29/10/2025
محمد ابتسام اللّٰہ
السلام علیکم اس پیج میں صرف اسلامک پوسٹس سینڈ کی جاتی ہیں تمام بھائی اس پیج کو لائیک اور شئیر کریں
29/10/2025
سورۃ الاعلیٰ
قاری محمد ابتسام اللّٰہ حقانی
پرسوز آواز میں تلاوت قرآن پاک
قاری محمد ابتسام اللّٰہ حقانی صاحب
سورۃ الاحزاب کی آخری آیات
قاری محمد اتحاف اللّٰہ
احباب ضرور سماعت فرمائیں
سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام
قاری محمد اتحاف اللّٰہ حقانی
Heart touching voice very beautiful voice
Please share
*سوال: کیا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کوئی کتاب ثابت ہے؟*
✍️ غلام مصطفی ظہیر امن پوری
جواب : امام ابو حنیفہ رحمه اللہ کی طرف بہت سی کتابیں منسوب کی گئی ہیں، مگر کوئی بھی ان سے باسند صحیح ثابت نہیں ۔ البتہ ایک کتاب بنام کتاب الحیل کا ذکر ملتا ہے، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے زمانے کے لوگوں نے گواہی دی ہے کہ اس نام کی کتاب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی موجود ہے، جس میں احکام شرعیہ کو ساقط کرنے کے حیلے ذکر کیے گئے ہیں ، اہل علم نے اس کتاب کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے تحت یہ کتاب تو مفقود ہو گئی ، ( ولله الحمد ) مگر اس کتاب میں مذکور بعض حیلے اس دور کے محدثین نے بطور مذمت اور رد کے ذکر کیے ہیں ، بعض حیلے امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی کتاب الحیل میں بھی ذکر کیے ہیں اور بعض دیگر محدثین نے بھی ذکر کیے اور ان کی مذمت کی ہے۔
❀ امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ الْحِيَلِ لِأَبِي حَنِيفَةَ، أَحَلَّ مَا حَرَّمَ اللَّهُ، وَحَرَّمَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ .
جو شخص امام ابوحنیفہ کی کتاب الحیل کا مطالعہ کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کہنے لگے گا اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے لگے گا۔“ (تاریخ بغداد : 426/13 ، وسنده صحيح)
❀ امام نضر بن شمیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فِي كِتَابِ الْحِيَلِ كَذَا مَسْأَلَةٌ كُلُّهَا كُفْرٌ . کتاب الحیل میں اتنے اتنے مسائل مذکور ہیں ، سب کے سب کفر ہیں ۔ (تاريخ بغداد للخطيب : 544/15 ، وسنده صحيح)۔
❀ ابو علی حسن بن عیسی نیشا پوری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ الْمُبَارَكِ يَوْمًا إِذْ دَخَلَ حَمْزَةُ الْبَزَّازُ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَثَ حَدَثُ عَظِيمٌ، قَالَ : وَمَا هُوَ؟ قَالَ : بِنْتُ أَبِي رَوْحٍ ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ، لِتَبِينَ مِنْ زَوْجِهَا، فَغَضِبَ ابْنُ الْمُبَارَكِ غَضَبًا مَا غَضِبَ مِثْلَهُ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ : لَا جَرَمَ، قَدْ أَحْبَطَ اللَّهُ كُلَّ حَسَنَةٍ عَمِلَتْهَا إِلَى الْيَوْمِ وَبَقِيَ الْوِزْرُ، ثُمَّ قَالَ : أَوْ قِيلَ : هَذَا كِتَابُ الْحِيَلِ، فَقَالَ : لَقَدْ أَحْبَبْتُ أَنْ أَرَى هَذَا الْكِتَابَ، فَلَا يُقْضَى لِي أَنْ أَرَاهُ فَأَعْلَمَ مَا فِيهِ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى مَنْ وَضَعَ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي هَذَا الْكِتَابِ لِحِيلَةِ النِّسَاءِ لِتَبِينَ مِنْ زَوْجِهَا إِذَا أَرَادَتْ، إِنَّهُ كَافِرٌ بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ : وَذَلِكَ لَوْ أَنِّي أَمَرْتُ رَجُلًا أَنْ يَكْفُرَ فَكَفَرَ بِقَوْلِي ، كُنْتُ أَنَا الْكَافِرَ .
میں ایک دن امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حمزہ ب**ز داخل ہوئے اور کہنے لگے : ابو عبد الرحمن ! ( عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی کنیت ) ایک بڑا عجیب واقعہ پیش آیا ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے پوچھا: وہ کیا؟ حمزہ نے کہا: ابو روح کی بیٹی نے اسلام سے مرتد ہونے کا اعلان کر دیا، تا کہ اپنے شوہر سے علیحدہ ہو سکے۔ یہ سن کر امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ اتنے غضبناک ہوئے کہ اس سے پہلے اتنے غصے کبھی نہ ہوئے تھے۔ پھر فرمانے لگے: یقیناً اللہ تعالیٰ نے آج کے دن تک اس عورت کی تمام نیکیاں ضائع کر دی ہیں اور گناہ باقی رہ گیا ہے۔ پھر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یا کسی نے کہا: یہ مسئلہ کتاب الجیل میں لکھا ہے۔ تو عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا : میں نے یہ کتاب دیکھنے کا ارادہ کیا تھا، تا کہ معلوم ہو کہ اس میں کیا ہے، لیکن ( تا حال) ایسا میرے لیے ممکن نہ ہو سکا، پھر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ جس شخص نے اس مسئلے کو اس کتاب میں عورتوں کے لیے یہ حیلہ بنا کر لکھا ہے، تا کہ وہ جب چاہیں، اپنے شوہروں سے علیحدہ ہو سکیں ، وہ یقینا اللہ کا منکر ہے۔ مزید فرمایا : اگر میں کسی آدمی کو کفر کرنے کا حکم دوں اور وہ میرے کہنے پر کفر کرلے، تو میں خود کافر ہوجاؤں گا۔ (أخبار الشيوخ وأخلاقهم لأبي بكر المروذي : 282 ، وسنده صحيح)
❀ امام عبد الرحمن بن عمر رستہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
شَهِدْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ وَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِي، وَصِيفَةٌ لَهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَغْدَادَ، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ أَخْبَرَ أَنَّهُ، وَضَعَ كُتُبًا مِنَ الرَّأْيِ، وَابْتَدَعَ ذَلِكَ فَجَعَلَ يَقُولُ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهِ، وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ قَرَّبَهُ وَأَدْنَاهُ، فَلَمَّا جَاءَهُ رَأَيْتُهُ دَخَلَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرِيضٌ فَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَعَدَ، فَقَالَ لَهُ : يَا هَذَا مَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْكَ، إِنَّكَ ابْتَدَعْتَ كُتُبًا أَوْ وَضَعْتَ كُتُبًا فِي الرَّأْيِ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَقَرَّبَ إِلَيْهِ بِسُوءٍ رَأْيِهِ فِي أَبِي حَنِيفَةَ فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّمَا وَضَعْتُ كُتُبًا رَدًّا عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ، فَقَالَ لَهُ : تَرُدُّ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ بِآثَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآثَارِ الصَّالِحِينَ؟ فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ : إِنَّمَا تَرُدُّ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ بِآثَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآثَارِ الصَّالِحِينَ، فَأَمَّا مَا قُلْتَ فَرَدُّ الْبَاطِلِ بِالْبَاطِلِ اخْرُجْ مِنْ دَارِي، فَمَا كُنْتُ أَضَعُ أَوْ أَتَّبِعُ حُرْمَةً عِنْدَكَ، وَلَوْ بِكَذَا وَكَذَا، فَذَهَبَ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ لَهُ : مُحَرَّمٌ عَلَيْكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ أَوْ تَتَمَكَّنَ فِي دَارِي فَقَامَ وَخَرَجَ .
میں نے امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ بغداد کے ایک آدمی سے خدمت گزار لونڈی خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جب وہ آدمی ان کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تو عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کو خبر ملی کہ اس آدمی نے رائے (قیاس و اجتہاد ) پر مبنی کتابیں تصنیف کی ہیں اور بدعت کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ سن کر امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرمانے لگے : ہم اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ وہ آدمی جب بھی امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کے پاس آتا، تو آپ رحمہ اللہ اسے قریب بٹھاتے تھے اور اس کا اکرام کرتے تھے، لیکن جب یہ بات سامنے آئی ، تو اس کے بعد جب وہ دوبارہ آیا، تو میں نے دیکھا کہ وہ اندر داخل ہوا، جبکہ امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ بیمار تھے اس نے سلام کیا، لیکن عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا۔ وہ بیٹھ گیا، تو عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے اس سے کہا : اے شخص! ایک بات میرے علم میں آئی ہے کہ تم نے بدعت کا ارتکاب کرتے ہوئے رائے پر مبنی کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ (یہ سن کر ) وہ آدمی چاہنے لگا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں اپنی بدگمانی کا اظہار کر کے امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کا قرب حاصل کرے۔ چنانچہ کہنے لگا: ابوسعید ! میں نے یہ کتابیں صرف ابو حنیفہ کے رد میں لکھی ہیں ۔ امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا : کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور آثار سلف سے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا رد کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ۔ تو امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا : ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا
رد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور آثار سلف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ جو تم نے رد کیا ہے، وہ باطل کا باطل سے رد ہے۔ لہذا میرے گھر سے نکل جاؤ۔ میرے ہاں تمہارے لیے نہ کوئی عزت ہے اور نہ ہی تمہاری قدر ، خواہ اس کے بدلے کچھ بھی ہو۔ وہ آدمی کوئی بات کرنے لگا، تو امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے فرمایا : تمہیں میرے گھر میں کوئی بات کرنے یا ٹھہرنے کی قطعا اجازت نہیں ۔ چنانچہ وہ اٹھ کر چلا گیا۔ (حلية الأولياء لأبي نعيم : 9/9-10 ، وسنده صحيح)۔
امام عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بعض مسائل کو باطل قرار دیا ہے، یقینن وہ کتاب الحیل کی طرف ہی اشارہ فرما رہے ہوں گے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (۷۲۸ھ) فرماتے ہیں :
لَمَّا وَضَعَ بَعْضُ النَّاسِ كِتَابًا فِي الْحِيَلِ اشْتَدَّ نَكِيرُ السَّلَفِ . ” جب بعض الناس نے حیلوں کے جواز پر کتاب لکھی ، تو سلف صالحین اس پر شدید نکیر فرمائی۔ (الفتاوى الكبرى : 83/6)۔
❀ اور آخر میں :
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (۷۵۱ھ) فرماتے ہیں :
إِنَّ الْحِيَلَ الْمُحَرَّمَةَ مُخَادَعَةٌ لِلَّهِ، وَمُخَادَعَةُ اللَّهِ حَرَامٌ، أَمَّا الْمُقَدِّمَةُ الْأُولَى فَإِنَّ الصَّحَابَةَ وَالتَّابِعِينَ - وَهُمْ أَعْلَمُ الْأُمَّةِ بِكَلَامِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَعَانِيهِ - سَمَّوْا ذَلِكَ خِدَاعًا، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَإِنَّ اللَّهَ ذَمَّ أَهْلَ الْخِدَاعِ، وَأَخْبَرَ أَنَّ خِدَاعَهُمْ إِنَّمَا هُوَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَأَنَّ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضًا، وَأَنَّهُ تَعَالَى خَادِعُهُمْ، فَكُلُّ هُذَا عُقُوبَةٌ لَهُمْ، وَمَدَارُ الْخِدَاعِ عَلَى أَصْلَيْنِ؛ أَحَدُهُمَا؛ إِظْهَارُ فِعْلٍ لِغَيْرِ مَقْصُودِهِ الَّذِي جَعَلَ لَهُ، الثَّانِي؛ إِظْهَارُ قَوْلٍ لِغَيْرِ مَقْصُودِهِ الَّذِي وُضِعَ لَهُ، وَهَذَا مُنْطَبِقٌ عَلَى الْحِيَلِ الْمُحَرَّمَةِ، وَقَدْ عَاقَبَ اللَّهُ تَعَالَى الْمُتَحَيِّلِينَ عَلَى إِسْقَاطِ نَصِيبِ الْمَسَاكِينِ وَقْتَ الْجِدَادِ بِجَدٌ جَنَّتِهِمْ عَلَيْهِمْ وَإِهْلَاكِ ثِمَارِهِمْ، فَكَيْفَ بِالْمُتَحَيِّلِ عَلَى إِسْقَاطِ فَرَائِضِ اللَّهِ وَحُقُوقِ خَلْقِهِ؟ وَلَعَنَ أَصْحَابَ السَّبْتِ وَمَسَخَهُمْ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ عَلَى احْتِيَالِهِمْ عَلَى فِعْلِ مَا حَرَّمَهُ عَلَيْهِمْ . فَحَقِيقٌ بِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَخَافَ نَكَالَهُ أَنْ يَحْذَرَ اسْتِحْلَالَ مَحَارِمِ اللَّهِ بِأَنْوَاعِ الْمَكْرِ وَالِاحْتِيَالِ، وَأَنْ يَعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُخَلِّصُهُ مِنَ اللَّهِ مَا أَظْهَرَهُ مَكْرًا وَخَدِيعَةً مِنَ الْأَقْوَالِ وَالْأَفْعَالِ، وَأَنْ يَعْلَمَ أَنَّ لِلَّهِ يَوْمًا تَكِلُّ فِيهِ الرِّجَالُ، وَتُنْسَفُ فِيهِ الْجِبَالُ، وَتَتَرَادَفُ فِيهِ الْأَهْوَالُ، وَتَشْهَدُ فِيهِ الْجَوَارِحُ وَالْأَوْصَالُ ، وَتُبْلَى فِيهِ السَّرَائِرُ ، وَتَظْهَرُ فِيهِ الضَّمَائِرُ، وَيَصِيرُ الْبَاطِلُ فِيهِ ظَاهِرًا، وَالسِّرُّ عَلَانِيَةً، وَالْمَسْتُورُ مَكْشُوفًا،
وَالْمَجْهُولُ مَعْرُوفًا، وَيُحَصِّلُ وَيَبْدُو مَا فِي الصُّدُورِ، كَمَا يُبَعْثَرُ وَيَخْرُجُ مَا فِي الْقُبُورِ، وَتَجْرِي أَحْكَامُ الرَّبِّ تَعَالَى هُنَالِكَ عَلَى الْقُصُودِ وَالنِّيَّاتِ، كَمَا جَرَتْ أَحْكَامُهُ فِي هَذِهِ الدَّارِ عَلَى ظَوَاهِرِ الْأَقْوَالِ وَالْحَرَكَاتِ ، يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ بِمَا فِي قُلُوبِ أَصْحَابِهَا مِنْ النَّصِيحَةِ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَكِتَابِهِ وَمَا فِيهَا مِنَ الْبِرِّ وَالصِّدْقِ وَالْإِخْلَاصِ لِلْكَبِيرِ الْمُتَعَالِ، وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ بِمَا فِي قُلُوبِ أَصْحَابِهَا مِنَ الْخَدِيعَةِ وَالْعِشْ وَالْكَذِبِ وَالْمَكْرِ وَالاحْتِيَالِ، هُنَالِكَ يَعْلَمُ الْمُخَادِعُونَ أَنَّهُمْ لِأَنْفُسِهِمْ كَانُوا يَخْدَعُونَ، وَبِدِينِهِمْ كَانُوا يَلْعَبُونَ، وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنْفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ .
بلا شبہ حرام حیلے اللہ کے ساتھ مکاری کرنا ہے اور اللہ کے ساتھ مکاری اور چالاکی کرنا حرام ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین ، جو اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور اس کے معانی کو سب سے بہتر جاننے والے تھے، نے ان حرام حیلوں کو خداع ( دھوکہ دہی ) قرار دیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دھوکہ دینے والوں کی مذمت فرمائی ہے، اور بتایا ہے کہ ان کا دھو کہ دراصل خود ان کے ہی خلاف ہے اور یہ کہ ان کے دلوں میں بیماری ہے، نیز اللہ بھی ان کے ساتھ دھو کہ کرتا ہے ۔ ( کما یلیق بہ )
یہ سب کچھ ان کے لیے بطور سزا ہے اور دھو کہ دہی کی بنیا دو اصولوں پر ہے؟ ایسا عمل ظاہر کرنا جو اس مقصد کے لیے نہ ہو، جس کے لیے وہ عمل مقرر کیا گیا ہے ۔ ایسا قول ظاہر کرنا ، جو اس مفہوم کے لیے نہ ہو، جس کے لیے وہ قول وضع کیا گیا ہے۔ یہ دونوں امور حرام حیلوں پر منطبق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سزادی، جنہوں نے درختوں سے پھل توڑتے وقت مساکین کا حصہ ساقط کرنے کے لیے حیلہ اختیار کیا ، ان کے باغ کو ان پر اجاڑ دیا اور ان کے پھل برباد کر دیے۔ (سورت قلم: ۱۷-۳۳) چنانچہ جو شخص اللہ کی فرض کردہ عبادات اور اس کے بندوں کے حقوق کو ساقط کرنے کے لیے حیلے کرے، اس کا انجام کیسا ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اصحاب سبت (ہفتہ والوں ) پر لعنت کی اور ان کو بندر اور خنزیر بنا دیا، کیونکہ وہ اس چیز کے ارتکاب پر حیلہ کر رہے تھے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کیا تھا۔ لہذا جو شخص اللہ سے ڈرتا ہو اور اس کے عذاب سے خوف زدہ ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو مکاری اور چالاکی کے ذریعے حلال کرنے سے بچے اور یہ بات جان لے کہ اللہ سے بچنے کے لیے وہ اقوال وافعال جنہیں وہ مکاری اور دھوکہ دہی کے طور پر ظاہر کرتا ہے، اسے کوئی فائدہ نہ دیں گے اور یہ کہ اللہ کا ایک دن ایسا آئے گا، جس میں لوگ لرز جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور ہولناکیاں ایک کے بعد ایک آئیں گی ۔ اس دن اعضاء اور جوڑ گواہی دیں گے، دلوں کے راز ظاہر ہوں گے ضمیر عیاں ہو جائیں گے، باطن ظاہر ہو جائے گا، راز اعلانیہ ہو جائیں گے، چھپی چیزیں ظاہر ہو جائیں گی اور نامعلوم باتیں معلوم ہو جائیں گی ۔ دلوں میں جو کچھ ہے وہ کھل کر سامنے آ جائے گا ، اسی طرح قبروں میں چھپا ہوا باہر نکال لیا جائے گا اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں فیصلے نیتوں اور ارادوں کے مطابق ہوں گے، جیسے دنیا میں اقوال و حرکات کے ظاہری پہلو پر فیصلے ہوتے ہیں۔ اس دن کچھ چہرے چمکیں گے، اس لیے کہ ان کے دلوں میں اللہ ، اس کے رسول، اس کی کتاب کے لیے خیر خواہی اور بھلائی ، سچائی اور اخلاص موجود ہو گا۔ (اس روز ) بعض چہرے سیاہ ہوں گے، اس لیے کہ ان کے دلوں میں دھوکہ، فریب، جھوٹ، مکاری اور ( باطل ) حیلہ سازی ہوگی ۔ اس دن دھو کہ دینے والے جان لیں گے کہ دراصل وہ خود اپنی ہی جانوں کو دھوکہ دے رہے تھے اور اپنے دین کے ساتھ کھیل رہے تھے، نیز وہ صرف اپنی ہی جانوں کے خلاف چالا کیاں کر رہے تھے اور اس کا انہیں شعور تک نہ تھا۔“ (129-128/3 : إعلام المؤقعين.) ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
53500