Aakhri Paigham

Aakhri Paigham

Share

Passionate about preserving the legacy of Allama Iqbal through his poetry and philosophy.

18/05/2026

Be-Khatar Kood Para Aatish-e-Namrood Mein Ishq
Aqal Hai Mehv-e-Tamasha-e-Lab-e-Baam Abhi

بےخطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

Love fearlessly jumped into the fire of Namrud
Intellect is absorbed in the spectacle from roof‐top still

معانی: آتشِ نمرود: وہ دہکتی ہوئی آگ جو نمرود نے حضرت ابراہیمؑ کو جلانے کے لیے۔ تیار کروائی۔ عشق: اللہ تعالیٰ سے سچی اور کامل محبت و ایمان۔ عقل:ظاہری حساب کتاب اور دنیاوی سوچ۔ محوِ تماشا:حیرت میں کھڑے ہو کر صرف دیکھتے رہ جانا۔ لبِ بام: چھت یا بلند جگہ کا کنارا؛ یہاں مراد دور کھڑے رہنا ہے۔

مطلب: عشق جب فیصلہ کرتا ہے تو وہ عقل سے بالا تر ہو کر کرتا ہےاس کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عشق الہٰی کے طفیل انجام کی پرو اکیے بغیر نمرود کی آگ میں کود پڑے ۔ اس کے برعکس اگر یہ عمل عقل و دانش تک محدود ہوتا تو وہ پہلے تمام حالات کا احتیاط سے جائزہ لیتے اور فوری عمل سے گریز کرتے ۔

(Bang-e-Dra-166) O dejected nightingale your lament is immature still (نالہ ہے بُلبلِ شوریدہ ترا خام ابھی) - Nala Hai Bulbul-e-Shourida Tera Khaam Abhi

ً~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

16/05/2026

Ye Faizan-e-Nazar Tha Ya Ke Maktab Ki Karamat Thi
Sikhaye Kis Ne Ismaeel (A.S.) Ko Adaab-e-Farzandi

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سِکھائے کس نے اسمٰعیلؑ کو آدابِ فرزندی

Was it Father's Glance, or the miracle of Institute
Who taught Ismail (A.S.) the manners of being an obedient child?

معانی: فیضانِ نظر:نگاہ کا روحانی اثر یعنی حضرت ابراہیمؑ کی تربیت، اور نیک صحبت کا اثر۔ مکتب :تعلیمی ادارہ، مدرسہ۔آدابِ فرزندی:بیٹے ہونے کے طور طریقے، فرمانبرداری، اطاعت

مطلب: اقبالؒ اس شعر میں حضرت اسمٰعیلؑ کی غیرمعمولی اطاعت وفرمانبرداری کو حیرت سے دیکھتے ہیں۔ اقبالؒ سوال اٹھاتے ہیں: کیا یہ کسی مردِ کامل (یعنی حضرت ابراہیمؑ) کی نگاہِ تربیت کا فیضان تھا؟ یا کسی درسگاہ (مکتب) کی ظاہری تعلیم کا اثر؟ کہ اتنے کم عمر بچے نے قربانی، رضا اور توحید کا ایسا بلند مرتبہ سبق کہاں سے سیکھا؟ جب حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا، تو حضرت اسمٰعیلؑ نے نہ کوئی سوال کیا، نہ خوف دکھایا—بلکہ کامل اطمینان اور عاجزی کے ساتھ خود کو پیش کر دیا۔ یہ آدابِ فرزندی کسی رسمی مکتب کی تعلیم نہیں سکھا سکتی۔ یہ تو ابراہیمؑ جیسے باپ کی صحبت، سچائی، قربانی اور اخلاص کا وہ اثر ہے جو لفظوں سے نہیں، عمل سے دلوں میں اترتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی خود ایک جیتی جاگتی درسگاہ تھی جہاں بندگی، صدق اور قربانی اس درجے کی تھی کہ وہی وجود اولاد کو بھی اطاعت اور وفا سکھا گیا۔ اقبال یہاں یہی پیغام دیتے ہیں: سچی تربیت نہ مکتب می�

07/05/2026

(Bang-e-Dra-121) Jawab-e-Shikwa (The Answer To The Complaint) جوابِ شکوَہ

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

کی محمّدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں



🎞️ Background(s):
Zaid Amir - Feel the Mercy

05/05/2026

(Zarb-e-Kaleem-020) Azadi-e-Shamsheer Ke Alan Par - Written On The Occasion Of The British Governmentʹs Permission To Keep Sword - آزادیِ شمشیر کے اعلان پر

Socha Bhi Hai Ae Mard-e-Musalman Kabhi Tu Ne
Kya Cheez Hai Foulad Ki Shamsheer-e-Jigar Dar
O Muslim, did you ever think or feel
What is meant by piercing sword of steel?

Uss Bait Ka Ye Misra-e-Awwal Hai Ke Jis Mein
Poshida Chale Ate Hain Touheed Ke Asrar
It is the first hemistich of this verse
That Godʹs Oneness shows in form so terse.

Hai Fikr Mujhe Misra-e-Sani Ki Ziada
Allah Kare Tujh Ko Atta Faqr Ki Talwar
My anxiety for the second half is greater though,
May God the sword of faqr on you bestow

Qabze Mein Ye Talwar Aa Jaye To Momin
Ya Khalid Janbaz Hai Ya Haidar-e-Karar (R.A.)

If Muslim true can get this sword in hold
He is Ali (R.A.) the Lion of God, or Khalid (R.A.) bold

سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نے
کیا چیز ہے فولاد کی شمشیرِ جگردار
مطلب: کیا تو نے کبھی سوچا کہ جس تلوار کی تمہیں آزادی ملی ہے، وہ محض لوہے کی ایک تیز دھار چیز ہی ہے—اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟

اُس بیت کا یہ مصرعِ اوّل ہے کہ جس میں
پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار
مطلب: اس شعر اور اگلے شعر میں “بیت، مصرعِ اول اور مصرعِ ثانی” کی اصطلاحات کے ذریعے شاعر اپنی بات کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ اس شعر کا پہلا مصرع ہے جس میں توحید کے راز پوشیدہ ہیں، یعنی اصل قوت عقیدۂ توحید میں ہے۔

ہے فکر مجھے مصرعِ ثانی کی زیادہ
اللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوار
مطلب: اقبالؒ فرماتے ہیں کہ انہیں زیادہ فکر دوسرے مصرع کی ہے، اور وہ دعا دیتے ہیں کہ اللہ تمہیں “فقر کی تلوار” عطا کرے۔ یعنی جس طرح شعر دو مصرعوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اسی طرح صرف ظاہری تلوار کافی نہیں—جب تک فقر (روحانی قوت، غیرتِ ایمانی) نہ ہو، یہ تلوار بے کار ہے۔

قبضے میں یہ تلوار بھی آ جائے تو مومن
یا خالدِؓ جانباز ہے یا حیدرؓ کرار
مطلب: اقبالؒ فرماتے ہیں کہ انہیں زیادہ فکر دوسرے مصرع کی ہے، اور وہ دعا دیتے ہیں کہ اللہ تمہیں “فقر کی تلوار” عطا کرے۔ یعنی جس طرح شعر دو مصرعوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اسی طرح صرف ظاہری تلوار کافی نہیں—جب تک فقر (روحانی قوت، غیرتِ ایمانی) نہ ہو، یہ تلوار بے کار ہے۔

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

02/05/2026

(Bang-e-Dra-106) Shikwa شکوہ

Dr. Allama Muhammad Iqbal (R.A.)

01/05/2026

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

30/04/2026

(Bal-e-Jibril-052)

Jab Ishq Sikhata Hai Adab-e-Khud Agaahi
Khule Hain Ghulamon Par Asrar-e-Shehanshahi

When through the Love man conscious grows of respect self‐awareness needs,
Though in chains, he learns at once the regal mode and kingly deeds.

Attar Ho, Rumi Ho, Razi Ho, Ghazali Ho
Kuch Hath Nahin Ata Be Aah-e-Sahargahi

Like Rumi, Attar, Ghazzali and Razi, One may be mystic great or wise,
But none can reach his goal and aim without the help of morning sighs.

Naumeed Na Ho In Se Ae Rahbar-e-Farzana
Kamkosh To Hain Lekin Be-Zauq Nahin Raahi

No need for leaders sage and great to lose all hope of Muslim true:
Though amiss this pilgrim be, Yet can burn on fire like rue.

Ae Tair-e-Lahooti! Uss Rizq Se Mout Achi
Jis Rizq Se Ati Ho Parwaz Mein Kotahi

O Bird, who flies to the Throne of God, You must keep this truth in sight,
To suffer death is nobler far Than bread that clogs your upward flight.

Dara-o-Sikandar Se Woh Mard-e-Faqeer Aula
Ho Jis Ki Faqeeri Mein Boo-e-Asadullahi

A person poor and destitute surpasses Dara and Alexander in reign,
Whose poverty bears God’s Lion pulsing in his vein.

Aaeen-e-Jawanmardan, Haq Goyi-o-Bebaki
Allah Ke Sheron Ko Ati Nahin Roobahi

Men bold and firm uphold the truth and let no fears assail their hearts:
No doubt, the mighty Lions of God Know no tricks and know no arts.

جب عشق سِکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی
کھُلتے ہیں غلاموں پر اَسرارِ شہنشاہی
معانی: آداب: اصول، طریقے۔ خود آگاہی: خودی کی پہچان، اپنے آپ کا شعور۔غلاموں پر: مرشدِ کامل کی صحبت میں رہنے والوں پر۔ اَسرارِ شہنشاہی: بادشاہی کے راز
مطلب: اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عشق انسان کو خودی کی پہچان سکھاتا ہے اور اسے اس کے باطن کی گہرائیوں سے روشناس کرتا ہے۔ جب یہ شعور پیدا ہو جائے تو انسان پر عظمت اور اقتدار کے راز کھل جاتے ہیں اور وہ اندر سے مضبوط ہو جاتا ہے۔

عطّارؔ ہو، رومیؔ ہو، رازیؔ ہو، غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بےآہِ سحَرگاہی
معانی: عطّارؔ: فرید الدین عطار: صوفی شاعر، روحانیت اور عشقِ الٰہی کے موضوعات۔ رومیؔ:جلال الدین محمد رومی: عظیم صوفی شاعر، مثنوی کے مصنف۔ رازیؔ: ابوبکر محمد بن زکریا الرازی: ماہرِ طب و فلسفہ، سائنسی خدمات۔ غزالیؔ: ابو حامد محمد بن محمد الغزالی: بڑے عالمِ دین، تصوف و فقہ میں نمایاں۔آہِ سحَرگاہی: سحر کے وقت کی دعا/آہ، صبح کی گریہ و زاری۔
مطلب: اقبال کے نزدیک محض علم اور بزرگی کافی نہیں، بلکہ حقیقی کامیابی کے لیے سحر کے وقت کی دعا، تڑپ اور اخلاص ضروری ہے۔ بغیر اس روحانی کیفیت کے انسان کو کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔

نَومید نہ ہو ان سے اے رہبرِ فرزانہ!
کم کوش تو ہیں لیکن بےذوق نہیں راہی
معانی: نَومید: مایوس۔ رہبرِ فرزانہ: دانا رہنما، عقل مند پیشوا۔کم کوش: کم محنت کرنے والے۔ بےذوق: بے شوق، بے رغبت۔ راہی: مسافر، طالب ۔
مطلب: لوگوں سے مکمل مایوسی درست نہیں، کیونکہ اگرچہ وہ کوشش میں کمزور ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے دلوں میں شوق اور جذبہ موجود ہوتا ہے۔ یہی اندرونی لگن انہیں ترقی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اے طائرِ لاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھّی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
معانی: طائرِ لاہُوتی: روحانی پرندہ، بلند مقام والا۔ رزق: روزی۔پرواز: اڑان، بلندی۔ کوتاہی: کمی، رکاوٹ۔
مطلب: اقبال فرماتے ہیں کہ ایسی روزی اور دنیاوی آسائشیں بےکار ہیں جو انسان کی روحانی پرواز میں رکاوٹ بنیں۔ اصل کامیابی اس میں ہے کہ انسان اپنی بلندی اور آزادی کو برقرار رکھے، چاہے اس کے لیے قربانی دینی پڑے۔

دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اَولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بُوئے اسَد اللّٰہی
معانی:دارا: دارا اول : قدیم فارس کا طاقتور بادشاہ، وسیع سلطنت کا حکمران۔ سکندر: سکندر اعظم: مشہور فاتح، یونان سے لے کر ہندوستان تک فتوحات کرنے والا۔ مردِ فقیر: درویش صفت انسان، سادہ مگر خوددار اور بلند ہمت شخص۔ اَولیٰ: بہتر، برتر۔فقیری: درویشی، سادگی۔ بُوئے: خوشبو، جھلک۔ اسَد اللّٰہی: حضرت علیؓ (اللہ کے شیر)
مطلب: حقیقی عظمت بادشاہت یا دولت میں نہیں بلکہ اس فقیرانہ زندگی میں ہے جس میں جرات، خودی اور روحانی قوت ہو۔ اقبال کے نزدیک ایسا انسان بڑے بڑے بادشاہوں سے بھی زیادہ بلند مقام رکھتا ہے۔

آئینِ جوانمرداں، حق گوئی و بےباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی
معانی: آئین: اصول، دستور۔ جوانمرداں: بہادر لوگ۔ حق گوئی: سچی بات کرنا ۔ بےباکی: نڈر ہونا۔ رُوباہی: لومڑی جیسی چالاکی، مکاری
مطلب: اقبال واضح کرتے ہیں کہ سچی مردانگی کا اصول سچائی اور بےباکی ہے۔ اللہ کے سچے بندے کبھی مکاری یا فریب کا سہارا نہیں لیتے بلکہ حق بات ڈٹ کر کہتے ہیں۔

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal R.A.

28/04/2026

(Bal-e-Jibril-025) Apne Mann Mein Doob Kar Pa Ja Suragh-E-Zindagi

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
معانی: من: دل، باطن۔ ڈوب: گہرائی میں جانا، غور کرنا۔ سراغِ زندگی: زندگی کا راز۔ اپنا: خودی والا، اپنی پہچان رکھنے والا۔
مطلب: علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے کی دعوت دیتے ہیں کہ زندگی کا اصل راز باہر نہیں بلکہ اندر پوشیدہ ہے۔ اگر انسان کسی اور کا نہیں بن سکتا تو کم از کم اپنی خودی کو پہچان کر خود کا سچا بن جائے۔

من کی دنیا! من کی دنیا سوز و مستی، جذب و شوق
تن کی دنیا! تن کی دنیا سُود و سودا، مکر و فن
معانی: سوز: اندرونی درد، عشق کی گرمی۔ مستی: سرور، وجد کی کیفیت۔ جذب: کھنچاؤ، دل کا میلان۔ شوق: چاہت، رغبت۔ تن: جسم، ظاہری وجود۔ سُود و سودا: لین دین، مفاد پرستی۔ مکر: فریب، دھوکہ۔ فن: چالاکی، ہنر۔
مطلب: اقبال اس شعر میں باطن اور ظاہر کی دو دنیاؤں کا فرق واضح کرتے ہیں۔ دل کی دنیا عشق، جذبے اور روحانیت سے بھری ہوتی ہے، جبکہ جسم کی دنیا مفاد، دھوکے اور ظاہری چالاکیوں پر قائم ہوتی ہے۔

من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے، آتا ہے دَھَن جاتا ہے دَھَن
معانی: من کی دولت: باطنی خزانہ، ایمان و یقین، خودی، علم و حکمت۔ تن کی دولت: ظاہری مال و زر اور دنیاوی آسائشیں۔ چھاؤں: عارضی چیز، دیرپا نہ ہونے والی۔ دَھَن: مال، دولت ۔
مطلب: روحانی اور باطنی دولت ایسی ہے جو ایک بار مل جائے تو ہمیشہ باقی رہتی ہے، جبکہ دنیاوی دولت سایہ کی طرح عارضی ہے، جو آتی بھی ہے اور چلی بھی جاتی ہے۔

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج
من کی دنیا میں نہ دیکھے مَیں نے شیخ و برہَمن
معانی: افرنگی کا راج: مغربی اقوام کی حکومت و غلبہ، یورپی تسلط۔ شیخ: مسلمانوں کا مذہبی رہنما۔ برہَمن: ہندو پنڈت، مذہبی پیشوا۔
مطلب: اقبال کہتے ہیں کہ دل اور روح کی دنیا میں نہ کوئی مغربی غلبہ ہے اور نہ ہی کوئی مذہبی تفریق؛ وہاں نہ قومیت کی حد بندی ہے اور نہ ظاہری مذہبی پیشوائیت—یہ دنیا ہر طرح کی بیرونی تقسیم سے آزاد ہے۔

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تُو جھُکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا نہ تن
معانی: پانی پانی کر گئی: شرمندہ کرگئی، حیران وعاجز کر گئی ۔ قلندر: درویش،بے نیاز صوفی۔غیر: اللہ کے سوا دوسرا، دنیاوی طاقتیں۔ جھکنا: عبادت کرنا، غلامی اختیار کرنا۔ نہ من تیرا نہ تن: نہ دل تیرا رہے گا نہ جسم
مطلب: ایک درویش کی بات نے اقبال کو جھنجھوڑ دیا کہ جب انسان اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے جھک جاتا ہے تو وہ اپنی خودی، آزادی اور وقار کھو دیتا ہے؛ پھر نہ اس کا دل اس کا رہتا ہے اور نہ ہی اس کا وجود۔

Roman:
Apne Mann Mein Doob Kar Pa Ja Suragh-E-Zindagi
Tu Agar Mera Nahin Banta Na Bann, Apna To Bann
Mann Ki Duniya! Mann Ki Dunya Souz-O-Masti, Jazab-O-Shauq
Tann Ki Dunya! Tann Ki Dunya Sood-O-Soda, Maker-O-Fann
Mann Ki Doulat Hath Ati Hai To Phir Jati Nahin
Tann Ki Doulat Chaon Hai, Ata Hai Dhan Jata Hai Dhan
Mann Ki Duniya Mein Na Paya Mein Ne Afrangi Ka Raaj
Man Ki Duniya Mein Na Dekhe, Mein Ne Sheikh-O-Barhaman
Pani Pani Kar Gyi Mujh Ko Qalandar Ki Ye Baat
Tu Jhuka Jab Ghair Ke Agay, Na Mann Tera Na Tann

English:
Descend within yourself—unveil life’s hidden sign,
If you cannot be mine, then at least become thine.
The realm of the soul—ardent with longing and flame,
The realm of the body—of profit, of cunning, of game.
The wealth of the soul, once attained, shall endure,
The wealth of the body—a shadow, uncertain, impure.
Within the soul’s kingdom no Western dominion I see,
No Sheikh, no Brahmin holds sovereignty.
A dervish’s utterance brought me to inward shame,
When you bow to the other—neither body nor soul you can claim.

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal

26/04/2026

(Bal-e-Jibril-006) Kya Ishq Aik Zindagi-e-Musta‘ar Ka (What avails love when life is so ephemeral)

کیا عشق ایک زندگیِ مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
معانی: عشق: شدید محبت۔ زندگیِ مستعار: عارضی زندگی، ادھار کی زندگی۔پائدار: ہمیشہ رہنے والا (اشارہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف)۔ ناپائدار: عارضی، ختم ہونے والا (اشارہ مخلوق/دنیا/انسان کی طرف)۔
مطلب: اس غزل کے پہلے شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ حیات انسانی عارضی اور فنا ہونے والی ہے اسے اس ذات مطلق سے عشق کا حوصلہ کیسے ہو سکتا ہے جو ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔

وہ عشق جس کی شمع بُجھا دے اجل کی پھُونک
اُس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا
معانی: شمع: روشنی۔ اجل: موت۔ پُھونک: سانس، ہلکی ہوا۔ تپش: گرمی، جلنے کی شدت۔ انتظار: دیدار کی آس میں بےقراری۔
مطلب: وہ عشق جو فنا کے ایک تھپیڑے کا بھی متحمل نہ ہو سکے اس میں ہجر کی تپش اور انتظار میں جو اضطرابی کیفیت ہوتی ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔

میری بساط کیا ہے، تب و تابِ یک نفَس
شُعلے سے بےمحل ہے اُلجھنا شرار کا
معانی: بساط: حیثیت۔ تب و تاب: بے چینی، جوش۔ یک نفس: ایک لمحہ، بہت تھوڑا وقت۔ شعلہ: آگ کا بلند شعلہ۔ بےمحل: بے موقع، نامناسب۔ شرار: چنگاری، آگ کا چھوٹا ذرہ۔
مطلب: میں اپنے وجود میں ایک ایسے ستارے کے مانند ہوں جو لمحے بھر کے لیے چمک دکھا کر غائب ہو جاتا ہے ۔ مجھ سا ایک ادنیٰ انسان اس کے حضور عشق کی جسارت کیسے ہو سکتی ہے جو پوری کائنات پر ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے ۔

کر پہلے مجھ کو زندگیِ جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دلِ بےقرار کا
معانی: زندگیِ جاوداں: ہمیشہ کی زندگی۔ عطا: دینا، بخشنا۔ذوق و شوق: خواہش اور جذبہ، دلچسپی۔ دلِ بےقرار: بے چین دل، مضطرب دل۔
مطلب: خداوندا! اگر میرا حوصلہ اور شوق وارفتگی دیکھنا ہے تو ایسی طویل عمر عطا کر جس میں فنا کا تصور بھی موجود نہ ہو ۔

کانٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب، وہ درد جس کی کسک لازوال ہو!
معانی: کانٹا: نوک دار چیز مراد تڑپ ۔ کھٹک: چبھن، تکلیف کا احساس۔ لازوال: ہمیشہ رہنے والی۔کسک: ہلکی چبھن، اندرونی درد۔ لازوال: ایک ہمیشہ رہنے والی۔
مطلب: اے میرے معبود میرے دل کو وہ خلش عطا کر جو ہمیشہ برقرار رہ سکے اور ایسا درد دے جس کی کسک لازوال ہو ۔

شرح (اسرارزیدی)

Kya Ishq Aik Zindagi-e-Musta‘ar Ka
Kya Ishq Paidar Se Na-Paidar Ka
What worth is love bound to a borrowed, fleeting life?
What worth is mortal love for the One who is eternal?

Woh Ishq Jis Ki Shama Bujha De Ajal Ki Phoonk
Uss Mein Maza Nahin Tapish-o-Intizaar Ka
The love whose flame is quenched by death’s faint breath,
Knows neither passion’s fire nor longing’s ache.

Meri Bisaat Kya Hai, Tab-o-Taab-e-Yak Nafas
Shole Se Be-mehal Hai Ulajhna Sharaar Ka
What am I—no more than a spark, alive for a single breath,
A spark contending with a flame is but misplaced and vain.

Kar Pehle Mujh Ko Zindagi Javidan Ata
Phir Zauq-o-Shauq Dekh Dil-e-Beqarar Ka
First grant me life that knows no end,
Then witness the fervor of this restless heart.

Kanta Woh De Ke Jis Ki Khatak La-zawal Ho
Ya Rab! Woh Dard Jis Ki Kasak La-zawal Ho
Grant me a thorn whose sting shall never fade,
O Lord, a pain whose ache remains forever.

~ Dr. Allama Muhammad Iqbal

-e-Haqeeqi

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore
546000