Alquranonlineacademy

Alquranonlineacademy

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Alquranonlineacademy, Religious school, Lahore.

★Get Online Quran Teacher via Skype & WhatsApp for all Muslims.
� whatsaap, Phone : +923066444726
� Email: [email protected]
Skype ID:https://join.skype.com/invite/XnB1AjLUtqMX

12/10/2021

آئیے قرآن وحدیث سیکھئے اور اپنے دلوں میں محفوظ کیجئے، "شکریہ"❤️❤️
Follow











Like....
Comment....
Share....
Follow....

Photos from Alquranonlineacademy's post 03/10/2021

آئیے قرآن وحدیث سیکھئے اور اپنے دلوں میں محفوظ کیجئے، "شکریہ"❤️❤️
Follow











Like....
Comment....
Share....
Follow....

29/09/2021

تبیان القرآن
مفسر: مولانا غلام رسول سعیدی

سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 2

تفسیر:
یتیم کا مال ادا کرنے کا حکم :
اس آیت میں یتیموں کے سرپرستوں کو خطاب ہے کہ جب یتیم بالغ ہوجائیں تو ان کے اموال ان کو دے دیئے جائیں ‘ یتیم کا ولی اس کا اچھا مال رکھ لیا تھا اور اپنا خراب مال اس کو دے دیتا تھا اس آیت میں ان کو اس سے منع کیا گیا۔
علامہ ابو للیث نصر بن محمد سمرقندی حنفی متوفی ٣٧٥ ھ اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں :
مقاتل نے کہا یہ آیت غطفان کے ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے اس کے پاس اس کے یتیم بھتیجے کا بہت سار امال تھا جب یتیم بالغ ہوا تو اس نے اپنا تو اس نے اپنا مال طلب کیا ‘ اس کے چچا نے اس کو منع کیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی ‘ اس شخص نے کہا ہم اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور بہت بڑے گناہ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اس نے اپنے بھتیجے کو مال دے دیا اس جوان نے اس مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٣٣١‘ مطبوعہ دارالباز مکرمہ مکرمہ ‘ ١٤١٣ ھ)
یتیم کا مال کھانے اور اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی مذمت اور حسن سلوک کی تعریف :
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو ‘ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! وہ کیا کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ‘ جادو کرنا ‘ جس شخص کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق قتل کرنا ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ جہاد سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا ‘ مسلمان پاک دامن بےقصور عورت پر تہمت لگانا۔ (صحیح البخاری۔ رقم الحدیث ٦٨٥٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٩‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث ‘ ٢٨٧٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٦٧٣)
امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمانوں کا سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور سب سے برا گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ‘ ٣٦٧٩‘ ج ٤ ص ١٩٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤١٦)
اس حدیث میں امام ابن ماجہ منفرد ہیں اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن ابی سلیمان ہے ‘ امام بخاری نے کہا وہ منکر الحدیث ہے ‘ (تاریخ الکبیر ج ٨ ص ٢٩٩٩) امام ابوحاتم نے کہا وہ مضطرب الحدیث ہے (الجرح والتعدیل ج ٩ ص ٦٣٨) امام ابن حبان نے اس کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔ (کتاب الثقات ج ٩ ص ٢٦٤)
امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کی آپ نے فرمایا : یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو اور مسکین کو کھانا کھلاؤ۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٨٧‘ ٢٦٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت)
اس حدیث کی سند صحیح ہے (مجمع الزوائد ج ٨ ص ١٦٠ )
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (النساء : ٣)
نکاح کی ترغیب اور فضیلت کے متعلق احادیث :
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلیے کیونکہ نکاح نظر کو زیادہ نیچے رکھتا ہے اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرتا ہے اور تم میں سے جو شخص نکاح کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے کیونکہ روزے اس کی شہوت کو کم کریں گے۔ (صحیح البخاری : رقم الحدیث : ١٩٠٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٠‘ جامع الحدیث : ١٠٨١‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٤٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٥)
امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نکاح میری سنت سے ہے۔ جس نے میری سنت پر عمل کیا۔ وہ میرے طریقہ (کاملہ) پر نہیں ہے ‘ نکاح کرو کیونکہ تمہاری وجہ سے میری امت دوسری امتوں سے زیادہ ہوگی ‘ جس کے پاس طاقت ہو وہ نکاح کرے اور جس کے پاس طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے ‘ کیونکہ روزے اس کی شہوت کو کم کریں گے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٤٦)
اس حدیث کی سند میں عیسیٰ بن میمون ایک ضعیف راوی ہے مگر اس حدیث کا ایک صحیح شاہد ہے۔
امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابو ایوب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چار چیزیں رسولوں کی سنت ہیں : ختنہ کرنا ‘ عطر لگانا ‘ مسواک کرنا اور نکاح کرنا۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے (جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٠٨٠)
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا عارضی نفع کا سامان اور اس میں بہترین نفع کی چیز نیک عورت ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٦٧‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٣٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٥٥‘ مسند احمد ج ٢ ص ١٦٨)
امام محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے خوف کے بعد مومن کے فائدہ کی سب سے اچھی چیز اس کی نیک بیوی ہے اگر وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی فرمانبرداری کرے اگر وہ اس کو دیکھے تو وہ اس کو خوش کرے اگر وہ اس پر قسم کھائے تو وہ اس کی قسم کو پورا کرے اور اگر وہ کہیں چلا جائے تو اس کی جان اور مال کی خیرخواہی کرے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ١٨٥٧)
اس حدیث کی سند میں علی بن یزید بن جدعان ضعیف ہے لیکن اس حدیث کا ایک شاہد ہے۔
امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے پاس تین شخص آئے اور انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے متعلق سوال کیا۔ جب ان کو آپ کی عبادت کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے اس کو کم گمان کیا انہوں نے کہا کہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے بہ ظاہر خلاف اولی سب کام معاف فرما دیئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو ہمیشہ ساری رات نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا میں ہمیشہ ساری عمر روزے رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور ساری عمر نکاح نہیں کروں گا۔ سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا تم لوگوں نے اس اس طرح کہا تھا بہ خدا میں تم سب لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ سو جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ میرے طریقہ (کاملہ) پر نہیں ہے۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث ‘ ٥٠٦٣ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٠١ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٧٧‘ شعب الایمان ج ٤ ص ٣٨١)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کسی عورت سے چار سبب سے نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے ‘ اس کے حسب (آباء و اجداد کا شرف اور فضیلت) کی وجہ سے ‘ اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے۔ تم اس کو اس کی دینداری کی وجہ سے طلب کرو ‘ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث ‘ ٥٠٩٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث ‘ : ١٤٦٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث ‘ : ٢٠٤٧‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث ‘ : ٣٢٣٠‘ سنن ابن ماجہ “ رقم الحدیث ‘ : ١٨٥٨‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢١٧٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٢٨‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٨٠)
امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کئی خصلتوں کی وجہ سے عورت سے نکا کیا جاتا ہے۔ اس کے حسن کی وجہ سے ‘ اس کے مال کی وجہ سے ‘ اس کے عمدہ اخلاق کی وجہ سے اور اس کی دینداری کی وجہ سے ‘ تم دیندار اور اچھے اخلاق والی سے نکاح کرو ‘ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٨٠‘ کشف الاستار عن زوائد البزار رقم الحدیث : ١٤٠٣‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٠٠٨)
امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا کی (یہ چیزیں) میرے نزدیک محبوب کی گئی ہیں۔ عورتیں ‘ خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی ہے۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٩٤٩‘ مسند احمد ج ٣ ص ٢٨٥‘ ١٩٩‘ ١٢٨‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٣٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٧٨)
امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :
ابونجیح بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نکاح کرنے کی مالی وسعت رکھتا ہو پھر نکاح نہ کرے وہ میری سنت (میرے طریقہ کاملہ) پر نہیں ہے (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٩٣‘ ج ١ ص ٥٢٨‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض ١٤٠٥ ھ)
یہ حدیث مرسل ہے اور اس کی سند حسن ہے (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٥١)
امام ابو یعلی احمد بن علی موصلی متوفی ٣٠٧ ھ روایت کرتے ہیں :
عبید بن سعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں : آپ نے فرمایا جو میری فطرت سے محبت رکھتا وہ میری سنت پر عمل کرے اور میری سنت سے نکاح ہے۔ (مسند ابویعلی رقم الحدیث ٢٧٤٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٧٨‘ الاصابہ ج ٤ ص ٢٠٤‘ شعب الایمان ج ٤ ص ٣٨١) یہ حدیث مرسل ہے (ابن حجر) اس کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٥٢)
امام احمد بن عمرو بزار متوفی ٢٩٢ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے قریش کے جوانو ! زنانہ کرو جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی اس کے لیے جنت ہے۔ (کشف الاستار عن زوائد البزار رقم الحدیث : ١٤٠١‘ المعجم الکبیر ج ١٢ ص ١٢٨ رقم الحدیث : ٢٧٧٦‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث ٦٨٤٦) اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٥٣)
امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں صدقہ جاریہ ‘ یا وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے یا نیک بیٹاجو اس کے لیے دعا کرے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣١‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٧٦‘ سنن نسائی رقم الحدیث ٣٦٥٣‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٣٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٢‘ مصابیح السنۃ ج ١ ص ١٦٧‘ رقم الحدیث : ١٥٢)
امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :
حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا مجھے ایک معزز خاندان کی خوبصورت عورت ملی ہے لیکن وہ بانجھ ہے کیا میں اس سے نکاح کرلوں ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ اس نے دوسری اور تیسری بار پوچھا آپ نے فرمایا (خاوند سے) محبت کرنے والی اور بچہ پیدا کرنے والی عورت سے نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے امتوں پر فضیلت حاصل کروں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٥٠‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٢٧‘ سنن ابی ماجہ رقم الحدیث : ١٨٦٣‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٥٤٨‘ ٣٥٤ ج ٤‘ ٣٤٩‘ ٣٥١)
نکاح کی حکمتیں اور فوائد :
(١) نکاح کے ذریعے نسل انسان کا فروغ ہوتا ہے انسان میں شہوت اس لیے رکھی گئی ہے کہ مذکر بیج کا اخراج کرے اور مونث کی کھیتی میں اس کی کاشت کرے ‘ اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس کے بغیر بھی نسل انسانی کی افزائش کرسکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا تھا کہ اسباب کا مسببات پر ترتب ہو ‘ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی وجہ سے اولاد کی طلب کی کوشش کرے اور رسول اللہ سے محبت کی وجہ سے آپ کی امت کو بڑھانے کی کوشش کرے۔
(٢) نکاح کے ذریعہ اولاد کا حصول ہوتا ہے اور انسان کو نیک اولاد کی دعائیں حاصل ہوتی ہیں جو بعض اوقات اس کی بخشش کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
(٣) انسان اولاد کی اچھی تربیت کرکے ملک وملت کی تعمیر اور استحکام کے لیے افراد مہیا کرتا ہے۔
(٤) اولاد کی وجہ سے رسول اللہ کی سیرت کے اس حصہ پر عمل کا موقعہ ملتا ہے جس کا تعلق اولاد سے ہے۔
(٥) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جن احکام کا تعلق اولاد سے ہے ان پر عمل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
(٦) اولاد کی تربیت اور پرورش کرکے مسلمان اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا مظہر ہوجاتا ہے۔
(٧) جب انسان بوڑھا ہوجاتا ہے تو اولاد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔
(٨) بچوں کی وجہ سے انسان کا گھر میں دل بہلتا ہے انسان بیمار ہو تو بچے اس کی تیمار داری کرتے ہیں۔
(٩) بچوں کی کفالت کی وجہ سے انسان کے دل میں زیادہ سے زیادہ محنت کرنے اور کمانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس سے ملک وملت کی تعمیر اور ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔
(١٠) بچوں کی وجہ سے انسان کے دل میں رحم اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔
(١١) شادی شدہ شخص معاشرہ میں الگ تھلگ نہیں رہتا اور اس کی عزت اور توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی معاشرتی اور تمدنی زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
(١٢) اولاد کی شادی بیاہ کی وجہ سے نئی نئی رشتہ داریاں پیدا ہوتی ہیں
(١٣) بچے اگر کم عمری میں فوت ہوجائیں تو وہ ماں باپ کی شفاعت کرتے ہیں اور ان کی مغفرت کا سبب بن جاتے ہیں۔
(١٤) ماں باپ کی تعلیم کی وجہ سے اولاد جو نیکیاں کرتی ہے ان کا اجر ماں باپ کو ملتا رہتا ہے۔
(١٥) بعض اوقات اولاد کی نیکیوں سے ماں باپ کی مغفرت ہوجاتی ہے۔
(١٦) نکاح کے ذریعہ انسان کی شہوت کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور وہ شیطان کے شر سے محفوظ ہوجاتا ہے اس کی نظر پاکیزہ ہوجاتی ہے اور وہ بدکاریوں سے بچا رہتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نکاح کرتا ہے وہ اپنے نصف دین کو محفوظ کرلیتا ہے سو باقی نصف دین کو محفوظ کرنے کے لئے خدا سے ڈرنا چاہیے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٦٤٣)
(١٧) انسان کو بیوی کے ذریعہ سکون ملتا ہے :
(آیت) ” ھو الذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منھا زوجھا لیسکن الیہا “۔ (الاعراف : ١٨٩)
ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے۔
(١٨) نکاح کی وجہ سے انسان پر اس کی بیوی اور بچوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور ان کے حقوق و فرائض اس کے ساتھ متعلق ہوجاتے ہیں اور اس کی قوت عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔
(١٩) انسان اپنے اہل اور عیال کی مصروف ہوتا ہے اور جو شخص صرف اپنی اصلاح میں منہمک ہو اس سے اس کا درجہ بہت زیادہ ہے جو اپنے اہل و عیال کی اصلاح میں بھی مشغول ہو۔
(٢٠) حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اچھی طرح نماز پڑھتا ہو اس کے بچے زیادہ ہوں اور مال کم ہو اور وہ شخص مسلمانوں کی غیبت نہ کرتا ہو میں اور وہ جنت میں ایک ساتھ ہوں گے۔ (کنزالعمال ‘ رقم الحدیث : ٤٣٤٧٨)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب کسی شخص کے گناہ زیادہ ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو بال بچوں کے غم میں مبتلا کردیتا ہے۔ (مسند احمدج ٢ ص ١٥٧)
حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں یا دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا اپنی دو رشتہ دار لڑکیوں پر خرچ کیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اپنے فضل سے غنی کردیا یا ان سے کفایت کردی تو وہ اس کے لئے دوزخ سے حجاب ہوجائیں گی۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ رقم الحدیث : ٣٩٢)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں سے فرمایا تم میں سے جو عورت تین نابالغ بچوں کی موت پر صبر کرے گی وہ اس کے لئے دوزخ سے حجاب بن جائیں گے ایک عورت نے پوچھا اور دو پر ؟ فرمایا دو پر۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٠١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٣٣‘ جامع ترمذی رقم الحدیث : ١٠٥٩‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٨٧٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٠٥‘ مسند احمد ج ١ ص ٣٧٥‘ ٤٢٩‘ ٤٥١‘ ج ٢ ص ٢٧٦)

29/09/2021
21/09/2021

We are providing the best Online Quran education in our Academy.
Contact us:
+923066444726

20/09/2021

Good opportunity for learning online Quran
آنلائن قرآن سیکھنے کا بہترین موقع.

18/09/2021

Assalam o Alikum
Are you looking ONLINE FEMALE/MALE QURAN TUTOR for your kids ?

We are providing online Quran classes through skype/zoom in all countries.
We teach followings :
*Noorani Qaida
*Naazra Quran with Tajweed
*Quran Translations
*Namaz (Salah)
*Dua's
*Six kalma's
*Basic Islamic knowledge
*Ahadees

You'll get :
👩‍💻One to one online classes
🕜Adjustable timings
🆓3 days trial classes for your satisfaction
WhatsApp: +923066444726
JAZAK-ALLAH

16/09/2021

سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 2

تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یہ) وہ عظیم الشان کتاب ہے جس (کے کلام اللہ ہونے) میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے (البقرہ : ٢)
سورة فاتحہ کے بعد سورة بقرہ لانے کی مناسبت یہ ہے کہ سورة فاتحہ میں اللہ کے بندوں نے اللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت کا سوال کیا تھا جو انعام یافتہ لوگوں کا راستہ ہو ‘ گمراہ اور مغضوب لوگوں کا راستہ نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس ہدایت کا تم نے سوال کیا ہے وہ اس کتاب میں ہے اور اس میں انعام یافتہ لوگوں کی صفات بیان کیں کہ وہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں ‘ غیب پر ایمان لاتے ہیں ‘ نماز قائم رکھتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر جو کتاب نازل کی گئی اور آپ سے پہلے جو کتابیں نازل کی گئیں ان سب پر یقین رکھتے ہیں اور یہی لوگ دنیا میں ہدایت یافتہ ہیں اور آخرت میں فوز و فلاح پانے والے ہیں ‘ پھر گمراہ اور مغضوب لوگوں کی نشانیاں بیان کیں کہ ان لوگوں پر تبلیغ دین کا کوئی اثر نہیں ہوتا ‘ یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ‘ یہ کلمہ حق کو سننے کے لیے بہرے ہیں ‘ اعتراف حق کے لیے گونگے ہیں ‘ آیات اللہ کو بہ غوردیکھنے سے اندھے ہیں ‘ ان کی آنکھوں پر بغض اور عناد کی پٹی بندھی ہوئی ہے اور حق و صداقت کی طرف رجوع نہیں کریں گے۔
عربی قواعد کے مطابق ” ذالک “ کسی بعید چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے اور یہاں کتاب کی طرف اشارہ ہے جو قریب ہے لیکن یہاں بعد رتبہ کو بعد مسافت کے قائم مقام کیا گیا ہے ‘ اس لیے اس کا معنی ہے : وہ عظیم الشان کتاب :
کتاب کا لغوی اور اصطلاحی معنی :
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
کتب کا معنی ہے چمڑے کے دو ٹکڑوں کو سی کر ایک دوسرے کے ساتھ ملا دینا ‘ اور عرف میں اس کا معنی ہے : بعض حروف کو لکھ کر بعض دوسرے حروف کے ساتھ ملانا ‘ اور کبھی صرف ان ملائے ہوئے حروف پر بھی کتاب کا اطلاق ہوتا ہے اسی اعتبار سے اللہ کے کلام کو کتاب کہا جاتا ہے اگرچہ وہ لکھا ہوا نہیں ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” الم ذالک الکتاب “ کتاب اصل میں مصدر ہے ‘ پھر مکتوب کا نام کتاب رکھ دیا گیا ‘ نیز کتاب اصل میں لکھے ہوئے صحیفہ کا نام ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیہم کتبا من السمآء : (النساء : ١٥٣) (ترجمہ) اھل کتاب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ ان پر آسمان سے کوئی صحیفہ نازل کردیں۔
فرض اور تقدیر کے معنی میں کتاب کا لفظ مستعمل ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا کتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم ‘(البقرہ : ١٨٣) اے ایمان والو ! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا۔
(آیت) ” قل لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا “ (التوبہ : ٥١) (ترجمہ) آپ کہیے : ہمیں صرف وہی چیز پہنچے گی ‘ جو ہمارے لیے اللہ نے مقدر کردی ہے۔
کتاب کا لفظ بنانے اور شمار کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” فاکتبنا مع الشھدین (آل عمران : ٥٣) (ترجمہ) سو گواہی دینے والوں کے ساتھ ہمارا شمار کرلے
اللہ کی طرف سے حجت ثابتہ کے معنی میں بھی کتاب کا لفظ مستعمل ہے ‘ قرآن کریم میں ہے :
(آیت) ” ام اتینہم کتبا من قبلہ “۔ (الزخرف : ٢١) (ترجمہ) کیا ہم نے اس (قرآن) سے پہلے انہیں کوئی حجت ثابتہ دی ہے ؟
(آیت) ” فاتوا بکتبکم ان کنتم صدقین (الصافات : ١٥٧) تم اپنی حجت ثابۃ لے آؤ اگر تم سچے ہو
کتاب کا لفظ حکم کے معنی میں بھی وارد ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” لولا کتب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم (الانفال : ٦٨) (ترجمہ) اگر پہلے (معاف کردینے کا) حکم ‘ اللہ کی طرف سے نہ ہوتا تو (کافروں سے) جو (فدیہ کا مال) تم نے لیا تھا ‘ تمہیں اس میں ضرور بڑا عذاب پہنچتا
قرآن مجید میں جہاں اہل کتاب کا لفظ آتا ہے تو اس کتاب سے تورات ‘ انجیل یا یہ دونوں کتابیں مراد ہوتی ہیں۔ (المفردات ص ٤٢٥۔ ٤٢٣‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
کتاب کا اصطلاحی معنی یہ ہے : وہ صحیفہ جو ایسے متعدد مسائل جامع ہو جو جنسا متحد ہوں اور نوعا اور صنفا مختلف ہوں اور وہ صحیفہ ابواب اور فصول پر منقسم ہو ‘ جیسے کتاب الطہارۃ ‘ کتاب الزکوۃ وغیرہ۔
اس آیت میں کتاب سے مراد آسمانی صحیفہ ہے یعنی قرآن مجید۔
” ریب “ کا معنی :
علامہ زیبدی (رح) لکھتے ہیں :
” ریب “ کا معنی حاجت ہے ‘ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے کچھ یہودی گزرے ‘ بعض نے کہا : ان سے سوال کرو ‘ اور بعض نے کہا : ” مارابکم الیہ “ تمہیں ان سے سوال کی کیا حاجت ہے ؟ اور ریب کا معنی شک اور تہمت بھی ہے ‘ ابن الاثیر (رح) نے کہا ہے کہ ریب اس شک کو کہتے ہیں جس میں تہمت کا عنصر شامل ہو ‘ حدیث میں ہے : جس چیز میں ریب ہو اس کو چھوڑ دو اور اس کو اختیار کرو جس میں ریب نہ ہو ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) کو وصیت کی : ” علیک بالرائب من الامور “ جس چیز میں بالکل شبہ نہ ہو اس کو لازم کرلو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) کے بارے میں فرمایا ” یریبنی مایریبھا “ جو چیز (حضرت) فاطمہ (رض) کو بےقرار کرتی ہے ‘ وہ مجھے بےقرار کرتی ہے اور ” تہذیب “ میں ہے : شک مع تہمت کو ” ریب “ کہتے ہیں۔ (تاج العروس ج ١ ص ٢٨٣۔ ٢٨٢‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
قرآن مجید میں ” ریب “ کی نفی اور اثبات کا محمل :
شک کی حقیقت ہے : کسی چیز کا دل میں کھٹکنا اور دل کا مضطرب ہونا، شک کی ضد طمانیت ہے ‘ آیت کا معنی یہ ہے کہ اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں ‘ اس کی ہدایت اور ارشاد میں ‘ فصاحت اور بلاغت کے لحاظ سے اس کے معجز اور بےمثال ہونے میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” وان کنتم فی ریب ممانزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ “ (البقرہ ؛ ٢٣) (ترجمہ) اور جو کلام ہم نے اپنے عبد (مقدس) پر نازل کیا ہے ‘ اگر تم کو اس (کے منزل من اللہ ہونے) میں شک ہے تو اس جیسی کوئی سورت (بنا کر) لے آؤ۔
اس آیت سے یہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کو اس میں شک تھا، اور پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ اس کا جواب یہ کہ فی نفسہ قرآن مجید فصاحت و بلاغت کے ایسے مرتبہ پر ہے کہ اس کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی تردد نہیں ہے، اور جو شخص بھی کھلے ہوئے ذہن اور بصیرت کی آنکھوں سے اس کو پڑھے گا یابہ غور اس کلام کو سنے گا اس کو اس کے کلام اللہ ہونے میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہوگا ‘ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی شخص اس میں شک نہیں کرتا بلکہ اس آیت کا مطب یہ ہے کہ اپنے واضح اور روشن دلائل کی وجہ سے یہ شک کا محل نہیں ہے اور اس میں تردو کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود اگر کفار اور مشرکین اس میں شک کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان کی بصیرت سے محرومی ہے ‘ خواہش نفس کی اتباع ‘ تکبر اور ہٹ دھرمی ہے ‘ اور اپنے اباء و اجداد کی اندھی تقلید ہے ‘ انہوں نے اپنے دماغ کے دریچے بند کرلیے ہیں اور وہ کسی نئی فکر کو اپنے ذہن میں آنے نہیں دیتے۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ” فیہ “ ” ریب “ کی صفت ہے اور ” للمتقین “ اس کی خبر ہے اور معنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ (کتاب) متقین کے لیے ہدایت ہے (البقرہ : ٢)
آیا قرآن مجید تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے یا صرف متقین کے لیے ؟:
اس جگہ فرمایا کہ قرآن مجید متقین کے لیے ہدایت ہے ‘ اور ایک اور جگہ فرمایا ہے کہ یہ تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے :
(آیت) ” شھر رمضان الذی انزل فیہ القران ھدی للناس “۔ (البقرہ : ١٨٥) (ترجمہ) رمضان کے مہینہ میں قرآن کو نازل کیا گیا ہے درآں حالیکہ وہ تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے :
قرآن مجید کی صراط مستقیم پر دلالت ہے اور متقین کو قرآن مجید کے احکام پر عمل کی توفیق بھی نصیب ہوتی ہے وہ قرآن مجید کے انوار سے مستنیر اور مستفید ہوتے ہیں اور قرآن مجید میں تدبر اور تفکر کرنے سے ان کے دماغ کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں اور غیر متقین کیلیے بھی قرآن کریم ہدایت ہے، نیکی اور دنیا کی خیر کی طرف رہنمائی ہے، اگرچہ وہ اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے اور اس کیا حکام پر عمل کرکے اپنی دنیا اور آخرت کو روشن نہیں کرتے ‘ اور جن کفار اور مشرکین نے قران مجید کی ہدایت کو قبول نہیں کیا ‘ اس سے قرآن مجید کے ہدایت ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ اگر اندھا آفتاب کو نہ دیکھے تو اس سے آفتاب کے روشن ہونے میں کیا فرق پڑتا ہے اور صفراوی مزاج والا اگر شہد کی شیرینی محسوس نہ کرے تو اس سے شہد کی مٹھاس میں کیا کمی ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں جہاں فرمایا ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے اس سے مراد یہ ہے کہ فی نفسہ قرآن مجید کی ہدایت تمام انسانوں کے لیے ہے اور یہاں جو فرمایا ہے کہ یہ متقین کے لیے ہدایت ہے اس سے مراد یہ ہے کہ نتیجہ اور مال کار یہ متقین ہی کے لیے ہدایت ہے کیونکہ اس ہدایت سے وہی فیضیاب ہوتے ہیں ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں تعارض نہیں ہیں کیونکہ حقیقت میں انسان وہی ہیں جو متقی ہیں اور رہے غیر متقی تو وہ اس آیت کا مصداق ہیں :
(آیت) ” ولقد ذرانا لجھنم کثیرا من الجن والانس لہم قلوب الیفقھون بھا ولھم اعین لا یبصرون بھا ولھم اذان لایسمعون بھا اولئک الانعام بل ھم اضل اولئک ھم الغفلون (الاعراف : ١٧٩) (ترجمہ) اور بیشک ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور انسان پیدا کیے ‘ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے (بھی) زیادہ گمراہ ہیں وہی غافل ہیں
اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ قرآن تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے لیکن چونکہ متقی انسانوں کے اعلی افراد ہیں ‘ اس لیے ان ہی کا تشریفا اور تکریما ذکر کیا گیا ہے۔
تقوی کا صیغہ اور اس کا لغوی معنی :
علامہ زیبدی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
ابن سیدہ نے کہا ہے کہ ” تقوی “ اصل میں ” وقوی “ تھا یہ فعلی کے وزن پر اسم (حاصل بالمصدر) ہے اور وقیت “ سے بنا ہے واؤ کو تا سے بدل دیا ‘ یہ ” تقوی “ ہوگیا اسی طرح ” تقاۃ “ اصل میں ” وقاۃ “ ہے اور ” تجاہ “ اور ” تراث “ اصل میں ” وجاہ “ اور ” وراث “ ہیں ” وقاہ یقیہ “ کا معنی ہے : کسی چیز کو اذیت سے محفوظ رکھنا اور اس کی حمایت اور حفاظت کرنا ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” سالھم من اللہ من واق “ (الرعد : ٣٤) ” انہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہے : (تاج العروس ج ١٠ ص ٣٩٦‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :
تقوی کا معنی ہے : کسی ڈرانے والی چیز سے نفس کو بچانا اور اس کی حفاظت کرنا ‘ اور کبھی خوف کو بھی تقوی کہتے ہیں اور اس کا شرعی معنی ہے : گناہ کی آلودگی سے نفس کی حفاظت کرنا ‘ اور یہ ممنوعہ کاموں کے ترک سے حاصل ہوتا ہے ‘ اور کامل تقوی تب حاصل ہوتا ہے جب بعض مباحات کو بھی ترک کردیا جائے جیسا کہ حدیث میں ہے : حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے ‘ سو جو شخص مشتبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا ‘ الحدیث۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٣، طبع کراچی) تقوی کے کئی مراتب ہیں جو حسب ذیل آیات سے ظاہر ہوتے ہیں :
(آیت) ” فمن اتقی واصلح فلاخوف علیہم ولا ھم یحزنون (الاعراف : ٣٥)
(ترجمہ) پس جو لوگ گناہوں سے باز رہے اور انہوں نے نیکیاں کیں تو ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے
(آیت) ” اتقوا اللہ حق تقتہ، (آل عمران : ١٠٢)
(ترجمہ) اور اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
(آیت) ” وسیق الذین اتقوا ربہم الی الجنۃ زمرا “۔ (الزمر : ٧٣)
(ترجمہ) اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ جنت کی طرف گروہ در گروہ بھیجے جائیں گے۔ (المفردات ص ٥٣١۔ ٥٣٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
تقوی کا اصلاحی معنی :
علامہ میر سید شریف نے تقوی کی حسب ذیل تعریفات لکھی ہیں :
اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے نفس کو عدم اطاعت کے عذاب سے بچانا تقوی ہے اللہ تعالیٰ کی معصیت کے عذاب سے نفس و بچانا تقوی ہے اللہ تعالیٰ کے ماوسوا سے خود کو محفوظ کرنا تقوی ہے ‘ آداب شریعت کی حفاظت کرنا تقوی ہے ‘ ہر وہ کام جو تم کو اللہ سے دور کر دے اس سے خود کو باز رکھنا تقوی ہے ‘ حظوظ نفسانیہ کو ترک کرنا اور ممنوعات سے دور رہنا تقوی ہے ‘ تم اپنے نفس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہ دیکھو یہ تقوی ہے ‘ تم اپنے آپ کو کسی سے بہتر گمان نہ کرو یہ تقوی ہے ماسوی اللہ کو ترک کرنا تقوی ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قولا اور فعلا اقتداء کرنا تقوی ہے۔ (کتاب التعریفات ص ٣٩‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
تقوی کا معنی ہے : کسی ناپسندیدہ چیز سے خود کو بچانے کے لیے اپنے اور اس چیز کے درمیان کوئی آڑ بنا لینا ‘ اور متقی وہ شخص ہے جو اپنے نیک اعمال اور پرخلوص دعاؤں سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب بچا لے ‘ زربن جیش کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے ایک دن فرمایا : لوگ بہت ہیں لیکن ان میں بہتر وہ ہیں جو تائب ہوں یامتقی ہوں ‘ پھر ایک دن کہا : لوگ بہت ہیں لیکن ان میں بہتر وہ ہیں جو عالم ہوں یا متعلم ہوں ‘ ابویزید بسطامی (رح) نے کہا : متقی وہ ہے جس کا ہر قول اور ہر عمل اللہ کے لیے ہو ابوسلیمان دارانی (رح) نے کہا : متقی وہ ہے جس کے دل سے شہوات کی محبت نکال لی گئی ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ متقی وہ ہے جو شرک سے بچے اور نفاق سے بری ہو ‘ ابن عطیہ نے کہا : یہ غلط ہے کیونک فاسق بھی اسی طرح ہوتا ہے ‘ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے تقوی کے متعلق سوال کیا ‘ انہوں نے کہا : کیا آپ نے کانٹوں ولا راستہ دیکھا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : ہاں پوچھا : پھر آپ نے کیا کہا ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : میں نے پائچے اوپر اٹھائے اور ان سے بچ کر نکلا ‘ حضرت ابی بن کعب (رض) نے کہا : یہی تقوی ہے ‘ حضرت ابودرداء (رض) نے کہا : تقوی ہر قسم کی خیر کا جامع ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اولین اور آخرین کی وصیت کی ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ١٦٢۔ ١٦١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
امام رازی (رح) لکھتے ہیں :
متقی وہ شخص ہے جو عبادات کو انجام دے اور ممنوعات سے بچے اس میں اختلاف ہے کہ گناہ صغیرہ سے بچنا بھی تقوی میں داخل ہے یا نہیں، حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک متقین کے درجہ کو نہیں پاسکتا جب تک ان چیزوں کو ترک نہ کر دے جن میں حرج نہ ہو اس خوف سے کہ شاید ان میں حرج ہو ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : متقی وہ لوگ ہیں جو عذاب سے بچنے کے لیے خواہش نفس پر عمل نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتے ہیں۔
امام رازی (رح) فرماتے ہیں : یہاں تقوی سے مراد خوف خدا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة نساء اور سورة حج کی ابتداء میں فرمایا :
(آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم “ (النساء : الحج : ١)
ترجمہ : اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو۔
حسب ذیل آیات میں بھی تقوی سے مراد خوف خدا ہے :
(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم نوح الا تتقون (الشعراء : ١٠٦)
ترجمہ : جب ان کے ہم قوم نوح (علیہ السلام) نے ان سے کہا :
(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم ھود الا تتقون (الشعراء : ١٢٤)
ترجمہ : جب ان کے ہم قوم ھودعلیہ السلام نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟
(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم صلح الا تتقون (الشعراء : ١٤٢)
ترجمہ : جب ان کے ہم قوم صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟
(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم لوط الا تتقون (الشعراء : ١٦١)
ترجمہ : جب ان کے ہم قوم لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟
(آیت) ” اذ قال لہم اخوھم شعیب الا تتقون (الشعراء : ١٧٧)
ترجمہ : جب شعیب (علیہ السلام) نے ان سے کہا : کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے ؟
(آیت) ” وابرھیم اذ قال لقومہ اعبدوا اللہ واتقوہ (النکبوت : ٦١)
ترجمہ : اور ابرہیم نے جب اپنی قوم سے کہا : اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔
(آیت) ” اتقوا اللہ حق تقتہ۔ (آل عمران : ١٠٢)
ترجمہ : اور اللہ نے انہیں کلمہ توحید پر مستحکم کردیا۔
(آیت) ” ولوان اھل القری امنوا واتقوا (الاعراف : ٩٦)
ترجمہ : اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور توبہ کرتے۔
(آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون (النحل : ٢)
ترجمہ : لوگوں کو ڈراؤ کہ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ سو میری اطاعت کرو
(آیت) ” واتوالبیوت من ابوابھا، واتقواللہ (البقرہ : ١٨٩)
ترجمہ : اور گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو اور اللہ کی نافرمانی نہ کرو۔
(آیت) ” ومن یعظم شعآئر اللہ فانھا من تقوی القلوب (الحج : ٣٢)
ترجمہ : اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو یہ دلوں کے اخلاص سے ہے
تقوی کا مقام بہت عظیم اور بلند ہے کیونک اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” ان اللہ مع الذین اتقوا (النحل : ١٢٨)
ترجمہ : بیشک اللہ متقین کے ساتھ ہے۔
(آیت) ” ان اکرمکم عنداللہ اتقکم “ (الحجرات : ١٣)
ترجمہ : بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ مکرم ہو وہ اللہ سے ڈرئے اور حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے فرمایا : معصیت پر اصرار نہ کرنا ‘ اور عبادت پر مغرور نہ ہونا ‘ تقوی ہے ‘ ابراہیم بن ادھم (رح) نے کہا : تقوی یہ ہے کہ تمہاری زبان پر مخلوق کا عیب نہ ہو ‘ فرشتے تمہارے افعال میں عیب نہ پائیں اور اللہ تعالیٰ تمہارے دل میں کوئی عیب نہ دیکھے ‘ علامہ واقدی (رح) نے کہا : تقوی یہ ہے کہ جس طرح تم اپنے ظاہر کو مخلوق کیلیے مزین کرتے ہو ‘ اس طرح اپنے باطن کو اللہ کے لیے مزین کرو ‘ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو وہاں نہ دیکھے جہاں اس نے منع کیا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کو اپنائے اور دنیا کو پس پشت ڈال دے، اپنے نفس کو اخلاص اور وفا کا پابند کرے اور حرام اور جفا سے اجتناب کرے وہی متقی ہے اور اگر ” ..........“ کے سوا متقین کی فضیلت میں اور کوئی آیت نہ ہوتی تو یہی آیت کافی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یا ”............“ فرمایا ہے اور اس کے ”.......“ فرمایا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ حقیقت میں انسان وہی ہے جو متقی ہو۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ١٦٢۔ ١٦١ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
تقوی اور متقین کے متعلق احادیث :
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عطیہ سعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی بندہ اس وقت تک متقین میں سے شمار نہیں ہوگا جب تک کہ وہ بےضرر چیز کو اس خوف سے نہ چھوڑ دے کہ شاید اس میں ضرر ہو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (جامع ترمذی ص ٣٥٤‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ‘ تناجش (کسی کو پھنسانے کے لیے زیادہ قیمت لگانا) نہ کرو ‘ ایک دوسرے سے بعض نہ رکھو ‘ ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ‘ کسی کی بیع پر بیع نہ کرو ‘ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ ‘ مسلمان ‘ مسلمان کا بھائی ہے ‘ اس پر ظلم نہ کرے ‘ اس کو رسوا نہ کرے ‘ اس کو حقیر نہ جانے ‘ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے تین بار فرمایا : تقوی یہاں ہے ‘ کسی شخص کے برے ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو براجانے ‘ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر مکمل حرام ہے ‘ اس کا خون اس کا مال اور اس کی عزت۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣١٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابی بن کعب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ”.........“ کی تفسیر میں فرمایا ”.........“۔ (جامع ترمذی ص ٤٧٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام دارمی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا رب یہ فرماتا ہے کہ میں ہی اس بات کا مستحق ہوں کہ مجھے سے ڈرا جائے سو جو شخص مجھ سے ڈرے گا تو میری شان یہ ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٢١٢‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)
حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے ایک ایسی آیت کا علم ہے کہ اگر لوگ صرف اسی آیت پر عمل کرلیں تو وہ ان کے لیے کافی ہوگی ‘ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ (سنن دارمی ج ٢ ص ٢١٣‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)
امام احمد روایت کرتے ہیں :
ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے ایام تشریق کے وسط میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطبہ سنا اس نے یہ حدیث بیان کی ‘ آپ نے فرمایا : اے لوگو ! سنو تمہارا رب ایک ہے ‘ تمہارا باپ ایک ہے ‘ سنو ! کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں ہے ‘ نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے ‘ نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے ‘ نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے ‘ مگر فضیلت صرف تقوی سے ہے (مسند احمد ج ٥ ص ٤١١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت)
حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید اس سال کے بعد تم مجھ سے ملاقات نہیں کرو گے ‘ حضرت معاذ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فراق کے صدمہ میں رونے لگے ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میرے سب سے زیادہ قریب متقی ہوں گے خواہ وہ کوئی ہوں اور کہیں ہوں (مسند احمد ج ٥ ص ‘ ٢٣٥ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت)
تقوی کے مراتب :
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید کا متقین کے لیے ہدایت ہونا تحصیل حاصل ہے کیونکہ متقین تو خود ہدایت یافتہ ہیں ‘ اس کے کئی جواب ہیں ‘ پہلا جواب یہ ہے کہ متقین سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ تقوی حاصل کرنے کا ارادہ کریں سو یہ کتاب ان کے لیے ہدایت ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہدایت سے مراد ہدایت پر دوام اور ثبات ہے یعنی اس کتاب کے مطالعہ اور اس پر عمل کرنے سے متقین کو ہدایت پر دوام اور ثبات حاصل ہوگا ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ تقوی کے کئی مراتب ہیں : (١) نفس کی کفر اور شرک سے حفاظت کرنا ‘ (ب) نفس کی گناہ کبیرہ سے حفاظت کرنا (ج) نفس کی گناہ صغیرہ سے حفاظت کرنا (د) نفس کی خلاف سنت سے حفاظت کرنا (ھ) نفس کی خلاف اولیٰ سے حفاظت کرنا (و) نفس کی ماسوی اللہ سے حفاظت کرنا ‘ سو جو شخص تقوی کے کسی ایک مرتبہ پر فائزہو یہ کتاب اس کے لیے تقوی کے اگلے مرتبہ کے لیے ہدایت ہے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore
54000