Thebrooksideschool

Thebrooksideschool

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Thebrooksideschool, Education, House # 119E, 69 Halal Park, Akir Road Shad Bagh Lahore, Lahore.

25/02/2024

چند برس پرانی بات ہے‘ ایک امریکی نو مسلم نے قرآن مجید سے حقوق العباد سے متعلق اللہ تعالیٰ کے 100 احکامات جمع کیے‘ یہ احکامات پوری دنیا میں پھیلے مسلم اسکالرز کو بھجوائے اور پھر ان سے نہایت معصومانہ سا سوال کیا ’’ہم مسلمان اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر عمل کیوں نہیں کرتے‘‘ مسلم اسکالرز کے پاس اس معصومانہ سوال کا کوئی جواب نہیں تھا.

مجھے چند دن قبل ایک دوست نے یہ احکامات ’’فارورڈ‘‘ کر دیے‘ میں نے پڑھے اور میں بڑی دیر تک اپنے آپ سے پوچھتا رہا ’’ہمارے رب نے ہمیں قرآن مجید کے ذریعے یہ احکامات دے رکھے ہیں‘ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر پورا اترتے ہیں‘‘ میں یہ احکامات سو نمبر کا پرچہ سمجھ کرترجمہ کر رہا ہوں اور میں یہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں‘ آپ پہلے یہ پرچہ حل کریں‘ پھر خود اس کی مارکنگ کریں‘ پھر اپنے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ کریں اور آخر میں یہ سوچیں ہم قیامت کے دن کیا منہ لے کر اپنے رب کے سامنے پیش ہوں گے‘ آپ کا یہ جواب فیصلہ کرے گا ہم کتنے مسلمان ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا!

1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو
2 غصے کو قابو میں رکھو
3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو‘
4 تکبر نہ کرو‘
5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو
6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘
7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو
8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو‘
9 والدین کی خدمت کیا کرو‘
10 منہ سے والدین کی توہین کا ایک لفظ نہ نکالو‘
11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو‘
12 حساب لکھ لیا کرو‘
13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو‘
14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو‘
15 سود نہ کھاؤ‘
16 رشوت نہ لو‘
17 وعدہ نہ توڑو‘
18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو‘
19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو‘
20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو‘
21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو‘
22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو
23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں,
24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو‘
25یتیموں کی حفاظت کرو‘
26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو,
27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ‘
28 بدگمانی سے بچو‘
29 غیبت نہ کرو‘
30 جاسوسی نہ کرو‘
31 خیرات کیا کرو‘
32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو‘
33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو‘
34 فضول خرچی نہ کیا کرو‘
35 خیرات کر کے جتلایا نہ کرو‘
36 مہمانوں کی عزت کیاکرو‘
37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو‘
38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو‘
39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو‘
40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں‘
41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو‘
42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ‘
43 مذہب میں کوئی سختی نہیں
44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ‘
45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو‘
46 طلاق کی صورت میں مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو دودھ پلائیں دو سال اور اس مدت کا نان نفقہ شوھر ادا کرے - عام حالات میں دودھ پلانے کی کوئی مدت مقرر نہیں جب تک آتا ھے بچہ پی سکتا ھے
47 جنسی بدکاری سے بچو‘
48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو,
49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو‘
50 نفاق سے بچو‘
51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو‘
52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے,
53 منتخب خونی رشتوں میں شادی نہ کرو
54 مرد کو خاندان کا سربراہ ہونا چاہیے‘
55 بخیل نہ بنو‘
56 حسد نہ کرو,
57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو‘
58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو‘
59 گناہ اور شدت میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو‘
60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو‘
61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی‘
62 صحیح راستے پر رہو‘
63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو‘
64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو‘
65 مردہ جانور‘ خون اور سور کا گوشت حرام ہے‘
66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو‘
67 جواء نہ کھیلو‘
68 ہیرا پھیری نہ کرو‘
69 چغلی نہ کھاؤ،
70 کھاؤ اور پیو لیکن اصراف نہ کرو‘
71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو‘
72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو‘ انھیں مدد دو‘
73 طہارت قائم رکھو‘
74 اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہو‘
75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے‘
76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ‘
77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا‘
78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو‘
79 جس کے بارے میں علم نہ ہو اس کا پیچھا نہ کرو‘
80 پوشیدہ چیزوں سے دور رہا کرو (کھوج نہ لگاؤ)‘
81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو‘
82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے‘
83 زمین پرعاجزی کے ساتھ چلو‘
84 دنیا سے اپنے حصے کا کام مکمل کر کے جاؤ‘
85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو,
86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو‘
87 صحیح(سچ) کا ساتھ دو‘ غلط سے پرہیز کرو‘
88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو‘
89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں‘
90 اللہ شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے‘
91 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو‘
92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو‘
93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو‘
94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے‘
95 مذہب میں رہبانیت نہیں‘
96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے‘
97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ‘
98 خود کو لالچ سے بچاؤ‘
99_ اللہ سے معافی مانگو‘ یہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے
100 ’’جو شخص دست سوال دراز کرے اسے انکار نہ کرو‘‘۔

اللہ تعالیٰ کے یہ سو احکامات حقوق العباد ہیں‘ ہم جب تک سو نمبروں کے اس پرچے میں پاس نہیں ہوتے ہم اس وقت تک مسلمان ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کا قرب حاصل کر سکتے ہیں خواہ ہم پوری زندگی سجدے میں گزار دیں یا پھر خانہ کعبہ کی چوکھٹ پر جان دے دیں‘ آپ یہ پرچہ چل کریں‘ مارکنگ کریں اور اپنے گریڈز کا فیصلہ خود کر لیں۔

13/06/2023

گئے وقتوں میں اخروٹ کے درخت کی لکڑی سے منبر بنائے جاتے تھے کیوں کہ اس کی لکڑی مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔ اس پھل دار درخت کا سایہ بھی کافی گھنا ہوتا ہے ۔

دوسری طرف چنار کا درخت ہے جس سے پرانے زمانے میں دار (پھانسی گھاٹ) بنائے جاتے تھے۔ اس درخت پہ کوئی پھل نہیں لگتا اور نہ ہی خاصوں میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔

ایران کے مشہور ترک نژاد شاعر شہریارؔ نے ان دو درختوں کی آپسی بحث کو کیا ہی خوب شعری صنف میں ڈھالا ہے:

گفت با طعنه منبری به چنار:
سرفرازی چی میکنی؟ بی بار

منبر نے طعنہ بھرے لہجے میں چنار کے درخت سے کہا:
اے بے پھل کے درخت! کس زعم میں اپنی گردن اکڑائے کھڑے ہو؟

نه مگر ننگی ھر درختی تُو؟
کز شما ساختند چوبی دار؟

تمھیں نہیں لگتا کہ درختوں کی برادری میں تم باعث ننگ و بد نامی ہو ؟
کہ تم سے صرف پھانسی گھاٹ ہی بنائے جاتے ہیں.

پس بر آشفت آن درختِ دلیر
رُو به منبر چنین نمود اخطار گفت

اس دلیر درخت کو بہت غصہ آیا، اس نے منبر کی جانب اپنا رخ موڑ کے کہا،

گر منبرِ تُو فائدہ داشت
کارِ مردم نه می کشید به دار

اگر تمہارے منبر اتنے ہی فائدہ مند ہوتے تو لوگوں کو پھانسی سے جھولنے کی نوبت ہی نہ آتی.

حکایات دل نشین فارسی
سوز رومی

09/01/2023

پرسنیلٹی ڈیولیپمنٹ کی فیلڈ میں ایک کانسپٹ بہت معروف ہے جسے Minimalism کہا جاتا ہے،
یہ بڑا ہی دلچسپ ہے
اس کا معانی و مقصد یہ ہے کہ انسان روز مرہ زندگی میں کم سے کم سامان حیات کے ساتھ جینے کی اسکل حاصل کرے،

ماہرین کے مطابق ہر کامیاب انسان ذاتی زندگی میں Minimalist approach کے ساتھ ہی کوئی بڑا ہدف یا کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے،

کپڑوں کے دس دس جوڑوں کے بجائے دو سے چار جوڑوں پر اکتفا کرنا،
رہائش کے لئے لگژری ولاز کے بجائے سادہ اور عام سی رہائش گاہ میں قیام کرنا
سفر و حضر میں عام سی سواری کو ترجیح دینا وغیرہ

ماہرین کے نزدیک با مقصد انسان کے لیے لگژری لائف ایک بہت بڑا بوجھ ہے جس کو Maintain یا برقرار رکھنے میں پیسہ اور وقت برباد کرنا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ کسی برتر مقصد سے خود کو دور کر لے،

مزید یہ کہ انسان اپنی ذات پر سے غیر ضروری بوجھ کو جتنا زیادہ ہٹائے گا وہ اتنا ہی زیادہ مطمئن اور خوش رہے گا،

پھر فوائد کی ایک طوی ی ی ی ی ل فہرست ہے جو Minimalist انسان کو حاصل ہوتی ہے مثلاً

- پروڈکٹیویٹی (نفع بخشی)
- فریڈم
-مور اسپییس فار یورسیلف
-بہتر پلاننگ
- آسان زندگی
- کم ذہنی دباؤ
-برتر مقصد کے لیے خود کو وقف کرنا
- وقت کا بہترین استعمال کر پانا
وغیرہ وغیرہ

آپ کسی مغربی اسپیکر / مصنف کی TED TALK یا کتاب میں یہ تمام باتیں پڑھیں یا سنیں تو بظاہر محسوس ہوگا کہ کوئی بہت ہی جدید کانسپٹ ہے جس کی تعلیم دی جارہی ہے، اور زہن فوراً لفظ Minimalist کے فوائد پر قائل ہونا شروع ہو جائے گا،

حالانکہ تھوڑا سا بھی غور کریں تو ذہن میں جو اردو لفظ Minimalism کے متبادل کے طور پر سامنے آتا ہے وہ "قناعت" ہے،
ہم اور آپ جس دین کی تعلیم بچپن سے سنتے سنتے بڑے ہوئے ہیں اس میں قناعت سب سے بنیادی تصور ہے جو ایک مومن کی زندگی کی عملی تصویر ہے،

آپ کسی مسلمان کو Minimalism پر لمبا چوڑا لیکچر دینے کے بجائے صرف ایک لفظ "قناعت" کہہ دیں تو یہ لفظ اتنا جامع اور مکمّل ہے کہ اس کے بعد مزید کسی تفصیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی،

اب یہی بات بعض لوگ کسی انگریز اسپیکر سے اسٹائلش انگلش میں سننے کے لیے شیرٹن ہوٹل چلے جائیں گے اور سیشن کے لیے موٹی رقم بھی دے دیں گے،

باہر آ کر ایک لمبی سانس لے کر ساتھیوں سے کہیں گے گائے ز وی مسٹ بھی Minimalist ٹو بی سکسیس فل یو نو ❤️

جبکہ یہی بات جب عام سا کوئی دین دار بندہ سادہ سے دیسی لہجے میں کہہ دیں کہ بھائی قناعت اختیار کرو تو خیال آتا ہے یہ تو ہماری خوشیوں کا دشمن ہے :-)

11/10/2022

عصر کا وقت ہوگا (بعض روایات کے مطابق فجر کا وقت) نماز کے لیے صفیں درست ہو رہی ہوں گی تو اچانک حضرت عیسیٰ ؑ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر سفید مینار پر اتر آئیں گے‘ وہ زردرنگ کی دو چادروں میں ملبوس ہوں گے اور ان کے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے‘
ہمارا موضوع حضرت عیسیٰ ؑ ؑکادنیا میں تشریف لانے کے بعد عام لوگوں کے ساتھ پہلا مکالمہ ہے۔
حضرت عیسیٰ ؑ جامعہ امیہ میں موجود لوگوں کو حکم دیں گے ’’سیڑھی کا بندوبست کرو‘ میں مینار سے نیچے اترنا چاہتا ہوں‘‘ لوگ یہ مطالبہ سن کر ہنسیں گے اور عرض کریں گے ’’حضور آپ آسمان سے زمین پر تشریف لے آئے لیکن آپ کومینار سے اترنے کے لیے سیڑھی چاہیے‘ کیا یہ بات عجیب نہیں‘‘ حضرت عیسیٰ ؑ جواب دیں گے ’’میں اس وقت عالم اسباب میں کھڑا ہوں اور عالم اسباب میں آپ ہوں یا میں ہم سب اسباب کے محتاج ہیں‘‘

لوگ یہ سن کر سبحان اللّٰه ❤ سبحان اللّٰه کہیں گے‘ سیڑھی کا بندوبست کریں گے اور حضرت عیسیٰ ؑ زمین پر قدم رنجہ فرما دیں گے‘ امام محمد بن عبداللہ ؑ کی اقتداء میں سنت محمدی کے مطابق نماز ادا کریں گے اور دجال سے مقابلے کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔

میں نے جب کتابوں میں یہ وقعہ پڑھا تو عالم اسباب کی ساری تھیوری سمجھ آ گئی‘ہم مسلمان خوفناک حد تک ذہنی‘ نفسیاتی اور روحانی مغالطے کا شکار ہیں‘ ہم پوری زندگی روحانی معجزوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور اس انتظار میں یہ تک فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ کلیم اللّٰه تھے‘

وہ اپنے عصا سے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے تھے لیکن وہ بھی اپنی امت کے لیے عالم اسباب کے تقاضے نرم نہ کر سکے‘ حضرت عیسیٰ ؑ مُردوں کو زندہ کر دیتے تھے لیکن وہ اور ان کے ساتھی رومن ایمپائر کے اسباب کا مقابلہ نہ کر سکے
۔ اور نبی اکرمؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللّٰه تعالٰی کے آخری اور محبوب ترین نبی ہیں لیکن انھیں بھی عالم اسباب میں تلوار‘ گھوڑے‘ زرہ بکتر‘ اونٹ‘ پانی‘ خوراک اور لباس کا بندوبست کرنا پڑا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اپنا دفاع کرتے رہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جنگیں لڑتے رہے اور آپ(ص) بھی پیٹ پر دو دو پتھر باندھتے رہے‘ آپ(ص) کو بھی ساتھیوں‘ دوستوں‘ بھائیوں‘ ہجرتوں‘ معاہدوں، اور معاش کی ضرورت پڑتی رہی‘ آپ (ص) بھی تجارت بھی فرماتے رہے‘

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر آباد کرتے رہے‘
۔ آپ کسی دن فرقے اور مسلک کی عینک اتار کر سیرت کا مطالعہ کیجیے‘ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ
ہمارے پاک رسولؐ نے پوری زندگی کوئ’سب اسٹینڈرڈ، چیز استعمال نہیں کی

آپؐ نے پوری زندگی کمزور تلوار نہ خریدی اور نہ ہی بیمار گھوڑے اور لاغر اونٹ پر سفر کیا‘ آپؐ نے لباس بھی ہمیشہ صاف‘ ستھرا اور بے داغ پہنا اور رہائش کے لیے شہر بھی معتدل‘ پر فضا اور مرکزی پسند کیا‘ آپؐ نے زندگی بھر عالم اسباب میں اسباب کا پورا خیال رکھا‘ اچھا کھانا کھایا‘ اچھا پھل پسند فرمایا‘

اچھی جگہ اور اچھے لوگ پسند کیے اور اُس دور کی شاندار ٹیکنالوجی استعمال کی‘

آپ غور کیجیے عرب حملہ آوروں سے مقابلے کے لیے شہروں سے زیادہ دور نہیں جاتے تھے لیکن آپؐ جنگ بدر کے موقع پر مدینہ سے 156 کلو میٹر دور بدر کے میدان میں خیمہ زن ہو ئے‘ آپؐ غزوہ احد کے موقع پر بھی احد کے پہاڑ پر چلے گئے۔

آپؐ نے عربوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مدینہ کے گرد خندق بھی کھودی اور آپؐ نے کافروں سے مقابلے کے لیے یہودیوں کے ساتھ معاہدے بھی کیے‘ یہ کیا تھا؟

یہ عالم اسباب میں اسباب کی بہترین مثالیں ہیں‘ نبی اکرمؐ عالم ارواح میں چند سیکنڈ میں معراج سے مستفید ہو گئے‘ وہ واپس آئے تو وضو کا پانی گرم اور دروازے کی کنڈی ہل رہی تھی‘

آپؐ نے انگلی کے اشارے سے چاند کے دوٹکڑے بھی کر دیے لیکن اسی عالم اسباب میں آپؐ کا دندان مبارک بھی شہید ہوۓ‘ آپؐ طائف میں زخمی بھی ہوئے‘آپ کو بھوک‘ پیاس‘ گرمی‘ سردی بھی محسوس ہوتی رہی‘ آپؐ کی چھت بھی ٹپکتی رہی‘ آپؐ بیمار بھی ہوئے‘ آپؐ پر زہرکا اثربھی ہوا۔

آپؐ جادو کے اثر سے نکلنے کا بندوبست بھی کرتے رہے اورآپؐ غربت اور بیماری سے پناہ بھی مانگتے رہے‘ یہ عالم اسباب کے وہ سبب ہیں جن سے کوئی ذی روح آزاد نہیں ہو سکتا‘
۔
آپ اگر وجود رکھتے ہیں، آپ کی گردن پر اگر سر موجود ہے اور آپ اگر سانس لے رہے ہیں تو پھر آپ نبی ہوں‘ ولی ہوں یا پھر عام انسان ہوں آپ عالم اسباب کے تمام اسباب کے محتاج ہیں‘

آپ کو پھر مینار عیسیٰ ؑ سے اترنے کے لیے بھی سیڑھی کی ضرورت پڑے گی‘ آپ کو پھر حضرتِ حمزہؓ کی شہادت بھی تکلیف دے گی۔

آپ پھر والدہ کی قبر پر آنسو بھی بہائیں گے اور آپ کو پھر اچھی تلواروں‘ اچھے گھوڑوں‘ اچھے اونٹوں اور ٹرینڈ فوج کی ضرورت بھی پڑے گی‘

آپ کو پھر شفاف پانی‘ اچھی خوراک‘ طاقتور قانون‘ تیز رفتار انصاف‘ ماہر ڈاکٹرز‘ معیاری تعلیم‘ رواں سڑک اور شاندار لائف اسٹائل کی ضرورت بھی ہو گی اور آپ کو پھر سردی‘ گرمی اور وباء تینوں کا مناسب بندوبست بھی کرنا پڑے گا‘

ہم اگر عالم اسباب میں ہیں تو پھر ہمیں اسباب کا انتظام کرنا ہوگا‘ پھر ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی طرح سبب کو ’’اسٹیٹ آف آرٹ‘‘ بنانا ہو گا‘ ہمیں پھر ایسی سیڑھی کا بندوبست بھی رکھنا ہوگا جو حضرت عیسیٰ ؑ کو مینار سے اتار سکے۔

ایسی دوائیں بھی ایجاد کرنا ہوں گے جو امت مسلماں کو صحت مند رکھ سکیں‘ ہمیں ایسی ٹیکنالوجی بھی ایجاد کرنا ہوگی

جو سردی میں گرمی اور گرمی میں سردی پیدا کر سکے‘ ہمیں انسانوں کے سکون اور آرام کا بندوبست بھی کرنا ہوگا‘ ہمیں کرہ ارض پر دم توڑتی حیات کا خیال بھی رکھنا ہوگا‘ہمیں دنیا کو ماحولیاتی آلودگی سے بھی بچانا ہوگا ‘ ہمیں مسلمانوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے تحفظ بھی دینا ہوگا

اور ہمیں یہ بھی ثابت کرنا ہوگا مومن اسباب کی دنیا میں بھی دنیا کو اپنے برابر نہیں آنے دیتا‘ ہم محمدی ہیں اور قینچی ہو یا راکٹ ہو ہم کسی بھی فیلڈ میں دنیا کو آگے نہیں نکلنے دیں گے۔

ہم کیسے مسلمان ہیں‘ ہمیں اللّٰه تعالٰی نے اسباب کی دنیا میں بھیجا لیکن ہم اسباب ہی سے منہ موڑ کر بیٹھ گئے‘ اس امت کو کون بتائے گا انسان اس عالم اسباب میں سبب کے بغیر بے سبب ہو جاتا ہے

اور بے سبب لوگ دنیا اور آخرت دونوں میں مار کھا جاتے ہیں‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ حلب، عراق شام، فلسطین کے مسلمانوں کو دیکھ لیجیے‘یہ لوگ اگرعالم اسباب میں اسباب کے مالک ہوتے تو کیا دنیا ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتی؟

اللہ کے لیے! آپ مسلمان ہو تو آپ عالم اسباب کو عالم اسباب مان کر اسباب کا بندوبست کرو‘ ورنہ دنیا آپ سے جینے کا حق تک چھین لے گی۔
منقول۔

09/10/2022

کاش میں دورِ پیمبر ﷺ میں اٹھایا جاتا
با خدا قدموں میں سرکار ﷺ کے پایا جاتا

ساتھ غزوات میں سرکار ﷺ کے شامل ھوتا
ان ﷺ کی نصرت پہ لہو میرا بہایا جاتا

ریت کے ذروں میں اللہ بدل دیتا مجھے
پھر مجھے راہ محمد ﷺ میں بچھایا جاتا

خاک ھو جاتا میں سرکار ﷺ کے قدموں کے تلے
خاک کو خاکِ مدینہ میں ملایا جاتا

مل کے سب لوگ مجھے مٹی سے گارا کرتے
پھر مجھے مسجد نبوی میں لگایا جاتا

کاش ! اے کاش میں ھوتا کوئی ایسی لکڑی
جس کو سرکار ﷺ کے منبر میں لگایا جاتا

لایا جاتا سرِ دربار اسیروں کی طرح
حکم پہ ان ﷺ کے میں آزاد کرایا جاتا

کاش اُترتا میں کسی نعت کے مصرعے کی طرح
رُوبرو اُن ﷺ کے میں اُن ﷺ کو ھی سنایا جاتا
💞
نامعلوم

14/07/2022

Dear Parents,
* Tarzan lives half naked,
* Cinderella comes home at midnight,
* Pinocchio lies all the time,
* Aladdin is the king of thieves,
* Batman drives at 200 mph,
* Romeo and Juliet commit su***de out of love,…
* Harry Potter uses witchcraft,
* Mickey and Minnie are more than just friends
* Sleeping Beauty is lazy,
* Dumbo gets drunk and hallucinates,
* Scooby Doo gives nightmares,
* and Snow White lives with 7 guys.
We shouldn’t be surprised children misbehave, they get it from their storybooks and cartoons which ''we'' provide them...
We should instead be teaching them stories like
*Abu Bakr (ra)’s loyalty and undying service for his master,
*Umar ibn Khatthab (ra)’s love for justice and tolerance,
*Uthman ibn Affan (ra)’s level of shyness and modesty,
*Ali ibn Abi-Talib (ra)’s show of courage and bravery,
*Khalid ibn Waleed (ra)’s desire of combating evil,
*Fatima bint Muhammad (ra)’s love and respect to her father,
*Sallahuddin Al-Ayubi (ra)’s conquest of the promised land,
and much much more to tell about…
Above all, we should teach them about Allah (subhanahu wa ta'ala), Qur’an and the Sunnah with love ..very important aspect is this!
And then see how the change begins...! In sha Allah !

11/06/2022

تم حیاء و شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو ؟
ہم نے ننگے جسموں کو ملبوس حیاء دیکھا ہے ۔
ہم نے دیکھے ھیں احرام میں لپٹے کئی ابلیس ۔
ہم نے مئے خانے میں کئی بار خدا دیکھا ہے ۔
(اقبال)

08/06/2022

اسے کہتے ہیں فکر سلیم زرعی اراضی کو بچانے کے لیے پورا گاوں صرف ایک 9 کلومیڑ سڑک کے کنارے آباد ہے یہ پولینڈ کا ایک گاوں سولوزاوا ہے...

08/06/2022

ہو نہ یہ نام تو کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو۔
چمن دہر میں بلبل کا ترنم بھی نہ ہو۔
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو۔
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ھو۔
خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے۔
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے۔
دشت میں، کہسار میں، میدان میں ہے۔
بحر کی موج میں، آغوش میں، طوفان میں ہے۔
چین کے شہر، مراکش میں، بیابان میں ہے۔
اور پوشیدہ مسلماں کے ایمان میں ہے۔
(اقبال)

05/06/2022

اللّٰہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ ۔
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ ۔
نا حق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ۔
شمشیر تو کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ ۔
(اقبال)
school

Photos from Thebrooksideschool's post 29/05/2022

, /principals/owners conference....

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


House # 119E, 69 Halal Park, Akir Road Shad Bagh Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00