اردو تحریر استاد سید جواد نقوی دام ظلہ

اردو تحریر استاد سید جواد نقوی دام ظلہ

Share

مفکرِ اسلام استاد سید جواد نقوی حفظہ اللہ کا مستند تحریری پیغام... آپ بھی اس کا حصہ بنیں۔

11/02/2025

اذانِ حضرت علی اکبر ع و نمازِ حضرت علی اکبر:
اردو تحریر استاد سید جواد نقوی دام ظلہ

✍🏻 ۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ:

رہ گئی رسم آذاں روح بلالی نہ رہی

آج رسمِ اذاں تو ہے لیکن اس کے اندر روحِ بلالی نہیں ہے۔ آپ اپنے اندر دیکھ لیں،علی اکبر ع کی اذاں تو رہ گئی لیکن روحِ اکبری ختم ہوگئی ہے۔ روح علی اکبر ع کیا چیز ہے ؟

آپ عاشور کے دن اذانِ علی اکبر دیتے ہیں ۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ وہ اذان جو علی اکبر نے دی، اس کے بعد میں نماز بھی تھی یا نہیں تھی یا صرف اذان تھی! وہ اذان تھی اور بعد میں نماز بھی تھی، علی اکبر نے نماز پڑھی، سیدالشہدائ ؑ نے نماز پڑھی۔ روح اَکبری کیا ہے ؟ روح علی اکبر ی یہ ہے کہ جب سید الشہدائ ؑ نے فرمایا:
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ(البقرہ،۱۵۶)

بیٹے نے پوچھا بابا کیوں آپ نے انا لِلہ پڑھا۔ امام نے فرمایا مجھے غیبی آواز آئی ہے کہ یہ کاروان موت کی طرف جارہا ہے اور موت اس کی طرف آہی ہے تو جناب اکبر نے کیا فرمایا ؟
السنا علی الحق؟ کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟

جب حضرت نے فرمایا کہ ہاں بیٹا ہم حق پر ہیں تو حضر ت علی اکبر نے فرمایا پھر پروا ہ نہیں ہے کہ موت ہم پہ آپڑے یا ہم موت پر جاپڑیں ! یہ ہے اذان علی اکبر آج ہم نے ان جوانوں کو رسمِ اذان سکھادی لیکن روحِ علی اکبر نہیں سکھائی۔(حکمت علی دسمبر 2017)

صرف تقریروں سے پیغام نہ دیں بلکہ دوسروں لوگوں کو ہماری مجالس میں آنے ہی نہیں دیا جاتا، کرفیوں سا سما بنادیا جاتا ہے لہٰذا دوسرے طریقوں سے اپنا پیغام پہنچائیں جیسے شہربھرمیں مختلف مقامات پرسائن بورڈز سے استفادہ کریں۔ محرم کے دوران یادیگرمہینوں میں آپ ان سائن بورڈزکوکرایہ پرلے کران پر سنی شیعہ اتحادکے، شیعہ سنی اخوت وبرادری اور کربلا کا پیغام لگادیں اور اس طرح اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کے لیے نئے نئے طریقے ڈھونڈیں۔

وہ سنت جسے امام حسین علیہ السلام نے عین ظہرکے وقت اداکیایعنی اپنے اصحاب کے ساتھ نمازکوقائم کیا۔ آخرکیا وجہ ہے کہ اس سنت کوہم نے، عزاداروں نے بھلادیا؟اگرہم عملی طورپرحسینی ہیں توہمیں ہروہ عمل انجام دیناچاہئے جسے کربلاوالوں نے انجام دیا۔اگرکربلامیں اذان علی اکبر ؑ ہے توفجرکے وقت علی اکبر ؑ کی نمازباجماعت بھی ہے۔ہم نے اذان علی اکبر ؑ لے لی اورنمازعلی اکبر ؑ چھوڑ دی۔ اگرعلی اکبر ؑ کاکردارپیش کرناہے تو پوراکردارپیش کریں، اگر اذان سنتِ علی اکبر ؑ ہے تونمازبھی سنتِ علی اکبر ؑ ہے۔روزعاشوربڑے پیمانے پر نماز باجماعت قائم کریں۔ میڈیاکودعوت دیں۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیاپرجب ہزاروں افرادکے نمازپڑھنے کے بارے میں خبر آئے گی توشیعہ کے نمازنہ پڑھنے کے بارے میں پروپیگنڈہ خودبخودجھوٹ میں بدل جائے گا۔(مشرب ناب مارچ 2021)

https://www.facebook.com/share/1YBqG1JGdw/

06/02/2025

مولا، مولانا اور مولوی:

اردو تحریر استاد سید جواد نقوی دام ظلہ
۔۔۔۔۔
حکم و فرمان دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک فرمان تکوینی ہوتا ہے اور ایک فرمان تشریعی و قانونی ہوتا ہے۔ تشریعی و قانونی فرمان کے لیے قرآنی و دینی اصطلاح ’’مولوی‘‘ استعمال کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں مولوی کچھ اور چیز کا نام ہے، اول تو مولوی نہیں کہتے بلکہ مَولی صاحب کہتے ہیں اور وہ بھی مولانا یا عالم دین کو حقارت کے لیے، تحقیر کے لیے، مَولی صاحب کہتے ہیں۔ مولوی کا لفظ حقارت و تحقیر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مولوی کا لفظ عربی زبان میں مولا سے سے بنا ہے، مولوی کا معنی ہے مولا والا، جس طرح پاکستانی یعنی پاکستان والا جس کا پاکستان سے تعلق ہے۔ خراسانی جس کا خراسان سے تعلق ہے، الٰہی جس کا اللہ سے تعلق ہے، رحمانی جس کا رحمان سے تعلق ہے، قرآنی جس کا قرآن سے تعلق ہے، یہ اصطلاح تعلق کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح مولوی جس کا مولا سے تعلق ہے، جو مولا کی طرف منسوب ہے اس کو عربی میں مولوی کہتے ہیں۔ مولا یا مولانا یعنی جس کو ہمارے اوپر ولایت حاصل ہے، ولایت اختیار کو کہتے ہیں یعنی جس کو ہماری زندگی کا اختیار دے دیا گیا ہے۔

ماں باپ کو اولاد کی زندگی کا جزوی اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں باپ اولاد کا ولی ہوتا ہے ولی سے مراد یعنی صاحب اختیار ہوتا ہے، اولاد کے فیصلے کر سکتا ہے، اولاد کو حکم دے سکتا ہے، اولاد کو روک سکتا ہے، امر و نہی کر سکتا ہے۔ البتہ یہ آج کل کی ڈیجیٹل اولاد جس کا ولی پاپا ہو گیا، جب سے ولی بابا کے بجائے پاپا ہوا، ولایت بھی گئی۔ اب پاپا کو تو کسی نے ولایت نہیں دی، پاپا کو کیا دیا؟ پاپا تم صرف گھر میں راشن لاؤ، باقی ولایت ہمارے پاس ہے، ہمیں پتہ ہے ہم نے کیا کرنا ہے، ہم خود پڑھتے ہیں، سمجھتے ہیں۔ پاپا کا کام فقط کیا ہے؟ جیب خرچی دیں، موبائل کا نیا سیٹ خرید کے دیں اور موٹر سائیکل لے کر دیں۔ اگر یہ ساری چیزیں لے کر نہ دیں تو اس وقت پینڈ و پاپا، دیہاتی پاپا ہے، اس کو کوئی سوجھ بوجھ ہی نہیں ہے، اس کو میری شخصیت کا کوئی خیال نہیں ہے۔ میں دوستوں میں جاتا ہوں موٹر سائیکل کے بغیر جاتا ہوں۔

ایک شخص آیا، اس نے کہا مجھے آج اپنے دوستوں کی پارٹی میں جانا ہے تو مجھے اپنی کار دیں انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل پہ کیوں نہیں جاتے؟ انہوں نے کہا اس لیے کہ میں جب پاپا کی بیس لاکھ کی کار میں بیٹھ کے جاؤں گا تو اتنی شخصیت بنے گی، لوگ دیکھیں گے، حیران ہوں گے تو موٹر سائیکل تو میری بیس ہزار کی ہے تو میں بیس لاکھ کی کار میں جاؤں گا میری شخصیت بڑھ جائے گی، مجھے کار کی چابی دے دیں تو پاپا نے جیب سے سو روپیہ نکال کر دیا کہا کہ یہ لو اور بس پہ جاؤ، ملین کی بس ہے، اس سے آپ کی شخصیت اور زیادہ بنے گی۔ بیس لاکھ کی کار کی بجائے تم بیس ملین کی بس پہ بیٹھ کے جاؤ، کہیں زیادہ شخصیت بن جائے گی۔ یہ سو روپیہ لو بس پہ بیٹھ کر چلے جاؤ۔

بہرکیف آج کل پاپا انہی کاموں کے لیے ہیں لیکن اللہ نے والد کو ولی بنایا، اولاد کا اختیار دیا ہے، اللہ اپنی مخلوق کا اختیار دیتا ہے۔ پاپا اللہ کی مخلوق ہے بیٹا بھی اللہ کی مخلوق ہے، ایک مخلوق کا اختیار جزوی طور پر دوسری مخلوق کو دے دیا کہ تو والد ہے جس طرح تیرے حقوق ہیں تیرا اختیار ہے، یہ تیری اپنی اولاد کے اوپراختیار ہے۔ یہ پاپا اپنے اختیار کا استعمال کرتا ہے، جو اسے اللہ نے دیا ہے۔ اللہ کے دیے ہوئے اختیار سے اپنی اولاد کو اللہ کی راہ سے دُور کر دیتا ہے۔ کتنے ایسے باپ ہیں جن کی اولاد نے ارادہ کیا کہ ہم اللہ کی راہ میں جاتے ہیں، پاپا نے اجازت نہیں دی، کیوں نہیں دی؟ کیونکہ پاپا کو اختیار ہے، یہ اختیار کہاں سے آیا ہے؟ اسی اللہ سے آیا ہے جس کی راہ سے تو دور کر رہا ہے، جس کی راہ سے روک رہا ہے، یہ اسی اللہ کا دیا ہوا اختیار ہے، بچہ رُک تو جاتا ہے لیکن اللہ کا فرمان ہے کہ جو میرے دیے ہوئے اختیار میری ہی راہ سے دور کرنے کے لیے استعمال کرے گا میں اسی بچے کے ذریعے سے اسی پاپا کو رسوا کرواؤں گا۔ اگر یہ اختیار اللہ نے دیا تو اللہ کی راہ میں استعمال کرو۔

ولی جس کو ولایت حاصل ہو، ولایت اختیار کو کہتے ہیں، مولا جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے جس کو صاحب اختیار بنایا ہے۔

مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ

(بحار الأنوار ج:۴، ص: ۱۸۴)

یعنی جس کا اختیار میرے پاس تھا اب اس کا اختیار علی علیہ السلام کے پاس ہے علی علیہ السلام اس کے صاحب اختیار ہیں۔

مولا سے جو منسوب ہو جائے وہ مولوی کہلاتا ہے۔ مولانا یعنی ہمارے مولا، یعنی ہمارے صاحب اختیار، یہ لفظ جو حقارت کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ قرآن میں تعظیم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن میں فرمانا ہے کہ اے رسول ان لوگوں کو کہہ دو کہ مومنوں کا مولا ہے جبکہ اے کافرو تمہارا کوئی مولا نہیں ہے۔

اللہ مولانا… خدا ہمارامولا ہے۔ مولای… میرا مولا

اگر ہم مولانا کہیں یعنی ہمارے مولا، مولوی یعنی مولا والا، جو مولا سے منسوب ہو، جو ولایت سے منسوب ہو جو ولی سے منسوب ہو۔ یہاں پاکستان میں حقارت کے لیے مولوی کہتے ہیں، اگر کسی کی شان گرانی ہو تو اس کو مولوی کہہ دیتے ہیں۔

اب ظاہر ہے ہر قوم کے اندر جس طبقے کی جیسی قدر ہے، اسی سے اس کا لیول پہچانا جاتا ہے کہ یہ کس کے قدردان ہیں۔ ان کی نظروں میں کس کی قیمت ہے جس کی قیمت ہو گی ان کا درجہ بھی وہی ہو گا۔ جس قوم کے اندر کھلاڑی کی قیمت ٹیچر سے زیادہ ہو اس قوم کا معیار وہی ہو گا۔ اگر ایک جگہ پر کرکٹ کا کھلاڑی کھڑا ہو اور ایک جگہ پر یونیورسٹی کا پروفیسر کھڑا ہو تو ہمارے بچے کس سے آٹو گراف لیں گے؟ یقیناً کھلاڑی سے لیں گے۔ کیا کبھی کسی پروفیسر سے آٹو گراف لیا ہے؟ بھول کر بھی نہیں لیتے، ہم پروفیسر سے بھاگتے ہیں کہ اس سے دور ہٹو یہ نصیحت کرنا شروع کر دے گا۔ابھی نمبر پوچھے گا، کس کلاس میں پڑھتے ہو، نمبر کتنے لیے ہیں، ٹیچر کون ہے، کیا پڑھتے ہو؟کون اس کے سوالوں کا جواب دیتا رہے گا۔ اسی سے ہمیں اپنا لیول پتہ چل جاتا ہے، معیار پتا چلتا ہے۔ مولوی یعنی مولا والا جو مولا کی طرف منسوب ہو۔ اللہ کے احکام مولوی کہلاتے ہیں۔

05/02/2025

فلسطین و کشمیر کی مشترکہ داستان:
اردو تحریر استاد سید جواد نقوی دام ظلہ

مقاومت، مبارزے کا راستہ اور اس کی کامیابی کا یقین تمام آزادی پسندوں کو ہو گیا ہے۔

یہ اصحاب کہف کی طرح ہے جیسے اصحاب کہف کے چند جوان تین سو سال بعد زندہ ہو کے واپس آئے جب لوگوں نے دیکھا تو وہ جو اللہ کو نہیں مانتے تھے، قیامت کو نہیں مانتے تھے، سب نے کلمہ پڑھا کہ اللہ حق ہے، قیامت حق ہے، آج حماس کی اس کامیابی سے تمام دنیا اور خصوصاً مایوس اسلامی تحریکوں کو یقین ہو گیا ہے کہ کامیابی کا یہی راستہ ہے، سب سے بڑھ کر کشمیر وں کو یقین آنا چاہیے۔ اسی لیے مودی نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مودی کو پتہ ہے کہ یہ صرف اسرائیل کا بارڈر نہیں اُکھڑا بلکہ اس کے اقتدار کی کرسی کا بھی ستون اُکھڑ گیا ہے، اس کی نابودی کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔

کشمیر وں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ کشمیر کشمیر میں بیٹھ کر اپنا دفاع کرتے تھے، ہندوصیہونسٹ داخل ہو کر ان کی خواتین کی پردہ دری کرتے، بے حرمتی کرتے، ان کے اوپر ظلم و ستم کرتے اور یہ فقط اپنے گھروں کو تالے لگا کے عورتیں اپنی حفاظت کرتیں یا احتجاج کر کے سڑکوں پہ اپنے دفاع کی کوشش کرتے یا ان کے جوان بعض اوقات اسلحہ اٹھا کے اپنے دفاع کرتے ۔ ہندوصہیونسٹ کے وحشی درندے کشمیر میں آتے ہیں اور کشمیر کشمیر میں اپنی سڑکوں اور گھروں میں بے دفاع اپنی حفاظت کرتے تھے لیکن حماس نے بتایا ہے کہ اگر اپنی حفاظت کرنی ہے تو کشمیر میں بیٹھ کر کشمیر کی حفاظت نہیں ہو سکتی غزہ میں بیٹھ کر غزہ کی حفاظت نہیں ہو سکتی بلکہ جن کے اندر آپ کو بند کر دیا گیا ہے، آپ کو یہ حصار توڑنے ہوں گے اور جب توڑو گے تو اللہ نے آپ کو کامیابی دینی ہے۔

(اقتباس از وطن کی فکر ناداں، حماسہ حماس، نومبر 2023)

05/02/2025

یومِ کشمیر (5فروی):
اردو تحریر استاد سید جواد نقوی دام ظلہ

گزشتہ پانچ فروری کو روز یکجہتی کشمیر گزرا ہے۔ پوری پاکستانی قوم نے یوم کشمیر میں شرکت کی ہے چونکہ چھٹی کا دن تھا اس لیے سب ہی بھرپور طور پر لطف اندوز ہوئے ہیں اور چھٹی منا کر کشمیر کے دن کا حق ادا کیا ہے۔ کشمیر واقعاً مظلوم ہے اور یہ جو دوران جارہا ہے اس میں باقاعدہ اعداد و شمار کے مطابق فلسطین سے زیاد ہ مظلومیت کشمیریوں کی ہورہی ہے۔جس طرح ناگہاں ظلم و ستم اور قتل و غارت کشمیر میں بڑھا ہے اور جس طرح کی حق تلفی اورعورتوں اور بچوں کی عصمت دری ہوئی ہے اور حقوق انسانی پائمال ہوئے ہیں اس سب کے اعداد و شمار میں کشمیری فلسطینیوں سے آگے نکل گئے ہیں۔ اسرائیل نے گزشتہ سال فلسطین کے اندر ظلم نہیں کیا ہے جتنا ظلم ہندوستان نے کشمیریوں پر کیا ہے اور جو مسلسل جاری بھی ہے۔

پاکستان میں پانچ فروری کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یوم کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے لیکن جس طرح کے عالمی اور پاکستان کے اردگرد کے حالات ہوئے ہیں اور جس طرح سے پاکستان کے سابقہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی احمقانہ پالیسیاں تھیں جن کی وجہ سے پاکستان کو بہت کچھ بھگتنا پڑا ہے اس کا ایک بہت بڑا نقصان مسئلہ کشمیر کو ہوا ہے۔ چونکہ پاکستان مدعی تھا کہ کشمیر پر پاکستان کا حق ہے اس مسئلے پر بہت آگے بڑھنا اور پھر ایک دم پیچھے ہٹ کرکشمیریوں کو تنہااپنے حالت پر چھوڑدیناکشمیریوں کے ساتھ ظاہراً ناانصافی تھی۔ ابھی بھی کشمیریوں کے لیے بیان بازی کے علاوہ کوئی اقدام نہیں ہوتا۔

کشمیر کے لیے جو اقدام شروع سے ہونا چاہیے تھا اب اس کام کا کشمیر کے اندر آغاز ہوا ہے اب پاکستان اور دنیا کے سیاستدانوں نے یہ بیان دیا ہے کہ کشمیر کے عوام اور لوگوں کو کشمیر کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ اب کشمیر کے عوام نے بھی یہ باور کرلیا ہے اور اس سمت ان کی طرف حرکت شروع ہوگئی ہے۔ اس وقت کشمیریوں کے خلاف جتنے اقدامات ہورہے ہیں وہ سب اسی وجہ سے ہیں کہ کشمیریوں نے صحیح جہت کا انتخاب کرلیا ہے۔

کشمیریوں کا یہ راستہ وہی ہے جو امام خمینی ؒ نے تمام دنیا کے مظلومین اور مستضعفین کو اور وہ لوگ جو محکوم افتادہ گانِ خاک اور پابرہنہ تھے ان لوگوں کو راستہ بتایا۔ جو لوگ نسل در نسل ظلم و ستم اور استبدادکی زنجیروں میں جکڑے چلے آرہے ہیں، امام ؒ نے انہیں یہ راستہ بتایا تھا۔جس ملت نے بھی یہ راستہ چنا ہے وہ سب کامیاب ہوئے ہیں وہ راستہ صد درصد کامیابی کا راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر ملت اللہ پر بھروسہ کر کے اپنے اندر خوداعتمادی پیدا کر کے اپنے زورِبازو سے اور اپنے قدموں پر کھڑے ہوکراپنی آزادی کے لیے حرکت شروع کرے تو خدا حتماً اپنا وعدہ پورا کرے گالیکن اگر انہوں نے اللہ کے اس فارمولے کو چھوڑ کرعالمی اداروں کادوسری مملکتوں اور دوست ممالک کا سہارا لیاتوایسے سہارے وہی کریں گے جو انہوں نے کشمیر و پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔

عالمی اداروں اور دوست ممالک نے پاکستان اور کشمیر پر بہت ظالمانہ رویہ رکھا ہے اس وقت پاکستان میں کوئی زبان نہیں ہے جو ان مسائل کو کھول کر بیان کرے کہ پاکستان کے اندر جوکچھ کیا دھرا ہے وہ سب عالمی اداروں کا اور دوست ممالک کا کیا ہوا ہے۔ اس میں دوسرا عنصر پاکستان میں حکمرانوں اور صاحبان اختیار کی حماقت کا دخل ہے یہ احمق یا لالچی تھے اور وہ زیرک اور چالاک تھے انہوں نے منافقت کر کے پاکستان کو یہ دن دکھائے ہیں جو آج پاکستان اور کشمیر دونوں ملتوں کے اوپر گزر رہے ہیں۔

اہل کشمیر الحمدللہ اتنی قربانیوں کے بعد بھی نہ تھکے ہیں، نہ مایوس ہیں اور نہ ہی ناامید ہوئے ہیں بلکہ امید کے ساتھ اپنی نہضت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور خدا ایک دن ان کی قربانیوں کے طفیل انہیں آزادی عطا فرمائے گا انشاء اللہ۔

25/04/2024

📌 عنوان: حکمت، حکیم، حاکم اور حکومت؟
✍🏻 تحریر: استاد سید جواد نقوی حفظہ اللہ
●علامہ اقبالؒ کو حکیم امت کیوں کہتے ہیں؟ ●حاکم کا لفظی مطلب کیا ہے؟ ●حق حکومت کس کو ہے؟ ●حکمت اور حکومت کا کوئی ربط بھی ہے؟؟

_____حکمت ،عربی زبان میں، لغت میں فیصلہ کن بات کو کہتے ہیں جس میں تذبزب نہ ہو، مضبوط اور مستحکم ہو یعنی ایسی بات جس سے معاملے کا فیصلہ ہو جائے، الجھنیں ختم ہو جائیں بعض اوقات باتیں ہوتی رہتی ہیں، آراء آتی ہیں لیکن الجھن پھر بھی باقی ہی رہتی ہے ایسی بات جس سے ساری الجھن ختم ہو جائے اس کو عربی میں حکمت کہتے ہیں اور ایسی بات چونکہ بہت مضبوط ہوتی ہے جیسے فیصلہ کن بات کہتے ہیں، اس لیے حکمت محکم، استحکام، مضبوطی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے آپ کہتے ہیں جی گھر بنانا ہے تو ذرا محکم بنانا۔ اگر گرہ لگانی ہے تو مستحکم لگانا ۔ آئے دن پاکستان کے استحکام کے لیے ریلیاں، دھرنے اور ہر کام کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ سب کچھ ہم استحکامِ پاکستان کے لیے کررہے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نےان ستر سالوں میں یہ حشر کرکے اتنا مستحکم کر دیا ہے، یہ حرکتیں کرکرکے کہ اب پاکستان کو کوئی ٹیڑھی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا مستحکم، مضبوطی کو کہتے ہیں اسی حکمت سے نکلا ہے لیکن چونکہ فیصلہ کن بات مضبوط بات ہوتی ہے اسے کوئی غلط ثابت نہیں کر سکتا، اس میں رخنہ نہیں ڈالا جا سکتا، اسے باطل نہیں ثابت کیا جا سکتااور اس کے اندر نفوذ نہیں کیا جا سکتا فیصلہ کن بات ہوتی ہی یہی ہے۔ جسے ہم جج کہتے ہیں قاضی کوشریعت کی زبان میں حاکم کہا جاتا ہے اور جو وہ فیصلے کرتا ہے اس کو حکم کہا جاتا ہے،کیوں قاضی کو حاکم کہا جاتا ہے؟ چونکہ فیصلہ کن بات وہی کرتا ہے وکیل فیصلہ کن بات نہیں کرتا ،وکیل الجھن پیدا کرتا ہے، جنجالی بات کرتا ہے، اپنے نفع کی بات کرتا ہےاور اپنے مؤکل کی بات کرتا ہے لیکن حاکم انصاف کی بات کرتا ہے ، فیصلہ کن بات کرتا ہےاور معاملہ ختم کر دیتا ہے۔ اسی طرح جو مملکت کا حکمران ہے، فرمانروا ہے اسے بھی شریعت میں حاکم کہتے ہیں، کیوں حاکم کہتے ہیں؟ چونکہ تمام رعیت میں اور مختلف طبقات میں جو کچھ معاملات بنتے ہیں ان سب کا فیصلہ اسی سے ہوتا ہے وہ جب بات کر دے پھر اس کی بات کے اوپر کسی اور کو بات کرنے کا حق نہیں ہوتا اس لیے فرمانروا کو بھی حاکم کہتے ہیں ۔

●حق حاکمیت کس کو حاصل ہے؟
یہ عہدے یا یہ حق مخلوق کے پاس اللہ کی طرف سے ہے،جو کچھ ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اگر علم ہے تو بھی اللہ کی جانب سے ہےاور اگر حکم کرنے کا اختیار ہے تو بھی اللہ کی جانب سے ہے، اللہ نے جس کو حکم کا اختیار دیا وہ حکم کر سکتا ہے، جسے اللہ نے حکم کا اختیار نہیں دیا اگر وہ حکم کرنا شروع کر دے اس کو قرآن طاغوت کہتا ہے۔قرآن صاف وشفاف اورواضح حکم بیان کرتاہے،قرآن کسی کے ساتھ کوئی تکلفات سے کام نہیں لیتا ہر ایک کا حساب برابر کر کے اس کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ رسولؐ با مروت ہیں بعض اوقات تمہارا خیال رکھتے ہیں تم میں سے کچھ بڑے ہیں کچھ چھوٹے ہیں، ارد گرد رہتے ہیں ، پڑوس میں رہتے ہیںبہر کیف رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے آ کر الٹی سیدھی باتیں کرتے تھے، اینٹ شینٹ بولتے تھے رسول اللہ ﷺ نیچے دیکھتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیت نازل ہوئی کہ شرم کرو،رسولﷺ مروت کی وجہ سے تمہیں کچھ نہیں کہتے ۔

●خدا ایسا با مروت نہیں ہے۔
خدا نے تمہارا بھانڈا پھوڑ دینا ہے لہٰذا بہتر ہے چپ رہو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ادب سے رہو ،بے ادبی مت دکھائو اس لیے قرآن کریم میں کسی کے ساتھ کوئی تکلف نہیں برتا گیا جس کا جو حق ہے وہ اسے کھل کے دے دیا گیا ہے۔ لہٰذا جو اللہ کی طرف سے حکم کرنے کا اختیار رکھتا ہےوہ حاکم ہے لیکن جو حکم کرے اور اختیار اللہ سے نہ لیا ہو اس کا نام قرآن نےطاغوت رکھا ہےیعنی تجاوزکرنے والا۔

(درس: حکمت علی ۷۹)

25/04/2024

📌 عنوان: ہر فرد تعلیمات اہلبیتؑ کا مروج بنیں مگر کیسے؟
✍🏻 تحریر: استاد سید جواد نقوی حفظہ اللہ
گاڑیوں پر، دیواروں پر، شہر کے بڑے سائن بورڈ پر، گھروں کے چھتوں پر....

نہج البلاغہ و دیگر تعلیمات اہل بیتؑ آپ لوگوں کو اور معاشرے کو بتائیں، آپ مروّج بنیں یہی نہج البلاغہ کے جملے خوبصورت زبان کے ساتھ گرافک کی زبان آج کل بہت اچھا ہنر ہے اہل ہنر کے پاس، یہی ہمارے جوان بہترین کام کرتے ہیں، یہی کریں،ڈیزائن کریں، ایک بزرگ ایک بورڈ لے لیں اور ایک تحریک شروع کر دیں کہ دنیا کو حکمتِ علی ؈ سمجھانی ہے ہم نے، پڑھانی ہے ہم نے اگر آپ دیکھیں لاکھوں لوگ، ملینز لوگ ایک دن میں یہ بورڈ دیکھتے ہیں،ایسی کوئی کتاب نہیں ہے جو اتنی زیادہ پڑھی جا سکے شاید چند نسلیں بھی گزریں تو نہج البلاغہ اتنی تعداد میں نہیں پڑھیں گے جتنا ایک بورڈ کو ہر آدمی پڑھے گا، مخالف ہو، حامی ہو سب پڑھیں گے۔

۔☑️ اسی طرح کا ایک مومن تھا، اسے یہی بات سمجھ میں آئی، وہ خود بتا رہے تھے کہ میں نے گاڑی کے پیچھےبڑا سا ’’ھیھات من الذلۃ‘‘ لکھواکے اپنی گاڑی کے پچھلی سکرین پر لگوا دیا اور گاڑی چلاتا تھا کہا ایک دن میں نے دیکھا ایک ڈبل کیبن گاڑی میری گاڑی کے پیچھے لگ گئی ہے، اب میں ڈر گیا کہ یہ تو پتہ نہیں کس کی ہے، کون لوگ ہیں ؟اور جہاں میں جاؤں وہ بھی پیچھے پیچھے آئیں میں تیز چلاؤں وہ بھی تیز ہو جائیں میں آہستہ کروں وہ بھی آہستہ ہو جائے، کہا وہ تو مجھے یقین ہو گیا کہ آج بس شہادت نزدیک ہے بس اب چارہ جوئی کر رہا تھا کہ کسی طرح سے میرا پیچھا کرنا چھوڑ دیں۔بہر کیف آخر میں میرا پیٹرول ختم ہو گیا، چھوٹی گاڑی تھی، ایک جگہ پر جاکررک گیا، وہ بھی آکے پیچھے رک گئے، اترے دیکھا کہ چہرے کوئی زیادہ مذہبی نہیں تھے، ان کی داڑھیاں نہیں تھیں، تھوڑی تسلی ہوئی کہ خطرناک تو نہیں ہے لیکن پتہ نہیں۔ گاڑی چھیننے والے ہیں، کون ہیں، کیوں میرا اتنا تعاقب گیا ؟آئے آ کے کہنے لگے کہ بھائی بھاگتے کیوں ہو؟ اس نے کہا آپ کے ڈر سے، آپ پیچھا کر رہے تھے، کیا لینا ہے مجھ سے ؟کہا لینا کچھ بھی نہیں ہے، یہ گاڑی کے پیچھے جو جملہ لکھا ہوا ہے یہ ہمیں سمجھاؤکہ اس کامطلب کیا ہے؟ ہمیں دیکھ کر یہ پتہ تو چل گیا کہ کوئی بڑی پتے کی بات لکھی ہوئی ہے، یہ ہمیں احساس ہوا لیکن سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کس کا ہے اورجملہ کیا ہے ؟ میں نے انہیںکہا کہ یہ میرے مولا امام حسین ؈ کا جملہ ہے پھر کہتا ہے جومیں نے آپ کے کسی سے تقریر میں سنا ہواتھا وہ سب ان کو سنایا، تقریر کی اور بتایا کہ اس کا معنیٰ اور مطلب یہ ہے اور یہ سید الشہداء ؈ نے فرمایا کہ مجھے عزت و ذلت کے دوراہے پہ کھڑا کر دیا گیا ہے، ذلت میں زندگی ہے، عزت میں موت ہے لیکن میں ذلت کی طرف نہیں جاؤں گا۔ یہ جملہ انہوں نے پڑھا، جب انہیں پتہ چلا تو گاڑی کے اوپرجہاںیہ جملہ لکھا ہواتھا وہاں بوسہ دیا، کہا کہ ہمیں بھی یہ بینربنا کے دو۔

۔☑️ عزیزاں! جہاں پاک فطرت ہوگی ضرور اثر کرینگے۔ معصوم کا فرمان ہے کہ ہماری باتوں کو مرچ مصالحہ لگا کر پیش نہ کرو، ضرورت نہیں ہے ہمارا کلامجیسا ہے ویسا ہی پیش کرو، اس کے اندر اتنی کشش ہے کہ وہ پاک فطرت کو اپنی طرف کھینچ لے گا لیکن کون دنیا کے سامنے یہ پاک کلام پیش کرے ہم مجالس کے اندر ائمہ علیہم السلام کا پاک کلام پیش نہیں کرتے بلکہ زیادہ تر اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں، ائمہ طاھرین علیہم السلام کی زبان سے حقیقت پیش نہیں کرتے، علی ؈ حقیقت پیش کر رہے ہیں یہی دنیا کو بتاؤ میں دنیا کو نہیں سمجھا سکتاکہ علی ؈ کیا ہیں؟ اگر علی ؈ کو سمجھنا ہے تو علی ؈ کے کلام سے سمجھنا ہوگا۔

۔☑️ ہم یہ کام کر سکتے ہیں یہ خدمت اپنے ذمے لیں، اپنے گھروں کے سامنے، بعضوں کے گھر روڈ کی طرف ہیں آج کل تشہیر کے لیے لوگ کرایہ پر لیتے ہیں اورجو دیوار روڈ کی طرف ہے اس کو رنگ کرا کے اوپر کسی چیز کا بھی اشتہار لکھ دیتے ہیں۔ اب یہی کام آپ کریں،کم از کم اپنے گھر کی دیوار پر تو یہ کام کر لیں، آپ اپنے گھر کی دیوار کو خوبصورت رنگ کریں اس کے اوپر اور جگہ بنا کر وہاں اس کلرکوہر مہینے change کریں، ہر مہینے لکھوائیں،آپ اس کے اوپر نیا قول لکھوائیں، وہاں تو پیسہ بھی نہیں لگتا لیکن مین جگہیں لے لیں وہاں سے حکمت لوگوں کو بتائیں تاکہ یہ مملکت حماقت سے بچ سکے اور خدا اس کو نجات دے۔

(درس: حکمت علی ۷۹)

23/03/2024

📌 عنوان: طاغوت اور طاغوتیت
✍🏻 تحریر: مفکر اسلام سید جواد نقوی حفظہ اللہ
پشکش: فیس بک پیج تحریری پیغامِ استاد معظم
۔________________________۔
۔ 👇🏻👇🏻👇🏻 ۔
طاغوت اور طاغوتیت:
قوموں پر یہ تباہی آ جاتی ہے کہ پوری قوم میں ایک فرد بھی با شعور نہیں بچتا ، سب غرق ہو جاتے ہیں۔ وہ ہوس کی دنیا ہو، مال و دولت کی دنیا ہو ، اقتدار کی شہوت ہو یہ شہوتیں قوموں کو اندھا کر دیتی ہیں اور ناکارہ بنا دیتی ہیں ۔اقتدار کے اندھے جب اقتدار کی کھائی میں جا گرتے ہیں اور اس گندگی میں چھلانگ لگا دیتے ہیں ، جب ساری قوم مال و دولت کے لیے اٹھ کر جرائم کی دنیا میں کود پڑتی ہے ، جب ساری قوم بھڑک کر ہوس رانی اور شہوت رانی میں کو دجاتی ہے پھر ایک فرد بھی نہیں بچتا ہے اور نبیٔ خدا حسرت کرتے ہیں :
أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ
تم میں کوئی ایک فرد ہے جس کی عقل ٹھکانے ہو، جس میں رُشد ہو، فہم ہو اور بصیرت اور جس کو سمجھا سکوں اور رہنمائی کر سکوں۔قوموں میں ایک بھی ایسا نہیں بچتا ۔ تقویٰ کہاں سے آئے گا؟

۔☑️ بعض اوقات کوئی حاکم طاغوت ہوتا ہے یعنی ناحق ہے، اللہ کی جانب سے مجاز نہیں ہے۔ حاکم کا طاغوت ہونے کے لیے ظالم اور ستم گر ہونا ضروری نہیں ہے۔ ستم گر ہونا طاغوت کی ایک اضافی صفت ہے کہ وہ دوہرا مجرم ہے۔ وہ ظالم بھی ہے اور طاغوت بھی ہے۔ طاغوت کا مطلب ہے کہ حدِ خدا اور قانونِ خدا کو توڑ کر اور عبور کر کے اقتدار میں جا بیٹھا ہے یا اس کو بٹھا دیا گیا ہے ۔ یہ حاکم اگر حکومت میں رہ کر ظلم نہ کرے ، ستم نہ کرے اور انصاف کرے تو بھی طاغوت ہے۔ پاکستان میں آئے دن یہ جرم ہوتا ہے کہ کوئی مرد کسی عورت کا اغوا کر کے لیے گیا اور اس کی خوب خدمت کی۔ اس نے اس عورت کو بڑے گھر میں رکھا، شاہانہ ماحول دیااور عورت کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دی فقط ایک کام کیا ہے کہ نکاح نہیں پڑھا۔ اس نے باقی سارے فرائض پورے کیے ، اس کو گھر اچھا دیا ہے ، اس کو جوڑے اچھے دیے، اس کو کپڑا اچھا دیا، اس پر ظلم نہیں کیا، مار پیٹ نہیں کی، اسے گھر کا کام نہیں کروایا اور اس کو کوئی اور تکلیف نہیں ہونے دی، فقط نکاح نہیں تھا تو اس مرد کو کیا کہیں گے ؟ یہی طاغوت ہے ، مجرم ہے، زانی ہے اور تجاوز گر ہے۔ یوں نہیں ہے کہ عورت کے حقوق پورے کر دیے تو اس کا مطلب ہے کہ اب نکاح کی کمی پوری ہو گئی ہے۔ یہ طاغوت ہے کیونکہ حدِ خدا توڑ کر آیا ہے۔

۔☑️ اگر کوئی حکومت میں آ کر ظلم نہ بھی کرے لیکن اگر حدِ خدا توڑ کر آیا ہے تو طاغوت ہے۔ یہ طاغوت اگر ظالم بھی ہو تو سونے پر سہاگہ ہے ۔ https://www.facebook.com/Urdu.tahrir.syed.jwad.naqvi/likes یہ ظالم بھی ہے، ستم گر بھی ہے، چور ڈکیت بھی ہے اور حدِ خدا توڑ کر بھی آیا ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی طاغوت ہے کیونکہ حدِ خدا توڑ کر آیا ہے لیکن نظامِ مملکت اچھا چلا رہا ہے۔ دنیا میں بہت سارے طاغوت ہیں کو اپنی حکومتیں اور اپنے ملک اچھے چلا رہے ہیں اور عوام کو کوئی مشکل اور تکلیف نہیں ہونے دیتے۔ ان کےا ندر رُشد ہے ، ان کی حکومت سوجھ بوجھ رکھتی ہے ، فراست رکھتی ہے اور انہیں مملکت چلانے کا نظام اور طریقہ آتا ہے لیکن ہے وہ طاغوت یعنی ناجائز حکومت ہے۔غیر الٰہی حکومت ہے، دنیا میں بڑے بڑے طاغوت ہیں جو اپنا نظام بہترین چلا رہے ہیں ۔ مصیبت میں وہ قوم ہوتی ہے جس کا حاکم طاغوت ہونے کے ساتھ ساتھ رُشد ، سوجھ بوجھ، فہم و فراست اور حکمت و تدبیر بھی نہ رکھتا ہو۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قوم ِ فرعون کی مشکل یہ تھی کی قوم میں رُشد نہیں تھی۔ یہ اسی غیر رشید حاکم کے پروکار تھے۔
فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ
فرعون کی حکومت کے پیروکار تھے۔
وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ
جبکہ امرِ فرعون میں کوئی رُشد نہیں تھی۔

۔☑️ ایسے مقامات پر قوموں کی مت ماری جاتی ہے۔ بنی اسرائیل کی مت اس طرح سے مار دی گئی تھی کہ انہیں نظر آ رہا تھا کہ یہ غیر رشید حکمت ، ان میں رُشد، پختگی، سمجھداری ، عقل مندی، تدبیراور تجربہ نہیں ہے پھر بھی اس کے پیچھے چل رہے ہیں۔ یہ فرعون سے بھی بد تر ہیں۔ فرعون فاقدِ رُشد ہے اور فاقدِ رشد کا پیروکار اس سےبھی بدتر ہے۔ اتنی گھٹیا قوم کیسے با تقویٰ ہو سکتی ہے؟ اگر قوم شعور کھو بیٹھے قومِ لوط بن جاتی ہےاور اگر حکومت شعور کھو بیٹھے تو حکومتِ فرعون بن جاتی ہے۔ تقویٰ کےلیے رُشد لازمی ہے۔

حوالہ: خطبہ جمعہ 25 دسمبر 2021

20/08/2023

۔📌 عنوان: صنف اصحاب، صحابہ کی تعریف اور معیار
۔✍🏻 تحریر: مفکر اسلام سید جواد نقوی
پشکش: نشریاتی ٹیم تحریری پیغامِ استاد
۔ 👇🏻👇🏻👇🏻 ۔
● صنف اصحاب، صحابہ کی تعریف اور معیار
● شاگردوں اور ساتھیوں میں فرق
● صحابی اور ملاقاتی میں فرق
● نتیجہ کلام

عام طور پر اصحاب رسول کا معنی یہ کیا جاتا ہے کہ اصحاب یعنی ساتھی، صحب ساتھی کو کہتے ہیں ، ہر ملنے ملانے والے کو ساتھی نہیں کہتے بلکہ ہمسفر، ہم مقصد ، ہمراہ و ہمفکر انسان کو ساتھی کہتے ہیں، ورنہ دو بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں لیکن ساتھی نہیں ہیں چونکہ سوچ، مقصد و راستہ ایک نہیں ہے، جب کچھ بھی ایک نہیں ہے تو یہ صرف House Fellow (ہاؤ س فیلو) ہیں، ایک دوسرے کے ساتھی نہیں ہیں۔

● عربی زبان میں بیوی کو صاحبہ بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے کہ خدا وند تبارک و تعالیٰ کی نہ اولاد ہے نہ زوجہ ہے۔
اَنّـٰى يَكُـوْنُ لَـه وَلَـدٌ وَ لَمْ تَكُنْ لَهُ صاحِبَةٌ (انعام، ۱۰۱)
اس کا بیٹا کیونکر ہو سکتا ہے حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے لیے نہ ولد (اولاد) ہے اور نہ صاحبہ (بیوی) ہے یعنی شریکِ حیات بھی نہیں ہے۔ بیوی کو صاحبہ کیوں کہتے ہیں ؟ خود بیویاں اور شوہر دونوں اس نکتے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ شوہر اور بیوی کا ترجمہ فارسی سے اردو میں’’ ہمسر‘‘ منتقل ہوا ہے جبکہ صاحبہ کا مطلب ہوتا ہے ہمسفر۔ ضروری ہے کہ دونوں ہمسر ہوں لیکن یہ دونوں ہمسر ایک دوسرے کے صاحب ہیں یعنی ہمسفر ہیں اور ضروری ہے کہ ہمسفر ہمفکر بھی ہو، ہمفکر ہم مقصد بھی ہو اور ہم مقصد ہمراہ بھی ہو۔ جب ایک سفر کرنا ہے، ایک مقصد کی طرف جانا ہے تو راستہ بھی ایک ہونا چاہیے، اس راستے کو طے کرنے کا اسلوب اور طریقہ بھی ایک ہونا چاہیے، اس لیے یہ صاحبہ یعنی زندگی کی ساتھی ہے۔ ساتھی جو ہر میدان میں آپ کے ساتھ رہے، سختی آسانی ، سہولت مشکل اور امیری فقیری میں آپ کے ساتھ ہو، اس وقت بیوی شوہرکے لیے صاحبہ ہے۔
جناب خدیجہ(س) رسول ﷺ کے لیے ایسی ہی صاحبہ تھیں۔ ہر عمل میں رسولﷺ کے ساتھ تھیں، دعوت ، تبلیغ ، مصائب اور مشکلات میں ہمیشہ آپؐ کے ہمراہ تھیں۔ یہ صاحبہ ،ساتھی و ہمسفر ہیں نہ فقط ہمسر ہیں۔ بعض ازواج ہیں جو فقط ہمسر ہیں، ہمسفر و ساتھی نہیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا ساتھی ہونا و صحابی ہونا یعنی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم فکر، ہمسفر، ہم مقصد و ہمراہ ہیں۔ جو بھی رسول اللہﷺ سے ملا ہے وہ صحابی نہیں ہے، بے شک اس کو صحابی کہا جائے لیکن ہر ملاقاتی صحابی نہیں ہے۔ ملاقاتیں تو بہت ساروں کی ہوئی ہیں، ابو جہل اور ابولہب کی زیادہ ملاقاتیں ہوئی ہیں، یہ سارے رسول اللہﷺ کے ملاقاتی تھے لیکن صحابی نہیں تھے چونکہ رسول اللہﷺکے ساتھ ان امور میں شریک نہیںتھے جن میں شرکت انسان کو ساتھی و صحابی بنا دیتی ہے۔
کتنے لوگ ہیں جو اکھٹے رہتے ہیں لیکن ساتھی نہیں ہیں، ایک دوسرے کے ہمراہ نہیں ہیں۔ صحابۂ جو رسول اللہﷺ کےہمراہ ہیں۔ صحابی کی ایک شان ہے، صحابی ایک صنف ہے، رسول اللہﷺ کے ساتھی ایک طبقہ ہیں اور یہ طبقہ بہت عظیم ہے، اس سے بڑا شرف اور کیا ہو سکتا ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کے سفر و حضر کے ساتھی ہیں۔ہجرت و قیام، جنگ و صلح، مشکل و سہولت کے ساتھی ہیں،جنہوں نے ہر جگہ پہ رسول اللہﷺ کا ساتھ دیا، ہر جگہ ساتھ دینے والے صحابہ عظیم المرتبت لوگ ہیں۔

● شاگردوں اور ساتھیوں میں فرق:
ہمیں انبیاءِ کرام علیہم السلام کی زندگیوں میں جو کمی نظر آتی ہے وہ ساتھیوں کی کمی ہے۔ ائمہ ٔ اطہار علیہم السلام کے ہاں جو خلا ہمیں نظر آتا ہے وہ ساتھیوں کا خلا ہے۔ ساتھیوں کی کمی ائمہ اطہار علیہم السلام کو بہت دکھ و رنج دیتی تھی کہ ساتھی نہیں ہیں، ملاقاتی ہیں، جاب کے لیے ٹیوشن پڑھنے والے زیادہ ہیں، جو آ کے پڑھتے ہیں اور قاضی القضات لگنے کے لیے ڈگری لیتے ہیں، کسی جگہ امام مسجد بننے کے لیے، کسی جگہ خطیب کہلانے کے لیے آتے ہیں مکتبِ امام صادق علیہ السلام میں داخلہ لیتے ہیں، پڑھتے ہیں اور بطور ڈگری لکھوا بھی لیتے ہیں کہ ہم نے ان سے بھی کسبِ فیض کیا ہے لیکن امام ؑکے ساتھی نہیں ہیں۔
جب امام علیہ السلام کو ساتھیوں کی ضرورت پڑتی ہے تو ایک بکریوں کے بچوں کے ریوڑ کی طرف اشارہ فرما کر کہتے ہیں کہ اگر اس مقدار میں بھی ساتھی ہوتے جبکہ تاریخ کہتی ہے کہ امام علیہ السلام کے چار ہزار شاگرد تھے، ان چار ہزار شاگردوں میں سے سترہ بھی ساتھی نہیں تھے۔ شاگرد اتنے ہی تھے، ان شاگردوں کے بھی شاگرد تھے لیکن شاگرد میں اور ساتھی میں بڑا فرق ہے، شاگرد جو پڑھ جائے، جو علم حاصل کر جائے، کچھ نہ کچھ سیکھ لے، جسے استاد کوئی مہارت اور تعلیم دے دے یہ شاگرد بن جاتا ہے لیکن ساتھی مشکل سے بنتا ہے۔ ساتھی بنناد شوار ہے اور یہ طبقۂ صحابہ خصوصیت کے لحاظ سے صحابی و ساتھی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دین کے ساتھی ہیں، جس طرح امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک خطبے کے اندر فرمایا کہ
كَانَ لِیْ فِیْمَا مَضٰٓى اَخٌ فِی اللہِ (نہج البلاغہ، حکمت ۲۸۹)
عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا ۔
بعض نسخوں میں فی الدین ہے اور بعض میں فی اللہ ہے۔ گذشتہ زمانوں میں میرا دینی و الٰہی بھائی تھا، اُس میں اور مجھ میں اشتراکِ اخوت یہی تھا کہ وہ بھی خدا کے لیے تھا اور میں بھی خدا کے لیےتھا۔ سب سے وسیع اور سب سے زیادہ مضبوط رشتہ یہ ہے کہ انسان اس لیے ایک دوسرے کا ساتھی و بھائی بن جائے چونکہ دونوں خدا کے لیے ہیں، دونوں مومن ہیں اور اللہ پر اِن کا ایمان ہے۔

● صحابی اور ملاقاتی میں فرق:
طبقۂ اصحاب کی ایک صنف ہے، اِن کا ایک پیمانہ ہے، ان کی صفات ہیں اور ان صفات کے لحاظ سے یہ اصحاب کہلاتے ہیں اور بنتے ہیں۔ وہی صفات جو ان کی صنف کے لیے ہیں بی بی(س) نے خطبہ فاطمیہ میں ان کے سامنے بیان کیں۔ درحقیقت جنابِ سیدہ سلام اللہ علیہا اس خطبے میں ان کی فردی خصوصیات نہیں بیان فرما رہی تھیں کہ فلاں فلاں آپ ایسے ہو بلکہ یہ فرما رہی ہیں کہ آپ میرے بابا کے صحابی ہو ۔رسول اللہ ﷺ کے صحابی و ساتھ کون ہو سکتے ہیں اور کن معیاروں پر ہو سکتے ہیں؟ ان معیاروں پر کہ
أَنْتُمْ عِبَادَ اللہ...... پہلی خصوصیت و معیار یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کا صحابی عبدِ خدا ہو جو عبدِ خدا نہیں ہے وہ رسول اللہﷺکا ساتھی نہیں ہو سکتا، وہ رسول اللہﷺکا ملاقاتی ہے لیکن ساتھی نہیں ہے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ کا رخ و جہت خدا کی طرف ہے:
فَأَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّينِ حَنيفاً ( الروم : ۳۰)
اپنا رُخ خدا کی طرف رکھیں۔
خود رسول اللہﷺ نے اپنا رُخ خدا کی طرف کر لیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بقول کہ
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذي فَطَرَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ (الانعام، ۷۹)
میں نے اپنا وجہہ ( رُخ)فاطر السمٰوات و الارض کی جانب کر لیا ہے۔
پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ساتھی کون ہے؟ جس کا رُخ فاطرالسمٰوات کی طرف ہو لیکن جس کا رخ اللہ کی جانب نہ ہویہ ساتھی نہیں ہے۔ رخ کسی اور کی طرف ہو اور ہمراہ کسی اور کا ہو جائے،یہ ساتھی نہیں کہلاتا۔
عموماً سفر میں کچھ لوگ آ کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں مثلاً ٹرین میں سفر کرنے والوں کے ڈبے میں کچھ لوگ آ پ کے ساتھ سیٹ پہ بیٹھ جاتے ہیں، جہاز پہ سفر کرنے والوں کے ہمراہ کافی لوگ سفر کرتے ہیں، بس پہ سفر کرنے والوں کے راستے میں کئی ملاقاتی آ جاتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی سفر کا ساتھی نہیں ہے، کیونکہ مجھے کہیں اور جانا ہے، اِس کو کہیں اور جانا ہے، میرے سفر کا مقصد کچھ اور ہے، اِس کے سفر کا مقصد کچھ اور ہے، مجھے کچھ خریدنے جانا ہے جبکہ اِسے کچھ بیچنے جانا ہے، مجھے کچھ لینے جانا ہے جبکہ اِسے کچھ دینے جانا ہے پس الگ الگ مقاصد ، الگ الگ نیتیں اور الگ الگ راہیں رکھتے ہیں، ہر چیز الگ ہے فقط آ کے اکٹھے بیٹھ گئے ہیں، اور اکھٹے بیٹھنے سے سے انسان صاحب و مصاحب نہیں بن جاتا بلکہ ملاقاتی بنتا ہے۔
تاریخ میں جب آپ کے حالاتِ زندگی لکھے جائیں تو ساتھیوں کو الگ لکھنا اور ملاقاتیوں کو الگ لکھنا کہ یہ آپ کے ساتھی تھے اور یہ آپ کے ملاقاتی تھے تاکہ بعد میں آنے والے اشتباہ میں نہ پڑ جائیں ۔اگر آپ نے وصیت لکھنی ہے تو لکھ جاؤ کہ یہ میرا ساتھی تھا اور یہ میرا ملاقاتی تھا تاکہ بعد میں آنے والے آپ کے ورثاء مشکل میں نہ پڑیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ملاقاتیوں کو بھی ساتھیوں میں شمار کر دیں اور ساتھیوں کے مقام پہ لا بٹھائیں۔ بعض ملاقاتی ہیں ساتھی نہیں ہیں۔
(ماخذ: مشرب ناب اگست، شمارہ 167 )

19/04/2023

۔📌 مرکزی القدس ریلی مال روڈ لاہور
۔✍🏻 استاد معظم سید جواد نقوی
۔☑️ مکمل خطاب تحریری صورت میں
۔☑️ پشکش: نشریاتی ٹیم؛ تحریری پیغام اُستاد سید جواد نقوی
۔☑️ 14، اپریل 2023 || ۱۴۴۴

██ تمہید:
• آپ تمام روزہ داران مومنین و مومنات جوانان عزیز، ماہ مبارک رمضان، ماہ صیام ماہ بندگی و عبادت ماہ مغفرت و استغفار و توبہ اور اس کے اندر آپ کے اعمال صالحہ آپ کا صیام آپ کا قیام آپ کا اہتمام افطار کو اللہ تبارک و تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

• آج یوم القدس ہے اور اس ماہ قرآن میں ماہ نزول قرآن میں آپ تمام مومنین نے مومنات نے تمام عزیزان نے بارگاہ قران میں حاضری دی ہے خداوند تبارک و تعالی آپ کی یہ قرآن خوانی قرآن فہمی قرآن پر عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے (انشاءاللہ) اور اس وقت جو آپ عظیم عبادت میں مشغول ہیں آخری جمعہ ماہ مبارک رمضان کا جسے امام راحل امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے یوم القدس روز آزادی قدس اور روز بیداری مسلمین قرار دیا ہے اس کے اندر روزے کی حالت میں اس گرم موسم میں آپ کی شرکت اور آپ کا حصہ اللہ تعالی قبول فرمائے (انشاءاللہ) اور آپ کی توفیقات میں خداوند تعالی اضافہ فرمائے اور اسی طرح آپ مظلوموں کے حق میں اور ظالمین کے خلاف اہل البیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کریم کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالی کے فرامین بجا لاتے ہوئے اس سرزمین پر عدل و انصاف کے قیام کے لیے اور ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے ہمیشہ مظلومین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

██ فلسطین سمیت اسلامی سرزمینوں کی حالت:
• عزیزان آج اس وقت جو ہم اس جمعۃ المبارک کو روز آزادی قدس جلوس میں شریک ہیں اس ریلی میں شریک ہیں آپ دیکھ رہے ہیں پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم روا رکھا گیا ہے کوئی ایسی سرزمین اسلامی نہیں ہے جو ناانصافی بربریت اور ظلم و ستم کا شکار نہ ہو۔ تمام غیر اسلامی ملک پرامن ہیں۔ آپ ایک بھی غیر اسلامی سرزمین نہیں بتا سکتے جس کے حالات مسلمان ملکوں جیسے ہوں۔ سوائے یوکرین کے کہ وہاں پر ان کے اپنے سیاسی اور دیگر مسائل ہیں۔ شیطانی طاقتیں آپس میں وہاں پر برسر نبرد ہیں لیکن اسلامی سرزمینیں کئی عوامل کی وجہ سے کئی وجوہات پر ناامنی کا شکار ہیں۔ افراتفری کا شکار ہیں۔ اور ان کے اندر مسلسل دشمنان تجاوز کرتے ہوئے یا دہشت گردی کے ذریعے سے ان سرزمینوں کو نا امن کیا ہوا ہے یا ان پر قبضہ کیا ہوا ہے اور تدریجا یہ قبضہ بڑھ رہا ہے جب فلسطین پہ قبضہ ہوا تھا اور اس وقت مسلمانوں کی غفلت تھی خصوصا مسلمان حکمرانوں کی خیانت تھی اور اس میں بھی بالآخر عرب حکمران جنہوں نے اپنے اقتدار کی قیمت پر یہ سرزمین فروخت کی تھی اور وہی ممالک جنہوں نے قبلہ اول پہ قبضہ کیا صیہونیوں کو آباد کیا اور مسلمانوں کی تذلیل و تحقیر کی اور امریکہ آج مسلمانوں کی قبلہ گاہ بنے ہوئے ہیں مسلمانوں کی پناہ گاہ بنے ہوئے ہیں یہ دو ملک ہیں جو مسلمانوں کی بہشت سمجھے جاتے ہیں کوئی مسلمان زمین پر ایسا نہیں ہے جو ان ظالمین سے نفرت کرتا ہو اور بیزار ہو بلکہ آرزو کرتا ہے کہ اس کی موت بھی یا برطانیہ میں ہو یا امریکہ میں ہو اس کے بچے یا برطانیہ میں جنم لیں یا امریکہ میں جنم لے یہ ہر مسلمان کی آرزو بن گئی ہے اور یہی سب سے بڑی وجہ تھی کہ قبلہ اول پر ان صہیونیوں نے قبضہ کیا شیاطین نے اس کی مدد کی مسلمانوں نے خاموشی اختیار کی اور مسلمان حکمرانوں نے خیانت کی اور پھر اس کے بعد یہ دائرہ تسلسل کے ساتھ بڑھتا رہا۔

██ ’’کشمیر اور لبنان‘‘ ماضی اور حال کے آئینے میں
• باقی سرزمینیں جو فلسطین سے باہر تھیں اردن شام اور لبنان یہ بھی اسرائیل نے صہیونیوں نے اپنی مقبوضہ اراضی کا حصہ بنا لیا اور یہ حکمران پھر بھی خیانت میں مصروف رہے اور عوام اسی طرح خاموشی اختیار کر کے لاتعلقی اور بے حسی میں رہے اور بے شک یہ سلسلہ ہم زمان جہاں ایک طرف سے فلسطین پر قبضہ کیا گیا وہاں دوسری سرزمین کشمیر کی برصغیر کے اندر جو اسلام کا گہوارہ رہا ہے اور اس کی پہچان پوری دنیا میں تاریخ میں اسلام کے نام پر ہے اسی کے ساتھ ساتھ جب ہندوستان تقسیم ہوا پاکستان کی مملکت وجود میں آئی کشمیر کو انہی شیطانی طاقتوں نے واضح طور پر پاکستان کے ساتھ ملنے نہیں دیا اور انہیں خود بھی آزادی کا حق نہیں دیا اور تدریجا اس سرزمین پر بھی غاصبانہ قبضہ ہو گیا اور آپ نے دیکھا آپ کی آنکھوں کے سامنے دو ہزار انیس کے اگست میں اس ظالم مودی حکومت نے باقاعدہ طور پر کشمیر کی قانونی و آئینی حیثیت جو ہندوستان کے قانون میں منظور شدہ تھی اسے ختم کر کے اس کو ہندوستان کا حصہ اعلان کر دیا اور اس پر ساری دنیا خاموش رہی بلکہ وہ لوگ جنہوں نے کشمیر کے نام پہ کمایا بھی اور کھایا بھی انہوں نے بھی خیانت کی اور اس الحاق کو قبول کر لیا اور کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا اور اس کے بعد آج تک نہ اسلامی ممالک کی نام نہاد سربراہ تنظیم او آئی سی اور نہ ہی اسی طرح کے دیگر اسلامی ادارے وہ تماشا دیکھتے رہے اور آہستہ آہستہ یہ زمینیں ساری ان کے قبضے میں چلی گئیں اور پھر اس کے بعد گریٹر اسرائیل کا یہ سلسلہ بڑھتا گیا۔

██ تحریک آزادئ قدس ہر قسم آزادی سے استعارہ ہے:
• کہ خداوند تبارک و تعالی نے اس امت کی عزت قائم رکھنے کے لیے قرآن و اسلام کی عزت قائم رکھنے کے لیے پاسبان عزت مبعوث کیا پاسبان عزت پیدا کیا اور وہ امام راحل امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ ہیں انہوں نے نہ صرف اپنے ملک کے اندر موجود یزید کا الٹا اور اس کی جگہ پر ولایت و امامت کا پرچم لہرایا بلکہ ساتھ ہی پوری امت مسلمہ کو بیدار کیا اور انہیں اس ذلت و ستم سے نکلنے کا راستہ دکھایا اور جو کچھ امت اسلامیہ کو تعلیم دی اس میں سرفہرست یہی موضوع ہے جس میں آج ہم سب شامل ہیں اور وہ تحریک آزادی قدس ہے جو یوم قدس کے نام سے شروع ہوئی۔
امام نے انقلاب اسلامی کے ایک سال بعد یوم قدس کا اعلان کیا کہ ماہ رمضان میں آخری جمعہ یوم القدس کے طور پر مسلمین پوری دنیا میں منائیں اور اس دن آزادی قدس اور آزادی فلسطین کے لیے باہر نکلیں قیام کریں ریلیاں نکالیں جلوس نکالیں مجالس برپا کریں اور اہتمام کریں لیکن جہاں پہلے سے بے حسی موجود تھی وہ بے حسی قائم رہی لیکن امام راحل کی آواز پر لبیک کہنے والے بھی موجود تھے اور اسی وقت سے آج تک اسرائیل کے لیے مشکل کھڑی ہوئی اور آپ نے دیکھا کہ تدریجا امام راحل کی رہنمائی میں پھر لبنان میں حزب اللہ جیسا گروہ پیدا ہوا جس نے اسرائیل کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا اور فلسطین کے اندر انتفاذہ شروع ہوا دو یا تین مراحل میں انتفاذہ و تحریک آزادی ہے فلسطین کے اندر شروع ہوئی۔
• یہ یوم قدس عالمی انتفاضہ ہے فلسطین کی آزادی کے لئے لیکن امام نے یہ فرمایا تھا کہ یوم قدس فقط قدس کے ساتھ مختص و مخصوص نہیں ہے اور فلسطین کے ساتھ مختص و مخصوص نہیں ہے بلکہ
الف:
یوم قدس ایک علامت ہے تما مقبوضہ اسلامی سرزمینوں کی آزادی کی تحریک کی اور آغاز ہے۔
ب:
یوم القدس دراصل ہر ظالم کے خلاف ایک آواز ہے اور ہر مظلوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کا ایک سلسلہ ہے جو شروع ہوا ہے۔

██ کشمیر پر قبضے سے گلگت بلستان تک دشمن کے عزام :
۱۔ آج قدس سے بھی زیادہ دردناک موضوعات عالم اسلام میں موجود ہیں ان میں ایک موضوع کشمیر ہے جو فلسطین سے بھی زیادہ تکلیف دہ بن گیا ہے دردناک بن گیا ہے کشمیریوں نے جو قربانیاں دیں کشمیری خواتین نے جو قربانیاں دیں کشمیری جوانوں نے جو قربانیاں دیں کشمیری مردوں نے جو قربانیاں دیں وہ ساری رائیگان کرنے کے لیے خیانت کی گئی۔
۲۔ وہ نظر جو پاکستان کے اندر سیاستدانوں کے اندر گندے اور ننگے بے حیا و بے غیرت اقتدار پرست سیاستدانوں کے اندر منحوس نظریہ پیدا ہوا پنپا اور آج تک اس کے اوپر قائم ہے کہ جو آپ کے پاس آئے آپ اس پہ قابض ہو جاؤ جو دشمن کے ہاتھ میں ہے وہ دشمن کو دے دو۔ ادھر ہم ادھر تم والا نظریہ آج بھی کشمیر کے قبضے کا باعث بنا ہے وہی نظریہ جس کے ذریعے سے پاکستان ٹوٹا بنگلہ دیش بنا ملک دو لخت ہوا وہ نظریہ ادھر ہم ادھر تم تھے اور جس نظریے کے تحت کشمیر کو مودی کے حوالے ظالموں کے حوالے کر دیا گیا وہ بھی یہی نظریہ تھا ادھر ہم ادھر تم اور وہی نظریہ آج تک چل رہا ہے اور آپ رہے ہیں کہ یہ صرف کشمیر تک نہیں موقوف نہیں ہوا۔
۳۔ بلکہ مودی نے اور اس کے گماشتوں نے اعلان کیا ہے کہ کشمیر صرف سری نگر کا لداخ اور کارگل کا نام نہیں ہے چونکہ یہ تو پہلے سے ہے بلکہ اب مودی نے کشمیر میں گلگت بلتستان مظفر آباد تک کا علاقہ بھی اپنی طرف سے شامل کر لیا ہے، انہوں نے نقشہ بنایا ہے جس میں آدھا پنجاب پاکستان کا راولپنڈی تک دکھایا گیا ہے اور اعلان کیا ہوا تھا انہوں نے کہ ہم دو ہزار پچیس تک راولپنڈی تک پہنچیں گے یہ ان کے عزائم ہیں اور ان کے عزائم خاک میں ملیں گے ، اللہ انہیں اس عزائم میں شکست دے گا انشاءاللہ
۴۔ دشمن کے عزائم کو جانچ لو ہمارے ملک میں جو سب سے بڑی قباحت اور رضالت پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر اقتدار پرست جنونی اقتدار کے شے میں مست اور اقتدار کی ہوس میں مدہوش افراد جنہیں رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر کسی بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر دو بھوکے بھیڑیے ٹوٹ پڑیں جس ریوڑ کا نگہبان نہ ہو رکھوالا نہ ہو اور دو بھوکے ریوڑ اس پر ٹوٹ پڑیں وہ بھوکے بھیڑیے اس ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا اقتدار پرست انسان، شہرت پسند انسان، مسلمانوں کے ملک، مملکت اور دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ روایت اہل سنت کی کتابوں میں بھی ہے۔ اور یہ روایت شیعہ کتابوں کے اندر بھی موجود ہے۔ وہ اقتدار پرست اندھے ہو کر مست ہو کر پاکستان کے اوپر ٹوٹ پڑے ہیں۔ پاکستان کی ملت کے اوپر ٹوٹ پڑے ہیں۔ اپنے اقتدار کی قیمت پر ہر چیز قربان رہے ہیں۔
۵۔ ابھی آپ نے یہ گزشتہ جو چند مہینے گزرے ہیں ان کے اندر آپ نے سنی ہیں یہ باتیں جو بائیڈن نے یہ کہا تھا پاکستان کا ایٹمی program فضول ہے اور بیکار ہے اسے ختم ہونا چاہیے ظالم خلیل زاد نے یہ کہا تھا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا اس کے اندر جو مسائل ہیں اور اسی طرح روزانہ ایک امریکی یہ بیان دیتا ہے اور عالمی سطح یہ حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ پہلے فلسطین میں اسرائیل بنایا گیا پھر کشمیر میں بھارت بنایا گیا اور اب پاکستان کی باری ہے۔

██ ’’پیغام آزادی از استاد محترم‘‘ ماضی سے حال تک:
• شروع سے اگر آپ کو یاد ہو آپ کی خدمت میں عرض ہوتا رہا ہے ایک طالب علم کی حیثیت سے ایک ناچیز ادنیٰ کم علم طالب علم کی حیثیت سے میں عرض کرتا رہا ہوں کہ پاکستانی یوم القدس سے لاتعلق نہ رہیں یوم القدس آزادی فلسطین نہیں یہ بقاء و دفاع پاکستان بھی ہے ہم دفاع پاکستان کے نام پر مختلف اوقات میں اظہار کرتے ہیں گروہ بناتے ہیں لیکن جو راستہ ہمارے پیشوا و بزرگ امام راحل نے بتایا ہے وہ تمام اسلامی سرزمینوں کی حفاظت کا راستہ ہے اگر یہ راستہ اپنایا جائے جو امام راحل نے رضوان اللہ تعالی علیہ نے بتایا ہے یہی راستہ فلسطین کو آزاد کرا سکتا ہے کشمیر کو آزاد کرا سکتا ہے اور پاکستان کو محفوظ بنا سکتا ہے اقتدار پرستوں کے چنگل میں جھکڑا ہوا پاکستان انہوں نے فروخت کے لیے رکھا ہوا ہے بیچنے کے لیے رکھا ہوا ہے اور آپ نے سن لیا۔
امریکیوں کے بیان سن لیے اپنے وزیروں کے بیان سن لیے اپنے حکمرانوں کے بیان سن لیے میڈیا کے اندر یہ بیانات سن لیے ہیں کہ انہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے پاکستان کا سودا کر دیا ہے سابقہ گورنر پا پنجاب کے چوہدری سرور صاحب انہوں نے اپنی گورنری کے آخری ایام میں استعفی دینے سے پہلے لندن میں یہ کہا تھا کہ چھ ارب ڈالر کے بدلے میں پاکستان فروخت کر دیا گیا ہے سابقہ وزیراعظم جنہوں نے معاہدے کیے تھے انہوں نے ببانگ دہ میڈیا میں ان کا بیان آیا انہوں نے ٹی وی پہ کہا کہ ان معاہدوں سے پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

██ پاکستان کو فلسطین کی طرح ذلیل کرنے کی تیاری:
ابھی یہ بات آپ جان لیں مسلم جان لیں کہ پاکستان کے اندر جو کھیل جاری ہے جو سیاسی گندہ کھیل جاری ہے جو پاکستان کی معیشت کو ڈبویا گیا ہے تباہ کیا گیا ہے اس کشتی کو بھنور میں پہنچایا گیا ہے یہ سب اسی لیے ہے کہ آخر کار پاکستان کا حشر نعوذ باللہ وہ کرنا چاہتے ہیں جو پہلے فلسطین کا ہوا اور پھر کشمیر کا ہوا یہ دشمنوں کے حوالے کرنے اور دشمنوں کے سپرد کرنے کے منصوبے ہیں اس لیے امام راحل رضوان اللہ تعالی علیہ نے تمام دنیا کے مسلمین کو بیدار کیا اور انہیں کہا کہ فلسطین پہلے عرب حکمران فلسطین کے آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے اور تدریجا فلسطین کو آزاد نہیں کرا سکے مصر پہ قبضہ اردن پہ قبضہ کروا بیٹھے لبنان پہ قبضہ کروا بیٹھے اور شام پہ قبضہ کروا بیٹھے شام کے جولان کی پہاڑیاں ابھی تک اسرائیل کے قبضے میں ہیں اردن کا مغربی کنارہ ابھی تک اسرائیل کے قبضے میں ہے فلسطین اور لبنان کا حصہ جو حزب اللہ نے آزاد کروایا اس سے پہلے حکمرانوں نے اسرائیل کے سپرد کیا ہوا تھا اس پہ قبضہ کروا بیٹھے تھے
امام خمینیؒ نے جو راستہ بتایا جو پاکستانیوں ضروری سمجھنا ہے لازم ہے پاکستانی عوام پر وہ راستہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں سے عوام اور امتیں اپنا راستہ الگ کریں یہ اقتدار کے بھوکے یہ اقتدار کی خاطر ملک بھی بیچ دیتے ہیں یہ وطن بھی بیچ دیتے ہیں یہ قوم بھی بیچ دیتے ہیں اور یہ دین بھی بیچ دیتے ہیں یہ دین فروش یہ وطن فروش یہ قوم فروش اور یہ ملک فروش ان کو نہ دیکھو کہ یہ آپ کو کچھ بچا کے دیں گے یا آزاد کرا کے دیکھیں گے۔
آپ نے دیکھ لیا کہ کشمیر آزادی کے نزدیک پہنچا ہوا تھا کشمیریوں کی قربانیوں کے نتیجے میں لیکن پاکستان میں ناجائز اقتدار پر آنے والوں نے اقتدار مضبوط کرنے کے لیے کشمیر پہ سمجھوتا کر لیا اور کہا ادھر تم ادھر ہم اور اب آگے بھی ایسا ہی ہوگا جو بھی اقتدار بھوکا اقتدار میں آنے کے لیے یہ کہے گا مودی کو کہے گا کہ ٹھیک ہے تم گلگت بلتستان پہ قبضہ کر لو مجھے اسلام آباد پہ حکومت کرنے دو اگر امریکہ کو کہے کہ تم بلوچستان پہ قبضہ کر لو اور مجھے اسلام آباد پہ حکومت کرنے دو اسلام آباد امریکہ جس کے حوالے کرے گا وہ یہی بے غیرتی دکھائے گا کہ اس کے بدلے میں جو بھی کوئی مانگے یہ ان کو دینے کے لیے تیار ہیں، عزیزان یہ ہر چیز فروخت کر چکے ہیں اور باقی ماندہ فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

██ امام راحل کے مکتب کے مطابق یوم القدس کی پاکستان میں خصوصی تفسیر کی ضرورت:
یوم القدس پاکستان میں ایک الگ معنی رکھتا ہے ممکن ہے یوم القدس ایران میں ایک معنی رکھتا ہو یوم القدس عراق میں کچھ اور معنی رکھتا ہو یوم القدس لبنان میں کچھ معنی رکھتا ہو یوم القدس کا پاکستان میں یہ معنی ہے اور امام راحل کے مکتب کے مطابق یوم القدس کی پاکستان میں تفسیر یہ ہے کہ جس طرح پاکستان ہمارا ہے ہماری سرزمین ہے ہماری ناموس ہے ہماری مادر وطن ہے اور ہماری اوپر اس کا دفاع لازم ہے واجب ہے۔
پاکستان کو کس سے بچائیں؟ اس کی حفاظت کس سے کریں؟ اگر ہمیں کہا جاتا ہے کہ اس کو ہندوستان سے یا دہشت گردوں بچانا ہے تو دہشت گردوں کو دعوت دینے والے پاکستان کے اندر سیاستدان موجود ہیں!! یہ ہے دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستان کو فروخت کرنے والے۔ وہ جس طرح انہوں نے افغانستان کو نابود کیا نا امن کیا تباہ کیا ہے۔ وہی نقشہ ان کا پاکستان کے بارے میں ہے۔ قدس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کا دفاع کرنا ہے۔ پاکستان کی حفاظت کرنی ہے۔ اس کو خیانت کار اور اقتدار بے غیرتوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا ہے امام نے یہی درس دیا تھا کہ فلسطین کی آزادی عرب خائن حکمرانوں پہ مت چھوڑو بلکہ باغیرت مسلمان یہ پرچم ہاتھ میں اٹھائیں کشمیر کی آزادی بے غیرت اقتدار پرست حکمرانوں کے اوپر نہ چھوڑو یہ کشمیر بھیج دیں گے یہ باغیرت مومنین اپنے ہاتھ میں یہ پرچم اٹھائیں۔

██ ماہ رمضان میں اندرونی آزادی سے بیرونی آزادی تک:
اس لیے امامؒ نے مومنین کیلئے ماہ رمضان کا انتخاب کیا، ماہ رمضان حکمرانوں کا مہینہ نہیں ہے اقتدار پرستوں کا مہینہ نہیں ہے عباد اللہ کا مہینہ ہے بندگان خدا کا مہینہ ہے اور ماہ مبارک رمضان مومنین کے اندر احساس بیدار کرنے کا مہینہ ہے اس بیداری کے احساس کو اور غیرت کے احساس کو جگانے کا مہینہ ہے جب مومن ماہ رمضان میں عبادت کے ذریعے ریاضت کے ذریعے صوم کے ذریعے اپنے باطن کی تطہیر کر کے اپنے نفس کو اندرونی شیطان سے آزاد کرا لے ہے پھر امام نے فرمایا کہ تو نے اگر تین عشرے لگا کر اپنے نفس کو شیطان سے آزاد کروایا ہے اب تیرا فریضہ ہے کہ تو اپنے ملک کو شیطانوں سے آزاد کرا تو اپنی سرزمینوں کو شیطانوں سے آزاد کرا تو اپنی مقدسات کو شیطانوں سے آزاد کرا۔
عزیزان یوم القدس پاکستان کی بقا کی تحریک ہے کشمیر کی آزادی و یکجہتی کی ہے اور فلسطین کی آزادی کی تحریک ہے اور انشاءاللہ جب تک آپ مومنین بیدار رہیں گے یہ پرچم اٹھائیں گے۔

██ کشمیر و فلسطین کی آزادی کا راستہ اور اس کی دلیل:
میں آپ کو ایسی دلیل پیش کرتا ہوں جو آپ کو بھی کان کر دے گی اور ہر انسان باضمیر جھنجوڑ کر رکھ دیگی۔ آپ نے دیکھا کربلا میں یزید ملعون نے بنو امیہ نے پوری طاقت لگا کر نواسہ رسول کو شہید کیا پارہ پارہ کیا ان کا پامال کیا جسم ان کا اور ان کے بچوں مردوں کو شہید کر دیا خواتین کو اسیر بنا لیا اور اپنی گمان میں انہوں نے ختم کر دیا رسول اللہ کا خاندان اور دین کا اور اللہ کے دین کو بچانے والا خاندان ختم کر دیا لیکن آج بھی چودہ سو سال گزرنے کے بعد اگر آپ کو نام کسی جگہ نظر آتا ہے تو وہ حسین ابن علی ع کا نام نظر آتا ہے شہدائے کربلا کا نام نظر آتا ہے ، یہ دلیل ہے اس بات پر کہ اگر کربلا میں امام حسین علیہ السلام تنہا تھے اور بہتر تن ساتھ تھے وہ بہتر سارے مارے گئے شہید ہو گئے لیکن اللہ کا دین بچ گیا حسین کا نام بچ گیا اور اللہ کا پرچم کلمہ لا الہ الا اللہ بچ گیا اور آج ساری مسلمان دنیا امام حسین کے رہین منت ہے ممنون احسان ہے۔
اس شہید کی عزیزان یہی دلیل ہے آپ کے لیے بھی آج آپ کو لگتا ہے کہ شاید آپ کے ساتھ لوگ نہیں ہیں فقط حسین ابن علی کے پیروکار یہاں موجود ہیں تو یہی تو دلیل ہے کہ انشاءاللہ اگر حسینیوں نے پرچم دفاع پاکستان اٹھا لیا پرچم دفاع کشمیر اٹھا لیا پرچم دفاع فلسطین اٹھا لیا تو پھر اللہ کا وعدہ ہے کہ حسین ابن علی کے پیروکار جب پرچم اٹھائے اللہ اس سرزمین کو محفوظ بنا دیتا ہے انہی کے ہاتھوں بنا دیتا ہے الحمدللہ بڑی تعداد میں آپ موجود ہیں یہاں پر خواتین بھی ہیں مرد بھی ہیں اور روزہ بھی ہے آپ کا آپ اب افطار کے قریب جانے والے ہیں تو آپ یہی لبیک کا نعرہ اور یہ لبیک کی صدا اس پاکستان کو سنائیں اہل لاہور کو سنائیں ایک دفعہ یہ مرد روزہ دار اپنے روزے کی ایمانی طاقت سے کہیں گے لبیک یا حسین پھر اس کے بعد یہ چپ ہو جائیں گے اور مستورات کہیں گی لبیک یا حسین ع۔
پاکستان میں یوم قدس عزیزان بڑا وسیع معنی رکھتا ہے آپ کا ملک جہاں پر آپ کے حکمرانوں نے اقتدار پرست سیاستدانوں نے پہنچا دیا ہے وہ کشمیر اور فلسطین تک ہی پہنچا دیا ہے انہوں نے اور زیادہ المیہ بڑا ہے چونکہ پاکستان کی حیثیت کشمیر سے بڑھ کر ہے فلسطین سے بھی بڑھ کر ہے، کیون؟ اگرچہ فلسطین کے اندر قبلہ اول ہے اس کا مقام اپنی جگہ محفوظ ہے لیکن پاکستان کی جو حیثیت ہے آج کی دنیا میں جو سیاسی حیثیت ہے جغرافیائی حیثیت ہے وہ اس کو تمام اسلامی ممالک پر برتری عطا کرتی ہے اس برتری کے ہوتے ہوئے ایٹمی طاقت کو جہاں پر اتنی طاقتور فوج ہے جہاں پچیس کروڑ عوام ہے جہاں پر دین کا جذبہ موجود ہے یہ سب کچھ اٹھا کر یہ صہیونیوں کے قدموں میں اور یہ اسرائیل کے قدموں میں اور یہ امریکہ کے قدموں میں رکھنے رہے ہیں تو قدس کا مطلب یہ ہے کہ کسی حکمران کو پاکستان کے باغیرت روزہ دار یہ مومنین یہ عزادار اور یہ روزہ دار کسی باغیرت حکمران کو یہ اجازت نہیں دیں گے چونکہ غیرت مند عوام موجود ہو تو بے غیرتوں کو ملک فروخت کرنے نہیں دیتے اگر اس وقت باغیرت مومنین موجود ہوتے فلسطین فروخت نہ ہوتا کشمیر فروخت نہ ہوتا لیکن ہماری غیرت کا امتحان ہے انشاءاللہ پاکستان فروخت نہیں ہوگا پاکستان صہیونیوں کو اور امریکیوں کو پیش نہیں کیا جائے گا پاکستانیوں کا یہ فریضہ اور عہد ہے روزے کی حالت میں کہ انشاءاللہ پاکستان کی حفاظت کے لیے کشمیر کی آزادی کے لیے فلسطین کی آزادی کے لیے تمام مظلومین کی ظلم و ستم سے نجات کے لیے یہ طبقہ حسینی گروہ، حسینی مسلک، حسینی مذہب اور مسلمان ہمیشہ میدان میں قائم رہے گا، جما رہے گا، ڈٹا رہے گا اپنے ملک کی حفاظت کے لیے اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالی انشاءاللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے خداوند تبارک و تعالی کشمیر کو آزاد فرمائے اللہ تبارک و تعالی فلسطین کو آزادی عطا فرمائے اللہ تبارک و تعالی تمام مظلوموں کو ان ظالمین کے ستم سے نجات عطا فرمائے ان ظالموں کو ظلم سمیت نیست و نابود فرمائے اور پاکستان کے ساتھ خیانت کرنے والوں کو اللہ تعالی رسوا فرمائے۔ پاکستان کے ساتھ پاکستان کے اندر نامنی ایجاد کرنے والے دہشت گردی فرقہ واریت اور تفرقہ اور نفرت پھیلانے والوں کے لوط سے اللہ تعالی پاکستان کو پاک فرمائے۔ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے اور اللہ تعالی آپ کی عبادات و اعمال کو قبول فرمائے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address


Lahore
Lahore