03/12/2025
Bamboo Handicraft
To Improve Your Life 🧬 💯
follow this Page 📃 💯
03/12/2025
جب سفر پر نکلیں اُن لوگوں سے کبھی مشورہ نہ لیں جو کبھی گھر سے نہ نکلے ہوں🍁
اندھے نکالتے ہیں چہرے سے
میرے نقص
بہروں کو شکایت ہے کہ غلط بولتا ھوں میں
03/08/2025
ایک بوڑھے شخص نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے کہا؛
"انسان کے اندر ہر وقت دو بھیڑیوں کے درمیان خوفناک جنگ جاری رہتی ہے۔ ان میں سے ایک بھیڑیا بدی کا ہے؛ یعنی؛ غصے، لالچ، حسد، غرور اور بزدلی کا۔جبکہ دوسرا بھیڑیا اچھائی کا ہے، یعنی؛ امن، محبت، حیا، سخاوت، ایمانداری، اور اعتماد کا۔یہ دونوں بھیڑیے انسان کے اندر مسلسل لڑتے رہتے ہیں۔
کچھ لمحے کے وقفے کے بعد لڑکے نے پوچھا،
تو ان میں سے فتح یاب کون ہوتا ہے۔؟
بزرگ مسکراتے ہوئے ؛ "جسے تم روز کھانا دیتے ہو"۔☺️
03/08/2025
چیلوں کی ایک ڈار سمندر پر اڑ رہی تھی کہ انہیں ایک جزیرہ نظر آیا. یہ جزیرے جنگل تھا لیکن یہاں کوئی جنگلی جانور نہیں تھا. ہر طرف ساحل پر چھوٹی سمندری مخلوق کی بہتات تھی جبکہ جنگل میں مینڈک تھے. چیلیں جزیرے پر اتر گئیں. ان کیلئے یہ کھلا دسترخوان تھا.
کچھ دن گزرے ایک عمر رسیدہ چیل نے کہا اب ہمیں یہاں سے چل دینا چاہئے. نوجوان چیلوں نے اسے حیرت سے دیکھا اور کہا کیا تم پاگل ہو.؟ یہاں ہر طرف خوراک ہی خوراک ہے. خطرہ ہمارے لئے کوئی نہیں ہم یہ جزیرہ کیوں چھوڑ کر جائیں گے.؟ بزرگ چیل نے کہا اسی لئے چھوڑ کر جائیں گے کیونکہ یہاں کوئی خطرہ نہیں خوراک آسان ہے. کچھ عرصہ بعد ہم اس تن آسانی میں اڑنا بھول جائیں گے. ہمارے جسم فربہ ہو جائیں گے. ہمارے پر ہمارا بوجھ اٹھا نہ پائیں گے.
نوجوان چیلوں کو یہ بات کسی طرح سمجھ نہیں آرہی تھی. ڈار ٹوٹ گئی بزرگ چیل واپس ساحل کی طرف چل پڑی. کچھ عرصہ بعد اس بزرگ چیل نے دوبارہ اس جزیرے کا سفر کیا. دیکھا تو وہاں چیلوں پر قیامت اتر چکی تھی. کسی سمندری جہاز نے پنجرے میں بند کچھ شیروں کو خوراک کی کمی کی وجہ سے اس جنگل میں آزاد کر دیا تھا.
اس جنگل کی چیلیں لیکن اڑنا بھول چکی تھیں انکا وزن زیادہ ہو گیا تھا. ہماری زندگی میں روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے مسائل اور آزمائشیں ہمیں چارج رکھتی ہیں. ہم کمفرٹ زون کا شکار نہیں ہوتے. ہم سہولیات اور آسانیوں میں اپنے اردگرد ایک کمفرٹ زون خود تخلیق کر لیتے ہیں. ہم سمجھتے ہیں اب کبھی کوئی خطرہ کوئی مشکل یا آزمائش ہمیں ڈھونڈ نہ پائے گی.
لیکن زندگی آزمائش ہے. کسی دن کوئی مسئلہ اچانک دائرہ توڑ کر ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے. ہمیں وہ مسئلہ ایک پہاڑ کی طرح لگتا ہے. یہ شیر کی طرح ہمیں ڈراتا ہے. مسئلہ کوئی بھی بڑا نہیں ہوتا بس ہم ہی اُڑنا اور مسائل سے لڑنا بھول چکے ہوتے ہیں.
03/08/2025
Most people give up because they don’t see results.
But bamboo teaches us a different truth.
For up to 5 years, particular bamboo species — like Chinese Moso Bamboo (Phyllostachys edulis) — show almost no growth above the soil.
No towering stalks. No dramatic change.
Just silent, unseen work underground.
During this time, the bamboo develops a vast and resilient root system, anchoring itself in preparation for the weight of what’s to come.
Then — in just a matter of weeks — it can grow up to 90 feet.
That’s up to 3 feet per day in the right conditions.
The world calls it sudden success.
But bamboo knows better.
It’s the outcome of discipline, patience, and deep foundations.
This is The Patience Principle:
When nothing seems to be happening —
That might be when the real work is being done.
Grow deep before you grow tall.
03/08/2025
جب سکندرِ اعظم نوجوان تھا اوراپنے استاد ارسطو سے تعلیم حاصل کر رہا تھا، تو ارسطو اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا:
"مجھ سے سوال کیا کرو، سوال سوچنا علم کی پہلی سیڑھی ہے۔"
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جب شاگرد سوال کرتے، تو ارسطو کبھی مکمل جواب نہیں دیتا، یا بات کو کسی اور طرف موڑ دیتا۔
یہ رویہ سکندر کو کھٹکتا رہا، حتیٰ کہ ایک رات اس نے ضبط کھو دیا۔
وہ غصے میں ارسطو کے خیمے میں آیا، جو مطالعے میں مصروف تھا، اور بلند آواز میں کہا:
"یہ کیسا طریقہ ہے؟ آپ سوال کرنے کا کہتے ہیں، لیکن جواب دینے سے کتراتے ہیں!"
ارسطو نے نہایت بردباری سے جواب دیا:
"میرا مقصد تمہیں معلومات دینا نہیں، سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر میں تمہیں ہر سوال کا حتمی جواب دے دوں، تو تم میری بات کو آخری سچ سمجھ کر اپنی تلاش روک دو گے۔
میرے جواب تمہارے تجسس کا دروازہ کھولنے کے لیے ہیں، بند کرنے کے لیے نہیں۔"
یہ واقعہ آج کے اساتذہ اور والدین دونوں کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔
جو استاد ہر بات کو صرف اپنی نظر سے دیکھنے پر مجبور کرے، وہ طالبعلم کی سوچ پر تالا لگا دیتا ہے۔
اصل معلم وہ ہوتا ہے جو شاگرد کے ذہن میں سوالات، امکانات اور جستجو کو زندہ رکھے۔
03/08/2025
ہاتھنی اور کتیا کا حمل
♦ ایک ہاتھنی اور ایک کتیا ایک ہی وقت میں حاملہ ہو گئیں۔
تین مہینے بعد کتیا نے چھ بچے جنے جبکہ ہاتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔ چھ مہینے بعد، کتیا دوبارہ حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد اس نے درجنوں بچے جنے، لیکن ہاتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔
یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور کتیا کے بارہ بچے ہو گئے جبکہ ہاتھنی ابھی تک حاملہ تھی۔
اٹھارہ مہینے بعد، کتیا نے ہاتھنی کے قریب جا کر اس سے پوچھا،
"کیا تمہیں یقین ہے کہ تم حاملہ ہو؟ ہم دونوں ایک ہی وقت میں حاملہ ہوئیں تھیں، میں تین بار دس دس بچے جن چکی ہوں اور وہ اب بڑے کتے بن گئے ہیں جبکہ تم ابھی تک حاملہ ہو، یہ کیا ماجرا ہے؟"
ہاتھنی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: "ایک بات جو میں تمہیں سمجھانا چاہتی ہوں۔
جو کچھ میں اپنے اندر پال رہی ہوں وہ کوئی کتا نہیں بلکہ ہاتھی ہے۔ میں دو سال بعد صرف ایک ہاتھی جنتی ہوں، جب میرا بچہ زمین پر قدم رکھے گا، تو زمین پر لرزش محسوس ہوگی۔
جب میرا بچہ سڑک پار کرے گا، تو لوگ چلنا چھوڑ دیں گے اور اسے تعریفی نظروں سے دیکھیں گے۔
جو کچھ میں پال رہی ہوں وہ ایسا وجود ہے جو سب کی توجہ کھینچے گا، جو کچھ میں پال رہی ہوں وہ عظیم اور بڑا ہے۔"
# خلاصہ:
✦ جب آپ دیکھیں کہ دوسرے لوگ جلدی جلدی اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں تو اپنا اعتماد نہ کھوئیں۔
✦ اگر آپ نے ابھی تک اپنی تمنائیں پوری نہیں کیں تو دوسروں سے حسد نہ کریں۔
✦ نہ مایوس ہوں اور نہ پریشان، اپنے آپ سے کہیں:
"میرا وقت آنے والا ہے، اور جب میرا مقصد ظاہر ہوگا تو لوگ اسے تعریفی نظروں سے دیکھیں گے۔۔۔
منقول
03/08/2025
نوکری، جاب اور بزنس —
آج کے دور میں ان تین الفاظ کو ایک جیسا سمجھا جاتا ہے —
حالانکہ نوکری، جاب اور بزنس تینوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف دنیائیں ہیں۔
⸻
1️⃣ نوکری (Nokari): نوکر بننا، خوشامد کرنا
اگر آپ نوکری کر رہے ہو، تو حقیقت یہ ہے کہ آپ نوکر ہو۔
اور نوکر کا اصل ہنر کیا ہوتا ہے؟
• باس کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملانا
• اپنی اصلی رائے چھپانا
• خوشامد کو “سکل” بنا لینا
• اور اپنے سروائیول کا سارا انحصار اسی چاپلوسی پر رکھنا
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو سچ بولنے، نئی سوچ دینے، یا رسک لینے سے ڈرتے ہیں۔
ان کے لیے “سکون” کا مطلب ہوتا ہے “خاموشی سے نوکری چلتی رہے”۔
⸻
2️⃣ جاب (Job): ہنر، عزت، اور ویلیو
جاب ایک سکل بیسڈ رول ہے۔
یہاں اگر آپ کو کام آتا ہے، تو آپ:
• کسی سسٹم یا بزنس کو فائدہ دیتے ہیں
• اپنی محنت، ایگو اور وژن کے ساتھ کام کرتے ہیں
• اور بدلے میں ویلیو اور پیسہ کماتے ہیں
ایک اچھا جاب ہولڈر وہ شخص ہوتا ہے جو کسی اور کے بزنس کو، ان کی انویسٹمنٹ اور رسک پر کارکردگی سے کامیاب بناتا ہے۔
اور یاد رکھو:
جو شخص کسی دوسرے کا بزنس چلا کر اسے فائدہ نہیں دے سکتا،
وہ اپنا بزنس کبھی نہیں چلا سکتا۔
⸻
3️⃣ بزنس (Business): سیکھنا، دینا، اور پھر چلانا
بزنس وہ مرحلہ ہے جہاں آپ:
• پہلے کسی اور کے سسٹم میں جاب کر کے سیکھتے ہو
• کسی اور کی انویسٹمنٹ، ٹیم اور رسک پر محنت کرتے ہو
• پھر جب آپ یہ سب کر کے ویلیو دینا سیکھ جاتے ہو
تو آپ کے پاس خود کا بزنس کرنے کا دماغ، تجربہ اور وژن آ جاتا ہے۔
بزنس یہ نہیں کہ کل کمپنی کھول لو، سوشل میڈیا پیج بنا لو اور CEO بن جاؤ۔
بزنس یہ ہے کہ آپ نے کسی کے ساتھ وفاداری سے کام کیا ہو،
کسی کی کمپنی کو grow کیا ہو،
اور وہاں سے سیکھا ہو کہ سسٹم کیسے بنتا اور چلتا ہے۔
⸻
• نوکری = خوشامد، چاپلوسی، سروائیول
• جاب = ہنر، سروس، عزت
• بزنس = سیکھ کر، ویلیو دے کر، خود کا سسٹم بنانا
اگر آپ میں جاب کی قابلیت نہیں، تو بزنس کا خواب صرف خواب ہی رہے گا۔
⸻
اپنا راستہ چننے سے پہلے یہ فرق سمجھو۔
نوکری آپ کو غلام بنا سکتی ہے، جاب آپ کو پروفیشنل بناتی ہے،
اور بزنس آپ کو لیڈر بناتا ہے —
مگر یہ سب ایک ترتیب سے ہوتے ہیں
25/07/2025
ایک بادشاہ نے تین بے گناہ افراد کو سزائے موت دی، بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ان تینوں کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا جہاں ایک بہت بڑا لکڑی کا تختہ تھا جس کے ساتھ پتھروں سے بنا ایک مینار اور مینار پر ایک بہت بڑا بھاری پتھر مضبوط رسے سے بندھا ہوا ایک چرخے پر جھول رہا تھا، رسے کو ایک طرف سے کھینچ کر جب چھوڑا جاتا تھا تو دوسری طرف بندھا ہوا پتھرا زور سے نیچے گرتا اور نیچے آنے والی کسی بھی چیز کو کچل کر رکھ دیتا تھا...!!!!
چنانچہ ان تینوں کو اس موت کے تختے کے ساتھ کھڑا کیا گیا، ان میں سے ایک
■ایک عالم
■ ایک وکیل
■ اور ایک فلسفی
تھا سب سے پہلے عالم کو اس تختہ پر عین پتھر گرنے کے مقام پر لٹایا گیا اور اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو عالم کہنے لگا میرا خدا پر پختہ یقین ہے وہی موت دے گا اور زندگی بخشے گا، بس اس کے سوا کچھ نہیں کہنا اس کے بعد رسے کو جیسے ہی کھولا تو پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور عالم کے سر کے اوپر آکر رک گیا، یہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے اور عالم کے پختہ یقین کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی اور رسہ واپس کھینچ لیا گیا...!!!!
اس کے بعد وکیل کی باری تھی اس کو بھی تختہ دار پر لٹا کر جب آخری خواہش پوچھی گئی تو وہ کہنے لگا میں حق اور سچ کا وکیل ہوں اور جیت ہمیشہ انصاف کی ہوتی ہے. یہاں بھی انصاف ہو گا اس کے بعد رسے کو دوبارہ کھولا گیا پھر پتھر پوری قوت سے نیچے آیا اور اس بار بھی وکیل کے سر پر پہنچ کر رک گیا، پھانسی دینے والے اس انصاف سے حیران رہ گئے اور وکیل کی جان بھی بچ گئی...!!!!
اس کے بعد فلسفی کی باری تھی اسے جب تختے پر لٹا کر آخری خواہش کا پوچھا گیا تو وہ کہنے لگا عالم کو تو نہ ہی خدا نے بچایا ہے اور نہ ہی وکیل کو اس کے انصاف نے، دراصل میں نے غور سے دیکھا ہے کہ رسے پر ایک جگہ گانٹھ ہے جو چرخی کے اوپر گھومنے میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے جس سے رسہ پورا کُھلتا نہیں اور پتھر پورا نیچے نہیں گرتا، فلسفی کی بات سُن کر سب نے رسے کو بغور دیکھا تو وہاں واقعی گانٹھ تھی انہوں نے جب وہ گانٹھ کھول کر رسہ آزاد کیا تو پتھر پوری قوت سے نیچے گرا اور فلسفی کا ذہین سر کچل کر رکھ دیا...!!!!
حکایت کا نتیجہ:
بعض اوقات بہت کچھ جانتے ہوئے بھی منہ بند رکھنا حکمت میں شمار ہوتا ہے💯. جیسے اجکل پاکستانی عوام
سوفٹویر اپڈیٹ ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔
16/07/2025
سکندرِ اعظم جب ارسطو کا شاگرد تھا، تو ارسطو اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا؛
"مجھ سے سوال پوچھا کرو۔"
مگر جب شاگرد سوال کرتے، تو وہ اکثر بات کو ٹال جاتا یا مکمل جواب نہیں دیتا۔
یہ بات سکندر کو بری لگتی تھی۔ ایک رات جب ارسطو اپنے مطالعے میں مصروف تھا، سکندر غصے سے اس کے خیمے میں جا گھسا اور کہا؛
"یہ کیا طریقہ ہے؟ ایک طرف سوال پوچھنے کی ترغیب دیتے ہو، اور دوسری طرف جواب نہیں دیتے"۔؟
ارسطو نے برہم سکندر کو تحمل سے جواب دیا؛
"میرا مقصد تمہارے ذہن میں سوالات پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر میں ہر سوال کا مکمل جواب دے دوں، تو تم میرے جواب کو حتمی مان کر اپنی تلاش، تجسس اور تحقیق کا دروازہ بند کر دو گے۔"
آج کے اساتذہ کے لیے اس میں بڑا سبق ہے۔
وہ استاد جو صرف اپنے جواب کو درست سمجھتا ہے، وہ دراصل شاگرد کے ذہن پر تالا لگا دیتا ہے۔
جیسے جیسے انسان میچور ہوتا جاتا وہ سمجھ جاتا کہ اپنے نکتے کو ثابت کرنے کی بجاۓ خاموش رہنا زیادہ اہم ہوتا ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Lahore