08/05/2023
Free Video Editing Workshop.
Date: 9th May 2023
Time: 4PM
Get Yourself register for this workshop by clicking the link below.
https://docs.google.com/forms/d/e/1FAIpQLSf24xCWAVC0WXT4ykiGDAaInMgoGp8EP2SaBIv57K1xjQX8Ug/viewform?usp=pp_url
Subscribe our YouTube Channel:
https://youtube.com/
Follow us on Instagram:
https://instagram.com/samacharcreatives?igshid=YmMyMTA2M2Y=
29/03/2021
اس سال تعلیمی فیسوں میں فوری کمی ، سابقہ فاٹا ، بلوچستان ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں فوری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام اور آن لائن کلاسز، آن لائن پپیرز کو جدید سائنسی اور تخلیقی بنیادوں پر استوار کرنے کے موضوع پر دیکھئے یہ آج کا مکمل سیشن
05/02/2021
گزشتہ تیس برس سےیوم یکجتی کشمیر کےنام سے ایک ڈھونگ رچایاجارہاہے۔"ندائے کشمیر"کےعنوان سے یہ نظم کشمیر کی ایک بیٹی نے لکھی ہےجو اس دن کی مناسبت سےایک جامع پیغام دےرہی ہے۔ مطالبہ یہی ہے کہ کشمیریوں کواب مزید دھوکے میں نہ رکھا جائے۔دکھاوےکے بندھن توڑ دیےجائیں۔
ندائے کشمیر
شاعرہ: ثمن ابرار خان
بہت مبارک!
میرے عزیزو،
تمہارے نعروں کی گونج سے دشمنوں کا دل
بهی لرز گیا ہے
تمہارے پر جوش بهاشنوں سے کسی کا جیون
سنور گیا ہے
میری رگوں سے جو پهوٹتا ہے لہو کا دریا
اتر گیاہے
جو چارہ گر مانتا تها خود کو وہ عہد پورے
بهی کر گیا ہے
یہ سب ہوا ہے تو پهر مبارک
تمہیں یہ فتح بہت مبارک
تو اب میرے ہاں جوان لاشے نہیں اٹهیں گے
سہاگ لٹتے تهے کل تلک جو، نہیں لٹیں گے
کہ میری بٹیا کے سر کا آنچل نہیں چهنے گا
کوئی بدن اب ہوس کا ساماں نہیں بنے گا
نہ کهیلی جائے گی میرے سینے پہ خوں کی ہولی
نہیں لگے گی نا اب یہاں عصمتوں کی بولی
یہی ہوا ہے؟ بہت مبارک
نہیں ہوا کیا؟
سو سچ یہی ہے کہ ڈهونگ ہےجو رچا رہے ہو
مجهے یوں پاگل بنا رہے ہو
میرے حق میں کیا خوب نغمے بجا رہے ہو
تماش بیں ہو تبهی تو تم کو یہ غم نہیں ہے
وجود تها یہ جو ایک پنجر میں ڈهل گیا ہے
ادهورا پنجر
وہ ایک پنجر کہ جس کو گدھ نوچ کها رہے ہیں
اور نوچ کها کر
اسے وہ اپنے بدن کا حصہ بتا رہے ہیں
سوجب مقدر کی یہ سیاہی نہیں چهٹی ہے
میری دنیا ابهی بهی ٹکڑوں میں ہی بٹی ہے
تو نعرے بازی ، فضول بهاشن
اور لغو ناٹک ہی چهوڑ دو نا
کہ جودکهاوے کا مجھ سے بندهن
بنا رکها ہے وہ توڑ دو نا !
SAK Whispers
05/02/2020
19/01/2021
اس تصور کو جرمنی کے مشہور فلسفی جارج ولہیم فریڈرک ہیگل(1831_1770) نے "Unity of Opposites" کے نظریے میں بیان کیا۔ ہیگل کا بنیادی خیال تضادات کے ذریعے نشونما کا تھا۔
ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ہمیں اسکی جھلک نظر آتی ہے۔ تاریخ، فلسفہ، سماج، سیاست، ریاست غرض کہ ہر ایک لمحہ تغیر کی نوید ہے۔ کل جو تھا آج نہیں ہے۔ جو مقدس تھا آج ہوا ہو گیا۔ ہر چیز اپنے اندر تضاد لے کر وجود پاتی ہے۔ اسکی آسان اور سادہ ترین مثال کچھ یوں ہوں جیسے محبّت اور نفرت متضاد ہیں۔ لیکن محبّت اور نفرت دو لازم ملزوم چیزیں بھی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے وجود اور تصور، اور انتہا کو سمجھنے کے لئے ناگزیر ہیں۔یہی معاملہ لطف اور درد کا ہے۔ایک کا وجود دوسرے کے بغیر نا ممکن ہے۔ طبی نقطہ نظر سے درد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جسم میں کچھ ٹھیک نہیں ہے۔درد کی انتہا لطف کی انتہا کے ساتھ ہی سمجھی جا سکتی ہے۔
سر ونٹیز کے ناول کے مشہور کردار ڈان کیخوٹے نے سانچو پانزا کو یہ سمجھایا کے بھوک بہترین چٹنی ہے۔ اسی طرح تھکن کے بغیر آرام کے وجود کو نہیں سمجھ سکتے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے ہینری چہارم میں شہزادہ ہال کہتا ہے "اگر سارا سال کھیل کی چھٹیاں ہوں تو کھیل کام کی طرح کٹھن لگنے لگے گا۔ لیکن جب یہ کبھی کبھار آتی ہیں تو لوگ انکا انتظار کرتے ہیں "۔ ایک دنیا جس میں سب کچھ سفید ہو ، درحقیقت ایک ایسی دنیا کی طرح ہو گی جس میں سب کچھ سیاہ ہو۔ یہ بات قطبین پر جانے والے مہم جوؤں نے ٹب دریافت کی جب انہیں کوری برف میں ہونے والے اندھے پن کا سامنا کرنا پڑا۔
زندگی اور موت بھی ایک دوسرے کا الٹ ہیں۔ موت زندگی کا ایک لازم جز ہے لیکن حقیقت میں موت زندگی کا ایک لازمی جز ہے۔ زندگی موت کے بغیر سمجھی ہی نہیں جا سکتی۔ ہم پیدا ہوتے ہی مرنا شروع کر دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ اربوں خلیوں کا مرنا اور نۓ اربوں خلیوں کا انکی جگہ لینا ہی ہے۔ جو زندگی اور انسان کی نشونما کا باعث ہے۔