Learn Quran with Hafiz Gulfam

Learn Quran with Hafiz Gulfam

Share

Education

04/08/2023

Asslam O Alikum
𝐀𝐫𝐞 𝐲𝐨𝐮 𝐥𝐨𝐨𝐤𝐢𝐧𝐠 𝐟𝐨𝐫 𝐎𝐧𝐥𝐢𝐧𝐞 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐓𝐮𝐭𝐨𝐫? 𝐖𝐞 𝐚𝐫𝐞 𝐩𝐫𝐨𝐯𝐢𝐝𝐢𝐧𝐠 𝐨𝐧𝐥𝐢𝐧𝐞 𝐐𝐮𝐫𝐚𝐧 𝐜𝐥𝐚𝐬𝐬𝐞𝐬.
بِسْمِ اللہِ الرّٙحْمٰنِ الرّٙحِیْمِ
خٙیْرُکُمْ مٙنْ تٙعٙلّٙمٙ القُرْآنٙ وَ عَلَّمَه

"The best of you are those who learn the Quraan and teach it to others."

[Sahih-Al-Bukhari]

*Learn_Quran_With Us

𝐎𝐮𝐫 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐬𝐞𝐬

📖 Reading of Quran
📖 Reactation of Quran
📖 Memorization of Quran
📖 40 Masoon Prayers
📖 Quran with tajweed
📖 Translation of Quran
And many more.........

(3 Days free Trail Sessions)

(USA. .UK. . Canada. .Australia. .UAE. Etc).
Contact Now:👇

📲 Whatsapp :
+923174390622
"24 Hours present
;And female teacher Available
If you would like to Learn Quran, or do you want to teach your kids, we provide online Quran classes with Tajweed.
Please let me know.















24/08/2022

{فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا:تو انہیں چاہیے کہ تھوڑا سا ہنس لیں۔ } اس آیت میں منافقین کو تھوڑا ہنسنے اور بہت رونے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ منافقین کی حالت کی خبر دینے کے طور پر کلام کیا گیا ہے۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین اگرچہ اپنی ساری زندگی ہنسیں اور خوشیاں منائیں یہ کم ہے کیونکہ دنیا اپنی درازی کے باوجود قلیل ہے اور آخرت میں ان کا غم اور رونا بہت زیادہ ہو گا کیونکہ آخرت کی سزا ہمیشہ کے لئے ہو گی، کبھی ختم نہ ہو گی اور ختم ہو جانے والی چیز نہ ختم ہونے والی کے مقابلے میں تھوڑی ہی ہے۔ (تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۲، ۶ / ۱۱۴، ملخصاً)
تفسیر خازن میں ہے دنیا میں خوش ہونا اور ہنسنا چاہے کتنی ہی دراز مدت کے لئے ہو مگر وہ آخرت کے رونے کے مقابل تھوڑا ہے کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت دائم اور باقی ہے۔ آخرت کا رونا دنیا میں ہنسنے اور خبیث عمل کرنے کا بدلہ ہے۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۸۲، ۲ / ۲۶۷)
تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں :

اس آیت میں اگرچہ منافقین سے متعلق کلام ہے البتہ جداگانہ طور پر ہمیں بہرحال یہی حکم دیا گیا ہے کہ تھوڑا ہنسیں اور گریہ و زاری زیادہ کیا کریں۔ چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرور ِعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو تھوڑا ہنستے اور بہت روتے۔ (بخاری،کتاب التفسیر، باب لاتسألوا عن اشیاء۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۱۷، الحدیث: ۴۶۲۱)
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو! روؤ، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کرو کیونکہ جہنمی جہنم میں روئیں گے حتّٰی کہ ان کے آنسو ان کے چہروں پرا س طرح بہیں گے گویا کہ وہ نہریں ہیں یہاں تک کہ ان کے آنسو ختم ہو جائیں گے، پھر ان کا خون بہنے لگے گا اور وہ خون اتنا زیادہ بہہ رہا ہو گا کہ ا گرا س میں کشتی چلائی جائے تو چل پڑے۔ (شرح السنّہ، کتاب الفتن، باب صفۃ النار واہلہا، ۷ / ۵۶۵، الحدیث: ۴۳۱۴)
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور ساتھ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم تھے۔ جب اندر داخل ہوئے تو انہیں گھر والوں کے جھرمٹ میں پایا، ارشاد فرمایا: کیا فوت ہو گئے؟ لوگوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، نہیں۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ رونے لگے، جب لوگوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رونے لگے۔ ارشاد فرمایا ’’سنو! بے شک اللہ تعالیٰ آنکھ کے بہنے اور دل کے مغموم ہونے پر عذاب نہیں دیتا بلکہ اس کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم فرماتا ہے، اور زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب البکاء عند المریض، ۱ / ۴۴۱ رقم ۱۳۰۴)
نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو آپ نے دریافت فرمایا، ’’اے جبرائیل! عَلَیْہِ السَّلَام، تم کیوں روتے ہو حالانکہ تم بلندترین مقام پر فائز ہو؟ انہوں نے عرض کی ’’میں کیوں نہ روؤں کہ میں رونے کا زیادہ حق دار ہوں کہ کہیں میں اللہتعالیٰ کے علم میں اپنے موجودہ حال کے علاوہ کسی دوسرے حال میں نہ ہوں اور میں نہیں جانتا کہ کہیں ابلیس کی طرح مجھ پر اِبتلا نہ آجائے کہ وہ بھی فرشتوں میں رہتا تھا اور میں نہیں جانتا کہ مجھ پر کہیں ہاروت وماروت کی طرح آزمائش نہ آجائے ۔ یہ سن کر رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی رونے لگے ۔ یہ دونوں روتے رہے یہاں تک کہ نداء دی گئی ، ’’اے جبرائیل !عَلَیْہِ السَّلَام، اور اے محمد ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،اللہ تعالیٰ نے تم دونوں کو نافرمانی سے محفوظ فرما دیا ہے ۔ ‘‘پھر حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام چلے گئے اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ باہر تشریف لے آئے ۔ (مکاشفۃ القلوب، الباب التاسع بعد المائۃ فی التخویف من عذاب جہنم، ص۳۱۷)


اللہ تعالیٰ ہمیں بھی کم ہنسنے ، اپنی آخرت کے بارے میں فکرمند ہونے اور گریہ و زاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

17/08/2022

‎تفسير ؛.

‎ {یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ: جس دن ان کے خلاف گواہی دیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ان کے خلاف ان کی زبانیں ،
‎ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔زبانوں کا گواہی دینا تو اُن کے مونہوں پر مُہریں لگائے جانے سے پہلے ہوگا اور اس کے بعد مونہوں پر مُہریں لگادی جائیں گی جس سے زبانیں بند ہوجائیں گے اور اعضاء بولنے لگیں گے اور دنیا میں جو عمل کئے تھے وہ ان کی خبر دیں گے۔( خازن، النور، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۳۴۵)

15/08/2022

‎تفسير ؛.

‎ {صِبْغَةَ اللّٰهِ: اللہ کا رنگ۔}
‎جس طرح رنگ کپڑے کے ظاہر وباطن میں سرایت کرجاتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ کے دین کے سچے عقائد ہمارے رگ و پے میں سما گئے ہیں ،ہمارا ظاہر و باطن اس کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ہمارا رنگ ظاہری رنگ نہیں جو کچھ فائدہ نہ دے بلکہ یہ نفوس کو پاک کرتا ہے۔ ظاہر میں اس کے آثار ہمارے اعمال سے نمو دار ہوتے ہیں۔ عیسائیوں کا طریقہ تھا کہ جب اپنے دین میں کسی کو داخل کرتے یا ان کے یہا ں کوئی بچہ پیدا ہوتا تو پانی میں زرد رنگ ڈال کر اس میں اس شخص یا بچہ کو غوطہ دیتے اور کہتے کہ اب یہ سچا عیسائی ہوگیا ۔اس کا اس آیت میں رد فرمایا کہ یہ ظاہری رنگ کسی کام کا نہیں۔

14/08/2022

‎تفسير ؛.

‎ {یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ: وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہتا ہے خاص فرما لیتا ہے۔} یعنی اللہ تعالیٰ نبوت و رسالت کے ساتھ جسے چاہے خاص فرمالیتا ہے اور نبوت جس کسی کو ملتی ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے ملتی ہے اس میں ذاتی استحقاق کا دخل نہیں۔ ہاں اب اللہ تعالیٰ نے چونکہ نبوت کا دروازہ بند کردیا تو اب کسی کو نبوت نہ ملے گی۔

13/08/2022

تفسیر؛

{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ:بیشک اللہ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں فرماتا۔} اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرے جتنا بھی ظلم فرمائے۔ یہاں یہ بات اس معنیٰ میں ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کے نیک اعمال بغیر کسی وجہ کے ضائع فرماکر ان کی جزا سے محروم کر دے یا کسی مجرم کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دیدے، یہ اس کی شان کے لائق نہیں بلکہ اپنے فضل ورحمت سے نیکی کا ثواب عمل کے مقابلے میں بہت زیادہ عطا فرماتا ہے۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ ظلم سے پاک ہے مومن نیکی کرتا ہے تو دنیا میں رزق اور آخرت میں جنت کی صورت میں ثواب پاتا ہے اور کافر کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کے بدلے دنیا میں ہی اسے رزق دے دیا جاتا ہے اور قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی جس پر اسے کوئی جزا ملے۔(مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار، باب جزاء المؤمن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۵۰۸، الحدیث: ۵۶(۲۸۰۸))

12/08/2022

تفسیر،

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کیلئے اذان دی جائے ۔} اس آیت سے نمازِجمعہ کے احکام بیان کئے جا رہے ہیں ۔یہاں اس آیت سے متعلق تین باتیں ملاحظہ ہوں :
(1)… اس آیت میں اذان سے مراد پہلی اذان ہے نہ کہ دوسری اذان جو خطبہ سے مُتَّصِل ہوتی ہے۔ اگرچہ پہلی اذان حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں اضافہ کی گئی مگر نماز کی تیاری کے واجب ہونے اور خرید و فروخت ترک کر دینے کا تعلق اسی سے ہے۔
(2)…دوڑنے سے بھاگنا مراد نہیں ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ نماز کیلئے تیاری شروع کردو اورذِکْرُ اللّٰہ سے جمہور علماء کے نزدیک خطبہ مراد ہے۔
(3)… اس آیت سے نمازِ جمعہ کی فرضیّت،خرید و فروخت وغیرہ دُنْیَوی مَشاغل کی حرمت اور سعی یعنی نماز کے اہتمام کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا ۔( خزائن العرفان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۹، ص۱۰۲۵، ملخصاً)

09/08/2022

Assalam-u-Alikum

Recpected Parents/ Guardian/ Students

This is Qasim Abdullah, a passionate teacher,
Who teaches Qur’an With tajweed & Qirat to the Students who went to learn the Quran online while staying at the comfort of their house.

Are you looking for a Quran Teacher, that can help you/ your kids in Quran Reading from basic to an advanced level ? Well, I ,m here to help you.

I need your trust to get started . InShaAllah , My teaching will never disappoint you. Because Quran teaching is passion.

Why you should hire me ?
:5 Year in Quran Teaching
:50+ Students learned online

I will Insha’Allah :

Teach you letters, words,Sentences,And the verses of Quran, Step by step in a simple and easy way and focus on the pronunciation and articulation points, With exercises and good methods of tajweed.

I ,ll Teach you

:Arabic Alphabetic Proper pronunciation (Noorani Qaida)
: Quran Reading & Recitation With Complete Tajweed Rules.
: Quran Hifaz ( Memorization) complete or some specific Surah.

:Salah / Prayer / Namaz / Six Kalimah
:Salah (Prayer), Janazah , Gussal, Wuzoo etc.
:Basic Islamic Education,Aytalqursi,Duaqanoot

Thanks for your time


















Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Green Town
Lahore