Madrsa Taleem ul Quran & Masjid Ali

Madrsa Taleem ul Quran & Masjid Ali

Share

دینی و دنیوی تعلیم کا حسین امتزاج ، حفظ و ناظرہ مع میٹرک تعلیمی سسٹم میں داخلے جاری ہیں۔

10/03/2024

ئیر انڈیا بھارت کی 91سال پرانی ائیر لائین ہے، یہ کمپنی رتن ٹاٹا نے 1932ء میں بنائی تھی،
تقسیم کے بعد حکومت نے اس پر قبضہ کر لیااور یہ اسے پی آئی اے کی طرح چلاتی رہی لیکن پھر 28 جنوری 2022ء کو ٹاٹا گروپ نے سوا دو بلین ڈالر میں ائیر انڈیا دوبارہ خرید لی اور صرف ایک سال میں یعنی 14 فروری 2023ء کو سول ایوی ایشن کی تاریخ کا سب سے بڑا دھماکا کر دیا۔
ائیر انڈیا نے 470 نئے جہازوں کا آرڈر دے دیا، ان طیاروں میں 210 ائیر بس (اے 320 / 321 نیو) 190 بوئنگ 733 میکس، 40 ائیر بس (اے 350 ایس)20 بوئنگ (787 ایس) اور 10 بوئنگ (ایس 777-9) شامل ہیں، یہ ایوی ایشن انڈسٹری کی آج تک کی سب سے بڑی ڈیل ہے، اس کی مالیت 60 بلین ڈالرہے اور یہ اس ملک میں ہو رہا ہے جو 1990ء کی دہائی تک پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتا تھا۔
آپ یہ خبر پڑھنے کے بعد ایک لمحے کے لیے رکیے اور سوچیے آج انڈیا کہاں چلا گیا اور ہم کہاں آ گئے ہیں؟ ہم ڈیڑھ بلین ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ایڑھیاں رگڑ رہے ہیں جب کہ بھارت میں ایک کمپنی 60 بلین ڈالر کی ڈیل کر رہی ہے اور امریکی صدر جوبائیڈن، فرنچ صدر ایمانویل میکرون اور برطانوی وزیراعظم رشی سوناک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔
بھارت اس ڈیل کے ساتھ ساتھ دوبئی اور دوحا سٹینڈرڈ کے 80 نئے ائیرپورٹس بھی بنا رہا ہے جس کے بعد انڈیا ایشیا میں سول ایوی ایشن کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا، یہ چین کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا، ائیر انڈیا سے سالانہ 7 کروڑ مسافر دنیا جہاں کی سیر کریں گے، آپ دوسری بار رکیے اور سوچیے کیا ہم آج ائیر انڈیا کو پی آئی اے کے ساتھ کمپیئر کر سکتے ہیں؟ اور ہم اگر کرتے ہیں تو دونوں میں کتنا فرق ہوگا؟ اگلا سوال بھارت اور ہم میں کیا فرق ہے؟
کیا یہ سچ نہیں ہے ہماری زبان، کھانوں، لباس، کلچر اور رہن سہن میں بھی کوئی فرق نہیں، گرمی، سردی، گردوغبار، رویے، نفرت اور مار دھاڑ بھی ایک جیسی ہے اور ہم مصالحے بھی ایک جیسے استعمال کرتے ہیں لیکن وہ آگے دوڑ رہے ہیں اور ہم پیچھے، آخر کیوں؟
اور تیسرا سوال کیا اس ملک میں کوئی شخص قومی زوال کی وجوہات پر غور کر رہا ہے؟
اور کیا ہم رک کر، ٹھہر کر اور سانس لے کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کررہے ہیں؟
اس کا سیدھا سادہ جواب ہے دوخاندان جو ھم پہ پچھلے 48 سال سے مسلط ھیں
ہم اگر آج بھی سوچ سمجھ رہے ہوتے تو شاید زوال کی چٹان سے پھسلنے کا یہ سلسلہ رک جاتا لیکن جب قوموں کی مت ماری جاتی ہے تو پھرانہیں دھوپ میں پڑی حقیقتیں بھی دکھائی نہیں دیتیں
اللہ ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے آمین ثم آمین

منقول

04/08/2023

خاندان یزید و خاندان حسینؓ کے مابین رشتہ داریاں

اسلامی تاریخ کے سرسری و سطحی مطالعہ سے بعض لوگوں نے یہ نظریہ قائم کرلیا ہے کہ گویا بنو امیہ یعنی خاندان یزید اور بنو ہاشم یعنی خاندان حسین کے مابین کوئی سخت دشمنی تھی لیکن جب ہم انساب کی مستند کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معاملہ اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل بیت کی خواتین کثرت سے بنو امیہ میں بیاھی گئیں اور بنو امیہ و بنو ہاشم میں واقعہ کربلا کے بعد بھی مصاہرت کے تعلقات چلتے رہے اور ظاہر سی بات ہے کہ ایک انسان اپنی بیٹی اور بہن اسی خاندان میں بیاہتا ہے جس کے لوگوں کے بارے میں اسکو قطعی اطمینان ہو کہ وہ ذی شرف و عالی مرتبت ہیں اور ہماری خواتین کا خیال رکھیں گے۔ اس سلسلے میں کچھ رشتہ داریاں بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں:

۱۔ سیدنا علی ؓ کی صاحبزادی رملہ مروان ؓ بن الحکم کے فرزند معاویہ بن مروانؒ کو بیاہی تھی جو کہ خلیفہ عبدالملک بن مروانؒ کے حقیقی بھائی تھے۔ (جمہرۃ الانساب ابن حزم، ص ۸۰)

۲۔ سیدنا علیؓ کی دوسری صاحبزادی انہی مروانؓ بن الحکم کے بیٹے عبدالملک بن مروان جو کہ خلیفہ تھے اپنے زمانہ میں انکو بیاہی تھی۔ (البدایہ و النہایہ ج ۹، ص ۶۹)

۳۔ سیدنا علی ؓ کی تیسری صاحبزادی خدیجہؒ امیر عامرؓ بن کریز اموی کے فرزند عبدالرحمٰن کو بیاہی گئی تھی۔ (جمہرۃ الانساب ص ۶۸)

اسی طرح سیدنا علی ؓ کے بڑے بیٹے حسنؓ کی ایک نہیں بلکہ ۶ پوتیاں اموی خاندان میں بیاہی گئی تھیں:

۱۔ سیدہ نفسیہؒ بنت زید بن حسن کی شادی خلیفہ ولید بن عبدالملک بن مروانؒ سے ہوئی (عمدۃ الطالب ص ۴۴)

۲۔ ان نفسیہؒ کی چچا زاد بہن زینب بنت حسن مثنیٰ بن حسن کی شادی بھی خلیفہ ولید بن عبدالملک بن مروانؒ سے ہوئی تھی۔ (جمہرۃ الانساب ص ۳۶)

۳۔ سیدنا حسن بن علیؓ کی تیسری پوتی ام قاسم بنت حسن مثنیٰ بن حسن کی شادی عثمانؓ کے پوتے مروان بن ابان بن عثمانؒ سے ہوئی۔ مروان بن عثمان کے انتقال کے بعد یہ ام قاسم علی بن حسین (زین العابدین) کے عقد میں آئیں۔ (جمہرۃ الانساب ص ۳۷)

۴۔ سیدنا حسن بن علیؓ کی چوتھی پوتی مروانؓ کے ایک فرزند معاویہؒ بن مروان بن الحکم کے عقد میں آئیں جن کے بطن سے حسنؓ کے اموی نواسہ ولید بن معاویہ متولد ہوئے۔ (جمہرۃ الانساب ص ۸۰، ۱۰۰)

۵۔ سیدنا حسن بن علیؓ کی پانچویں پوتی حمادہ بنت حسن مثنیٰ مروانؓ کے ایک بھتیجے کے فرزند، اسماعیل بن عبدالملک بن الحارث بن الحکم کو بیاہی گئی تھیں۔ (جمرۃالانساب ص ۱۰۰)

۶۔ سیدنا حسنؓ کی چھٹی پوتی خدیجہ بنت الحسین بن حسن بن علیؒ کی شادی بھی اپنی چچیری بہن حمادہ کے نکاح سے پہلے اسماعیل بن عبدالملک بن الحارث بن الحکم سے ہوئی تھی جن کے بطن سے حسنؓ کے چار اموی نواسے محمد الاکبرو حسین و اسحٰق و مسلمہ پیدا ہوئے۔ ( جمہرۃ الانساب ص ۱۰۰)

سیدنا حسن بن علیؓ کی طرح حسین بن علی ؓ کے گھر کی خواتین بھی کثرت سے بنو امیہ میں بیاہی گئی تھیں:

۱۔ سیدنا حسین بن علیؓ کی صاحبزادی سکینہؒ نے اپنے شوہر مصعب بن زبیرؓ کے مقتول ہوجانے کے بعد مروانؓ کے پوتے الاصبغ بن عبدالعزیز بن مروان سے نکاح کیا جو کہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کے بھائی تھے۔ ان الاصبغ کی دوسری بیوی یزید بن معاویہ ؒ کی بیٹی ام یزیدؒ تھیں ۔ (کتاب نسب قریش ص ۵۹، المعارف ابن قیتبہ ص ۹۴)

۲۔ سیدنا سکینہ بنت حسینؒ کا ایک اور نکاح عثمان بن عفان کے پوتے زید بن عمرہ بن عثمان اموی سے ہوا تھا، بعد میں ان سے علحیدگی ہوگئی تھی۔ ( المعارف ابن قتیبہ ص ۹۳، جمہرۃ الانساب ص ۷۹)

۳۔ سیدنا حسینؓ کی نواسی ربیحہ بنت سکینہ جو ان کے شوہر عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن حکیم سے تھیں، مروانؓ کے پڑپوتے العباس بن ولید بن عبدالملک بن مروان کو بیاہی تھیں۔ (کتاب نسب قریش مصعب زبیری ص ۵۹)

۴۔ سیدناحسینؓ کی دوسری صاحبزادی سیدہ فاطمہؒ کا نکاح ثانی اپنے شوہر حسن مثنیٰ کے بعد اموی خاندان میں عبداللہ بن عمرو بن عثمان ذی النورینؓ سے ہوا۔ (جمہرۃ الانساب ص ۷۶)

۵۔ سیدنا حسینؓ کے ایک پڑپوتے حسن بن حسین بن علی بن حسین کی شادی اموی خاندان میں خلیدہ بنت مروان بن عنبسہ بن سعد بن العاص بن امیہ سے ہوئی تھی۔ (جمہرۃ الانساب ص ۷۵)

۶۔ سیدنا حسینؓ کے ایک اور پڑ پوتے اسحٰق بن عبداللہ بن علی بن حسین کی شادی اموی و عثمانی خاندان میں عائشہ بنت عمر بن عاصم بن عثمان ذی النورین سے ہوئی تھی۔ (جمہرۃ الانساب ص ۴۷)

اس کے علاوہ بنو ہاشم و بنو امیہ میں دیگر رشتہ داریاں بھی ہوتی رہیں جیسا کہ:

۱۔ سیدنا حسین بن علیؓ کے بھائی عباس بن علیؓ کی پوتی نفیسہ بنت عبیداللہ بن عباس بن علی کی شادی خلیفہ یزید بن معاویہؒ کے پوتے عبداللہ بن خالد بن یزید سے ہوئی۔ (جمہرۃا لانساب ص ۱۰۳، کتاب نسب قریش ص ۷۹)

۲۔ سیدنا علی ؓ کے بھتیجے محمد بن جعفر طیارؓ بن ابی طالب کی صاحبزادی رملہ کا نکاح مروانؓ کے پڑ پوتے سلیمان بن خلیفہ ہشام بن خلیفہ عبدالملک بن خلیفہ مروان سے ہوا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان ہاشمیہ خاتون کا نکاح ثانی ابو سفیان بن حربؓ کے پڑ پوتے ابو القاسم بن ولید بن عتبہ بن ابو سفیان سے ہوا تھا۔ ان ابو القاسم بن ولید کی والدہ لبابہ بنت عبیداللہ بن عباس بن عبدالمطلب یعنی حسین بن علیؓ کی رشتہ میں چچیری بہن تھیں اور ان کے اموی شوہر ولید بن عتبہ بن ابو سفیان امیر المومنین معاویہؓ کے بھتیجے تھے۔ (جمہرۃ الانساب ص ۱۰۲)

۳۔ سیدنا حسینؓ کی بھانجی ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر طیارؓ جو کہ زینبؓ بنت علیؓ کے بطن سے تھیں، اول اپنے چچا زاد قاسم بن محمد بن جعفر کے عقد میں آئیں۔ ان کے بعد انکا نکاح ثانی اموی گورنر حجاج بن یوسف ثقفی سے ہوا جن سے ایک بیٹی ہوئی، پھر زوجین میں علحیدگی ہوگئی۔ ان کا تیسرا نکاح اموی خاندان میں عثمانؓ کے فرزند ابان بن عثمان سے ہوا یعنی یہ ام کلثوم عثمان بن عفانؓ کی بہو ہوتی تھیں۔ (المعارف ابن قتیبہ ص ۹۰، جمہرۃ الانساب ص ۶۱، ۱۱۴)

۴۔ سیدنا حسین بن علیؓ کے حقیقی چچیرے بھائی اور بہنوئی عبداللہ بن جعفر طیار کی دوسری صاحبزادی ام محمد کا نکاح خلیفہ یزید بن معاویہ بن ابو سفیانؓ سے ہوا۔ اس حساب سے خلیفہ یزید بن معاویہ، حسین بن علیؓ کے بھتیج داماد تھے۔ حسین بن علیؓ کی بہن زینب بنت علی ان ام محمد کی سوتیلی والدہ تھیں اور اس ناطے یزید بن معاویہ سیدہ زینب بنت علی کے داماد تھے۔

یہ اور اس طرح کی اور ساری رشتہ داریاں جو کہ طوالت کے خوف سے ہم یہاں نقل نہیں کررہے ہیں بنو امیہ و بنو ہاشم میں ہوتی رہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ کچھ کو چھوڑ کر یہ قریباً تمام کی تمام رشتہ داریاں واقعہ صفین و کربلا کے بعد کی ہیں۔سو عقلمند کے لئے اشارہ ہی کافی ہے ۔

22/07/2023
10/06/2023

ماڈرن زمانہ (Modern Era )

تحریر : محمد مفتی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ انتہائی ماڈرن تھا

مثلاً ایک عورت کو اپنی پسند بتلانے کی آزادی تھی ، اسی لئے ایک لڑکی کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ کسی کو Select کرے یا Reject
اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹیوں سے پوچھ کر ان کی مرضی جان کر نکاح کئے ۔ خاص طور پہ حضرت فاطمہ سے پوچھا گیا کہ میں نے تمہارے لئے علی ( رضی اللہ عنہ ) کو پسند کیا ہے کیا تمہیں میرا فیصلہ قبول ہوگا ؟؟ اور یاد رہے فاطمہ !! تم پہ کوئی زبردستی نہیں ، سوچ سمجھ کر بتا دینا ، اور پھر بنت نبی نے اپنے بابا کی پسند کو اپنی پسند بنا کر ہاں کردی ۔۔

کیا آج کے ماڈرن زمانے میں بیٹیوں کو یہ اختیار حاصل ہے ؟
کیا آج بیٹیوں کو رسموں اور رواجوں کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاتا ؟
کیا آج رشتوں کے لئے اپنی پگ اور ناک کے واسطے نہیں دئیے جاتے ؟ تو پھر یہ دور ماڈرن کیسے ہوا ؟؟

آگے چلئے !!

دربارِ نبوی میں ایک اور صحابیہ حاضر ہوکر مطالبہ کرتی ہیں “ یا رسول اللہ میں زید سے خوش نہیں ہوں ، بہتر ہے ہم علیحدگی اختیار کر لیں ، پیغمبرِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تین بار کے مطالبات پہ تو چپ سادھ لیتے ہیں اور جیسے تیسے کرکے زندگی گزارنے کا سبق دیتے ہیں لیکن جب خاتون کے ساتھ ساتھ حضرت زید کی طرف سے بھی یہی مطالبہ کیا جاتا ہے تو ان کو علیحدگی کی اجازت دے دیتے ہیں ۔

کیا آج کے ماڈرن زمانے میں کوئی بھی لڑکی اپنے والد سے ایسا مطالبہ کرنے کی ہمت کر سکتی ہے کہ ابا جان مجھے اجازت دیجئے میں خلع لے لوں ؟؟ یا مرد طلاق دینے کی اجازت مانگ سکتا ہے ؟؟ نہیں بالکل بھی ہم ماڈرن ہیں کہاں ؟؟؟؟؟

اگلی بات اس سے بھی آگے کا سبق ہے

وہی عورت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت زید کے نکاح کو ختم کرنے کھ اجازت طلب کر رہی تھی بعد ازاں عدت گزرنے کے بعد اسی عورت سے پیغمبر کریم صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود نکاح کا ارادہ ظاہر فرماتے ہیں اور وہی زید بخوشی یہ اطلاع دینے چلے جاتے ہیں کہ اے فلاں کی بیٹی مبارک ہو رب نے تیرے لئے بہترین گھر کا اجتخااب کردیا ہے ۔

کیا آج کا نوجوان مطلقہ خاتون سے یوں شادی کرتا ہے ؟؟
اور کیا اپنی سابقہ بیوی کو آج کا خاوند یوں خوشی سے اطلاع دینے جا سکتا ہے ؟؟

نہیں !! ہر گز نہیں ہم ماڈرن ہیں کہاں ؟؟؟

یہ تھا ماڈرن زمانہ جس میں نہ طلاق کو عیب سمجھا جاتا نہ دوسری شادی جرم تھا ، نہ بیوگی عذاب تھی اور نہ شادیاں وبالِ جان ۔۔۔ اور پھر دور گزرا جب سبھی “ عذاب “ ہم پہ مسلط کر دئیے گئے ۔ اور اس دور کو پتھر کا دور کہہ کر جھٹلا دیا گیا ۔

کاش وہ “ پتھر کا دور “ واپس آجائے ۔۔

محمد مفتی

15/04/2023

پروگرام میں شریک ہوکر شکریہ کا موقع دیجئے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Muhammadi Chowk Rachna Town Ferozwala
Lahore
42000