Knowledge ki duniya

Knowledge ki duniya

Share

This group will share features and information related to education and technology

19/09/2023


بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا پیپر مارکنگ اورچیکنگ سسٹم۔
میں اپ سب لوگوں کی توجہ ایک انتہائی اہم معاملے پر دلانا چاہتا ہوں یہ معاملہ تقریبا 70 سالوں سے چل رہا ہے اور پورے پاکستان کو اس مسئلے کا سامنا ہے اور یہ مسئلہ ہے بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا پیپر مارکنگ اور چیکنگ سسٹم۔ہر مرتبہ نویں دسویں گیارہویں اوربارویں کے نتائج جب سامنے اتے ہیں تو بہت سے طلبہ و طالبات کو حیرانگی اور مایوسی کا دھچکا لگتا ہے کیونکہ ان کی نظر کے مطابق ان کا پرچہ یا پیپر جو انہوں نے نویں دسویں گیارہویں یا بارہویں کلاس کا دیا ہوتا ہے اس میں ان کے نمبر توقع سے بہت کم ہوتے ہیں بعض اوقات وہ بچے فیل بھی ہو جاتے ہیں جب وہ اپنی تسلی کے لیے اپنے پیپر کو ری چیک کرنے کی درخواست دیتے ہیں تو بورڈ ان سے فی پیپر تقریبا 1100 روپے چارج کرتا ہے۔ جب وہ اپنے پیپر کو دیکھنے جاتے ہیں یعنی ری چیک کے لیے جاتے ہیں تو صرف اس پیپر کا ٹوٹل ہی ری چیک کیا جاتا ہے اس کے سوالات وہ بے شک صحیح ہوں اور غلط کر دیے گئے ہوں اس کی شنوائی نہیں ہوتی ۔جب امیدوار اپنے پیپر چیک کرنے جاتا ہے تو اس کی گھڑی اس کا موبائل اس کا پرس یہ سب چیزیں رکھ لی جاتی ہیں اور اکیلے امیدوار کو ایک کمرے میں بھیجا جاتا ہے جب پیپر اس کے سامنے رکھ دیے جاتے ہیں پیپر میں بے شک اس کا سوال صحیح ہو اور اس کو غلط کر دیا گیا ہو وہ اس کو چیلنج نہیں کر سکتا۔ اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ ان تمام معاملات کا ذمہ دار کون ہے طالب علم جس نے سارا سال محنت کی اس کے سکول میں رزلٹس بہترین تھے سکول کے امتحانات میں اس بچے نے بہترین نمبر لیے لیکن بورڈ کے اندر اس کو فیل قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ پیپر چیک کرتا ہے تو پیپر میں سارے سوال صحیح ہوتے ہیں اور ان کو کراس کر کے غلط کیا گیا ہوتا ہے۔
یہ نظام کیا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے اور صحیح سوالوں کو غلط کیسے کر دیا جاتا ہے یہ چیز بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو بورڈ کا پیپر مارکنگ اور چیکنگ سسٹم سمجھتے ہیں بورڈ اف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مختلف جگہ پہ کلسٹر بنا کر وہاں پر پیپر اساتذہ سے چیک کروایا جاتا ہے۔ اساتذہ کی کوشش ہوتی ہے وہ کہ وہ کم از کم میں زیادہ سے زیادہ پیپر چیک کریں تاکہ ان کی دیہاڑی بن سکے یہ عام طور پر تقریبا ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ روپوں تک چلی جاتی ہے یعنی اساتذہ زیادہ سے زیادہ پیپر چیک کرتے ہیں اور کم از کم وقت میں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسے بنا سکیں اس صورتحال میں اپ خود اندازہ کر لیں کہ وہ اساتذہ پیپر کو پڑھتے ہوں گے کہ نہیں پڑھتے ہوں گے۔ نان پروفیشنل اساتذہ جن کی اس مضمون پر گرفت بھی نہیں ہوتی ان کو یہ پیپر دے دیے جاتے ہیں اور ان کو کہا جاتا ہے کہ تم جتنے زیادہ پیپر کرو چیک کرو گے اتنی پیسے کماؤ گے اس صورتحال میں جب اساتذہ پیپر چیک کرتے ہیں تو نہ وہ پڑھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں اور نہ پیپر کی کوالٹی کو چیک کرتے ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ پیپر زیادہ سے زیادہ چیک کیے جائیں۔اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں ہم سب لوگ اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ جب بچے فیل ہونے کی وجہ سے یا کم نمبر لینے کی وجہ سے خودکشیاں کرتے ہیں ماں باپ ان کی فیسیں دوبارہ ادا کرتے ہیں اور پھر یہی پیپر انہی نکمے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جن کو نہ تو پیپر چیک کرنے کے معیار کا کوئی پتہ ہے اور نہ ہی انہوں نے پیپر چیک کرنے کا کوئی طریقہ وضع کیا ہوا ہے ۔میں اپ سب لوگوں کی توجہ اس مسئلے پر دلانا چاہتا ہوں برائے مہربانی اس معاملے کو اٹھائیں تاکہ اپ کے اور ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے اس آواز کو اٹھائیں بورڈ اف انٹرمیڈیٹ سیکنڈری ایجوکیشن کا یہ گھٹیا اور فضول طریقہ جس میں صرف پیپر کے ٹوٹل ہی چیک کیا جاتا ہے اس کو ختم کرنے میں ہماری مدد کریں اور بورڈ کے طریقے کار کو نئے سرے سے وضع کرنے میں ہماری مدد کریں تاکہ لائق طلباء کو ان کا حق مل سکے اس ضمن میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بورڈ کو چاہیے کہ وہ صرف ٹوٹل چیک کرنے کی بجائے بچوں کو اپیل کا بھی حق دیں کہ ان کے پیپرز دوسرے اساتذہ سے دوبارہ چیک کروائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ پہلے پیپر جن لوگوں نے چیک کیے ہیں کیا وہ معیار کے مطابق چیک کیے ہیں کہ نہیں ۔برائے مہربانی اس آواز کو بلند کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ میسج پہنچائیں تاکہ ذمہ داران کو اپنی غلطی کا احساس ہو سکے۔شکریہ

30/08/2023

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے انٹرمیڈیٹ (Part I & II) کیلئے انگلش گرامر اینڈ کمپوزیشن کی نئی کتاب جاری کر دی ہے۔

تمام انٹرمیڈیٹ طلباء اور اساتذہ پنجاب بورڈ کے سالانہ امتحانات کی تیاری میں اس نئی کتاب سے استفادہ کریں۔

23/08/2023

پنجاب کے تمام بورڈز کی طرف سے منعقد ہونے والے انٹرمیڈیٹ بورڈ امتحانات کے رزلٹ اور سیکنڈ اینول بورڈ امتحانات کا ممکنہ شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ *سیکنڈ ایئر کا رزلٹ 12 ستمبر کو جبکہ فرسٹ ایئر کا رزلٹ 10 اکتوبر کو اناؤنس ہوگا۔* سیکنڈ اینول بورڈ ایگزامز کے داخلے 13 ستمبر سے شروع ہوں گے اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا اغاز 20 اکتوبر سے ہوگا۔

22/08/2023

السلام علیکم!
آج بروزمنگل22 اگست کو کلاس نہم کا رزلٹ ہے.
تمام والدین سے گزارش ہے کہ نمبرز اور گریڈز کے چکروں میں اپنی اولاد کو ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہونےدیجئےگا.
نمبر تھوڑے ہیں یا زیادہ اُسے مبارک باد دیجئےگا.
حوصلہ افزائی کیجئےگا، اس کا کندھا تھپتھپائیے، اسے یقین دلائیے کہ ہاں ہم ہمیشہ تمہارے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
ان شاء اللہ کل کو یہی بچہ آپ کا سر فخر سے بلند کرے گا!

12/02/2023

ایک بینک ڈکیتی کے دوران ڈکیت نے چیخ کر سب سے کہا ’کوئی بھی نہ ہلے، سب چپ چاپ زمین پر لیٹ جائیں، رقم
لوگوں کی ہے اور جان آپ کی اپنی ہے۔‘
سب چپ چاپ زمین پر لیٹ گئے۔ کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ اسے کہتے ہیں مائنڈ چینج کانسیپٹ (سوچ بدلنے کا
تصور) ڈکیتی کے بعد گھر واپس آئے تو ایم بی اے پاس نوجوان ڈکیت نے پرائمری پاس بوڑھے ڈکیٹ سے کہا ’چلو رقم گنتے
ہیں۔
بوڑھے ڈکیت نے کہا تم پاگل ہو گئے ہو اتنے زیادہ نوٹ کون گنے، رات کو خبروں میں سن لینا کہ ہم کتنا مال لوٹ کر لائے
ہیں۔ اسے کہتے ہیں تجربہ جو کہ آج کل ڈگریوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
دوسری جانب جب ڈاکو بینک سے چلے گئے تو منیجر نے سپروائزر سے کہا کہ پولیس کو فون کرو۔ سپروائز نے جواب دیا
’رک جائیں سر ! پہلے بینک سے ہم دونوں اپنے لیے دس لاکھ ڈالرز نکال لیتے ہیں اور ہاں وہ چالیس لاکھ ڈالرز کا گھپلہ
جو ہم نے حالیہ دنوں میں کیا ہے وہ بھی ڈاکوؤں پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ لوٹ کر لے گئے۔‘ اسے کہتے ہیں وقت کے ساتھ
ایڈجسٹ کرنا، اور مشکل حالات کو اپنے فائدے کے مطابق استعمال کرنا۔
منیجر ہنس کر بولا ’ہر مہینے ایک ڈکیتی ہونی چاہیے۔ اسے کہتے ہیں بوریت ختم کرنا، کیونکہ ذاتی مفاد اور خوشی جاب
سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
اگلے دن اخبارات اور ٹی وی پر خبریں تھیں کہ ڈاکو بینک سے سو ملین ڈالرز لوٹ کر فرار۔ ڈاکوؤں نے بار بار رقم گنی لیکن
وہ پچاس ملین ڈالرز سے زیادہ نہ نکلی۔ بوڑھا ڈاکو غصے میں آ گیا اور چیخا ’ہم نے اسلحہ اٹھایا۔اپنی جانیں رسک پر لگائیں
اور پچاس ملین ڈالرز لوٹ سکے، جبکہ بینک منیجر نے بیٹھے بیٹھے چند انگلیاں ہلا کر پچاس ملین ڈالرز لوٹ لیا۔ اس
سے پتا چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے۔ ہمیں چور نہیں پڑھے لکھے ہونا چاہیے تھا۔
اسی لئے کہتے ہیں علم کی قیمت سونے کے برابر ہوتی ہے..

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore