Mechanical Engineering Technology Ptut lahore

Mechanical Engineering Technology Ptut lahore

Share

Engineering page

13/08/2023

Happy Independence Day

22/04/2023
17/04/2023

بوائلنگ پوائنٹ کیا ہے؟؟
ہم میں سے اکثر کا یہی سوچ ہوتا ہے کہ وہ ٹمپریچر جس پر پانی ابلنا شروع کر دیتا ہے اسکو بوائلنگ پوائنٹ کہا جاتا ہے اور پانی کا بوائلنگ پوائنٹ سو ڈگری سینٹی گریڈ ہے
بلکل یہ بات سہی ہے لیکن کیا پانی کا بوائلنگ پوائنٹ ہمیشہ سو ڈگری سینٹی گریڈ ہے تو جواب ہے نہیں
بوائلنگ پوائنٹ کہتے کس چیز کو ہیں پہلے یہ سمجھیں دیکھیں ہم کسی برتن میں پانی کو گرم کر رہے ہیں اور اس برتن کے اوپر ڈھکن رکھا ہوا ہے تو جب پانی گرم ہوتا ہے تو اسکے بخارات بنتے ہیں جو اوپر کی طرف اٹھ کر اس برتن کے ڈھکن پر پریشر ڈالنا شروع کر دیتے ہیں
اب اوپر سے ہوا اس ڈھکن پر پریشر لگا رہا ہے نیچے سے پانی کے مالیکیولز، ایک وقت ایسا آئے گا کہ پانی کے مالیکیولز اتنے بن جائیں گے کہ وہ نیچے سے ڈھکن پر اتنا ہی پریشر لگائیں گے جتنا اوپر سے ہوا لگا رہا ہے اس مقام پر پہنچ کر پانی ابلنا شروع کر دے گا اور اس ٹمپریچر کو ہم بوائلنگ پوائنٹ کہیں گے
پانی کا بوائلنگ پوائنٹ اس وقت سو ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جب اوپر سے ہوا ایک atm کا پریشر لگا رہا ہے یعنی سطح سمندر پر، لیکن اگر اوپر سے ہوا کم۔ پریشر لگائے تو نیچے سے پانی کے مالیکیولز کو بھی کم۔ پریشر لگانا پڑے گا یعنی پانی کا بوائلنگ پوائنٹ سو نہیں ہوگا بلکہ اسے کم ہوگا
جو علاقے سطح سمندر سے اوپر ہوتے ہیں یعنی زیارت، کوئٹہ وغیرہ یہاں پر پانی کا درجہ حرارت کم ہوگا یعنی اگر ان جگہوں پر آپ پانی گرم کروگے تو کم درجہ حرارت پر پانی ابلنا شروع کر دے گا کیونکہ جو علاقے سطح سمندر سے اوپر ہوتے ہیں وہاں ہوا کا پریشر کم لگ رہا ہوتا ہے
اب چونکہ اب یہاں کم درجہ حرارت پر پانی ابل رہا ہے تو اس میں آپ اپنا ہاتھ ڈالو آپکو کچھ نہیں ہوگا اور اگر اس پانی میں آپ گوشت وغیرہ گالیں تو وہ سہی سے نہیں گلے گا کیونکہ پانی کا ٹمپریچر کم ہے اور ان جگہوں پر پانی جلدی بھی ابلے گا
لیکن اگر ہم ان علاقوں کی بات کریں جو سطح سمندر سے نیچے ہیں یعنی سبی، جیکب آباد وغیرہ یہاں پر ہوا کا پریشر زیادہ ہے تو پانی کے مالیکیولز کو بھی نیچے سے زیادہ پریشر لگانا پڑے گا یعنی اب ٹمپریچر سو سے زیادہ دینا ہوگا مطلب اب پانی کا بوائلنگ پوائنٹ زیادہ ہے اب پانی دیر ابلے گا لیکن اگر اس پانی میں اب ہاتھ ڈالا تو ہاتھ کو جلا دے گا اور اگر اس پانی میں کوئی گوشت وغیرہ گالا تو وہ بہت اچھے سے اور جلدی سے گل جائے گا

ککر کیسے کام کرتا ہے؟؟
ککر میں اوپر پریشر زیادہ ہوتا ہے یعنی یہاں پر بھی پانی کا بوائلنگ پوائنٹ زیادہ ہے تو پانی دیر ابلے گا لیکن اگر اس میں گوشت وغیرہ ڈالا تو وہ بہت اچھے سے گل جائے گا

14/04/2023

آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!

ملیے "آئیو"سے. یہ مشتری کا تیسرا بڑا چاند ہے۔ نظامِ شمسی کا ایسا چاند جس پر سب سے زیادہ آتش فشائی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ آئیو پر کئی آتش فشائی مرکز ہیں جن سے لاوا اور گیسیں اسکی فضا میں کئی سو میل اوپر کو اُٹھتی ہیں۔آئیو کی قسمت کہ یہ مشتری اور مشتری کے دیگر بڑے چاندوں کے بیچ یوں گھرا ہےجیسے مشتری اور اسکے بڑے چاند اس بیچارے کو درمیان میں رکھ کر گریویٹی کے بل پر رسہ کشی کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئیو کے اندرونی تہوں میں موجود لاوا اور گیسس ہمیشہ حرکت میں ، گرم یا مائع حالت میں رہتے ہیں اور اس چاند کی آتش فشائی فطرت کا سبب بنتے ہیں۔ ان آتش فشاؤں کیوجہ سے آئیو کی اندرونی تہوں سے مواد اسکی باہری سطح پر آتا ہے، جمتا ہے، اور پھر دوبارہ اندرونی تہوں میں چلا جاتا ہے۔ یوں آئیو کی سطح ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ گویا کسی نے اسے ری سائیکلنگ پلانٹ میں ڈال دیا ہو۔

آئیو زمین کے چاند سے کچھ بڑا ہے۔ یہ مشتری کے ساتھ "ٹائیڈلی لاکڈ" ہے. نجانے اس لفظ کا فیروز اللغات میں کیا اُردو ترجمہ ہو گا۔ اُردو زبان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بے حد کم ہے۔ خیر آئیو کا ٹائیڈلی لاکڈ ہونے کا مطلب سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ یہ چاند مشتری کیطرف ہمیشہ محبوب کیطرح مستقل منہ کیے رہتا ہے۔ یعنی اس چاند کا اپنے محور پر گردش کا دورانیہ اور مشتری کے گرد گردش کا دورانیہ تقریباً ایک جتنا ہے یعنی 1.8 دن۔ یوں اگر آپ مشتری پر ہوں تو وہاں سے "آئیو" کی ایک ہی سائڈ آپکو ہمشہ نظر آئے گی ویسے ہی جیسے زمین پر ہمیں چاند کی صرف ایک سائیڈ نظر آتی ہے۔ (کوئی اُردو سائنس بورڈ جس میںں بابا اشفاق اور مفتی ممتاز صاحب جیسے ادیب ماضی میں شامل رہے تھے سے کہے کہ اُردو میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بڑھائیں ٹائیڈل لاک کا اُردو ترجمہ "جوار بھاٹوی تالہ" یا "مدوجزری تالہ" کسی کو سمجھ نہیں آنا)

خیر آئیو پر کبھی کبھی اتنے اونچے آتش فشاں پھٹتے ہیں کہ زمین سے کسی بڑی اور طاقتور ٹیلی سکوپ سے کئی کروڑ میل دور بیٹھے بھی کوئی انہیں دیکھ سکتا ہے۔ آئیو کی دریافت کا سہرا اطالوی ماہرِ فلکیات گیلیلیو کے سر جاتا ہے جس نے 1610 میں دوربین کے ذریعے جب مشتری کو دیکھا تو اسکے ساتھ آئیو اور کئی اور چاند اسے نظر آئے۔ ویسے یہ انسانی تاریخ میں ایسا واقعہ ہے جب انسانوں کو احساس ہوا کہ دیگر اجرامِ فلکی کے گرد بھی کئی اور اجسام گھومتے ہیں اور اس سے انسانوں کا زمین کو کائنات کو مرکز سمجھنے، تمام سیاروں، ستاروں اور سورج کا زمین کے گرد گھومنے یا انسانوں کو خود کو کائنات کی توپ چیز سمجھنے کے بچگانہ تصور سے نجات ملی۔

ناسا کے چار مشنز آئیو کے پاس سے گزر چکے ہیں۔۔ان میں سے سب سے پہلا ستر کی دہائی میں وائجر 1 تھا جبکہ آخری مشن "نیو ہورائزن" تھا جو پلوٹو کی طرف جاتے ہوئے اسکے پاس سے گزرا اور اسکی تصاویر لیں۔آئیو پر اس قدر آتش فشاؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زمینی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

13/04/2023

کمپیوٹر کی اگلی ارتقائی شکل مصنوعی ذہانت ہے جس کی دوڑ میں آج ہر کمپنی اپنا لوہا منوانا چاہ رہی ہے کہیں آپ کو chat gpt جیسے چیٹ باٹ نظر آتے ہیں جو آپ کو برقی رفتار کے ساتھ آپ کے سوالوں کے جواب دیتے ہیں تو کہیں midjourney جیسے باٹ آپ کے تصورات کو تصویر یا وڈیوز کی شکل میں پیش کرنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں اس طرح کے ہزاروں a.i باٹ متعارف ہوچکے ہیں او روزانہ درجنوں نئے باٹ بنتے رہتے ہیں تمام باٹز کی تفصیلات آپ اس ویب سائٹ سے دیکھ سکتے ہیں https://www.futurepedia.io/ کے کونسا باٹ کس کام آتا ہے

تو اب گوگل نے بھی مصنوعی ذہانت سے چلنے والا اپنا چیٹ بوٹ متعارف کرا دیا ہے۔ اس چیٹ بوٹ کا نام 'بارڈ' bard رکھا گیا ہے۔

گوگل کا چیٹ بوٹ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب 'اوپن اے آئی' کمپنی کی مدد سے چلنے والا چیٹ بوٹ، ''چیٹ جی پی ٹی' دنیا بھر میں معروف ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ اوپن اے آئی کو مائیکروسافٹ کی مالی معاونت حاصل رہی ہے۔

اس چیٹ بوٹ سے مکالمے اور سوالات کے ذریعے انٹرنیٹ پر موضوعات کی تلاش کی جا سکتی ہے۔یہ چیٹ بوٹ صارفین کے سوالات کے مطابق نہ صرف جواب دیتا ہے بلکہ اسے جس لکھاری کی طرزِ تحریر کا کہا جاتا ہے تو وہ اسی طرزِ تحریر میں جواب لکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ پر معلومات کی تلاش کے لیے گوگل کو حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ مسابقت کا سامنا ہے۔

گوگل اپنے سرچ انجن کے ساتھ بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھانا چاہتا ہے تاکہ اس کے اربوں صارفین کی جانب سے پوچھے جانے والے پیچیدہ سوالات کا بہتر طور پر جواب دیا جا سکے۔ سندر پچائی نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ جلد ہی مصنوعی ذہانت گوگل کے سرچ کے ساتھ بھی دستیاب ہوگی۔

12/04/2023

مائیکرو سافٹ کی جانب سے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ٹولز کو اپنی پراڈکٹس میں شامل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اب اس کمپنی نے محض لکھ کر تصاویر بنانے والی امیج کریٹیر ٹول کو مائیکرو سافٹ ایج براؤزر کا حصہ بنا دیا ہے۔

خیال رہے کہ امیج کریٹیر نامی یہ ٹول چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کے ڈیل ای ماڈل پر مبنی ہے۔

مائیکرو سافٹ نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اس نئے فیچر سے آپ کو ایسی تصاویر تیار کرنے کا موقع ملے گا جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتیں۔

اس ٹول سے آپ تحریری ہدایات دے کر اے آئی ٹیکنالوجی سے اپنی مرضی کی تصاویر تیار کرا سکتے ہیں۔

یہ ٹول مائیکرو سافٹ ایج کے سائیڈ بار میں موجود ہے اور کمپنی کے مطابق یہ دنیا کا پہلا براؤزر ہے جس میں اے آئی امیج جنریٹر کو شامل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈیل ای بھی چیٹ جی پی ٹی جیسا اے آئی ٹول ہے مگر یہ تصاویر بنانے کا کام کرتا ہے۔

ایج براؤزر کے تازہ ترین ورژن پر اسے استعمال کرنے کے لیے مائیکرو سافٹ اکاؤنٹ ضروری ہوگا۔

واضح رہے کہ یہ ٹول بنگ چیٹ میں بھی دستیاب ہے۔

مائیکرو سافٹ نے اس سے قبل اوپن اے آئی سے کے تیار کردہ نئے ماڈل چیٹ جی پی ٹی 4 کو بھی بنگ سرچ انجن کا حصہ بنایا تھا۔

چیٹ جی پی ٹی کے اضافے کی وجہ سے بنگ سرچ انجن کے صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اسے روزانہ استعمال کرنے والوں کی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

05/04/2023

ناقابل یقین حد تک سجے ہوئے قدیم جسم -
تقریباً 23,500 سال پہلے، ایک لمبا، 15 سالہ لڑکا ("نوجوان شہزادہ") جسے ریچھ یا بڑی بلی نے معذور کر دیا تھا۔ اگرچہ جانور نے اپنے جبڑے کا ایک بڑا حصہ پھاڑ دیا، لیکن لڑکا بچ گیا۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے یا دوسروں نے اس جانور کو مارا ہو یا اسے بھگا دیا ہو۔ اس کے لوگوں نے اس کی دیکھ بھال کی، اور وہ ٹھیک ہونے لگا، لیکن آخرکار، چوٹیں بہت شدید تھیں۔ اس کی موت کے بعد، اسے اپنی پیٹھ پر سرخ گیند کی ایک تہہ پر رکھا گیا، جس میں قبر کے سامان کا ایک بہت ہی بھرپور سیٹ تھا، جس میں سیکڑوں سوراخ شدہ خ*لوں اور ہرن کے کینوں سے بنی ٹوپی، ہاتھی دانت کے بڑے لاکٹ، ایک خ*ل کا کڑا، چار کندہ ہرن شامل تھے۔ اینٹلر لاٹھیاں، اور ایک 9 انچ کا بلیڈ جو چقماق سے تیار کیا گیا تھا، مشرق میں 125 میل دور کان کنی کی گئی۔ لیکن ماسکو سے 120 میل مشرق میں سنگھیر سے ملنے والی 27,500 سال پرانی اسی طرح کی دفن لاشوں میں اس سے بھی زیادہ مال تھا۔ دو نوعمر اور ایک ~ 40 سالہ لڑکا ، انہیں سرخ گیری اور 13,000 بڑی محنت سے تیار ہاتھی دانت کی موتیوں سے ڈھانپ دیا گیا جو شاید ان کے کپڑوں میں سلائی گئی تھیں۔ اس شخص کے پاس ہاتھی دانت کے 25 پالش بازو بینڈ، ایک سرخ رنگ کا شیسٹ لاکٹ اور چھیدے ہوئے لومڑی کے دانت بھی تھے۔ دونوں نوجوان بیمار تھے، کیونکہ ان کے دانتوں کا تامچینی انتہائی تناؤ کے متعدد ادوار کی نشاندہی کرتا ہے۔ سب سے کم عمر نوجوان کی ٹانگ کی ہڈیاں شدید طور پر جھکی ہوئی تھیں، غالباً پیدائشی نقص کا نتیجہ تھا۔ اندازے کے مطابق 13,000 موتیوں میں سے ہر ایک کو فیشن بنانے میں کم از کم ایک گھنٹہ لگا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 6 سال سے زیادہ کی محنت لگی اور پھر انہوں نے یہ سب دفن کر دیا - واہ! اور ماہرین آثار قدیمہ کو کم از کم دس لاشیں ملی ہیں، لیکن کچھ کے پاس کچھ قبروں کا سامان ہے اور کچھ کے ساتھ کچھ نہیں۔ ظاہر ہے کہ لوگوں کے ساتھ موت اور شاید زندگی میں بھی مختلف سلوک کیا گیا۔ ۔ یہ سماجی سطح بندی کی ایک ایسی سطح کی تجویز کرتا ہے جسے انسانی تاریخ کے اوائل میں اس سے پہلے بہت کم لوگوں نے سمجھا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ افراد کو ان کی پیتھالوجیز کی وجہ سے تفصیلی تدفین کی گئی ہو۔ اگرچہ Posth et al کا حالیہ کام۔ (2023) نے پورے یورپ میں ان Gravettian ثقافتوں میں اہم جینیاتی فرق پایا، جنازے کے طریقے الگ الگ مماثلت دکھاتے ہیں، اور تجویز کرتے ہیں کہ سماجی سطح بندی وسیع تھی اور کئی ہزار سال تک جاری رہی۔ حیرت انگیز چیزیں!

03/04/2023

بارے زحل کے!!

نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ اور مشتری کے بعد سائز میں دوسرے نمبر پر۔ قدیم زمانوں سے انسان اس سیارے کو دیکھتے آئے جو اسمانوں میں چمکتا اور سال بھر اپنی جگہ بدلتا۔

مگر جب سترویں صدی کے آغاز پر دوربین ایجاد ہوئی اور اسے دیکھا گیا تو اس سیارے کے ساتھ بڑے علاقے تک پھیلے روشن رِنگز تھے۔ زحل دراصل گیس جائینٹ ہے۔ اسکی کوئی ٹھوس سطح نہیں ہے۔ یعنی یہ گیسوں سے بنا ہے۔ ویسے ہی جیسے مشتری ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے بنا ہے۔

ہماری زمین کا محض ایک چاند ہے جبکہ زحل کے چاند ہیں 83۔ ان میں سب سے بڑا چاند کے ٹائٹن۔ یہ زمین کے چاند سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔ گو زحل پر زندگی ہونا ناممکن ہے مگر اسکے مختلف چاندوں پر پانی اور نامیاتی مالیکولز ملے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

زحل کے رنگز دراصل مختلف سائز کی خلائی چٹانیں ہیں جنکا سائز زمین پر کسی اوسط پہاڑ کے سائز سے لیکر چند سینٹی میٹر تک ہے۔ یہ رنگز زحل سے 2 لاکھ 82 ہزار کلومیٹر اوپر تک کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ زحل کے رنگز کائناتی عمر کے اعتبار سے ابھی ابھی بنے ہیں۔ یعنی محض چند کروڑ سال قبل۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ کمپیوٹر ماڈلز اور ان چٹانوں کی ساخت کو جان کر۔

زحل اپنے مدار میں ایک چکر 10.7 گھنٹوں میں مکمل کرتا ہے گویا اس پر ایک دن زمین کے آدھے دن سے بھی کم ہے۔ جبکہ سورج کے گرد یہ ایک چکر 29.4 زمینی سالوں میں مکمل کرتا ہے۔ زحل کی کثافت پانی سے کم ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر زحل کو زحل سے سائز میں بڑے کسی سمندر میں پھنیکا جائے تو یہ تیرنے لگے گا۔

2004 تک ناسا کے تین سپیس کرافٹ زحل کے قریب سے گزرے اور اسکی تصاویر زمین تک بھیجیں۔ مگر 2004 میں
ناسا کا کاسینی سپیس کرافٹ زحل کے مدار میں داخل ہوا جسکے بعد سائنسدانوں کو زحل کا بہتر تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔ اس سپیس کرافٹ کے ساتھ ایک سپیس پراب ہیوگن بھی تھا جو 2005 میں زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن ہر اُترا۔ اس پر کئی سائنسی الات نصب تھے اور یہ انسانوں کا کسی دوسرے سیارے کے چاند پر پہلا کامیاب مشن تھا۔ یہ پراب محض 72 منٹ تک ٹائٹن کی سطح پر کام کرتا رہا۔ البتہ کاسینی سپیس کرافٹ 13 سال تک زحل کے گرد مدار میں رہا اور اسکی فضا کا تفصیلی جائزہ لیتا رہا۔ ستمبر 2017 میں یہ اپنے مدار سے نکلا اور زحل کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔ اب 2026 میں ناسا زحل کے اس چاند ٹائیٹن تک ایک اور سپیس کرافٹ بھیجے گا جسکا نام ڈریگن فلائی ہو گا اور یہ 2034 میں اسکی سطح پر اُترے گا اور یہاں زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore