Hafiz Mohammad Shabbir Quran Teacher
“Daily Islamic reminders, Quranic stories of Prophets and life-changing lessons for peaceful living. 🌙”
اللہ تعالی ہمیں بتارہے ہیں کہ لوگو تم پر جب کوئی ایک مشکل آ ئی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہم تمہیں ایک آسانی بھی دیتے ہیں ۔ اور پھر اسی مشکل کے ساتھ ایک دوسری آسانی بھی دیتے ہیں ۔ اس کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ، بلکہ دہرانے سے اس کا یہ مطلب بنتا ہے کہ مشکل ایک ہی ہو گی مگر انسان کو اس کے ساتھ بار بار مختلف آسانیاں بھی ملیں گی ۔ ایک مشکل مگر کئی آسانیاں ۔ ایک عسر مگر ایک سے زیادہ یسر ۔ ہم مشکل حالات میں انتظار کرتے ہیں کہ بھئی تنگی کے ’ بعد’ ‘ آسانی' آۓ گی ، مگر آسانی تو اللہ تنگی کے ’ ’ ساتھ ‘ ‘ ہی دیتا ہے ۔ ہم انسان مشکل کو دیکھتے اور اس کو سوچتے رہتے ہیں اور اس کے ساتھ عطا کر دہ ڈھیروں آسانیاں بھول جاتے ہیں ۔ قرآن کی ایک ایک آیت اتنی گہری ہے کہ اس پر غور کرنے کے لئے ساٹھ ستر سال کی زندگی بھی کم لگتی ہے 🖤✨
يَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
ترجمہ :
اے دلوں کو پھیرنے والے! ...
میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ...
آمین یا رب العالمین
*اللہ الصمد *
عطاءاللہ شاہ بخاری فرماتے ہیں
کہ میں جیل میں تھا تو مجھے خیال آیا کہ قرآن مجید کا وہ ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کروں
جو حضرت شاہ عبدالقادر ؒ نے لکھا ہے۔
میں نے قرآن مجید جیل میں منگوایا اور پڑھنا شروع کیا جب میں
اللہ الصمد پر پہنچا تو
اللہ الصمد کا جو معنی شاہ عبد القادر ؒ نے کیا تھا وہ میں نے اس سے پہلے نہ سنا نہ پڑھا تھا۔
حضرت نے اللہ الصمد کا معنی
”نراسترک“لکھا ہوا تھا
جو مجھے سمجھ نہ آیا میں بڑا بےچین ہو گیا پھر مجھے خیال آیا
جیل میں ہندو پنڈت بھی قید ہے اس سے نراسترک کا معنی پوچھتا ہوں
حضرت عطاءاللہ شاہ بخاری لکھتے ہیں
میں اس پنڈت کے پاس گیا اس ساری بات کی اور کہا کہ نراسترک کے کیا معنی ہیں میرا پوچھنا تھا کہ پنڈت وجد میں آ کر جھومنے لگا میں کافی پریشان ہو گیا کہ میں نے معنی پوچھا اسے دیکھو کیا ہو گیا کافی دیر کے بعد وہ اپنی کیفیت میں واپس آیا تو میں نے اسے کہا اللہ کے بندے میں نے تو نراسترک کا معنی پوچھا اور تو وجد میں آگیا ایسا کیا ہے؟
پنڈت نے جواب دیا سن سکے گا
میں نے جواب دیا ہاں کیوں نہیں
پنڈت بولا تو پھر سن
”نراسترک“سنسکرت زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں۔
وہ جس کا کام کوئی روک نہیں سکتا اور اگر وہ ” نہ چاہے تو کسی کا کام ہو نہیں سکتا“اللہ الصمد“
شاہ صاحب فرماتے ہیں
بس اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہ تھا پتہ نہیں کب تک میری یہ کیفیت رہی۔
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴).
( سوانح و افکار
عطا اللّٰہ شاہ بخاری )
Allah pak sab ky ly Asaniya farmay Ameen
08/02/2022
"" "" "" جنات کا سائنسی تجزیہ"" "" ""
ایک سائنسدان کے قلم سے۔۔۔۔
بہت دلچسپ۔۔۔ضرور پڑھیں
جنات اللہ کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ،
وہ آگ سے پیدا کیے گئے ،
ان میں شیاطین و نیک صفت دونوں موجود ہیں
اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔
یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔
کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟
اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟
لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔
جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟
اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔
پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں جو (electromagnetic spectrum)
بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔
جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔
میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔
اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔
اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔
اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔
روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔
اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔
کائینات میں پائی جانی والی تمام چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔
جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف % 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔
انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔
ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔
سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے
ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ رنگ مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،
الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔
امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔
جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔
درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے
جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔
ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے.........
اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔
جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔
پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔
اور دوسری چیز fovea جوانتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں
اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔
البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے
مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے
اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔
اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔
ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے
اور یہی وہ فریکوئینسی ہے
جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔
اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے
جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔
اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن
دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔
سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔
اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔
پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ،
صرف 2 سالبعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں
اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔
جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔
ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسےجسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔
لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔
اگر آپ پہلی ڈائیمینش....
میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔
اگر آپ دوسری ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔
تیسری ڈائیمینشن .....
میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔اگر آپ کسی طرح سے
چوتھی ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔
پانچویں ڈائیمینشن.....
میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔
چھٹی ڈائیمینشن .....
میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کےقابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔
ساتویں ڈائیمینشن....
آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا۔
آٹھویں ڈائیمینشن....
آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔
نویں ڈائیمینشن....
ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔
اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔
اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔
اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نےدیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔
اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔
بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں....
اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے
جس کی بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔
ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ
جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ،
یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہےکہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔
یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔
یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ،
یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیاتھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ،
یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ،
یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔
ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ،
لیکن جس چیز نے ذاتی طور پرپر میرے دل کو چھوا ......
وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔
الحمد للہ رب العالمین ۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا...
منقول
مردے کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں ۔۔۔ !!!
شروع میں مردہ شخص کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ خود کو موت کا خواب دیکھتا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ خود کو روتا، نہاتا، گرہ لگاتا اور قبر پر اترتا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ ہمیشہ خواب دیکھنے کا تاثر رکھتا ہے
جب وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ چیختا ہے لیکن کوئی اس کی چیخ نہیں سنتا، جب ہر کوئی منتشر ہو جاتا ہے اور زمین کے اندر تنہا رہ جاتا ہے، اللہ اس کی روح کو بحال کرتا ہے۔ وہ آنکھیں کھولتا ہے اور اپنے "برے خواب" سے جاگتا ہے۔ پہلے تو وہ خوش اور شکر گزار ہوتا ہے کہ، جس سے وہ گزر رہا تھا وہ صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا ، اور اب وہ اپنی نیند سے بیدار ہے۔ پھر وہ اپنے جسم کو چھونے لگتا ہے ، جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہے ، خود سے حیرت سے سوال کرتا ہے "میری قمیض کہاں ہے
"میں کہاں ہوں ، یہ جگہ کہاں ہے ، ہر طرف گندگی اور کیچڑ کی بو کیوں ہے ، میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟" پھر اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ زیر زمین ہے ، اور جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے وہ خواب نہیں ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی مر گیا ہے۔
وہ ہر ممکن حد تک زور سے چیختا ہے ، پکارتا ہے: اس کے رشتہ دار جو اس کے مطابق اسے بچا سکتے تھے:
اسے کوئی جواب نہیں دیتا۔ وہ پھر یاد کرتا ہے کہ اس وقت اللہ ہی واحد امید ہے۔ وہ اس کے لیے روتا ہے اور اس سے معافی مانگتے ہوئے اس سے التجا کرتا ہے۔
"یا اللہ! یا اللہ! مجھے معاف کر دے یا اللہ ... !!!
وہ ایک ناقابل یقین خوف سے چیختا ہے جو اس نے اپنی زندگی کے دوران پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
اگر وہ ایک اچھا انسان ہے تو مسکراتے ہوئے چہرے والے دو فرشتے اسے تسلی دینے کے لیے بیٹھ جائیں گے ، پھر اس کی بہترین خدمت کریں گے،
اگر وہ برا شخص ہے تو دو فرشتے اس کے خوف کو بڑھا دیں گے اور اس کے بدصورت کاموں کے مطابق اسے اذیت دیں گے۔
اے اللہ میرے اور میرے ماں ، باپ ، اور میرے خاندان اور دوستوں کے گناہ معاف فرما 🙏🏻 آمین
لکھتا ہے وہی ہر بشر کی تقدیر
*وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌ*
جس کے تابع ہیں جنّات و انسان
*فَبِأَيِّ آلَاء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ*
ابتدا ہے وہی اور وہی انتہا
*وَتُعِزُّ من تشاء وَتُذِلُّ من تشاء*
تنہائی میں بھی رہو گناہ سے دور
*ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺑِﺬَﺍﺕِ ﺍﻟﺼُّﺪُﻭﺭِ*
ہے تجھکو بس طلب کی جوت
*کُلُّ نَفْسٍ ذَائقة الْمَوْتِ*
انساں کو ہے لاحاصل کا جنون
*قَدۡ أَفۡلَحَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ*
غیب سے نکال دیتا ہے وہ سبیل
*حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ*
ہر ایک کو دیتا ہے صلہ بہترین
*إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ*
اس سے مانگو وہ ہے بڑا کریم
*فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ*
تخلیقِ انسانی کا ہے مقصد
*قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ*
تیری رضا میں ہی ہے سکون
*فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ*
️ رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔
اے میرے رب! بدلے کے دن تو میری
خطائیں بخش دینا -
آمین ۔
جب بندہ درود پاک پڑھتا ہے
جیسے ان پھولوں سے خوشبو آتی ہے
تو بندے کے منہ سے بھی ایسی ہی خوشبو
کے الفاظ ہی نکلتے ہیں اور الفاظ درود پاک کا
پتا نہیں کتنا درجات بلند ہوتے ہوں گے ہماری سوچ
سے بھی زیادہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں
اے مجھے ہدایت دے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سلام
پڑھنے کی اور میرے اہل خانہ کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر
درود پاک پڑھنے کی امین ثم امین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore