20/03/2026
Chand Raat Mubarak
pg to matric
20/03/2026
Chand Raat Mubarak
17/03/2026
آئے روز سکولوں کا بند ہونا اب معمول بنتا جا رہا ہے لیکن اس موقع پر جب میٹرک بورڈ کے امتحان کی ڈیٹ شیٹ جاری ہو چکی ہے نویں، دسویں کے سٹوڈنٹس کو زیادہ توجہ اور رہنمائ کی ضرورت تھی سکولوں سے انکو چھٹیاں کر دی گئیں ہیں۔ سٹوڈنٹس اور اساتذہ کی سارے سال کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ ہے اس کے علاوہ ایلیمنٹری لیول کی بے ترتیب ڈیٹ شیٹ نے بھی امتحانی نظام کو مزاق ںنا دیا ہے
تعلیمی کیلینڈر کی کوئ وقعت نہیں ، ہنگامی صورت حال آنے پر تعلیمی نظام کو کیسے چلانا ہے کوئ پلان نہیں ، کوئ تیاری نہیں۔ ابھی تو اس بات کی بھی غیر یقینی صورت حال ہے کہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کب ہو گا ، نئی کتب کب بچوں کو ملیں گی ؟ نیا تعلیمی سال کب باقاعدہ شروع ہو سکے گا؟ اور اپھر اچانک گرمی کی لہر آئے گی اور پھر سکول بند ۔
یعنی کہ ہمارے ہاں انتہائ غیر اہم چیز جس کو کسی بھی وقت بند کیا جا سکتا ہے اور جس کو دیر سویر ہونے کی کوئ پریشانی نہیں وہ تعلیم ہے
17/03/2026
ٹوٹل فزیکل رسپانس (TPR)
انگلش میڈیم سکول کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کو انگریزی زبان میں تعلیم فراہم کریں۔ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لٸے سکول پرنسپل وقتا” فوقتا“ ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں اور بعض سکولوں میں کٸی جگہوں پر ہدایات بھی لکھی جاتی ہیں جہاں لوکل زبان پر پابندی عاٸد کی جاتی ہے لیکن کچھ دن بعد حالات جوں کے تو رہتے ہیں اور اساتذہ لوکل یا ذیادہ سے ذیادہ اردو میں پڑھاتے ہیں۔
ایسا اس وقت مشکل بن جاتا ہے جب بات چھوٹے بچوں کی آجاتی ہے۔ اساتذہ کا خیال ہوتا ہے کہ چونکہ بچے مادری زبان میں بات سمجھ سکتے ہیں اس لٸے وہ چاہ کر بھی انگلش میں بات نہیں کر سکتے۔
اس مسٸلے کا حل Dr. James Asher نے 1960 کی دہاٸی میں اپنی مشہور زمانہ طریقہ تدریس (TPR) کے ذریعے دریافت کیا۔
اس طریقہ تدریس کی بنیاد ایک ریسرچ کے بعد سامنے آٸی جس میں بتایا گیا کہ بچے کم عمری میں ہی دوسری زبان آسانی کے ساتھ سیکھتے ہیں۔
عمومی طور پر ماہرین نفسیات 8 سال سے کم عمر کو دوسری زبان سیکھنے کے لٸے بہتر تصور کرتے ہیں۔ ایک حالیہ ریسرچ بچوں کی زبان سیکھنے کی عمر 3 سال بتاتی ہے۔ حاصل کلام یہ کہ بچے کم عمر سے ہی دوسری زبان سیکھنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر جیمز جو کیلیفورنیا یونیورسٹی میں نفسیات کے استاد تھے, نے دوسری زبان سیکھنے کے حوالے سے ایک ایسا طریقہ تدریس متعارف کیا جس میں جسم کی حرکات و سکنات کا استعمال کرتے ہوۓ اساتذہ بچوں کو ٹارگٹ زبان میں ہدایات جاری کرتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر بچے استاد کی باڈی لینگویج کو سمجھتے ہوۓ نہ صرف ہدایات کو سمجھتے ہیں بلکہ ان ہدایات پر عمل بھی کرتے ہیں۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ہم گفتگو کے دوران الفاظ کے برابر جسمانی حرکات سے بھی معنی اخذ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم اپنے گھر کی دوسری منزل پر کھڑے روڈ پر دو افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو تو نہیں سن سکتے لیکن دونوں کے حرکات و سکنات سے کافی حد تک سمجھ سکتے ہیں کہ گفتگو کی نوعیت کیا ہوسکتی ہے۔
اس طریقہ تدریس میں مختلف قسم کی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کو ٹارگٹ زبان آسانی کے ساتھ سکھاٸی جاسکتی ہے۔ جس میں ایک طریقہ Story Telling کابھی ہے۔ اس سرگرمی میں استاد Mimes یعنی چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کی مدد سے بچوں کو کہانی سناتا ہے اور ساتھ میں ٹارگٹ زبان میں الفاظ بھی دہراۓ جاتے ہیں۔
پریکٹس سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر ایک استاد صرف 3 سے 4 ماہ بچوں کے ساتھ یہ پریکٹس کرے تو بچے اس ٹیچر کی ساری باتیں ٹارگٹ زبان (انگریزی) میں سمجھنے کے قابل ہوں گے اور بعد میں اگر استاد بغیر جسمانی حرکات کے بھی بات کرے تو بچے ان کی بات نہ صرف سمجھ سکیں گے بلکہ بولنے کے قابل بھی ہوں گے۔
تصور کیجٸے ایک بچہ جو آپ کے سکول میں اس سال داخل ہوا ہے اور وہ 4 ماہ بعد انگریزی میں بات کرسکتا ہے تو آپ کے سکول کی رپیوٹیشن کہاں سے کہاں پہنچ سکتی ہے۔
اس طریقہ تدریس میں سرگرمیوں کی لسٹ آپ کو گوگل سے باآسانی مل جاۓگی۔
مزمل شاہ
01/03/2026
🔍 سیکھنے میں دشواری کا شکار بچوں کو سنبھالنے کے بہترین طریقے (ایک استاد کے دل سے)
ہر بچہ کامیاب ہونا چاہتا ہے۔
ہر بچہ خود کو ذہین کہلوانا چاہتا ہے۔
لیکن ہر بچہ ایک ہی طریقے سے نہیں سیکھتا، اور یہ بالکل ٹھیک ہے۔ 💛
بطور اساتذہ، ہمارا کام کسی بچے پر "سست" ہونے کا لیبل لگانا نہیں ہے۔
بلکہ ہمارا کام گہرائی سے دیکھنا، بہتر سمجھنا اور بہتر طریقے سے پڑھانا ہے۔
یہاں ایک انسانی ہمدردی پر مبنی طریقہ کار دیا گیا ہے:
🎯 فیصلے سے پہلے غور کریں
کبھی کبھی جسے ہم "لاپرواہ" بچہ سمجھتے ہیں، وہ اصل میں الجھن کا شکار ہوتا ہے۔
کبھی کبھی جسے ہم "خاموش" بچہ سمجھتے ہیں، وہ اصل میں دباؤ میں ہوتا ہے۔
غور کریں: کیا انہیں پڑھنے میں مشکل ہے؟ یادداشت کا مسئلہ ہے؟ توجہ کی کمی ہے یا بات سمجھنے میں دشواری؟
وقت پر بات کو سمجھ لینا سب کچھ بدل سکتا ہے۔
🧩 ان کے انداز میں سکھائیں
ہر دماغ صرف "چاک اور بلیک بورڈ" سے نہیں سیکھتا۔
✨ کچھ دیکھ کر سیکھتے ہیں – تصاویر، چارٹس اور رنگوں کے ذریعے۔
✨ کچھ سن کر سیکھتے ہیں – دہرا کر، لے اور بحث و مباحثے کے ذریعے۔
✨ کچھ کر کے سیکھتے ہیں – حرکت، عملی کام اور ڈرامائی انداز کے ذریعے۔
جب ہم اپنا طریقہ بدلتے ہیں، تو اکثر بچے کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔
🛠 کام کو آسان بنائیں
ہدایات دینے میں جلدی نہ کریں۔ کام کو چھوٹے اور واضح حصوں میں بانٹ دیں۔
پہلا قدم بتائیں، پھر رکیں۔
اگلا قدم بتائیں، پھر حوصلہ افزائی کریں۔
چھوٹی چھوٹی فتوحات سے ہی اعتماد بڑھتا ہے۔
⏳ انہیں بغیر کسی شرمندگی کے وقت دیں
کچھ بچوں کو بات سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔
ان کے ساتھ جلد بازی نہ کریں۔
ان کے جملے خود مکمل نہ کریں۔
ان کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔
ترقی کوئی دوڑ نہیں ہے۔
🎙 محفوظ ماحول فراہم کریں
کچھ بچے خاموش مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔
انہیں بولنے دیں۔
انہیں سوال کرنے دیں۔
انہیں غلطی کرنے کا حوصلہ دیں تاکہ وہ محفوظ محسوس کریں۔
جو بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے، وہ دوبارہ کوشش ضرور کرتا ہے۔
👫 مقابلے کے بجائے مددگار ساتھیوں کا انتخاب کریں
انہیں صبر کرنے والے ہم جماعتوں کے ساتھ بٹھائیں۔
نقل کے لیے نہیں — بلکہ سہارے کے لیے۔
جب بچہ خود کو کسی کے فیصلے کے خوف سے آزاد پاتا ہے، تو سیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
📱 مددگار آلات کا استعمال
آڈیو بکس (سماعت)، بول کر لکھنے والے سافٹ ویئر، اور تعلیمی ایپس کا استعمال کریں۔
ٹیکنالوجی کا استعمال نقل نہیں — بلکہ ایک سہارا ہے۔
💡 لچک دکھائیں، غصہ نہیں
اگر وہ آج نہیں سمجھ سکے، تو کل دوبارہ کوشش کریں — ایک نئے طریقے سے۔
سبق کو کھیل بنا دیں۔
کوئی کہانی سنائیں۔
روزمرہ زندگی کی مثالیں دیں۔
کبھی کبھی بچے کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ہمارے طریقے کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
❤️ سب سے اہم بات: ان پر یقین رکھیں
سیکھنے میں دشواری کا شکار بچے اکثر خود کو دوسروں سے "کمتر" سمجھتے ہیں۔
آپ کے الفاظ یا تو اس ڈر کو سچ ثابت کر سکتے ہیں — یا اسے مٹا سکتے ہیں۔
ایک استاد کا یقین کسی بچے کا مستقبل بدل سکتا ہے۔
👩🏫 اساتذہ کرام! مشکل کا شکار طلباء کی مدد کے لیے آپ کا تجربہ کیا کہتا ہے۔آئیں اپ مجھے بھی سیکھائے ۔
18/02/2026
EFA Schools held a successful MoU briefing session, taking another positive step toward growth and collaboration.
Through strong partnerships, we continue to improve the quality of education for our students.
Together, we move forward toward a brighter and stronger future.
16/02/2026
Every child carries wings — we help them unfold.
05/02/2026
سر جی! قسم لے لیں، مجھے گھر پر یاد تھا... ابھی بھول گیا ہے!" 😰
کیا آپ نے کبھی بچے کا یہ جملہ سنا ہے؟
یقیناً سنا ہوگا۔ اور اس کے جواب میں اکثر استاد یا والدین کیا کہتے ہیں؟
"بہانے مت بناؤ! تم نالائق ہو، تم پڑھتے نہیں ہو!"
آج میں آپ کو ایک "خوفناک سچ" بتانے لگا ہوں: وہ بچہ جھوٹ نہیں بول رہا!
اسے واقعی یاد تھا، لیکن آپ کے "ڈر" نے اس کے دماغ کا فیوز اڑا دیا۔
🧠 یہ بھولنا نہیں، "دماغ کا لاک" ہونا ہے:
سائنس کہتی ہے کہ جب انسان کو شدید خوف (Fear) محسوس ہوتا ہے—چاہے وہ استاد کی چھڑی کا ہو یا باپ کی ڈانٹ کا—تو اس کے دماغ میں ایک ہارمون "کورٹیسول" (Cortisol) کا سیلاب آ جاتا ہے۔
یہ ہارمون دماغ کے اس حصے (Hippocampus) کو "سن" (Block) کر دیتا ہے جہاں یاد کیا ہوا سبق محفوظ ہوتا ہے۔
آسان الفاظ میں سمجھیں:
بچے کا دماغ اس وقت "بچاؤ" (Survival Mode) پر چلا جاتا ہے۔ اس کا دماغ سبق نہیں دہراتا، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ "اب مار پڑے گی، بچوں گا کیسے؟"
🔴 ایک لمحے کا تجربہ:
اگر آپ کے سر پر کوئی پستول رکھ دے اور پوچھے "2 جمع 2 کیا ہوتا ہے؟"
تو شاید گھبراہٹ میں آپ وہ بھی نہ بتا پائیں۔
یہی حال اس چھوٹے سے بچے کا ہوتا ہے جب کلاس میں استاد گرجتا ہے یا گھر میں والدین آنکھیں نکالتے ہیں۔
قصور وار کون؟
وہ بچہ نالائق نہیں ہے، ہمارا "ماحول" دہشت گرد ہے۔
جس بچے کو پیار سے گود میں بٹھا کر پڑھایا جائے، وہ مشکل سے مشکل سبق یاد کر لیتا ہے۔
جس بچے کو تھپڑ دکھا کر پڑھایا جائے، وہ اپنا نام بھی بھول سکتا ہے۔
✅ حل کیا ہے؟
اگلی بار جب بچہ کہے "مجھے بھول گیا ہے"، تو اسے ڈانٹیں نہیں۔
اسے پانی پلائیں، کندھے پر ہاتھ رکھیں، مسکرائیں اور کہیں: "کوئی بات نہیں بیٹا! لمبا سانس لو، آرام سے سوچو، میں یہیں ہوں۔"
یقین مانیں! خوف ختم ہوتے ہی اسے وہ بھولا ہوا سبق فوراً یاد آ جائے گا۔
"علم خوف میں نہیں، سکون میں پروان چڑھتا ہے۔"
05/02/2026
Education teaches us to raise our voices for justice. Allama IQBAL Grammar School Schools stand with Kashmir today and always.
01/02/2026
زندگی آسان نہیں مشکل ہے۔ اور یہ دنیا کی بڑی سچائیوں میں سے ایک بڑی سچائی ہے۔ ہر انسان کی زندگی مشکلات اور مسائل سے بھرپور ہے۔ تاہم ہر انسان کی مشکلات اور مسائل مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ ہر انسان منفرد ہے۔
مشکلات یا مسائل کے پیش آنے پر واویلا مچانا منفی رویہ ہے۔ جب کہ اُن مشکلات سے نجات پانے اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا مثبت رویہ ہے۔
مشکلات سے نجات اور مسائل کو حل کرنے کا واحد ہتھیار اپنی شخصیت میں نظم و ضبط (discipline) پیدا کرنا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی ایک منظم انداز (disciplined way) میں تربیت کریں تاکہ وہ زندگی میں پیش آنے والی مشکلات اور مسائل کا بہادری سے سامنا کر سکیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی سمجھیں اور بچوں کو بھی سمجھائیں کہ مشکلات اور مسائل ہمیں ذہنی و روحانی نشوونما کےلیے ضروری ہیں۔ بچوں کو بتائیں کہ جیسے ریاضی کے مشکل سوالات اُنہیں ذہین بنانے کےلیے کروائے جاتے ہیں ویسے ہی زندگی کے مسائل انسان کو ذہین بناتے ہیں۔ لہٰذا مشکلات اور مسائل سے کنارہ کشی کرنا کوئی ذہانت نہیں بلکہ نفسیاتی کمزوری ہے۔ اسی لیے تو کچھ لوگ مشکل پڑنے پر یا مسائل پیدا ہونے پر نشہ کرتے ہیں یا راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ یہ اصل میں ایک نفسیاتی مسئلہ ہے جو عام زندگی کے مسائل سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔
حِکمت یہی ہے کہ ہم مسائل کے ساتھ جینا سیکھیں کیونکہ دنیا کے ذہین لوگوں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔ بڑے لوگوں کی زندگی کو پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی زندگی مسائل اور مشکلات سے بھرپور تھی۔ تاہم اُنہوں نے مشکلات کو اپنے لیے ترقی کا زِینہ بنایا جیسا کہ امریکی صدر بنجمَین فرَینکلن لکھتا ہے، ”جو چیز مجھے دُکھ دیتی ہے، وُہی تو مجھے سکھاتی ہے۔“
ماخوذ از کتاب : The Road Less Travelled
مصنف: M. Scott Peck
شفقت علی (ہولِسٹِک ایجوکیٹر)
#تعلیم
01/02/2026
اسکول فیس کی پینڈنگ (Pending): مسائل، والدین کی نفسیات اور اس کا مستقل حل..
پرائیویٹ اسکولز کے منتظمین کے لیے "فیسوں کی پینڈنگ" (بقایا جات) ہمیشہ سے ایک دردِ سر رہا ہے۔
یہ صرف مالی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اسکول کے نظم و ضبط اور معیارِ تعلیم پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک ریسرچ اور مشاہدے کے مطابق، فیس نہ دینے والے والدین کو ہم ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانک سکتے۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں والدین کی دو بنیادی اقسام کو سمجھنا ہوگا۔
1. پہلی قسم: مجبور اور سفید پوش والدین (رحم دلی کے مستحق)
یہ وہ لوگ ہیں جو واقعی کسی وقتی پریشانی، کاروباری نقصان، بیماری یا گھریلو ایمرجنسی کا شکار ہوتے ہیں۔
ان کی نیت فیس نہ دینے کی نہیں ہوتی، بلکہ حالات ان کے ہاتھ باندھ دیتے ہیں۔
ہمارا رویہ: ایسے والدین کے ساتھ "ہمدردی اور رعایت" کا رویہ اپنانا چاہیے۔ انہیں ٹائم دیں، اگر ممکن ہو تو فیس میں ڈسکاؤنٹ دیں یا قسطیں کر دیں۔
ثواب کا پہلو: ان کے بچوں کو کلاس سے نہ نکالنا، انہیں ذلیل نہ کرنا اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا ایک بہترین نیکی اور صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی مدد کرنے والوں کے رزق میں برکت ڈالتا ہے۔
2. دوسری قسم: عادی مجرم اور ٹال مٹول کرنے والے (سختی کے مستحق)
یہ وہ طبقہ ہے جو خطرناک ہے۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ لوگ مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں (بزنس مین یا اچھی جاب والے)، لیکن ان کی "عادت اور نفسیات" بن چکی ہوتی ہے کہ جب تک اسکول کی طرف سے انتہائی پریشر نہ ڈالا جائے، فیس ادا نہیں کرنی۔ یہ جان بوجھ کر 4 سے 6 ماہ فیس لیٹ کرتے ہیں۔
کچھ اس سے بھی زیادہ
نقصان: یہ لوگ اسکول کی معیشت (Economy) کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ یہ نہ صرف سسٹم خراب کرتے ہیں بلکہ دوسرے والدین کے لیے بھی منفی مثال بنتے ہیں۔
ہمارا رویہ: ایسے لوگوں کے ساتھ "زیرو ٹالرینس" (Zero Tolerance) کی پالیسی اپنائیں۔
ان سے سختی سے پیش آئیں،
بروقت تقاضا کریں اور اگر پھر بھی باز نہ آئیں تو ایسے والدین سے جان چھڑا لینا ہی بہتر ہے۔
کیونکہ یہ آپ کے پورے اسکول کا ماحول خراب کر دیں گے۔
پینڈنگ فیس کی وصولی (Recovery) کیسے کی جائے؟
اگر فیسیں جمع ہو چکی ہیں تو ان کی وصولی کے لیے درج ذیل حکمت عملی اپنائیں:
پرسنل میٹنگ (One-on-One Meeting): میسجز کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ والدین کو آفس بلائیں اور ان کے سامنے لیجر (Ledger) رکھ کر دو ٹوک بات کریں۔
اقساط کی سہولت (Installments): اگر رقم بہت زیادہ ہو گئی ہے تو اسے دو یا تین اقساط میں تقسیم کر دیں اور تحریری وعدہ لیں، لیکن کرنٹ فیس کے ساتھ پچھلی ایک قسط لازمی وصول کریں۔
رزلٹ اور سرٹیفکیٹ روکنا:
یہ قدم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ امتحانات کے نتائج یا کسی بھی قسم کے سرٹیفکیٹ کو کلیئرنس (Clearance) سے مشروط کر دیں۔
اسٹوڈنٹ کی سرگرمیوں کی معطلی:
عادی نادہندگان کے بچوں کو غیر نصابی سرگرمیوں (Trips, Functions) سے عارضی طور پر روکنا ایک دباؤ کے طور پر کام کرتا ہے (اگرچہ یہ سخت ہے مگر عادی لوگوں کے لیے ضروری ہے)۔
احتیاطی تدابیر: ادھار سے کیسے بچا جائے؟ (Prevention)
"علاج سے بہتر پرہیز ہے۔
" کوشش کریں کہ نوبت یہاں تک پہنچے ہی نہ۔ اس کے لیے یہ اصول اپنائیں:
ایڈوانس فیس پالیسی: نئے داخلوں کے لیے اصول بنائیں کہ فیس ہمیشہ مہینے کے شروع میں (1 سے 10 تاریخ تک) ایڈوانس لی جائے گی۔
داخلے کے وقت تحریری معاہدہ:
داخلہ فارم پر واضح لکھیں کہ "دو ماہ مسلسل فیس نہ آنے پر نام خارج کر دیا جائے گا" اور والدین سے دستخط کروائیں۔
لیٹ فیس جرمانہ (Fine System): جرمانہ آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک "نفسیاتی ڈر" (Deterrent) ہے۔ عادی لیٹ کرنے والے جرمانے سے بچنے کے لیے وقت پر فیس دیں گے۔
مسلسل رابطہ: 10 تاریخ گزرتے ہی سسٹم کے ذریعے آٹومیٹک ریمائنڈر (SMS/Call) جانا شروع ہو جانا چاہیے۔ خاموشی اختیار کرنے سے والدین سمجھتے ہیں کہ اسکول کو ضرورت نہیں ہے۔
نتیجہ:
اسکول چلانا ایک مقدس پیشہ ہے لیکن یہ ایک نظام کے تحت ہی چل سکتا ہے۔ مجبور کی مدد کریں، لیکن ظالم (عادی نادہندہ) کا ہاتھ روکیں تاکہ آپ کا ادارہ مضبوط رہے اور تعلیم کا سلسلہ نہ رکنے پائے۔
"
01/02/2026
سکول کے انتظامی مسائل ، ان مسائل کو دیکھیں ، غور کریں ، آپ کے سکول میں کونسے مسائل آپ کو پیش آ رہے ہیں !!!
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 08:00 |
| Saturday | 08:00 - 08:00 |