*درود شریف کے اندر ایک پورا نظام پوشیدہ ہے*
ہم اپنی لغت میں اسے ’’ نظام محبت‘‘ اور ’’ نظام رحمت‘‘ کہہ سکتے ہیں…
درودشریف پڑھتے ہی یہ پورا نظام حرکت میں آجاتا ہے…
مختصر طور پر اس نظام کو سمجھ لیں… درودشریف پڑھنے والے نے … اللہ تعالیٰ سے محبت کا ثبوت دیا…
کیونکہ درودشریف پڑھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے…
*یہ ہوئی پہلی محبت…*
درود شریف پڑھنے والے نے حضور اقدس ﷺ سے محبت کا ایک حق ادا کیا… یہ محبت ایمان کے لئے لازمی ہے…
جب تک رسول اللہ ﷺ کی محبت … ہمیں ہر چیز سے بڑھ کر حاصل نہیں ہوگی… اس وقت تک ہمارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا… اعتبار والا ایمان وہی ہے جس میں حضور اقدسﷺ سے محبت… سب سے بڑھ کر ہو…
ہمیں حضور اقدس ﷺ کی ظاہری صحبت حاصل نہیں ہوئی …
مگر ہم آپ ﷺ کی محبت تو پا سکتے ہیں… یہ محبت ہمیں جس قدر زیادہ نصیب ہوگی اسی قدر ہمارے دل میں…
آپﷺ کی زیارت، شفاعت، صحبت اور تذکرے کا شوق بڑھے گا… درودشریف میں بندہ اپنی اسی محبت کا اظہار کرتا ہے… تو یہ ہوئی دوسری محبت…
ہم نے محبت سے درود شریف پڑھا تو… درودشریف کی خدمت پر مامور ملائکہ نے اسے محبت سے اُٹھایا اور سنبھالا … ان عظیم ملائکہ یعنی فرشتوں کے عجیب و مختلف حالات حدیث شریف کی کتابوں میں آئے ہیں… یہ معزز فرشتے درود شریف کو اُٹھانے، سنبھالنے اور پہنچانے کی خدمت انجام دیتے ہیں …
بہت تیزی اور محبت سے سر انجام دیتے ہیں…
فرشتوں کو درودشریف سے محبت ہے…
اس کا ثبوت قرآن مجید میں موجود ہے…
*یہ ہوئی تیسری محبت*
پھر اللہ تعالیٰ نے ایک وسیع طاقت اور سماعت رکھنے والا ایک فرشتہ (ایک روایت میں دو فرشتے) مقرر فرما رکھا ہے… جو درودشریف پڑھنے والے کو … بڑی محبت بھری دعا دیتا ہے اور کہتا ہے ’’ غفرانک اللّٰہ ‘‘…
اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے… فرشتے کی اس دعاء پر دیگر فرشتے آمین کہتے ہیں … اور اللہ تعالیٰ اس دعا کو قبول فرماتا ہے…
*یہ ہوئی چوتھی محبت…*
فرشتوں نے یہ درودشریف حضور اقدس ﷺ تک… درود شریف پڑھنے والے کی ولدیت کے ساتھ پہنچا دیا کہ…
یا رسول اللہ ﷺ ! فلاں بن فلاں نے آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجا ہے… آپ ﷺ اس صلوٰۃ و سلام کا محبت کے ساتھ جواب ارشاد فرماتے ہیں … سبحان اللہ! حضرت آقا مدنی ﷺ کا جواب … آپ ﷺ کی ہمارے لیے دعاء رحمت… اور ہمارے لیے سلام… *یہ ہوئی پانچویں محبت…*
اب ان پانچ محبتوں کے بعد… محبت کے مے خانہ کا اصل دور شروع ہوتا ہے … وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ توجہ خاص فرماتا ہے… اور پھر اس بندے پر محبت اور رحمت کی بارش فرما دیتا ہے…
*دس خاص رحمتوں کا نزول… دس درجات کی بلندی …*
*دس گناھوں کی معافی… اور معلوم نہیں کیا کیا انعامات…*
تو زمین سے لے کر عرش تک… کیسا زبردست ’’نظام محبت و رحمت‘‘ متحرک ہو گیا… اب جس بندے کو یہ نعمت نصیب ہوئی… اس کا کون سا مسئلہ ہے جو حل نہیں ہوگا اور کون سی پریشانی ہے جو دور نہیں ہوگی
Live Islamic institute
Aassalamoalaikum
Live Islamic institute
Easy way to learn Quran
We Teach All Over The World Almost
16/02/2024
*فرشتہ نما انسان*
آج مجھے اپنی زندگی کی پہلی کمائی ملنے والی تھی. تین ماہ کی تنخواہ ایک ساتھ ملی اور ساتھ چھٹی بھی مل گئی. گھر پہنچا تو عید کا سماں تھا. ماں باپ بہن بھائی سب بہت خوش تھے. میں نے ساری رقم والدہ کے ہاتھ پر رکھ دی. والدہ نے رقم کا تیسرا حصہ راہ خدا میں خرچ کرنے کی نیت سے علیحدہ کیا اور کہا کہ اس رقم سے ایک بیوہ عورت کے گھر راشن خرید کر پہنچا دینا جو دور کے ایک محلے میں رہتی تھی. میں اسی وقت گیا اور راشن خرید کر لایا. گھر میں میرے لئے پر تکلف طعام کا انتظام کیا گیا تھا. بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر لذیذ کھانوں کے مزے اڑائے اور سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کی غرض سے رضائی میں گھس گیا. آنکھیں نیند سے بوجھل ہو رہی تھیں کہ اچانک اس بیوہ عورت اور اسکے یتیم بچوں کا خیال آیا. ارادہ کیا کہ ابھی جاؤں اور سامان پہنچا آؤں, طبیعت میں سستی تھی سوچا کل پہنچا دوں گا. لیکن بعد میں خیال آیا میں تو پر تکلف کھانے کا مزا لے چکا کہیں وہ بچے بھوکے نہ ہوں. اسی وقت لحاف سے نکلا, ایک چادر اوڑھی, تھیلا کاندھے پر رکھا اور اسکے گھر کی طرف نکل پڑا.
شدید سردی تھی, دھند بھی زیادہ تھی اور بھاری تھیلا اٹھانے میں بھی کچھ دقت ہو رہی تھی. ایک دور محلے میں اس عورت کا گھر تھا. اسکا شوہر مزدوری کرتا تھا اور چار بچے تھے. ایک ناگہاں حادثے میں شوہر کی موت ہو گئی اور اب اسکے یتیم بچوں پر دست شفقت رکھنے والا کوئی نہ تھا. قسمت بھی بہت ستم ظریف ہے. کبھی ایسے لوگوں کو لپیٹ میں لے لیتی ہے جنکا خدا کے سوا کوئی نہیں ہوتا.
خیالات کا اک سمندر لئے اس بیوہ عورت کے گھر کے باہر پہنچا. گھر کیا تھا بلکہ ایک خرابہ تھا. ایک کمرہ, چھوٹا سا صحن اور ایک خمیدہ سی چار دیواری تھی. دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک 5 سالہ بچی باہر آئی. جسکے چہرے پر پریشانی, خوف اور بھوک نمایاں تھی. میں اسکے چہرے کو تکے جا رہا تھا اور دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ خدا کسی بچے پر ایسا وقت نہ لائے. اس بچی نے ایک پرانا سا جوڑا پہنا ہوا تھا اور ایک شدید سردی میں ایک پھٹی پرانی جرسی پہنی ہوئی تھی . پاؤں برہنہ تھے وہ بھی اس سردی میں کہ پیروں کو جما کہ رکھ دے. میں نے کچھ کہے سنے بغیر راشن والا تھیلا زمین پر رکھا. تھیلے کو دیکھتے ہی وہ بولی,"کیا اس میں کھانے کا سامان ہے؟"
یہ سننا تھا کہ میں حیران ہو گیا. ایک بار پھر اس نے یہی سوال دہرایا. میں نے مثبت انداز میں سر ہلایا. وہ بچی خوشی کے مارے چیختی چلاتی ماں کہ طرف بھاگی اور یہ کہے جا رہی تھی "امی فرشتہ آگیا, امی فرشتہ آگیا, امی فرشتہ آگیا " اور پھر دو اور چھوٹے چھوٹے بچے خوشی مارے دروازے پر دوڑے چلے آئے. کبھی مجھے دیکھتے کبھی اس تھیلے کو اور خوشی سے لوٹ پوٹ ہوئے جا رہے تھے.
میری آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے, ہونٹ کپکپا رہے تھے اور جسم میں ایک سرد لہر سی دوڑ رہی تھی. خدایا یہ کیا ماجرا ہے؟ کیوں یہ بچے مجھ گناہگار کو فرشتہ سمجھ بیٹھے ہیں. انہی سوچوں میں غلطان تھا کہ ایک خاتون جو انکی ماں تھی دروازے پر آئی اور دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہوکر روہانسی آواز میں یہ کہنے لگی.
میرے بچے دو دن سے بھوکے تھے. غیرت گوارا نہیں کرتی کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلاؤں. میرے مرحوم شوہر بھی محنت مزدوری کرتے تھے مگر کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا. ان کے چلے جانے کے بعد ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں. رشتہ داروں نے ہاتھ کھینچ لئے ہیں اور محلے والے بھی مدد نہیں کرتے. مگر کبھی کبھی آپ جیسے نیک دل لوگ مدد کر دیتے ہیں. میں دو دن سے بچوں کو یہ کہہ کر بہلا رہی تھی کہ ایک فرشتہ آئے گا اور ہمارے لئے کھانا لے آۓ گا. اسی لئے یہ آپ کو فرشتہ سمجھ بیٹھے ہیں. اس عورت نے خدا کے حضور شکرانے کے چند کلمات ادا کئے, مجھے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور شکریہ ادا کیا.
میں وہاں سے واپس ہو لیا, آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے. زندگی میں کبھی خود کو اتنا پرسکون محسوس نہیں کیا جتنا آج کر رہا تھا. اور اندازہ لگایا کہ ایک بے بس انسان کی مدد کرنے سے جو روحانی سکون ملتا ہے وہ کسی اور کام میں نہیں.
ہمارے اردگرد ایسے بہت سے غربا ہوتے ہیں جو مستحق ہونے کے باوجود کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے. مگر مدد کرنے والے ہاتھوں کے منتظر ضرور رہتے ہیں. دو وقت کی روٹی ہی ان کا کل جہاں ہوا کرتی ہے. ایسے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے چاہے وہ ایک وقت ک کھانا ہی کیوں نہ ہو.
گھر آیا تو ماں نے پوچھا " بیٹا اتنی رات کہاں چلے گئے تھے بنا بتائے ؟"
میں بے ساختہ بولا
"فرشتہ بننے گیا تھا "
who deserves your charity sadqa . #youtubeshorts #trending #charity #muhammadﷺ #sadqa #zakaat #help
10/07/2023
19/10/2022
حضرت حلیمہ سعدیہ جب بکریوں کو چرانے بھیجتی تھی تو ساتھ شیما کو بھی بھیجتی تھی ایک دن بکریاں چرانے کے لیے شیما نے کافی دیر کردی تو حلیمہ سعدیہ نے فرمایا⚘
" شیما آج تم نے بھت دیر کردی اب تک بکریاں چرانے نہیں گئ تم "
" امی میں نے آج بکریاں چرانے نہیں جانا میں اکیلی ہوں اور بکریاں زیادہ ہے گرمی کا موسم ھے بھاگ بھاگ کر میں تھک جاتی ہوں مجھ اکیلی سے یہ نہیں ہوتا اب آپ میرے ساتھ کسی کو بھیجا کرے " شیما نے فرمایا⚘
" بیٹی گھر میں تو اور کوئی بھی نہیں جس کو آپکے ساتھ بھیج سکوں اکیلے ہی جانا پڑے گا " حلیمہ سعدیہ نے فرمایا لیکن شیما مان نہیں رہی تھی کہ وہ اکیلی اب کسی صورت نہیں جاے گی آخر اس نے کہا⚘
" امی جان میں ایک شرط پہ جاوں گی اگر آپ میرے ساتھ میرے چھوٹے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھیج دے تو میں بکریاں چرانے چلی جاوں گی ورنہ کسی صورت میں نے نہیں جانا "⚘
حلیمہ نے فرمایا " بیٹی تیرا بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو بھت چھوٹا ھے ایک بکریوں کو سنبھالنا دوسرا ایک چھوٹے بچے کو سنبھالنا بھت کھٹن کام ہے میری بچی "⚘
" امی میں اکیلی جاونگی تو بکریاں بلکل نھی سنبھال پاوں گی اور اگر میرا چھوٹا بھائی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ ہوگا تو بکریوں کو سنبھالنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی "⚘
ماں نے پوچھا " اے شیما یہ تو کیا کہہ رہی ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا "
شیما نے کہا " امی جان ایک دفع پہلے میں اپنے بھائی کو ساتھ لیکر گئ تھی بکریاں چرانے کے لیے میں نے دیکھا کہ بکریاں جلدی جلدی چر کر گاس کھانے لگی پھر جس جگہ میں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوے تھے بھائی میرے گود میں تھا تو تمام بکریاں وہاں جمع ہوگی ، اور تمام بکریاں محمد کے نزدیک ہوکر اسکا چہرہ دیکھنے لگی⚘
سبحان اللہ❤️💕
سبحان اللّٰہ 💕💕💕
مفتی ماہداللہ صدیقی5 WhatsApp Group Invite
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
Opening Hours
| Saturday | 09:00 - 17:00 |
| Sunday | 09:00 - 17:00 |