M Ubaid ullah Awan

M Ubaid ullah Awan

Share

This page is designed for the islamic education

02/11/2022

کام ڈاون.
تھوڑا سا پرسکون ہو جائیں۔
آپ جسے اچھی جاب نہیں مل رہی، جس کی شادی نہیں ہو رہی، جس کا عزیز یا آپ خود بیمار ہیں، معاشی مسائل ہیں، آپ جس کے شوہر ملک سے باہر ہیں، آپ جس کے سسرال میں مسائل ہیں، آپ جنہیں اولاد کا ایشو ہے، آپ جن کی حال ہی میں کوئی میڈیکل رپورٹ آئی ہے اور جو زیادہ اچھی نہیں ہے، آپ جس کی پوری زندگی گھوم کر الٹی ہو چکی ہے، آپ جو طلاق کے ٹروما سے گزرے ہیں، اور آپ جنہوں نے اپنی ساری زندگی بچوں کی پرورش میں گزار دی اور اب ایسے حالات ہیں کہ جیسے کیا پایا کیا کھویا، آپ جس نے بڑی قربانیاں دی ہیں، لیکن جیسے لگتا ہے کہ ہاتھ خالی ہی ہیں، آپ جس کے ساتھ ایسا حادثہ ہو گیا کہ نہ بتا سکتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔ آپ جو عزیزوں کی دی تکلیف سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور آپ جسے لگتا ہے کہ بس پوری زندگی ختم، اب کیا رہ گیا۔
آپ سب تھوڑا پرسکون ہو جائیں۔
جو تکلیف میں ہوتا ہے یا مصیبت میں ہوتا ہے، اسے پرسکون کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کا درد بڑھ چکا ہوتا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے، کرنا مشکل ہے، لیکن مشکل آتی ہی اس لیے ہے کہ وہ آسانی کے لیے جگہ بنا سکے۔ مکمل جہاں کسی کو نہیں ملتا، یہی کائنات کا سسٹم ہے۔ لیکن حیران کن بات ہے کہ مکمل سکون سب کو مل سکتا ہے۔یہ سکون تب ملتا ہے جب ہم تھوڑا سا شعور بیدار کرلیں۔ کچھ چیزیں سمجھ جائیں۔ کچھ چیزوں کے لیے شعوری کوشش کریں۔
مثلا:
جن حالات، واقعات کو کنٹرول نہیں کر سکتے، بدل نہیں سکتے، ان پر صبر کرنا، ان پر خاموش رہنا سیکھ لیں۔ یہ خاموشی زبان کی نہیں اندر کی ہوتی ہے، پھر انتشار نہیں ہوتا۔ کبھی فون کو وابئریشن پر دیکھا ہے؟ جب انسان میں انتشار آجائے تو پھر اس میں ایک مسلسل وابئریشن کی کیفییت آجاتی ہے۔ جلد ہی وہ بہت سی اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس کا امیون سسٹم کمزور ہونے لگتا ہے۔ اگر وہ بیمار ہو تو جلد ٹھیک نہیں ہوتا۔ اور بھی بے شمار خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے اللہ نے انتشار، متنشر خیالی، بے چینی، نا امیدی سے دور رہنے کا کہا ہے۔
جو چیزیں سرے سے ہاتھ میں ہی نہیں ہیں، انہیں ہاتھ میں لینے کی چاہت چھوڑ دیں، ایسی تمام رسیوں کے سرے چھوڑ دیں، جانے دیں۔
کچھ لوگ ہیں جو شاید کبھی نہیں بدلیں گے، کچھ رویے ہمیشہ ایسے ہی ملیں گے، کچھ چیزیں ہیں جو حاصل ہو بھی گئیں شاید تب بھی لائف ایسی ہی رہے گی، تو پھر جانے دیں۔
ہمیں ایک پرسکون لائف کے لیے بہت کچھ جانے دینا ہے۔ بہت سے نقصان، ماضی کے پچھتاوے، دوسروں کی زیاتیاں، نا انصافیاں، کچھ غلط رویے، کچھ ادھورے خواب، اور بھی بہت کچھ۔
آپ کتنے ہی کفایت شعار ہوں، لیکن اگر سال میں ایک بار گھر کی صفائی کریں گے تو بہت سا بے کار سامان نکلے گا، جب وہ اٹھا کر باہر پھینک دیں گے تو محسوس کریں گے کہ گھر اچھا صاف ستھرا ہو گیا ہے۔ دل کو بھی سکون ملا۔ دین نے کہا ہے کہ ٹوٹا ہوا برتن پھینک دو، اب وہ کتنا ہی قیمتی ہو، خوبصورت ہو، کہا پھینک دو ، تو بس پھینک دو۔
تو آ پ بھی اندر کی ٹوٹی ہوئی چیزوں کو پھینک دیں۔ زندگی میں جتنا کچھ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے، اسے نکال دیں۔ ایسے لائف پرسکون ہو گی۔ یقین جانیں ہو گی۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں، ایک ایک کر کے چیزوں پر کام کریں، خود پر کام کریں، تبدیلی آئے گی۔ میں لفاظی نہیں کر رہی، میں یہ کر چکی ہوں اور پھر یہ سب لکھ رہی ہوں۔ آپ کو بتا رہی ہوں کہ ہمارا جہاں مکمل نہیں ہو سکتا لیکن ہمارا سکون مکمل ہو سکتا ہے۔
اللہ پر بھروسہ رکھنا سیکھیں۔
کوشش کے ساتھ دعا کریں،
خود کو سوچوں سے، پچھتاوں سے، دکھوں سے، برے رویوں سے نوچنا چھوڑ دیں۔
سمیراحمید

04/08/2022

یاد ماضی

1965 میں میں دارالعلوم کبیر والا میں پڑھتا تھا، مشکوۃ شریف، ہدایہ اخیرین، مسلم الثبوت وغیرہ
کبیر والا میں بکثرت شیعہ آبادی تھی اور محرم الحرام کے ایام میں ہر گلی محلے میں مجالس ہوتی تھیں. میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ باقاعدگی سے مجالس سننے جاتا تھا
جب حاضرین رونے کی ایکٹنگ شروع کر دیتے تو ہم لوگ اٹھ کر آجاتے تھے.
مجالس والوں کو بھی معلوم تھا کہ یہ دارالعلوم کے طالب علم ہیں جو جنوبی پنجاب کا سب سے مستند دیوبندی ادارہ تھا. مدرسہ کے اساتذہ اور انتظامیہ کو بھی معلوم تھا کہ یہ مجالس میں جاتے ہیں
کبھی کسی نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا.
پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں آنے کے بعد میں سارے ملک میں تدریب المعلمين لتعلیم اللغۃ العربیہ کا کورس کرواتا تھا
جس میں گرمیوں کی تعطیلات میں چھ ہفتے کی بالمشافہہ ورکشاپ ہوتی تھی
ملتان سنٹر کے ہمارے دونوں اساتذہ شیعہ تھے اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے وہاں کے سنی دینی مدارس کے فضلاء
کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا
بلکہ وہ ایک دوسرے کے قریب آ گئے.
پھر
دیکھتی آنکھوں مقتدر قوتوں نے سپاہ صحابہ اور جیش محمد تشکیل دے کر سارے ملک کو پنبہ وآتش بنا دیا
تقریباً بیس پچیس سال سارا ملک خوں نابہ بار نفرتوں کی بھینٹ چڑھتا رہا.
سنا ہے وہی قوتیں اب دوطرفہ کٹ پتلیوں کو بٹھا کر انہیں پرامن رہنے کی ہدایات دیتی ہیں.

وہ شاخ گل پہ زمزموں کی دھن تراشتے رہے
نشیمنوں پہ بجلیوں کا کارواں گزر گیا
طفیل ہاشمی

01/08/2022

ایک سپیشل لڑکی، جس کے دونوں ہاتھ مڑے ہوئے تھے، جاب کے لیے انٹرویو دینے آئی. پوچھا گیا کہ آپ جاب کیوں کرنا چاہتی ہیں تو کہنے لگی کہ ہم چار بہنیں ہیں اور والد صاحب معمولی جاب کرتے ہیں جس سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے. باقی تینوں بہنیں ابھی چھوٹی ہیں. لہٰذا میں بیٹا بن کر اپنے والد کا سہارا بننا چاہتی ہوں.

یہ سن کر میں نے انہیں کہا کہ آپ کو بیٹا بننے کی کوئی ضرورت نہیں. آپ جیسی بیٹی پر سو بےحس بیٹے بھی قربان ہوں تو کم ہے. آپ بیٹی ہی اچھی ہیں اور دوبارہ ایسے مت سوچیں. یہ سن کر خوشی سے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے.

پتہ نہیں ہم دانستہ یا نادانستہ بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح کیوں دیتے رہتے ہیں. حالانکہ بیٹیاں کسی طور پر بھی بیٹوں سے کم نہیں ہوتیں. بلکہ جو محبت اور احساس ان میں ہوتا ہے تو عموماً اس کا عشر عشیر بھی بیٹوں میں نظر نہیں آتا.

Copied

31/07/2022

کر لوں گا جمع دولت و زر، اُس کے بعد کیا
لے لوُں گا شاندار سا گھر ، اُس کے بعد کیا
مے کی طلب جو ہوگی تو بن جاؤں گا میں رند
کرلوں گا میکدوں کا سفر، اس کے بعد کیا
ہوگا جو شوق حسن سے راز و نیاز کا
کرلوں گا گیسوؤں میں سحر، اُس کے بعد کیا
شعر و سخن کی خوب سجاؤں گا محفلیں
دنیا میں ہوگا نام مگر، اُس کے بعد کیا
موج آۓ گی تو سارے جہاں کی کروں گا سیر
واپس وہی پرانا نگر، اُس کے بعد کیا
اک روز موت زیست کا در کھٹکھٹاۓ گی
بجھ جائے گا چراغِ قمر، اُس کے بعد کیا
اٹی تھی خاک خاک سے مل جائے گی وہیں
پھر اس کے بعد کس کو خبر، اُس کے بعد کیا

قمر جلال آبادی

29/07/2022

نوے برس کے ضعیف آدمی کے پاس کوئی پیسہ نہیں تھا۔ مالک مکان کو پانچ مہینے سے کرایہ بھی نہیں دے پایا تھا۔ ایک دن مالک مکان طیش میں کرایہ وصولی کرنے آیا ۔ بزرگ آدمی کا سامان گھر سے باہر پھینک دیا۔

سامان بھی کیا تھا۔ ایک چار پائی ‘ ایک پلاسٹک کی بالٹی اور چند پرانے برتن ۔ پیرانہ سالی میں مبتلا شخص بیچارگی کی بھرپور تصویر بنے فٹ پاتھ پر بیٹھاتھا۔ احمد آباد شہر کے عام سے محلہ کا واقعہ ہے۔ محلے والے مل جل کر مالک مکان کے پاس گئے۔ التجا کی کہ اس بوڑھے آدمی کو واپس گھر میں رہنے کی اجازت دے دیجیے۔ کیونکہ اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔

دو ماہ میں اپنا پورا کرایہ کہیں نہ کہیں سے ادھا ر پکڑ کر ادا کر دے گا۔ اتفاق یہ ہواکہ ایک اخبار کا رپورٹر وہاں سے گزر رہا تھا۔ اسے نحیف اور لاچار آدمی پر بہت ترس آیا۔تمام معاملہ کی تصاویر کھینچیں۔ ایڈیٹر کے پاس گیا کہ کیسے آج ایک مفلوک الحال بوڑھے شخص کو گھر سے نکالا گیا۔ اور پھر محلہ داروں نے بیچ میں پڑ کر دو ماہ کا وقت لے کر دیا ہے۔ ایڈیٹر نے بزرگ شخص کی تصاویر دیکھیں تو چونک اٹھا۔

رپورٹر سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کو جانتے ہو۔ رپورٹر ہنسنے لگا کہ ایڈیٹر صاحب ۔ اس بابے میں کونسی ایسی غیر معمولی بات ہے کہ کوئی بھی اس پر توجہ دے۔ اسے تو محلہ والے بھی نہیں جانتے۔ ایک وقت کا کھانا کھاتا ہے۔ برتن بھی خود دھوتا ہے۔ معمولی سے گھر میں جھاڑ پوچا بھی خود لگاتا ہے۔ اس کو کس نے جاننا ہے۔

ایڈیٹر نے حد درجہ سنجیدگی سے رپورٹر کو کہا کہ یہ ہندوستان کا دومرتبہ وزیراعظم رہ چکا ہے اور اس کا نام گلزاری لال نندہ ہے۔ رپورٹر کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ہندوستان کا وزیراعظم اور اس بدحالی میں۔ خیر اگلے دن اخبار چھپا تو قیامت آ گئی۔ لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ عاجز سا بوڑھا ہندوستان کا دوبار وزیراعظم رہ چکا ہے۔

وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم کو بھی معلوم ہو گیا کہ گلزاری لال کس مہیب مفلسی میں سانس لے رہا ہے۔ خبر چھپنے کے چند گھنٹوں بعد‘ ریاست کا وزیراعلیٰ ‘چیف سیکریٹری اور کئی وزیر اس محلے میں پہنچ گئے۔ سب نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ کو سرکاری گھر میں منتقل کر دیتے ہیں اور سرکار ماہانہ وظیفہ بھی لگا دیتی ہے۔

خدارا اس معمولی سے مکان کو چھوڑیے۔ مگر گلزاری لال نے سختی سے انکار کر دیا کہ کسی بھی طرح کی سرکاری سہولت پر اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ یہیں اسی کوارٹر میں رہے گا۔ گلزاری لال کے چند رشتہ داروں نے منت سماجت کر کے بہر حال اس بات پر آمادہ کر لیا کہ ہر ماہ پانچ سو روپے وظیفہ قبول کر لے۔ سابقہ وزیراعظم نے حد درجہ مشکل کے بعد یہ پیسے وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ اب اس قلیل سی رقم میں کرایہ کھانا پینا شروع ہو گیا۔

مالک مکان کو جب علم ہوا کہ اس کا کرایہ دار پورے ملک کا وزیراعظم بن چکا ہے۔ تو گلزاری لال کے پاس آیا اور پیر پکڑ لیے کہ اسے بالکل معلوم نہیں تھا کہ اس کا کرایہ دار اس اعلیٰ ترین منصب پر فائر رہ چکا ہے۔ بوڑھے شخص نے جواب دیا کہ اسے یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ کون ہے۔ وہ تو ایک معمولی سا کرایہ دار ہے اور بس۔ جب تک گلزاری لال زندہ رہا اسی مکان میں رہا اور مرتے دم تک پانچ سو روپے میں گزارا کرتا رہا۔

گلزاری لال نندہ حیرت انگیز کردار کا انسان تھا۔ سیالکوٹ میں جولائ 1898 میں پیدا ہوا۔ اور جنوری 1998 میں احمد آباد میں فوت ہو گیا۔ جواہر لال نہرو کے انتقال کے بعد 1964 میں وزیراعظم رہا۔ اور 1966میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد بھی اس بلند پایہ منصب پر فائز رہا۔ بنیادی طور پر ایف سی کالج لاہور سے اقتصادیات کی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ دراصل وہ اقتصادیات کا استاد تھا۔

ممبئی اور احمد آباد کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتا رہا۔ سیاست میں آیا تو یونین منسٹر وزیر خارجہ اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن بھی رہا۔ متعدد بار لوک سبھا کا ممبر بھی منتخب ہوا۔ گلزاری لال کافلسفہ تھا کہ زندگی کو بہت سادہ گزارنا چاہیے۔ کسی شان و شوکت کے بغیر انتہائی قلیل رقم میں خوش رہنا ہی اصل امتحان ہے۔ویسے گلزاری لال سادگی بلکہ عسرت میں رہنے کی جو مثال قائم کر گیا اس کے لیے حد درجہ مضبوط کردار کی ضرورت ہے۔
ایک وقت تھا کہ موہن داس گاندھی نے کہا تھا کہ اگر علی گڑھ یونیورسٹی ایک بھی عمر تیار کرنے میں کامیاب ہو گئ تو میں اسے ھندوستان کی سب سے بڑی کامیابی تصور کرونگا ، پھر غالیچوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ عمر اس ماحول میں تیار نہیں ہوتے ، اور ایک وقت ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ آج اگر ہماری سیاست ایک بھی گلزاری لال نندا پیدا کر دے تو ہم سیاست کو عبادت سمجھیں گے

نناوے سال کی عمر میں فوت ہوتے وقت اس کے پاس کسی قسم کی جائیداد کوئی بینک بیلنس اور کوئی ذاتی گھر تک نہیں تھا۔ بس ایک عزت و احترام کا وہ خزانہ تھا جو امیر سے امیر لوگوں کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں سیاست میں حد درجہ کرپشن ہے مگر اس کے باوجود ہمیں بارہا گلزاری لال جیسے کردار مل ہی جاتے ہیں ۔انڈیا میں کئی ایسے بلند سطح کے سیاست دان موجود ہیں جن کے اثاثے کچھ بھی نہیں ہیں۔

مگر اس سطح کی سادگی کی عملی مثال ہمارے ہاں ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہے۔
منقول بالاضافہ ۔

24/07/2022

محنت کر حسد نہ کر ۔
‏جرمنی نے اپنے لیڈر کو الوداع کہ دیا۔

وہ اپنی بالکونیوں پر باہر آئی اور پورے ملک میں 6 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں گئیں۔
اقتدار کے 16 سالوں میں اینجلا مرکل نے اپنے کسی بھی رشتہ دار کو ریاستی عہدے پر تعینات نہیں کیا۔
اس نے رئیل اسٹیٹ ، کاریں, پلاٹ اور نجی طیارے نہیں خریدے ‏سولہ سال تک ، اس نے اپنی الماری کا انداز کبھی نہیں بدلا۔
ایک پریس کانفرنس میں ، ایک صحافی نے میرکل سے پوچھا: '' ہمیں احساس ہے کہ آپ نے وہی سوٹ پہنا ہوا ہے ، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟ '' اس نے جواب دیا: "میں سرکاری ملازم ہوں ، ماڈل نہیں۔
‏پھر ایک اور صحافی نے پوچھا: "کپڑے دھونے کا کام کون کر رہا ہے ، آپ یا آپ کے شوہر؟" اس کا جواب تھا: "میں کپڑے ٹھیک کرتی ہوں اور میرا شوہر واشنگ مشین چلاتا ہے۔"
‏ایک اور پریس کانفرنس میں ، انہوں نے اس سے پوچھا:
"کیا آپ کے پاس ایک گھریلو ملازمہ ہے جو اپنا گھر صاف کرتی ہے ، کھانا تیار کرتی ہے ، وغیرہ۔" اس کا جواب تھا: "نہیں ، میرے کوئی نوکر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی ضرورت ہے، میں اور میرے شوہر معمول کے کام خود گھر پر کرتے ہیں.
محترمہ میرکل کسی دوسرے شہری کی طرح ایک عام اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں، وہ جرمنی کی چانسلر منتخب ہونے سے پہلے جس ‏اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں، اس نے اسے آج تک نہیں چھوڑا، نہ ہی بدلا اور وہ ایک بھی ولا ، مکانات ، تالاب ، باغات کی مالک نہیں ہے۔
یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی چانسلر انجیلا میرکل ہمیشہ اقدار ، بے لوث اصولوں، حقائق اور ہمدردی سے چلنے والی قیادت کی عظیم مثال رہیں گی۔
منقول بن وٹس ایپ

23/07/2022

کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔

سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ ۔

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔

ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات "پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:

"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا"

" نتیجہ"
میرے وطن کی کہانی

۔۔۔ وفاقی وزیر ، وزیر مملکت ، صوبائی وزیر ، پرسنل سیکرٹری ، مشیر ۔۔ عہدے ، پروٹوکول اور کام صفر ۔😢😢😢

منقول ۔

08/01/2021

Keep sharing

05/01/2021

صدائے حق کی طاقت کیا ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Lahore
NOONE