السلام علیکم!
کسی کو پتہ ہے کہ محمد سلیم الرحمن کے ڈرامے پروفیسر نافرمان خان کی مشین اور بیس برس بعد سویرا کے کس شمارے میں شائع ہوئے تھے ۔
MA urdu notes
MA Urdu Notes part 1 and 2
25/10/2024
Bso test in ubl bank
25/10/2024
Bso test in ubl bank 2024
25/10/2024
Cashier test in hbl bank.
25/10/2024
Cashier test in hbl.
25/10/2024
Grade 4 officer test in ubl bank.
ویکیپیڈیا
تلاش
ساحر لدھیانوی
بھارتی شاعر
دیگر زبانیں
ڈاؤنلوڈ بشکل پیڈیایف
زیر نظر کریں
ترمیم
ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر۔ 8 مارچ 1921ء کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ خالصہ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے میں داخلہ لیا۔ کالج کے زمانے سے ہی انھوں نے شاعری کا آغاز کر دیا۔ امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالے گئے اور لاہور آ گئے۔ یہاں ترقی پسند نظریات کی بدولت قیام پاکستان کے بعد 1949ء میں ان کے خلاف وارنٹ جاری ہوئے جس کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے۔
عبد الحئی
معلومات شخصیت
پیدائشی نام
عبدالحیی
پیدائش
8 مارچ 1921ء
لدھیانہ، پنجاب، برطانوی ہندوستان
وفات
25 اکتوبر 1980ء
ممبئی ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات
دورۂ قلب ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات
طبعی موت ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت
بھارت (26 جنوری 1950–)
برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950) ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب
اسلام
عملی زندگی
مادر علمی
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ
ادب سے وابستگی، فلمی شاعری، ترقی پسند شاعری
پیشہ ورانہ زبان
اردو [1] ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک
ترقی پسند تحریک ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر (برائے:کبھی کبھی میرے دل میں ) (1977)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر (1964)
پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات[2] ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب
درستی - ترمیم سانچہ دستاویز دیکھیے
ہندوستان آمد
ترمیم
ہندوستان میں وہ سیدھے بمبئی میں وارد ہوئے۔ ان کا قول مشہور ہے کہ بمبئی کو میری ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس دور میں ساحر اور دوسرے ترقی پسند شعرا نے بھانپ لیا تھا کہ فلم ایک ایسا میڈیم ہے جس کے ذریعے اپنی بات عوام تک جس قوت اور شدت سے پہنچائی جا سکتی ہے، وہ کسی اور میڈیم میں ممکن نہیں ہے۔ چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ساحر ایک مشن کے تحت بمبئی گئے اگرچہ 1949ء میں ان کی پہلی فلم "آزادی کی راہ پر" قابلِ اعتنا نہ ٹھہری، لیکن موسیقار سچن دیو برمن کے ساتھ 1950ء میں فلم "نوجوان" میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو ایسی مقبولیت نصیب ہوئی کہ آپ آج بھی آل انڈیا ریڈیو سے انھیں سن سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک گانے "ٹھنڈی ہوائیں" کی دھن تو ایسی ہٹ ہوئی کہ عرصے تک اس کی نقل ہوتی رہی۔
فلمی گیت
ترمیم
پہلے تو موسیقار روشن نے 1954ء میں فلم "چاندنی چوک" میں اس دھن پر ہاتھ صاف کیا، پھر اس سے تسلی نہ ہوئی تو 1960ء میں "ممتا" فلم میں اسی طرز میں ایک اور گانا بنا ڈالا۔ جب دوسروں کا یہ حال ہو تو بیٹا کسی سے کیوں پیچھے رہتا، چناں چہ آر ڈی برمن نے 1970ء میں "ٹھنڈی ہوائیں" سے استفادہ کرتے ہوئے ایک اور گانا بنا ڈالا۔ فلم نوجوان کے بعد ایس ڈی برمن اور ساحر کی شراکت پکی ہو گئی اور اس جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں کام کیا جو آج بھی یادگار ہے۔ ان فلموں میں "بازی"، "جال"،"ٹیکسی ڈرائیور"، "ہاؤس نمبر 44"،"منیم جی" اور "پیاسا" وغیرہ شامل ہیں۔ ساحر کی دوسری سب سے تخلیقی شراکت روشن کے ساتھ تھی اور ان دونوں نے "چترلیکھا"، "بہو بیگم"، "دل ہی تو ہے"، "برسات کی رات"، "تاج محل"، "بابر"اور "بھیگی رات" جیسی فلموں میں جادو جگایا۔ روشن اور ایس ڈی برمن کے علاوہ ساحر نے او پی نیر، این دتا، خیام، روی، مدن موہن، جے دیو اور کئی دوسرے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔
ترقی پسند سوچ
ترمیم
ساحر کے علاوہ بھی کئی اچھے شاعروں نے فلمی دنیا میں اپنے فن کا جادو جگایا، لیکن ساحر کے علاوہ کسی اور کو اتنی مقبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ اور اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جو ان کی ادبی شاعری کی مقبولیت کی ہے، یعنی شاعری عوامی لیکن ادبی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے۔ ایک زمانے میں اردو ادب میں بڑے لیکن ترقی پسند شاعر اس بات کے قائل نہیں تھے بلکہ وہ شاعری کے ذریعے معاشرے میں انقلاب بپا کرنا چاہتے تھے۔ ترقی پسند شعرا کی جوق در جوق فلمی دنیا سے وابستگی ان کی عوام تک پہنچنے کی اسی خواہش کی آئینہ دار تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ساحر فلمی دنیا میں اپنی آئیڈیالوجی ساتھ لے کر آئے اور دوسرے ترقی پسندنغمہ نگاروں کے مقابلے میں انھیں اپنی آئیڈیالوجی کو عوام تک پہنچانے کے مواقع بھی زیادہ ملے، جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انھوں نے جن فلم سازوں کے ساتھ زیادہ کام کیا وہ خود ترقی پسندانہ خیالات کے مالک تھے۔ اس سلسلے میں گرودت، بی آر چوپڑا اور یش راج چوپڑا کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ میں صرف ایک مثال دوں گا۔
ساحر لدھیانوی
مقبول شاعر
ترمیم
ساحر کتنے بااثر فلمی شاعر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے گانے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی پیاسا اور یش راج کی کبھی کبھی شامل ہیں۔ پیاسا کے گانے تو درجہ اول کی شاعری کے زمرے میں آتے ہیں:
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
اور یہ گانا
جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا
اسی طرح کبھی کبھی میں "کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے" کے علاوہ "میں پل دو پل کا شاعر ہوں" ایسے گانے ہیں جو صرف ساحر ہی لکھ سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کسی اور فلمی شاعر کو یہ چھوٹ نہیں ملی کہ وہ اپنے حالاتِ زندگی پر مبنی نغمے لکھے۔
تصانیف
ترمیم
تلخیاں
تنہائیاں
بی گریڈ موسیقار
ترمیم
بعد میں انھوں نے کئی بی گریڈ موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، جن میں ٰخیام کے علاوہ روی، این دتا اور جے دیو شامل ہیں۔ اور ان درجہ دوم کے موسیقاروں کے ساتھ بھی ساحر نے کئی لافانی نغمے تخلیق کیے، جیسے روی کے ساتھ "ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی"، "نیلے گگن کے تلے"، "چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو"وغیرہ، این دتا کے ساتھ "میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی"، "میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں" اور "دامن میں داغ لگا بیٹھے"، وغیرہ اور جے دیو کے ساتھ "ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں"،"میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا"، "رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی" وغیرہ شامل ہیں۔
مجروح شکیل بدایونی اور ساحر
ترمیم
ساحر اور مجروح سلطان پوری کا نام اکثر ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے، لیکن میرے خیال سے دونوں شعرا کا پس منظر ایک جیسا ہونے کے باوجود ساحر مجروح سے کہیں بہتر فلمی شاعر تھے۔ مجروح کی فلمی نغمہ نگاری اکثر کھوکھلی نظر آتی ہے، وہ شاعری کے ادبی پہلو سے مکمل انصاف نہیں کر پاتے۔ جو کام ساحر بہت سہولت سے کر گزرتے ہیں، وہاں اکثر اکثر مجروح کی سانس قدم اکھڑنے لگتی ہے۔ مجروح کی فلمی بولوں کی ایک نمایاں بات یہ ہے کہ وہ سننے میں بہت بھلے لگتے ہیں لیکن جوں ہی کاغذ پر لکھے جائیں، ان میں عیب نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر ساحر کی فلمی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ نک سک سے درست اور عام طور پر ادبی لحاظ سے بے عیب ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کاغذ پر لکھنے کے معیار پر بھی پورا اترتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی اور فلمی گیت نگار کے گیتوں کے اتنے ایڈیشن نہیں چھپے جتنے ساحر کے "گاتا جائے بنجارا" اور "گیت گاتا چل" کے ۔
ایک اور فلمی شاعر شکیل بدایونی ہیں جن کا نام ساحر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ لیکن دونوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ شکیل کے ہاں بعض جگہ عروض کی غلطیاں بھی نظر آتی ہیں، مثال کے طور پر وہ لفظ "نہ" کو بر وزنِ "نا" بھی باندھ جاتے ہیں، جو عروض کے اعتبار سے غلط ہے۔ اس کے علاوہ شکیل کے ہاں زبان و بیان کی کوئی تازگی نظر نہیں آتی، وہی لگی بندھی تشبیہات، پامال استعارات اور استعمال شدہ ترکیبوں کی بھرمار شکیل کا خاصہ ہے۔
حوالہ جات
بیرونی روابط
آخری ترمیم 3 مہینے قبل بدست UrduBot
متعلقہ صفحات
شکیل بدایونی
بھارتی مصنف
ایس ڈی برمن
ریاض الرحمان ساغر
پاکستانی فلمی نغمہ نگار اور کہانی نویس
ویکیپیڈیا
تمام مواد CC BY-SA 4.0 کے تحت میسر ہے، جب تک اس کی مخالفت مذکور نہ ہو۔
اخفائے راز کے اصول شرائط استعمالڈیسک ٹاپ
Toggle navigation
اہم موضوعات
سپریم کورٹ
وزیر اعظم شہباز شریف
پٹرولیم قیمتیں
آئی ایم ایف
ساحر لدھیانوی: ایک منفرد شاعر
Published On 24 October,2023 12:27 pm
لاہور: (محمد ارشد لئیق) برصغیر پاک و ہند میں متعدد شعراء ایسے گزرے ہیں جو نہ صرف غزل اور نظم میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے فلمی نغمہ نگاری میں بھی وہ کمالات دکھائے کہ اہل ادب عش عش کر اٹھے۔
ایسے شعراء کی فہرست میں ایک نام ساحر لدھیانوی کا بھی ہے، لاہور میں قیام کے دوران انہوں نے زمانے کے حوادث کو آشکارا کرنے والی شاعری پر مشتمل اپنا پہلا مجموعہ کلام ’’تلخیاں‘‘ مکمل کیا، فیض احمد فیض کی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کی بحر میں لکھی گئی مشہور زمانہ نظم ’’آواز آدم‘‘ بھی انہوں نے یہیں شائع کی جس کی گونج سرکاری ایوانوں میں بھی سنی گئی، کہتے ہیں۔
دبے گی کب تک آواز آدم
ہم بھی دیکھیں گے
رہیں گے کب تلک جذبات برہم
ہم بھی دیکھیں گے
ان کی ساحرانہ شاعری حیران کر دینے والی تھی، وہ برصغیر کے ترقی پسند شعراء کی صف میں کم عمر بھی تھے اور نمایاں بھی، جذبات کی شدت ان کی شاعری کی پہچان ہے، دھیما لہجہ شناخت ہے، وہ تو اپنے اندر کی دنیا میں گم رہ کر باہر کی دنیا کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، دنیاوی معیارات سے تنگ بلکہ باغی تھے، ملاحظہ ہو۔
دنیا کی نگاہوں میں برا کیا، بھلا کیا
یہ بوجھ اگر دل سے اتر جائے تو اچھا
جھوٹ تو قاتل ٹھہرا، اس کا کیا
سچ نے بھی انسان کا خون بہایا ہے
وہ کبھی کبھار دنیا سے اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں کہ کچھ بھی مل جانے کی خوشی سے ماوراء نظر آتے ہیں، کیونکہ چہار سو اندھیرا ہی اندھیرا ہے، ہر انسان کسی نہ کسی روگ کے ساتھ جی رہا ہے، پوری دنیا کا یہی چلن ہے۔ کہتے ہیں
ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی
نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہاں اک کھلونا ہے انسان کی ہستی
یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی
’’تلخیاں‘‘ کا تیسرا ایڈیشن زیر طبع تھا کہ انڈیا میں مسلم کش فسادات شروع ہوگئے، خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، شاعری کی فکر کس کو تھی، جس سے انڈیا میں نہ صرف اس ایک مجموعہ کلام کی اشاعت متاثر ہوئی بلکہ علم و ادب کی تمام شمعیں ایک ایک کر کے بجھنے لگیں۔
ساحر خود کہتے ہیں، ’’اس سے وہ تمام قدریں خطرے میں پڑ گئیں جن سے ادب، آرٹ اور تہذیب کے سر چشمے پھوٹتے تھے، حالات ادب اور ادیب، دونوں کیلئے مخدوش ہیں، کوئی دوسری کتاب آپ تک اسی وقت پہنچ سکے گی جب ترقی اور انقلاب کی طاقتیں رجعت پسند طاقتوں پر اس حد تک قابو پا لیں گی کہ موجودہ کشت و خون کا ہنگامہ رک جائے اور تہذیبی زندگی کو از سر نو ترتیب دینے کے امکانات فراہم ہوں‘‘۔
دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنے قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
ان کے نزدیک زندگی سے بڑی حقیقت کوئی نہیں، اس میں خوابوں کی کوئی حیثیت ہے نہ خوابوں میں رہنے والوں کا کوئی مقام، وہ کہتے ہیں، کام، کام اور کام۔ ان کی شاعری میں خوابوں میں جینے والی قوموں کیلئے محکومی کے سوا کوئی راستہ نہیں، نظم ’’شہزادے‘‘پڑھ لیجئے۔
ذہن میں اجداد کے قصے لے کر
اپنے تاریک گھروندوں کے خلاء میں کھو جاؤ
مرمریں خوابوں کی پریوں سے لپٹ کر سو جاؤ
ابر پارو پہ چلو، چاند ستاروں پہ اڑو
لہٰذا یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اشعار کے بارے میں ان کا نکتہ نظر سمجھنے کی ضرورت ہے، وہ ایک ایک شعر کے فنی لوازمات اور جمالیاتی پہلو کے قائل ہیں لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا مخاطب پڑھا لکھا، امیر طبقہ ہی نہیں ہے، وہ مزدوروں اور کسانوں سے بھی مخاطب ہیں، وہ کہتے تھے ’’سماج کے اس طبقے کو حکمران جماعتوں نے علم، آرٹ اور ادب کے سرچشموں سے بہت دور کر رکھا ہے، اس طبقے تک پہنچنے کیلئے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی بات سادہ زبان میں کہیں‘‘، وہ کتنی بڑی بات سادہ سے لہجے میں کہہ جاتے ہیں، جیسا کہ یہ پیغام!
اے رہبر ملک و قوم ذرا
آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا
کچھ ہم بھی سنیں ہم کو بھی بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
علامہ اقبالؒ کی طرح وہ بھی بڑی طاقتوں کے جبر سے نالاں تھے۔کہتے ہیں۔
تم ہی تجویز صلح لاتے ہو
تم ہی سامان جنگ بانٹتے ہو
تم ہی کرتے ہو قتل کا ماتم
تم ہی تیر و تفنگ بانٹتے ہو
امرتا پریتم کے ساتھ ان کے معاشقے کا خوب شہرہ رہا، امرتا کے لکھے گئے خطوط سے واضح ہوتا ہے کہ امرتا ساحر کی محبت میں گرفتار تھیں، وہ ساحر کو ’’میرا شاعر‘‘، ’’میرا محبوب‘‘،’’میراخدا‘‘ اور ’’میرا دیوتا‘‘ کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔
دوسری جانب ساحر اپنے اور امرتا کے ایک ساتھ مستقبل کے بارے میں اتنا پراعتماد نہیں تھے، ان کی شاعری میں محبت کی حیثیت ثانوی تھی پھر بھی امرتا اور ان دونوں کی نامکمل محبت نے انہیں فلم ’’دوج کا چاند‘‘ (1964ء) کیلئے ’’محفل سے اٹھ جانے والو‘‘ لکھنے پر مجبور کر دیا۔
محفل سے اٹھ جانے والو
تم لوگوں پر کیا الزام
تم آباد گھروں کے واسی
میں آوارہ اور بدنام
وہ آج بھی اپنے پیغام کی صورت میں زندہ ہیں،کیا ہم ان کے یہ اشعار بھول گئے
جسم کی موت کوئی موت نہیں ہوتی ہے
جسم مٹ جانے سے انسان نہیں مر جاتے
ان کی شہرہ آفاق نظم ’’تاج محل‘‘ کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔
تاج تیرے لئے اک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادی رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
ساحر لدھیانوی کی گیت نگاری
ساحر لدھیانوی کی فلمی گیت نگاری کی بات کریں تو وہ انہوں نے 1950 میں شروع کی، گورودت نے انہیں اپنی فلم ’’بازی‘‘ کے نغمات لکھنے کی دعوت دی، ساحر نے ایسے دلکش گیت لکھے کہ لوگوں پر سحر طاری ہوگیاخ اس کے بعد پھر ساحر نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، انہوں نے ساحر لدھیانوی کی یادگار فلم ’’پیاسا‘‘ کے بھی گیت لکھے، 1958 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’پھر صبح ہو گی‘‘ کے نغمات بھی ساحر لدھیانوی کے تھے۔ یہ رمیش سہگل کی فلم تھی۔
خاص طور پر ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا، رہنے کو گھر نہیں ہے سارا جہاں ہمارا‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے، اس کے علاوہ انہوں نے ’’نیل کمل، دیوداس، ممبئی کا بابو، ہم دونوں، نیا دور، وقت، ترشول، تاج محل، داغ، کبھی کبھی، داستان اور کئی دوسری فلموں کے گیت لکھے، ان کی فلموں کی اکثریت نے باکس آفس پر بہت کامیابی حاصل کی، ان کے گیتوں کی موسیقی ایس ڈی برمن، آرڈی برمن، خیام، روشن، شنکر جے کشن اور روشن نے مرتب کی، انہیں کئی ایوارڈ ملے جن میں فلم فیئرایوارڈ بھی شامل ہے۔
ساحر لدھیانوی کو نہ صرف اپنی غزلوں اور نظموں کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا بلکہ ان کے عدیم النظیر فلمی گیت بھی ان کی یاد دلاتے رہیں گے، بڑے بڑے انعامات پانے کے بعد ان کی کیفیت کچھ یوں تھی۔
میں پل دو پل کا شاعر ہوں
پل دو پل مری کہانی ہے
پل دو پل مری ہستی ہے
پل دو پل مری جوانی ہے
مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے
اور آ کر چلے گئے
وہ بھی اک پل کا قصہ تھے
میں بھی اک پل کا قصہ ہوں
تعارف
ساحر لدھیانہ کے اک جاگیردار گھرانے میں 8 مارچ 1921ء کو پیدا ہوئے اور ان کا نام عبدالحئی رکھا گیا، والدین میں علیحدگی کے باعث ان کی پرورش ننہال میں ہوئی، یہیں انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔
1939ء میں انٹر کرنے کے بعد انھوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا، اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہوگئے، بی اے کے آخری سال میں اپنی ہم جماعت پر عاشق ہوئے اور کالج سے نکالے گئے، کالج کی فضا نے انہیں ایک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔
1943ء میں ساحر نے لاہور کو مسکن بنا لیا جہاں وہ دیال سنگھ کالج میں طلباء یونین کے صدر بن گئے، بڑے ہوئے تو شہرہ آفاق جرائد کی ادارت سنبھال لی، ’’ادب لطیف‘، ’’شاہکار‘‘ اور ’’سویرا‘‘ انہی کے لگائے ہوئے پودے ہیں، یہ اب بڑا ادبی حوالہ بن چکے ہیں۔
ان کا پہلا مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ 1944 میں شائع ہوا، 1949ء میں وہ لاہور سے واپس بمبئی چلے گئے، یہیں کوٹھی بنائی، جس کا نام اپنے مجموعہ کلام ’’پرچھائیاں‘‘ کے نام پر رکھا، آخری سانس بھی اسی کوٹھی میں لی، ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1971ء میں ’’پدم شری‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔
1972ء میں مہاراشٹر حکومت نے انہیں ’’جسٹس آف پیس‘‘ایوارڈ دیا، 1973ء میں ’’آو کہ کوئی خواب بْنیں‘‘ پر انہیں’’سویت لینڈ نہرو ایوارڈ‘‘ اور ’’مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ‘‘ دیا گیا، ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں، 8 مارچ 2013ء کو ان کی خدمات کے اعتراف میں محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا، 1980ء میں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔
ارشد لئیق سینئر صحافی ہیں اور روزنامہ دنیا کے شعبہ میگزین سے وابستہ ہیں۔
whatsapp sharing buttonfacebook sharing buttontwitter sharing buttonemail sharing buttonsharethis sharing button
Recommended Articles
نوجوانوں میں بڑی آنت کے کینسرمیں تیزی سے اضافہ ، وجوہات کیا ہیں؟
نوجوانوں میں بڑی آنت کے کینسرمیں تیزی سے اضافہ ، وجوہات کیا ہیں؟
Read More >
1 commentsHappy
67%
قازقستان کا پاکستانی شہداء کے بچوں کیلئے سٹڈی سکالر شپ دینے کا اعلان
قازقستان کا پاکستانی شہداء کے بچوں کیلئے سٹڈی سکالر شپ دینے کا اعلان
Read More >
1 comments
متعلقہ خبریں
'خاموش رہنا اتنا ہی خطرناک جتنا بولنا': مہوش نے بھی فلسطین کی حمایت کردی
پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ ویب سیریز ’فاتح القدس صلاح الدین ایوبی‘ کا ٹیزر جاری
’مذاق رات‘ کا حصہ بننا اعزاز کی بات ہے: ریما خان
میں بہت اچھی ڈانسر ہوں، شادی اس سے کروں گی جسے ڈانس آتا ہو: عنایا خان
اداکار یاسر حسین نے فلموں میں آئٹم نمبرز کی حمایت کر دی
'اسرائیل پر مؤقف واضح': ماہرہ نے کھل کر فلسطین کی حمایت کر دی
عروہ حسین نے بے جا تنقید پر سوشل میڈیا صارف کو کھری کھری سنا دیں
ونیزہ احمد میری اب تک کی سب سے پسندیدہ کرش رہی ہیں: فہد مصطفیٰ
دنیا نیوز سوشل میڈیا
پاکستان
دنیا
کرکٹ
کھیل
تجارت
تفریح
جرائم
ٹیکنالوجی
دلچسپ اور عجیب
اردو بلاگ
ویڈیوز
Copyright 2024 © Dunya Media Group, All rights reserved.
Head Office Dunya TV: 8-A, Abbot Road, Lahore , Pakistan
UAN: 111-1-Dunya E-mail: [email protected]
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this web site in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited.
search
مشہور شاعر ساحر لدھیانوی
قرطاسِ ادب AUGUST 24, 2023
مشہور شاعر ساحر لدھیانوی
ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ساحرلدھیانوی 8مارچ 1921ء کو لدھیانہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ خالصہ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے میں داخلہ لیا۔ کالج کے زمانے سے ہی انہوں نے شاعری کا آغاز کر دیا۔ امرتا پریتم کے عشق میں کالج سے نکالے گئے اور لاہور آ گئے۔ یہاں ترقی پسند نظریات کی بدولت قیام پاکستان کے بعد 1949ء میں ان کے خلاف وارنٹ جاری ہوئے جس کے بعد وہ ہندوستان چلے گئے۔ساحر کتنے بااثر فلمی شاعر تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے کم از کم دو ایسی انتہائی مشہور فلموں کے گانے لکھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ان میں گرودت کی پیاسا اور یش راج کی کبھی کبھی شامل ہیں۔ پیاسا کے گانے تو درجہ اول کی شاعری کے زمرے میں آتے ہیں:یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیایہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیایہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہےاور یہ گانا:جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملااسی طرح کبھی کبھی میں "کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے" کے علاوہ "میں پل دو پل کا شاعر ہوں" ایسے گانے ہیں جو صرف ساحر ہی لکھ سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ کسی اور فلمی شاعر کو یہ چھوٹ نہیں ملی کہ وہ اپنے حالاتِ زندگی پر مبنی نغمے لکھے۔ ذیل میں ساحر کی محبتوں کے حوالے سے مختصراً نذر قارئین۔چلو اک بار پھر سے اجنبی ہوجائیں ہم دونوںساحرلدھیانوی اور سدھا ملہوترہساحر لدھیانوی کے جب لتا منگیشکر کے ساتھ اختلافات ہو گئے تو ساحر نے ایک نئی گلوکارہ سدھا ملہوترہ کی طرف ہاتھ بڑھانا شروع کیا۔ اسی دوران سدھا ملہوترہ سے ان کے عشق کی داستانیں عام ہونے لگیں اور دونوں شادی کے لئے راضی بھی ہو گئے، مگر سدھا ملہوترہ کے والدین اس شادی کے خلاف تھے، انہوں نے سدھا کی شادی دوسری جگہ طے کردی۔سدھا ملہوترہ کی ضد پر ہی ساحر اس کی منگنی میں شریک ہوئے اور انہوں نے وہاں بھری محفل میں اپنی مشہور نظم "خوبصورت موڑ (چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں) سنائی، جسے سن کر سدھا ملہوترہ دلہن بنی زار وقطار روتی رہی۔ ذیل میں ساحر کی نظم ملاحظہ کریں:
مشہور شاعر ساحر لدھیانوی
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںنہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دلنوازی کینہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سےنہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سےنہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سےتمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سےمجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیںمرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کیتمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیںتعارف روگ ہو جائے تو اس کو بھولنا بہترتعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھاوہ افسانہ جسے تکمیل تک لانا نہ ہو ممکناسے اک خوبصورت موڑ، دے کر چھوڑنا اچھاچلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوںتو ہی بتا کہ اب میں پکاروں کسے یہاںساحر کی پہلی محبت ،ان کی کالج فیلو، مہندر چوہدری تھیں۔ وہ عین عنفوانِ شباب میں تپِ دق میں مبتلا ہو کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئی تھیں، اس وقت تپ دق لاعلاج مرض تھا۔ ان کی وفات پر ساحر دلبرداشتہ ہو کر بمبئی سے لاہور منتقل ہوگئے، جو علم و ادب کا گہوارہ تھا، اس وقت ساحر ۱۸ سال کے تھے۔ ساحر لدھیانوی نے اپنی پہلی محبت، مہندر چوہدری کی مرگِ ناگہانی پر ایک طویل نظم “ مرگھٹ کی زمین سے” کے عنوان سے لکھی ذ یل میں اس نظم سےکچھ اشعار قارئین کی نذر۔کوثر میں وہ دھلی ہوئی بانہیں بھی جل گئیںجو دیکھتیں مجھے، نگاہیں بھی جل گئیںامبر س شت گیسؤِشب گوں بھی جل گئےوہ دیدہ ہائے مست پر اُفسوں بھی جل گئیںمعصوم قہقہوں کا ترنم بھی مٹ گیاجھیپنی ہوئی نظم کا تبسم بھی مٹ گیایہ دوپہر کی دھوپ یہ ویران آسماںتو ہی بتا کہ اب میں پکاروں کسے یہاں
مزید خبریں
مایوسی پیدا کرنے والا ادب زندہ نہیں رہ سکتا
دبستانِ شعر: نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے ...
نمائش پسندی کے دور میں ادب
اقبال: حرفِ نعت اور تشکیلِ افکار
شعر و سخن: اے باد صبا کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا ....
صحتِ زباں: چھ یا چَھے؟
ادب کا مستقبل اور اکیس ویں صدی
آئینہ حُسن
’’عورت‘‘ کا ہے اندازِ بیاں اور !
شعر و سخن: بنت حوا…
منفرد لہجے کی ناول نگار عمیرہ احمد
تحسین و تفہیم و تنقیدِ غالب کے ڈیڑھ سو سال
شعر و سخن: کوہ کے ہوں بار خاطر گر صدا ہو جائیے ...
ادب اور ہنگامہ رنگ و بو
ادبی لطائف: غالب……
صحتِ زباں: ٭…خاکا یا خاکہ؟
علم و دانش کا چشمہ ’’ارسطو‘‘
منور رانا ’’میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی‘‘
شعر و سخن: ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
دانشِ مشرق اور محمد حسن عسکری
qaumiawaz
شاعری
ساحر لدھیانوی: ’میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا‘
گھر کے خراب ماحول کے علاوہ ساحر جس طرح کے سماجی معاشرے سے دوچار تھے، ان حالات نے اور اسکول و کالج کے ماحول نے ان کی شخصیت سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
By
علی جاوید
Updated: 08 Mar 2021, 10:59 AM IST
تصویر ویکیپیڈیا
تصویر ویکیپیڈیا
آج عظیم شاعر ساحر لدھیانوی کی پیدائش کو پورے سو سال مکمل ہو گئے ہیں ۔ شاعری کے میدان میں اپنے ابتدائی دور سے آخر تک ساحر کے نظریے اور ادبی وابستگی میں کوئی تضاد نہیں اور وہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے ہیں۔ لیکن ان کی ذاتی زندگی میں بڑے اتار چڑھاؤ آئے اور عمر کے آخری حصے تک ان تضادات سے گھرے رہے۔ ساحر اپنے والد چودھری فضل محمد کی بارہویں بیوی سردار بیگم کے بطن سے 8 مارچ 1919 کو پیدا ہوئے۔ والد طبیعتاً بہت ہی روایتی زمیندارانہ مزاج رکھتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ان کا رویہ منصفانہ نہیں تھا بلکہ حد تو یہ تھی کہ ساحر کی والدہ سردار بیگم کو اعلانیہ اپنی بیوی ہونے کا درجہ دینے کو بھی تیار نہیں تھے۔ بات یہاں تک پہنچی کہ ساحر کی پیدائش کے بعد اپنا حق پانے کے لیے انھوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ان کی والدہ سردار بیگم کی خواہش تھی کہ ساحر اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے جج یا ڈاکٹر بنیں لیکن والد کی ان کی تعلیم میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماں باپ کی اکلوتی اولاد نرینہ ہیں اس لیے پڑھا لکھا کر نوکری کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ خاندان کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اتنی بڑی جاگیر کی ذمہ داریاں سنبھالے۔ عیش پسندی اور جاگیردارانہ مزاج کے تحت ساحر کے والد نے کبھی بھی اپنے بیٹے کے سر پر شفقت کا ہاتھ نہیں رکھا۔ حد تو یہ کر دی کہ بیٹے کا نام عبدالحئی رکھا، جس کی وجہ یہ تھی کہ فضل محمد کے پڑوسی کا نام عبدالحئی تھا جس سے ان کے والد کے تعلقات خراب تھے۔ بیٹے کے ساتھ کبھی محبت کے ساتھ پیش نہ آ کر بھدی بھدی گالیوں سے نوازتے کیونکہ اگر پڑوسی اعتراض کرے تو یہ کہہ سکیں کہ میں تو اپنے بیٹے کو گالیاں دے رہا ہوں۔
اپنی عیش پسندی اور گھٹیا زمیندارانہ طبیعت کی وجہ سے گھریلو ماحول خراب سے خراب تر ہوتا گیا اور نتیجتاً ساحر کی والدہ نے اپنے بیٹے کو لے کر باپ سے علیحدگی اختیار کرلی اور بھائیوں کے گھر منتقل ہو گئیں۔ والد کی عیاشی کا سلسلہ جاری رہا اور انھوں نے جائیداد کا ایک بڑا حصہ فروخت کر دیا اور سردار بیگم کے بعد ایک اور شادی رچا لی۔ بکتی ہوئی جائیداد کے مدنظر ساحر کی ماں نے جو عدالتی کارروائی کی تھی وہ مقدمہ اٹھارہ سال تک چلا لیکن وہ کامیاب ہوئیں۔ ان حالات نے ساحر کے مزاج میں جو تلخی پیدا کر دی تھی وہ ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی۔
مزاج کی اس تلخی کے باوجود ساحر نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1937 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1939 میں گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا لیکن چوتھے سال میں لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج، لاہور میں داخلہ لے لیا۔ طبیعت میں یکسوئی نہ ہونے کی وجہ سے وہ بی اے کی ڈگری پوری نہ کر سکے لیکن لدھیانہ، امرتسر اور لاہور کے علمی، ادبی اور سیاسی ماحول نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ ویسے تو انجمن ترقی پسند مصنّفین کا قیام عمل میں آ چکا تھا اور اس نے پورے ملک کے ادیبوں اور شاعروں کو بڑے پیمانے پر اپنی طرف متوجہ کیا تھا لیکن فیض احمد فیض جیسی شخصیات کی وجہ سے پنجاب میں انجمن کا اثر بہت گہرا پڑا جو نوجوان نسل کے دلوں میں اس قدر گھر بنائی تھی کہ پورا ماحول ترقی پسند خیالات کا گہوارہ بن گیا تھا۔ گھر کے خراب ماحول کے علاوہ ساحر جس طرح کے سماجی معاشرے سے دوچار تھے، ان حالات نے اور اسکول و کالج کے ماحول نے ان کی شخصیت سازی میں نمایاں رول ادا کیا۔ ان کی دلچسپی ادبی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھتی گئیں اور ماحول کے مطابق انھوں نے بائیں بازو کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ فیض کے علاوہ سعادت حسن منٹو، باری علیگ، احمد ندیم قاسمی، فکر تونسوی، دیویندر ستیارتھی وغیرہ سے قربت بڑھی جس سے ساحر کی زندگی کا مقصد ہی بدل گیا اور انھوں نے اپنے ذاتی غم اور ناکامیوں کا حل عوامی مسائل کے ساتھ خود کو وابستہ کر دینے میں تلاش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ برطانوی حکومت کی ظلم و تشدد اور مزدوروں کے استحصال کے خلاف مزاحمت کا جذبہ ان میں اس قدر بیدار ہوا کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونا انھوں نے اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ حالانکہ اپنی ابتدائی تعلیم کے دوران ان کے ماموں نے انھیں اقبال سے روشناس کروایا جس کے تحت اقبال کی شاعری نے ان پر گہرا اثر چھوڑا تھا لیکن انھوں نے خود کو مسلمانوں کی سیاست تک محدود نہیں کیا اور اقبال کی شاعری و مزدوروں کے استحصال کے خلاف احتجاج کی ذہن سازی نے انھیں بائیں بازو کے سیاسی نظریات سے زیادہ قریب کیا۔
یہاں مختصراً اس بات کا ذکر کر دینا مناسب ہوگا کہ اسکول کی تعلیم کے زمانے سے ہی ساحر نے شعر و شاعری میں دلچسپی لینا شروع کر دیا تھا۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ وہ اقبال کی شاعری سے بہت متاثر تھے اور اس دلچسپی کی وجہ سے اقبال کی شاعری کا مطالعہ کرتے وقت ان کی نظر اقبال کے ایک شعر پر ٹک گئی جو اس طرح ہے:
اس چمن سے ہوں گے پیدا بلبل شیراز بھی
سینکڑوں ساحر بھی ہوں گے صاحب اعجاز بھی
کہا جاتا ہے کہ اس شعر سے متاثر ہو کر انھوں نے اپنے تخلص کا انتخاب کیا اور ساحر کے نام سے شعری سفر کو آگے بڑھایا۔ اس نظریاتی وابستگی کے تحت انھوں نے جو نظم کہی اس کے اشعار کچھ اس طرح تھے:
جشن بپا ہے کٹیاؤں میں اونچے ایواں کانپ رہے ہیں
مزدوروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطاں کانپ رہے ہیں
جاگے ہیں افلاس کے مارے، اٹھے ہیں بے بس دکھیارے
سینوں میں طوفاں کا تلاطم، آنکھوں میں بجلی کے شرارے
شاہی درباروں کے در سے فوجی پہرے ختم ہوئے ہیں
ذاتی جاگیروں کے حق اور مہمل دعوے ختم ہوئے ہیں
اس نظم کا عنوان 'طلوع اشتراکیت' تھا جو ان کے ابتدائی کمٹمنٹ کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اپنے جاگیردار باپ کا کردار اور حکمراں طبقے کی زیادتیوں کے اثر کے تحت ساحر نے 'جاگیر' نظم کہی۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
میں ان اجداد کا بیٹا ہوں جنھوں نے پیہم
اجنبی قوم کے سائے کی حمایت کی ہے
غدر کی ساعت ناپاک سے لے کر اب تک
ہر کڑے وقت میں سرکار کی خدمت کی ہے
سبز کھیتوں میں یہ دبکی ہوئی دوشیزائیں
ان کی شریانوں میں کس کس کا لہو جاری ہے
نہ صرف مزدوروں اور محنت کش طبقے سے ہمدردی بلکہ مناظر فطرت یعنی پھول پودوں کے علاوہ پرندوں اور جانوروں کے تحت ان کی طبیعت میں جو ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا وہ تاعمر ان کی شخصیت کا حصہ رہا۔ اس کے علاوہ ساحر نے کالج کے زمانے سے ہی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ اس دلچسپی اور مقبولیت کے تحت وہ کالج کی طلباء کی یونین کے سکریٹری اور بعد میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ ساحر کی شاعری کے مرکز میں ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد اور اشتراکی انقلاب کی عکاسی صاف نظر آتی ہے جو ان کی نظریاتی وابستگی کی ضامن ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہ وہ پہلی عالمی جنگ کے چند برس بعد پیدا ہوئے تھے اور جلیاں والا باغ کا دردناک واقعہ ولادت کے فوراً بعد رونما ہوا تھا۔ ساتھ ہی ہندوستان میں گاندھی جی کی قیادت میں جدوجہد آزادی ملک گیر سطح پر اپنے اثرات عوام کے دل و دماغ میں گھر کر چکی تھی لیکن ساتھ ہی مذہبی فرقہ پرستی کا زہر انگریز اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سماج میں گھول چکے تھے، جس نے مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس کو جنم دیا تھا۔ ایسے رجحانات نے ساحر کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ ان حالات کے ساتھ دنیا دوسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی تھی جس نے 1939 سے لے کر 1945 تک ساری دنیا کو نفرت کی آگ میں ڈھکیل دیا تھا۔ ساتھ ہی 1947 میں ہندوستان آزاد ہوا لیکن ملک مذہبی بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا جس کے نتیجہ کے طور پر لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور ہزاروں بے گناہ لوگ فرقہ وارانہ فسادات میں مارے گئے۔ ان واقعات نے ساحر کے اندر بیٹھے ایک حساس شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان اثرات کے تحت خود ساحر نے اپنی شخصیت پر جو تبصرہ کیا ہے وہ اس طرح ہے:
مجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نے
مرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتا
مرے سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہے
کہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کو
غریبوں مفلسوں کو، بے کسوں کو، بے سہاروں کو
حکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کو
تو دل تابِ نشاطِ بزم عشرت لا نہیں سکتا
میں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
یا
چار جانب ارتعاشِ رنگ و نور
چار جانب اجنبی بانہوں کے جال
چار جانب خوں فشاں پرچم بلند
میں، مری غیرت، مرا دست سوال
زندگی شرما رہی ہے کیا کروں
اس طرح کے اشعار کی روشنی میں ساحر کی شاعری کا بڑا سطحی تجزیہ کرنے والے تنقید نگاروں نے ان پر فیض کی نقالی کا الزام بھی لگا دیا اور 'معیار بندی' کی بے جا قدغن لگانے کی زیادتی کی جب کہ ان اشعار سے آپ کو ان کی شاعری کی انفرادیت کا احساس بھی ہوگا اور ان فکری بلندی کا احساس بھی۔
قحط بنگال پر لکھی گئی نظم کے ذریعے ساحر نے جس نظریاتی اور شعری صلاحیت کی مثال پیش کی ہے وہ دوسرے شعراء کے یہاں کم نظر آتی ہے:
پچاس لاکھ فسردہ سڑے گلے ڈھانچے
نظامِ زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں
ترستی آنکھوں سے دم توڑتی نگاہوں سے
بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں
فیض کی نظم میں 'مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ' پر غور کیجیے اور ساحر کے ان اشعار پر غور کیجیے تو احساس ہوگا کہ انھوں نے فیض کی نقل نہیں بلکہ ان خیالات کو وسعت دی ہے جو ساحر کی انفرادیت کی عکاس ہے:
کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں
گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی
یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے
تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی
مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے
کہ تو نہیں، ترا غم، تیری جستجو بھی نہیں
گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے
اسے کسی کے سہارے کی آرزو بھی نہیں
ساحر نے شادی نہیں کی۔ کہتے ہیں امرتا پریتم سے پہلی ملاقات کے بعد ہی وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گئی تھیں جو کسی خاطر خواہ انجام تک نہیں پہنچ سکی، اس امر کی ایک جھلک کہیں نہ کہیں مندرجہ بالا اشعار میں محسوس ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے اور جو کچھ بھی امرتا پریتم کی خود نوشت 'رسیدی ٹکٹ' سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سے ساحر کی پہلی ملاقات امرتسر کے ایک مشاعرے میں ہوئی اور دونوں کی نگاہوں نے جس طرح ایک دوسرے کو اپنے دلوں میں اتار لیا وہ نقش تاعمر باقی رہا۔ دونوں نے عشق کا اظہار نہیں کیا جیسا کہ روایتی قصے کہانیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ امرتا پریتم کے مطابق ساحر اور ان کے درمیان ایک خاموشی کا رشتہ تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ساحر ان سے ملنے لاہور آتے تو دوسری کرسی پر خاموش بیٹھ جاتے۔ وہ ایک کے بعد ایک سگریٹ پیتے جاتے۔ دل کی بے چینی اور جذبات کا یہ عالم ہوتا کہ آدھی سگریٹ پی کر بجھا دیتے اور فوراً دوسری سگریٹ جلا لیتے۔ اس طرح جب رخصت ہوتے تو کمرے میں آدھی بچی ہوئی سگریٹوں کا ایک ڈھیر لگ جاتا جسے وہ بڑے اہتمام سے اپنی آلماری میں رکھ لیتیں اور تنہائی میں ان سگریٹوں کو نکال کر جب اپنی انگلیوں میں پکڑتیں تو انھیں ساحر کی انگلیوں کے لمس اور ان کی قربت کا احساس ہوتا۔ اس عمل نے امرتا پریتم میں سگریٹ نوشی کی عادت ڈال دی تھی۔ امرتا پریتم اس بات کا بھی ذکر کرتی ہیں کہ کافی عرصے بعد ایک بار ساحر نے انھیں بتایا کہ جب ہم دونوں لاہور میں رہتے تھے تو اکثر وہ ان کے گھر کے پاس آ کر ایک کونے میں کھڑے ہو جاتے۔ کبھی پان کی دوکان سے پان لیتے تو کبھی سگریٹ اور کبھی سوڈے کا گلاس ہاتھ میں لے کر وہ ان کے گھر کی کھڑکی کی طرف، جو کھڑکی سڑک کی طرف کھلتی تھی، گھنٹوں اُدھر نہارتے رہتے۔
ساحر سے اپنے تعلقات کو امرتا پریتم نے ایک کہانی کی شکل میں دلّی سے شائع ہونے والے ایک رسالہ 'آئینہ' میں بھی بیان کیا ہے جس کا عنوان انھوں نے 'آخری خط' رکھا تھا۔ شائع ہونے کے کافی عرصے تک ساحر نے اس کہانی کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ایک بار جب اچانک دونوں کا سامنا ہو گیا تو ساحر نے بتایا کہ کہانی پڑھ کر بے انتہا خوش ہوئے اور رسالہ لے کر اپنے دوستوں کو دکھانا چاہا کہ امرتا نے یہ کہانی مجھ پر لکھی ہے، لیکن میں نے خاموشی اختیار کر لی کیونکہ جب خواجہ احمد عباس اور کرشن چندر کا خیال آیا تو ڈر گیا کیونکہ ان سے جو پھٹکار سننی پڑے گی، اس کا سامنا کیسے کروں گا۔ ساحر اور امرتا پریتم جیسے دو عظیم فنکار ایک دوسرے کو چاہتے ہوئے بھی ایک نہ ہو سکے، اس میں ساحر کی طبیعت میں جو نفسیاتی ہچکچاہٹ تھی اس کا دخل بہت تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار جب امرتا پریتم ساحر کے گھر ان کی والدہ سے مل کر گئیں تو ساحر نے اپنی ماں سے کہا کہ ان کا نام امرتا پریتم ہے جو آپ کی بہو بنتے بنتے رہ گئیں، تو ان کی والدہ کا رد عمل تھا کہ کسی کو تو اپناتے جس سے گھر آباد ہوتا۔ گھر تو نہیں آباد ہو سکا، لیکن ایک بار ساحر نے امرتا پریتم کی ہتھیلی پر جو دستخط کیے تھے وہ ان کی ہتھیلی سے ہوتا ہوا ان کی شریانوں میں اتر گیا تھا جسے انھوں نے تاعمر سنجو کر رکھا اور ازدواجی رشتے میں نہ بندھ کر بھی دونوں ایک دوسرے کے رہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ساحر کی زندگی میں جتنے اتار چڑھاؤ آئے اور انھوں نے جو بھی دکھ درد جھیلے ان ذاتی ناکامیوں اور مسائل کو انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے عام لوگوں کی حسیت کا حصہ بنا دیا اور غم جاناں کو غم دوراں میں تبدیل کر دیا۔ ان کے نزدیک انسانی زندگی کا جو احترام اور تقدس تھا، اسی پامالی کا غم ان کی شاعری اور شخصیت میں جگہ جگہ جھلکتا ہے اور جس کے سامنے ساحر نے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ اس کی بھی عکاسی ان کی نظریاتی وابستگی کا مظہر ہے۔ یہی نہیں کہ انھوں نے نابرابری اور استحصال کے خلاف احتجاج کیا بلکہ وہ جنگ کے خلاف امن کے پیغامبر کے طور پر اپنے دستخط ثبت کرتے ہیں۔ اپنی نظم 'پرچھائیاں' جو عام طور پر ایک رومانی نظم تصور کی جاتی ہے، اس کے ابتدائی اشعار کے بعد جب شاعر جنگ کا منظر پیش کرتا ہے تو قاری پر ایسا جادو طاری ہوتا ہے کہ جو اس کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے:
ناگاہ لہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں
بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں
تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
ہر گاؤں میں وحشت ناچ اٹھی، ہر شہر میں جنگل پھیل گیا
آگے کہتے ہیں:
اٹھو کہ آج ہر اک جنگجو سے یہ کہہ دیں
کہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہے
ہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیں
ہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہے
آخر میں کہتے ہیں:
کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
تو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیں
جنوح کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سے
زمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیں
گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں
گزشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں
اس طرح مجموعی طور پر اگر ساحر کی شاعری کا محاسبہ ایک شعر میں کیا جائے تو خود ان کا شعر اس کیفیت کو بیان کر دینے کے لیے کافی ہے:
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
(یہ مضمون ساحر کے یوم وفات کے موقع پر بھی شائع کیا گیا تھا)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 08 Mar 2021, 7:40 AM IST
Also Read
پرفل پٹیل کے ذریعے پی ایم مودی کو ’زرہ ٹوپ‘ پہنانے پر مہاراشٹر میں ہنگامہ، اپوزیشن کی سخت تنقید
16 May 2024, 5:11 PM IST
,
لوک سبھا انتخابات کے چار مرحلوں میں بی جے پی چاروں خانے چت ہو گئی: اکھلیش یادو
16 May 2024, 4:40 PM IST
,
اسکولوں اور اسپتالوں کے بعد اب ایئر انڈیا کی فلائٹ میں بھی بم کی دھمکی! پولیس نے افواہ قرار دیا
16 May 2024, 4:11 PM IST
,
شکایت پر عدالت کے نوٹس لینے کے بعد ای ڈی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکتا: سپریم کورٹ
16 May 2024, 3:40 PM IST
,
ہمارا حکم صاف ہے، کیجریوال کو خود سپردگی کرنی ہوگی: سپریم کورٹ
16 May 2024, 3:11 PM IST
Copyright © 2024 Qaumi Awaz. All rights reserved.
Powered by Quintype
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore