Ashab e kahf

Ashab e kahf

Share

I will be your online Quran teacher, Quran teaching.

28/01/2024

‏نامِ معاویہ ؓ جوآ گیا میری زبان پر!!
جبریل ؑ مسکرانے لگے آسمان پر!!!!

منکر کی کیا مجال میرے گھر میں آسکے
نامِ معاویہ ؓ جو لکھ دیا میں نے اپنے مکان پر

28/01/2024

اشعار اس طرف تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلافت ملے گی اور ایسا ہی ہو

24/01/2024

حقیقت مذہب شی۔۔۔عہ

پوسٹ نمبر 1:

شی۔عی۔ت (اثناء عشریہ) اور اس کی بنیاد "مسئلہ امامت"

مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ انبیاء کی چاروں صفات
منصوص من اللہ (اللہ کی طرف سے مقرر ہونا)
مبعوث من اللہ اللہ کی طرف سے رسالت ملنا)
معصوم ( گناہوں سے پاک ہونا)
مفترض الطاعہ ( اطاعت کا فرض ہونا)
کوئی بھی غیر نبی ان چاروں صفات کا حامل نہیں ہوتا

جبکہ شی۔عہ مذہب میں بارہ امام انبیاء کی تمام صفات میں حصہ دار ہیں اور رسول اللہ کے علاوہ باقی تمام انبیاء سے افضل ہیں نعوذ باللہ من ذالک
شی۔عوں کا ایمان ہے کہ جس طرح اللہ نے نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری کیا اور انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اس کی طرف سے انبیاء و رسل علیہم السلام مبعوث کئے گئے جو "معصوم" ہوتے تھے اور ان کی بعثت سے ہی بندوں پر اللہ کی حجت قائم ہوتی تھی اور وہ ثواب یا عذاب کے مستحق ہوتے تھے بالکل اسی طرح اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سے بندوں کی ہدایت کے لئے "امامت" کا سلسلہ قائم کر دیا ہے اور قیامت تک کے لئے بارہ امام نامزد کر دیئے ہیں، بارہویں امام پر دنیا کا خاتمہ اور قیامت یقینی ہے... یہ بارہ امام انبیاء علیہم السلام ہی کی طرح معصوم ہیں اور مقام و مرتبے میں رسولﷺ کے برابر اور دوسرے تمام انبیاء سے افضل و برتر اور بالاتر ہیں.... فنعوذ باللہ من الشیطان الرجیم..... ان اماموں کی اس امامت کو ماننا اور ان پر ایمان لانا اسی طرح نجات کی شرط ہے جس طرح انبیاء و رسل کی نبوت و رسالت کو ماننا اور ان پر ایمان لانے میں ہی نجات ہے....

👆اس من گھڑت عقیدہ کی شی۔عوں کے پاس کوئی دلیل نہیں پوری شی۔عت کو چیلنج ہے اپنے عقیدہ امامت کو ثابت کریں
عقیدہ امامت شی۔عہ مذہب کا بنیادی عقیدہ ہے لہذا کوئی ایک آیت ہی پیش کر دیں

بارہ اماموں کے اسماء:
1. حضرت علی رضی اللہ عنہ
2. حسن بن علی رضی اللہ عنہ
3. حسین بن علی رضی اللہ عنہ
4. علی بن حسین زین العابدین رحمتہ اللہ
5. محمد بن علی باقر رحمتہ اللہ
6. جعفر بن محمد صادق رحمتہ اللہ
7. موسی بن جعفر کاظم رحمتہ اللہ
8. علی بن موسی رضا رحمتہ اللہ
9. محمدبن علی تقی رحمتہ اللہ
10. علی بن محمد نقی رحمتہ اللہ
11. حسن بن علی عسکری رحمتہ اللہ
12. محمد بن حسن مہدی موعود منتظر (شیعی عقیدے کے مطابق اب سے تقریباً ساڑھے گیارہ سو سال پہلے 255 یا 256 ھجری میں محمد بن حسن مہدی پیدا ہو کر 4 یا 5 سال کی عمر میں معجزانہ طور پر غائب ہو گئے شیعہ بارہواں امام اسی کو کہتے ہیں اور اب تک زندہ ایک غار میں روپوش ہیں..... ان پر امامت کا سلسلہ ختم ہو گیا.... حقیقت یہ ہے کہ آخری امام کے تعلق سے یہ شیعوں کا عقیدہ ہے... تاریخی شہادت اور تحقیقی بات یہ ہے کہ حسن بن علی عسکری کا کوئی بیٹا پیدا ہی نہیں ہوا پھر محمد بن حسن مہدی موعود منتظر کا وجود کہاں سے؟..........................
یاد رہے کہ یہ گیارہ امام سب اہلسنت کے بزرگ تھے صحیح العقیدہ متبع شریعت تھے شی۔عہ نے ان کی طرف بہت جھوٹ منسوب کر رکھا ہے جس عقیدہ امامت کا تصور شی۔عوں کے ہاں ہے ان نیگ بزرگوں نے کبھی اپنی امامت کا دعویٰ نہیں کیا
پورا کا پورا شی۔عہ مذہب ان بزرگوں کی طرف منسوب ہے جبکہ ان نیک بزرگوں نے نہ کبھی شی۔عت کی تعلیم و تبلیغ کی ہے نہ ہی خود شی۔۔عوں والے عمل کئے ہیں شی۔عہ اپنا عقیدہ امامت بھی ان نیک بزرگوں سے ثابت کرنے سے عاجز ہیں

23/01/2024

__

⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟

*ایرانی قوم کی بدخصلتی اور اسلام دشمنی*

⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟

*سرزمینِ ایران سے عالم اسلام کیخلاف خوفناک سازشوں کی روایات ہمیشہ برقرار رہی ھیں :*

*(1) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ خسرو پرویز کو دعوتِ حق کا خط پہنچا تو اس نے طیش میں وہ خط پھاڑ دیا ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی :*

*جس طرح اس خسرو نے میرے خط کو پرزے پرزے کیا ہے ، اللہ اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا ۔*

*اس پیشین گوئی کے مطابق وہ پہلے عربوں اور پھر رومی فوجوں کے ہاتھوں شکست کھا کر بھاگتے ہوئے گرفتار ہوا تو اس کے اٹھارہ بیٹوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا ۔*

*(2 ) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی اور حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ کو خدا کا درجہ دینے والے عبداللہ بن سبا کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا ۔*

*( 3 ) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قاتل ابو لولو فیروز ، مسلم فتوحات سے خائف ایرانی عناصر ہی کا مالک تھا ۔*

*( 4 ) مصر میں عالم اسلام کیخلاف عیسائیت کے اتحادی بننے اور پھر بنا کسی مزاحمت بیت المقدس کو صلیبیوں کے حوالے کرنے والے فاطمی حکمران بھی ایرانی فتنہ گروں کے زیر اثر تھے ۔*

*( 5 ) صلیبی لشکر کی مدد کرنے والا احمد بن عطا بھی ایرانی کٹھ پتلی تھا ۔ حتیٰ کہ فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنانے والا کنز الدولہ بھی ایرانی النسل تھا ۔*

*(6 ) سقوط بغداد میں عباسیوں کیخلاف سازش کا مرکزی کردار ، ہلاکو خان کو بغداد ہر حملے کیلئے خطوط لکھنے والا غدار ابو العلقمی بھی ایران سے تعلق رکھتا تھا ۔*

*اور اس کا وہ ساتھی خواجہ نصیر الدین طوسی بھی ایرانی تھا ، جسے ہلاکو نے غداری کے صلے میں انعام و اکرام سے نواز کر اپنے محکمہ اوقاف کا امین بنایا تھا ۔ بغداد میں وحشیانہ قتل عام کرنے والے تاتاریوں کو خوش آمدید کہنے والے تمام عناصر ایرانی تھے ۔*

*( 7 ) اسی طرح شام میں ہلاکو کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی بھی ایرانی تھا ۔*

*( 8) بیس ہزار حاجیوں کو قتل کر کے لوٹنے اور حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرامطی بھی ایرانی حمایت یافتہ تھا ۔*

*( 9 ) اور کعبۃ اللہ پر قبضہ کرنے والے دہشت گرد بھی ایران سے تعلق رکھتے تھے ۔*

*( 10 ) نبوت ، مہدیت اور خدائی کا دعوی کرنے والا مرتد محمد علی باب اور اس کی دعوت پھیلانے کیلئے جان دینے والی شاعرہ قراۃ العین طاہرہ کا تعلق بھی ایران سے تھا ۔*

*جبکہ نبوت کا ایک اور کاذب دعویدار مرزا غلام کائد یانی بھی ایرانی النسل ہونے کا دعویدار ہے ۔*

*(11 ) مسلم دنیا میں خود کش حملوں اور دہشت گردی شروع کرنے والی خفیہ تنظیم حشاشین کا بانی حسن بن صباح بھی ایرانی تھا ۔ اس کے پیروکار داعی اور فدائی کے نام سے مشہور ہوئے ۔ فدائیوں کا کام اپنے مذہبی فلسفے کو سچا اور دوسروں کے نظریات کو باطل ثابت کرنا تھا ۔ جبکہ فدائیوں کا کام مخالفین کو خفیہ طور پر ہلاک کرنا تھا ۔*

*(12 ) برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کا مخبر بننے والا مرزا غالب بھی ایرانی النسل ( شیعہ ) تھا ۔*

*(13 ) سلطان ٹیپو کا جرنیل میر صادق اور نواب سراج الدولہ کا غدار جرنیل میر جعفر بھی ایرانی ( شیعہ) تھے .*

*( 14 ) جمہوریت کا پہلا قاتل اسکندر مرزا اسی غدار میر جعفر کا پڑپوتا تھا ۔ سقوط مشرقی پاکستان کے شراب و شباب برانڈ کردار جنرل رانی اور یحیی خان بھی ایران سے تعلق رکھتے تھے ۔*

*قابل توجہ ہے کہ4

*(15 ) دجال کے خروج اور اس کے حواریوں کے بارے مصدقہ احادیث کے مطابق دجال کا خروج ایرانی شہر اصفہان سے ہوگا اور ستر ہزار اصفہانی یہودی اس کے ہمراہ ہوں گے ۔ بڑی بامعنی حقیقت ہے کہ ایرانی حکومت نے عراق ، ایران جنگ میں ہلاک ہونے والے ایرانی یہودیوں کی "قومی خدمات" کے اعتراف میں ان "شہیدوں" کی یاد گار تعمیر کی ہے ۔ ایرانی یہودی برادری کے صدر ہمایوں نجف آبادی کا یہ بیان ہے کہ ، "جو شخص بھی کی اس یادگار کو دیکھے گا ، وہ ان شہید یہودیوں کی ایران کیلئے دی گئی قربانیوں کو ضرور یاد کرے گا ۔*

*معزز قارئین ! اول تا آخر ان تمام ناقابل تردید تاریخی حقائق اور خطے میں جاری تازہ بہ تازہ حالات کو دیکھ کر سوچیں ذرا :*

⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟ ⃟

___

23/01/2024

شیعہ کو قاتلان حسین نہ صرف سنی مولوی کہتے ہیں بلکہ خود شیعہ معتبر کتب بھی یہی نظریہ بیان کرتی ہیں۔

ملاں شوستری کے نزدیک تمام اہل کوفہ شیعہ تھے

مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 25

تو گویا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بلانے والے تمام کے تمام شیعہ تھے۔

ملا باقر مجلسی نے آپ کے بلانے والوں کو آپ کے مخلص شیعہ قرار دیا ہے

جلاء العیون صفحہ 356

ارشاد شیخ مفید صفحہ 202

مقتل ابی مخنف صفحہ 18

خط لکھنے والے بھی شیعہ تھے

مقتل ابی مخنف صفحہ 18

جلاء العیون صفحہ 356

مناقب شہر آشوب جلد 1 صفحہ 90

اخبار الطوال 229

ذبح عظیم صفحہ146

کوفی شیعوں کے بارہ ہزار خطوط حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آئے

جلاء العیون صفحہ 357

ابن زیاد کی دھمکیوں سے کوفہ والوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑ ڈالی

مقتل ابی مخنف صفحہ 25 اور 26

جب حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر سنی تو فرمایا

*قدخذلتنا شیعتنا*

*ہمیں ہمارے شیعوں نے رسواکر دیا*

مقتل ابی مخنف صفحہ 43

ناسخ التواریخ ج 3/137

شیخ ارشاد المفید صفحہ 223

میدان کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اپنے شیعوں کو کیے ہوئے وعدے اور محبت یاد دلائے لیکن وہ مُکر گئے

مقتل ابی مخنف صفحہ 44

جلاء العیون صفحہ375

امام حسین کو بلانے والے ہی آپ کے قاتل بنے۔

جلاء العیون صفحہ 381

حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے مخالف میدان کربلا میں تمام کے تمام کوفی تھے کوئی شامی یا حجازی نہیں تھا

مقتل ابی مخنف صفحہ 52

شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد قافلہ کربلا کو لوٹنے والے اور اور رونے والے تمام کے تمام محبین شیعہ تھے

مقتل ابی مخنف صفحہ 96

نورالعین صفحہ 137

انوار النعمانیہ جلد 3 صفحہ246

کوفہ میں روتا اور ماتم کرتا دیکھ کر امام زین العابدین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کوفہ والو تمہارے سوا ہمارا قاتل کون ہے

جلاء العیون صفحہ 423

احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 165

سیدہ زینب رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا اے اہل کوفہ تم نے ہمیں خود ہی قتل کیا اور خود ہی روتے اور گریا زاری کرتے ہو تم کم ہنسو گے اور زیادہ روو گے

جلاء العیون صفحہ 424

احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 110

مناقب شہر بن آشوب جلد 4 صفحہ 115

دیگر خواتین میں بھی اہل کوفہ کو انہی الفاظ میں مخاطب کیا

جلاء العیون صفحہ 445

احتجاج طبرسی جلد 2 صفحہ 106

ہم نے اختصار سے کام لیا ہے ورنہ تفصیلی عبارت اور دلائل سے ذکر کرتے بہرحال یہ یقینا ثابت ہوگیا کہ یہ کسی ملا کی بنائی ہوئی کہانی نہیں ہے کہ حضرت حسین رضی عنہ کے قاتل شیعہ ہیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے

اہل سنت کی نصرت کا مسئلہ تو جب تم کو خود ہی یہ تسلیم ہے کہ تمام اہل کوفہ شیعہ تھے تو پھر اہل سنت کی نصرت کیسی اگر اہل سنت وہاں ہوتے تو خود امام کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے اس سنگین صورت حال کا دوسرے شہر اور علاقوں میں کب معلوم تھا بلکہ اہل مکہ نے بطور احتیاط چند افراد ( شیعہ کتب کے مطابق اکیس صحابی رسول) کو آپ کے ہمراہ کیا تھا جو آپ کے ساتھ شہید ہوئے مکہ اور مدینہ کے لوگ تو حسین رضی اللہ عنہ کے شیدائی تھے ، ان کا اہل سنت ہونا خود شیعہ اکابر کو بھی تسلیم ہے۔ بیشک سرکار حسین کے وہی شیدائی تھے۔

خود شیعہ کے شوستری نے کہا ہے کہ

مکہ مدینہ میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی محبت غالب تھی گویا وہ اہلسنت تھے

مجالس المومنین جلد 1 صفحہ 55

اس اعتبار سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے کربلا میں جو لوگ شہید ہوئے وہ تمام کے تمام اہل سنت تھے آپ کے مدمقابل بھی شیعہ تھے اور آپ کے قاتل بھی شیعہ تھے اس اعتبار سے شیعہ کا اعتراض لغو اور بربنائے جہالت ہےاور ان کی کتب میں اہل بیت کی شدیدترین گستاخیاں بھری پڑی ہیں

مثلا

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے علی رات جب تک میں نہ آؤں فاطمہ سے مخصوص کام نہ کرنا نعوذباللہ

جلاء العیون صفحہ 134 فارسی جلد 1 صفحہ 251 مترجم اردو تہذیب المتین جلد 1 صفحہ 82

زرارہ شیعہ مذہب کا بنیادی راوی کہتا ہے اگر میں امام جعفر رحمتہ اللہ علیہ کی باتیں بیان کرو تو لوگوں کے عضوتناسل تن جائیں معاذاللہ ثم معاذاللہ

رجال کشی جلد 1 صفحہ 346

کتب شیعہ میں حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کا یزید کی بیعت کر لینا مذکور و مرقوم ہے

کتاب الروضہ 3 صفحہ 110ملحقہ فروع کافی

جلاء العیون صفحہ 500

اس طرح کی سینکڑوں گستاخیاں ان کی کتابوں میں مرقوم و مذکور ہیں کیا یہی اہل بیت کی محبت ہے بیشک اہلبیت کے حقیقی محب اہل سنت ہیں

شیعہ عالم کا اقرار کہ سیدنا حسین کے قاتل کوئی اور نہیں بلکہ شیعہ تھے۔۔!!
اور شیعہ اہل بیت کے حقیقی دشمن اور ان کی محبت کے جھوٹے دعویدار ہیں۔ کافر کافر شیعہ کافر جو نہ مانے وہ بھی کافر

10/01/2024
Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Mansoorah Bazar Lahore
Lahore
05499