Rizwan's WorldView

Rizwan's WorldView

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rizwan's WorldView, Education, Lahore.

29/03/2021

اس سال تعلیمی فیسوں میں فوری کمی ، سابقہ فاٹا ، بلوچستان ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں فوری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام اور آن لائن کلاسز، آن لائن پپیرز کو جدید سائنسی اور تخلیقی بنیادوں پر استوار کرنے کے موضوع پر دیکھئے یہ آج کا مکمل سیشن

06/02/2021

Subscribe on YouTube:
https://www.youtube.com/c/RizwansWorldView
کیا کشمیر بنے گا پاکستان ، ہندوستان یا خود مختار ریاست ؟
5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کا تاریخی پس منظر کیا ہے ؟
کیا پاکستان کشمیر کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ رہا ہے ؟
کشمیری کیا چاہتے ہیں ؟






05/02/2021

‏گزشتہ تیس برس سےیوم یکجتی کشمیر کےنام سے ایک ڈھونگ رچایاجارہاہے۔"ندائے کشمیر"کےعنوان سے یہ نظم کشمیر کی ایک بیٹی نے لکھی ہےجو اس دن کی مناسبت سےایک جامع پیغام دےرہی ہے۔ مطالبہ یہی ہے کہ کشمیریوں کواب مزید دھوکے میں نہ رکھا جائے۔دکھاوےکے بندھن توڑ دیےجائیں۔

ندائے کشمیر
شاعرہ: ثمن ابرار خان

بہت مبارک!
میرے عزیزو،
تمہارے نعروں کی گونج سے دشمنوں کا دل
بهی لرز گیا ہے
تمہارے پر جوش بهاشنوں سے کسی کا جیون
سنور گیا ہے
میری رگوں سے جو پهوٹتا ہے لہو کا دریا
اتر گیاہے
جو چارہ گر مانتا تها خود کو وہ عہد پورے
بهی کر گیا ہے
یہ سب ہوا ہے تو پهر مبارک
تمہیں یہ فتح بہت مبارک
تو اب میرے ہاں جوان لاشے نہیں اٹهیں گے
سہاگ لٹتے تهے کل تلک جو، نہیں لٹیں گے
کہ میری بٹیا کے سر کا آنچل نہیں چهنے گا
کوئی بدن اب ہوس کا ساماں نہیں بنے گا
نہ کهیلی جائے گی میرے سینے پہ خوں کی ہولی
نہیں لگے گی نا اب یہاں عصمتوں کی بولی
یہی ہوا ہے؟ بہت مبارک
نہیں ہوا کیا؟
سو سچ یہی ہے کہ ڈهونگ ہےجو رچا رہے ہو
مجهے یوں پاگل بنا رہے ہو
میرے حق میں کیا خوب نغمے بجا رہے ہو
تماش بیں ہو تبهی تو تم کو یہ غم نہیں ہے
وجود تها یہ جو ایک پنجر میں ڈهل گیا ہے
ادهورا پنجر
وہ ایک پنجر کہ جس کو گدھ نوچ کها رہے ہیں
اور نوچ کها کر
اسے وہ اپنے بدن کا حصہ بتا رہے ہیں
سوجب مقدر کی یہ سیاہی نہیں چهٹی ہے
میری دنیا ابهی بهی ٹکڑوں میں ہی بٹی ہے
تو نعرے بازی ، فضول بهاشن
اور لغو ناٹک ہی چهوڑ دو نا
کہ جودکهاوے کا مجھ سے بندهن
بنا رکها ہے وہ توڑ دو نا !
SAK Whispers
05/02/2020

19/01/2021

اس تصور کو جرمنی کے مشہور فلسفی جارج ولہیم فریڈرک ہیگل(1831_1770) نے "Unity of Opposites" کے نظریے میں بیان کیا۔ ہیگل کا بنیادی خیال تضادات کے ذریعے نشونما کا تھا۔
ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ہمیں اسکی جھلک نظر آتی ہے۔ تاریخ، فلسفہ، سماج، سیاست، ریاست غرض کہ ہر ایک لمحہ تغیر کی نوید ہے۔ کل جو تھا آج نہیں ہے۔ جو مقدس تھا آج ہوا ہو گیا۔ ہر چیز اپنے اندر تضاد لے کر وجود پاتی ہے۔ اسکی آسان اور سادہ ترین مثال کچھ یوں ہوں جیسے محبّت اور نفرت متضاد ہیں۔ لیکن محبّت اور نفرت دو لازم ملزوم چیزیں بھی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے وجود اور تصور، اور انتہا کو سمجھنے کے لئے ناگزیر ہیں۔یہی معاملہ لطف اور درد کا ہے۔ایک کا وجود دوسرے کے بغیر نا ممکن ہے۔ طبی نقطہ نظر سے درد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جسم میں کچھ ٹھیک نہیں ہے۔درد کی انتہا لطف کی انتہا کے ساتھ ہی سمجھی جا سکتی ہے۔
سر ونٹیز کے ناول کے مشہور کردار ڈان کیخوٹے نے سانچو پانزا کو یہ سمجھایا کے بھوک بہترین چٹنی ہے۔ اسی طرح تھکن کے بغیر آرام کے وجود کو نہیں سمجھ سکتے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے ہینری چہارم میں شہزادہ ہال کہتا ہے "اگر سارا سال کھیل کی چھٹیاں ہوں تو کھیل کام کی طرح کٹھن لگنے لگے گا۔ لیکن جب یہ کبھی کبھار آتی ہیں تو لوگ انکا انتظار کرتے ہیں "۔ ایک دنیا جس میں سب کچھ سفید ہو ، درحقیقت ایک ایسی دنیا کی طرح ہو گی جس میں سب کچھ سیاہ ہو۔ یہ بات قطبین پر جانے والے مہم جوؤں نے ٹب دریافت کی جب انہیں کوری برف میں ہونے والے اندھے پن کا سامنا کرنا پڑا۔
زندگی اور موت بھی ایک دوسرے کا الٹ ہیں۔ موت زندگی کا ایک لازم جز ہے لیکن حقیقت میں موت زندگی کا ایک لازمی جز ہے۔ زندگی موت کے بغیر سمجھی ہی نہیں جا سکتی۔ ہم پیدا ہوتے ہی مرنا شروع کر دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ اربوں خلیوں کا مرنا اور نۓ اربوں خلیوں کا انکی جگہ لینا ہی ہے۔ جو زندگی اور انسان کی نشونما کا باعث ہے۔

18/01/2021

Subscribe on YouTube: https://www.youtube.com/c/RizwansWorldView

21 دسمبر 2020 کو پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن کریمہ بلوچ ٹورنٹو، کنیڈا میں مردہ حالت میں پائی گئ۔ وہ 2015 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ وہ بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کھل کر بولنے والی خاتون تھی۔ BBC کی طرف سے جاری کردہ 2016 کی دنیا کی 100 بااثر ترین خواتین میں انکا نام بھی شامل تھا۔ اپنی موت سے 2 دن پہلے سے وہ مسنگ تھی۔

18/01/2021

Subscribe on YouTube: https://www.youtube.com/c/RizwansWorldView

20 دسمبر 2020 کو میڈیکل کے طلبہ ملک بھر میں MDCAT 2020 ٹیسٹ میں بھاری بےضابطگیوں اور پاکستان میڈیکل کمیشن کے بناۓ گئےحالیہ قانون پر سراپا احتجاج ہوۓ۔ طلبہ نے مطالبہ کیا کے MDCAT کا ٹیسٹ دوبارہ لیا جائے اور پاکستان میڈیکل کمیشن کے حالیہ قانون جس میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو اس بات کی آزادی دی گئ ہے کے وہ اپنی مرضی سے فیسوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کو فوری واپس لیا جائے
گورنر ہاؤس لاہور کے سامنے احتجاج میں طلبہ نے مطالبہ کیا کے پاکستان میڈیکل کمیشن کو فلفور ختم کیا جائے سابقہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کمیشن کو بحال کیا جائے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Culinary Team

Attire

Telephone

Address


Lahore
54590