Knowledge Giver Science Academy

Knowledge Giver Science Academy

Share

Knowledge Giver Science & Commerce Academy is for our new generation, through which they can achieve their goal

10/09/2022

"Immediate first aid can make a real difference"
Happy World First Aid Day

Kind Regards
Knowledge Giver Science Academy
Save Upcoming Youth Official

27/02/2022

جمائی کیوں آتی ہے ؟

جمائی لینا ایک خودکار عمل ہے اس کے لئے کوشش نہیں کرنا پڑتی ۔ یہ ایک اضطراری عمل ہے جو ہمارے پھیپھڑوں میں آکسیجن کو پر زور طریقے سے داخل کرتا ہے ۔ جسم کو آکسیجن کی ترسیل بعض اوقات کم ہو جاتی ہے ۔ اس کی وجہ سے ماحول میں آکسیجن کی کمی یا پھر دیر تک گہرے سانس نہ لینے کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ گہرے سانس نہ لینے کا سبب عام طور پر تھکن یا پھر دباؤ میں رہنا ہوتا ہے ۔ بعض اوقات ہم زیادہ دیر تک سست اور غیر فعال ہو کر بیٹھے رہتے ہیں یہ صورتحال بھی ضرورت کے مطابق آکسیجن کی ترسیل کو ممکن نہیں رہنے دیتی ۔ جب خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے تو جسم کا فطری نظام جمائی لینے کا عمل پیدا کر دیتا ہے ۔ اس عمل میں ہمارا منہ بہت زیادہ کھل جاتا ہے ۔ زیادہ منہ کھلنے سے زیادہ ہوا پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے اور بھر پور مقدار میں آکسیجن ملتی ہے ۔ خون میں زیادہ آکسیجن جانے سے سستی اور تھکن دور ہو جاتے ہیں۔

25/02/2022

کچے انڈے صحت کے لیے کیسے ہیں؟؟؟ کیا ان سے ویٹ گین کر سکتے ہیں؟؟؟

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کچّے انڈے میں زیادہ غذائیت پائی جاتی ہے،اور اس کا استعمال ہمارے لئے فائدے مند ہوتا ہے۔لیکن حقائق اسکے برعکس ھیں جنہیں جاننے کے بعد آپ کچّا انڈہ استعمال کرنا چھوڑ دیں گے۔
عموماً لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کچّے انڈے کے استعمال سے اس لئے منع کیا جاتا ہے کہ اس میں اکثر ‘سالمونیلا’ نامی ایک بیکٹیریا پایا جاتا ہے جو ٹائیفائیڈ کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ کچّا انڈہ استعمال نہ کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ آپ انڈے سے ملنے والی پروٹین کی مقدار کو کم کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک انڈے میں تقریباً 6 گرام پروٹین موجود ہوتا ہے۔جب انڈہ کچّا ہوتا ہے تو یہ پروٹین ایک گیند کی شکل میں بند ہوتا ہیں۔پروٹین کو اس حالت میں جذب کرنا ہمارے جسم کے لئے مشکل ہوتا ہے۔لیکن جب آپ انڈے کو پکا لیتے ہیں تو یہ پروٹین اپنی مخصوص حالت سے باہر آکر ایک نئی شکل اختیار کرلیتا ہے۔اس عمل میں انڈے کی سفیدی جوشفاف ہوتی ہے وہ سفید ہوجاتی ہے۔ اس حالت میں پروٹین کو جذب کرنا ہمارے جسم کےلئے آسان ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق، کچّا انڈہ استعمال کرنے والے لوگ صرف 50 فیصد تک پروٹین کو ہی جسم میں جذب کر پاتے ہیں۔جبکہ وہ لوگ جو انڈے کو پکا کر استعمال کرتے ہیں،91 فیصد تک پروٹین کو جسم میں جذب کرپاتے ہیں۔انڈوں میں9 ضروری امینو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔لیکن یہ غذائی اجزاء انڈے میں پائےجانے والےپروٹین میں بند ہوتے ہیں۔ تو اپنے جسم پر ایک احسان کریں اور کچا انڈہ کھانے کے بجائے اسے اپنےپسندیدہ طریقے سے پکا کر استعمال کریں۔

25/02/2022

ناخن جو اطراف میں بہت اندر کی طرف مڑے ہوئے ہیں ان کو انگونے والے ناخن ( ingrown toenail ) کہتے ہیں۔

یہ حالت پیر کے ناخنوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اس کی وجہ بہت زیادہ تنگ جوتے پہننے کی وجہ سے ہو سکتی ہے، خاص طور پر پنجے کی طرف سے تنگ جوتے۔ انگونے ہوئے ناخن ( ingrown toenail ) ناخن کو غلط طریقے سے کاٹنے کے نتیجے میں بھی ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں یعنی انفیکشنز میں، علاج کیلئے اسکا کچھ حصہ یا پورا ناخن بھی ہٹانا شامل ہو سکتا ہے۔

24/02/2022

بیالوجی کے بارے میں اہم معلومات

💫 زوالوجی - Zoology

بیالوجی کی وہ شاخ(Branch) جسمیں ہم جانوروں کا مطالعہ کرتے ہیں زوالوجی کہلاتا ہے۔
یہ بیالوجی کا سب سے بڑی شاخ ہےاور اس کو مزید بہت سے مخلتف شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

جنرل شاخیں(General Branches)

1.اناٹومی(Anatomy)زوالوجی کی وہ برانچ جس میں ہم جانوروں کا اندرونی مطالعہ کرتے ہیں۔

2:سائٹالوجی(Cytology).جس میں ہم خلئے کی ساخت؛اس کے عضوئےاور فعل کا مطالعہ کرتے ہیں۔

3:ایکالوجی(Ecology).جسمیں جانداروں اور اس کے ماحول کے درمیان جو تعلق ہے اسکا مطالعہ کرتے ہیں۔

4:ایمبریالوجی(Embryology).جس میں ہم ایک جاندار کا فرٹیلائزڈ انڈے(egg)سے پیدا ہونے تک کا۔مطالعہ کرتے ہیں۔

5:ایولوشن(Evolution).جس میں ہم جانداروں کی ابتداء سے اور ٹائم کیساتھ ساتھ ماحول کیساتھ جو مطابقت اختیار کرتا ہے ۔اس کو ایولوشن کی شاخ میں ہم مطالعہ کرتے ہیں۔

6:پیراسائٹالوجی۔(parasitology).اس میں شاخ ان جانداروں کا مطالعہ کرتے ہیں جو دوسرے جاندار کے اندر رہتے ہیں اردو میں ہم اسے طفیلئے کہتے ہیں۔

7:جینیٹکس(Genetics).جسمیں ہم وراثت اور اسمیں تغیرات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

8:ہسٹالوجی(Histology)جس میں ہم بافت کی ساخت اور اس کے افعال کا مطالعہ کرت ہیں۔

9:مارفالوجی(Morphology).جسمیں ہم جانداروں کی شکل یا صورت یا ظاہری حصہ اور ساخت کا مطالعہ کرتے ہیں۔

10:پیلانٹولجی(Palentology).جسمیں ہم فوسیل(کانی)اور معدوم جانوروں کا مطالعہ کرتے ہیں۔

11:فزیالوجی(physiology)۔جسمیں ہم جانور کے مختلف قسم کے عضو اور اسکے افعال کے بارے میں سٹڈی کرتے ہیں۔

12:ٹیکسانومی(Taxanomy).جسمیں ہم جانداروں کی درجہ بندی، نام دینا، اور جانوروں کے مخلتف گروپس میں جو ارتقائی رشتہ داری ہوتا ہے اسکے بارے میں ہم مطالعہ کرتے ہیں۔

13:زوجیوگرافی(Zoogeography).جسمیں ہم جانداروں کی تمام دنیا میں جو پھیلاو ہوتا ہے اسکے بارے میں سٹڈی کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایپلائیڈ شاخیں(Applied Branches)

1:ایپی کلچر(Apiculture).جس میں شہد کی مکھیوں کی تربیت/ پرورش کرنے کا مطالعہ کرتے ہیں۔

2:ایکواکلچر(Aquaculture). جسمیں ہم آبی جانوروں کی افزائش نسل/نسل بڑھانا وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔

3:فزی کلچر(Pisciculture).جس میں ہم مچھلیوں کی پرورش اور اس کی نسل بڑھانے کے طریقے وغیرہ ۔۔اسکا مطالعہ کرتے ہیں۔

4:پولٹری(Poultry).جس میں چھوٹی مرغی یا چڑیا ،طوطا وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔
۔--------------------

مخصوص فائلم شاخیں
Specific PHYLUM branches

1:ایکارولوجی(Acarology).جسمیں ہم ٹک (عضلی تشنج،بعض عضلات کی معمول کی تشنج سکڑن)کا مطالعہ کرتے ہیں۔

2:اینتھراپالوجی(Anthropolgy)جسمیں ہم بے دم بندر یا ایپس کا مطالعہ کرتے ہیں۔

3:کارسینالوجی(Carcinology) جس میں ہم خ*ل دار جانداروں کامطالعہ کرتے ہیں یعنی جن کے اجسام پہ سخت خ*ل جمی ہوئی ہو۔

4:کونکالوجی(Chonchology)..
جسمیں ہم مولسکین(Molluscan)کے بارے میں ہم سٹڈی کرتے ہیں

5:انٹمالوجی(Entomology) . جسمیں ہم کیڑے مکوڑوں کے۔بارے میں مطالعہ کرتے ہیں۔

6:ہرپیٹالوجی(Herpetology) جس میں ہم ریپٹائلز کے بارے میں سٹڈی کرتے ہیں۔
reptiles:رینگنے والے جانور

7:استیالوجی(Ichthylogy)
جس میں ہم مچھلیوں کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں۔

8:لیپیڈیپٹیرالوجی(Lepidopterology)
جس میں ہم تتلیوں اور اور پتنگ یا پروانہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔

9:میلاکولاجی(Malacology).
جسمیں ہم مولسکس (Mollusks) جس کو ہم۔پلپلے جانور یا گھونگے کہتے ہیں کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں۔

10:میمالوجی(Mammalogy).
جس میں ہم ان جانداروں کا مطالعہ کرتے ہیں۔جو اپنے بچوں کو دودھ پلانے کی خصوصیت رکھتا ہو۔

11:نیماٹولوجی(Nematology).جس میں نیماٹوڈز کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں جیسا کہ کیچوا۔
پتلے پتلے بے جوڑ پیوند استوانی نسل کے کیڑوں سے متعلق۔

12:اوفیالوجی(Ophiology)جس میں ہم سانپوں کے بارے میں سٹڈی کرتے ہیں۔

13:آرنیتالوجی(Ornithology)جس میں ہم پروندوں کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں۔

14:پروٹوزوالوجی(protozoology)جس میں ہم یک خلوی جانداروں کے بارے مین سٹڈی کرتے ہیں۔
۔________________________
Organ Related Branches
اعضاء کے متعلق شاخیں

1:کارڈیالوجی(Cardiology).
دل ( heart)کے سائنسی مطالعے کو کارڈیالوجی کہتے ہیں۔

2:ڈرمیٹالوجی(Dermatology).
جلد(skin)کے سائنسی مطالعے کو ڈرمیٹالوجی کہتے ہیں۔

3:اینڈوکرینالوجی(Endocrinology)
جس ہم اینڈ کرائں گلینڈ (بے نالی گلینڈ)کے بارے میں سٹڈی خرتے ہیں۔

4:ہیماٹالوجی(Haematology).
خون کے سائنسی مطالعے کو ہیماٹالوجی کہتے ہیں۔

5:ہیپاٹالوجی(Hepatology).
جگر(liver)کا سائنسی مطالعہ ۔۔۔۔ہیپاٹالوجی کہلاتا ہے۔

6:مائیالوجی(Myology)جس میں پٹھوں(Muscles)کے بارے میں سٹڈی کرتے ہیں۔

7:نیفرولوجی(Nephrology).
گردوں (Kidneys)کا سائنسی مطالعہ نیفرولوجی کہلاتا ہے۔

8:نیورولوجی(Neurology).جس میں ہم اعصابی نظامNervous system) کے بارے میں سٹڈی کرتے ہیں۔

9:آڈنٹالوجی(odontology).جس میں ہم دانتوں اور مسوڑوں کے بارے میں سٹڈی کرتے ہیں۔

10:آفتلمالوجی(Ophthalmology).
آنکھوں کا سائنسی مطالعہ آفتلمالوجی کہلاتاہے۔

11:آرگینالوجی(Oarganology).
اعضاء کا سائنسی مطالعہ آرگینالوجی کہلاتا ہے۔

12:آسٹیالوجی(Osteology)
ہڈیوں کا سائنسی مطالعہ آسٹیالوجی کہلاتا ہے۔

13:آوٹالوجی(Otology).
کان(ear)کا سائنسی مطالعہ اوٹالوجی کہلاتا ہے۔

14:رہنالوجی(Rhinology).
ناک(Nose) کا سائنسی مطالعہ رہنالوجی کہلاتا ہے۔

15:ٹرائکالوجی(Trichology).
بال(Hair) کا سائنسی مطالعہ ٹرائکالوجی کہلاتا ہے

16:یورولوجی(Urology).
اخراجی اعضاء(Excretory organs) کا سائنسی مطالعہ یورالوجی کہلاتا ہے۔
۔_________________________۔
Health & Diease Related Branches
صحت اور بیماری سے ریلیٹڈ شاخیں

1:بیکٹیریولوجی(Bacteriology).
بیکٹریا کا مطالعہ بیکٹیریولوجی کہلاتا ہے۔

2:ایتھالوجی(Ethology).
جانداروں کے روئے کے بارے میں جاننا ایتھالوجی کہلاتا ہے۔

3:ایٹیالوجی(Etiology)
اس شاخ میں بیماری کا سبب یعنی جن وجوہات یا اسباب سے بیماری/مرض پیدا ہوئی ہے کے بارے میں مطالعہ کرتے ہیں۔

4:گیرانٹالوجی(Gerontology).
بڑھاپے(Aging)کا سائنسی مطالعہ گیرانٹالوجی کہلاتا ہے۔۔

5ایمیونولجی(Immunology).
بیماری سے حفاظت کا سائنس میں جو برانچ ہے اسے ہم۔ایمیونولوجی کہتے ہیں۔

6:آنکالوجی(Oncology)
ٹیومر(رسولی) کا سانئیسی مطالعہ آنکالوجی کہلاتا ہے۔

7:آولوجی(Oology)
انڈوں کا سائنسی مطالعہ آولوجی کہلاتا ہے۔

24/02/2022

تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ؟

ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں۔
● مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارےدل کو کمزور کر دیتے ہیں۔ مگر ہم جب تیز چلتے ہیں‘ جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے، ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں، یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے۔
● مثلاً دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں، کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی، یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا۔
● مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے ۔
● ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔ یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں، مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں- یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نہ اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں، نہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں،
سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں، چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے۔
● مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے، جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے، ہماری انگلی کٹ جائے، بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا، جبکہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے۔
سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے، اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے، آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں۔

یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں

ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔ یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں، اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا، دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں ۔
دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیےتیار ہیں ۔
ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے، یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے، ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں، یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے، ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ۔

23/02/2022

نومولود میں بالغ انسان سے زیادہ ہڈیاں ہوتی ہیں ؟

ایک بالغ انسان میں 206 کے قریب ہڈیاں ہوتی ہیں، ایک نومولود میں 300 کے قریب، لیکن اصل میں نومولود میں کوئی اضافی ہڈی نہیں ہوتی ، بس اسکی ہڈیوں کے الگ الگ حصے بنے ہوتے ہیں، جو عمر کے ساتھ ساتھ جڑ کر 206 تک ہوجاتے ہیں، بچے کی ہڈی حصوں میں تقسیم ہوتی ہے اور دو حصوں کے درمیان ایک نرم سا حصہ ہوتا ہے جسے گروتھ پلیٹ یا epiphyseal پلیٹ کہتے ہیں۔
یہ بچے کی گروتھ کے لیے ہوتی ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑھتا ہے، ان ہڈیوں کے درمیان یہ نرم حصہ کم ہوتا جاتا ہے، ہڈیوں کا سائز بڑھتا جاتا ہے اور ہڈی کے دو حصے مل جاتے ہیں اور ایک ہی ہڈی بنا لیتے ہیں۔ بچے کے ہاتھ پاؤں، ٹانگوں، بازوؤں کی ہڈیوں میں اسی طرح کے حصوں میں تقسیم ہوئی ہوتی ہیں۔ اسی طرح بچے کی کھوپڑی کی ہڈیوں کے درمیان بھی نرم سا ٹشو ہوتا ہے، تاکہ پیدائش کے دوران بچے کا سر باہر آسکے، بعد میں یہ ہڈیاں جڑ کر سخت ہوجاتی ہیں۔

23/02/2022

Vitamin Deficiencies:

Vitamin A :Night Blindness
Vitamin B1: Beriberi
Vitamin B2: Ariboflavionisis
Vitamin B3: Pellagra
Vitamin B5: Paresthia
Vitamin B6: Anemia
Vitamin B7: Dermitis and enteritis
Vitamin B9-B12: Megaloblastic Anemia
Vitamin B17: Cancer
Vitamin C: Scurvy and swelling of gums
Vitamin D: Rickets and osteomalacia
Vitamin E: less fertility
Vitamin K: Non clotting of blood

23/02/2022

کاربن بیسڈ اور سیلیکان بیسڈ حیات میں فرق

زمین پر زندگی کاربن بیسڈ ہے، لیکن کیا کہیں کوئی زندگی سلیکان بیسڈ بھی ہوسکتی ہے؟

زمین پر زندگی پوٹاشیم K ، کاربن C ، کیلشیم Ca ، ہائیڈروجن H ، نائٹروجن N اور آکسیجن O کا استعمال کرتے ہوئے تیار ہوئی، لیکن یہ ممکنہ طور پر آرسینک As ، سلیکان Si اور آئرن Fe ہو سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ ایک مشین کی طرح نظر آئے گا لیکن کسی ایگزو سیارے پر یہ ایک جاندار بھی ہو سکتا ہے جن کے جسم میں آرسینک، سلیکان اور آئرن شامل ہو۔
سلیکون پر مبنی زندگی کے اجسام Life Forms ، جسے سلیکون سائیکل لائف فارم Silicone cycle Life Form یا سیلیکون کریچر Silicone Creature بھی کہا جاسکتا ہے، ایک ایسے زندہ جاندار کا ممکنہ جسمانی لائف فارم ہوسکتاہے جس نے کاربن کے بجائے سلیکون کو اپنی ساخت اور زندگی کے افعال کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا۔
سلیکون کے بلڈنگ بلاکس، کاربن کی مانند کئی زندگی نما ڈھانچے میں تبدیل ہو سکتا ہے، لیکن اس کی کیمسٹری اس بات کا امکان نہیں بناتی کہ یہ ایلین زندگی کی شکلوں کی بنیاد ہو سکتی ہے۔سلیکون بانڈز کی کمزور فطرت کی وجہ سے، سلیکون پر مبنی زندگی قدیم اور سادہ ہوگی۔ نامیاتی شکلوں کے پیچیدہ ڈھانچے جو ہم زمین پر دیکھتے ہیں اس کی اس لائف فارم میں کمی ہوگی - اس کے بجائے ہمیں ایک بلاب یا سلکان مرکبات کا ایک جھنڈ نظر آئے گا۔
سلیکان والی زندگی کے لیکن وجود میں نہ ہونے کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ زندگی کے لیے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں جو ہماری زمینی زندگی کے مطابق ہے، جب کاربن آکسیجن کے ساتھ رد عمل ظاہر کرتا ہے تو یہ گیسیں بنا سکتا ہے - مثال کے طور پر CO₂ اور پانی، یہ دونوں اپنے میٹابولزم کے عمل میں کاربن پر مبنی جاندار سے آسانی سے خارج ہو جاتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں، جب سلیکان آکسیجن کے ساتھ رد عمل ظاہر کرتا ہے، تو یہ ایک مستحکم ٹھوس جالی نما چیز بناتی ہے، جسکو سلیکیٹ کہتے ہے ۔ اسکو "جاندار" سے آسانی سے ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا (اگر ایسی حیاتیات واقعی موجود ہوتی ہے )، اور اس لیے سلیکون پر مبنی زندگی کی شکل حاصل نہیں ہو پاتی۔ اس کے اپنے میٹابولزم سے پیدا ہونے والی فضلہ کی مصنوعات سے چھٹکارا پانا کافی مشکل ہوگا۔ . لہٰذا یہ ایک شدید خود کو محدود کرنے والی زندگی کی شکل ہوگی!
کاربن اور سلیکان کیمیائی طور پر بہت ملتے جلتے ہیں کیونکہ سلیکان ایٹم ہر ایک بیک وقت چار دیگر ایٹموں کے ساتھ کوویلنٹ بانڈ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سلیکان کائنات میں سب سے زیادہ عام عناصر میں سے ایک ہے. مثال کے طور پر، سلیکان زمین کی پرت کے تقریباً 30 فیصد بڑے پیمانے پر بناتا ہے اور زمین کی سب سے اوپری پرت earth crust میں کاربن سے تقریباً 150 گنا زیادہ وافر مقدار میں ہے
لیکن جب کاربن آکسیڈائز ہوتا ہےیا آکسیجن کے ساتھ مل جاتا ہے تو اسکو ہم جلنے کا عمل کہتے ہیں- یہ کاربن آکسیجن سے تعامل کرکے گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ بن جاتی ہے۔ جبکہ سلیکان، آکسیجن سے ریکشن کرکے ٹھوس سلکان ڈائی آکسائیڈ میں آکسائڈائز ہوجاتی ہے، جسے سلیکا کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سلکان ٹھوس میں آکسائڈائز ہوتا ہے اور یہ اس کی ایک بنیادی وجہ ہے کہ یہ زندگی کو کیوں سہارا نہیں دے سکتا۔ سلیکا، یا ریت ایک ٹھوس ہے کیونکہ سلکان آکسیجن کو بہت اچھی طرح سے تعامل کرتا ہے، اور تعامل کے بعد سلکان ڈائی آکسائیڈ ایک ٹھوس جالی بناتا ہے جس میں ایک سلیکون ایٹم چار آکسیجن ایٹموں سے گھرا ہوتا ہے۔ سلیکیٹ مرکبات جن میں SiO₄⁻⁴ یونٹ ہوتے ہیں وہ ایسے معدنیات میں بھی موجود ہوتے ہیں جیسے فیلڈ اسپارس feldspars ، میکاس micas ، زیولائٹس zeolites یا ٹیلک talcs ۔ اور یہ سارے کمپاونڈ ٹھوس یا پاوڈر نما ہوتے ہیں جو نظام زندگی کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے کسی جاندار کے جسم سے اخراج کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔
پھر بھی، محققین نے طویل عرصے سے قیاس کیا ہوا ہے کہ ایلین زندگی، زمین پر زندگی سے بالکل مختلف کیمیائی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، محلل solvent کے طور پر پانی پر انحصار کرنے کی بجائے جس میں حیاتیاتی مالیکیول کام کرتے ہیں، شاید ایلین جاندار امونیا یا میتھین پر انحصار کر سکتے ہیں۔ اور زندگی کے مالیکیول بنانے کے لیے کاربن پر انحصار کرنے کے بجائے، شاید ایلین سلیکون کا استعمال کر سکتے ہیں۔

23/02/2022

جسم کے کسی حصہ میں خارش ہوتی ہے تو کھجانے سے تسکین مل جاتی ہے.
خارش اصل میں کیا ہے اور کھجانا انسان کو سکون کیسے دیتا ہے؟

انسانی جلد پر بہت سے سینسرز ہوتے ہیں مثلاً درجہ حرارت کے سینسرز، دباؤ کے سینسرز، درد کے سینسرز جو مختلف قسم کی چیزوں کو سینس کرتے ہیں- اسی طرح جلد پر ایک مخصوص قسم کے نیورونز ہوتے ہیں جو صرف اس وقت فائر کرتے ہیں جب جلد پر کوئی چیز رینگ رہی ہو- یہ نیورونز جب فائر کرتے ہیں تو دماغ ایک مخصوص احساس پیدا کرتا ہے جس سے ہمیں اس جگہ کو کھجانے کی خواہش ہوتی ہے- اس احساس کو خارش کہتے ہیں-

یہ نیورونز کچھ کیمیکلز سے بھی متاثر ہو کر فائر کرنے لگتے ہیں- کچھ حشرات کے لعاب دہن میں ایسے کیمیکلز ہوتے ہیں جن سے یہ نیورونز فائر کرنے لگتے ہیں- ایسے کیڑوں کے کاٹنے سے جسم پر خارش ہونے لگتی ہے- اسی طرح کچھ آٹو امیون بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں یہ نیورونز ضرورت سے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں اور جسم پر خارش ہونے لگتی ہے
قدیر قریشی

خارش کی وجوہات:

انسانی جسم پر خارش ہونے کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں۔ ان میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے۔

۱- خارش کی ایک بہت بڑی وجہ ایک قسم کی چھوٹی چھوٹی جوئیں (Scabies)، جو صرف خوردبین سے نظر آتی ہیں، ہو سکتی ہیں۔ یہ خارش عموماً جسم کے ان حصوں میں زیادہ ہوتی ہے جہاں جلد میں بہت ساری تہیں (folds) ہوتی ہیں جن میں ان جوؤں کو چھپنے کا موقع ملتا ہے۔ مثلاً انگلیوں کے بیچ میں، گھٹنوں اور کہنیوں کے اوپر، اور مردوں میں ٹیسٹیز کے اوپر۔ اس خارش کی دوسری پہچان یہ ہے کہ یہ گھر میں ایک سے زیادہ افراد کو ایک ساتھ ہوتی ہے کیونکہ جوئیں ایک سے دوسرے انسان کو آسانی سے لگ جاتی ہیں۔ اس خارش کے علاج کے لیے ڈاکٹر حضرات عموماً اینٹی سکيبیز لوشن یا کریم دیتے ہیں جس سے سب گھر والوں کو ایک ساتھ علاج کروانا ہوتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی احتیاطی تدابیر میں روزآنہ کپڑے تبدیل کرنا، استعمال شدہ کپڑوں کو تیز گرم پانی سے دھونا، اور علاج کے دوران میاں بیوی کا قربت کے تعلقات سے پرہیز کرنا شامل ہیں۔

۲- خارش کی ایک اور اہم وجہ فنگس ہے۔ یہ خارش عموماً ان جگہوں میں ہوتی ہے جہاں عام طور پر دھوپ نہیں لگتی یا جہاں پسینہ آنے کی وجہ سے جلد گرم اور مرطوب رہتی ہے، مثلاً بغلوں میں، خواتین میں چھاتیوں کے نیچے، مردوں میں فوطوں پر، اور مردوں اور خواتین دونوں میں جنسی اعضاء کے اوپر۔
یہ خارش بھی میاں بیوی میں قربت کے تعلقات کی وجہ سے آسانی سے ایک دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر حضرات اینٹی فنگل (اینٹی بائیوٹک ہر گز نہیں) ادویہ تجویز کرتے ہیں۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت میں ہو تو دونوں کا علاج ایک ساتھ ضروری ہے چاہے کسی ایک پارٹنر میں خارش نہ بھی ہو تاکہ صحت یاب ہونے کے بعد دوسرے پارٹنر سے دوبارہ فنگس کی منتقلی کے امکانات کم ہوں۔ کچھ کیسیز میں، مثلاً گردن اور سینے کے اوپر سفید دھبے، فنگس بغیر خارش کے بھی ہو سکتی ہے جس کا علاج کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

۳- خارش کی ایک اور وجہ الرجی یا حساسیت بھی ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات ہماری جلد کسی خاص چیز کے حوالے سے زیادہ حساس ہوتی ہے جس سے کونٹیکٹ ہونے کی صورت میں جلد پر خارش شروع ہو جاتی ہے۔ اسے (Contact dermatitis) بھی کہتے ہیں۔ ایسی صورت میں الرجن (جس چیز سے الرجی ہو) سے بچنا اور اینٹی الرجی ادویات کے استعمال سے آرام آجاتا ہے۔

۴- خارش کبھی کبھی امیون سسٹم کی خرابی یا زیادہ حساسیت (Auto immune disorder) کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ اسکی مثالیں سورائیسز اور اٹوپک ایکزیما ہیں۔ یہ اگر معمولی سطح پر ہو تو سٹرائیڈ کریم اور اینٹی الرجی ادویہ سے آرام آجاتا ہے۔ زیادہ تکلیف کی صورت میں امیون سسٹم کو دبا کر رکھنے والی ادویات استعمال کروائی جاتی ہیں جن سے اس وقت تک آرام ملتا ہے جب تک استعمال کرتے رہیں۔ تکلیف کم ہونے کی صورت میں دوا میں وقفہ، اور بڑھ جانے پر دوبارہ سے شروع کرائی جاتی ہے۔
اگر الرجی کی وجہ معلوم ہو تو جس چیز سے الرجی ہے، اس کے مقابلے کے لیے خصوصی ویکسین بنوائی جا سکتی ہے۔ یہ کام پہلے اسلام آباد میں نیشنل ہیلتھ لیبارٹری کرتی تھی، آجکل معلوم نہیں اس کی کیا صورت حال ہے۔

۵- کچھ لوگوں کی جلد خشک ہوتی ہے انہیں سرد اور خشک موسم میں خارش کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں کوئی اچھی کوالٹی کی کریم، لوشن، ویزلین، یا سرسوں کا تیل لگانے سے بھی آرام آ جاتا ہے۔ جلد روشنی کے لئے حساس ہونے کی صورت میں دھوپ میں خارش یا جسم میں سوئیاں چھبنے جیسی علامات کی شکایت ہو سکتی ہے۔ یہ ایک خاص اینٹی بائیوٹک دوا کا ایک سائیڈ ایفیکٹ بھی ہے۔ ایسی صورت میں اگر تکلیف زیادہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے دوا بدلنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

21/02/2022

پنجابی دا عالمی دیہاڑا

تیری ماں بولی اے بیبا ، ککھاں وانگ نہ رول پنجابی

پڑھ پنجابی ، لکھ پنجابی ، غیرت مندا بول پنجابی

Photos from Knowledge Giver Science Academy's post 09/11/2021

We feel glad to announce that the students of Knowledge Giver Science Academy, secured position & A+ grades in 9th standard (Bise Lahore). We really feel proud on you.

Our best wishes and blessings are with you.

Regards
Finhas Gill
Knowledge Giver Science Academy

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


D-Block, Street #01, Youhanabad Ferozpur Road
Lahore

Opening Hours

Monday 15:00 - 22:00
Tuesday 15:00 - 22:00
Wednesday 15:00 - 22:00
Thursday 15:00 - 22:00
Friday 15:00 - 22:00
Saturday 15:00 - 22:00