محترم سکول لیڈرز۔
یہ چند سطریں کسی تنقید یا مایوسی کے لیے نہیں، بلکہ خیرخواہی کے جذبے کے تحت لکھی جا رہی ہیں۔ یہ پیغام ان تمام چھوٹے اسکولوں کے لیے ہے جو برسوں سے اپنی محنت، نیت اور خلوص سے اپنے علاقوں میں علم کا چراغ جلائے ہوئے ہیں۔
آج کا دور تیزی سے بدل رہا ہے۔ تعلیم کا منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی، جدید تدریسی رجحانات، والدین کی بدلتی توقعات، اور بڑے برانڈز کے اسکولوں کی تیز رفتار توسیع نے چھوٹے پرائیویٹ اسکولوں کے لیے ایک چیلنج کی صورت اختیار کر لی ہے۔
یہ سچ ہے کہ
آپ کے اخراجات بڑھ رہے ہیں
اساتذہ پریشان اور بے حوصلہ ہیں
والدین معیاری تعلیم تو چاہتے ہیں لیکن فیس بڑھانے پر آمادہ نہیں
اور دوسری جانب، بڑے اسکول دھڑا ،دھڑ اپنی برانچز کھول کر، بہتر سہولیات دے کر آپ کے طالبعلم کھینچ رہے ہیں
لیکن سوال یہ ہے: کیا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں؟ یا وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر خود کو بہتر بنائیں؟
اگر آج آپ نے کچھ نہ کیا تو شاید کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ وقت کا طوفان دروازے پر آ چکا ہے۔ اگر آپ نے خود دروازہ نہ کھولا تو یہ طوفان اسے توڑ کر اندر آ جائے گا۔
اب کرنا کیا ہے؟
اساتذہ کو تربیت دینی ہے
نئے تدریسی طریقے سیکھنے ہیں
ٹیکنالوجی کو اپنانا ہے
اپنے نظام کو منظم اور شفاف بنانا ہے
والدین اور کمیونٹی سے مؤثر روابط قائم کرنے ہیں
اور سب سے بڑھ کر، تعلیم کو آج کی دنیا کے مطابق بنانا ہے
مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ابھی وقت ہے
اپنے وژن کو بڑا کیجیے
اپنے مشن کو واضح کیجیے
اور اپنے اسکول کو ایک جدید، فعال اور پُر اثر ادارہ بنائیے
۔Edspire Global ان چیلنجز بھرے سفر میں آپ کے ساتھ ہے۔
یاد رکھیے، چھوٹا اسکول ہونا مسئلہ نہیں
چھوٹا سوچنا اصل مسئلہ ہے
آپ کا سفر، آپ کی جدوجہد، اور آپ کی نیت لائقِ تحسین ہے
آیئے، اب ایک نئے عزم، نئے وژن اور نئی توانائی کے ساتھ
اپنے اسکول کو مستقبل کے لیے تیار کریں
خلوص اور احترام کے ساتھ۔
تنویر گْھمن ۔
فاؤنڈر- لیڈ ٹرینر
۔Edspire Global
https://wa.me/923338016119
Edspire Global
Edspire pakistan is on a Mission helping the Schools upgrade, grow and serve the future of our Nation in more relevant ways.
We have a team of experts with the detailed skills & experience.
This is a sincere reminder for the respected School leaders, directors, principals and other stakeholders.
There's a wind of change, banging our doors
Tanveer Ghumman
Founder, Lead Trainer
Edspire Global.
https://wa.me/923338016119
23/05/2025
پاکستان کے ہزاروں چھوٹے پرائیویٹ اسکول آج ایک ایسے چوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہر راستہ بند ہوتا نظر آتا ہے۔ بظاہر سب کچھ چل رہا ہے۔ بچے آ رہے ہیں، اساتذہ پڑھا رہے ہیں۔ لیکن جو نظر نہیں آتا، وہ ہے وہ خاموش جنگ جو ان اداروں کی دیواروں کے پیچھے لڑی جا رہی ہے۔
یہ سکول کسی بڑے برانڈ کا حصہ نہیں، نہ ہی کسی سرمایہ دار کا منصوبہ ہیں۔ یہ عام لوگوں کے خوابوں سے بنے ہیں۔ ایک استاد، ایک پرنسپل، یا ایک والد نے اپنی جمع پونجی لگا کر، بچوں کے مستقبل کے لیے کچھ کرنے کا ارادہ کیا اور ایک چھوٹے سے اسکول کی بنیاد رکھی۔ مگر آج وہی اسکول بقاء کی جنگ میں آخری سانسیں لے رہے ہیں۔
ان کی سب سے بڑی مشکل ایک بہت ہی تکلیف دہ تضاد ہے:
فیس نہ بڑھائیں تو زندہ نہیں رہ سکتے،
فیس بڑھا دیں تو بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔
اساتذہ کو بہتر تنخواہ دینی ہے تاکہ وہ وفادار رہیں،
کرایہ، بجلی، اور دیگر اخراجات ہر مہینے بڑھ رہے ہیں، مگر آمدنی وہی پرانی ہے۔
نتیجہ؟
معیار قربان ہوتا ہے اور سکول آہستہ آہستہ ڈوب جاتا ہے۔
ایک اور کڑوی حقیقت یہ ہے کہ یہ اسکول
آج کی تعلیم کے جدید تقاضوں کے لیے تیار نہیں۔
نہ ان کے پاس وہ ٹیکنالوجی ہے،
نہ وہ ٹریننگ،
نہ وہ تدریسی ماڈلز جو آج کے بچے کو درکار ہیں۔
دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔ جدید سکول
۔AI، interactive learning، project-based thinking، ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز پر شفٹ ہو رہے ہیں۔
لیکن یہ سکول آج بھی بورڈ، چاک، اور رٹے کے سہارے چل رہے ہیں۔
یہی وہ خاموش تباہی ہے جسے کوئی سکول روکنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
کیونکہ اس کا شور سنائی نہیں دیتا۔
لیکن اس کا اثر بہت گہرا ہے۔
اوپر سے ایک اور طوفان حملہ آور ہے۔
برانڈڈ اسکولز کی جارحانہ توسیع۔
ہر کونے میں نئی برانچ، ہر محلے میں ایک مشہور نام۔ والدین متاثر ہوتے ہیں، اور چھوٹے اسکول پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ ایک خاموش صفایا ہے،
جہاں نہ کوئی آواز اٹھا رہا ہے،
نہ کوئی پالیسی ساز سوچ رہا ہے،
اور نہ معاشرہ روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
۔Edspire Global ان اسکولوں کے لیے آواز بھی ہے، اور سہارا بھی۔
ہم جانتے ہیں کہ آپ کے پاس وسائل محدود ہیں،
مگر ہم یقین دلاتے ہیں کہ وژن اور عملی رہنمائی کے ذریعے یہ اسکول نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ نکھر سکتے ہیں، آگے بڑھ سکتے ہیں، اور اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
ہم ان اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرتے ہیں اساتذہ کو ٹریننگ دیتے ہیں، قیادت کو کنسلٹنسی دیتے ہیں، اور فیس کے نظام کو اعتماد کے ساتھ ترتیب دینے میں مدد کرتے ہیں۔
اگر آپ بھی اس بحران میں الجھے ہوئے ہیں،
تو جان لیں آپ اکیلے نہیں۔
چلیے!
ہم اور آپ مل کر ان اداروں کو ختم ہونے سے بچائیں۔ ان کو جدید ٹیکنالوجی اور نئے تعلیمی رجحانات سے ہم آہنگ کریں ، انہیں برانڈڈ سکولز کے مقابلے میں زندہ رہنے کے قابل بنائیں۔
کیونکہ تعلیم کا میدان صرف برانڈز کے لیے نہیں
دل والوں کے لیے بھی ہونا چاہیے۔
تنویر گھمن
بانی و سی ای او — ایڈسپائر گلوبل۔
What's App # +923338016119
21/05/2025
ابھی صبح کی اسمبلی ختم ہوئی ہے،
بچے قطاروں میں کلاس میں جا چکے ہیں،
ٹیچر نے بورڈ پر عنوان لکھ دیا ہے،
اور بچے کاپیوں میں سر جھکائے لکھ رہے ہیں۔
سب کچھ بظاہر "ٹھیک" لگ رہا ہے۔
لیکن ایک سوال ضروری ہے:
"یہ بچے سیکھ بھی رہے ہیں... یا صرف دوہرا رہے ہیں؟"
ہمارے اسکولوں میں ہر روز ہزاروں اسباق پڑھائے جاتے ہیں،
ہزاروں کاپیاں چیک ہوتی ہیں،
ہزاروں ٹیسٹس میں بچے لاکھوں صفحات لکھتے ہیں
رزلٹس کی رپورٹیں بنتی ہیں،
اور ہم مطمئن ہو جاتے ہیں کہ
"تعلیم کا عمل جاری ہے۔"
مگر افسوس...
بچوں کے چہرے چُپ رہتے ہیں۔
آنکھوں میں وہ چمک نہیں جو سیکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔
اور دل میں وہ سوال نہیں جو جستجو سے جاگتا ہے۔
ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے:
"ہم کیا دے رہے ہیں؟ تعلیم؟ یا صرف معلومات؟"
ہمارے نصاب، ہمارے اسباق، ہماری کاپیاں
اب بھی وہی چیزیں دہرا رہی ہیں
دنیا بدل چکی ہے،
زندگی کے تقاضے بدل چکے ہیں،
لیکن ہمارے اسکول…بچوں کو اسی پرانے سانچے میں فِٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ بچہ سوال کرنا بھول گیا ہے،
سوچنا خطرہ بن گیا ہے،
اور غلطی کرنا، شرمندگی۔
رٹا مار لینا "قابلیت" ہے،
اور اختلاف کرنا "بدتمیزی"۔
میں نے ایسے بچے دیکھے ہیں
جن کی آنکھوں میں کائناتیں چھپی ہوتی ہیں
مگر طرزِ تدریس، سلیبس، اور اداروں اور اساتذہ کی وہی روایتی سوچ
ان کے اندر کی روشنی بجھا دیتی ہے۔
اور ان کی جگہ وہ بچے لے لیتے ہیں
جو بس رٹا لگانے میں تیز ہوتے ہیں۔
جو یاد کر لیتے ہیں،
مگر سمجھتے نہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا
کیا ہمارا اسکول صرف نتائج دے رہا ہے،
یا پھر بچوں کو زندگی کے لیے تیار بھی کر رہا ہے؟
۔Edspire Global میں ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ
تعلیم کا مقصد "سوچنے، سمجھنے والا انسان" پیدا کرنا ہے،نہ کہ صرف "یاد رکھنے والا۔
ہم اسکولوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ
کیسے نصاب کو زندگی سے جوڑا جائے،
کیسے کلاس روم میں تحقیق، سوال اور تخلیق کی فضا پیدا کی جائے،
اور کیسے بچوں کو صرف اگلا ٹیسٹ پاس کرنے کے قابل نہیں، بلکہ اگلی دنیا جیتنے کے قابل بنایا جائے۔
اگر آپ بھی محسوس کرتے ہیں
کہ آپ کا سکول بھی صرف "چل" رہا ہے۔
تو ہم سے بات کیجیے۔
چلیے مل کر ایسا تعلیمی ماحول بناتے ہیں
جہاں بچے صرف نمبر لینے نہیں،
زندگی سمجھنے آئیں۔
تنویر گھمن
بانی و سی ای او — ایڈسپائر گلوبل
20/05/2025
One of the best advices on Staff retention by one of the most successful entrepreneurs in the world.
19/05/2025
میں نے بہت سے اسکول مالکان اور پرنسپلز کو ایک جملہ بار بار کہتے سنا ہے:
" آج کل اچھے اساتذہ ملتے نہیں... اور جو مل جائیں، وہ ٹِکتے نہیں!"
یہ صرف ایک شکایت نہیں،
یہ ایک تھکا دینے والا سچ ہے
جو ہر سال اسکول کے بجٹ، اسٹاف لسٹ اور والدین کی شکایات کے بیچ دھیرے دھیرے سانس لیتا رہتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اسکول کا دل اُس کا استاد ہوتا ہے۔
عمارت کتنی بھی خوبصورت ہو، کورس کتنا ہی جدید ہو ، انفراسٹرکچر کتنا ہی اعلیٰ ہو۔
اگر استاد دل سے جڑا نہ ہو،
تو سیکھنے کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔
لیکن آج کل استاد زیادہ دیر "دل" سے جُڑ ہی نہیں پاتا۔
کبھی مالی مسائل،
کبھی عزت نفس کا سوال،
اور کبھی صرف یہ احساس کہ
"یہ جگہ میرے لیے نہیں ہے"
میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے استاد دیکھے ہیں
جو بچوں کے چہروں پر ہنسی بکھیرتے ہیں،
لیکن خود دل میں خاموشی لیے سلگتے ہیں۔
جو ہر دن پوری ایمانداری سے پڑھاتے ہیں،
لیکن شام ہوتے ہی سکول کو چھوڑنے کا سوچنے لگتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں:
"اُس نے وفاداری نہیں دکھائی!"
مگر کیا ہم نے اُسے ایسی فضا دی
جہاں وفاداری پنپتی ہے؟
کیا ہم نے اُسے بولنے کا وقت دیا؟
کیا ہم نے اس کے خیالات کو سنا؟
کیا ہم نے اُس کی ترقی کا کوئی منصوبہ بنایا؟
کیا ہم نے اس کی مالی الجھنوں اور ذمّہ داریوں کو سمجھا؟
کیا ہم نے اس کی پیشہ ورانہ گروتھ کے لئے کوئی ٹریننگ، ورکشاپ، کسی تربیتی پروگرام کا اہتمام کیا؟
یہ سوالات تلخ ضرور ہیں،
مگر سچائی کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے
انہیں خود سے پوچھنا ضروری ہے۔
ایک استاد اُس وقت رُکتا ہے
جب وہ خود کو صرف ایمپلائی نہیں،
بلکہ اس ادارے کا اہم حصہ محسوس کرے۔
جب اُسے لگے کہ
"یہ اسکول میرے بغیر ادھورا ہے"
تو وہ صرف اپنا وقت نہیں،
اپنا دل، اپنی توانائی، اور اپنا جذبہ بھی دے دیتا ہے۔
۔Edspire Global کا مشن یہی ہے
کہ سکول صرف بچوں کے لیے نہیں،
اساتذہ کے لیے بھی گھر جیسے بنیں۔
ایسا ماحول جہاں وہ نہ صرف پڑھائیں،
بلکہ خود بھی نکھریں،
بڑھیں،
اور خود کو ایک خاندان کا حصہ محسوس کریں۔
اگر آپ بھی چاہتے ہیں
کہ آپ کا اسکول بار بار نئے لوگوں سے بھرنے کے بجائے
ایک پائیدار، مضبوط اور محبت بھری ٹیم بنائے
تو ہم سے رابطہ کیجئے۔
آئیں، مل کر وہ جگہ بنائیں
جہاں استاد صرف آئے نہیں
رُک بھی جائے، اور جُڑ بھی جائے۔
تنویر گھمن
بانی و سی ای او — ایڈسپائر گلوبل
16/05/2025
کبھی کبھی رات کو جب سکون چھا جاتا ہے، سب سو جاتے ہیں، مگر ایک شخص بستر پر کروٹیں بدلتا ہے، کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور فون میں موجود کیلکولیٹر کھول کر جمع، تفریق شروع کر دیتا ہے
یہ ایک پرائیویٹ سکول کا پرنسپل ہے یا پھر اس سکول کا مالک۔
مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ وہی ہے ، وہی کلاسک سوال جس کا سامنا لاکھوں چھوٹے پرائیویٹ سکول ہر روز کرتے ہیں:
"اب کیا کریں؟ فیس بڑھائیں؟ یا جیسے تیسے کام چلاتے رہیں؟"
یہ سوال کوئی حساب کتاب نہیں، یہ ایک خاموش جنگ ہے۔
جس میں ہر دن ایک طرف خواب ہوتے ہیں،
اور دوسری طرف بجلی کے بل، تنخواہیں، کرایے، اور وعدے۔
ہمارے معاشرے میں پرائیویٹ اسکولز کو اکثر غلط فہمی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کہ وہ بس فیس لیتے ہیں ۔بس روز نئے بہانے سے پیسے نکلوانے والی مشینیں ہیں۔
لیکن جو حقیقت یہ سکول روز جیتے ہیں،
وہ صرف یہی جانتے ہیں۔
کچھ اسکول بڑے برانڈز ہیں۔
جہاں موٹی فیس ہے، بڑے بورڈز، وسیع مارکیٹنگ، بھاری انفرااسٹرکچر۔
مگر پاکستان کے بیشتر اسکولز؟
وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے وہ ادارے ہیں جو چھوٹے بجٹ،
محدود وسائل، اور بڑے خوابوں کے ساتھ چل رہے ہیں۔
یہ وہ اسکول ہیں جہاں پرنسپل خود بچوں کے لئے دروازہ کھولتا ہے،
جہاں آفس اسسٹنٹ اور اکاؤنٹس آفیسر ایک ہی بندہ ہوتا ہے،
اور جہاں ٹیچر صرف پڑھانے نہیں،
بلکہ ادارہ چلانے کا بھی حصہ ہوتا ہے۔
ان اسکولوں کے پاس نہ حکومت کی فنڈنگ ہے،
نہ فیس بڑھانے کی آزادی۔
مگر ان کے کندھوں پر ایک نسل کا خواب ہے۔
اور جب مہنگائی بڑھتی ہے،
بلڈنگ کا کرایہ، اسٹاف کی تنخواہیں، بجلی کے بل، مینٹیننس کے خرچے اور معیار کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری بڑھتی ہے۔
تو ایک ہی سوال پھر دل پر دستک دیتا ہے:
"کیا ہم والدین سے کچھ اور مانگ سکتے ہیں؟"
مگر جب فیس میں تھوڑا سا اضافہ کیا جاتا ہے،
تو اکثر پہلا اثر اعتماد پر پڑتا ہے ۔
اور والدین دھمکیاں دینے اور اگلے اسکول کا دروازہ کھٹکھٹانے لگتے ہیں۔
ان لمحوں میں بہت سے اسکول فیصلے نہیں کر پاتے۔
کچھ معیار پر سمجھوتہ کرتے ہیں،
کچھ اچھے اساتذہ کھو دیتے ہیں،
اور کچھ اپنی ساری طاقت لگا کر صرف سروائیو کرتے ہیں ، ترقی نہیں کرتے۔
یہ وہ لمحے ہیں جہاں ایک سوچنے والا، سمجھنے والا، اور انسانیت سے جُڑا "تعلیمی وژن" ضروری ہے۔
۔Edspire Global میں، ہم صرف تعلیمی مشورے نہیں دیتے۔ہم اسکولز کو یہ سکھاتے ہیں کہ اعتماد کیسے کمایا جاتا ہے۔
کیسے والدین سے تعلق مضبوط کیا جاتا ہے۔
کیسے فیس کا نظام منصفانہ، شفاف اور قابلِ قبول بنایا جاتا ہے۔کیسے مالی استحکام کے ساتھ تعلیمی معیار کو زندہ رکھا جاتا ہے۔
کیونکہ ہمارا یقین ہے:
فیس لینا جرم نہیں ہوتا ، اعتماد سے لینا ہنر ہوتا ہے۔
اگر آپ بھی اس الجھن میں ہیں،
اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا اسکول صرف "چلے" نہیں ، بلکہ آگے بڑھے، ترقی کرے ، اور روشن ہو
تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
آئیں، بات کریں۔
کھل کر، سچائی کے ساتھ ، بغیر خوف کے۔
Tanveer Ghumman
Founder, CEO — Edspire Global
Transforming Schools | Empowering Educators.
14/05/2025
میں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں سکول دیکھے ہیں۔
کچھ بہت مہنگے، کچھ بالکل سادہ۔
کسی کی عمارت شاندار، کسی کا نصاب زبردست۔
مگر ایک بات بارہا محسوس کی:
کچھ اسکول ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے۔
ان میں رونق، جوش ، جذبہ، زندگی… جیسے غائب ہو گئی ہو۔
اور جب اس خاموشی کی تہہ میں جھانکا،
تو اکثر ایک وجہ سامنے آئی:
قیادت کا خلا۔
سکول میں پرنسپل تو ہوتا ہے،
مگر وہ بس ایک فائلوں میں گم،
چیزوں کے ریکارڈ دیکھ کر چیک باکس پر ٹک یا کراس لگانے والا شخص۔
وہ کمرے میں بیٹھا سب کچھ "چلا" تو رہا ہوتا ہے،
مگر صرف چلا ہی رہا ہوتا ہے ۔
ایک اسکول تب ہی سانس لیتا ہے جب اس کی قیادت زندہ ہو،
ہمدرد ہو، سیکھنے والا ہو،
میں نے اساتذہ کو دیکھا ہے ، محنتی، باصلاحیت، مگر مایوس۔
کیوں؟
کیونکہ ان کا قائد یا تو بہت مصروف ہے، یا بہت خاموش۔
اور جب قائد بولنا چھوڑ دے،
تو خواب مرنے لگتے ہیں۔
قیادت صرف حکم دینے کا نام نہیں،
یہ ساتھ چلنے کا،
سننے کا،
حوصلہ دینے کا،
اور سب سے بڑھ کر
مثال بننے کا نام ہے۔
ایک سچا قائد کبھی اپنی ٹیم کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
وہ جانتا ہے کہ استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا،
وہ ہر روز ایک نئی نسل کا اعتماد تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔
اور اگر استاد خود خالی ہو، تو وہ بچے کو کیا دے گا؟
اسی لیے میں بار بار کہتا ہوں:
ایک اسکول کی عمارت نہیں،
اس کی قیادت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا آپ کے اسکول میں وہ قیادت موجود ہے؟
ایسی قیادت جو صرف انتظام نہ کرے،
بلکہ ترغیب دے،
دلوں کو جوڑے،
اور ہر استاد کے اندر چھپے لیڈر کو جگا دے؟
اگر آپ تھوڑا سا بھی محسوس کرتے ہیں کہ کچھ کمی ہے،
تو رکیں نہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے تبدیلی شروع ہوتی ہے۔
۔Edspire Global آپ کے ساتھ ہے
نہ صرف بطور کنسلٹنٹ، ٹرینر ، بلکہ بطور ہمسفر۔
آئیں، مل کر وہ اسکول بنائیں
جس پر نہ صرف والدین،
بلکہ استاد، بچے اور خود آپ فخر کریں۔
Tanveer Ghumman
Founder, CEO — Edspire Global
Transforming Schools | Empowering Educators
12/05/2025
برگر بچے۔
جب والدین اپنے بچوں کے لیے دعا کرتے ہیں تو اکثر کہتے ہیں: "یا اللہ، میرے بچے کو کامیاب بنا، اسے خوشیاں دے ، یا اللہ اسے مصیبتوں اور آزمائشوں سے محفوظ رکھ۔" مگر شاید ہمیں کبھی دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے یہ بھی پوچھنا چاہیے: "کیا میں اپنے بچے کو زندگی کی اصل جنگ لڑنے کے لیے تیار کر رہا ہوں یا صرف اُسے ایک 'محفوظ پنجرے' میں رکھ کر اس کی لڑنے کی طاقت چھین رہا ہوں؟"
ہمارے بچے بہت نازک ہوتے ہیں، مگر وہ کانچ کی گڑیا نہیں ہوتے۔ وہ سیکھ سکتے ہیں، سنبھل سکتے ہیں، اور گر کر دوبارہ اٹھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ لیکن تب جب ہم انہیں گرنے دیں۔ جب ہم اُن کی ہر ٹھوکر کے سامنے بفر بن جائیں، تو ہم اُن سے ہر ٹھوکر سے سیکھنے کا موقع چھین لیتے ہیں۔
کبھی ہم انہیں پر جیتنے کے لیے ستائش کی بارش کر دیتے ہیں، کبھی ہار پر انہیں بہلانے کے لیے بہانے گھڑ لیتے ہیں۔ ہم اُنہیں ناکامی کی تلخی چکھنے ہی نہیں دیتے، اور پھر توقع کرتے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر ہر بحران کا جرآت سے سامنا کریں ۔ مگر جو بچہ بچپن میں ہار کے بعد بھی دل تھام کر مسکرانا نہ سیکھے , وہ بڑا ہو کر ناکامیوں کے سامنے کھڑا ہو کر کیسے مسکرائے گا؟
بچے تب مضبوط بنتے ہیں جب ہم انہیں زندگی کی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں خود لڑنے دیتے ہیں ۔ جب ان کے آنسوؤں پر چپ کروانے کی بجائے گلے لگا کر اور اُن سے کہتے ہیں: " بیٹا، میں تمہارے ساتھ ہوں، تم بہت بہادر اور مضبوط ہو تم اس سے گزر سکتے ہو۔" تب وہ سیکھتے ہیں کہ ناکامی کا مطلب کسی چیز کا ختم ہونا نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے اور زیادہ جذبے اور ہمت سے دوبارہ کوشش کرنا۔
ریزیلینٹ بچے وہ ہوتے ہیں جو خود پر یقین رکھتے ہیں، جو ہر شکست کو سیکھنے کا موقع سمجھتے ہیں، جو اپنی غلطیوں سے نہ شرماتے ہیں اور نہ ہی بھاگتے ہیں۔ وہ بچے ہرگز نہیں جو ہر وقت والدین کی انگلی پکڑ کر چلیں اور ہر بار قدم قدم پر والدین کی طرف دیکھیں ۔ بلکہ وہ جو اپنی آواز سننے، محسوس کرنے، اور اُس کے مطابق قدم اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔
بچوں کو یہ طاقت دینے کے لیے ہمیں جذباتی طور اُن سے جُڑنا ہوگا۔ صرف ان کے امتحان میں مارکس یا کامیابیوں سے نہیں، اُن کے جذبات، خوف، اور ناکامیوں سے۔ جب وہ کہیں: "میں ڈر گیا تھا" تو ہم اُنہیں ڈانٹنے کے بجائے گلے سے لگا کر کہیں: " بیٹا ، ڈرنا غلط نہیں۔ بہادر وہ نہیں جسے ڈر نہیں لگتا ، بلکہ بہادر وہ ہے جو ڈر کے باوجود قدم بڑھائے۔"
اور شاید سب سے بڑھ کر، ہمیں خود تھوڑا سمجھنا چاہئے ۔ ہم والدین ہیں، مگر ہم بھی کبھی بچے تھے۔ ہمیں یاد ہے وہ لمحے جب ہم گرے تھے ، ہارے تھے، ڈرے تھے، روئے تھے ، تو کیوں نہ ہم اپنے بچوں کے دل کی آواز پہچانیں؟ اُنہیں وہ سہارا دیں، جو شاید ہمیں کبھی نہیں ملا۔
آخری بات، اپنے بچوں کو صرف اچھا نہیں، 'اصل' انسان بننے دیں۔ ایسا انسان جو اپنی راہ خود چنے، خود سمجھے، خود سیکھے۔ کیونکہ آخرکار، کامیابی سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ خود پر، اپنی آواز پر، یقین کرنا سیکھیں ، خود پر بھروسہ رکھنا سیکھیں۔
اور جب وہ یہ یقین، یہ بھروسہ لے کر چلیں گے ، تو دنیا خود اُن کی آواز سنے گی۔
تنویر گْھمن ۔
08/05/2025
Had a light hearted Pre - PTM Training at TLA School Samanabad, LHR
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
789 N Poonch Road, Samanabad
Lahore
54000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 12:00 |
| Saturday | 09:00 - 19:00 |