19/12/2025
PIA Housing Society Lahore
one of good living
19/12/2025
💞
سیٹھ ''بھولا بھالا'' کی انکم ٹیکس ریٹرن پڑھتے ہوئے اچانک میں چونک گیا، جس پر لکھا تھا'' کتوں کا کھانا 75000 روپے''۔ تین دن کی مغز ماری کے بعد یہ پہلا نکتہ تھا جس پر میں نے سیٹھ جی کی ٹیکس چوری پکڑ ہی لی، نہ جانے لوگ ٹیکس بچانے کے لیئے کیسے کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں؟ اللہ معاف فرمائے۔
اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ ٹیکس چور مجھ سے کیسے بچ پاتا ہے؟ چنانچہ اگلے ہی دن میں نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کرلیا،
سیٹھ صاحب تشریف لائے تو میں نے انہیں ٹیکس کی اہمیت، ملک و قوم کے لیئے اسکی ضرورت اور ایمانداری کے موضوع پر ایک سیر حاصل لیکچر پلا دیا، وہ خاموشی سے سنتا رہا، نہ ہوں نہ ہاں، مجھے اسکا رویہ دیکھ کر مزید غصہ آگیا اور اسے کتوں کے کھانے کے بارے میں بتا کر مزید شرمندہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہا،
آخر کار میں خاموش ہوکر سیٹھ بھولا بھالا کی طرف دیکھنے لگا، وہ مسکرایا اور کہنے لگا،، صاحب،، آپ افسر ہو حکم کرو ہم کیا کر سکتے ہیں آپکے لیئے؟،،،
میں زیر لب مسکرایا کہ اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے، چنانچہ میں نے نہائت عیاری کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا،،،، سیٹھ جی،، کیا آپ ایک ''ذمہ دار'' انکم ٹیکس آفیسر کو رشوت کی پیش کش کررہے ہیں؟
ارے نہیں صاحب میں نے کب کہا کہ میں رشوت دوں گا؟
میں نے زندگی میں آج تک رشوت نہیں دی بلکہ کارباری ڈیلیں کی ہیں، آپ بھی اسے ایک بزنس ڈیل سمجھ سکتے ہیں،
وہ کیسے سیٹھ جی،،، میں نے پوچھا،،
سیٹھ نے ہولے سے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بھابی اور بچوں کے لیئے میری طرف سے بھوربن مری میں سیر اور شاپنگ کا ''پیکیج'' قبول فرمائیں تمام خرچ میرے ذمہ ہوگا اور اس عرصہ میں ایک گاڑی بھی انکے استعمال میں رہے گی جسکا انتظام بھی میں ہی کروں گا،
تھوڑی سی رد و قدح کے بعد میں نے اس پیکیج کی منطوری دے دی اور سیٹھ کے جاتے ہی بیگم کو فون کرکے اس ڈیل کے بارے میں بتایا،
ایک سال کا وقت گزر گیا اور میں بھی سیٹھ بھولا بھالا کو بھول گیا، آخر ایک دن سیٹھ کی انکم ٹیکس ریٹرن پھر میری میز پر تھی،،،
میں نے غور سے اسے پڑھا تو ایک صفحے پر لکھا تھا،،،
''کتوں کو بھوربن کی سیر کروائی'' خرچ ایک لاکھ۔۔۔
مجھے یوں لگا کہ میرا سر گھوم رہا ہے اور ائیر کنڈیشنڈ فل اسپیڈ پر چلنے کے باوجود میرا جسم پسینے میں نہا گیا ہے، میں نے چپڑاسی کو بلا کر ایک گلاس ٹھندا پانی منگوایا اور ایک ہی سانس میں اسے خالی کردیا...😷😤😥
غلامی کی چھٹیاں
آصف محمود | ترکش | روزنامہ 92 نیوز
جب سردیاں آتی ہیں تو سردیوں کی چھٹیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ہم سردیوں کی چھٹیاں بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن ہم یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ ہم سردیوں کی چھٹیاں سردی کا زور پڑھنے سے پہلے کیوں کرتے ہیں؟
کمپنی بہادر (ایسٹ انڈیا کمپنی) بھی قصہ ماضی ہو گئی اور بر صغیر میں برطانوی راج بھی ختم ہو گیا لیکن ہم ایک وفادار رعایا کی طرح نو آبادیاتی آقائوں کے بندو بست پر اندھے، بہرے اور گونگے ہو کر یوں عمل پیرا ہیں گویاہمیں یہ خوف ہو کہ ہم نے اس نو آبادیاتی بندوبست میں کوئی تبدیلی کر لی تو ہمیں عبور دریائے شور کی سزا سنا دی جائے گی۔
سردیوں کی جو چھٹیاں ہمارے ہاں تبرک سمجھ کر ’ عین وقت پر‘ کی جا تی ہیں یہ یہ اصل میں نو آبادیاتی چھٹیاں ہیں۔ یہ مقامی تعطیلات نہیں ہیں ، یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی چھٹیاں ہیں۔
ان کا آغاز 1843 میں بمبئی ریزیڈنسی سے اس وقت کے برٹش گورنر جارج آرتھر کے حکم پر ہوا۔
یہ صاحب یہاں گورنر تعینات ہوئے تو یہ کمپنی بہادر کے اقتدار کی شروعات تھیں۔ ہندوستان ابھی ان کے زیر تسلط نہیں آیا تھا مگر اس کے ابتدائی نقوش واضح ہونا شروع ہو گئے تھے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی ان چھٹیوں کا سردیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ برطانیہ سے بر صغیر آنے والے اہلکاروں کے لیے یہاں کی مقامی سردی سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھی۔وہ سرد علاقے سے آئے تھے اور ہندوستان کی سردی ایسی نہ تھی کہ وہ اس سے گھبرا کر چھٹیاں کرنے پر مجبور ہوتے۔ مسئلہ کچھ اور تھا۔
برطانوی افسران کی سال کے آخر میں دو مصروفیات ہوتی تھیں۔ ایک کرسمس اور دوسری نئے سال کی۔ چنانچہ گورنر جارج آرتھر نے حکم دیا کہ چھٹیاں اس طرح سے کی جائیں کہ دونوں تقاریب کا آرام اور سکون سے انعقاد ممکن ہو سکے۔چنانچہ یہ چھٹیاں 23 دسمبر سے شرع ہوتیں تا کہ کرسمس کی تیاری کے لئے بھی ایک آدھ دن مل جائے اور یہ چھٹیاں یکم جنوری تک ہوتیں تا کہ ’ ہیپی نیو ایئر ‘ بھی منایا جا سکے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی ختم ہو گئی ، برطانوی اقتدار بھی قصہ ماضی ہو گیا۔ نئے ملک بن گئے۔ پاکستان نام کا ایک آزاد ملک وجود میں آ گیا لیکن ہماری افسر شاہی آج بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے پونے دو سو سال پرانے ضابطے پر صدق دل سے عمل پیرا ہے۔دسمبر کے آخری ہفتے میں سردی ہو یا نہ ہو چھٹیاں ہم نے جارج آرٹھر کے فارمولے کے تحت ہی کرنی ہیں۔
چنانچہ جب’’سردیوں کی ‘‘چھٹیاں ختم ہو جاتی ہیں تو سردیاں آ جاتی ہیں اور جب سردیاں آ جاتی ہیں تو افسر شاہی ایک نیا حکم نامہ جاری کر دیتی ہے کہ چونکہ اب سچ مچ کی سردی آ گئی ہے اس لیے ہم چھٹیوںمیں اضافہ کر رہے ہیں۔
لیکن یہ اضافے والی گستاخی بھی ہر جگہ نہیں ہو پاتی۔ چنانچہ پنجاب میں تو تعطیلات میں اضافہ کر دیا گیا لیکن سوات وغیرہ میں چھٹیوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ بچوں کے والدین احتجاج اور مطالبہ کرتے رہ گئے کہ سردی شدید ہے اس لیے بچوں کی چھٹیوں میں اضافہ کیا جائے لیکن بیوروکریسی نے زبان حال سے جواب دیاکہ تمہارے بچے یخ بستہ سکولوں میں ہیٹر سے محروم ماحول میں بیمار ہوتے ہیں تو ہماری جانے بلا ، چھٹیاں تو ہم نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سر جارج آرتھر صاحب بہادر کے فارمولے کے تحت ہی کرنی ہیں۔
یہی معاملہ گرمیوں کی چھٹیوں کا ہے۔یہاں کی گرمی انگریز افسر شاہی کے لیے تکلیف دہ ہوتی تھی۔بیوروکریسی میں بھی انگریز تھے اور جج تو قریب سارے ہی انگریز تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ہم اس گرمی میں یہاں کام نہیںکر سکتے۔چنانچہ کمپنی بہادر نے ان کے لیے گرمیوں کی چھٹیاں تجویز کر دیں۔
اب معاملہ یہ تھا کہ برطانوی ججز کو گرمی کی چھٹیوں میں برطانیہ جانا اور واپس آنا پڑتا اور یہ دورانیہ ظاہر ہے کہ طویل ہوتا۔بحری جہاز سے آنے جانے میں کافی وقت لگتا ۔ تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہ فیصلہ کیا کہ انہیں تین ماہ کی چھٹیاں دی جائیں تاکہ ایک ڈیڑھ ماہ آنے جانے میں لگ جائے اورایک ڈیڑھ ماہ وہ برطانیہ میں قیام کر سکیں۔
گرمیوں کی تعطیلات کا یہ دورانیہ بعد میں پاکستان میں بھی نافذ العمل ہو گیا اور اعلی عدلیہ میں تعطیلات دو تین ماہ ہی ہوتی ہیں۔ اگر چہ ان تعطیلات میں عدالت بالکل بند تو نہیں ہوتی لیکن بہر حال چھٹیوں کا دورانیہ یہی ہوتا ہے۔
بچوں کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات سمجھ میں آتی ہیں لیکن جہاں دفاتر میں اور حتی کہ راہ داریوں میں بھی ائر کنڈیشن کام کرتے ہوں وہاں ان نو آبادیاتی تعطیلات کا کوئی جواب سمجھ سے باہر ہے۔
ہمیں سوچنا ہو گا کہ تعطیلات کو اپنے مقامی تقاضوں ا ور ضروریات سے ہم آہنگ کریں۔ ضروری نہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے آج سے ڈیڑھ پونے دو سو سال قبل جو کر دیا اسی کو معیار حق اور آخری آفاقی صداقت سمجھ کر قبول کر لیا جائے۔
ہمیں نو آبادیاتی دور کی اس نفسیاتی گرہ کو کھولنا ہو گا۔ ہم ایسٹ انڈیا کمپنی کی رعایا نہی ہیں۔ اب ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں۔ نو آبادیاتی دور کی کوئی چیز اگر ہمیں درست لگتی ہے تو اس کو باقی رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن کسی چیز کو محض اس لیے غلامی کا طوق بنا کر گلے میں ڈال لینا کوئی دانش مندی نہیں کہ یہ کمپنی بہادر کا ورثہ ہے۔
برطانوی نو آبادیاتی دور میں جہاں ہمیں غلامی کے آداب سکھانے کے لیے ’’ انگلش ایٹی کیٹس فار انڈین جنٹلمن‘‘ جیسی کتابیں لکھی گئیں وہیں ان آداب غلامی پر مکمل دل جمعی سے عمل پیرا ہونے والی رعایا کے لیے ’’ اچھے مسلمان‘‘ کی اصطلاح وضع کی گئی۔برطانوی راج ختم ہو گیا لیکن ہمارے فیصلہ سازوں میں آج بھی’’ سلطنت برطانیہ کا وفادار اور اچھا مسلمان ‘‘ بننے کا گویا ایک مقابلہ سا جاری ہے۔
اس تماشے کو اب ختم ہونا چاہیے۔اب ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں۔ قانون سے سے کر انتظامی معاملات تک ہم انہی روایات کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں جو برطانوی نو آبادیاتی دور میں ہم پر مسلط کی گئیں۔ ایسی خود سپردگی کا تو شاید خود برطانیہ نے تصور نہیں کیا ہو گا۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنی تہذیبی روایات سے جڑنے کی بات کرتا ہے تو اسے قدامت پسند ی کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن ادھر یہ حال ہے کہ سوچے سمجھے بغیر برطانوی نو آبادیاتی دور کی روایات پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جا رہا ہے۔بدلنا تو دور کی بات ہے کوئی اس پر بات تک نہیں کرتا کہ افسر شاہی ہمیں کس غلامی کے ڈنڈے سے ہانک رہی ہے۔
ایک آزاد ملک کو یہ رویہ زیب نہیں دیتا۔ پاکستان میں ہر سطح پر اس احساس کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ ہماری فیصلہ سازی کمپنی بہادر کی روایات کے مطابق نہیں ہونی چاہیے بلکہ فیصلہ سازی کا تعین ہماری مقامی ضروریات اور تہذیبی رووایات کی روشنی میں ہونا چاہیے۔
وارفتگی کا عالم یہ ہے کہ جارج آرتھر کی چھٹیاں تو پوری کی پوری دی جاتی ہے لیکن عید الفطر اور عید الاضحی پر صرف دو تین چھٹیاں دی جاتی ہیں۔غلامی اور کسے کہتے ہیں؟
(یہ کالم هفته 07 جنوری 2023ء
کو شائع ہوا تھا)
*سچ پوچھیں تو ہم ایک ڈری ہوٸی اور سہمی ہوٸی سوساٸٹی کا حصہ ہیں۔ ہمارے ماں باپ، اساتذہ حتیٰ کہ ہمارے دوستوں کی کثیر تعداد کا زیادہ وقت ہمیں ڈرانے اور اعتماد چُرانے میں گزر جاتا ہے۔ ہمیں دن کے کثیر حصے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہم کیا نہیں کرسکتے یا ہمیں کیا نہیں کرنا چاہیے۔*
( "آٸی ایم پاسیبل" کا اقتباس)
SIX LAWS OF MATURITY:
1. Stop Telling People Everything
Most people don't care, and some secretly want you to fail.
2. Choose Your Friends Wisely
The fastest way to become better is to surround yourself with better people.
3. Expect Nothing, Appreciate Everything
Be grateful for the little things in your life to find inner peace.
4. Do Your Best And Trust The Process
The harder you work, the luckier you will get.
5. Control Yourself, Not Others
Controlling others is strength. Controlling yourself is true power.
6. Learn To React Less
When you control your reaction, nobody can manipulate you.
01/01/2024
1960s
Karachi & Dubai Airports
سورت الحجرات کا آسان زندگی گزارنے کا ۹ نکاتی ایجنڈآ
آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں قران حكيم كى یہ 9 باتیں ، کاش ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!!
1- فتبينوا:
کوئی بھی بات سن کر پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔
2 - فأصلحوا:
دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
3- وأقسطوا:
ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
4 - لا يسخر:
کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔
5 - ولا تلمزوا:
کسی کو بے عزّت مت کرو۔
6- ولا تنابزوا:
لوگوں کو برے القابات
(الٹے ناموں) سے مت پکارو.
7- اجتنبوا كثيرا من الظن:
برا گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
8 - ولا تجسَّسُوا:
ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔
9- ولا يغتب بعضكم بعضا:
تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔
(سورہ الحجرات)
الله کریم اخلاص کیساتھ عمل کرنے کی تو فیق دے۔
آمین یارب العامین ۔
اور آپ ان (باتوں) پر صبر کریں جو کچھ وہ (کفار) کہتے ہیں، اور نہایت خوبصورتی کے ساتھ ان سے کنارہ کش ہو جائیں۔
(الْمُزَّمِّل - Al-Muzzammil [73 10])
07/10/2023
"اسٹیو جابز ایک ارب پتی کے طور پر وفات پاگئے، IPhone اس کی ہی ایجاد ہیں ۔7 ارب ڈالر کے سرمایے کے ساتھ، 56 سال کی عمر میں پینکریاس کینسر کی وجہ سے،
اور یہاں کچھ اس کے آخری الفاظ ہیں...
"اس وقت، بستر میں لیٹ کر، بیمار ہوکر اپنی پوری زندگی کو یاد کرتے ہوئے، مجھے احساس ہوتا ہے کہ موت کے قریبی موقع کے موجودگی میں میری تمغہ داری اور دولت تو کسی کام کا نہیں ۔آپ کسی کو اپنی گاڑی چلانے کے لئے نوکری پر لے سکتے ہیں، اور پیسے کمانے کے لئےبھی - لیکن آپ کسی کو اپنی بیماری دینے کیلئے تنخواہ پر نہیں لے سکتے۔ جب ہم بڑھتے ہیں تو ہم عقلمند ہوتے ہیں، اور ہم دھیرے دھیرے سمجھتے ہیں کہ جب ایک گھڑی کی قیمت 30 ڈالر ہو یا 30000 - دونوں بالکل ہی وقت دکھاتی ہیں زیادہ نہیں کرسکتی ۔
چاہے ہم 150,000 ڈالر کی کار چلائیں یا 2000 ڈالر کی کار - راستہ اور فاصلہ بالکل ہی وہی ہیں، ہم وہی منزل پر پہنچتے ہیں جو مقرر ہیں۔
۔
👇5 اہم حقائق جن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا:
1. اپنے بچوں کو امیر بنانے کی بجائے خوش رہنے کے لئے تعلیم دیں - تاکہ جب وہ بڑے ہوں تو اشیائی قیمت کی بجائے اشیائی قدر کو جانیں۔
2. اپنا کھانا دوائی کی طرح کھائیں، ورنہ آپ کو اپنی دوائی کھانے کی طرح کھانا پڑی گی۔
3. وہ جو آپ کو محبت کرتا ہے، وہ کبھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جائے گا، حتی کہ اس کے پاس 100 وجوہات ہوں، وہ ہمیشہ ایک وجہ پائے گا کہ تھامے رہے۔
4.انسان بننے اور ہونے میں بڑا فرق ہے۔
5. اگر آپ تیزی سے جانا چاہتے ہیں - تنہا جائیں! لیکن اگر آپ دور جانا چاہتے ہیں - اکھٹے جائیں!
منقول
💐💐💐OFFICAL💐
معزز ممممبران پی اے سوسائٹی
اج لاہور ہایکورٹ کے چسٹس شاہد کریم نے ایک ارڈر کے ذریعے گھروں میں گاڑی واش کرتے پر 3000 روپے اور غلط پارکنگ پر 5000 روپے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ھے جو پنجاب میں نافذ ھو گیا ہے تمام ممبران نوٹ فرما لین اور اس پر سختی سے عمل کرین اور جرمانے سے بچین اپ کے تعاون کا شکریہ
Mian Shabbit
Media advisor pia housing socty
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Pia Road
Lahore