20/08/2026
سوال:
السلام علیکم! میرے بیٹے نے ایک اچھی یونیورسٹی سے BS Electrical Engineering کیا ہے۔ تعلیم مکمل کرتے ہی اسے ریموٹ جاب مل گئی اور الحمدللہ اس کی آمدنی بھی اچھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ جاب کے ساتھ وہ مزید تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا، تاہم وہ اپنی skills اور earnings کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خاندان کے تقریباً ہر فرد کی طرف سے اسے مسلسل مشورہ دیا جاتا ہے کہ MS کر لو یا سرکاری ملازمت اختیار کر لو، جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر پریشان ہو جاتا ہے۔ ایک ماں کی حیثیت سے میری رائے یہ ہے کہ اسے فی الحال کچھ عرصہ جاب کرنے دی جائے، پڑھائی سے ایک دو سال کا وقفہ لے، عملی تجربہ حاصل کرے اور پھر سوچے کہ آگے MS کرنا ہے، سرکاری ملازمت اختیار کرنی ہے یا موجودہ career کو ہی آگے بڑھانا ہے۔ اس کی عمر بھی صرف 23 سال ہے۔ لیکن خاندان کے باقی افراد اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس صورتِ حال میں بہتر فیصلہ کیا ہونا چاہیے؟
جواب:
وعلیکم السلام! میرے نزدیک اس معاملے میں سب سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کامیاب نوجوان کے لیے کامیابی کا راستہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اگر ایک 23 سالہ نوجوان نے BS Electrical Engineering مکمل کرنے کے فوراً بعد اپنی قابلیت کی بنیاد پر اچھی remote job حاصل کرلی ہے، اس کی آمدنی اچھی ہے، وہ اپنے کام میں سیکھ رہا ہے اور مستقبل میں اپنی earning اور skills بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے صرف اس لیے پریشان کرنا کہ "اب فوراً MS کرو" یا "سرکاری نوکری میں چلے جاؤ"، مناسب حکمتِ عملی نہیں ہے۔
آپ نے بحیثیت والدہ جو مشورہ دیا ہے کہ اسے ایک دو سال عملی زندگی کا تجربہ حاصل کرنے دیا جائے، میری نظر میں یہ ایک بالکل قابلِ غور اور متوازن مشورہ ہے۔ MS کوئی ایسی ٹرین نہیں جو آج نہ پکڑی تو ہمیشہ کے لیے چھوٹ جائے گی، اور سرکاری ملازمت بھی کامیابی کی واحد تعریف نہیں ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "لوگ کیا کر رہے ہیں؟" بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس نوجوان کے لیے اگلے پانچ سے دس سال میں کون سا راستہ اس کی صلاحیت، دلچسپی، مالی اہداف اور زندگی کے منصوبے کے مطابق بہتر ہوگا؟
خاص طور پر Engineering جیسے شعبے میں عملی تجربہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک نوجوان جب دو تین سال industry میں کام کرتا ہے تو اسے اپنی strengths، weaknesses، دلچسپی اور career direction کے بارے میں زیادہ واضح اندازہ ہوجاتا ہے۔ ممکن ہے آج وہ سمجھتا ہو کہ MS ضروری ہے، لیکن عملی تجربے کے بعد اسے معلوم ہو کہ اسے technical specialization میں جانا ہے، management کی طرف بڑھنا ہے، کسی international company میں remote career بنانا ہے، اپنا business شروع کرنا ہے یا کسی مخصوص field میں higher education حاصل کرنی ہے۔ اس وقت کیا گیا MS بھی زیادہ واضح مقصد کے ساتھ ہوگا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ MS صرف اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ خاندان کے لوگ کہہ رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کا بہترین فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ وہ کس specialization میں جانا چاہتا ہے اور اس ڈگری سے اسے کیا حاصل کرنا ہے۔ اگر نوجوان صرف دباؤ میں آکر MS شروع کرتا ہے، موجودہ اچھی job چھوڑتا ہے یا اپنی صحت، ذہنی سکون اور professional growth متاثر کرتا ہے تو ممکن ہے ڈگری حاصل کرنے کے باوجود اسے وہ فائدہ نہ ملے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
اسی طرح سرکاری ملازمت بھی ہر شخص کے لیے بہترین انتخاب نہیں ہوتی۔ سرکاری ملازمت اپنی جگہ ایک اچھا career option ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو job security، مخصوص career structure اور public service کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اگر ایک نوجوان کو private یا international remote sector میں اپنی qualification کے مطابق اچھی آمدنی، professional growth اور skill development کے مواقع مل رہے ہیں تو صرف "سرکاری نوکری زیادہ محفوظ ہوتی ہے" کے عمومی تصور کی وجہ سے اسے اپنا موجودہ راستہ چھوڑنے پر مجبور کرنا ضروری نہیں۔
البتہ یہاں ایک احتیاط بہت ضروری ہے۔ میں یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ صرف موجودہ salary سے مطمئن ہو کر بیٹھ جائے۔ Job جاری رکھتے ہوئے اسے اپنی market value مسلسل بڑھانی چاہیے۔ Electrical Engineering سے متعلق جدید technical skills، software، automation، programming، AI، data analysis، project management، communication skills اور international certifications میں سے جو اس کے career path سے متعلق ہوں، انہیں مرحلہ وار سیکھنا چاہیے۔ آج کی دنیا میں صرف ڈگری نہیں بلکہ degree + skills + experience + communication + adaptability مل کر career کی قدر متعین کرتے ہیں۔
خاندان کے افراد کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مشورہ دینا اچھی بات ہے، لیکن مسلسل مشورے اور دباؤ میں فرق ہوتا ہے۔ ایک ہی بات مختلف افراد کی طرف سے روزانہ سننے والا نوجوان بالآخر یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ شاید وہ کچھ غلط کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی زندگی کا ایک اچھا آغاز کر چکا ہوتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ خاندان اسے مختلف راستوں کے فوائد اور نقصانات بتا دے، لیکن حتمی فیصلہ اسی نوجوان کو کرنے دے جو اپنی زندگی، وقت، career اور مستقبل کی ذمہ داری خود اٹھائے گا۔
میرا مشورہ ہوگا کہ وہ اگلے ایک یا دو سال کو "تعلیم چھوڑنے" کا زمانہ نہ سمجھے بلکہ Career Exploration Period سمجھے۔ اس دوران وہ اپنی job میں بہترین performance دے، نئی skills حاصل کرے، اپنی savings بنائے، industry میں professional network بنائے اور ہر چھ ماہ بعد اپنے career کا جائزہ لے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھے کہ اس کی موجودہ qualification اور experience اسے کہاں لے جا رہے ہیں۔ اگر ایک دو سال بعد اسے محسوس ہو کہ MS اس کے career کو واقعی آگے لے جائے گی تو وہ بہتر specialization اور بہتر university کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اگر اسے معلوم ہو کہ experience اور professional certifications اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں تو وہ اس راستے پر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
اور ایک ماں کے لیے میری خاص گزارش ہے: اپنے بیٹے کو یہ احساس دیں کہ آپ کو اس پر اعتماد ہے۔ اسے ہر وقت یہ نہ پوچھیں کہ "MS کب کرو گے؟ سرکاری نوکری کب لو گے؟" بلکہ کبھی یہ بھی پوچھیں کہ "تم اپنے career میں اگلے دو سال میں کہاں پہنچنا چاہتے ہو؟ ہم تمہاری مدد کیسے کر سکتے ہیں؟" یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی نوجوان کے ذہنی دباؤ کو بہت کم کر سکتی ہے۔
آخر میں ایک اصول یاد رکھیں: اچھا career وہ نہیں جو خاندان کو سب سے زیادہ متاثر کرے؛ اچھا career وہ ہے جس میں نوجوان اپنی صلاحیت استعمال کر سکے، مسلسل ترقی کرے، ذہنی سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے اور مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد بنا سکے۔ 23 سال کی عمر میں ایک اچھی ڈگری، اچھی job، اچھی income اور آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہے تو اسے گھبرانے کے بجائے سوچ سمجھ کر آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے۔ MS بھی اس کے لیے موجود رہے گی، سرکاری ملازمت کے مواقع بھی آتے رہیں گے، لیکن اس عمر میں حاصل ہونے والا حقیقی عملی تجربہ بھی اس کے career کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
(تعلیم پاکستان)
#تعلیم