے ، وہ )

کہنے لگا:

اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہے ، جیسا میں نے آپ کو بتایا ؛ اللہ آپ کا بھلا کرے اب میں آپ سے سچ سچ بتاتا ہوں ۔

خدا کی قسسم ! حضرت مغیرہ نے میرے پاس نہ تھوڑی رقم رکھوائی تھی ، نہ زیادہ ( میں نے ان پر جھوٹی تہمت لگائی ) ۔

سیدنا عمر ( یہ معاملہ دیکھ کر ) حضرت مغیرہ سے فرمانےلگے:

تم نے اس دہقان کی متعلق کیا ارادہ کیا تھا ؟

حضرت مغیرہ نےعرض کی:

اس خبیث نے مجھ پر جھوٹ باندھا تھا اس لیے میں نے بھی پسند کیا کہ اسے ایسے ہی ذلیل کروں ۔

( ملخصا: الاذکیا لابن جوزی ، الباب الثامن فی سیاق المنقول من ذلک عن اصحاب نبینا ۔۔۔۔۔ ، ص33 ، ط دارالفکر بیروت ، س 1425 ھ )

1: جماعت اہل سنت ہو ، دعوت اسلامی ہو ، تحریک لبی ک ہو ، یا اہل سنت کی کوئی بھی تنظیم‌ و تحریک ہو ؛ ان پر کوئی مالی کرپشن کا جھوٹا الزام لگائے تو محبین کو پریشان نہیں ہونا چاہیے ، نیک لوگوں پر یہ الزامات بہت پہلے سے لگتے آرہے ہیں ؛ ان الزامات کو سامنے والے کی نفسیات کے مطابق رد کردینا چاہیے ، زیادہ صفائیاں دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔

2: تہمتیں لگانے والے کوئی آپ کے جج نہیں کہ آپ ان کی ہر بات کا ضرور جواب دیں ، اور کھاتے کھول کر ان کے سامنے رکھ دیں ۔

جو واقعی مخلص ہوں گے وہ آپ سے براہِ راست رابطہ کرکے تفصیل معلوم کرلیں گے ،‌ اور مطمئن بھی ہوجائیں گے ۔
جب کہ حاسد اور معاند و سرکش بس شور شرابا کرتے رہیں گے ، اور اس کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کریں گے ؛ آپ انھیں سوبار بھی صفائی دیں کوئی فائدہ نہیں ۔

اس لیے ایسے لوگوں پر اپنی صلاحتیں ضائع کرنے کے بجائے انھیں معاف کرنا اور اگنور کرنا سیکھیں ؛ ان کی بہترین سزا آپ کی بامعنی خاموشی اور نیکی کے کاموں میں آگے بڑھتے جانا ہے ۔

اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو اہل محبت آپ پر کامل اعتماد رکھتے ہیں ، وہ لائی لگ نہیں کہ کسی ایک یا چند افراد کی بے سروپا باتیں سن کر آپ سے بدظن ہوجائیں ؛ وہ پہلے بھی آپ کے ساتھ مالی تعاون کرتے تھے اللہ نے چاہا تو آئندہ بھی کرتے رہیں گے ۔ ؎

کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر
تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر

لقمان شاہد
18.4.2024م

16/04/2024

ایک معمولی انڈہ کی مجموعی قیمت سوا دو لاکھ روپے

بی بی سی رپورٹ کے مطابق
یہ کوئی سونے کا انڈا نہیں بلکہ بازار سے چھ روپے میں خریدا گیا ایک عام سا انڈا تھا۔ لیکن مسجد کی تعمیر کے لیے جس جذبے کے ساتھ ایک غریب بیوہ نے اسے عطیہ کیا، اُس نے اس کی مجموعی قیمت سوا دو لاکھ روپے سے زائد تک پہنچا دی۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر کے شمالی قصبہ سوپور کے ’مال ماپن پورہ‘ گاؤں میں ایک مسجد کئی ماہ سے زیرِتعمیر ہے۔ عید کے موقع پر مسجد کمیٹی نے گھر گھر جاکر نقد و جنس عطیات جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔

لوگوں نے نقدی، برتن، مرغیاں، چاول وغیرہ عطیے میں دیے۔

مسجد کمیٹی کے ایک رکن نصیر احمد بتاتے ہیں ’ہم عطیات جمع کر رہے تھے کہ ایک چھوٹے سے گھر سے ایک خاتون سر جُھکائے چپکے سے میرے پاس آئی اور مجھے ایک انڈا پکڑا کر کہا کہ میری طرف سے یہ قبول کیجیے۔‘

نصیر کا کہنا ہے کہ یہ خاتون نہایت غریب بیوہ ہے اور ایک چھوٹے سے خستہ مکان میں اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ دوسری چیزیں تو بیچنے کے لیے دے دی گئیں ’لیکن میں پریشان تھا کہ اس انڈے کا کیا کریں؟‘

انڈے کی آخری بولی لگانے والے خریدار
نصیر مزید کہتے ہیں کہ ’تھا تو وہ چھ روپے کا معمولی انڈا، لیکن اُس غریب خاتون نے جس جذبے کے ساتھ اسے خدا کی راہ میں دیا، اُس نے اس کو بہت قیمتی بنا دیا تھا۔‘

’لہذا میں نے کمیٹی کے دوسرے اراکین کو مشورہ دیا کہ انڈے کی بولی لگا دی جائے اور تین دن تک فروخت کے بعد انڈا واپس لیا جائے۔‘

نصیر نے مسجد میں خاتون کی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے اعلان کیا کہ اس انڈے کو نیلام کیا جار ہا ہے اور انھوں نے اپنی جیب سے اس کے لیے دس روپے کی بولی لگا دی۔

نصیر کے مطابق پہلی آواز دس ہزارے روپے کی تھی اور اس طرح انڈے کی قیمت بڑھتی گئی۔

گاؤں کے سابق سرپنچ طارق احمد کہتے ہیں کہ صرف اڑھائی سو لوگوں پر مشتمل مال ماپن پورہ میں بڑی جامع مسجد نہیں تھی، اس لیے جامع مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا، لیکن چھت تک پہنچ کر کام رُک گیا کیونکہ فنڈ نہیں تھے۔

وہ کہتے ہیں ’ہمیں معلوم نہیں تھا کہ محض ایک انڈے سے ہمیں سوا دو لاکھ روپے مل جائیں گے۔‘
بولی کے آخری دن کیا ہوا؟
مسجد کی انتظامیہ نے طے کیا تھا انڈے کی بولی صرف تین دن تک ہو گی۔ نصیر احمد کہتے ہیں دو دن تک لوگ انڈے پر 10، 20، 30 اور 50 ہزار تک بولی لگا چکے تھے، اور ہر بار انڈا واپس کر دیا جاتا۔

پھر اعلان کیا گیا کہ آخری دن شام سات بجے بولی بند ہو جائے گی، اور آخری بولی لگانے والے کو انڈا دیا جائے گا۔

اس بولی میں سوپور کے نوجوان تاجر دانش حمید بھی تھے۔

54 ہزار کی بولی پر جب دو بار اعلان ہوا، تو پچھلی صف میں بیٹھے دانش نے بلند آواز میں کہا ’70 ہزار‘۔

اس طرح یہ انڈا مجموعی طور پر دو لاکھ، چھبیس ہزار، تین سو پچاس روپے کے نقد عطیات جمع کر پایا۔

دانش نے بی بی سی کو بتایا ’حالانکہ ہمیں نہیں بتایا گیا کہ یہ انڈا کس کا تھا لیکن سب جانتے تھے کہ کسی غریب بیوہ نے یہ انڈا دے کر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے اور اُس بیوہ نے آسودہ لوگوں کو بڑھ چڑھ کر چندہ دینے پر آمادہ کیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب میں نے ستّر ہزار میں انڈا خریدا تو اس وقت میری سوچ بھی یہی تھی۔‘

نصیر کہتے ہیں کہ اب وہ انڈا معمولی نہیں رہا بلکہ اس کی علامتی اہمیت ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’میں اس انڈے کو محفوظ کرنے کا انتظام کر رہا ہوں اور اس کے لیے ایک اچھا فریم بنوا رہا ہوں جس میں اسے محفوظ رکھوں گا۔‘

نصیر کی خواہش ہے کہ ’یہ انڈا ان کے، ان کے خاندان اور ہر دیکھنے والے کے لیے ایک یاد گار رہے کہ کس طرح ایک بیوہ نے خدا کی راہ میں اسے یہ سوچے بغیر دے دیا کہ اس کی قیمت کیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں سمجھتا ہوں، خالص اور نیک جذبات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، اسی لیے یہ انڈا ہمیشہ ہمارے گھر میں محفوظ رہے گا۔‘۔
#منقول

15/04/2024

امام عبدالعزیز بن احمد ( شمس الائمہ حلوانی ) رحمہ اللہ نے کسی حادثے کے سبب بخارا سے نکل کر ایک گاؤں میں سکونت اختیار کر لی تھی ۔
اس عرصے میں شاگرد آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے رہے ، لیکن ایک شاگرد قاضی بکر بن محمد ( شمس الائمہ زرنجری ) ملاقات کے لیے حاضر نہ ہو سکے ۔
جب شمس الائمه حلوانی رحمہ اللہ کی اُن سے ملاقات ہوئی تو آپ نے پوچھا:

لما ذا لم تزرنی ؟

تم مجھے ملنے کیوں نہیں آئے ؟

عرض کرنے لگے:

والدہ کی خدمت میں مشغول تھا ، اس لیے حاضر نہیں ہو سکا ۔

آپ نے فرمایا:

ترزق العمر ، لا ترزق رونق الدرس !

( والدہ کی خدمت کے صلے میں ) تمھاری عمر تو دراز ہو گی ، مگر ( استاد سے دوری کے سبب ) رونقِ درس نہیں پاسکو گے ۔

اور ایسا ہی ہوا ، کہ ( اتنے بڑے فقیہ ہونے کے باوجود ) ان کا اکثر وقت دیہاتوں میں گزرا ، اور اِن کے لیے تدریس کا انتظام نہ ہوسکا ۔

( تعلیم المتعلم طریق التعلم ، فصل فی تعظیم العلم واھلہ ، ص 27 ، 28 ، ط الدارالسودانیۃ للکتب السودان ، س 1425 ھ )

علما و طلبہ جہاں شوال میں سیر و سیاحت اور دیگر زیارات کے لیے نکلتے ہیں ، اللہ توفیق دے تو اپنے اساتذہ کرام کی زیارت کے لیے بھی حاضر ہوا کریں ، اور جتنی ہوسکے ان کی خدمت کیا کریں‌ ۔

استاد کا دل سے ادب و احترام کرنے والا شاگرد خیر سے محروم نہیں رہتا ۔

خاک راہ حجاز
لقمان شاہد
15.4.2024 م

13/04/2024

کیا آپ اتفاق کرتے ہیں ؟؟؟

وہ افراد جن کا پاکستان میں کوئی فیوچر نہیں
نمبر 1-پڑھے لکھے افراد
نمبر 2-ہنر مند افراد
نمبر 3-ٹیکنیکل مہارت رکھنے والے افراد

وہ افراد جن کا پاکستان میں مستقبل سورج سے زیادہ روشن ہے۔

نمبر1-ٹک ٹاکر
نمبر 2-یوٹیوبر
نمبر 3-سیاستدان
نمبر 4-فراڈی ۔خواہ وہ کسی بھی معاملے میں ہو ۔

مفتی محمد اظہر مدنی

13/03/2024

یوم عرس سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا
3 رمضان المبارک

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore