14/02/2022
ہمارا بھی ایک زمانہ تھا! ☺️
پانچویں جماعت تک ھم سلیٹ پر جو بھی لکھتے تھے اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرتے ، یوں کیلشیم کی کمی کبھی ہوئی ہی نہیں ۔😁
پاس یا فیل ۔۔ صرف یہی معلوم تھا، کیونکہ فیصد سے ہم لا تعلق تھے۔
ٹیوشن شرمناک بات تھی، نالائق بچے استاد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سمجھے جاتے۔🧐
کتابوں میں مور کا پنکھ رکھنے سے ھم ذہین، ہوشیار ھو جاینگے، یہ ھمارا اعتقاد بھروسہ تھا۔ 😜
بیگ میں کتابیں سلیقہ سے رکھنا سگھڑ پن اور با صلاحیت ہونے کا ثبوت تھا۔😊
ہر سال نئی جماعت کی کتابوں اور کاپیوں پر کورز چڑھانا ایک سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی۔
والدین ہمارے تعلیم کے تیئں زیادہ فکرمند نہ ہوا کرتے تھے اور نہ ہی ہماری تعلیم ان پر کوئی بوجھ تھی، سالہا سال ہمارے والدین ہمارے اسکول کی طرف رخ بھی نہیں کیا کرتے تھے، کیونکہ ہم میں ذہانت جو تھی۔🕵️
اسکول میں مار کھاتے ہوئے یا مرغا بنے ہوئے ہمارے درمیاں کبھی انا (ego) بیچ میں آنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوا۔ انا کیا ہوتی ہے یہی معلوم نہ تھا۔ مار کھانا ہمارے روزمرہ زندگی کی عام سی بات تھی ، مارنے والا اور مار کھانے والا دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہ ہوا کرتی تھی۔
ھم اپنے والدین سے کبھی نہ کہہ سکے کہ ہمیں ان سے کتنی محبت ہے ۔ نہ باپ ھمیں کہتا تھا ۔ کیونکہ I love you کہنا تب رائج نہ تھا اور ہمیں معلوم بھی نہ تھا،
کیونکہ تب محبتیں زبان سے ادا نہیں کی جاتی تھیں بلکہ ہُوا کرتی تھیں،
رشتوں میں بھی کوئی لگی بندھی نہیں ہوا کرتی تھی، بلکہ وہ خلوص اور محبت سے سرشار ہوا کرتے تھے۔😘🥰
سچائی یہی ھے کہ ھم یا ہماری عمر کے قریب سبھی افراد اپنی قسمت پر ہمیشہ راضی ہی رہے، ہمارا زمانہ خوش بختی کی علامت تھا ، اسکا موازنہ آج کی زندگی سے کر ہی نہیں سکتے!Rana Danish(ADA)
27/07/2021
اپنی وفات سے قبل، ایک والد نے اپنے بیٹے سے کہا،" میری یہ گھڑی میرے والد نے مجھے دی تھی۔ جو کہ اب 200 سال پرانی ہو چکی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ میں تمھیں دوں کسی سنار کے پاس اس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں۔ پھر دیکھو وہ اس کی کیا قیمت لگاتا ہے۔"
بیٹا سنار کے پاس گھڑی لے گیا۔ واپس آ کر اس نے اپنے والد کو بتایا کہ سنار اسکے 25 ہزار قیمت لگا رہا ہے، کیونکہ یہ بہت پرانی ہے۔
والد نے کہا کہ اب گروی رکھنے والے کے پاس جاؤ۔ بیٹا گروی رکھنے والوں کی دکان سے واپس آیا اور بتایا کہ گروی رکھنے والے اس کے 15 سو قیمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ استعمال شدہ ہے۔
اس پر والد نے بیٹے سے کہا کہ اب عجائب گھر جاؤ اور انہیں یہ گھڑی دکھاؤ۔ وہ عجائب گھر سے واپس آیا اور پرجوش انداز میں والد کو بتایا کہ عجائب گھر کے مہتمم نے اس گھڑی کے 8 کروڑ قیمت لگائی ہے کیونکہ یہ بہت نایاب ہے اور وہ اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
اس پر والد نے کہا،" میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صحیح جگہ پر ہی تمھاری صحیح قدر ہو گی۔ اگر تم غلط جگہ پر بے قدری کئے جاؤ تو غصہ مت ہونا۔ صرف وہی لوگ جو تمھاری قدر پہچانتے ہیں وہی تمھیں دل سے داد دینے والے بھی ہوں گے۔ اسلئے اپنی قدر پہچانو، اور ایسی جگہ پر مت رکنا جہاں تمھاری قدر پہچاننے والا نہیں۔"
Rana Danish Wakeel.
30/06/2021
انج نا رولا پا وے کاواں۔۔۔۔
مر گئے سارے چا وے کاواں۔۔۔
ساڈا کوئی نئیں جنے آؤنا۔۔۔۔
ایویں سر نا کھا وے کاواں۔۔۔
چوری شوری کھا پی لے توں۔۔۔
پھڑ لے اپنا راہ وے کاواں۔۔۔۔
❤️ جگر تے اگے ای پھٹ بڑے نے۔۔۔
ایویں آس نا لا وے کاواں۔۔۔۔
جے کسے نے واقعی آؤنا اے۔۔۔۔
چھیتی نال بلا وے کاواں۔۔۔۔
عزرائیل سرہانے کھلیا۔۔۔۔
رہ گئے تھوڑے ساہ وے کاواں۔۔۔
ناز نوں جاکے اینا آکھیں۔۔۔۔۔
مرن توں پہلاں آ،،وے کاواں۔۔۔۔۔✍✍ Danish Wakeel
26/06/2021
اے دوست بتا تو کیسا ہے
کیا اب بھی محلّہ ویسا ہے ؟
وہ لوگ پرانےکیسے ہیں ؟
کیا اب بھی وہاں سب رہتے ہیں ؟
جن کو میں تب چھوڑ گیا
دوکان تھی جوایک چھوٹی سی
کیا چیزیں اب بھی ہیں ملتی
کیا پاس کسی کے ہونے پر
مٹھائی بھی بانٹی جاتی ہے ؟
بارش کے پہلے قطرے پر
کیا ہلّہ گلّہ ہوتا ہے ؟
اور غم میں کسی کے اب بھی
کیا پورا محلّہ روتا ہے ؟
گلی کے کونے میں بیٹھے
کیا دنیا کی سیاست ہوتی ہے ؟
گڈے گڑیوں کی کیااب بھی
بچوں میں شادی ہوتی ہے ؟
اے دوست بتا سب کیسا ہے
کیا محلّہ اب بھی ویسا ہے ؟
کیا اب بھی شام کو سب سکھیاں
دن بھر کی کہانی کہتی ہیں ؟
خاموش ہےتو کیوں دوست میرے
کیوں سر کو جھکا کر روتا ہے ؟
ہلکے ہلکے لفظ دبا کر کہتا ہے
سب لوگ پرانے چلے گئے
سب ملک عدم کو لوٹ گئے
انجانوں کی بستی ہے وہ
اب لوٹ کے تو کیا جائے گا
دل تیرا بھر بھر آئے گا.🔥♥️
17/05/2021
Mujy Teri Nafrat se Nafrat Hy 🥺😔
12/05/2021
Reality of this world. & So called humanity
10/05/2021
(1) ایک محترمہ ٹیکسی ڈرائیور کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کررھی ھے حالانکہ پچھلی سیٹیں خالی ھیں!
(2) ایک شخص مسجد کے آگے سے گزررھاھے ، جب کہ لوگ نماز پڑھ رھے ھیں۔ اور وہ نماز ادا کیے بغیر آگے گزر جاتاھے!
(3) آپ ایک آدمی کے پاس سے گزرتے ھیں اور اسے سلام کرتے ھیں مگر وہ جواب نہیں دیتا!
.....................
(1) محترمہ، ٹیکسی چلانے والے کی اھلیہ ھیں۔
(2) اس آدمی نے دوسری مسجد میں نماز پڑھ لی ھے۔
(3) اس شخص نے آپ کے سلام کی آواز سنی ھی نہیں ھے
.........
ایک بزرگ فرماتے ھیں کہ اگر میں کسی بھائی کواس حال میں دیکھوں کہ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رھے ھیں تو میں یہی حسن ظن رکھوں گا کہ کسی اور نے اس کی داڑھی کے اوپر شراب انڈیلی ھے۔۔۔
اور اگر کسی بھائی کو پہاڑ کی چوٹی پر یہ پکارتے ھوئے سنوں: "انا ربکم الاعلی"(میں تمھارا عظیم ترین رب ھوں)... تو میں یہی گمان کروں گا کہ وہ قرآن کی تلاوت کررھاھے۔
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ھیں کہ انسان کے لیے خود اپنے اعمال کی نیتوں کو جاننا مشکل ھے اوروہ دسروں کی نیتوں کے بارے میں فیصلے صادر کرتا پھرتا ہے
اکثر دفعہ آپ معاملے کے صرف ایک رخ کو دیکھتے ھیں لہذا دوسرے رخ کو آپ مثبت طرح سے لیں. تاکہ لوگوں کے ساتھ زیادتی اور ان کی حق تلفی نہ ھو۔
دوسروں سے متعلق ھمیشہ نیک گمان رکھیں.....!!!
اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ اکثر گمان گناہ ہوتے ہیں۔
اس پر جب ہم اپنے گمان اور خیال کو الفاظ کا جامہ پہنا کر کسی دوسرے تک پہنچادیتے ہیں وہ صرف گمان بد کا گناہ ہی نہیں رہتا بلکہ غیبت یا بہتان جیسا کبیرہ گناہ بن جاتا ہے ۔
اللہ ہم سب کو معاف فرمائے آمین....
Reg: Rana Danish Wakeel❣️
10/05/2021
سونے کی خرید و فروخت کو سمجھنے کا حساب!
ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ھوتے ہیں
اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ھوتے ہیں
اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ھے 2 ماشے کٹوتی کرتا ھے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رھے تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا
نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داو کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا
آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے
ایک ماشے کی اندازہ قیمت 9000 روپے ھے آج کل
یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 27000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے
اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو 👇
ایک تولہ سونا 24 قیراط ھوتا ھے
پہلے آپ کو سمجھاتا ھوں کہ قیراط کس بلا کا نام ھے
#قیراط
قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کا معیار کا نام ھے۔
تقریبا سو فیصد خالص سونا 24 قیراط ھوتا ھے جتنے قیراط کم ھوں گے مطلب اتنی اس سونے میں ملاوٹ شامل ھے
ویسے یہ 99.99 ٪ خالص ہوتا ھے۔
12 قیراط مطلب 50 فیصد ملاوٹ اور 18 قیراط 75 فیصد خالص اور 25 فیصد ملاوٹ ھے۔
قیراط کمیت (وزن) کے پیمانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ھے
ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کا وزن عام طور پر قیراط میں ناپا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں اصل بات کی جانب کہ جب آپ سونا بنواتے / خریدتے ہیں تو
سنیارے عام طور پہ 15 یا 18 قیراط سونا بنا کے دیتے ہیں اور پاکستان میں چند ایک بڑے جیولرز کو چھوڑ کر کسی کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونا بنانے کی مشین نہیں ہیں
22 قیراط بس کراچی میں ایک 2 جیولرز بنا کے دیتے ہیں
اگر سنیارے نے آپ کو 18 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس نے سونے میں 25 فیصد ملاوٹ کی ھے
مطلب اگر ایک تولہ زیور بنا کر دیا ھے تو مثلا ایک تولہ ایک لاکھ کا ھے تو سنیارا آپ کو 75000 کا سونا دے کر ریٹ ایک لاکھ روپے لگا رھا ھے
اسی طرح اگر سنیارے نے آپ کو 21 قیراط زیور بنا کر دیا ھے تو اس کا مطلب یہ ھے کہ زیور آپ کو 87500 کا دے رھا جبکہ قیمت آپ کو 1 لاکھ سونے کی لگا رھا ھے
سیدھی سے بات ھے کہ ایک تولہ زیور ملاوٹ کر کے آپ کو بس 75000 سے 87500 کا دیں گے اور قیمت پورے تولے کی ایک لاکھ لگائیں گے
دوسرا داو ان کا پالش کے نام پہ ھوتا ھے ایک آدھ ماشہ الگ سے لگا لیں گے کہ اتنا ہمارا سونا زیور بناتے ھوئے ضائع ھو گیا ھے جس کی ایک تولے کے پینچھے قیمت 9000 سے 10000 ھو گی
یاد رھے کہ سنیارے کی دوکان کا کوڑا بھی لاکھوں میں بکتا ھے اور ان کا کچھ ضائع نہی ھوتا
آخر پہ انہوں نے مزدوری ڈالی ھوتی ھے
آپ کے بہت زیادہ اصرار پہ آپ کو مزدوری کا 2000 سے 4000 چھوڑ کر آپ پہ بہت بڑا احسان کریں گے اور کہیں گے آپ نے ہمیں بچنے کچھ نہی دیا اور یہ مزدوری بس آپ کو چھوڑ رھے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ہمارا دوسری یا تیسری نسل سے تعلق ھے بلا بلا بلا بلا
سونا بیچتے وقت سونے کی ڈلی بنوائیں (وہ بھی اعتماد والے بندے سے ۔ رعایت خیر وہ بھی نہی کرتا) مطلب ملاوٹ نکال دی جاتی ھے اور خالص 24 قیراط سونا رہ جاتا ھے
پھر اس ڈلی یعنی خالص 24 قیراط سونے کو اس دن کے سرکاری ریٹ پہ بیچیں
ورنہ آپ کو بہت بڑا چونا لگ جائے گا
زیور بنواتے وقت پہلے طے کریں کہ سونا 21 قیراط بناو گے 18 یا 15
جتنا خالص وہ سونا بنائے اس حساب سے 15، 18 یا 21 قیراط کے مطابق قیمت دیں نا کہ 24 قیراط کی قیمت ادا کریں
ساتھ دھمکی دیں کہ میں ابھی اسی مشین پہ چیک بھی کرواوں گا کہ یہ 15، 18 ھے یا 21 قیراط
اور وقت یا سہولت میسر ھو تو اس کو مشین پہ چیک بھی کروا لیں کے کتنے قیراط بنا اور آپ نے کتنے قیراط کے حساب سے قیمت ادا کی
میری ان سب باتوں سے ھو سکتا میرے چند دوست ناراض ھوں لیکن میرا بتانا فرض تھا تاکہ لوگ Educate ھوں
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے سارے انگلیاں برابر نہی چند ایک اچھا کاروبار کرنے والے بھی ھوں گے لیکن میرے خیال میں ان کی تعداد شاید 1 فیصد سے زیادہ نا ھو۔۔
Rana Danish Wakeel❣️
09/05/2021
MAA baap ki khidmat sab se pehly.. ek Anmol waqiya
بوڑھى ماں کى خدمت حضرتِ اویس قرنی رضی اللہ عنہ آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے دیدار سے روکے ہوئے تھى ۔
ادھر حضور یمن کى طرف رُخ کر کے کہا کرتے تھے کے مجھے یمن سے اپنے یار کى خوشبو آ رہی ہے ایک صحابی نے کہا حضور آپ اُس سے اتنا پیار کرتے ہیں اور وہ ہے کہ آپ سے ملنے بھى نہیں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اُس کى بوڑھى اور نابینا ماں ہے جس کی اویس بہت خدمت کرتا ہے اور اپنی بوڑھی ماں کو وہ تنہا چھوڑ کر نہیں آ سکتا۔
آپ ﷺ نے حضرت عمرؓ اورحضرت علیؓ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے دورمیں ایک شخص آئے گا جس کا نام ہو گا اویس بن عامر، قد ہو گا درمیانہ، رنگ ہو گا کالا، اور جسم پر ایک سفید داغ ہو گا۔ جب وہ آئے توتم دونوں نے اس سے دعا کرانا کیونکہ اویس نے ماں کی ایسی خدمت کی ہے جب بھی وہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ اس کی دعا کبھی رد نہیں کرتا۔
حضرت عمر دس سال خلیفہ رہے اور ہر سال حج کرتے ہر حضرت اویس قرنی کو تلاش کرتے لیکن انہیں اویس نہ ملتے۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے سارے حاجیوں کو میدان عرفات میں اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہو جائیں پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور صرف یمن والے کھڑے رہے۔ پھر کہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صرف قبیلہ مراد کھڑا رہے پھر کہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو صرف ایک آدمی بچا اورحضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہا ہاں میں قرنی ہوں توحضرت عمر نے کہا کہ اویس کوجانتے ہو؟ تو اس شخص نے کہا کہ ہاں جانتا ہوں وہ تو میرے سگے بھائی کا بیٹا ہے۔ آپ نے پوچھا کہ اویس ہے کدھر؟ تو اس شخص نے کہا کہ وہ عرفات گیا ہے اونٹ چرانے، آ پ نے حضرت علی ؓ کو ساتھ لیا اورعرفات کی طرف دوڑ لگائی جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اویس قرنی درخت کے نیچے نمازپڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں۔ آپ دونوں آکربیٹھ گئے اور حضرت اویس قرنی کی نمازختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ جب حضرت اویس نے سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی؟تو حضرت اویس قرنی نے کہا میں اللہ کا بندہ، تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ سارے ہی اللہ کے بندے ہیں لیکن تمھارا نام کیا ہے؟ تو حضرت اویس نے کہا کہ آپ کون ہیں؟ حضرت علی ؓ نے کہا کہ یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اورمیں علی بن ابی طالب ہوں۔
حضرت اویس کایہ سننا تھا کہ وہ تھرتھر کانپنے لگے اور کہا کہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں نے آپ کوپہچانا نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ حج پر آیا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ تم اویس ہو؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں ہی اویس ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعاکر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں؟ آپ لوگ سردار اور میں نوکر آپ کا اور میں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں؟ توحضرت عمرنے کہا کہ ہاں اللہ کے نبی ؐ کا حکم تھا کہ اویس جب بھی آئے تو اس سے دعا کروانا۔ پھر حضرت اویس قرنی نے دونوں کے لیے دعا کی۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو اس وقت حضرت اویس قرنی ؓ پریشان ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ اے خدا آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیا گیا تو اللہ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھو جب پیچھے دیکھیں گے توپیچھے کروڑوں اربوں کے تعداد میں جہنمی کھڑے ہوں گےتو اس وقت خدا فرمائیں گے کہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیا ہے’’ ماں کی خدمت‘‘تو انگلی کا اشارہ کرجدھرجدھرتیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کرتا جاوں گا۔ (حیات صحابہ)
Rana Danish Wakeel❣️