12/04/2026
امن کا پرچم
امریکہ ایران امن مذکرات کسی معاہدہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔تاہم مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ صلح کی کوششیں فوری طور پر رنگ نہیں لاتیں۔ جیسے آتش جنگ یک دم نہیں بھڑکتی۔ پہلے حریف ممالک برسوں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ سرحدوں پر چھیڑ خانیاں ہوتیں ہیں ، پھر جنگ کا آلاؤ بھڑکتا ہے۔ اس طرح صلح کی راہ بھی فی الفور ہموار نہیں ہوتی۔کئی کئی ماہ تک صلح کی نیو اُٹھائی جاتی ہے۔ بار بار مذاکرات ہوتے ہیں۔پھر کہیں امن کا محل تعمیر ہوتا ہے۔ اس جنگ سے پہلے بھی کئی جنگیں ہوئی ۔ آخر ختم ہوئیں۔ مثلاً پہلی اور دوسری جنگ عظیم جیسی ہولناک جنگیں لڑی گئیں۔ کروڑوں انسان لقمہ اجل بنے۔دشمن ممالک نے ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دعویٰ کیے ۔ مگر پھر کیا ہوا۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے دشمنوں کو مذکرات کی میز بچھانی پڑی ۔ اورجنگوں کے الاؤ اپنے ہاتھوں بجھانے پڑے۔وہ دن دور نہیں جب بات چیت کا جو سلسلہ ٹوٹا ہے اس کو پھر جوڑ دیا جائے گا۔ مذاکرات ختم ہوئے ہیں امن کوششیں ختم نہیں ہوئیں ۔ اس دنیا میں امن کا پرچم ضرور لہرائے گا۔ کیونکہ امن انسان کی سرشت میں ہے جنگ خلاف فطرت ہے۔