Quran e Kaream

Quran e Kaream

Share

Daily recite Quran e pak nothing

17/05/2025

واقعۂ معراج اسلام کا ایک نہایت اہم اور مقدس واقعہ ہے جو نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں پیش آیا۔ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً ایک سال قبل پیش آیا، جسے عام طور پر 27ویں رجب کی شب سمجھا جاتا ہے۔

معراج کا مطلب ہے "بلندی پر جانا"۔ اس رات اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو مکہ سے بیت المقدس (یروشلم) اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کرائی۔

یہ سفر دو حصوں پر مشتمل تھا:

1. اسراء: رات کے ایک حصے میں حضور ﷺ کو مسجد الحرام (مکہ) سے مسجد اقصیٰ (یروشلم) تک لے جایا گیا۔ یہ سفر براق نامی ایک خاص سواری پر ہوا جو بہت تیز رفتار تھی۔

2. معراج: مسجد اقصیٰ سے آپ ﷺ کو آسمانوں کی طرف معراج کروائی گئی۔ ہر آسمان پر آپ ﷺ کی ملاقات مختلف انبیاء سے ہوئی، مثلاً حضرت آدم علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے۔

بالآخر آپ ﷺ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے، جہاں جبرائیل علیہ السلام بھی آگے نہ جا سکے۔ وہاں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے براہِ راست ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا۔ اسی مقام پر نماز پانچ وقت فرض ہوئی۔

معراج کا واقعہ ایمان، عقیدت اور قربِ الٰہی کی عظیم مثال ہے۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے اللہ کی رحمت، نبی کریم ﷺ کی عظمت، اور نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

16/05/2025

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 570 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم سے تھا۔ آپ کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ تھا۔ بچپن ہی سے آپ کی سچائی، دیانتداری اور نیک اخلاق کی وجہ سے لوگ آپ کو "امین" اور "صادق" کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

چالیس برس کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی اور آپ کو نبوت عطا کی۔ سب سے پہلی وحی غارِ حرا میں نازل ہوئی جب حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور "اقْرَأْ" یعنی "پڑھ" کا حکم دیا۔ اس کے بعد آپ نے لوگوں کو توحید، عدل، اخوت، اور بھلائی کی تعلیم دی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 23 سال تک دینِ اسلام کی تبلیغ کی، جن میں سے 13 سال مکہ میں اور 10 سال مدینہ منورہ میں گزارے۔ مکہ میں آپ اور آپ کے پیروکاروں کو شدید ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں اللہ کے حکم سے آپ نے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف سفر کیا، جسے ہجرتِ مدینہ کہا جاتا ہے۔

مدینہ میں آپ نے ایک مثالی اسلامی ریاست قائم کی جو عدل، رواداری اور اخوت پر مبنی تھی۔ آپ نے نہ صرف مذہبی، بلکہ معاشرتی، معاشی، اور سیاسی میدانوں میں بھی انسانیت کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاق سب سے اعلیٰ تھا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں فرمایا: "وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ" (اور بے شک تم اخلاق کے بلند مرتبے پر ہو۔)

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 632 عیسوی میں وفات پائی۔ آپ کا مزار مبارک مدینہ منورہ میں واقع ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہم سب کے لیے ایک مکمل اور جامع نمونہ ہے، جس پر عمل کر کے ہم دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

12/05/2025

1. بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔
(القرآن، سورۃ الشرح: 6)

2. دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔
(صحیح مسلم)

3. عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔
(صحیح بخاری و صحیح مسلم)

4. جو رحم نہیں کرتا، اُس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔
(صحیح بخاری)

5. دنیا کے لیے ایسے کام کرو جیسے ہمیشہ جینا ہے، اور آخرت کے لیے ایسے جیسے کل مر جانا ہے۔
(حضرت علی رضی اللہ عنہ)

6. سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔
(حدیث نبوی)

7. جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے۔
(حدیث نبوی)

8. صبر کامیابی کی کنجی ہے۔
(اسلامی مقولہ)

9. قناعت ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے۔
(اسلامی حکمت)

10. صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔
(القرآن، سورۃ البقرہ: 45)

11/05/2025

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر اور صاحبِ کتاب رسول تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ کی ولادت ایک معجزہ تھی، کیونکہ آپ کی والدہ حضرت مریمؑ کنواری تھیں۔ اللہ نے بغیر باپ کے حضرت عیسیٰؑ کو پیدا فرمایا، اور یہ اللہ کی قدرت کی ایک بڑی نشانی ہے۔

حضرت عیسیٰؑ نے بچپن ہی میں اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ آپ نے فرمایا: "میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔" آپ لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے اور انہیں اللہ کی طرف بلاتے۔ آپ نے بہت سے معجزات بھی دکھائے، جیسے کہ مٹی کے پرندے کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا، مادرزاد اندھوں کو بینائی دینا، کوڑھیوں کو شفا دینا، اور مردوں کو اللہ کے حکم سے زندہ کرنا۔

یہود کے بعض لوگ آپ کے خلاف ہوگئے اور آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور ان پر مشتبہ ایک اور شخص کو ان کی شکل میں ان کے بدخواہوں کے ہاتھوں قتل کرا دیا۔ قرآن پاک میں بھی ذکر ہے:
"وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ"
(ترجمہ: "اور نہ انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ صلیب دی، بلکہ ان کے لیے شبیہ بنادی گئی۔")

حضرت عیسیٰؑ اب بھی زندہ ہیں اور قربِ قیامت کے وقت دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ وہ حق کو غالب کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، دجال کو قتل کریں گے، اور اسلام کا غلبہ ہوگا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰؑ کا انتقال ہوگا اور ان کا دفن عام انسانوں کی طرح ہوگا۔

11/05/2025
11/10/2021

*قیامت کے دن کا منظر*
*جنہاں ہم سب نے ایک دن اللّه کے سامنے کھڑے ہونا ہے*

*قرآن مجید کی روشنی میں*

🔅قیامت کا دن بہت عظیم دن ہے ۔
(سورة الحج:1)

🔅اس دن سنگین حادثات پیش آئیں گے۔
(سورة القارعة:3-1)

🔅وہ دن نہایت تلخ دن ہوگا ۔
(سورة القمر:46)

🔅ہر طرف مصیبت چھا جائے گی۔
(سورة النازعات:34)

🔅اس دن کا شر ہر طرف پھیلا ہوگا۔
(سورة الانسان:7)

🔅بہت خوف اور گھبراہٹ کا عالم ہوگا۔
(سورة إبراهيم :42)

🔅اس دن کی ہولناکیاں دیکھ کر آنکھیں پتھرا جائیں گی۔
(سورة القيامة:7)

🔅اس دن کی شدت سے دل اور نگاہیں الٹ جائیں گی۔
(سورة النور:37)

🔅کلیجے منہ کو آجائیں گے۔
(سورة غافر:18)

🔅وہ تیوریاں چڑھانے والا دن ہوگا۔
(سورة الإنسان:10)

🔅وہ دن بچوں کو بوڑھا کرے گا۔
(سورة المزمل:17)

🔅حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے۔
(سورة الحج:2)

🔅وہ دن ٹلنے والا نہیں ہوگا۔
(سورة الشورى:47)

🔅اس دن انسان جائے پناہ تلاش کرے گا۔
(سورة القيامة:11-10)

🔅اس دن کسی کا مکر و فریب کسی کام نہں آئے گا۔
(سورة الطور:46)

🔅اس دن کوئی عہدہ اور منصب کام نہ آئے گا۔
(سورة الشعراء:88)

🔅اس دن کوئی رشتہ کام نہ آئے گا۔
(سورة لقمان:33)

🔅اس دن دنیا کی ہر چیز فنا ہوجائے گی۔
(سورة الكهف:8)

🔅آسمان لرزے گا۔
(سورة الطور:9)

🔅آسمان پھٹ جائے گا۔
(سورة المزمل:18)

🔅آسمان دروازے دروازے ہوجائے گا۔
(سورة النبا:19)

🔅آسمان پھٹ کر سرخ چمڑے کی طرح گلابی ہو جائے گا۔
(سورة الرحمن:37)

🔅آسمان کی کھال اُتاردی جائے گی۔
(سورة التكوير:11)

🔅آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا۔
(سورة المعارج:8)

🔅سورج لپیٹ دیا جائے گا۔
(سورة التكوير:1)

🔅چاند گہنا جائے گا۔
(سورة القيامة:8)

🔅سورج اور چاند ملا دیئے جائیں گے۔
(سورة القيامة:9)

🔅ستارے بے نور ہو کر بکھر جائیں گے۔
(سورة المرسلات:8)، (سورة الانفطار:2)

🔅زمین زور سے ہلائی جائے گی۔
(سورة الواقعة:4)

🔅زمین اور پہاڑ لرزنے لگیں گے۔
(سورة المزمل:14)

🔅زمین اور پہاڑوں کو ایک ہی چوٹ سے ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔
(سورة الحاقة:14)

🔅زمین اپنے اندر کا سب کچھ باہر نکال پھینکے گی۔
(سورة الانشقاق:4)

🔅زمنن کسی اور زمین سے تبدیل کر دی جائے گی۔
(سورة إبراهيم:48)

🔅زمین پھیلا کر برابر کردی جائے گی ۔
(سورة طه:107-106)

🔅پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہوجائیں گے۔
(سورة القارعة:5)

🔅پہاڑ غبار بنا دیئے جائیں گے۔
(سورة الواقعة:6-5)

🔅سمندر بھڑک اُٹھیں گے۔
(سورة التكوير:6)

🔅سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔
(سورة الانفطار:3)

🔅اس دن صور پھونکا جائے گا۔
(سورة المدثر:8)

🔅صور کی آواز ایک ہولناک چیخ کی طرح ہوگی ۔
(سورة ص:15)

🔅اس کی آواز سے زمین و آسمان میں موجود تمام مخلوق گھبرا جائے گی۔
(سورة النمل: 87)

🔅صور کی آواز کانوں کو بہرا کردے گی۔
(سورة عبس:33)

🔅صورکی آواز کی شدت سے زمین و آسمان کی ہر چیز بیہوش ہو کر گر پڑے گی۔
(سورة الزمر:68)

🔅جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو ہر چیز ختم ہو جائے گی بس اللہ کی ذات باقی رہے گی۔
(سورة الرحمن:27-26)

🔅لوگ نامعلوم عرصے تک بیہوش ہی پڑے رہیں گے۔
(صحیح البخاری:4935)

🔅دوسرا صور لوگوں کو جمع کرنے کے لئے پھونکا جائے گا۔
(سورة الكهف :99)

🔅ایک ہی ڈانٹ سے سب کو اٹھایا جائے گا۔
(سورة الصافات:19)

🔅سب لوگ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
(سورة يس:51)

🔅اس دن اولین و آخرین کو اکٹھا کیا جائے گا۔
(سورة الواقعة:50-49)

🔅کوئی ایک بھی باقی نہیں چھوڑا جائے گا۔
(سورة الكهف:47)

🔅جانوروں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔
(سورة التکویر:5)

🔅لوگ فوج در فوج جمع ہوں گے۔
(سورة النبا:18)

🔅 لوگوں پر شدید گھبراہٹ طاری ہوگی۔
(سورة یس:52)

🔅مجرموں کی آنکھیں دہشت سے نیلی ہورہی ہوں گی۔
(سورة طه:102)

🔅 *اس دن اللہ سبحانہ وتعالی پکارے گا * :

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :قیامت کے دن اللہ عزوجل آسمانوں کو لپیٹ لے گا پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا:
*میں بادشاہ ہوں،*
کہاں ہیں جابر لوگ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟؟؟؟؟؟؟
پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر لپیٹے گا اور فرمائے گا :
*میں بادشاہ ہوں،*
کہاں ہیں جابر لوگ؟؟؟؟؟؟؟؟
کہاں ہیں تکبر کرنے والے؟؟؟؟؟؟؟۔
(صحیح مسلم)

06/10/2021

*🌳🕋الله_أكبر_﷽الله_أكبر🕋🌳*

*🦚🌹مُحَمَّد_ﷺ__ﷺ_مُحَمَ

*🍁مصنف__ابولبابہ_شاہ_منصور🍁*

*خلیج_سوئز_کے_کنارے:--*

*کشمکش_کا_آغاز:--*

*سیدنا حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ السلام کی زندگی کے مختلف ادوار و واقعات داعیان دین کے لیے مثالی نمونہ ہیں ، اس واسطے قرآن شریف میں ان کا ذکر مختلف اسلوب میں بار بار آیا ہے،-*
*جب آپ کے کندھوں پر نبوت کا بار گراں ڈالا گیا اور آپ اللہ رب العالمین کی کبریائی کی دعوت لے کر فرعون کے دارالحکومت ممفیس نامی شہر میں پہنچے جو دریائے نیل کے ڈیلٹا کے آغاز پر واقع تھا تو ایک طویل کشمکش کا آغاز ہوا ۔۔۔!*
*ایک طرف خیر خواہی اور ہمدردانہ نصیحت تھی اور دوسری طرف ضد بازی اور ہٹ دھرمی ۔۔۔!*
*ایک طرف روحانیت، شفقت، صبر اور بلند ہمتی تھی تو دوسری طرف مادیت پرستی، انانیت اور گھمنڈ، و غرور ۔۔۔* *یہ کشمکش کئ مراحل سے گزرتی ہوئی بالآخر اس وقت اختتام پزیر ہوئی جب فرعون بمع اپنی سرکش قوم کے بحراحمر (بحر قلزم) کی ایک شاخ خلیج سوئز میں غضبناک موجوں کی لپیٹ میں آکر برے انجام سے دو چار ہوا اور رہتی دنیا تک تکبر اور غرور کے عبرتناک انجام کی علامت بن گیا، بلا شبہ عقل والوں کے لئے اس واقعہ میں بڑی نشانیاں ہیں۔*

*دین_و_دنیا_کی_امامت:*

*حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ سے محبت، ہم کلامی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے ساتھ غیبی مدد و نصرت کے واقعات بہت سی ایمان افروز اور توکل و یقین کو بڑھانے والے ہیں،-*
*آپ کو دو قسم کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں ۔۔۔ ایک تو فرعون جیسے خدائی کے زعم میں گرفتار بد دماغ شخص پر اس بات کی محنت کرو کہ وہ جھوٹی انا کے خ*ل سے باہر آکر عجز و انکساری کی خو اپنائے اور خود کو اپنے جیسے بندوں کا مالکِ کُل سمجھنے کی حماقت ترک کردے،*
*دوسرے یہ کہ بنی اسرائیل جو قبطیوں کی زیادتی، نسلی تعصب، ظلم و ستم اور معاشی اور سماجی استحصال کا شکار تھے، انہیں مصر سے نکال کر آزاد علاقے کی طرف لے جایا جائے جہاں وہ اپنے دین کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کرسکیں،-*
*گویا کہ جناب موسیٰ علیہ السلام کو روحانی اور سیاسی دونوں میدانوں کی قیادت سپرد کی گئی تھی اور آپ کو تفویض کیے گئے فرائض دین و دنیا کا حسین امتزاج تھے، آپ جلیل القدر نبی بھی تھے اور سیاسی امور کے ماہر اور اس شعبے میں اپنے وقت کے امام بھی،-*
*تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے یہ دونوں ذمہ داریاں اس خوبی اور عمدگی سے نبھائیں کہ ان کے ہر قول و فعل میں بعد میں آنے والوں کے لیے رہنما ہدایات موجود ہیں، علماء امت محمدیہ جو مسلمانوں کے لئے دونوں شعبوں میں امامت اور قیادت کے مکلف ہیں، ان کے لئے آپ کی حیات مبارکہ کی وہ تفصیلات جو قرآن کریم میں مذکور ہیں، نہایت سبق آموز اور رہنما اصولوں پر مشتمل ہیں۔*

*دو_مشکل_محاذ:*

*حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مدین سے واپسی پر کوہ طور سے ہوتے ہوئے مصر پہنچے تو انہیں دونوں محاذوں پر سخت مشکلات کا سامنا تھا، فرعون جیسے جابر، سنگ دل اور غرور و نخوت میں مبتلا حکمران کو جس کی انا خوشامدی درباریوں کی چاپلوسی سے سوج کر کپّا ہوچکی تھی، اس سے خیالی خدائی کا زعم اور جھوٹی الوہیت کا دعویٰ چھڑوا کر اللہ احکم الحاکمین کی خدائی ماننے کی دعوت دینا اور اپنی منتشر، غیر منظم اور سالوں سے فرعونی ظلم کے تحت پسی ہوئی قوم کو منظم کر کے اس سے شریعت موسویہ پر عمل کروانا اور اسے سلامتی کے ساتھ ایک بد دماغ اور بے لگام حکمران کے چنگل سے نکال لے جانا دونوں کام نہایت کٹھن، صبر آزما اور حوصلہ طلب تھے،-*
*آپ کو دونوں محاذوں پر تن تنہا کام کرنا تھا اور آپ کے ساتھ اس طویل سفر میں سوائے ماں جائے بھائی کے اور کوئی مزاج شناس اور مکمل اطاعت و وفاداری نبھانے والا نہ تھا، جب آپ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کی قوت ایمانی اور تعلق باللہ کا کیا عالم ہوگا کہ وقت کا باجبروت حکمران آپ پر قتل کی فرد جرم عائد کیے ہوئے تخت پر بیٹھا ہوا ہے، آس پاس درباریوں کا جم غفیر ہے ۔۔۔ مارے رعب کے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں اور پوری مملکت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سوائے آپ کے بھائی کے اور کوئی غم خوار و مددگار نہیں، مگر آپ بے خوفی سے بھرے دربار میں اس کے دعوائے خدائی کی نفی کرتے ہیں اور اسے سچے خدا پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ یہ دونوں باتیں اس پر سخت گراں اور ناگوار ہیں۔*

*علاج_کا_فیصلہ:*

*فرعون نے اول تو دلائل سے بات چیت شروع کی، جب اس میں لاجواب ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر حجت تام کرنے کے لیے اپنے معجزات پیش کیے تو اس نے ان کا جواب تلاش کرنے کے لیے جادوگروں کو بلا بھیجا، مصر بر اعظم افریقہ میں واقع ہے اور یہاں کے ہر قبیلے میں ایک جادوگر ہوتا ہے جس کی جاہل قبائل بڑی عزت کرتے ہیں، چنانچہ دور دراز قبائل کے جادوگر اپنا خاندانی فن لے کر آ پہنچے،-*
*فرعون اتنا سخت ضدی اور خود سر تھا کہ اپنے درباریوں سے کہہ رہا تھا کہ ہم جادوگروں کی بات صرف اس صورت میں مانیں گے جب وہ جیت جائیں، اگر وہ ہار گئے اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کمالات کو سحر کی بجائے معجزہ قرار دیا تو ہم ان کی بات بھی نہ مانیں گے۔*
*(لعلنا نتبع السحرة ان كانوا هم الغالبين: الشعراء)*

*چنانچہ جب جادوگروں نے معجزات موسوی کی حقیقت سے اسے آگاہ کیا تو عقل اور سنجیدگی کے اس دشمن نے الٹا ان پر ملی بھگت کا الزام لگا کر انہیں بھی شہید کر ڈالا، یہ وہ مرحلہ تھا جب اس کی مہلت کی گھڑیاں ختم ہو گئیں اور اس کی بد دماغی کے علاج کا فیصلہ کیا گیا۔*

*محیر_العقول_واقعہ:*

*بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ تم رات کے اندھیرے میں مصر سے نکل پڑو، صبح ہونے تک بنی اسرائیل ممفیس سے نکل کر خلیج سوئیز سے کچھ فاصلے پر پہنچ چکے تھے، قبطیوں نے جب دیکھا کہ آج ہمارے گھر کا کام کرنے کے لیے کوئی اسرائیلی نہیں آیا تو ان کا ماتھا ٹھنکا اور حقیقت حال معلوم ہونے پر بجائے اس کے کہ ان کو جانے دیتے، غصے سے بھپرے ہوئے ان کے تعاقب میں نکل پڑے، انہیں علم نہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے پیچھے نہیں جارہے، بلکہ موت ان کے پیچھے آرہی ہے۔*

*حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ خلیج سوئز کے کنارے پر پہنچے تو سامنے پانی ٹھاٹھیں مار رہا تھا، پیچھے دھول اڑاتا فرعونی لشکر تھا، قلیل وقت میں سمندر پار کرنے کا انتظام کرنے یا راستہ بدل کر صحراء سینا کی طرف نکلنے کا کوئی امکان نہ تھا، لیکن اس نازک وقت میں بھی ان کے پائے استقامت میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی، اس پر رحمتِ الٰہی جوش میں آئی، اللہ تعالٰی نے اپنا وعدہ پورا کیا، پانی سے ڈبونے کی صلاحیت چھین لی گئ، اس کے اندر راستے بن گئے، حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم جب پار اتری اور فرعونی لشکر معاملے کی حقیقت سمجھے بغیر (ہمارے بعض عقلیت زدہ مفسرین کی طرح) جوار بھاٹا سمجھ کر ان کے پیچھے پیچھے سمندر میں اتر پڑا تو خلیج سوئز کی موجیں دوبارہ اپنی اصلی حالت پر بلکہ پہلے سے زیادہ غیظ و غضب کے ساتھ بپھر کر ان پر آپڑیں۔*

*کھال_اترا_ہوا_دنبہ:*

*غرور سے بھری ہوئی فرعونی قوم کے ہوش پہلے ہی تھپیڑے میں ٹھکانے آگئے، انہوں نے گریہ و زاری شروع کی، لیکن اب توبہ کا دروازہ بند ہو چکا تھا، آن کی آن میں سب قصہ پارینہ بن گئے، البتہ فرعون کا بدن تاریخ کے بدلتے موسموں کے باوجود آج تک بغیر مسالوں کے مصر کے قومی عجائب گھر میں محفوظ ہے اور اس کی شکل ایسی ہے جیسے کسی کمزور دنبے کی کھال گوشت سمیت اتار دی جائے اور اس کی چھلی ہوئی ہڈیاں زمین پر خدا بننے والوں کو غرور، تکبر اور بےجا ظلم کا رسوا کُن انجام یاد دلاتی رہیں۔*

*بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے نجات دی، لیکن آج اس قوم کی باقیات اس انعام کو بھول کر فلسطین کے مظلوم اور لاچار مسلمانوں سے وہ فرعونی سلوک کر رہی ہیں جس سے نجات کے لیے یہ خود دن رات دعائیں مانگا کرتی تھیں، آج کے بنی اسرائیل اپنا مشکل وقت بھلا کر فلسطینی مسلمانوں کے معصوم بچوں کو اسی طرح قتل کر رہے ہیں جیسے فرعون ان کے بچوں کو قتل کرتا تھا اور یہی خلیج سوئز جہاں ان کو نجات ملنے کا محیرالعقول واقعہ پیش آیا تھا، اس سے متصل نہر پر قبضہ جمانے کے لیے وہ کتنے ہی مسلمانوں کا خون بہا چکے ہیں اور اس کی پاداش میں لگتا ہے کہ وہ ایسے انجام سے دوچار ہونگے کہ لوگ ان کی لاشوں کو دیکھ کر نفرت اور کراہیت سے ناک سکیڑ لیا کریں گے۔*

*"صحرائے سینا اور خلیج سوئز" جس کا تذکرہ قرآن مجید میں مختلف عنوانات سے آیا ہے، اطرافیۂ قرآنی کے ماہرین کے راجح قول کے مطابق خلیج سوئز ہی وہ مقام تھا جہاں قدرت الٰہی نے ظالم اور متکبر حکمران اور اس کے لشکریوں کو ہلاکت خیز غوطے دیے، بعض نے بحیرۂ مرّہ بتایا ہے جو سوئز کے بیچ میں پڑتا ہے، لیکن راجح (اور قرآنی الفاظ بحر اور یمّ کے قریب) پہلا قول ہی ہے۔*
*ہ=========================>

🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻ہ

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore