Urdu/Islamiat/Pak Study Teacher Online

Urdu/Islamiat/Pak Study Teacher Online

Share

We are a smart Tutors' team for the solution of issues with Learning Islamiat, Urdu and Pakistan Stu We serve students as our Bright Generation.

Online Teachers for All Subjects and Classes with 3Days Trial Class available. Free syllabus and exam guide and help available 24/7. Assignment writing services will reduce your burden of work. You can WhatsApp or call anytime.

08/03/2024

دورِ جدید میں جہاں مختلف موضوعات نے جنم لیا ہے وہاں مردو زَن کی برابری اور حقوقِ نسواں کا چرچا اور شور آئے دن بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ دورِ جدید پوری دنیا کا ایک جیسا نہیں۔ مغرب میں جدیدیت کا آغاز اس وقت ہوچکا تھا جب مشرق والے بہت سی چیزوں سے ناواقف تھے۔ اس طرح حقوقِ نسواں کا موضوع ہمارے ہاں اگرچہ نیا ہے لیکن ہر جگہ ایسا نہیں۔ اس سے اس بات کا بھی امکان ہے کہ ہمارے ہاں شروع ہونے والی نئی چیز کہیں نہ کہیں اپناآغازکرچکی تھی۔

8 مارچ آتے ہی عورت کے حقوق سے متعلق ابحاث شروع ہوجاتی ہیں۔ بلکہ اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ پورا سال اس جنس سے متعلق رونما ہونے والا کوئی حادثہ بھی ہو،تفریقِ مرد و زَن اور اس کے نتیجے میں عورت پر ظلم کا شور لیے لڑائیوں ،تحریروں یہاں تک کہ ڈراموں اور فلمی دنیا میں نظر آنے لگتا ہے۔میرے نزدیک ہمارے معاشرے میں یہ ایسا موضوع ہے جس کو نہ ہی بنیاد بننا چاہیے نہ ہی اس کی ضرورت و اہمیت سے انکار ہونا چاہیے۔ یہ موضوع اپنی وسعت میں اتنا بڑا ہے کہ شاید ہی کوئی ایک کتاب، ایک دانشور یا ماہرِ نفسیات معاشرتی حالات کے مطابق اسے مکمل کرسکا ہو۔ آئے دن کا ہر واقعہ اپنے حقائق اور سیاق مختلف ہونے کے باوجود عورت پر ظلم اور پِدر شاہی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کی عورت نے ظلم اور ناانصافی کے دھکے کھائیں ہیں لیکن یہ بات بھی درست نہیں کہ اس کا ذمہ دار مرد ہے۔ دو ہی جنس ہیں اگر ایک مظلوم ہے تو ضروری نہیں کہ دوسرا ہی ظالم ہے۔ خدا کی بنائی اس وسیع تر تخلیق میں بہت سے دیگر عوامل بھی انسانی معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ عورت اور مرد کی زندگیوں کا مساوی اور غیر مساوی ہونا اتنا ہی پرانا واقعہ ہے جتنا کہ انسان۔

میرے کچھ تجربے کے مطابق اس تمام بحث نے ذہنی نفرتوں اور خاندانی نظام کو بکھیرنے کے علاوہ کچھ زیادہ فائدہ نہیں دیا۔ ہم جس معاشرے میں زندگی بسر کررہے ہیں وہا ں بنیادی تعلیم و شعور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایسے دماغوں کے لیے اس موضوع سے پیدا ہونے والی ذہن سازی خطرناک حد تک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ ہر موضوع اور کام ہر کسی کے لیے نہیں ہوتا۔ ایسے ہی مردو زَن کی تفریق اور حقوق کا موضوع بھی معاشرتی طور پر باشعور لوگوں کو ججتا ہے۔ جن کے ہاں مقصدِ بحث کسی نہ کسی نتیجے اور حل کے حصول کے لیے ہو۔ہمارے اِرد گِرد کیا ہورہا ہے اور ہمیں کیا دکھایا جارہا ہے، ہم کیا کررہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے، میں بہت فرق ہوسکتا ہے۔ پہلے بنیادی شعور تو حاصل ہو، پہلے سوچنے کاطریقہ اور سلیقہ تو آتا ہو، پہلے مقاصدِ انسان اور انسانیت کا تو پتہ چلے ، سب مسائل، سب موضوعات فائدہ بخش ہوجائیں گے۔

بطورِ مسلمان ہم اس موضوع کا اسلامی نظریہ اور حل ڈھوندتے ہیں۔ اسلام ہر مو ضوع سے پہلے جس موضوع اور کام کی بات کرتا ہے اسے تعلیم کہتے ہیں۔ اسلام کا نظریۂ تعلیم بھی جامع و کبیر ہے۔ جس میں انسان کو باشعوری کی صلاحیت دینا مقدم ہے۔ جب انسان تعلیم کے مکمل اسباق سے گزرجاتا ہے تو سوچنے سمجھنے کی وہ صلاحیت اجاگر ہوتی ہے جس کی بنیاد بلاکسی تمیز سچ پر کھڑی ہوتی ہے۔ پھر بات اپنی ذات کی ہو یا اَسلاف کی ، سچ کو مان کر چلتا ہوا اِنسان حقیقت اور مقصد ِ حقیقت کو جان لیتا ہے۔

عظیم عثمانی
MineOpine

#اسلام #تعلیم

20/09/2023

Urdu/Islamiyat teacher required in Model Town Unique Campus

03065336189

21/06/2023

Teacher Required!
Female
Online
BSC II
Exam Preparation
4 subjects

DM or
03065336189

20/03/2023

11/02/2023

24/09/2022

Urdu/Islamiat/Pak Study

Teacher Available

DHA/Around

Evening only

03065336189








16/09/2022

Aoa!

Urdu/Islamiat
Teacher
Available!

DHA ph6/8/2

Contact
03065336189

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore
54000