30/04/2024
Ali Wali Online Quran Academy
Asslam o Alaikum,
Hope you and your family are doing well, staying home and safe.
30/04/2024
🌹ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لئے🌹
حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعری رضی اللّٰہُ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حُضُور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: " ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک (مؤمن) کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے۔ اور آپ ﷺ نے (بطورِ مِثال سمجھانے کے لیے) اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا"۔
[صحیح البخاری، رقم الحدیث: 2446]
23/11/2023
*حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر اور عمرہ کرنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ دنیا بھر میں ایمانداری کے انڈکس کے مطابق پاکستان کا 160 نمبر ہے*
*500 یونٹ کو 1500 یونٹ لکهنے والا میٹر ریڈر.*
*خالص گوشت کے پیسے وصول کرکہ ہڈیاں بهی ساتھ تول دینے والا قصائی.*
*خالص دودھ کا نعرہ لگا کر پانی پاوڈر کی ملاوٹ کرنے والا دوده فروش۰*
*بے گناہ کے ایف آئی آر میں دو مزید ہیروئین کی پوڑیاں لکهنے والا انصاف پسند ایس ایچ او.*
*گهر بیٹهـ کر حاضری لگوا کرحکومت سےتنخواہ لینے والا مستقبل کی نسل کا معمار استاد.*
*کم ناپ تول کرکہ دوسروں کا حق کم کرکے پورا پیسہ لینے والا دکاندار.*
*معمولی سی رقم کے لیے سچ کو جهوٹ اور جهوٹ کو سچ ثابت کرنےوالا وکیل.*
*دس روپے کے سودے میں ایک روپیہ غائب کردینے والا بچہ.*
*آفیسر کے لئے رشوت لے جانے والا معمولی سا چپڑاسی.*
*کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میچ فکسنگ کر کےملک کا نام بدنام کرنےوالا کھلاڑی۰*
*ساری رات فلمیں دیکھ کر فجر کو الله اکبر سنتے ھی سونے والا نوجوان.*
*کروڑوں کے بجٹ میں غبن کرکے دس لاکھ کی سڑک بنانے والا ایم پی اے اور ايم اين اے.*
*لاکهوں غبن کرکے دس ہزار کے ہینڈ پمپ لگانے والا جابر ٹهیکدار.*
*ہزاروں کا غبن کرکہ چند سو میں ایک نالی پکی کرنے والا ضمیر فروش ممبر صاحب.*
*غلہ اگانے کے لیے بهاری بهرکم سود پہ قرض دینے والا ظالم چودهری۔*
*زمین کے حساب کتاب و پیمائش میں کمی بیشی کرکہ اپنے بیٹے کو حرام مال کا مالک بنانے والا پٹورای اور روينيو آفيسر.*
*دوائوں اور لیبارٹری ٹیسٹ پر کمیشن کے طور پر عمرہ کرنے والے ڈاکٹر۔*
*اپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا صحافی..*...
*ﺟﺐ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ " ﻓﻼﮞ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺸﺘﯽ ﮈﻭﺏ ﮔﺌﯽ۔۔ "! ﺳﺒﮭﯽ ﻗﺼﻮﺭﻭﺍﺭ ﮨﯿﮟ*
09/11/2023
گنبد خضرا
گنبد کی تاریخ مملوک سلطان سیف الدین قلاوون کے دور تک پہنچتی ہے جنہوں نے اسے1279ء بمطابق 678ھ میں تعمیر کروایا۔ اصل ساخت میں لکڑی استعمال کی ایک جنگلہ بنا کر حجرہ پر رکھ دیااس وقت اس کانام قبہ رزاق پڑ گیا
معروف مورخ المسعودی کے مطابق اس حجرہ مقدسہ کا طول مشرق تا مغرب 8میٹر اور عرض5،5میٹر ہے اور یہ کچی اینٹوں، کھجور کے تنے اور چھال سے تعمیر کیا گیا اور پردہ کے لئے دروازہ پر اونی ٹاٹ لٹکایا گیا۔
حجرہ نبوی کا بیان الہاشمی نے بتایا کہ 700 برس گزر جانے کے بعد حجرہ نبوی میں داخل ہونے والی واحد شخصیت السمہودی نے اپنی کتاب میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ "اس کا فرش سرخ رنگ کی شبنمی ریت پر مبنی ہے۔ حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبوی کے فرش سے تقریبا 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔ اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی ایک ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے”۔ الہاشمی کے مطابق ” ایک کھڑکی کا اضافہ کیا گیا اور پھر اس کے بعد سے آج تک ان دیواروں کی بندش ہے۔ 881 ہجری میں دونوں دیواروں میں ایک تیسری دیوار کا اضافہ کیا گیا اور وہ حجرہ نبوی میں آخری داخلہ تھا”۔
حجرے کی جالیاں: سب سے پہلے 668 ہجری میں جس شخصیت نے حجرے کی جالیاں تعمیر کرائیں وہ مملوک سلطنت کا پہلا نامور حکم راں رکن الدین بیبرس تھا۔ اس نے دیواروں کے چاروں طرف فولادی جالیوں کو نصب کروایا۔یہ فولادی جال 13 رمضان 886 ہجری کو حرمِ نبوی میں دوسری آگ لگنے کے واقعے سے پہلے تک موجود رہا۔ اس کے بعد پرانے جال کو ہٹا دیا گیا اور اس کی جگہ 88 ہجری میں سنہری جالیاں نصب کی گئیں۔ ان پر سلطان قایتبای کا نام لکھا ہوا ہے..
چھ سو اٹھتر سال تک قبر مبارک پر کچھ نہی تھا
روزضہ انور پر سب سے پہلا گنبد 678 ھ ( 1269ء) میں تعمیر ھوا اور اس پر ذرد رنگ کرایا گیا اور وہ پیلا گنبد کہلایا۔ پھر مختلف ادوار میں تغیر وتبدل ہوتا رہا۔888 ھ 1483 میں کالے پتھر سے نیا گنبد بنایا گیا اور اس پر سفید رنگ کروایا گیا ۔ عشاق اس کو " گنبد بیضا ء " یعنی سفید گنبد کہنے لگے ۔980 ھ 1572 ء میں انتہائ حسین گنبد بنایا گیا اور اس کو رنگ برنگے پتھروں سے سجایا گیا ۔ اب اس کا ایک رنگ نہ رہا ۔ غالبا میناکاری کے دلکش وجاذب نظر منظر کے باعث وہ رنگ برنگا گنبد کہلایا.
بارہویں صدی میں عثمانی سلطان سلیمان اعظم نے گنبد کو سیسہ کی چادروں کے ساتھ مڑھوایا پھر 1818ء میں عثمانی سلطان محمود بن عبد الحمید نے اسے سبز رنگ کروایا اس کے بعد سے یہ ایسا ہی ہے۔
جو " ا لقبتہ الخضراء " یعنی "سبز گنبد" کے نام سے مشہور ھوا ۔ اس کے بعد اب تک کسی نے اس میں ردوبدل نہیں کیا.
24/10/2023
لکھے ہوئے میسجز کے ذریعے بحث و تکرار سب سے برا کام ہے۔ آواز کے انداز کے بغیر الفاظ حقیقیت سے کہیں زیادہ سخت لگتے ہیں
🌺🌺🌺"میری 200 سال کی تھکاؤٹ"🌻🌻🌻
پہلی سے لے کر ایم اے تک جس کلاس میں آپ نے داخلہ لینا ہو آپ کو داخلے کے لیے جو بھی فارم ملے گا وہ تقریباً انگریزی میں ہی ملے گا ۔ بنک میں اکاؤنٹ کھولنے جاؤ تو وہاں بھی تقریباً فارم آپ کو فارم اردو میں نہیں انگریزی زبان میں ہی ملے گئے یہ اس ملک کی بات ہو رہی ہے جس ملک کی قومی زبان اردو ہے ۔ افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ جس ملک کی قومی زبان اردو ہو وہاں پر انگلش میڈیم سکول ہوں اس سے بڑی نالائقی اور کیا ہوگئ ۔ مجھے کسی انگریز کے ملک میں کوئی اردو میڈیم سکول دیکھا دو مشکل ہے ۔
مشہور شاعر پروفیسر انور مسعود فرماتے ہیں "میری 200 سال کی تھکاؤٹ اس وقت اتر جائے گی جب ایک انگریز میرے پاس اردو کا فارم لے کر آئے گا اور مجھے کہےگا کہ براہ مہربانی مجھے یہ فارم تو پر کر دو "۔
حکیم محمد سعید کہتے ہیں " پاکستان کو 2 الف ( ا) ٹھیک کر سکتی ہیں
1.الف سے اسلام
اور
2۔الف سے اردو " ۔
یقین کرؤ اردو کا قتل کرنے میں ہم سب برابر کے حصہ دار ہیں ۔ ہم لوگوں نے رومن اردو لکھ لکھ کر اپنی قومی زبان کو اپنے ہاتھوں سے مارنے میں مدد کی ہے ۔
آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نہ اردو کے ہیں اور نہ ہی انگلش کے ۔
اے اردو ہم تجھ سے شرمندہ ہیں لیکن پھر بھی زندہ ہیں ۔
طالبِ دعا: محمد امتیاز اسلم
"گمان" اچھا رکھیں________،،
کچھ دروازے نہیں کھلے، کیونکہ یہ آپ کے لیے نہیں تھے____!!
کچھ لوگ چلے گئے ہیں کیونکہ وہ صفحہ تھے، پوری کتاب نہیں __________"🖤😐
کچھ خواہشیں پوری نہیں ہوتی کیونکہ ان کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے، کچھ کہانیاں ختم ہو گئیں اس لیے کہ آپ کی کہانی ابھی شروع ہی نہیں ہوئی_________،،
کچھ مواقع ضائع ہو گئے، کیونکہ آپ کو کامیابی سے زیادہ تجربے کی ضرورت ہے، کچھ درد طویل ہوتے ہیں کیونکہ اس کے بعد آنے والی خوشی اس سے زیادہ لمبی ہوتی ہے_____________؛؛
پس خوبصورت "گمان" رکھیں_____________"💯♥️🌼✨
کھڑوس۔۔🤫
*یہ ایسی اردو نعت ھے جس میں ایک بھی نقطہ نہیں آتا*
*مولانا ولی رازی صاحب کا ایک لاجواب شاہکار*
بسم الله الرحمٰن الرحیم
ھر دم درود سرور عالم کہا کروں
ھر لمحہ محو روئے مکرم رھا کروں🌼
اسم رسول ھوگا، مداوائے درد دل
صل علٰی سے دل کے دکھوں کی دوا کروں🌼
ھر سطر اس کی اسوہ ھادی کی ھو گواہ
اس طرح حال احمد مرسل کہا کروں🌼
معمور اس کو کرکے معرا سطور سے
ھر کلمہ اس کا دل کے لہو سے لکھا کروں🌼
گو مرحلہ گراں ھے، مگر ھو رھے گا طے
اسم رسول سے ھی در دل کو وا کروں🌼
ھر دم رواں ھو دل سے درودوں کا سلسلہ
طے اس طرح سے راہ کا ھر مرحلہ کروں🌼
دے دوں اگر رسول مکرم کا واسطہ!
دل کی ھر اک مراد ملے، گر دعا کروں🌼
اس کے علاوہ سارے سہاروں سے ٹوٹ کر
الله کے کرم کے سہارے رھا کروں🌼
ھو کر رھے گا سہل، ھر اک مرحلہ کڑا
الله کے کرم کا اگر آسرا کروں🌼
اُردُو زُبان کا خون کیسے ہوا ؟
اور ذمہ دار کون ہے؟
یہ ہماری پیدائش سے کچھ ہی پہلے کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔
لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے،
مثلا":
ہیڈ ماسٹر،
فِیس،
فیل،
پاس وغیرہ
"گنتی" ابھی "کونٹنگ" میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور "پہاڑے" ابھی "ٹیبل" نہیں کہلائے تھے۔
60 کی دھائی میں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھروں میں "خدا حافظ" کی جگہ "ٹاٹا" سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے "ٹاٹا" کہلوایا جاتا۔
زمانہ آگے بڑھا، مزاج تبدیل ہونے لگے۔
عیسائی مشنری سکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی (پرائیوٹ) سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔
سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی (پرائیویٹ) سکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری سکول میں پرچے ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاد کو سر کہا جانے لگا- اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔
پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔
اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہوگئی- اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔
ہمیں بخوبی یاد ہے کہ 50 اور 60 کی دھائی میں؛ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم، جماعتیں ہوا کرتی تھیں، اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔
پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا-
اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔
تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔
گرمیوں کی چھٹیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کی جگہ سمر ویکیشن اور وِنٹر ویکیشن آگئیں۔
چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے پریکٹس ورک ہو گیا ۔
پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔
امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے-
ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ مڈٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں-
اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ سٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن سینٹر جاتے ہیں۔
قلم،
دوات،
سیاہی،
تختی، اور
سلیٹ
جیسی اشیاء گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل، جیل پین اور بال پین آگئے- کاپیوں پر نوٹ بکس کا لیبل ہوگیا-
نصاب کو کورس کہا جانے لگا
اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔
ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔
اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئی- انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی- اسی طرح طبیعیات، فزکس میں اور معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے-
پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔
پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔
اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔
داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔.... اول، دوم، اور سوم آنے والے طلبہ؛ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹ بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔
بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز کرنے لگے۔
یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے۔
باقی رہے پرائیویٹ سکول، تو ان کا پوچھیے ہی مت۔ ان کاروباری مراکز تعلیم کیلیے کچھ عرصہ پہلے ایک شعر کہا گیا تھا،
مکتب نہیں، دکان ہے، بیوپار ہے
مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہے۔
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔
زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔
باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں پہلی منزل کو گراونڈ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو فرسٹ فلور۔
دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا، پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی۔
کمرے روم بن گئے۔ کپڑے الماری کی بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے۔
"ابو جی" یا "ابا جان" جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ "امی" یا امی جان "ممی" اور مام میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی" میں تبدیل ہوگئے۔
بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
ساری عورتیں آنٹیاں، چچا زاد،
ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھیں اب بھی ماسی ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے، آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نےخریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں روڈز بن گئیں۔
کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا گیا۔
کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا،
نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں،
بابو کلرک اور چپراسی پِیّن بن گئے۔
پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا-
سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ طوائفیں آرٹسٹ بن گئیں
اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
صحافی رپورٹر بن گئے اور خبروں کی جگہ ہم نیوز سننے لگے۔
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔
اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے-
اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔
وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جارہے ہیں؟
دوسروں کا کیا رونا روئیں، ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔
بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔
روکیے، خدا را روکیے،
ارود کو مکمل زوال پزیر ہونے سے روکیے۔
منقول
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Usman Street No 7 Caliton Calony
Lahore
42000