02/11/2022
کام ڈاون.
تھوڑا سا پرسکون ہو جائیں۔
آپ جسے اچھی جاب نہیں مل رہی، جس کی شادی نہیں ہو رہی، جس کا عزیز یا آپ خود بیمار ہیں، معاشی مسائل ہیں، آپ جس کے شوہر ملک سے باہر ہیں، آپ جس کے سسرال میں مسائل ہیں، آپ جنہیں اولاد کا ایشو ہے، آپ جن کی حال ہی میں کوئی میڈیکل رپورٹ آئی ہے اور جو زیادہ اچھی نہیں ہے، آپ جس کی پوری زندگی گھوم کر الٹی ہو چکی ہے، آپ جو طلاق کے ٹروما سے گزرے ہیں، اور آپ جنہوں نے اپنی ساری زندگی بچوں کی پرورش میں گزار دی اور اب ایسے حالات ہیں کہ جیسے کیا پایا کیا کھویا، آپ جس نے بڑی قربانیاں دی ہیں، لیکن جیسے لگتا ہے کہ ہاتھ خالی ہی ہیں، آپ جس کے ساتھ ایسا حادثہ ہو گیا کہ نہ بتا سکتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔ آپ جو عزیزوں کی دی تکلیف سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور آپ جسے لگتا ہے کہ بس پوری زندگی ختم، اب کیا رہ گیا۔
آپ سب تھوڑا پرسکون ہو جائیں۔
جو تکلیف میں ہوتا ہے یا مصیبت میں ہوتا ہے، اسے پرسکون کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس کا درد بڑھ چکا ہوتا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے، کرنا مشکل ہے، لیکن مشکل آتی ہی اس لیے ہے کہ وہ آسانی کے لیے جگہ بنا سکے۔ مکمل جہاں کسی کو نہیں ملتا، یہی کائنات کا سسٹم ہے۔ لیکن حیران کن بات ہے کہ مکمل سکون سب کو مل سکتا ہے۔یہ سکون تب ملتا ہے جب ہم تھوڑا سا شعور بیدار کرلیں۔ کچھ چیزیں سمجھ جائیں۔ کچھ چیزوں کے لیے شعوری کوشش کریں۔
مثلا:
جن حالات، واقعات کو کنٹرول نہیں کر سکتے، بدل نہیں سکتے، ان پر صبر کرنا، ان پر خاموش رہنا سیکھ لیں۔ یہ خاموشی زبان کی نہیں اندر کی ہوتی ہے، پھر انتشار نہیں ہوتا۔ کبھی فون کو وابئریشن پر دیکھا ہے؟ جب انسان میں انتشار آجائے تو پھر اس میں ایک مسلسل وابئریشن کی کیفییت آجاتی ہے۔ جلد ہی وہ بہت سی اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس کا امیون سسٹم کمزور ہونے لگتا ہے۔ اگر وہ بیمار ہو تو جلد ٹھیک نہیں ہوتا۔ اور بھی بے شمار خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے اللہ نے انتشار، متنشر خیالی، بے چینی، نا امیدی سے دور رہنے کا کہا ہے۔
جو چیزیں سرے سے ہاتھ میں ہی نہیں ہیں، انہیں ہاتھ میں لینے کی چاہت چھوڑ دیں، ایسی تمام رسیوں کے سرے چھوڑ دیں، جانے دیں۔
کچھ لوگ ہیں جو شاید کبھی نہیں بدلیں گے، کچھ رویے ہمیشہ ایسے ہی ملیں گے، کچھ چیزیں ہیں جو حاصل ہو بھی گئیں شاید تب بھی لائف ایسی ہی رہے گی، تو پھر جانے دیں۔
ہمیں ایک پرسکون لائف کے لیے بہت کچھ جانے دینا ہے۔ بہت سے نقصان، ماضی کے پچھتاوے، دوسروں کی زیاتیاں، نا انصافیاں، کچھ غلط رویے، کچھ ادھورے خواب، اور بھی بہت کچھ۔
آپ کتنے ہی کفایت شعار ہوں، لیکن اگر سال میں ایک بار گھر کی صفائی کریں گے تو بہت سا بے کار سامان نکلے گا، جب وہ اٹھا کر باہر پھینک دیں گے تو محسوس کریں گے کہ گھر اچھا صاف ستھرا ہو گیا ہے۔ دل کو بھی سکون ملا۔ دین نے کہا ہے کہ ٹوٹا ہوا برتن پھینک دو، اب وہ کتنا ہی قیمتی ہو، خوبصورت ہو، کہا پھینک دو ، تو بس پھینک دو۔
تو آ پ بھی اندر کی ٹوٹی ہوئی چیزوں کو پھینک دیں۔ زندگی میں جتنا کچھ ٹوٹ پھوٹ چکا ہے، اسے نکال دیں۔ ایسے لائف پرسکون ہو گی۔ یقین جانیں ہو گی۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں، ایک ایک کر کے چیزوں پر کام کریں، خود پر کام کریں، تبدیلی آئے گی۔ میں لفاظی نہیں کر رہی، میں یہ کر چکی ہوں اور پھر یہ سب لکھ رہی ہوں۔ آپ کو بتا رہی ہوں کہ ہمارا جہاں مکمل نہیں ہو سکتا لیکن ہمارا سکون مکمل ہو سکتا ہے۔
اللہ پر بھروسہ رکھنا سیکھیں۔
کوشش کے ساتھ دعا کریں،
خود کو سوچوں سے، پچھتاوں سے، دکھوں سے، برے رویوں سے نوچنا چھوڑ دیں۔
سمیراحمید