تعلیم

تعلیم “اساتذہ کی تربیت، جدید تدریس، اور تعلیم میں جدت کے لیے ایک عملی کوشش 📚
🎥 آن لائن ٹریننگ | 🧠 AI Tools | 💬 تدریسی رہنمائی
(3)

سوال:السلام علیکم! میرے بیٹے نے ایک اچھی یونیورسٹی سے BS Electrical Engineering کیا ہے۔ تعلیم مکمل کرتے ہی اسے ریموٹ جاب...
20/08/2026

سوال:
السلام علیکم! میرے بیٹے نے ایک اچھی یونیورسٹی سے BS Electrical Engineering کیا ہے۔ تعلیم مکمل کرتے ہی اسے ریموٹ جاب مل گئی اور الحمدللہ اس کی آمدنی بھی اچھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ جاب کے ساتھ وہ مزید تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا، تاہم وہ اپنی skills اور earnings کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ خاندان کے تقریباً ہر فرد کی طرف سے اسے مسلسل مشورہ دیا جاتا ہے کہ MS کر لو یا سرکاری ملازمت اختیار کر لو، جس کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر پریشان ہو جاتا ہے۔ ایک ماں کی حیثیت سے میری رائے یہ ہے کہ اسے فی الحال کچھ عرصہ جاب کرنے دی جائے، پڑھائی سے ایک دو سال کا وقفہ لے، عملی تجربہ حاصل کرے اور پھر سوچے کہ آگے MS کرنا ہے، سرکاری ملازمت اختیار کرنی ہے یا موجودہ career کو ہی آگے بڑھانا ہے۔ اس کی عمر بھی صرف 23 سال ہے۔ لیکن خاندان کے باقی افراد اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس صورتِ حال میں بہتر فیصلہ کیا ہونا چاہیے؟

جواب:
وعلیکم السلام! میرے نزدیک اس معاملے میں سب سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر کامیاب نوجوان کے لیے کامیابی کا راستہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اگر ایک 23 سالہ نوجوان نے BS Electrical Engineering مکمل کرنے کے فوراً بعد اپنی قابلیت کی بنیاد پر اچھی remote job حاصل کرلی ہے، اس کی آمدنی اچھی ہے، وہ اپنے کام میں سیکھ رہا ہے اور مستقبل میں اپنی earning اور skills بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے صرف اس لیے پریشان کرنا کہ "اب فوراً MS کرو" یا "سرکاری نوکری میں چلے جاؤ"، مناسب حکمتِ عملی نہیں ہے۔
آپ نے بحیثیت والدہ جو مشورہ دیا ہے کہ اسے ایک دو سال عملی زندگی کا تجربہ حاصل کرنے دیا جائے، میری نظر میں یہ ایک بالکل قابلِ غور اور متوازن مشورہ ہے۔ MS کوئی ایسی ٹرین نہیں جو آج نہ پکڑی تو ہمیشہ کے لیے چھوٹ جائے گی، اور سرکاری ملازمت بھی کامیابی کی واحد تعریف نہیں ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "لوگ کیا کر رہے ہیں؟" بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس نوجوان کے لیے اگلے پانچ سے دس سال میں کون سا راستہ اس کی صلاحیت، دلچسپی، مالی اہداف اور زندگی کے منصوبے کے مطابق بہتر ہوگا؟
خاص طور پر Engineering جیسے شعبے میں عملی تجربہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک نوجوان جب دو تین سال industry میں کام کرتا ہے تو اسے اپنی strengths، weaknesses، دلچسپی اور career direction کے بارے میں زیادہ واضح اندازہ ہوجاتا ہے۔ ممکن ہے آج وہ سمجھتا ہو کہ MS ضروری ہے، لیکن عملی تجربے کے بعد اسے معلوم ہو کہ اسے technical specialization میں جانا ہے، management کی طرف بڑھنا ہے، کسی international company میں remote career بنانا ہے، اپنا business شروع کرنا ہے یا کسی مخصوص field میں higher education حاصل کرنی ہے۔ اس وقت کیا گیا MS بھی زیادہ واضح مقصد کے ساتھ ہوگا۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ MS صرف اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ خاندان کے لوگ کہہ رہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کا بہترین فائدہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو معلوم ہو کہ وہ کس specialization میں جانا چاہتا ہے اور اس ڈگری سے اسے کیا حاصل کرنا ہے۔ اگر نوجوان صرف دباؤ میں آکر MS شروع کرتا ہے، موجودہ اچھی job چھوڑتا ہے یا اپنی صحت، ذہنی سکون اور professional growth متاثر کرتا ہے تو ممکن ہے ڈگری حاصل کرنے کے باوجود اسے وہ فائدہ نہ ملے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
اسی طرح سرکاری ملازمت بھی ہر شخص کے لیے بہترین انتخاب نہیں ہوتی۔ سرکاری ملازمت اپنی جگہ ایک اچھا career option ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو job security، مخصوص career structure اور public service کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اگر ایک نوجوان کو private یا international remote sector میں اپنی qualification کے مطابق اچھی آمدنی، professional growth اور skill development کے مواقع مل رہے ہیں تو صرف "سرکاری نوکری زیادہ محفوظ ہوتی ہے" کے عمومی تصور کی وجہ سے اسے اپنا موجودہ راستہ چھوڑنے پر مجبور کرنا ضروری نہیں۔
البتہ یہاں ایک احتیاط بہت ضروری ہے۔ میں یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ صرف موجودہ salary سے مطمئن ہو کر بیٹھ جائے۔ Job جاری رکھتے ہوئے اسے اپنی market value مسلسل بڑھانی چاہیے۔ Electrical Engineering سے متعلق جدید technical skills، software، automation، programming، AI، data analysis، project management، communication skills اور international certifications میں سے جو اس کے career path سے متعلق ہوں، انہیں مرحلہ وار سیکھنا چاہیے۔ آج کی دنیا میں صرف ڈگری نہیں بلکہ degree + skills + experience + communication + adaptability مل کر career کی قدر متعین کرتے ہیں۔
خاندان کے افراد کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مشورہ دینا اچھی بات ہے، لیکن مسلسل مشورے اور دباؤ میں فرق ہوتا ہے۔ ایک ہی بات مختلف افراد کی طرف سے روزانہ سننے والا نوجوان بالآخر یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ شاید وہ کچھ غلط کر رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ اپنی زندگی کا ایک اچھا آغاز کر چکا ہوتا ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ خاندان اسے مختلف راستوں کے فوائد اور نقصانات بتا دے، لیکن حتمی فیصلہ اسی نوجوان کو کرنے دے جو اپنی زندگی، وقت، career اور مستقبل کی ذمہ داری خود اٹھائے گا۔
میرا مشورہ ہوگا کہ وہ اگلے ایک یا دو سال کو "تعلیم چھوڑنے" کا زمانہ نہ سمجھے بلکہ Career Exploration Period سمجھے۔ اس دوران وہ اپنی job میں بہترین performance دے، نئی skills حاصل کرے، اپنی savings بنائے، industry میں professional network بنائے اور ہر چھ ماہ بعد اپنے career کا جائزہ لے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھے کہ اس کی موجودہ qualification اور experience اسے کہاں لے جا رہے ہیں۔ اگر ایک دو سال بعد اسے محسوس ہو کہ MS اس کے career کو واقعی آگے لے جائے گی تو وہ بہتر specialization اور بہتر university کا انتخاب کر سکتا ہے۔ اگر اسے معلوم ہو کہ experience اور professional certifications اس کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں تو وہ اس راستے پر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
اور ایک ماں کے لیے میری خاص گزارش ہے: اپنے بیٹے کو یہ احساس دیں کہ آپ کو اس پر اعتماد ہے۔ اسے ہر وقت یہ نہ پوچھیں کہ "MS کب کرو گے؟ سرکاری نوکری کب لو گے؟" بلکہ کبھی یہ بھی پوچھیں کہ "تم اپنے career میں اگلے دو سال میں کہاں پہنچنا چاہتے ہو؟ ہم تمہاری مدد کیسے کر سکتے ہیں؟" یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی نوجوان کے ذہنی دباؤ کو بہت کم کر سکتی ہے۔
آخر میں ایک اصول یاد رکھیں: اچھا career وہ نہیں جو خاندان کو سب سے زیادہ متاثر کرے؛ اچھا career وہ ہے جس میں نوجوان اپنی صلاحیت استعمال کر سکے، مسلسل ترقی کرے، ذہنی سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے اور مستقبل کے لیے مضبوط بنیاد بنا سکے۔ 23 سال کی عمر میں ایک اچھی ڈگری، اچھی job، اچھی income اور آگے بڑھنے کا جذبہ موجود ہے تو اسے گھبرانے کے بجائے سوچ سمجھ کر آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے۔ MS بھی اس کے لیے موجود رہے گی، سرکاری ملازمت کے مواقع بھی آتے رہیں گے، لیکن اس عمر میں حاصل ہونے والا حقیقی عملی تجربہ بھی اس کے career کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
(تعلیم پاکستان)

#تعلیم

اپنی ڈگری کو کمائی کی مشین بنائیں، صرف کاغذ نہ رہنے دیںآج کے دور میں صرف ڈگری، اچھی گریڈز یا کسی ادارے کا نام کافی نہیں۔...
20/08/2026

اپنی ڈگری کو کمائی کی مشین بنائیں، صرف کاغذ نہ رہنے دیں

آج کے دور میں صرف ڈگری، اچھی گریڈز یا کسی ادارے کا نام کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ اپنے علم کو کس قابلِ فروخت مہارت میں تبدیل کر سکتے ہیں؟ دنیا کا روزگار تیزی سے بدل رہا ہے۔ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت، بڑے ڈیٹا، سائبر سکیورٹی اور ٹیکنالوجی سے متعلق مہارتوں کی طلب بڑھ رہی ہے، لیکن ساتھ ہی تجزیاتی سوچ، تخلیقی صلاحیت، موافقت، رابطے کی مہارت اور مسلسل سیکھنے کی صلاحیت بھی انتہائی اہم ہو رہی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق 2025 سے 2030 کے دوران تقریباً 39 فیصد موجودہ مہارتوں میں تبدیلی متوقع ہے۔
اس لیے اگر آپ آج اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہیں یا پہلے ہی ڈگری لے چکے ہیں اور پھر بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ "اب میں کروں کیا؟" تو گھبرانے کے بجائے ایک منظم طریقہ اختیار کریں۔ سب سے پہلے مصنوعی ذہانت کو اپنا معاون بنائیں۔ چیٹ جی پی ٹی جیسے اوزار سے صرف یہ نہ پوچھیں کہ "میرے لیے کون سی نوکری ہے؟" بلکہ اسے اپنی مکمل تعلیمی اور پیشہ ورانہ تصویر دیں: آپ کی ڈگری کیا ہے، کن مضامین میں مضبوط ہیں، کون سی چیزیں پسند ہیں، کون سا تجربہ رکھتے ہیں، کون سی زبانیں جانتے ہیں، کمپیوٹر کی کتنی سمجھ ہے اور آپ کا ہدف ملازمت ہے، آزادانہ کام ہے یا اپنا کاروبار۔ پھر اس سے کہیں کہ آپ کی موجودہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ممکنہ شعبے، ملازمتیں، مطلوبہ مہارتیں اور اگلے چھ سے بارہ ماہ کا سیکھنے کا منصوبہ بنائے۔
اس کے بعد ایک ساتھ دس راستوں پر نہ دوڑیں۔ دو یا تین ایسے کیریئر منتخب کریں جن میں آپ کی دلچسپی، صلاحیت اور مارکیٹ کی طلب آپس میں ملتی ہو۔ مثال کے طور پر ڈیٹا تجزیہ، کاروباری تجزیہ، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، مالیاتی تجزیہ، تدریسی ڈیزائن یا کسی مخصوص صنعت کی ٹیکنالوجی۔ پھر ہر منتخب شعبے کے لیے مطلوبہ مہارتوں کی فہرست بنائیں۔ یہ فرق بہت اہم ہے: "مجھے ڈیٹا اینالسٹ بننا ہے" ایک خواہش ہے، جبکہ "مجھے ایکسل، ایس کیو ایل، شماریاتی تجزیہ، ڈیٹا ویژولائزیشن، ڈیش بورڈ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سیکھنی ہے" ایک منصوبہ ہے۔
اب اگلا مرحلہ ہے دوسروں سے سیکھنا، مگر نقل نہیں کرنا۔ لنکڈ اِن پر اپنے مطلوبہ شعبے کے کم از کم پانچ ایسے ماہرین تلاش کریں جو واقعی اس مقام تک پہنچ چکے ہوں جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کے پروفائل، تجربے، مہارتوں، منصوبوں، سرٹیفکیٹس، تحریروں اور اگر دستیاب ہو تو پورٹ فولیو کا جائزہ لیں۔ خود سے پوچھیں: ان لوگوں میں کون سی مشترک مہارتیں ہیں؟ انہوں نے ابتدا کہاں سے کی؟ کون سے منصوبے انہیں دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں؟ ان کے سفر کو اپنے لیے ایک نقشہ بنائیں، منزل کا شارٹ کٹ نہیں۔
پھر پورٹ فولیو بنائیں۔ آج صرف یہ لکھ دینا کہ "مجھے ایکسل آتا ہے"، "مجھے ڈیٹا اینالسس آتی ہے" یا "میں مصنوعی ذہانت استعمال کرسکتا ہوں" کافی نہیں۔ ایک حقیقی منصوبہ بنائیں اور دکھائیں کہ آپ کیا کرسکتے ہیں۔ مثلاً کسی فرضی کاروبار کا فروختی ڈیٹا لے کر تجزیہ کریں، ایکسل میں ماڈل بنائیں، ڈیش بورڈ تیار کریں، نتائج کی تشریح کریں اور پھر اسے ایک خوبصورت کیس اسٹڈی کی صورت میں پیش کریں۔ آپ کا پورٹ فولیو آپ کے دعوے کا ثبوت ہونا چاہیے۔
یہی اصول اپ ورک اور فائیور پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ وہاں جاکر صرف کام تلاش نہ کریں؛ پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کے منتخب شعبے میں کامیاب لوگ کیا خدمات پیش کر رہے ہیں، ان کے نمونے کیسے ہیں، وہ اپنی خدمت کو کس انداز میں بیان کرتے ہیں اور خریدار اصل میں کیا خرید رہا ہے۔ موجودہ مارکیٹ میں ڈیٹا اینالسس، ڈیٹا ویژولائزیشن، مالیاتی ماڈلنگ، پروگرامنگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتوں کی طلب موجود ہے۔ اپ ورک کے 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے پلیٹ فارم پر مصنوعی ذہانت کو موجودہ کام میں استعمال کرنے والی مہارتوں کی مانگ سال بہ سال 109 فیصد بڑھی، جبکہ انسانی ماہرین کی ضرورت بھی برقرار رہی۔
فائیور کے حالیہ رجحانات بھی یہی بتاتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب محض تجربہ نہیں رہی؛ کاروبار اسے عملی کاموں میں شامل کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی آٹومیشن، مصنوعی ذہانت سے ویڈیو تخلیق اور پرامپٹ انجینئرنگ جیسی خدمات کی تلاش میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص صرف "اے آئی ایکسپرٹ" بن جائے۔ اصل موقع ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے اصل شعبے + مصنوعی ذہانت کو جوڑ سکتے ہیں۔
مثلاً اگر آپ نے ریاضی، شماریات اور کمپیوٹر سائنس پڑھی ہے اور آپ کو ایکسل صرف جدول بنانے تک محدود معلوم ہوتا ہے تو آپ اپنی تعلیم کا بہت بڑا حصہ استعمال ہی نہیں کر رہے۔ ایکسل کے ذریعے ڈیٹا کی صفائی، شماریاتی تجزیہ، پیش گوئی، مالیاتی ماڈلنگ، آپریشنز ریسرچ کے ماڈلز، اصلاحی مسائل، خودکار رپورٹس اور انٹرایکٹو ڈیش بورڈز جیسے کام کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایس کیو ایل، پاور بی آئی، بنیادی پروگرامنگ اور مصنوعی ذہانت کے اوزار شامل کردیں تو آپ کی پروفائل محض "ڈگری ہولڈر" کی نہیں رہتی بلکہ مسئلہ حل کرنے والے ماہر کی بننا شروع ہوجاتی ہے۔
یہ آپ کا مختصر مدتی کمائی کا راستہ بن سکتا ہے: ایک مخصوص مہارت منتخب کریں، اسے اچھی سطح تک سیکھیں، تین سے پانچ مضبوط عملی منصوبے بنائیں، پورٹ فولیو تیار کریں اور پھر آزادانہ کام کے پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے درخواستیں دیں۔ البتہ "دو ماہ میں سب کچھ سیکھ کر کمائی شروع" کو ضمانت سمجھنا درست نہیں۔ کچھ لوگ تیزی سے سیکھتے ہیں، کچھ کو زیادہ وقت لگتا ہے؛ اصل فرق روزانہ کی مستقل مشق اور کام کے معیار سے پڑتا ہے۔
اس کے ساتھ درمیانی مدت کا منصوبہ بھی بنائیں۔ لنکڈ اِن پر متعلقہ کمپنیوں، ریموٹ ملازمتوں اور انٹرن شپ کے مواقع تلاش کریں۔ لیکن صرف درخواستیں جمع نہ کراتے رہیں۔ ہر درخواست کے ساتھ اپنا پروفائل، تجربہ اور پورٹ فولیو متعلقہ ملازمت کے مطابق بہتر کریں۔ اگر کمپنی کو ڈیٹا اینالسٹ چاہیے تو اسے دس غیر متعلقہ کورسز کی فہرست دینے کے بجائے دو بہترین ڈیٹا پروجیکٹس دکھائیں جو یہ ثابت کریں کہ آپ واقعی مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔
اور پھر آتا ہے طویل مدتی منصوبہ۔ آپ کو پانچ سال بعد کہاں ہونا ہے؟ کسی کمپنی میں ماہر بننا ہے؟ مشاورتی کام کرنا ہے؟ آزادانہ کام سے اپنی ایجنسی بنانی ہے؟ اپنا کاروبار شروع کرنا ہے؟ تحقیق کرنی ہے؟ تدریس میں جانا ہے؟ مصنوعی ذہانت کو اپنے موجودہ پیشے کے ساتھ جوڑنا ہے؟ یہ فیصلہ جتنا جلد واضح ہوگا، اتنی ہی توانائی درست سمت میں خرچ ہوگی۔
لیکن یہاں ایک چیز ایسی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کردیتے ہیں: کردار۔ کمزور رویہ، غیر ذمہ داری، جھوٹ، تکبر، بے اعتمادی، وقت کی پابندی نہ کرنا اور لوگوں سے بدتمیزی—یہ سب ایسی خامیاں ہیں جو بہترین مہارت کو بھی کمزور کردیتی ہیں۔ آج کا پیشہ ور صرف کام نہیں کرتا؛ وہ رابطہ کرتا ہے، اپنی بات پیش کرتا ہے، ٹیم کے ساتھ کام کرتا ہے، اختلاف سنبھالتا ہے اور اپنے کام کی قدر واضح کرتا ہے۔ لنکڈ اِن کے 2025 کے اعداد و شمار میں مصنوعی ذہانت کی خواندگی کے ساتھ موافقت، اسٹریٹجک سوچ، تخلیقی سوچ اور رابطے کی مہارتیں بھی نمایاں رہیں۔
اس لیے اعتماد پیدا کریں، مگر تکبر نہیں۔ ہر شخص کی عزت کریں، مگر غیر ضروری خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ کسی دفتر میں جائیں تو اپنی بات واضح انداز میں کریں۔ کسی افسر، مینیجر یا ماہر سے بات کرتے ہوئے یہ نہ سمجھیں کہ سامنے بیٹھا شخص آپ سے کسی دوسری مخلوق کا فرد ہے۔ سوال پوچھیں، سنیں، سمجھیں اور مناسب انداز میں اپنی بات رکھیں۔ پیشہ ورانہ اعتماد بھی ایک مہارت ہے، اور اسے بھی سیکھنا پڑتا ہے۔
اپنی بصری شناخت پر بھی کام کریں۔ ایک مناسب پیشہ ورانہ تصویر، صاف ستھرا لنکڈ اِن پروفائل، مختصر مگر مؤثر تعارف، اچھا پورٹ فولیو، اپنے کام کی ویڈیوز یا مختصر نمونے—یہ سب آپ کے بارے میں پہلی رائے بناتے ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل ماحول میں آپ کا کام صرف آپ کے دفتر کی میز پر نہیں رہتا؛ اسے دنیا کے سامنے دکھانا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔
اور جب کسی چیز کی سمجھ نہ آئے تو الجھن میں بیٹھے رہنے کے بجائے سوال بنائیں۔ کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ کہاں استعمال ہوگا؟ اس کا متبادل کیا ہے؟ ایک ماہر اسے کیسے کرتا ہے؟ میں اسے اپنے شعبے میں کیسے استعمال کرسکتا ہوں؟ ان سوالات پر چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کریں، مختلف مثالیں مانگیں، اپنی غلطی پکڑوائیں، مشق کروائیں، اپنے منصوبے کا جائزہ لیں اور جو کورس پڑھ رہے ہیں اس کے ہر اہم تصور کو عملی مسئلے سے جوڑنے کی کوشش کریں۔ مصنوعی ذہانت کو جواب دینے والی مشین نہیں، سیکھنے کے معاون کے طور پر استعمال کریں۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں: مالی مشکلات مستقل نہیں ہوتیں۔ آج گھر کے حالات مشکل ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کل بھی یہی صورتحال رہے گی۔ ملک چھوڑ دینا بھی کوئی جادوئی حل نہیں؛ بیرون ملک بھی کرایہ، بل، مقابلہ، کام کا دباؤ، زبان، تنہائی اور نئی مہارتوں کی ضرورت موجود ہوتی ہے۔ اصل فرق جگہ بدلنے سے زیادہ اپنی قابلیت بدلنے سے پڑتا ہے۔
اگر حالات مشکل ہیں تو اپنی توانائی شکایت میں کم اور تیاری میں زیادہ لگائیں۔ ایک مہارت منتخب کریں۔ روزانہ وقت دیں۔ کام بنائیں۔ اپنا کام دکھائیں۔ لوگوں سے رابطہ کریں۔ مواقع تلاش کریں۔ ناکامی کو ڈیٹا سمجھیں، فیصلہ نہیں۔
ہمت + واضح منصوبہ + قابلِ فروخت مہارت + مضبوط کردار + مستقل مزاجی = بہتر امکانات۔
دنیا آپ کو صرف اس لیے کام نہیں دے گی کہ آپ نے ڈگری حاصل کی ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی ڈگری کو مہارت، اپنی مہارت کو پورٹ فولیو، اپنے پورٹ فولیو کو اعتماد اور اپنے اعتماد کو مستقل عمل میں تبدیل کردیں تو آپ کے امکانات ضرور بدل سکتے ہیں۔
نوکری کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے خود کو ایسا انسان بنائیں جسے کام دینا فائدہ مند ہو۔
یہی آج کے روزگار کی اصل گیم ہے۔
(تعلیم پاکستان)

#تعلیم

خوشیوں سے ڈرنے والا معاشرہکبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے ہاں خوش ہونا بھی ایک طرح کی مشکوک سرگرمی بن گیا ہے؟ کوئی بچہ گھ...
20/08/2026

خوشیوں سے ڈرنے والا معاشرہ

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہمارے ہاں خوش ہونا بھی ایک طرح کی مشکوک سرگرمی بن گیا ہے؟ کوئی بچہ گھر میں بے اختیار ہنس دے تو فوراً آواز آتی ہے، "اتنا مت ہنسو، بعد میں اتنا ہی رونا پڑے گا!" کوئی نوجوان دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بنائے تو نصیحت شروع ہوجاتی ہے، کوئی شادی کی خوشی میں ذرا زیادہ پرجوش نظر آئے تو فوراً نظر لگنے، نحوست یا کسی آنے والی مصیبت کا خیال سامنے آجاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے خوشی کوئی ایسی چیز ہو جسے زیادہ دیر تک ظاہر کرنا خطرناک ہے۔
شاید اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ خوشی محسوس تو کرتے ہیں، مگر اسے کھل کر جینا نہیں جانتے۔ کامیابی ملے تو اسے چھپانے کی کوشش، کوئی اچھی خبر آئے تو فوراً اندیشوں کا اظہار، خوشی کا موقع ہو تو بھی چہرے پر سنجیدگی، اور کسی دوسرے کو ہنستے دیکھیں تو دل میں سوال کہ "اسے اتنی خوشی کس بات کی ہے؟" ہم نے شاید احتیاط اور بدگمانی کے درمیان فرق بھی کہیں کھو دیا ہے۔
یقیناً زندگی میں ہر وقت قہقہے نہیں ہوتے۔ دکھ، آزمائش، ذمہ داریاں اور مشکلات بھی زندگی کا حصہ ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان اپنی خوشیوں کو خود ہی گلا گھونٹ کر ختم کردے۔ خوش ہونا ناشکری نہیں، بشرطیکہ خوشی انسان کو حدود سے باہر نہ لے جائے۔ ایک خوبصورت ملاقات، بچوں کے ساتھ کھیلنا، دوستوں کے ساتھ ہنسنا، کسی کامیابی کو منانا، سیر پر جانا، عید کی خوشی محسوس کرنا، کسی عزیز کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا—یہ سب زندگی کے وہ رنگ ہیں جنہیں مسلسل خوف کے پردے میں چھپا دینا زندگی کو بے رنگ بنا دیتا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم خوشی کے بعد آنے والے ممکنہ غم سے اتنا ڈرنے لگیں کہ خوشی کے موجودہ لمحے کو بھی ضائع کردیں۔ ہم سوچتے رہتے ہیں کہ "اگر یہ خوشی زیادہ دیر نہ رہی تو؟"، "اگر نظر لگ گئی تو؟"، "اگر اس کے بعد کوئی برا واقعہ ہوگیا تو؟" لیکن حقیقت یہ ہے کہ مستقبل کے کسی ممکنہ دکھ کے خوف سے آج کی خوشی ترک کردینا بھی کوئی دانش مندی نہیں۔ غم کے امکان کی وجہ سے خوشی سے محروم ہوجانا ایسا ہی ہے جیسے بارش کے خدشے سے پورا موسم گھر کے اندر گزار دینا۔
اور پھر خوشی صرف ذاتی معاملہ نہیں۔ گھر میں اگر ایک شخص مسلسل چڑچڑا، بدگمان اور ناخوش رہے تو اس کا اثر پورے ماحول پر پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر والدین ہر خوشی کے موقع پر بچوں کو روکیں، ان کے جوش کو "فضول" کہیں، ہر ہنسی میں خطرہ تلاش کریں اور ہر تفریح کو وقت کا ضیاع سمجھیں تو بچے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیتے ہیں کہ خوشی شاید کوئی اچھی چیز نہیں۔ پھر وہ بڑے ہوکر کامیابی حاصل بھی کرلیں تو اسے محسوس کرنے، منانے اور دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں جھجھک محسوس کرسکتے ہیں۔
اس کے برعکس خوشی کو صحت مند انداز میں جینا بھی ایک تربیت ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا جاسکتا ہے کہ کامیابی پر شکر ادا کرو، دوست کی کامیابی پر خوش ہو، عید پر اچھے کپڑے پہنو، کھیل کھیلو، ہنسو، سیر کرو، خاندان کے ساتھ وقت گزارو، لیکن کسی کی تکلیف کا مذاق نہ بناؤ، اپنی خوشی سے دوسروں کو نقصان نہ پہنچاؤ اور تفریح کو بے احتیاطی کا نام نہ دو۔
ہمیں خوشی اور بے قابو پن کے درمیان لکیر بھی واضح رکھنی ہوگی۔ خوشی منانے کا مطلب ہوائی فائرنگ کرنا، نوٹ اچھالنا، سڑکوں پر خطرناک کرتب دکھانا، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو خطرناک انداز میں چلانا یا دوسروں کے سکون اور جان کو خطرے میں ڈالنا ہرگز نہیں۔ خوشی وہ ہے جس میں آپ کا دل بھی خوش ہو اور دوسروں کا حق بھی محفوظ رہے۔
شاید ہمیں اپنے معاشرے میں ایک اور چیز سیکھنے کی ضرورت ہے: دوسروں کی خوشی برداشت کرنا۔ ہر کامیابی آپ کی نہیں ہوگی، ہر دعوت آپ کے گھر نہیں ہوگی، ہر سفر آپ کا نہیں ہوگا اور ہر شخص کی زندگی آپ جیسی نہیں ہوگی۔ اگر کوئی شخص اپنے بچوں کے ساتھ خوش ہے، کسی نے کامیابی حاصل کی ہے، کسی نے خوبصورت سفر کیا ہے یا کسی نے اپنی زندگی میں کوئی اچھی چیز حاصل کی ہے تو ضروری نہیں کہ ہم فوراً اس میں خامی تلاش کریں۔ کبھی کبھی بس اتنا کہہ دینا بھی کافی ہوتا ہے: "اللہ اسے خوش رکھے۔"
خوشی چھپانے سے زندگی محفوظ نہیں ہوجاتی اور ہر وقت بدترین امکان سوچنے سے مستقبل ہمارے قابو میں نہیں آجاتا۔ زندگی میں جو ہمارے اختیار میں ہے وہ یہ ہے کہ ہم موجودہ لمحے کو کس ذہن کے ساتھ گزارتے ہیں، اپنی نعمتوں کو کیسے دیکھتے ہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے لیے کیسا ماحول بناتے ہیں۔
اس لیے خوشی آئے تو اسے شکر کے ساتھ قبول کیجیے۔ ہنسی آئے تو بلاوجہ اسے مت روکئے۔ بچوں کو کھیلنے دیجیے، نوجوانوں کو صحت مند تفریح کرنے دیجیے، خاندان کے ساتھ خوشی کے لمحات منائیے اور دوسروں کی خوشیوں میں دل سے شریک ہوئیے۔
ہر خوشی کے پیچھے خوف تلاش کرنا چھوڑ دیں۔
کچھ لمحوں کو صرف خوشی رہنے دیں۔
کیونکہ زندگی صرف مسائل حل کرنے، بل ادا کرنے، ذمہ داریاں نبھانے اور مستقبل کی فکر کرنے کا نام نہیں۔ زندگی میں کچھ لمحے ایسے بھی ہونے چاہییں جن میں انسان رک کر مسکرائے، اپنے رب کا شکر ادا کرے اور دل سے کہے:
"الحمدللہ، یہ لمحہ بھی خوبصورت ہے۔"
(تعلیم پاکستان)

#تعلیم

ایک سوال، ہمارا جوابسوال: غریب اور کم تعلیم یافتہ والدین کو بچوں کی تعلیم کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟غریب والدین کو بچوں ...
20/08/2026

ایک سوال، ہمارا جواب
سوال: غریب اور کم تعلیم یافتہ والدین کو بچوں کی تعلیم کی طرف کیسے راغب کیا جائے؟

غریب والدین کو بچوں کی تعلیم کی اہمیت سمجھاتے وقت صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "تعلیم شعور دیتی ہے، انسان کو اچھا شہری بناتی ہے اور معاشرے میں مقام دلاتی ہے۔" یہ باتیں اپنی جگہ درست ہیں، لیکن جس گھر میں روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا ہی ایک بڑا مسئلہ ہو، وہاں تعلیم کی بات تب زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسے روزگار، آمدن اور بہتر مستقبل سے جوڑ کر سمجھایا جائے۔
ایسے والدین سے بات کرتے ہوئے انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی کام کرنے کی صلاحیت اور مواقع بڑھاتی ہے۔ ایک کم تعلیم یافتہ شخص کسی ہنر میں ماہر ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی تعلیم اسے اپنے اسی ہنر کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
مثلاً ایک عام مستری کو لے لیجیے۔ ایک غیر تعلیم یافتہ مستری شاید پرانے طریقے سے گاڑی کا مکینیکل کام کر لے، لیکن آج کی گاڑی صرف انجن، گریس اور رینچ تک محدود نہیں۔ گاڑی میں کمپیوٹرائزڈ سسٹم، سینسرز اور الیکٹرانک آلات موجود ہیں۔ اگر وہی مستری بنیادی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر، تشخیصی آلات اور جدید ٹیکنالوجی سیکھ لے تو اس کے کام کے مواقع کہیں زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک ڈرائیور اگر پڑھا لکھا ہے تو وہ سڑک کے بورڈز، نقشے، موبائل نیویگیشن، آن لائن بکنگ اور مختلف ڈیجیٹل سہولیات بہتر انداز میں استعمال کرسکتا ہے۔ تعلیم اس کے ہاتھ سے اس کا ہنر نہیں چھینتی، بلکہ اس ہنر کی قدر بڑھا سکتی ہے۔
اسی بات کو والدین کو ایک عام ادارے کی مثال سے بھی سمجھایا جاسکتا ہے۔ فرض کریں ایک سکول میں کئی لوگ کام کرتے ہیں۔ کوئی صفائی کرتا ہے، کوئی سکیورٹی سنبھالتا ہے، کوئی دفتری ریکارڈ مرتب کرتا ہے، کوئی تدریس کرتا ہے اور کوئی پورے ادارے کا انتظام چلاتا ہے۔ سب انسان برابر عزت کے مستحق ہیں اور ہر کام اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن ذمہ داری، مہارت، تعلیم اور فیصلہ سازی کی سطح مختلف ہونے کی وجہ سے آمدن اور مواقع بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔
صفائی کا کام کرنے والا شخص ایک اہم خدمت انجام دیتا ہے، لیکن اگر اس کے پاس تعلیم اور اضافی ہنر نہیں تو عموماً اس کے روزگار کے راستے محدود رہتے ہیں۔ اس کے برعکس ایک ایسا شخص جو دفتری امور، حساب کتاب اور کمپیوٹر کا کام جانتا ہو، نسبتاً زیادہ شعبوں میں کام کرسکتا ہے۔ ایک تربیت یافتہ استاد اس سے بھی مختلف نوعیت کی مہارت رکھتا ہے، جبکہ ادارے کا منتظم تدریس کے ساتھ منصوبہ بندی، انتظام، انسانی وسائل اور فیصلہ سازی جیسی متعدد ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔
یہاں اصل سبق کسی کام کو چھوٹا یا بڑا قرار دینا نہیں ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ مہارت جتنی وسیع ہوگی، مواقع بھی اتنے ہی وسیع ہونے کے امکانات بڑھیں گے۔
ایک شخص اگر صرف ایک محدود نوعیت کا کام جانتا ہے تو اس کے پاس روزگار کے راستے بھی محدود ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ پڑھنا لکھنا جانتا ہو، حساب سمجھتا ہو، ٹیکنالوجی استعمال کرسکتا ہو، لوگوں سے بہتر گفتگو کرسکتا ہو اور اپنے بنیادی ہنر کے ساتھ کوئی اضافی مہارت بھی رکھتا ہو تو وہ ایک ہی وقت میں کئی دروازے کھول سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ غریب گھرانے کے بچے کے لیے تعلیم شاید امیر گھرانے کے بچے سے بھی زیادہ اہم سرمایہ ہے۔ امیر والدین اپنے بچے کو سرمایہ، کاروبار یا جائیداد دے سکتے ہیں، لیکن کم آمدنی والے والدین کے پاس اکثر سب سے قیمتی چیز بچے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے تعلیم، ہنر اور اچھے کردار سے مضبوط بنا دیں تو یہی بچہ آنے والے وقت میں اپنے لیے بھی بہتر زندگی بنا سکتا ہے اور اپنے خاندان کے لیے بھی سہارا بن سکتا ہے۔
البتہ یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے: صرف ڈگری غربت ختم کرنے کی ضمانت نہیں۔ آج کے دور میں تعلیم کے ساتھ قابلِ استعمال مہارت بھی ضروری ہے۔ بچے کو بنیادی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر، زبان، حساب، مواصلات، مسئلہ حل کرنے، فنی کام، کاروباری سوچ یا کسی ڈیجیٹل ہنر سے بھی جوڑا جائے۔ کیونکہ مستقبل میں مقابلہ صرف اس شخص سے نہیں ہوگا جو زیادہ پڑھا لکھا ہے، بلکہ اس سے ہوگا جو اپنے علم کو عملی صلاحیت میں تبدیل کرنا جانتا ہے۔
اس لیے کسی غریب والدین سے یہ نہ کہیں کہ "اپنے بچے کو ضرور بڑا افسر بناؤ۔" بلکہ کہیں:
"اپنے بچے کو اتنا قابل ضرور بنائیں کہ کل اسے روزگار کے لیے صرف ایک دروازے پر دستک نہ دینی پڑے؛ اس کے پاس کئی راستے موجود ہوں۔"
تعلیم کا اصل فائدہ یہی ہے کہ یہ انسان کے سامنے امکانات کی تعداد بڑھاتی ہے۔ ایک بچہ اگر صرف ایک کام جانتا ہے تو اس کی دنیا محدود ہے، لیکن جب تعلیم، ہنر اور تجربہ اس کے ساتھ جڑتے ہیں تو وہ نئے کام سیکھ سکتا ہے، اپنی مہارت بدل سکتا ہے، ٹیکنالوجی اپنا سکتا ہے، کاروبار شروع کرسکتا ہے اور بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو ڈھال سکتا ہے۔
لہٰذا والدین کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کا سب سے مؤثر جملہ شاید یہ ہے:
"اپنے بچے کو صرف آج کی غربت سے نہ لڑائیں، اسے کل کے مواقع کے لیے تیار کریں۔"
اور بچے کے لیے تعلیم کو صرف "نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ" نہ بنائیں۔ اسے یہ سمجھائیں کہ تعلیم اس کے لیے ایک ایسا آلہ ہے جس سے وہ اپنی صلاحیت کو پہچان، بہتر اور استعمال کرسکتا ہے۔
آخر میں ایک ضروری وضاحت بھی ہے: مختلف علاقوں، اداروں، مہارتوں، تجربے اور وقت کے لحاظ سے تنخواہوں اور ملازمتوں کی نوعیت بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے کسی خاص عہدے کی مقررہ تنخواہ کو عمومی اصول سمجھنے کے بجائے اصل نکتہ تعلیم، مہارت، ذمہ داری اور روزگار کے مواقع کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہے۔
غریب بچے کو صرف کتاب نہ دیں؛
اسے کتاب کے ساتھ ہنر دیں،
ہنر کے ساتھ اعتماد دیں،
اور اعتماد کے ساتھ مواقع تلاش کرنا سکھائیں۔
کیونکہ بعض اوقات تعلیم انسان کو صرف بہتر ملازمت نہیں دیتی، وہ اسے اپنی زندگی کے انتخاب کرنے کے قابل بناتی ہے۔
(تعلیم پاکستان)

#تعلیم

20/08/2026

World Humanitarian Day
انسانی ہمدردی کا عالمی دن
آپ کے خیال میں پاکستان کی سب سے بہتر سماجی تنظیم کون سی ھے؟

ہار کے بغیر جیت کی کہانی مکمل نہیں ہوتیزندگی کو اگر ایک سکے سے تشبیہ دی جائے تو اس کے ایک رخ پر جیت لکھی ہوگی اور دوسرے ...
20/08/2026

ہار کے بغیر جیت کی کہانی مکمل نہیں ہوتی

زندگی کو اگر ایک سکے سے تشبیہ دی جائے تو اس کے ایک رخ پر جیت لکھی ہوگی اور دوسرے پر ہار۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم سب سکے کا وہی رخ دیکھنا چاہتے ہیں جس پر کامیابی، تعریف، خوشی اور فتح لکھی ہو، مگر جیسے ہی دوسرا رخ سامنے آتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کھیل ختم ہوگیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے؛ اکثر اوقات ہار وہ استاد ہوتی ہے جو جیت سے کہیں زیادہ گہرا سبق دے جاتی ہے۔
دنیا میں تقریباً ہر انسان خواب دیکھتا ہے، لیکن خواب دیکھنے والوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو خواب کو صرف خیال نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے منزل سمجھ کر اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ راستے میں رکاوٹ آئے تو راستہ بدلتے ہیں، مقصد نہیں۔ ناکامی ہو تو دوبارہ کوشش کرتے ہیں، تنقید ہو تو اسے سنتے ہیں، اپنی غلطی ہو تو اسے تسلیم کرتے ہیں اور کئی بار گرنے کے باوجود دوبارہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو کامیابی تو چاہتے ہیں لیکن اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ نتیجہ چاہتے ہیں مگر محنت نہیں، منزل چاہتے ہیں مگر سفر نہیں، تالیاں چاہتے ہیں مگر ریاضت نہیں۔ زندگی مگر خواہشوں سے نہیں، مسلسل عمل سے بدلتی ہے۔
کائنات کا پورا نظام ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔ سورج اپنے وقت پر طلوع ہوتا ہے، موسم اپنی ترتیب سے بدلتے ہیں، بیج زمین میں ڈالنے کے فوراً بعد درخت نہیں بنتا اور درخت بھی ایک ہی دن میں پھل نہیں دیتا۔ ہر چیز اپنے وقت، عمل اور مراحل سے گزرتی ہے۔ پھر ہم انسان کیوں یہ توقع رکھتے ہیں کہ آج خواب دیکھیں اور کل کامیابی ہمارے دروازے پر دستک دے رہی ہو؟ قدرت نے کامیابی کے راستے میں محنت، انتظار، تجربہ، غلطی، اصلاح اور مستقل مزاجی جیسے مرحلے رکھے ہیں۔
اصل امتحان کامیابی کے دن نہیں، ناکامی کے دن ہوتا ہے۔ جیت کے بعد مسکرانا آسان ہے، لیکن شکست کے بعد خود کو سنبھالنا اصل کردار دکھاتا ہے۔ جب نتیجہ ہماری توقع کے مطابق نہ آئے، جب محنت کے باوجود دروازہ بند ہوجائے، جب کوئی ہم سے آگے نکل جائے یا برسوں کی کوشش کے بعد بھی منزل دور دکھائی دے، تب ہماری سوچ فیصلہ کرتی ہے کہ ہم ٹوٹیں گے یا خود کو دوبارہ تعمیر کریں گے۔
ایک شکست خوردہ ذہن کہتا ہے: "میں نہیں کرسکتا۔" ایک سیکھنے والا ذہن پوچھتا ہے: "مجھ سے کہاں غلطی ہوئی؟" یہی دونوں جملوں کے درمیان کامیابی اور ناکامی کا بہت بڑا فاصلہ چھپا ہوتا ہے۔ ناکامی بذاتِ خود انسان کو ناکام نہیں بناتی؛ بعض اوقات ناکامی کے بعد کوشش چھوڑ دینا انسان کو ناکام بناتا ہے۔
دنیا کے کامیاب لوگوں کی زندگیوں کو قریب سے دیکھیں تو کامیابی کی چمکتی ہوئی تصویر کے پیچھے ناکامیوں، مسترد کیے جانے، مالی مشکلات، غلط فیصلوں، تنقید اور طویل انتظار کی ایک پوری داستان موجود ہوتی ہے۔ ایک اچھا مصنف اپنی پہلی تحریر سے بڑا نام نہیں بنتا، ایک بہترین کھلاڑی ایک دن کی مشق سے عالمی سطح تک نہیں پہنچتا اور ایک کامیاب کاروبار صرف ایک اچھے خیال سے نہیں بنتا۔ کامیابی اکثر برسوں کی ایسی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے جسے دنیا نے دیکھا ہی نہیں ہوتا۔
اسی لیے بڑے خواب دیکھنے والوں کو ایک اور چیز سیکھنی چاہیے: ناکامی کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا۔ اگر آپ کے پاس صرف منصوبہ "اے" ہے تو ایک رکاوٹ پوری کہانی روک سکتی ہے، لیکن اگر آپ نے متبادل راستے بھی سوچ رکھے ہیں تو ناکامی راستہ بند نہیں کرتی، صرف راستہ تبدیل کرتی ہے۔ کبھی کبھی منزل تک پہنچنے کے لیے وہ راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس کا ہم نے ابتدا میں تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
زندگی میں مسائل کسی ایک شخص کا مقدر نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کے مسائل مالی ہوتے ہیں، کسی کے تعلقات کے، کسی کے صحت کے، کسی کے کیریئر کے اور کسی کے اپنے اندرونی خوف کے۔ اس لیے دوسروں کی زندگی دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ صرف آپ ہی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ ہر کامیاب چہرے کے پیچھے ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جس کی پوری کہانی ہمیں معلوم نہیں ہوتی۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی جیت اور ہار کا یہی متوازن تصور دینا ہوگا۔ بچے کو صرف جیتنے پر شاباش دینا کافی نہیں؛ اسے ہارنے کے بعد سنبھلنا بھی سکھائیں۔ اسے کہیں کہ مقابلے میں کسی ایک نے آگے آنا تھا، آج وہ جیت گیا ہے، کل تم بھی جیت سکتے ہو۔ دوسروں کی کامیابی پر حسد کرنے کے بجائے تالیاں بجانا سکھائیں، کیونکہ جو دوسروں کی جیت کا احترام کرنا جانتا ہے، وہ اپنی ہار کو بھی عزت کے ساتھ قبول کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اور والدین کے لیے شاید سب سے اہم سبق یہ ہے کہ بچے کو ہر مقابلے میں فاتح بنانے کی کوشش نہ کریں؛ اسے ایسا انسان بنائیں جو شکست کے بعد بھی خود کو شکست خوردہ نہ سمجھے۔ اگر بچہ ہر ناکامی کو اپنی قابلیت کا فیصلہ سمجھنے لگے گا تو وہ خطرہ مول لینا، نئے تجربے کرنا اور بڑے خواب دیکھنا چھوڑ دے گا۔ لیکن اگر وہ یہ سیکھ لے کہ "ناکامی میرے سفر کا ایک مرحلہ ہے، میری شناخت نہیں" تو اس کے اندر دوبارہ اٹھنے کی طاقت پیدا ہوگی۔
جیت آئے تو شکر کریں، مگر غرور نہ کریں۔ ہار آئے تو سبق لیں، مگر مایوس نہ ہوں۔ کامیابی ملے تو اگلی منزل تلاش کریں اور ناکامی آئے تو پچھلی غلطی تلاش کریں۔ دونوں صورتوں میں سفر جاری رہنا چاہیے۔
کیونکہ اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ آپ کتنی بار جیتے؛ اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ آپ کتنی بار گرے، کتنی بار خود کو سنبھالا اور ہر بار پہلے سے بہتر انسان بن کر دوبارہ میدان میں اترے۔
آخرکار زندگی کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے:
جیت آپ کو خوشی دیتی ہے،
ہار آپ کو سمجھ دیتی ہے،
اور مسلسل کوشش آپ کو منزل تک لے جاتی ہے۔
اس لیے ہار سے مت ڈریے۔
کبھی کبھی شکست صرف یہ بتانے آتی ہے کہ اگلی جیت کے لیے آپ کو کیا سیکھنا باقی ہے۔
(تعلیم پاکستان)

#تعلیم

19/08/2026

AI Enabled Educators (Batch-19)
مصنوعی ذہانت کی تین روزہ آن لائن ٹیچرز ٹریننگ
فیس صرف 1000روپے
رجسٹریشن کے لیے وٹس ایپ 03168555022@

بچے، موبائل اور ٹی وی: مسئلہ اسکرین نہیں، اس کا بے قابو استعمال ہےآج کے بچے کے ہاتھ میں موبائل آنا تقریباً ناگزیر ہے، لی...
19/08/2026

بچے، موبائل اور ٹی وی: مسئلہ اسکرین نہیں، اس کا بے قابو استعمال ہے

آج کے بچے کے ہاتھ میں موبائل آنا تقریباً ناگزیر ہے، لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ بچے کو موبائل دیا جائے یا نہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ اسے کب، کتنا، کیوں اور کس نگرانی میں استعمال کرنے دیا جائے۔ جدید تحقیق اور عالمی رہنما اصول یہ واضح کرتے ہیں کہ ابتدائی عمر میں بچے کے دماغ اور جسم کی نشوونما کے لیے حقیقی دنیا کا کھیل، حرکت، نیند، گفتگو اور والدین کے ساتھ براہِ راست تعلق اسکرین سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
خصوصاً دو سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکرین کو معمول بنانا مناسب نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ایک سال کے بچوں کے لیے بیٹھ کر اسکرین دیکھنے کا وقت تجویز نہیں کیا جاتا، جبکہ دو سال کی عمر میں بھی ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور کم ہو تو بہتر ہے۔ تین سے چار سال کے بچوں کے لیے بھی مجموعی غیر متحرک اسکرین وقت ایک گھنٹے روزانہ تک محدود رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پانچ سال کے بعد بچے کو صرف دس منٹ موبائل دکھانے سے زیادہ وقت لازماً نقصان دہ یا خطرناک ہوجاتا ہے۔ ایسی کوئی ایک جادوئی حد نہیں جو ہر بچے پر یکساں لاگو ہو۔ بچے کی عمر، نیند، جسمانی سرگرمی، اسکرین کا مقصد، مواد، خاندان کے معمولات اور والدین کی نگرانی سب اہم ہیں۔ اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ اسکرین کھیل، نیند، پڑھنے، خاندان کے ساتھ گفتگو اور حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ نہ لے۔
ایک اور عام دعویٰ ہے کہ موبائل یا ٹی وی آٹزم پیدا کردیتا ہے۔ موجودہ شواہد اس قدر سادہ نتیجے کی اجازت نہیں دیتے۔ بعض مطالعات میں زیادہ اسکرین استعمال اور آٹزم کے درمیان تعلق ضرور ملا ہے، لیکن بڑی سائنسی جائزہ کاری میں شواہد کو محدود اور تعلق کو بنیادی طور پر مشاہداتی قرار دیا گیا ہے؛ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ موبائل دیکھنے سے بچہ لازماً آٹزم کا شکار ہوجاتا ہے۔
البتہ ایک بات بہت اہم ہے: اگر بچہ گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھا رہے تو وہ اسی وقت میں کیا کھو رہا ہے؟ وہ زمین پر کھیلنے کا وقت کھو رہا ہے، والدین سے گفتگو کا وقت کم ہورہا ہے، کتاب دیکھنے، کہانی سننے، سوال پوچھنے، چیزیں چھونے، بنانے اور حقیقی لوگوں کے ساتھ میل جول کا موقع کم ہورہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کو صرف اسکرین کے نقصانات نہیں، بلکہ اسکرین کے بدلے دی جانے والی سرگرمیوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
چھوٹے بچے کو موبائل دے کر کھانا کھلانا بھی بظاہر آسان حل ہے، مگر آہستہ آہستہ بچہ یہ سیکھ سکتا ہے کہ کھانا موبائل کے بغیر مزے سے نہیں کھایا جاسکتا۔ اس کے بجائے کھانے کے وقت گفتگو کریں، بچے کو خاندان کا حصہ بنائیں، چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھیں، کہانی سنائیں یا اس کے ساتھ بیٹھ کر کھائیں۔ بچے کو کھانا کھلانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ کھانے کے دوران انسانوں سے جڑنا بھی سیکھے۔
اگر بچہ موبائل کے لیے ضد کرتا ہے تو اچانک موبائل چھین کر جنگ شروع کرنے کے بجائے گھر میں ایک واضح اسکرین معمول بنائیں۔ مثلاً پہلے سے طے ہو کہ کب اسکرین استعمال ہوگی، کتنی دیر ہوگی اور وقت مکمل ہونے کے بعد کیا ہوگا۔ والدین خود بھی اگر ہر چند منٹ بعد فون چیک کرتے رہیں تو بچے کو صرف نصیحت کرکے قائل کرنا مشکل ہوگا۔ بچے ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارے معمولات کی نقل کرتے ہیں۔
اسکرین کے متبادل بھی دلچسپ ہونے چاہییں۔ باہر کھیلنا، سائیکل چلانا، تیرنا، دوڑنا، پینٹنگ، تعمیراتی کھلونے، پہیلیاں، کتابیں، کہانیاں، پودوں کی دیکھ بھال، گھر کے چھوٹے کام، ڈرائنگ اور خاندان کے ساتھ کھیل—یہ سب بچے کے لیے صرف وقت گزارنے کی سرگرمیاں نہیں بلکہ سیکھنے کے مواقع ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت بھی ابتدائی عمر میں جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور غیر اسکرینی سرگرمیوں مثلاً پڑھنے، کہانی سنانے اور گانے کو اہم قرار دیتا ہے۔
اور سب سے اہم بات: اسکرین کو دشمن نہ بنائیں، اسے آلہ سمجھیں۔ اچھا تعلیمی مواد، والدین کے ساتھ مشترکہ دیکھنا اور عمر کے مطابق محدود استعمال ایک بات ہے؛ بچے کو خاموش رکھنے کے لیے گھنٹوں موبائل پکڑا دینا بالکل دوسری بات۔
بچے کا بچپن صرف اس لیے اسکرین کے حوالے نہ کریں کہ موبائل چند منٹ کے لیے اسے خاموش کر دیتا ہے۔ اسے شور بھی کرنے دیں، سوال بھی کرنے دیں، چیزیں خراب بھی کرنے دیں، باہر کھیلنے دیں، مٹی میں ہاتھ بھی ڈالنے دیں اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر بے مقصد باتیں بھی کرنے دیں۔
کیونکہ بچے کو صرف اسکرین چلانا نہیں، زندگی جینا سیکھنا ہے۔
موبائل بچے کا سہولت کار ہو،
بچپن کا متبادل نہیں۔
(تعلیم پاکستان)

#تعلیم

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when تعلیم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category