صراط مستقیم

صراط مستقیم

Share

This page is only for tasswof (تصوف) . Here we provide you the ideas of The top intellect of the modern era Professor Ahmad Rafique Akhtar sb �.

This is not an official page of professor Ahmad Rafique Akhtar. Alamaat.com is official page

01/07/2024

طاغوت، عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے لفظی معنی ہیں، بت، جادو، جادوگر، گمراہوں کا سردار (ابلیس)، سرکش، دیو اور کاہن۔ قرآن کریم میں یہ لفظ 8 مرتبہ استعمال ہوا ہے
شرعی اصطلاح میں طاغوت سے مراد خاص طور پر وہ شخص ہے، جو ارتکاب جرائم میں ناجائز امور میں اپنے گروہ کا سرغنہ یا سربرہ ہو۔
طاغوت کی تعریف ادب ولغت کے امام جوہری نے یہ کی ہے۔ والطاغوت الکاہن والشیطان وکل راس فی الضلال۔ یعنی طاغوت کا اطلاق کاہن اور شیطان پر بھی ہوتا ہے اور اس شخص کو بھی طاغوت کہتے ہیں جو کسی گمراہی کا سرغنہ ہو۔
اسلامی اصطلاح میں اس سلسلے میں مزید وسعت ہے۔ طاغوت سے مراد وہ حاکم یے جو قانون الہی کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور وہ نظام عدالت بھی اسی میں آتا ہے، جو نہ تو اقتدار اعلی یعنی اﷲ کا مطیع ہو اور نہ اﷲ کی کتاب کو سند مانتا ہو۔ لہذا قرآن مجید میں ایک آیت کے حوالے سے ہے کہ جو عدالت طاغوت کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے، لے کر جانا ایمان کے منافی ہے۔
قرآن کی رو سے اﷲ پر ایمان اور طاغوت سے کفر یعنی انکار دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ قرآن توحید کا مزیب ہے اور اگر خدا اور طاغوت دونوں کے سامنے سرجھکایا جائے تو ایمان کی بنیادی شرط پوری نہیں ہوتی۔

"طاغوت کیا ہے ؟"
طاغوت کا لغوی معنی حد سے تجاوز کرنا ہے شرعی اصطلاح میں طاغوت کی جامع تعریف وہ ہے جو ’’ابن قیم الجوزی رحمہ اللہ‘‘ نے اپنی کتاب ’’اعلام الموقعین عن رب العالمین‘‘(۵۰/۱) مطبوعہ دارالجیل میں کی ہے۔کہتے ہیں:
’’طاغوت سے مراد، ہر وہ معبود (جس کی عبادت کی جاتی ہو) متبوع (جس کی اتباع کی جاتی ہو) مطاع (جس کی بات مانی جاتی ہو) جسے کوئی بندہ اس کی "اصل" حیثیت سے زیادہ درجہ دے دے پس ہر قوم کا "طاغوت" وہ ہے کہ جس کی بات کو اللہ اور اس کے رسول کے طریقے کو چھوڑ کر مان لیا جائے ،
یا اللہ کے سوا اس کی عبادت کی جائے،
یا اللہ کی طرف سے عطاء کردہ کسی بصیرت (دلیل، رہنمائی، حکم) کے بغیر ہی اس کی اتباع کی جائے،
یا اس کی بات اسطرح مانی جائے کہ جیسے اللہ کی بات ماننی چاہیے۔
یہ سب دنیا کے طاغوت ہیں۔
لوگوں کے تعلقات و معاملات کے بارے میں غور وفکر کرنے پر آپ جان لیں گے کہ معاشرے میں ذیادہ تر لوگ اللہ کی عبادت سے ہٹ کر طاغوت کی عبادت میں لگ چکے ہیں۔
اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا) کے بجائے طاغوت کی طرف تحاکم کرتے ہیں۔۔۔۔
اور اللہ کی بات ماننے اور اس کے رسول کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے طاغوت کی بات مانتے اور اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔
اور اس تعریف کے رو سے آج کل کے جہموری ؤوٹ کا نظام جس میں مرد عورت زانی شرابی عالم جاہل آنپڑھ علم والا سب برابر تصور ہوتے ہے جمہوری حکمران، عدالتیں، فیصلہ کرنے والے لوگ، جانتے بوجھتے اس طاغوتی نظام پر راضی ہیں اس نظام کے مددگار ہیں اور طاغوت میں شامل ہیں ،
"طاغوت کو جاننے کی اہمیت"
اللہ تعالیٰ نے طاغوت کے ساتھ شامل ہونے سے منع فرمایا ہےاور اس کا کھلا انکار کرنے کا حکم دیا ہے اور اس ایسا کرنے کو ہی ایمان اور توحید کی شرط قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا:
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا وَ اﷲُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔
’’پس جو طاغوت کا کھل کر انکار کرے گا اور اللہ پر ایمان لائے گا وہی ہے جس نے ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا جو ٹوٹتا نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘
[سورۃ البقرہ، آیت: ۲۵٦]
نیز فرمایا:
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلاًم بَعِیْدًا۔
’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم (گمان و خوش فہمی ) ہے کہ وہ آپ کی جانب اور آپ سے پہلے نازل کردہ (وحی، دین، قانون) پر ایمان رکھتے ہیں اور فیصلے کے لئے طاغوت کے پاس جانا چاہتے ہیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کا کھل کر انکار کریں اور شیطان انہیں دور کی گمراہی میں لا پھینکنا چاہتا ہے۔‘‘
[سورۃ النساء، آیت:٦۰]
نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو طاغوت سے اجتناب کرنے کا حکم دیا ہے، فرمایا:
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اﷲَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔
’’اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘
[سورۃ النحل، آیت:۳٦]
نیز فرمایا:
وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَ اَنَابُوْآ اِلَی اﷲِ لَھُمُ الْبُشْرٰی فَبَشِّرْ عِبَادِ،الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰ ھُمُ اﷲُ وَاُولٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ۔
’’اور جو لوگ طاغوت کی عبادت سے بچتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے تو آپ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجئے وہ بندے جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے اچھے پہلو پر چلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔‘‘
[سورۃ الزمر، آیت: ۱۷-۱۸]
لہذا سوچنے کا مقام ہے جنہیں طاغوت کا پتہ تک نا ہو وہ اس سے اجتناب کیسے کریں گے ؟
اور معلوم ہوا کہ اکثریت میں عوام کو اور بعض علماء طلباء اور علم سے نسبت کرنے والوں کو طاغوت کے نہ جاننے کے بسبب جاہل قرار دیا جاسکتا ہے !

19/10/2022
18/10/2022

" خدا اپنے دوست کے دوستوں سے بھی محبت کرتا ہے اور انہیں بھی معاف فرما دیتا ہے"

استادِ محترم پروفیسر احمد رفیق اختر

02/05/2022

Para 30
Part 2

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore