مکھی کی چھیاسی آنکھیں ہوتی ہیں اور افسوس کی بات ہے وہ گند پر بیھٹتی ہے
👁🐝👀👁🐝
World of General knowledge
Na wfa na mot
کائنات کی سب سے بڑی نعمت
quran and islamic books
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ان گنت نعمتوں سے نوازا، ہم میں سے ہر شخص اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں چلتا پھرتا رہتا ہے، اللہ سبحانہ ہی تو ہے جس نے ہمیں دیکھنے اور سننے کی نعمت سے نوازا جب کہ بہت سے لوگ اس سے محروم ہیں اور ہمیں عقل صحت اور مال و اہل کی نعمتیں دیں، بلکہ پوری کائنات کوجس میں سورج آسمان اور زمین اور تمام مخلوقات ہیں اسے ہمارے لئے مسخر فرمایا۔ ((اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اسے نہیں گن سکتے ۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے)) ۔ (النحل: 18).
لیکن یہ تمام نعمتیں ہماری مختصر زندگی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی، لیکن وہ نعمت جس کا ثمرہ دنیا میں سعادت واطمینان ہے اور اسکا اثر آخرت تک باقی رہتا ہے وہ ہے اسلام کی ہدایت ہے اور وہی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نوازا ہے۔
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کو اپنی طرف منسوب کرکے اسے دوسری نعمتوں کے مقابلے میں شرف بخشا، چنانچہ فرمایا : (( آج میں نے تمہارے لیے تمھارا دین اور اپنی نعمتیں پوری کردی اور تمھارے لئے دین اسلام کو پسند کیا))۔ (المائدة: 3)۔
اور اس سے عظیم نعمت انسان پر اللہ کی کیا ہوسکتی ہے وہ جب اسے تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور اسے اس دین کی ہدایت دیتا ہے جسے اس نے پسند فرمایا، تاکہ اس مقصد کی تکمیل ہوسکے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا اور وہ اللہ کی عبادت ہے جس کے ذریعہ وہ دنیا میں سعادت اور آخرت میں اچھا ثواب پاتاہے ۔
اللہ کا ہم پر احسا ن عظیم اور بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں خیر ا مت تخب فرمایا تاکہ ہم کلمہ لا إلٰہ إلا اللہ کا بار اٹھائیں جسے دے کر اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا ۔
جب بعض نادان لوگوں نے یہ سمجھا کہ اسلام کو اختیار کرکے انہوں نے احسان کیا اورنبی ﷺ پراحسان جتانے لگےتو اللہ تعالیٰ نے انھیں متنبہ فرمایا کہ یہ سارا احسان تواللہ کا ہے، اس نے ان کے لیے دین کی ہدا یت کو میسرفرمایا چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ((اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں ۔آپ کہہ دیجیئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو،بلکہ دراصل اللہ کا تم پراحسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم راست گو ہو)) ۔ (الحجرات: 17).
تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بکثرت ہیں لیکن جس نعمت کے احسان کا تذکرہ فرمایا وہ اسلام کی نعمت اوراللہ کی وحدانیت اور اس کی عبادت کی ہدایت ہے ۔
لیکن یہ نعمت ہم سے شکر کا تقاضا کرتی ہے تاکہ یہ باقی اور ثا بت رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔ ((اگرتم شکرگزاری کروگے توبیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کروگے تو یقینا میرا عذاب بہت سخت ہے)) ۔ (إبراهيم: 7)۔
14/01/2021
دنیا کے بڑے ڈیموں کی تفصیل
معلومات پوائنٹ 3:32:00 PM

چین میں تین گھاٹیوں ڈیم دنیا میں مطلق بڑا بننے کے لئے پیش کیا جاتا ہے. حجم میں ختم 39.300.000.000 منعقد کرنے کی توقع، ذخائر مکمل ہو گیا ہے لیکن اصل ڈیم خود اس سال کے بعد جب تک مکمل نہیں ہو گا. اس ڈیم کی تعمیر نہ صرف اس کے ساتھ ساتھ درجنوں دیہات کی جگہ کی تبدیلی میں بلکہ درشیاولی کے نتیجے میں، Sandouping میں زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے. کیونکہ تین گھاٹیوں ڈیم کی اونچائی کے پہاڑوں اب وہ واقعی ہیں کے مقابلے میں تھوڑا سا کم نظر آتے ہیں.
ان ڈیموں کو بڑا درمیان نہیں ہیں، لیکن میں سے کچھ پر غور کر رہے زیادہ تر، فنکشنل خوبصورت، اور دنیا میں جمالیاتی اعتبار سے منباون. آپ کے علاقے میں کبھی بھی ہو تو ایک کا دورہ کرنے نہیں ہچکچاتے. انسان میں بہت بڑا ڈیموں میں سے ایک کو دیکھ کر چین میں ایک بالکل دم بخود experience.The تین گھاٹیوں ڈیم دنیا میں سب سے مطلق ہونے کے لئے پیش کیا جاتا ہے ثابت ہو گا. حجم میں ختم 39.300.000.000 منعقد کرنے کی توقع، ذخائر مکمل ہو گیا ہے لیکن اصل ڈیم خود اس سال کے بعد جب تک مکمل نہیں ہو گا. اس ڈیم کی تعمیر نہ صرف اس کے ساتھ ساتھ درجنوں دیہات کی جگہ کی تبدیلی میں بلکہ درشیاولی کے نتیجے میں، Sandouping میں زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے. کیونکہ تین گھاٹیوں ڈیم کی اونچائی کے پہاڑوں اب وہ واقعی ہیں کے مقابلے میں تھوڑا سا کم نظر آتے ہیں.
ان ڈیموں کو بڑا درمیان نہیں ہیں، لیکن میں سے کچھ پر غور کر رہے زیادہ تر، فنکشنل خوبصورت، اور دنیا میں جمالیاتی اعتبار سے منباون. آپ کے علاقے میں کبھی بھی ہو تو ایک کا دورہ کرنے نہیں ہچکچاتے. انسان میں بہت بڑا ڈیموں میں سے ایک کو دیکھ کر ایک بالکل کے breathtaking تجربے ثابت ہو گا.
2 Xiaowan ڈیم، چین
جنوب مغربی چین میں واقع Xiaowan ڈیم دریائے دریا پر ایک چاپ ڈیم ہے. ہائیڈرو پاور جنریشن بنیادی مقصد ہے اور یہ ایک 4،200 میگاواٹ اسٹیشن کی حمایت. US $ 3.9 کی قیمت پر، 2002 سے 2010 تک بلٹ. ارب جو چاپ ڈیم زمرے میں دوسری بلند ترین ڈیم، 292 میٹر کی اونچائی پر ہے. یہ بھی چین میں تیسری سب سے بڑی ہائیڈرو پاور سٹیشن کی حمایت. دفتری تعمیر 2002 میں شروع کیا اور دریا خود نومبر 2003. پہلی جنریٹر 2009 میں شروع کیا گیا تھا اور چھ جنریٹرز کی کل کے آخری سال 2010 میں کمیشن حاصل کیا میں موڑ دیا گیا تھا.
3 گرانڈے Dixence ڈیم، سوئٹزرلینڈ
Dixence دریائے گرانڈے Dixence ڈیم پر تعمیر، کشش ثقل ڈیم کے زمرے میں دنیا میں سب سے بلند ہے. بنیادی طور پر چار سٹیشنوں جس میں بجلی کی 2069 میگا واٹ پیدا اپ ہائیڈرو پاور جنریشن، جو ایندھن کے لئے تعمیر کیا. سالانہ 2000 GWH پیدا کیا جاتا ہے جس میں سوئٹزر لینڈ میں 400،000 گھروں کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے. ذخائر جھیل DIX Valais میں دوسرا سب سے بڑا ہے اور چوٹی صلاحیت میں یہ پانی کے 1.4 X 101o کیوبک فٹ پر مشتمل ہے. چار پمپنگ اسٹیشنوں، Z'Mutt، Ferpecle، Arolla اور Stafel پانی کے ساتھ ذخائر کو کھانا کھلانا. 1964 میں مکمل کیا جو 1965 میں ایک سال بعد کمیشن حاصل کیا.
4 Inguri ڈیم، جارجیا
اس وقت دنیا میں دوسری سب سے زیادہ ٹھوس ڈیم، Inguri ڈیم Jvari، جارجیا میں ایک کٹر ڈیم ہے. Inguri ڈیم Inguri دریا پر ہے اور پن بجلی کا ایک حصہ ہے. ایک ڈیم اصلا Bzyb دریا پر منصوبہ بنایا گیا تھا، لیکن Pitsunda ساحل سمندر کشرن پر تباہ کن اثر پرختیارپنا کی گئی تھی اور آخر میں ڈیم Inguri دریا پر تعمیر کیا گیا ہے. ڈیم 1987 میں مکمل کیا گیا تھا لیکن 1994 ء میں ہائیڈرو الیکٹرک انجینئرز یہ خستہ 'سمجھا. 1999 میں یورپی کمیشن کے پانچوں جنریٹرز تزئین نو سمیت فوری مرمت کے لئے رقم حاصل کی جاچکی. 2011 ء میں ایک یورپی بینک Inguri ہائیڈرو پاور پلانٹ کی بحالی کے لئے پیسہ ادھار دیا.
5 Vajont ڈیم، اٹلی
وینس میں Vajont ڈیم، اٹلی، جس میں ایک بھاری اکثریت ڈیم کو نقصان پہنچا اور تقریبا 2000 افراد کی موت کی وجہ سے 1963 میں 1959. میں مکمل ہوئی ایک متروک ڈیم ہے. ڈیزائنرز مونٹی Toc کی علاقے کے عدم استحکام پر توجہ ادا نہیں کیا کے طور پر نقصان واقع ہوئی ہے. منفی تشخیص اور انتباہ کے سنکیتوں تعمیر کے مرحلے کے دوران واقع نظر انداز کیا گیا. بھاری اکثریت کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کئی گاؤں صفایا اور Piave وادی میں بڑے پیمانے پر سیلاب کی وجہ سے ہے کہ ایک 200 میٹر لمبا پانی کی لہر پیدا. اس سے 262 میٹر کی بلندی پر، دنیا کی سب سے بلند ڈیموں میں سے ایک ہے. یونیسکو یہ ایک 'احتیاط کی کہانی' انجینئروں کی ناکامی کی وجہ سے ہونے کا درج ہے.
6 ٹہری ڈیم، بھارت
ٹہری ڈیم دنیا کا بلند ترین ڈیموں میں سے ایک ہے اور بھارت میں، یہ سب سے زیادہ ڈیم ہے. بھارت میں باگیرتی دریائے اتراکھنڈ میں ریاست پر تعمیر، یہ ایک بہاددیشیی پشتے ڈیم ہے. یہ ایک زمین اور پتھر بھرا ہوا ڈیم اور فیز 1 اختتام ہوا تھا 2006. میں ڈیم پانی کی فراہمی اور آب پاشی کے لئے ایک ذخائر کی ڈگری حاصل کی اور بجلی کی تقریبا 1000 میگاواٹ پیدا کرتا ہے. سہولت پمپنگ کے ساتھ ڈیم کی سٹوریج سکیم زیر تعمیر ہے اور 2016. ڈیم راستہ واپس 1972 میں ڈیزائن کیا گیا تھا کی طرف سے مکمل کیا جائے گا لیکن، سماجی، مالی اور ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے تاخیر ہوئی. ریاستی اور وفاقی حکومت منصوبے فنڈز فراہم.
7 Mauvoisin ڈیم، سوئٹزرلینڈ
Valais، سوئٹزرلینڈ میں واقع، Mauvoisin ڈیم ایک متغیر رداس کے ساتھ ایک ٹھوس چاپ ڈیم ہے. اصل کی تعمیر 1957 میں بہت پہلے مکمل کر لیا گیا، لیکن 1991 میں ڈیم کی اونچائی موسم سرما کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اضافہ بڑھ گیا تھا. ہائیڈرو الیکٹرک پاور کی جنریشن ڈیم کا بنیادی مقصد ہے. اس سے 250 میٹر اونچی اور لاکھ ڈی Mauvoisin 211،5 ملین کیوبک میٹر کی صلاحیت ہے میں دنیا میں آٹھویں بلند ترین میں سے ایک ہے. ڈیم سے پانی 363 میگاواٹ کا ایک مشترکہ صلاحیت ہے جس میں دو ہائیڈرو الیکٹرک پاور جنریٹنگ اسٹیشنوں، فیڈ. ایک کم سطح پر Fionnay سٹیشن 138 میگا واٹ پیدا کر سکتے ہیں.
8 Laxiwa ڈیم، چین
Laxiwa ڈیم شمال مغربی چین میں پیلا دریا پر ہے اور ایک چاپ ڈیم ہے. اس Longyangxia اور Lijiaxia ڈیموں اور پن بجلی کے ڈیم وجود نسل کا بنیادی مقصد دونوں کے درمیان ہے. یہ پیلا دریا کے طاس میں بڑا اسٹیشن کی حمایت. چھ ٹربائین ہر ایک، طاقت کے 700 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے، اس طرح 4،200 میگاواٹ کی کل صلاحیت لینے کی صلاحیت کے ساتھ موجود ہیں. دریا سال 2006 تعمیر شروع میں، 2004 میں موڑ دیا گیا تھا اور 2009 کی طرف سے پہلے دو جنریٹرز جگہ میں تھے. یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پتھر اور زمین کی بہت بڑی مقدار کے لئے شروع کرنے کے لئے ڈیم کی تعمیر کے لئے ہٹا دیا گیا تھا.
9 Deriner ڈیم، ترکی
Deriner ڈیم ہے کنکریٹ سے بنا ایک ڈبل مڑے ہوئے چاپ ہے اور ترکی میں Artvin کے مشرقی صوبے میں، Coruh دریا پر ہے. سیلاب اور پن بجلی کی پیداوار کو کنٹرول اس ڈیم کی تعمیر کا بنیادی مقصد تھے. فروری 2013 ء میں مکمل، یہ ایک 670 میگاواٹ صلاحیت ہے اور ترکی میں سب سے بلند ڈیم ہے. ، روسی سوئس اور ترکی کمپنیوں ڈیم ترکی کی ریاست ہائیڈرولک ورکس کی طرف سے منظم کیا جا رہا ہے کے ایک کنسورشیم کی طرف سے تعمیر. ڈیم ایک تحقیق کے انجینئر، ابراہیم Deriner، ڈیم کی تعمیر کے دوران انتقال ہو گیا نام سے منسوب ہے.
10 ابرک ڈیم، کینیڈا
ابرک ڈیم کولمبیا دریا پر ہے اور ایک پن بجلی ڈیم ہے. یہ سال 1973 ء میں مکمل ہوئی، BC Hydro کی طرف سے منظم کیا جاتا ہے اور پاور ہاؤس کے ایک 1805 میگاواٹ پیداواری صلاحیت ہے. ابرک ڈیم ابرک کریک کے قریب ایک بستی کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے. علاقے میں معدنی ابرک کی کثرت ہے. ابرک ڈیم پوری دنیا میں سب سے بڑی زمین بھر ڈیموں میں سے ایک ہے اور یہ Kinbasket جھیل پیدا. ڈیم کے ذریعے پانی Revelstoke جھیل میں براہ راست بہتا. یہ بنایا گیا تھا اور سوئچ گیئر سلفر hexafluoride کے ساتھ موصل پہلے یہاں نصب کیا گیا تھا جب زیر زمین پاور ہاؤس دوسرا سب سے بڑا تھا.
ہے زندگی کا نام مگر کیا ہے زندگی؟
شاہد سردار
اتوار 10 مارچ 2019

زندگی اصل میں بہت ہلکی پھلکی ہوتی ہے بوجھ تو سارا خواہشات کا ہوتا ہے۔
بعض پرانے واقف کار عرصہ دراز کے بعد جب ملیں تو یہ سوال لازمی پوچھتے ہیں ’’اور سناؤ کیسی گزر رہی ہے زندگی؟‘‘ ہماری دانست میں زندگی کے بارے میں کیا پوچھنا زندگی ایک پرپیچ کہانی ہے جو بظاہر دشوار راستوں سے گزرتی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ نہ آغاز انسان کی منشا سے لکھا جاتا ہے اور نہ ہی اختتام اس کی مرضی سے پوچھ کر کیا جاتا ہے۔
زندگی ہمارے نزدیک ایک ایسا کیمپس ہے جس کی درسگاہ میں ہر نوع کے مضامین پڑھنے اور پڑھانے کا انتظام ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی استعداد، قابلیت، ذہنی رجحان و کشادگی، وسعت فکر کے مطابق دنیا کے اسباق اس سے سیکھتا ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ جب تک ہم زندگی کے بارے میں کچھ سیکھ پاتے ہیں تو یہ ختم ہوجاتی ہے۔ زندگی بلاشبہ ایک ایسی منفرد چیز ہے جس میں ہر ساعت ہر لمحہ ہر گھڑی کچھ نہ کچھ ’’نیا سیکھنے‘‘ کی ہمیشہ گنجائش رہتی ہے۔
کوئی فارمولا اسے برتنے سے معاملے میں حتمی نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی اصول اسے کامیابی سے ہمیشہ ہم کنار کرسکتا ہے کیونکہ قدرت نے تقدیر کا کارڈ اپنے پاس ہی رکھا ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے انسان کو سزا اور جزا دنیا میں دے سکے یا پھر اس کو آزما سکے۔ دراصل تقدیر کا اپنا اٹل بہاؤ ہوتا ہے جو انسان کے زندگی گزارنے کے اصول، فارمولے اور تدابیر سبھی کو بہا کر لے جاتا ہے۔
ہم خود کو زندگی کے مکتب کے نہایت ادنیٰ طالب علم سمجھتے ہیں جو ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے عمل سے گزرنے کے باوجود زندگی سے کچھ نہ سیکھ سکے۔ کیونکہ جب بھی کچھ سیکھنے کا احساس جڑ پکڑتا ہے تقدیر کا بہاؤ اسے ریت پر لکھی تحریر کی طرح مٹا کر نیا سبق نیا مسئلہ سامنے رکھ دیتا ہے اور ہم پھر سے نالائق طالب علم بن جاتے ہیں شاید اسی عمل کا نام ذہنی ارتقا ہے۔
زندگی کو غم اور خوشی کا نام بھی کہتے ہیں۔ انسان کو اس دنیا میں آتے ہی مختلف النوع احساسات اور حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے اپنی زندگی میں جہاں بے شمار خوشیاں اور مسرتیں ملتی ہیں وہیں اسے سنگین حالات سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔ زندگی کی اس تگ و دو میں کبھی انسان کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے اور کبھی ناکامیاں اس کا مقدر بنتی ہیں۔ زندگی کے مسائل اور مصائب کا بہادری سے سامنا کرنے والے اپنی ہمت اور کوششوں سے ان پر قابو پالیتے ہیں مگر بزدل یا کم ہمت لوگ ان وقتی ناکامیوں سے گھبرا کر زندگی سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ویسے بھی موت کو زندگی کی اٹل حقیقت تسلیم کیا گیا ہے اور زندگی اور موت کو دو جڑواں بہنیں کہا جاتا ہے اور اس بات میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ زندگی سسکی سے شروع ہوکر ہچکی پر ختم ہوجانے والا ایک مختصر ترین عمل ہے جو شروع مٹی کے اوپر ہوتا ہے لیکن ختم ہمیشہ مٹی کے نیچے ہوتا ہے۔لیکن خاک سے بنے انسان کو تب تک سمجھ نہیں آتی جب تک خاک کی خوراک نہیں بن جاتا۔ زندگی کو بعض مفکرین نے عورت کی طرح ناسمجھ میں آنے والی چیز کا نام بھی دیا ہے کیونکہ کبھی زندگی موت جیسی محسوس ہوتی ہے اور کبھی موت زندگی سے بھی زیادہ خوبصورت لگتی ہے، یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہوتی ہے، حیات زندگی میں کچھ کلیاں بن کھلے مرجھا جاتی ہیں اور کچھ کلیاں کھل کر ایسے پھول بنتی ہیں کہ ان کی خوشبو سے گلشن مہک اٹھتا ہے۔
زندگی نشیب و فراز اور مد و جزر کا نام بھی ہے اور انسان پر قدرت کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ اس کے جذباتی یا جسمانی زخم خواہ وہ کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں مندمل ہوتے چلے جاتے ہیں اور اگر ایسا نہ بھی ہوسکے تو بھی انسان کو زندگی میں تھوڑی بہت ایڈجسٹمنٹ کرنی پڑتی ہے چاہے اس کا دل چاہے یا نہ چاہے۔ انسان کچھ بھی سوچ لے، کچھ بھی کرلے، خود کو کتنا ہی بااثر سمجھ لے یا بن جائے حقیقت پھر بھی یہی رہتی ہے کہ زندگی کے اسٹیج پر اس کی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہوتی تقدیر کے اسکرپٹ میں تحریر کردہ مناظر خواہ کتنے ہی ناپسندیدہ کیوں نہ ہوں انھیں نہ تو وہ کامیاب کرا سکتا ہے اور نہ ہی ان سے منہ پھیر سکتا ہے۔
مزید ستم یہ کہ عموماً وقت کا سب سے کاری وار اس وقت ہوتا ہے جب انسان کو اس کی توقع نہیں ہوتی۔ زندگی کو فانی بھی کہا گیا ہے اور اس کا پتا نہیں کہ یہ کب کہاں جاکر ختم ہوجائے لیکن پھر بھی موت کے خوف سے کوئی جینا نہیں چھوڑتا اور پل کی خبر نہ ہونے کے باوجود سو برس کا سامان وہ کرتا ہے، شاید اس لیے بھی کہ زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ موت انسان کو اپنے آپ سے بہت دور دکھائی دیتی ہے، غالباً جینے کا یہی احساس زندگی کو حسین اور انمول بنا دیتا ہے۔
زندگی کے حوالے سے ایک مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ سانس ٹوٹنے سے انسان ایک مرتبہ مر جاتا ہے لیکن ساتھ چھوٹنے یا ٹوٹنے سے انسان بار بار مرتا ہے۔ شاید اسی لیے زندگی میں یہی دو چیزیں ٹوٹنے یا چھوٹنے کے لیے ہوتی ہیں انسان اور ساتھ۔ اور کون نہیں جانتا کہ زندگی گزارتے ہوئے یا جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے اس کے اپنے بزرگوں اور دوستوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ انسانی زندگی کو کیلنڈر کے ماہ و سال سے بھی نہیں ناپا جاتا، واقعات و حادثات کی شدت سے ناپا جاتا ہے بلکہ ان حادثات اور واقعات سے پیدا ہونے والے محسوسات کے ذریعے ناپا جاتا ہے۔ کیونکہ زندگی کے مناظر بڑی تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں اسے سمجھنے کے لیے ایک خاص نظر کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ ہم زندگی کا پورا کھیل کھیل جاتے ہیں مگر پھر بھی زندگی کو سمجھ نہیں پاتے۔
مشاہدہ کہتا ہے کہ زندگی افسانوں سے بھی زیادہ عجیب ہوتی ہے۔ یہ پہاڑوں کو پیس کر ذروں اور سمندروں کو خشک زمین میں بدل دیتی ہے۔ زندگی بڑی عجیب و غریب پہیلی بھی ہے، مسٹری ہے، تجسس ہے جو کبھی نہیں ہوا ہوتا وہ کبھی نہ کبھی ضرور ہوجاتا ہے۔ زندگی کو باکمال استاد بھی کہا جاتا ہے اگر اس کا دیا ہوا سبق کوئی وقت پر نہ سیکھے تو یہ وہی سبق غلط وقت پر سکھا دیتی ہے۔ زندگی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو خوشیاں نہیں دیتی ان کو تجربے سے ضرور نوازتی ہے۔ زندگی کبھی آسان نہیں ہوتی اسے آسان بنانا پڑتا ہے کبھی کچھ برداشت کرکے اور کبھی کچھ نظرانداز کرکے۔ زندگی اور خربوزے میں ایک قدر مشترک ہے کہ پھیکی یا پھیکے ہونے پر بھی دل اسے پھینکنے یا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ زندگی سب کو ایمان بیچ کر لگژری دینے والی چیز نہیں یہ انسان کو ایسے موڑ پر بھی لاکھڑا کرتی ہے جہاں انسان سوچتا ہے کہ جان بچائے یا ایمان؟
اس بات میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ ہر کسی نہ کسی کی زندگی میں بعض رشتے ایسے ضرور ہوتے ہیں جو جگنو بن کر پل بھر میں گھٹا ٹوپ اندھیرا دور کردیتے ہیں کیونکہ زندگی میں کسی ایسی ہستی کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے جس کو دل کا حال سنانے کے لیے لفظوں کی ضرورت نہ پڑے، ویسے بھی زندگی ان کے لیے وقف نہیں کرنی چاہیے جن کے ساتھ ہم زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ زندگی ان کے نام ہونی چاہیے جن کے بنا ہم زندگی نہیں گزار سکتے۔ اس لیے کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک چہرہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو ہر دم ہر پل اس کی سوچ کے آئینوں میں جھانکتا رہتا ہے۔
زندگی اصل میں بہت ہلکی پھلکی ہوتی ہے بوجھ تو سارا خواہشات کا ہوتا ہے۔ تاہم اگر زندگی کی تلخیاں، پریشانیاں اور تکلیفیں ہم سے ہمارے اخلاق کی مٹھاس اور نرمی چھین لیں تو سمجھ لیں کہ ہم ہار گئے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرتی مسائل کی وجہ سے عوام کی غالب اکثریت جیتے جی مرچکی ہے اور جیتے جی مرجانا زندگی کی توہین ہوتی ہے جب کہ ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت بھاری ہے جو جینے کی آرزو میں کئی کئی بار مرتے رہتے ہیں۔ زندگی کے حوالے سے ایک تکلیف دہ سچائی یہ بھی ہے کہ زندگی میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو انسان بہت جلد بھول جاتا ہے، ان میں سے ایک اس کی اپنی ’’اوقات‘‘ بھی ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے دریا کے بارے میں کچھ دلچسپ و عجیب
روزنامہ جنگ
August 24, 2019

دریائے نیل دنیا کا سب سے لمبا دریا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 6670 کلو میٹر ہے۔ یہ افریقہ کی سب سے بڑی جھیل وکٹوریہ جھیل سے نکلتا ہے۔ اس علاقے میں بارش بہت ہوتی ہے، لہٰذا بہت گھنے جگلات پائے جاتے ہیں، ان جنگلات میں ہاتھی، شیر، گینڈے، جنگلی بھینسے، ہرن، نیل گائے اور دریائی گھوڑے(ہپو)، مگرمچھ اور گھڑیال وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ اس علاقے کو “نیشنل پارک” کا درجہ حاصل ہے۔
جب یہ دریا سوڈان میں داخل ہوتا ہے تو اس کی رفتار بہت سست ہوجاتی ہے، کیوں کہ دریا ایک زبردست دلدل سے گزرتا ہے۔ یہ دلدل دنیا کا سب سے بڑا دلدل ہے یعنی 700 کلو میٹر لمبا ہے۔ یہاں ایک قسم کی گھاس پاپائرس پائی جاتی ہے، جو پورے دلدل پر چھائی رہتی ہے۔ یہ اتنی گھنی اور مضبوط ہے کہ اس پر ایک ہاتھی کھڑا ہوجائے تو وہ نیچے نہیں جائے گا اور سیدھا کھڑا رہے گا۔ دریا کا پانی گھاس کے نیچے نیچے بہتا ہے۔ پتا نہیں چلتا کہ پانی کہاں ہے۔ یہاں سارس، بگلے اور پانی میں رہنے والی مختلف چڑیاں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اسی گھاس سے کاغذ بنایا جاتا ہے۔

دریائے نیل کے سارے مددگار (معاون) دریا، حبشہ کے پہاڑوں سے نکل کر اس میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ دریا حبشہ میں جھیل تانا سے نکلتا ہے اور فوراً بعد آبشار کی صورت میں ایک نہایت گہرے کھڈ میں گرتا ہے اور بہتا ہوا خرطوم کے مقام پر دریائے نیل میں مل جاتا ہے۔ خرطوم کے بعد اتبارا کے مقام پر اتبارا نام کا ایک اور دریا، دریائے نیل میں شامل ہوتا ہے۔ یہ بھی حبشہ کے پہاڑوں سے جھیل تانا کے قریب سے نکلتا ہے۔
خرطوم کے بعد دریائے نیل میں کئی اتار (یعنی ڈھال جو ایک دم نیچے اترتا ہو) آتے ہیں۔ یہ تقریباً چھے مقامات پر ہیں۔ دریا کی تہہ میں بڑی مضبوط اور نوکیلی چٹانیں ہیں۔ ان کو دریائے نیل کی رکاوٹیں کہا جاتا ہے۔ ان مقامات سے کشتیاں یا موٹر بوٹس نہیں گزر سکتے۔
سوڈان میں مصر کی سرحد پر دریائے نیل انسان کی بنائی ہوئی دنیا کی سب سے بڑی جھیل یعنی جھیل ناصر میں داخل ہوتا ہے۔ یہاں اسوان کے مقام پر اسوان بند باندھا گیا ہے۔ اس بند سے دریا کا پانی رک گیا ہے اور ایک جھیل بن گئی ہے۔ اس بند سے آب پاشی کے لیے نہریں نکالی گئی ہیں اور پانی کو سرنگوں سے گزار کر اس پانی سے بجلی پیدا کی گئی ہے۔ اسوان بند کی نہروں سے دریائے نیل کے دونوں طرف 50 میل تک کاشت کاری ہوتی ہے اور علاقہ نہایت سر سبز و شاداب اور آباد ہوگیا ہے۔ اسی وجہ سے مصر کو دریائے نیل کا تحفہ کہا جاتا ہے، جیسے ہمارے ملک میں صوبہ سندھ کو دریائے سندھ کا تحفہ کہا جاتا ہے۔

قاہرہ سے گزر کر دریا بہت خاموشی اور آہستہ آہستہ مختلف شاخوں میں بٹ کر اسکندریہ کے قریب بحیرہ روم میں گر جاتا ہے۔ دریا کی رفتار اور پانی کی کیفیت معلوم کرنے کے لیے مصری لوگ ایک پیمانہ بناتے تھے۔ یہ دریا کے کنارے ایک کمرا ہوتا تھا۔ اسے نیلو میٹر کہتے تھے۔ اس میں ایک سرنگ سے دریا کا پانی آتا رہتا تھا۔ اس پیمانے سے پانی کی حرارت، رنگ اور کیفیت معلوم ہوتی اور اس کا سال بھر ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔ ریکارڈ سے معلوم ہوتا تھا کہ طغیانی آئے گی یا نہیں اور اگر آئے گی تو کیا اثرات ہوں گے۔ فصلوں کے لیے اچھی ہوگی یا نقصان دہ ہوگی۔
قدیم لوگوں کو علم ہی نہیں تھا کہ دریائے نیل کہاں سے نکلتا ہے، حالاں کہ ہزاروں سال سے لوگ اس کی وادی میں رہتے بستے آئے تھے۔ تہذیبیں جنم لیتی رہیں اور مٹتی رہیں، مگر کسی نے یہ دریافت کرنے کی کوشش نہیں کہ یہ کہاں سے نکلتا ہے، کن کن مقامات سے گزرتا ہے۔

سترھویں صدی میں کوشش کی گئی کہ دریا کے نکلنے کی جگہ معلوم کی جائے تو معلوم ہوا کہ یہ دریا جھیل تانا سے نکلتا ہے، مگر اس کے کنارے کنارے کوئی چل نہ سکا، کیوں کہ یہ بڑے خطرناک پہاڑوں اور کھڈوں میں گزرتا ہے۔ دریا کے تیز پانی نے چٹانوں کو کچھ اس طرح کاٹا ہے کہ دونوں طرف دیواریں سی بن گئی ہیں اور ان چٹانی دیواروں پر سے کوئی گزر نہیں سکتا۔

اٹھارویں صدی میں یورپی سیاحوں نے افریقہ کے اندرونی علاقے دریافت کرنا شروع کیے۔ رچرڈ برٹن اور جان ہیننگ ٹن اسپیک 1857ء میں افریقہ کے مشرقی ساحل سے روانہ ہوئے۔ دشوار گزار راستوں، جنگلوں اور پہاڑوں سے گزرے، مچھروں کی وجہ سے ملیریا میں مبتلا ہوئے۔ برٹن اتنا بیمار ہوا کہ آگے نہ بڑھ سکا، مگر اسپیک چلتا رہا اور جھیل وکٹوریہ تک پہنچ گیا۔ اسپیک کے مطابق یہی جھیل دریا نیل کے نکلنے کی جگہ تھی، جس کو دنیا نے تسلیم کرلیا۔ یہ جھیل یوگنڈا میں ہے۔ کمپلا، یوگنڈا کا دارالحکومت ہے، جو اسی جھیل کے کنارے آباد ہے۔
دریائے نیل کے دہانے پر اسکندریہ کا شہر آباد ہے۔ اس کا نام سکندر اعظم کے نام پر ہے۔تیسرا بڑا شہر خرطوم ہے۔ خرطوم کے معنی “ہاتھی کی سونڈ” کے ہیں۔ یہ سوڈان کا دارالحکومت ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Main Bazar
Lahore