20/03/2024
روشنی کی رفتار سے سفر کیون ممکن نہیں؟
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
فرض کریں آپ موٹروے پر گاڑی میں جا رہے ہیں اور اچانک سے ایک چھوٹا سا پتھر اُڑ کر آپکی ونڈ سکرین سے ٹکرائے۔ اس سے آپکی ونڈ سکرین ٹوٹ سکتی ہے۔ حالانکہ گاڑی زیادہ سے زیادہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے چل رہی ہے۔
اب فرض کریں آپ ایک جہاز میں جا رہے ہوں جسکی رفتار 800 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو اور اس سے کوئی پرندہ ٹکرا جائے۔ گو جہازوں کو ایسے بنایا جاتا ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں نقصان کے اندیشے کے باعث وہ بحفاظت لینڈ کر سکیں۔ مگر پھر بھی اس طرح کے واقعات سے جہاز کو اچھا خاصہ نقصان پہنچتا ہے۔
اب فرض کریں آپ تیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہے ہوں۔ جو روشنی کی رفتار یعنی تین لاکھ کلومیٹر فی سکینڈ کا محض کچھ فیصد ہو اور اچانک سے کوئی ایک ہلکا سا پر آپ سے ٹکرا جائے تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپکا کیا حشر ہو گا؟
انسانوں کا کسی خلائی مشن میں اب تک کا سب سے تیز رفتاری کا ریکارڈ 1969 میں اپالو 10 مشن کا تھا جس میں خلاباز تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے راکٹ میں زمین پر آئے۔
ناسا ہر ممکنا کوشش کرتا ہے کہ اسکے راکٹ لانچ کی سائٹ کے پاس کوئی پرندہ نہ پھٹکے۔ ورنہ راکٹ کی تباہی نوشتۂ دیوار ہو گی۔ اب فرض کریں کہ آپ روشنی کی رفتار سے آدھی رفتار سے سپیس شپ میں جا رہے ہوں۔ تو کیا ہو گا؟
آپکے پرخچے اُڑ جائیں گے۔ خلا میں موجود ایٹم کے ذرات آپکے سپیس شپ میں چھید کر دیں گے۔ اندر جا کر ریڈیشن پھیلائیں گے اور سپیس شپ کا درجہ حرارت اس قدر بڑھا دیں گے کہ آپ اورسپیس شپ دونوں پگھل جائیں گے۔
لہذا روشنی کی رفتار کے محض آدھی رفتار پر بھی آپ اگر سفر کریں تو یہ آپکا سفرِ آخرت ہو گا۔
ایک اور بات اگر آپ سائنس کو سمجھنا شروع کر دیں تو جان جائیں گے کہ روشنی کی رفتار سے کسی مادی شے کا سفر ہر گز ممکن نہیں جسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روشنی کی رفتار تک جانے کے لیے آپکو اس کائنات کی کُل توانائی سے بھی زیادہ توانائی چاہئیے یعنی لامحدود توانائی۔