10/10/2021
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب بھی خالق حقیقی سے جا ملے اللہ پاک جنت الفردوس عطا فرمائے آمین
اسلام وعلیکم،
اگر آپ تاریخی اور دلچسپ معلومات حاصل کرن?
10/10/2021
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب بھی خالق حقیقی سے جا ملے اللہ پاک جنت الفردوس عطا فرمائے آمین
11/09/2021
11 ستمبر
جناب قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کا دن.
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ پاک اُن کو جوار رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے.آمین
02/09/2021
ذولفقار علی بھٹو نے مادر ملت فاطمہ جناح کو اتنخابات میں ہرانے کے لیے ان پر تہمت تک لگائی اور انکے خلاف تقریر کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ کہا کہ " اس نے شادی کیوں نہیں کی ہے؟ " ۔۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کا یہ شرمناک الزام سن کر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے کچھ غیر ملکی صحافی رو پڑے تھے کہ یہ کیسی قوم ہے جو اس خاتوں پر بہتان لگا رہی ہے جس کو یہ مادر ملت یعنی " قوم کی ماں " کہتے ہیں ۔ قائد ملت کی بہن پر یہ تہمت اس جمہوری چیمپئن کے چہرے پر وہ داغ ہے جو کبھی نہیں مٹ سکے گا!
65ء کی جنگ کے حوالے سے انتہائی لبرل اور فوج مخالف سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کے مطابق یہ بھی بھٹو کی اقتدار ھوس کا ہی نتیجہ تھا ان کے الفاظ یہ ہیں " طارق علی کافی مشہورسٹوڈنٹ لیڈر تھے۔ انہوں نے اس وقت بھٹو سے 65 کی جنگ کے بارے میں پوچھا جب وہ ایوب خان کو چھوڑ چکے تھے کہ یہ جنگ آپ نے کیوں کی تھی؟ اور آپ نے کی تھی یا انڈیا نے ؟ ۔۔۔۔ بھٹو نے جواب دیا کہ ہم نے کی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ اگر ہارتے ہیں تو ایوب خان گر جائیگا، ایوب خان گرے گا تو میرا راستہ کھل جائیگا۔ جیت گئے تو ہیرو بن جائنگے کیونکہ میں ہی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں صورتوں میں میری جیت تھی"۔۔
محض اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے ذولفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا۔ اگر پاک فوج اپنی جانوں پر نہ کھیلتی تو شائد ہم لاہور ہار جاتے۔
شیخ مجیب جب اگرتلہ سازش میں پکڑا گیا اور ایوب خان اس کو غداری کے جرم میں سزا دینے لگا تو اس کو چھڑانے کے لیے بھٹو نے ملک گیر مہم چلائی اور بدترین حالات میں انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن جب مجیب نے انتخابات میں کلین سویپ کیا اور بھٹو کے مقابلے میں دگنے ووٹ لے لیے تو بھٹو نے اقتدار اس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا اور اس کو غدار قرار دیا اور یہ مشہور نعرہ لگایا " ادھر تم ادھر ہم
اسکے باوجود جب کچھ لوگوں نے شیخ مجیب کے ڈھاکہ میں بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی بات کی تو بھٹو نے دھمکی دی کہ " جو ڈھاکہ گیا میں اسکی ٹانگیں توڑ دونگا"۔۔۔۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔ بنگال الگ ہوا ۔۔۔۔۔ بچے ہوئے پاکستان پر بھی بھٹو کی جمہوری حکومت نہ بن سکی اور بھٹو تین سال تک کے لیے سول "مارشل لا" ایڈمنسٹریٹر بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے روئیداد خان اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ " بھٹو نے مجھے رات کو دس بجے بلایا اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ جاگ رہے ہونگے۔ میں نے کہا کہ کتاب پرھ رہا ہوں ۔۔ کہنے لگا یہ ٰیحیی نے کیا کر دیا۔ اس نے مجھ سے پوچھے بغیر ڈھاکہ اجلاس کی تاریخ طے کر لی۔ یہ تاریخ غلط فکس کی گئی ہے۔ اس کو چینج کراؤ۔ میں نے کہا کیسے؟ بنگالی تو مان گئے ہیں۔۔ بھٹو نے کہا بہت آسان ہے۔ ڈھاکہ میں ایک لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا کراؤ۔ ٹیر گیس ہوگی، لاٹھی چارج ہوگی، کچھ لوگ مرینگے۔ تاریخ تبدیل ہوجائیگی۔"
روئیداد خان کے مطابق بھٹو نہیں چاہتے تھے کہ ڈھاکہ میں اجلاس ہو۔
بھٹو سمجھ گئے تھے کہ جب تک مشرقی پاکستان، پاکستان کا حصہ ہے وہ کبھی وزیراعطم نہیں بن سکتے کیونکہ وہ کبھی مجیب سے نہیں جیت سکتے۔
اس لیے مارچ سے ستمبر تک بھٹو نے کچھ نہیں کیا جب پاک فوج ملک بچانے کے لیے دیوانہ وار لڑ رہی تھی۔ اگر اس وقت بھٹو سیاسی بھاگ دوڑ کرتے اور مجیب کو راضی کرلیتے تو شائد یہ سانحہ نہ ہوتا۔
پھر جب انڈیا نے حملہ کیا اور ملک ٹوٹنے کی نوبت آگئی تو وہ اس کو اقوم متحدہ میں روکنے کے بجائے کاغذات پھاڑ کر، اجلاس چھوڑ کر آگئے۔ اس نے بنگالیوں کو " سور کے بچو " کہہ کر مخاطب کیا۔ اسکی وہ تقریر آج بھی سنی جا سکتی ہے۔
پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھٹو نے جناح کے پاکستان کو قتل کر دیا۔ محض اس لیے کہ اسکو اقتدار مل سکے۔ بلاآخر بھٹو کو اقتدار مل گیا۔ عوام کو پہلی بار ضروریات زندگی کی اشیاء جیسے آٹا اور چینی کے حصول کے لیے قطاروں مٰیں کھڑا ہونا پڑا اور انکو مہنگائی کے معنی معلوم ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
احمقانہ معاشی فیصلوں اور کمزور سفارت کاری نے ایسے معاہدات کروائے کہ پاکستان کو اپنے کئی سال کی چاول کی فصل شہنشاہ ایران کی ضمانت پر گروی رکھوانی پڑی اور شملہ معاہدے میں جنگ بندی لائن کو کنٹرول لائن قرار دیا گیا دوسرے لفظوں میں اپنے پانیوں کو انڈیا کے حوالے کرنا پڑا۔۔ وولر بیراج کے معاملے میں انڈیا کو نہ روکا جا سکتا ہاں جنرل ضیاء کے پیدا کیے گئے مجاہدین نے بعد میں اس پر حملے کر کے اسکی تنصیبات کو کئی بار تباہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
بعد میں بھی حالات کچھ اچھے نہ رہے بھٹو نے جس سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا اس کے متعلق انکی اہلیہ نصرف بھٹو نے برملا اعتراف کیا تھا کہ یہ مارکسزم سے اخذ کیا گیا ہے (جس نے کروڑوں کو خدا کی ذات کا منکر کر دیا اور آج بھی کر رہے ہیں) اسکے نتیجے میں صتعتیں قومیا لی گئیں جس سے نہ صرف ملک سے سرمایہ نکل گیا بلکہ صنعتیں اور بعض ادارے ایسے تباہ ہوئے کہ آج تک دوبارہ نہیں اٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
شراب کھلی عام پی جانے لگی پاکستانی میڈیا پر پہلی بار بےحیائی (اس دور کے لحاظ سے) نظر آنے لگی یہانتک کہ کراچی میں دنیا کا سب سے بڑا کیسینو بننا شروع ہوا جس کا مہیب ڈھانچہ شائد آج بھی کلفٹن کے ساحل پر موجود ہے۔ جمہوری حکومت کے اس شاندار کارنامے کے بعد وہاں جو کچھ ہوتا اس سے کم از کم اسلامی دنیا میں پاکستان کے "وقار" میں زبردست اضافہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بھٹو کے خلاف تحریک نے زور پکڑا اور آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کر لیا تو بھٹو نے اعلان کیا کہ "میرے ہاتھ میں علی(رض) کی تلوار ہے " سمجھنے والے خوب سمجھتے ہیں کہ اسکا کیا مطلب تھا ملکی سیاست میں پہلی بار فرقہ وارانہ رنگ بھر دیا گیا۔ یہ رنگ نہیں بلکہ زہر تھا ۔۔۔۔۔اسکا یہ اثر ہوا کہ ظفر علی شاہ روڈ پر جیالوں نے مولانا شاہ احمد نورانی کی داڑھی نوچی، انکا جبہ پھاڑا اور اسکی پگڑی لیر لیر کر کے لے گئے ۔۔ سو یہودی ایک مودودی کے نعرے لگے ۔۔۔۔۔۔ بھٹو صاحب کے مصلوب ہونے پر یہ فرقہ وارانہ رنگ اور شدید ہوگیا اور آج تک قائم ہے ۔۔۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بھٹو کے اس نعرے کا اثر یہ ہے کہ آج بھی ملک کی تیس فیصد آبادی فرقے کی بنیاد پر ووٹ ڈالتی ہے میری یہ بات کچھ لوگوں کو سخت لگی گی لیکن یہ سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
22/08/2021
گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق (1982 سے 1998 کے درمیان) پاکستان کے عالم چنا دنیا کے سب سے طویل القامت شخص تھے۔ عالم چنا کا قد 7 فٹ 7 انچ لمبا تھا۔ عالم چنا کا تعلق ایک غریب سندھی گھرانے سے تھا۔ انہوں نے کسی قسم کی اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی ان کے گھرانے کے مرد روایتی طور پر سہون شریف کے مشہور صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر معمولی ملازمین تھے۔ 1978 میں سالانہ عرس کے دوران مزار کے بیرونی حصے میں لگائی گئی کسی ایک سرکس کے مالک نے عالم چنا کو سرکس میں ملازمت کی پیش کش کی۔ عالم چنا مزار پر ہفتے میں صرف 15 روپے کما رہے تھے! لہٰذا جب سرکس والوں نے انہیں ماہانہ 160 روپے کی پیش کش کی تو انہوں نے فوراً پیش کش قبول کرلی۔ سرکس نے عالم چنا کو مقامی اسٹار میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے سرکس کے ساتھ سندھ کے ہر کونے کا سفر کیا۔ چھوٹے قد کے دو جوکرز حسب معمول اپنا کرتب دکھاتے، جس دوران انہیں صرف ان کے درمیان اینٹری لینی ہوتی۔ وہ چلتے ہوئے اندر آتے اور ان جوکرز کو اوپر اٹھانا شروع کرتے تھے (جو خود کو یوں محسوس کرتے کہ جیسے وہ اس دیو ہیکل شخص سے بچ کر بھاگ رہے ہوں)۔ عالم چنا انہیں جھپٹ کر پکڑ لیتے اور اپنے کندھوں پر رکھ دیتے تھے۔ 1981 میں ایک شخص نے عالم چنا کو سرکس میں دیکھ کر گنیز بُک آف ورلڈ رکارڈز کے ایڈیٹرز کو خط لکھا۔ خط کے ساتھ انہوں نے سرکس میں عالم چنا کی کھینچی ہوئی کچھ تصاویر بھی بھیج دیں۔ کچھ مہینوں بعد گنیز سے کچھ افسران سندھ کے دار الخلافہ کراچی آئے اور وہاں سے وہ سہون پہچے جہاں انہوں نے عالم چنا سے ملاقات کی اور ان کا قد ناپا۔ اس وقت ان کا قد 7 فٹ 7 انچ ناپا گیا تھا۔ برطانیہ واپسی پر انہوں نے عالم چنا کا نام دنیا کے سب سے طویل القامت انسان کے طور پر درج کر لیا۔ یہ خبر سب سے پہلے مقامی سندھی اخباروں میں شائع ہوئی، جس کے بعد بڑی تعداد میں اردو اور انگریزی اخباروں نے اس خبر کو شائع کیا اور پھر آخر کار سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) پر رات 9 بجے کے اردو خبر نامے میں اس خبر کو نشر کیا گیا۔ راتوں رات 'عالم چنا' ایک مشہور نام بن گیا تھا۔ وہ جہاں جاتے، میڈیا نمائندگان اور تماشائی ان کا پیچھا کرتے آجاتے۔ انہیں جس انداز میں شہرت مل رہی تھی وہ اس سے پریشان ہو گئے تھے۔ عالم چنا نے سرکس چھوڑ دی اور پھر سے مزار پر معمولی ملازمت شروع کر دی۔ 1985 میں جرنل ضیاء الحق نے عالم چنا کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش کا اظہار کیا۔23 مارچ کو جرنل ضیاء الحق کے ہاتھوں یومِ پاکستان کی پریڈ تقریب کے دوران ایک خصوصی ایوارڈ وصول کرنے کے لیے دعوت دی گئی۔ 21 مارچ کو انہیں کراچی لے جایا گیا اور پھر ہوائی سفر کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تقسیم ایوارڈ کی تقریب کے دوران ہزاروں افراد کے سامنے انہوں نے ضیا سے ایوارڈ وصول کیا اور ایک فوٹوگرافر نے پریس کے لیے اس موقعے کو قید کر لیا۔ پاکستان کے تمام نمایاں اخبارات (اور برطانیہ کے ڈیلی ٹیلی گراف نے بھی) نے ضیا کے ہاتھوں عالم چنا کو ایوارڈ دیتے وقت کی تصویر شائع کی جسے وصول کرنے کے لیے انہیں نمایاں طور پر جھکنا پڑا تھا۔ وہی تصویر کافی سندھی اخبارات میں بھی شائع ہوئی، لیکن ایک الگ کیپشن کے ساتھ۔ بجائے یہ لکھنے کے کہ 'دنیا کے سب سے طویل القامت شخص عالم چنا صدر ضیاء الحق کے ہاتھوں خصوصی ایوارڈ وصول ک رہے ہیں'، زیادہ تر سندھی اخبارات نے (سندھی میں) لکھا کہ 'سندھ اب بھی ضیاء کو چھوٹا سمجھتا ہے۔ انہوں نے 1989 میں شادی کی ۔1990ءسےھی ان کی صحت خراب ہونا شروع ہو گئی تھی۔ وہ اکثر مایوس اور تنگ ہو جاتے تھے اور یہی شکایت کرتے کہ وہ اپنی عام سی زندگی میں ہی بہت خوش تھے۔ وہ اکثر اپنے سرکس کے دنوں کے بارے میں باتیں کرتے اور انہوں نے لعل شھباز قلندر کے مزار پر بھی عقیدتاّ ملازمت جاری رکھی ۔ باوجود اس کے کہ انہیں دنیا بھر سے نقد انعامات اور تحائف ملنا شروع ہو گئے تھے 1998 میں ان کے گردے ناکارہ ہونا شروع ہو گئے۔ حکومت نے انہیں علاج کے سلسلے میں اپنے خرچے پر امریکا بھیجنے کا فیصلہ کیا، مگر امریکی ہسپتال میں کوما میں چلے گئے اور جلد ہی وفات پا گئے۔ اس وقت ان کی عمر 45 برس تھی۔ وہ سہون شریف میں مدفون ہیں۔
20/08/2021
خدا کا وجود
پچھلے تقریباً پانچ سو سال سے کائنات کا سائنسی مطالعہ جاری ہے۔ اِس مطالعے میں بڑے بڑے دماغ شامل رہے ہیں۔ آخری بات جہاں یہ سائنسی مطالعہ پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان کے لیے اُس کو اپنے احاطے میں لانا بظاہر ناممکن ہے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق، انسان کا علم بہ مشکل کائنات کے صرف پانچ فی صد حصے تک پہنچا ہے۔ اِس پانچ فی صد حصے کے معاملے میں بھی انسانی علم کی محدودیت کا یہ عالم ہے کہ ایک سائنس داں نے کہا کہ ہم جتنا دریافت کرپاتے ہیں، اُس سے صرف یہ معلوم ہوتاہے کہ دریافت شدہ چیزیں بھی ابھی تک غیردریافت شدہ چیزوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں:
We are knowing more and more about less and less.
خدا کے بارے میں جاننا خالق (Creator) کے بارے میں جاننا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ابھی تک انسان خالق کی تخلیق (creation) کے بارے میں بھی صرف چند فی صد جان سکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا یہ مطالبہ کرنا کہ خالق کے بارے میں ہم کو قطعی معلومات دو، سرتاسر ایک غیر علمی مطالبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک تخلیق کے بارے میں پورا علم حاصل نہ کرسکا تو وہ خالق کے بارے میں پورا علم کیسے حاصل کرسکتا ہے۔
تخلیق کا وجود زمان ومکان(space and time) کے اندر ہے، اور خالق کا وجود ماورائے زمان ومکان(beyond space and time) سے تعلق رکھتا ہے، پھر جو انسان اتنا محدود ہو کہ وہ زمان ومکان کے اندر کی چیزوں کا بھی احاطہ نہ کرسکے، وہ زمان ومکان کے باہر کی حقیقت کو اپنے احاطے میں کس طرح لا سکتا ہے— حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں انسان خدا کو صرف عجز کی سطح پر دریافت کرسکتا ہے، نہ کہ علم کی سطح پر۔
الرسالہ نومبر2009
اس جھلسا دینے گرمی میں ایک سعودی شہری اپنی گاڑی میں حائل سے حفر الباطن جارہا تھا۔
جب وہ سڑک کے کنارے رکا تو خود کو گرمی سے بچاتے ہوئے ایک پرندہ تیزی سے اس کی گاڑی کے ٹائر کے سائے میں آ کر بیٹھ گیا۔ سعودی شہری نے پرندے پر پانی پھینکا اور کار کے اندر ائر کنڈیشنگ میں لے گیا جہاں پرندہ بغیر کسی مزاحمت کے سکون سے بیٹھ کر سو گیا۔
دیکھیں اس شخص نے اس پرندے کی جان کیسے بچائی، اللہ تبارک وتعالی اسے اس کا بہترین بدلہ دے۔ آمین
#اسلام #تعلیم
ابنِ آدم کی ہوا میں اڑنے کی چند ابتدائی کاوشیں ، جن کے مثبت نتائج آج کے کئی سو ٹن وزنی ہوائی جہازوں کی صورت میں آپ کے سامنے ہیں.
A few early attempts by the Man to fly in the air, with positive results in the form of today's hundreds of tons of airplanes.
24/07/2021
غلاف کعبہ کی تبدیلی اور تیاری🕋
۔🕋غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب 9 ذی الحج کو عازمین کے عرفات پہنچنے پر منعقد کی جاتی ہے۔ غلاف کعبہ خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے تحفتاً پیش کیا جاتا ہے۔
۔ 🕋 سونے، چاندی اور خالص ریشم سے بنے غلاف کعبہ کی لاگت 2 کروڑ 20 لاکھ ریال ہے ( تقریباً 60 لاکھ ڈالر )۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کا کام نماز فجر کے بعد شروع ہوا، نئے غلاف میں 670 کلوگرام خالص ریشم سے تیار کیا گیا ہے۔
۔ 🕋 غلاف کعبہ جسے کسوہ بھی کہتے ہیں کی تیاری میں ایک سال کا عرصہ لگتا ہے، جس کے لئے 670کلو گرام خالص ریشم اور سونے چاندی کے ایک سو پچاس کلو گرام دھاگے استعمال کئے جاتے ہیں۔
اور اس پر بیت اللہ کی حرمت اور حج کی فرضیت اور فضیلت کے بارے میں قرآنی آیات کشیدہ کی گئی ہیں-
۔ 🕋 غلاف کا سائز 658 مربع میٹر ہے اور یہ 47 حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ہر حصہ 14میٹر طویل اور 95 سینٹی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ زمین سے تین میٹر کی بلندی پر نصب کعبہ کے دروازے کی لمبائی چھ میٹر اور چوڑائی تین میٹر ہے۔ غلاف کعبہ چار دیواروں کے علاوہ دروازے پر بھی آویزاں کیا جاتا ہے۔
۔ 🕋 غلاف کعبہ کی تیاری کیلئے ریشم اٹلی سے جبکہ سونے اور چاندی کی تاریں جرمنی سے منگوائی جاتی ہیں ۔ اس روح پرور تقریب میں گورنر مکہ ، سعودی حکام کے علاوہ مسلم ممالک کے سفرا اور خصوصی نمائندے شرکت کرتے ہیں ۔ پرانے غلاف کو اتارنے کے بعد چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے جو اہم شخصیات اور مذہبی تنظیموں میں تبرک کے طور پر تقسیم کر دیئے جاتے ہیں۔
۔ 🕋 کسوہ مجموعی طور پر سینتالیس حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ہر حصہ چودہ میٹر طویل اور پچانوے سینی میٹر چوڑا ہوتا ہے۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی میں چھ گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ حج یا عمرے کی ادائیگی کے لئے مکہ پہنچنے والے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خانہ کعبہ کو اندر سے دیکھے اور وہاں عبادت بھی کرے لیکن یہ سعادت کسی کسی کے حصے میں ہی آتی ہے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے لئے صرف ایک دروازہ ہے جسے ملتزم یا باب کعبہ کے نام سے پکارا جاتا ہے، باب کعبہ حرم کے فرش سے دو اعشاریہ ایک تین میٹر بلند ہے۔ ملتزم کعبہ کے شمال مشرقی دیوار پر نصب ہے اور اس کے قریب ترین حجر اسود بھی نصب ہے ، طواف کا آغاز بھی یہیں سے کیا جاتا ہے۔
۔ 🕋 خلیجی اخبار”العربیہ“ کے مطابق ماضی میں ملتزم ہر ماہ دو سے تین مرتبہ کھولا جاتا تھا تاکہ تمام لوگوں کو داخلے کا موقع مل سکے تاہم آج یہ پورے سال میں صرف دو مرتبہ کھولا جاتا ہے۔ایک مرتبہ یکم شعبان کو غسل کعبہ کے موقع پر اور دوسری مرتبہ یکم ذوالحجہ کو۔ علاوہ ازیں یہ خادم حرمین شریفین کی اجازت سے مملکت کے مہمانوں کے لیے بھی کھولا جاتا ہے ۔
۔🕋 کرونا کی وجہ سے اس بار غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تقریب میں مخصوص لوگوں نے شرکت کی۔
۔🕋 "یااللہ 🕋 اس وبا کو مکمل ختم فرما مکہ مدینہ کی رونقیں بحال فرما اور ہمیں بھی حج سعادت نصیب فرما۔
🤲 اَمـــِين يَارَبَّ الْعَالَمِيْن 🤲
#حج #۹ذوالحج #کسوٰہ #اسلام #مسلم #مسلمان
میں نے قبرستان کے سامنے شام کی نماز ادا کی!
نماز کے بعد ، شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہوتا چلا گیا۔ جب میں نے قبرستان کے آس پاس نگاہ ڈالی تو وہاں عالم ، اسکالر ، کمانڈر ، میدان جنگ کے ہیرو ، قبائلی عمائدین ، جوان ، بوڑھے، مرد ، خواتین اور بچے ... دفن تھے ، لیکن خاموشی تھی ، جن کے ساتھ اچھے کھانے ، پینے کی کوئی فکر نہیں تھی۔ ، کویٔ بھی لباس اور گرم بستر یا بچوں کے غم میں نہیں تھا
۔
میں قبرستان کا خاموش خطبہ سن رہا تھا۔ قبرستان نے مجھے حال کی زبان میں بتایا؛ "ایک رات آپ ہمارے مہمان ہوں گے اور آپ کی رات ان کی رات کی طرح ہوگی"۔
اے زمین و آسمانوں ، اس دنیا اور آخرت ، جنت و جہنم اور تمام جہانوں کے مالک! ہمارے لئے آخرت کا مشکل سفر آسان بنادیں ، ہم بہت گنہگار ہیں ، ہم نے اپنے ساتھ بہت زیادتی کی ہے ، ہم پر رحم کریں ... آمین..
17/07/2021
منٹو لکھتا ھے کہ میں شدید گرمی کے مہینے میں ایک__ گھر میں چلا گیا وھاں کی نائیکہ 2 عدد ونڈو ائیر کنڈیشنڈ چلا کر اپنے اوپر رضائی اوڑھ کر سردی سے کپکپا رھی تھی.
میں نے کہا کہ میڈم دو A/C چل رھے ھیں آپ کو سردی بھی لگ رھی ھے آپ ایک بند کر دیں تا کہ آپ کا بل بھی کم آئے
گا،
تو وہ مسکرا کر بولی کہ، "اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".
منٹو کہتے کہ کافی سال گزر گئے اور مجھے گوجرانوالہ اسسٹنٹ کمشنر کے پاس کسی کام کے لیے جانا پڑ گیا. شدید گرمی کا موسم تھا،
صاحب جی شدید گرمی میں بھی پینٹ کوٹ پہنے بیٹھے ھوئے تھے اور 2 ونڈو ائیر کنڈیشنر فل آب تاب کے ساتھ چل رھے تھے اور صاحب کو سردی بھی محسوس ھو رھی تھی.
میں نے کہا کہ جناب ایک A/C بند کر دیں تا کہ بل کم آئے گا تو صاب بہادر بولے،
"اساں کیہڑا اے بل اپنی جیب وچوں دینا اے".
منٹو کہتا کہ میرا ذھن فوراً اسی محلہ کی نائیکہ کی طرف چلا گیا کہ دونوں کے مکالمے اور سوچ ایک ھی جیسے تھی،
تب میں پورا معاملہ سمجھ گیا۔
یعنی اس ملک کے تمام ادارے ایسی ہی نائیکہ سوچ رکھنے والے افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔۔
"قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یہ عادت تھی کہ کمرے سے نکلتے وقت بجلی کے سارے بٹن بند کر دیا کرتے تھے۔
اپنے گھر میں ہوں، میرے یہاں ہوں یا کسی میزبان کے گھر میں، ہر جگہ ان کا یہی معمول ہوتا تھا ۔۔۔۔
اور جب میں ان سے پوچھتا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟؟؟
تو وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں ایک وولٹ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔
میں ان سے آخری بار 31 اگست 1947ء کو گورنر جنرل ہاؤس میں ملا تھا۔
ہم کمرے سے نکلے تو وہ مجھے سیڑھیوں تک چھوڑنے آئے اور کمرے سے نکلتے وقت انہوں نے حسبِ عادت خود ہی تمام سوئچ آف کئے۔
میں نے ان سے کہا جناب آپ گورنر جنرل ہیں اور یہ سرکاری قیام گاہ ہے۔
اس میں روشنیاں جلتی رہنی چاہئیں۔
قائد نے جواب دیا کہ یہ سرکاری قیام گاہ ہے اس لئے تو میں اور بھی محتاط ہوں۔ یہ میرا اور تمھارا پیسہ نہیں ہے۔ یہ سرکاری خزانے کا پیسہ ہے اور میں اس پیسے کا امین ہوں۔
اپنے گھر میں تو مجھے اس بات کا پورا اختیار تھا کہ اپنے گھر کی بتیاں ساری رات جلائے رکھوں لیکن یہاں میری حیثیت مختلف ہے۔
تم زینے سے اُتر جاؤ تو یہ بٹن بھی بند کر دوں گا"
مرزا ابوالحسن اصفہانی کا مضمون
"بے مثال لیڈر"
15/07/2021
رضیہ سلطانہ
عورت جب گھر میں فارغ بیٹھتی ہے تو اسے محبت سُوجھتی ہے‘ دربار میں پیش ہونے والے ’پریم کہانی‘ سے متعلق کیس پر جب ہندوستان کی واحد خاتون حکمران نے یہ الفاظ کہے اس وقت اسے معلوم نہیں تھا کہ نہ صرف جلد ہی یہ تعلق خود اس کا دامن تھامنے والا ہے بلکہ تخت و تاج کے لیے خطرہ بھی بننے والا ہے۔
اصطبل میں کام کرنے والا غلام اور وہ بھی حبشی، جب نظر میں آیا تو اس کے دل کے تار بجتے چلے گئے جسے اس نے چھپانے کی بھی زیادہ کوشش نہیں کی، اسے امیرالامرا بنا دیا گیا، بے تکلفی اتنی بڑھی کہ جب گھوڑے پر سوار ہوتی تو وہی غلام بغل میں ہاتھ ڈال کر سوار کرواتا، جس پر ترک النسل امرا جل بُھن جاتے۔
اسے احساس ہوتا بھی، لیکن یہ سب غیرارادی طور پر ہو جاتا، غلام سے دلچسپی کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ وہ خود بھی خاندان غلاماں سے تھیں۔
رضیہ سلطانہ 1205 میں پیدا ہوئیں، ان کے آٹھ بھائی تھے لیکن والد کے سب سے زیادہ قریب وہی تھیں کیونکہ ان کے زیادہ تر بھائی ریاست چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے جسے التتمش نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔ رضیہ رنگ و روپ کےعلاوہ بھی ہر اس ہنر سے آشنا تھیں جو حکمران بننے کے لیے ضروری ہو، یہی وجہ ہے کہ التتمش نے ان کی پرورش انہی خطوط پر کی۔ تلوار بازی، گھڑ سواری کے ساتھ ساتھ اچھی تعلیم بھی دلوائی گئی نوعمری میں پردہ بھی شروع کروا دیا گیا۔
التتمش نے انہیں اپنا جانشیں مقرر کیا تو خاندان ہی نہیں پورے ملک میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ ’عورت حکمران کیسے ہو سکتی ہے؟‘ التتمش کے انتقال کے بعد وصیت پر عمل نہیں کیا گیا اور رضیہ کے بھائی رکن الدین نے تخت پر قبضہ کر لیا۔ سب کا خیال تھا کہ رضیہ عام خاتون کی طرح رو دھو کر چپ کر جائیں گی مگر وہ ’عام‘ نہیں تھیں۔
تخت کی جانب قدم
ان کا بھائی رکن الدین حکمرانی کے لیے انتہائی نااہل ثابت ہوا، جلد ہی نامناسب سرگرمیوں میں گھر گیا۔ اس کی والدہ (رضیہ کی سوتیلی ماں) نے التتمش کی دیگر بیویوں کو قتل کروا دیا جو اعلیٰ خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں جس پر ان کے رشتہ دار حکومت کے خلاف ہو گئے، اس صورت حال کا فائدہ رضیہ کو ہوا اور وہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب رہیں کہ اصل جانشیں وہی ہیں، ناقص طرز حکمرانی کا یہ سلسلہ صرف سات ماہ چلا اور بغاوت ہو گئی، رکن الدین کو تخت چھوڑنا پڑا۔
چاروں طرف مچے اس شور ’عورت حکمران کیسے ہو سکتی ہے‘ کے باوجود رضیہ نے تخت سنبھال لیا۔ پہلے ہی روز وہ بغیر پردہ کے (کھلے چہرے کے ساتھ) مردوں کا لباس پہنے شان بے نیازی سے دربار میں آئیں تو سب حیران رہ گئے، کچھ کُھسر پُھسر ہونا شروع ہوئی ہی تھی کہ ان کی بارعب آواز نے سب کو خاموش کر دیا۔
وہ خود کو سلطانہ کے بجائے سلطان کہلوانا پسند کرتیں، کہتیں ’سلطانہ کا مطلب ہے سلطان کی بیوی یعنی وہی دوسرا درجہ، جبکہ میں تو خود سلطان ہوں‘ چند روز بعد ہی کچھ سرکش گروہوں نے اس خیال کے ساتھ بغاوت کر دی کہ ایک عورت آخر کتنی مزاحمت کر لے گی لیکن رضیہ نے نہ صرف بغاوت کو کچلا بلکہ سازشوں کا سیاسی سوجھ بوجھ سے مقابلہ کیا، جس پر سب کے دلوں میں اس کا رعب تو پیدا ہو گیا تاہم ’عورت‘ والی پُرخاش دور ہو سکی نہ حبشی غلام کی قربت ہضم ہوئی۔ وہ ایک باقاعدہ سلطان کے طور پر سامنے آئیں۔ جنگ کے موقع پر جنگی لباس پہن اور تلوار بھالے لیے خود جنگ میں شریک ہوتیں، انہیں مردوں کے ساتھ بہت بہادری کے ساتھ لڑتے دیکھا گیا۔ انہوں نے تقریباً ساڑھے تین سال حکومت کی۔
وہ اس وقت جوان، جاذب نظر اور غیرشادی شدہ تھیں، ہندوستان ہی نہیں کئی دلوں پر بھی راج کر رہی تھیں جن میں بٹھنڈہ کا حاکم ملک التونیہ بھی شامل تھا اور نکاح کا پیغام بھی بھجوا چکا تھا تاہم رضیہ کی نظر التفات حبشی غلام جمال الدین عرف یاقوت پر تھی جب یہ قصے التونیہ تک پہنچے تو اس نے رقابت میں لاہور کے حاکم ملک اعزاز الدین کو ساتھ ملا کر رضیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا دہلی کے امرا بھی ان کے ساتھ تھے۔
رضیہ کو اطلاع ملی تو وہ جمال الدین یاقوت اور لشکر سمیت روکنے کے لیے نکل پڑیں لیکن دہلی میں انہی باغیوں نے انہیں گھیر لیا جو عورت کی حکمرانی اور غلام سے تعلق کے خلاف تھے۔ ابھی معرکہ جاری ہی تھا کہ ملک التونیہ کا لشکر بھی پہنچ گیا۔ شدید لڑائی ہوئی۔ رضیہ کے لیے وہ بڑا جاں کُن لمحہ تھا جب آنکھوں کے سامنے جمال الدین یاقوت کو مرتے دیکھا، رضیہ کو قید کر لیا گیا۔ باغیوں نے ان کے بھائی معزالدین کو بادشاہ بنا دیا۔ امکان یہی تھا کہ رضیہ کو قتل کر دیا جائے گا تاہم التونیہ نے پیشکش کی اگر وہ اس سے شادی کر لیں تو وہ جان بخشی کروا سکتا ہے۔ رضیہ نے کچھ لمحے سوچنے کے بعد ہاں کر دی۔
شادی اور جنگجویانہ فطرت
کہا جاتا ہے کہ رضیہ نے التونیہ سے شادی صرف اس لیے کی تھی کہ زندہ رہیں اور پھر سے اپنا تخت حاصل کر سکیں کچھ ہی عرصہ میں انہوں نے التونیہ کو اس بات پر قائل کر لیا کہ دہلی کے تخت کی اصل حقدار وہی ہیں، اس لیے ایک بھرپور حملہ کرنا چاہیے التونیہ چونکہ انہیں بہت پسند کرتا تھا اس لیے مان گیا، حملے کے لیے تیاری شروع کر دی گئی، جو کافی عرصہ چلی، کھکڑوں، جاٹوں اور ارد گرد کے زمینداروں کی حمایت حاصل کی گئی، لشکر تیار کیے گئے اور پھر ایک روز حملے کے لیے روانگی ہوئی، جس کی قیادت التونیہ اور رضیہ کر رہے تھے۔
معزالدین کے بہنوئی اعزازالدین بلبن لشکر سمیت مقابلے کے لیے آیا، شدید لڑائی ہوئی لیکن رضیہ اور التونیہ کو شکست ہوئی اور فرار ہو کر واپس بٹھنڈہ جانا پڑا۔
کچھ عرصہ بعد پھر منتشر فوج کو جمع کر کے ایک بار پھر دہلی پر حملہ کیا نتیجہ اب کے بھی مختلف نہ تھا، رضیہ اور التونیہ کو ایک بار پھر فرار ہونا پڑا۔
موت، مدفن
کافی گھنٹوں تک گھوڑے سرپٹ دوڑتے رہے، وہ کتھل کا علاقہ تھا، انتہائی تھک ہار چکے تھے، کچھ معمولی زخمی بھی تھے، ایک درخت کے نیچے گھوڑے روکے، وہیں سستانے کے لیے بیٹھے، بھوک سے برا حال ہو رہا تھا، وہاں سے گزرنے والے ایک شخص نے انہیں کھانے کا کچھ سامان دیا، چند گھنٹے بعد 14 اکتوبر 1240 کو اسی درخت کے نیچے سے لاشیں ملیں۔
موت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پیچھا کرتے ہوئے فوجیں وہاں پہنچ گئی تھیں اور دوسرا خیال یہ ہے کہ جس شخص نے کھانے کا سامان دیا تھا اسی نے بعد میں ساتھیوں سمیت آ کر قتل کر دیا تھا کیونکہ رضیہ نے بیش قیمت زیورات بھی پہن رکھے تھے۔
بعدازاں رضیہ کے بھائی نعش کو دہلی لے گئے اور ترکمانی دروازے کے پاس بلبل خانے میں دفن کر کے مقبرہ بنوایا جو آج بھی رجی سجی کی درگاہ کے نام سے موجود ہے۔
دل میں کھوٹ اور بے ایمانی ہو
تو ایٹمی طاقت رکھنے والے "اسلامی جمہوریہ " میں بھی ستر سال گزرنے کے باوجود شریعت نافذ نہیں ہو سکتی۔
نیت خالص ہو تو کئی ممالک کی متحدہ افواج کی یلغار کے نتیجے میں تباہی و بربادی کے شکار کہساروں کے ملک میں بھی شرعی احکامات نافذ کیے جا سکتے ہیں !!!