ترجمہ و تفسیر

ترجمہ و تفسیر

Share

روزانہ ایک آیت ترجمہ و تفسیر پڑھنے اور سیکھنے کے لیے ہمارا پیج فالو کریں ( محمد وقاص شاہ ہاشمی ) واٹس ایپ 923072986191+

Photos from ‎ترجمہ و تفسیر‎'s post 22/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ..!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
ہفتہ ، 22 فروری ، 2025ء
23 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 170

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَرِحِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۙ وَ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ لَمۡ یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ مِّنۡ خَلۡفِہِمۡ ۙ اَلَّا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۘ

بامحاورہ ترجمہ:
اس پر بہت خوش ہیں جو انھیں اللہ نے اپنے فضل سے دیا ہے اور ان کے بارے میں بھی بہت خوش ہوتے ہیں جو ان کے ساتھ ان کے پیچھے سے نہیں ملے کہ ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

مختصر تفسیر:
(آیت 171،170) وَ يَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ …: یعنی اپنے جن مسلمان بھائیوں کو جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول چھوڑ آئے ہیں ان کا تصور کر کے خوش ہوتے ہیں کہ ان کو بھی ہماری طرح پر لطف اور بے خوف و خطر زندگی حاصل ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جب تمھارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز رنگ کے پروندں کے قالبوں میں ڈال دیا، جو جنت کی نہروں پر آتی ہیں، جنت کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں کے پاس ٹھہر جاتی ہیں، جب انھوں نے اپنے پاکیزہ کھانے اور پینے کو دیکھا اور اپنے حسن انجام کو ملاحظہ کیا تو کہنے لگے : ’’اے کاش ! ہمارے بھائیوں کو بھی یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کیا اچھا سلوک فرمایا ہے، تاکہ وہ جہاد سے غافل ہو کر جنگ سے منہ نہ موڑیں۔‘‘ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’تمھارا یہ پیغام میں پہنچا دیتا ہوں۔‘‘ تو یہ آیات نازل فرمائیں : «وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَآءٌ » [ أحمد : 265/1، ۲۶۶ح : ۲۳۸۸، عن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما و صححہ أحمدشاکر فی المسند : ۲۳۸۹ ] ’’ يَسْتَبْشِرُوْنَ‘‘ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ’’ بہت خوش ہوتے ہیں‘‘ کیا ہے۔

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

15/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ..!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
ہفتہ ، 15 فروری ، 2025ء
16 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 169

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾ۙ

بامحاورہ ترجمہ:
اور تو ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں قتل کر دیے گئے، ہرگز مردہ گمان نہ کر، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔

مختصر تفسیر:
(آیت 169)اس آیت میں منافقین کے اس شبہ کی کہ ’’جہاد میں شامل ہونا خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے‘‘ ایک دوسرے طریقے سے تردید کی ہے۔ فرمایا، نہیں بلکہ اس سے دائمی زندگی حاصل ہوتی ہے، شہداء کو اللہ کے ہاں بلند درجے ملتے ہیں، پروردگار کے ہاں انھیں ہر قسم کی نعمت اور لذت حاصل ہوتی ہے، یہ زندگی حقیقی زندگی ہے مگر دنیا والی زندگی نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جو تمھاری نگاہ سے اوجھل ہے، جسے ’’برزخ‘‘ کہتے ہیں اور جو تمھاری سمجھ میں نہیں آ سکتی، فرمایا : «وَ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ» [ البقرۃ : ۱۵۴ ] ’’اور لیکن تم (اس زندگی کو) نہیں سمجھتے۔‘‘
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کریمہ «وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا» سے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ان (شہداء) کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے عرشِ الٰہی کے ساتھ قندیلیں معلق ہوتی ہیں، وہ جنت میں جہاں سے چاہتی ہیں کھاتی پیتی ہیں، پھر عرش کے نیچے لٹکی ہوئی انھی قندیلوں میں آکر رہتی ہیں۔‘‘ [ مسلم، الإمارۃ، باب بیان أن أرواح الشھداء فی الجنۃ… : ۱۸۸۷ ]

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

13/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ...!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
جمعرات ، 13 فروری ، 2025ء
14 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 168

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِیۡنَ قَالُوۡا لِاِخۡوَانِہِمۡ وَ قَعَدُوۡا لَوۡ اَطَاعُوۡنَا مَا قُتِلُوۡا ؕ قُلۡ فَادۡرَءُوۡا عَنۡ اَنۡفُسِکُمُ الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۶۸﴾

بامحاورہ ترجمہ:
جنھوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور خود بیٹھے رہے، اگر وہ ہمارا کہنا مانتے تو قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ دے پھر اپنے آپ سے موت کو ہٹا دینا، اگر تم سچے ہو۔

مختصر تفسیر:
(آیت 168)جو مسلمان جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے بارے میں منافقین نے اس قسم کا اظہار کیا، تاکہ لوگوں کو جہاد میں شمولیت سے متنفر کیا جا سکے۔ قرآن نے ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر واقعی گھروں میں بیٹھے رہنا تمھیں موت سے بچا سکتا ہے تو ذرا اپنے اوپر واقع ہونے والی موت کو ٹال کر دکھا ؤ ۔

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

12/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ..!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
بدھ ، 12 فروری ، 2025ء
13 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 167

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚۖ وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۱۶۷﴾ۚ

بامحاورہ ترجمہ:
اور تا کہ وہ ان لوگوں کو جان لے جنھوں نے منافقت کی اور جن سے کہا گیا آئو اللہ کے راستے میں لڑو، یا مدافعت کرو تو انھوں نے کہا اگر ہم کوئی لڑائی معلوم کرتے تو ضرور تمھارے ساتھ چلتے۔ وہ اس دن اپنے ایمان (کے قریب ہونے) کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے، اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے ہیں۔

مختصر تفسیر:
(آیت 167) ➊ اَوِ ادْفَعُوْا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احد میں ایک ہزار کی جمعیت لے کر احد کی طرف چلے، مقام شوط پر پہنچے تو عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں سمیت وہاں سے لوٹ آیا۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ اگر اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کر سکتے تو کم از کم مسلمانوں کے ساتھ رہو، تاکہ کثرت تعداد کا دشمنوں پر اثر پڑے اور وہ آگے بڑھنے کی جرأت نہ کریں۔ اکثر مفسرین نے ”اَوِ ادْفَعُوْا“ کے یہی معنی کیے ہیں، مگر بعض نے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ اپنے گھر کی عورتوں اور بچوں کی خاطر ہی لڑائی میں شامل رہو۔ (یہ معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے) الغرض! لوگوں نے ہر طرح سے انھیں واپس لانے کی کوشش کی مگر وہ تیار نہ ہوئے اور وہ جواب دیا جو آگے آ رہا ہے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
➋ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا … : وہ کہنے لگے، کوئی لڑائی وڑائی نہیں ہو گی، اگر ہمیں واقعی لڑائی کی توقع ہوتی تو ہم ضرور تمھارا ساتھ دیتے، یا مطلب یہ ہے کہ کوئی ڈھب کی جنگ ہوتی اور فریقین میں کچھ تناسب ہوتا تو ہم ضرور شرکت کرتے، مگر اُدھر تین ہزار کا مسلح لشکر ہے اور اِدھر ایک ہزار بے سروسامان آدمی ہیں، یہ کوئی جنگ ہے !؟ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے، اس بنا پر ہم ساتھ نہیں دے سکتے۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا اور مطلب یہ تھا کہ مسلمان فنون حرب سے بالکل نا آشنا ہیں، ورنہ ہماری رائے مان لی جاتی تو مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جاتی۔‘‘ (موضح)
➌ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَىِٕذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِيْمَانِ: یعنی اس سے قبل تو وہ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے، گو ان کے باطن میں کفر تھا، مگر علانیہ اس کا اظہار نہیں کرتے تھے، لیکن اس روز انھوں نے ایمان کو چھوڑ کر علانیہ کف.ر اختیار کر لیا، یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انھیں ایمان کی بہ نسبت کف.ر کا مفاد زیادہ عزیز تھا اور انھوں نے واپس ہو کر مسلمانوں کو کمزور کیا اور کفر کو تقویت بخشی۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’یہ کلمہ انھوں نے طعن کے طور پر کہا تھا، پس اس لفظ کی وجہ سے وہ کف.ر کے قریب اور ایمان سے دور ہو گئے۔‘‘ (موضح)
➍ يَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ … : یعنی بظاہر یہ کلمہ کہہ کر عذر لنگ اور بہانہ بناتے ہیں، مگر جو جذبات ان کے دلوں میں چھپے ہوئے ہیں ان کا صاف طور پر اظہار نہیں کرتے، دراصل یہ مسلمانوں کی ہلاکت کے متمنی ہیں، لیکن انھیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کی باتوں سے خوب واقف ہے۔

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

11/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ..!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
منگل ، 11 فروری ، 2025ء
12 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 166

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ یَوۡمَ الۡتَقَی الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰہِ وَ لِیَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾ۙ

بامحاورہ ترجمہ:
اور جو مصیبت تمھیں اس دن پہنچی جب دو جماعتیں بھڑیں تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور تاکہ وہ ایمان والوں کو جان لے۔

مختصر تفسیر:
(آیت 166) وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ … : یعنی جنگ احد میں تمھیں جس نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مشیت سے تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان تمیز ہو جائے۔

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

10/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ..!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
سوموار ، 10 فروری ، 2025ء
11 شعبان المعظم 1446ھ

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 165

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتۡکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَدۡ اَصَبۡتُمۡ مِّثۡلَیۡہَا ۙ قُلۡتُمۡ اَنّٰی ہٰذَا ؕ قُلۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۶۵﴾

بامحاورہ ترجمہ:
اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقینا اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

مختصر تفسیر:
(آیت 165) ➊ اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ …: یعنی احد میں تمھارے ستر آدمی شہید ہو گئے تو بدر میں تم نے ان کے ستر آدمی قتل اور ستر قید کیے تھے اور قیدی بھی مقتول کے حکم میں ہوتا ہے کہ جب گرفتار کرنے والے کی مرضی ہو اسے قتل کر ڈالے۔
➋ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ: یعنی تمھارے گناہوں کی وجہ سے، یا خود تمھارے پسند کرنے کی وجہ سے۔ (فتح القدیر) پہلی صورت سے مراد یہ ہے کہ تمھاری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی وجہ سے، جس کا ارتکاب تیر اندازوں نے اپنی جگہ کو چھوڑ کر کیا۔ (قرطبی) دوسری صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تمھارے فدیہ کو اختیار کرنے کی وجہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں صحابہ کو اختیار دیا تھا کہ اگر تم فدیہ لینا چاہتے ہو تو اس کے بدلے میں آئندہ تمھارے ستر آدمی شہید ہوں گے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے منظور کر لیا تھا، قرآن نے یہاں « هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ» کے الفاظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ [ ابن کثیر۔ طبری۔ أحمد : 30/1، ۳۱، ح : ۲۰۹ ]

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

09/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ..!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
اتوار ، 09 فروری ، 2025ء
10 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 164

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۱۶۴﴾

بامحاورہ ترجمہ:
بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔

مختصر تفسیر:
(آیت 164) ➊ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ …: اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے اور انسانوں ہی میں سے ہونے کو ایک احسان کے طور پر بیان کر رہا ہے اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان اور لہجے ہی میں اللہ کا پیغام پہنچائے گا، جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہو گا، دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس سے قریب ہوں گے اور تیسرے انسان کے لیے انسان، یعنی بشر کی پیروی تو ممکن ہے، لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں، نہ فرشتوں میں وہ کمزوریاں اور ضرورتیں پائی جاتی ہیں جو انسان میں ہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری ضروریات سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لیے لازمی ہیں، اس لیے جتنے انبیاء بھی آئے سب کے سب بشر ہی تھے۔ قرآن مجید نے ان کی بشریت کو خوب کھول کر بیان کیا ہے، مثلاً دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۹)، سورۂ فرقان (۲۰)، سورۂ حم السجدہ (۶) اور سورۂ کہف کی آخری آیت۔
➋ اوپر کی آیت میں جب یہ بیان فرما دیا کہ غلول اور خیانت ایک نبی کی شان سے بعید ہے، نبوت و خیانت جمع نہیں ہو سکتے، تو اب اس آیت میں اسی کی مزید تاکید فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک پاکیزہ اور اعلیٰ نصب العین دے کر مبعوث کیا گیا ہے، جو یہ ہے کہ تم پر اس کی آیات پڑھے، تمھیں کتاب و حکمت (سنت) کی تعلیم دے اور رذائل سے پاک کرے، پھر ایسی پاکیزہ ہستی کی طرف، جو اتنے عظیم مقصد کے حصول کی خاطر مبعوث ہوئی ہو، کوئی عقل مند آدمی غلول کی نسبت کیسے کر سکتا ہے، یا کسی کے دل میں یہ خیال کیسے آسکتا ہے کہ آپ خیانت جیسے کبیرہ اور مذموم فعل کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں اس گناہ کو کبیرہ قرار دیا ہے، حتیٰ کہ ابن لتبیہ والی حدیث میں حکام کے ہدیوں (تحائف) کو بھی غلول شمار کیا۔ [ بخاری، الحیل، باب احتیال العامل… : ۶۹۷۹ ] ”وَ اِنْ كَانُوْا“ یہ اصل میں ”وَ اِنَّهُمْ كَانُوْا“ تھا، دلیل اس کی ”لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ“ پر لام تاکید کا آنا ہے۔

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

Photos from ‎ترجمہ و تفسیر‎'s post 08/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ...!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
ہفتہ ، 08 فروری ، 2025ء
09 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 162

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَ اللّٰہِ کَمَنۡۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰٮہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶۲﴾

بامحاورہ ترجمہ:
تو کیا وہ شخص جو اللہ کی رضا کے پیچھے چلا اس شخص جیسا ہے جو اللہ کی طرف سے سخت ناراضی لے کر لوٹا اور جس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 163

ہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾

بامحاورہ ترجمہ:
یہ لوگ اللہ کے نزدیک مختلف طبقے ہیں اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

🚫 نوٹ :
آج کے سبق میں اس آیت مبارکہ کی تفسیر نہیں ہے۔ ❌

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

07/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ..!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
جمعة المباركه ، 07 فروری ، 2025ء
08 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 161

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّغُلَّ ؕ وَ مَنۡ یَّغۡلُلۡ یَاۡتِ بِمَا غَلَّ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفۡسٍ مَّا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۱۶۱﴾

بامحاورہ ترجمہ:
اور کسی نبی کے لیے کبھی ممکن نہیں کہ وہ خیانت کرے، اور جو خیانت کرے گا قیامت کے دن لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کی، پھر ہر شخص کو پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

مختصر تفسیر:
(آیت161) ➊ وَ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ …: اوپر کی آیات میں جہاد کی ترغیب ہے اور اس آیت میں جہاد کے احکام کا بیان ہے۔
➋ جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے توسارا مال غنیمت دوسرے لوگ سمیٹ کر لے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کر لیا کہ اس مال میں سے تمھارا حصہ تمھیں نہیں دیا جائے گا۔ کیا تمھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر اطمینان نہیں؟ یاد رکھو! ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن ہی نہیں ہے، کیونکہ خیانت نبوت کے منافی ہے۔ معلوم ہوا غلول (خیانت) کے معنی ’’تقسیم میں نا انصافی‘‘ کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی غلول ہے کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت سے کوئی چیز بلا اجازت اٹھا لی جائے۔
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’طمع کے کام تو ادنیٰ نبیوں سے بھی سرزد نہیں ہو سکتے (چہ جائیکہ سید الانبیاء سے)۔‘‘ (موضح)

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

Photos from ‎ترجمہ و تفسیر‎'s post 06/02/2025

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.!!
ہمارا یوٹیوب چینل سبکرائب کرنا نہیں بھولیں 👇
https://youtube.com/

آج کا سبق
جمعرات ، 06 فروری ، 2025ء
07 شعبان المعظم ، 1446 ھجری

سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ آیت نمبر 159

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَبِمَا رَحۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنۡتَ لَہُمۡ ۚ وَ لَوۡ کُنۡتَ فَظًّا غَلِیۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِکَ ۪ فَاعۡفُ عَنۡہُمۡ وَ اسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾

بامحاورہ ترجمہ:
پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے تو ان کے لیے نرم ہوگیا ہے اور اگر تو بد خلق، سخت دل ہوتا تو یقینا وہ تیرے گرد سے منتشر ہو جاتے، سو ان سے درگزر کر اور ان کے لیے بخشش کی دعا کر اور کام میں ان سے مشورہ کر، پھر جب تو پختہ ارادہ کر لے تو اللہ پر بھروسا کر، بے شک اللہ بھروسا کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

مختصر تفسیر:
(آیت 160،159) ➊ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ: یہاں جار مجرور ”بِرَحْمَةٍ“ پہلے آنے ہی سے تاکید پیدا ہو گئی تھی، پھر ’’مَا‘‘ لا کر ”فَبِمَا رَحْمَةٍ“ میں تاکید مزید ہو گئی۔ ’’ رَحْمَةٍ ‘‘ پر تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ ’’بڑی رحمت‘‘ کیا ہے۔
➋ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ … : احد کے دن مسلمانوں نے خوف ناک غلطی کی اور میدان چھوڑ کر فرار اختیار کیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے دوبارہ جمع ہوئے تو آپ نے ان کو کسی قسم کی سرزنش نہیں کی، بلکہ حسن اخلاق سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کا یہ حسن خلق اور طبیعت کی نرمی اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و احسان اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ مسلمانوں کا جمع ہونا ممکن نہ تھا۔ (قرطبی) معلوم ہوا دعوت دین کے لیے نرمی اور حسن اخلاق نہایت ضروری چیزیں ہیں، بدخلقی، درشتی اور سخت دلی سے لوگ کبھی قریب نہیں آ سکتے۔
➌ فَاعْفُ عَنْهُمْ … : یعنی جنگ میں ان سے جو غلطیاں ہوئیں وہ انھیں معاف کر دیں، اللہ سے بھی ان کے لیے استغفار کریں اور مشورے سے محروم نہ کریں بلکہ برابر مشورہ کرتے رہیں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مسلمانوں سے خفا ہوا ہو گا اور چاہا ہو گا کہ اب ان سے مشورہ نہ پوچھیے، سو حق تعالیٰ نے تلقین فرمائی کہ اول مشورہ کر لینا بہتر ہے، جب ایک بات طے ہو جائے پھر پس و پیش نہ کرے۔‘‘ (موضح) اس آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب کبھی جنگ یا انتظامی قسم کا کوئی ایسا معاملہ در پیش ہو، جس میں ہماری طرف سے بذریعۂ وحی کوئی متعین حکم نہ دیا جائے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر لیا کرو، تاکہ ان کی دل جوئی ہو اور انھیں بعد میں باہمی مشورہ سے مل کر کام کرنے کی تربیت بھی حاصل ہو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر اہم امور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورے فرمائے اور ان پر عمل بھی ہوا۔ (دیکھیے ابن کثیر زیر بحث آیت) اس کے بعد خلفائے راشدین بھی اس سنت پر پوری طرح کار بند رہے۔ پھر اگر مشورے کے بعد کسی چیز کا فیصلہ کر لیا جائے تو اسے پوری دل جمعی سے کر گزرنے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے کا نام توکل ہے۔ چنانچہ مذکور ہے کہ جنگ اُحد کے موقع پر کھلے میدان میں لڑائی کرنے کے فیصلے کے بعد جب آپ مسلح ہو کر تشریف لے آئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آپ کی رائے کے مطابق شہر ہی میں رہ کر مقابلہ کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : [ لَيْسَ لِنَبِيٍّ اِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَّضَعَهَا حَتّٰي يُقَاتِلَ ] [ مسند أحمد : ۳؍۳۵۱، ح : ۱۴۷۹۹ ] ’’کسی نبی کے لائق نہیں کہ جب اپنا اسلحہ پہن لے تو لڑنے سے پہلے اسے اتار دے۔‘‘ یہ آیت اور آیت : «وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُم» [ الشوریٰ : ۳۸ ] اسلامی طرزِ حکومت کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بہت سے معاملات میں مشورہ کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’(جنگ بدر کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ابو سفیان کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے مشورہ کیا۔ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بات کی تو آپ نے ان سے اعراض کیا۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا : ’’شاید آپ ہم ( انصار) سے پوچھنا چاہتے ہیں، اے اللہ کے رسول ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ ہم گھوڑوں کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ضرور ڈال دیں گے اور اگر آپ حکم دیں کہ گھوڑوں کو برک الغماد (مدینہ سے بہت دور ایک جگہ) تک لے جائیں تو ہم ضرور لے جائیں گے۔‘‘ [ مسلم، الجہاد والسیر، باب غزوۃ بدر : ۱۷۷۹ ] جنگ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورہ کرنے پر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کی رائے دی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مشورے میں بہت برکت پیدا فرمائی۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء برابر دیانت دار اہل علم سے مشورہ لیتے رہے۔‘‘( قرطبی)
آج کل بہت سے لوگ مشورے اور ووٹ کو ایک چیز سمجھتے ہیں اور جمہوریت کو اسلامی شوریٰ قرار دیتے ہیں، حالانکہ موجودہ جمہوریت اور اسلامی شوریٰ الگ الگ چیزیں ہیں، کیونکہ جمہوریت ایک مستقل دین ہے۔ اس میں : (1) ہر اہل اور نا اہل کا ووٹ برابر ہے۔ (2) اس میں عوام کی اکثریت فیصلہ کن ہے، فیصلوں میں انھی کو اللہ اور رسول کا مقام حاصل ہے، خواہ وہ سود کو حلال کر دیں، یا زنا اور قوم لوط کے عمل کو۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی کوئی شرط نہیں، اگر کہیں ہے بھی تو دھوکا دینے کے لیے۔ (3) اس میں فیصلہ اکثریت کے نمائندوں کی اکثریت کا ہوتا ہے، صدر اس فیصلے کا پابند ہے، خواہ اسے غلط سمجھتا ہو یا صحیح۔ (4) ان کے ہاں مشورے کا معنی اکثریت ہے۔ جب کہ اسلام میں: (1) امیر مشورہ لینے کا پابند ہے، مگر صرف ان امور میں جو قرآن و سنت میں مذکور نہ ہوں، بلکہ تدبیری اور انتظامی قسم کے ہوں۔ (2) امیر مشورہ ان لوگوں سے لے گا جو اس معاملے میں رائے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ امام شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ’’حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ علماء سے ایسے معاملات میں مشورہ کریں جن کا انھیں علم نہیں ہے، یا ان کے بارے میں انھیں اشکال ہے، فوج کے سربراہوں سے فوجی معاملات میں، سربرآوردہ لوگوں سے عوام کے مصالح کے بارے میں اور ماتحت حکام و والیان سے ان کے علاقوں کی ضروریات و ترجیحات کے متعلق مشورہ کریں۔‘‘ (3) مشورے کے بعد آخری فیصلہ امیر کا ہو گا، فرمایا : «فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [ آل عمران : ۱۵۹ ] اگر وہ مناسب سمجھے تو اکثریت کے فیصلے پر عمل کرے اور اگر کم لوگوں میں زیادہ اہلیت والے لوگ ہونے کی وجہ سے ان کی رائے کو بہتر سمجھے تو اس پر فیصلہ کرے، کیونکہ فیصلوں کے نتائج کا آخری ذمہ دار امیر ہو گا، اکثریت نہیں اور وہ بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے فیصلے پر عمل کرے گا، نہ کہ مشورہ دینے والوں کی یا اپنی عقل و فہم پر۔ اگلی آیت میں پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید ہے۔

❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️❣️

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Lahore