Assalam o alaikum
- "Learn Quran from the comfort of your own home! Join our online academy and start your spiritual journey today!
Rfqtaqadri
● R.H.F Online Quran Academy International
فتویٰ فکری آزادی کا درس دیتا ہے اسلاف کی کتب سے علم سیکھیں لیکن ان کی سطور کے قیدی بن کر نہ رہ جائیں اگر وہ سابقین کے فتووں میں قید ہو کر رہ جاتے تو کبھی بھی اس طرح علم کی دنیا آباد نہیں کر سکتے تھے جو پہلے زمانے کی لکھی ہوئی سطور سے باہر آنے کو تیار نہیں اسے آنے والا زمانہ قبول کرنے کو تیار نہیں
25/01/2024
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بروز قیامت ان کو علی علیہ السلام کی شفاعت نصیب ہوگی لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ محبت عدمِ معرفت کسی کام کی نہیں
25/01/2024
08/09/2023
● R.H.F Online Quran Academy International
-to-ONE classes
with High Qualified Male & Female Teacher for everyone of all ages
number
+923070325458
+923477577847
Three (3) days : Free Trial
Duration : Thirty (30) minutes
Reading
-e- Quran
Courses
'at Quran course
-u- Rasool course
Muhammad (PBUH) course
Recitation course
Translation course
course
01/05/2023
یتیم بچوں میں احساس کمتری کی وجوہات
Part # 01
یتیم کسے کہتے ہیں؟
ہر وہ نابالغ بچہ یا بچی جس کا باپ فوت ہو جائے وہ یتیم ہے۔(دُرِّمختار مع رد المحتار،ج 10،ص416)
جیسے ہی بچہ بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو یتیم نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ خود اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہوجاتا ہے
اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک باپ سلامت رہتا ہے اس وقت تک وہ اپنے بچوں کے لیے بہترین محافظ، نگران، شفیق استاذ اور ایک درخت کی طرح سائہ فگن رہتا ہے لیکن جیسے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو اپنے اور پرائے سبھی اس کی اولاد سے منہ موڑ لیتے ہیں لوگ ان کو حقیر جاننے لگتے ہیں اگر اس کی کوئی وراثت ہو تو اس کو کو ہڑپ کرنے کے لیے منصوبہ بندی شروع ہوجاتی ہے
جن بچوں کے والدین ان کے پچپن میں ہی وفات پا جاتے ہیں وہ بچے خاموش طبیعت کے مالک بن جاتے ہیں، وہ کسی سے ضد نہیں کرتے کیونکہ ضد ہمیشہ والدین سے ہی کی جاتی ہے کسی بات پہ اسرار نہیں کرتے کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ اسرار صرف والدین ہی برداشت کرتے ہیں، اپنی خواہشات کو دل میں ہی دفن کرنا سیکھ لیتے ہیں،
میں ایسے کئی یتیم بچوں کو جانتا ہوں جو دل ہی دل میں والدین کی جدائی کا سوگ مناتے رہتے ہیں وہ بچے بہت جلد ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، ان بچوں میں احساس کمتری کا شرح زیادہ ہوتی ہے
اہل علم کہتے ہیں کہ "بچے ہمیشہ پیار کے بھوکے ہوتے ہیں" جب بچوں سے والدین کا پیار چھن جاتا ہے تو ہمارے معاشرے کی نگاہ میں وہ بچہ حقیر بن جاتا ہے ہمارے امراء ان بچوں کو پالنے کے بہانے اپنے گھروں میں رکھ لیتے ہیں دن بھر ان سے گھر کے کام کاج کرواتے ہیں دو وقت کا کھانا دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے یتیم کے سر پر بہت بڑا احسان کر دیا
لیکن حقیقت بلکل اس کے بر عکس ہے جب یتیم بچہ ان کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہے تو ان کے اپنے بچے کھیل کود کر رہے ہوتے ہیں انہیں کھیلتے ہوئے دیکھ کر وہ سوچتا ہے کہ اگر میرے والدین زندہ ہوتے تو میں بھی اسی طرح کھیلتا اپنے بچوں کو اچھا کھلانا، اچھا پہنانا اور یتیم بچے کو اپنے پچوں کے پھٹے پرانے کپڑے پہنا دینا، اس طرح کے مختلف طریقوں سے ہمارے امراء بالواسطہ اس کو احساس کمتری کا شکار کر رہے ہوتے ہیں فرض کریں کہ اگر اس بچے کے والدین زندہ ہوتے تو کیا وہ اسی طرح اس سے کام لیتے؟
کیا ان کے گھر کے چھوٹے موٹے کام نہ ہوتے؟
اگر وہ بچہ یتیم بن کر ان کے گھر نہ آتا تو کیا ان کے گھر کا نظام نہ چلتا؟
یہ سب سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے اگر دل میں کچھ احساس پیدا ہو ان کو اپنی اولاد سمجھ کر ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے ، اس کو معاشرے کا ایک اچھا شہری بنایا جائے تو مجھے نہیں لگتا کہ ان پہ کوئی قیامت ٹوٹ پڑے گی
ہم اپنے بچے سے ایک گلاس کو ادھر سے ادھر کروانا مناسب نہیں سمجھتے اور اس یتیم سے سارا دن گھر کے کام کروا کر دو وقت کا کھانا کھلا کر کہتے ہیں کہ ہم نے یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھا ہے، ہم نے اس معصوم یتیم پہ بہت بڑا احسان کر دیا ہے
اس احسان سے تو بہتر تھا کہ تم احسان نہ ہی کرتے
متعدد قرآنی آیات اور احادیث یتیموں کے ساتھ احسان پہ دلالت کرتی ہیں ہم اختصار کی غرض سے چند ایک عرض کرتے ہیں
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡـئًـا ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا ۞ (سورۃ النساء آیةنمبر 36)
ترجمہ:
"اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبرّ کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بین) ہو"
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے معاً بعد والدین، رشتہ داروں کے ساتھ ہی یتیموں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم ارشاد فرمایا
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق فرمایا جسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بیان فرمایا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ، بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ، وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ، بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ.(سنن ابن ماجہ، رقم 3679)
ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم (پرورش پاتا) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو. "
کتاب و سنت سے یہ بات تو واضح ہے کہ یتیم کے ساتھ حسن سلوک اور خیر کا معاملہ کیا جائے اگر کوئی یتیم کے سر پہ پیار اور شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیرتا ہے تو جتنے بال اس کے ہاتھ کے نیچے آتے ہیں اس کے اتنے ہی گناہ معاف ہوجاتے ہیں. لیکن ہم نے احسان، محبت اور شفقت کا یہ معنی لے لیا کہ گھر کے کام کاج کرواؤ دو وقت کی روٹی دو اور جنت کے حقدار بن جاؤ گے
"ازقلم رفاقت علی القادری"
13/04/2023
سب بتائیں.......؟
جو حضرات آن لائن قرآن پاک پڑھانا چاہتے ہیں وہ رابطہ فرمائیں
ہمیں ان لائن قرآن پاک پڑھانے کے لیے حفاظ کرام کی ضروت ہے
05/11/2022
● R.H.F Online Quran Academy International
-to-ONE classes
with High Qualified Teacher for everyone of all ages
Three (3) days : Free Trial
Duration : Thirty (30) minutes
Reading
-e- Quran
Courses
'at Quran course
-u- Rasool course
Muhammad (PBUH) course
Recitation course
Translation course
course
Content No : +923124567918
+923070325458
05/11/2022
https://chat.whatsapp.com/D5bdQjlMjEK6GpKaRidBRP
QURAN ACADEMY ONLINE WhatsApp Group Invite
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Lahore