Qaria Online

Qaria Online

Share

Quran education for females and kids.Classes provide on zoom and skype for 5 days per week💻🌎✨♥️.

11/01/2025

نماز کا ایک انوکھا اور حیران کن پہلو:⬇️♥️

‏میں تلاوت کر رہا تھا تو سورہ المعارج کی ایک آیت پر آ کر رک سا گیا.... بات انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان اصل پیدا کیسا ہوا ہے۔
ایسی کوئی بھی آیت آئے تو میں رک کر تھوڑا سا سوچنے لگتا ہوں۔
آیت تھی:

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا
حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے ___

میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا، تو ”ھلوعا“ کا مطلب اینگوئش لکھا تھا، اب اینگوئش کا مطلب اردو میں سمجھوں تو یہی لگتا ہے کہ ایسا انسان جس میں بے چینی، تشویش، یا بے صبری سی ہو۔
بہرحال میں نے”کم ہمت“پر ہی اکتفا کر لیا اور اسے بے صبری کے معنوں میں لے لیا۔
اگلی آیت کچھ اور بھی معنی خیز تھی:

اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے___

”جزوعا“ کا لفظ تو مجھے سمجھ آ گیا.... انگریزی میں ترجمہ بھی قریب قریب ہی تھا، امپیشنٹ، مطلب بے چین، یعنی تکلیف پہنچے تو انسان چاہتا ہے بس اب یہ رفع ہو جائے، بس ختم ہو جائے کسی طرح..

وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا
اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے___

”منوعا“ یعنی کنجوس
جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے، تو اس کا دل چاہتا ہے بس اس کے پاس ہی رہے وہ نعمت، کسی اور کو نہ مل جائے۔

جو رلا دینے والی آیت تھی، وہ بعد میں آئی:

اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ
مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں___

یعنی نماز پڑھنے والے لوگوں کے علاوہ ‏انسان کی حالت اسی طرح کی ہے۔ انسان کی یہ پیدائشی حالت صرف اس صورت میں بدل سکتی ہے، جب وہ نماز قائم کر لیتا ہے۔
مجھے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی یہ سوچ کرمیں پہلی تین آیات پڑھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہی بنائے انسان کی کمیاں اور خامیاں گنوا رہا ہے۔ ‏

لیکن ”الّا المصلّین“ پڑھا تو دل مطمئن سا ہو گیا کہ ان کمیوں اور خامیوں کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے راستہ رکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ.....
◼️”ھلوعا“
◼️”جزوعا“
◼️”منوعا“
کی دلی اور جذباتی حالتوں سے نکل سکتا ہے۔

اور میں سوچنے لگا، یعنی تصور کرنے لگا، کہ انسان سے تشویش، ‏بے چینی، اور کنجوسی نکل جائیں تو کیسی حالت ہوتی ہے انسان کی۔
یعنی نماز کی برکت سے اگر انسان کے دل سے تشویش، بے چینی اور کنجوسی نکل جائیں، اور اس کی پریشانی، گھٹن اور تنگدلی دور ہو جائے، تو انسان میں کیسی وسعت، اور کیسی کشادگی آ جاتی ہے۔ انسان کی طبیعت کتنی ہلکی پھلکی ہو جاتی ہے، اور اس کے دل پر بوجھ ڈالنے والی چیزیں کس طرح غائب ہو جاتی ہیں۔
بے شک نماز ایک عظیم نعمت ہے۔

31/07/2024

مسلم امہ کا رونا بنتا ہے ، ایسے میں زیادہ بنتا ہے جب آپ بےبس ہوں اور اللہ کے بعد آپ کی امید ایک یہی جری شخص ہو تو اس کے قتل پر سوگ بھی بنتا ہے اور رونا بھی ۔ بزدلوں کی بستی میں ایک ہی بہادر تھا ۔ اور بہادر ہمیشہ مار دیے جاتے ہیں ۔ اسما عیل ہنیہ مظلوم فلسطین کی طاقت ور آواز اور امید تھے ۔ یہ آواز دبا دی گئی ، امید توڑ دی گئی ۔ قدس کے لوگ کہتے تھے جب تب اسماعیل ہنیہ زندہ ہے فلسطین کے بچے یتیم نہیں ہو سکتے ۔ لیکن وہ ہوگئے ۔
وہ جس نے اپنے تین بیٹوں ، سات پوتوں سمیت خاندان کے 53 افراد کی قربانی دی ، اسرا ئیل کی نیندیں اڑانے کو کافی تھا ۔۔۔ اس پر شب خون مارا گیا ، پرائے دیس کے مہمان خانے میں شہید کردیا گیا ۔
ہم سے تعزیت کرو لوگو!!!
بچھڑنے والا بہت قریبی تھا
اے شہیدِ قدس !
آپ جنت مکین ہوں ، دعا ہے کہ پھر اس امت میں کوئی آپ جیسا پیدا ہو جو آزاد فلسطین کا خواب دیکھے اور اور اپنی ساری زندگی اس جہا د میں وقف کردے ۔ امت کو ہمیشہ ایک اسماعیل کی ضرورت رہتی ہے اور اسماعیل کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے ۔۔۔۔
سلام علی اسماعیل
مثلِ ایوانِ سحَر مرقد فرُوزاں ہو ترا
نُور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
آمین ثم آمین









25/01/2024

Photos from Qaria Online's post 14/11/2023

And its1445ھ....





09/10/2023

‏کاش کوئی "قمیص یوسف" ہوتی میرے پاس جس کے ڈالنے سے بیناٸی لوٹ آتی تو،
میں اس قمیص کو مسلمان "مردوں" کے آنکھوں پہ ڈالتی تاکہ انکی روحانی بینائی لوٹ آۓ...
اور ان کو قدس دکھائی دے...
کہ کب سے القدس
فاتح عمرؓ کا منتظر ہے...
کسی ایوبی کا منتظر ہے...










09/10/2023

اپنی گود میں پالے ہیں پیغمبر اس نے.
مومن پر واجب ہے اقصی کا تحفظ کرنا..
کیا یہود کا زنداں کانپ رہا ہے،
گونج رہی ہیں تکبیریں...
اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی..،
اور توڑ رہے ہیں زنجیریں...،
دیواروں کے نیچے آکر....،
یوں جمع ہوئے زندانی....،
سینوں میں طلاطم بجلی کا...،
آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں.......














07/10/2023

😊 ایک عظیم لیڈر کی داستان 😊
ہم نے چار شادیوں پر زور دیئے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ رسول پاک نے اپنی جوانی کے 25 سال ایک ہی عورت کے ساتھ گزارے اور حصرت سودہ سے دوسری شادی حضرت خدیجہ رض کی وفات کے بعد کی۔ ہم نے یہود نصاری کی دشمنی کا راگ الاپے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ میثاق مدینہ کے وقت یہودیوں کے دس قبائل تھے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتحادی تھے۔ فرانس نے گستاخی کی تو ہم نے اپنے ہی ملک میں آگ لگا دی ،لیکن یہ کبھی نہ بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کو معاشی طور پر کمزور کرکے اپنی دھاک بٹھائی۔

مشرکین مکہ تاجر تھے اور تجارت کی غرض سے شام جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شمال کی راستے پر واقع قبائل سے دوستیاں کیں اور مشرکین مکہ کی تجارت کا راستہ بند کروایا۔ جب وہ جنوب کے راستے یمن جانے لگے تو آپ نے وہاں کے باشندوں سے معاہدے کر کے اہل قریش کا راستہ روک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی ملک کو آگ نہیں لگائی تھی بلکہ دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے اس کی کمر توڑ دی۔ نوبت فاقوں تک پہنچی تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کہا کہ ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ سو اشرفیوں کے ساتھ بہترین کھجوریں دیتے ہوئے تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔ یعنی اہل قریش دشمن بن کر آئے تو آپ نے ان کی کمر توڑ دی۔ لیکن وہی دشمن بطور انسان رحم کی بھیک مانگنے آئے تو آپ نے ان کی مدد کی۔

مجھ میں اتنی تاب نہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نبی سمجھ سکتا لہذا میں نے آپ کو بطور انسان سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے جانا:

آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ نے اپنی تدبیر سے صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کئے جو بظاہر مسلمانوں کو کمزور کرنے والے تھے، لیکن وہی معاہدے آپ کے لئے فتح مکہ کا باعث بنے۔ آپ نے دشمنوں کی جاسوسی کے لئے حضرت ابو ہریرہ کی ڈیوٹی لگائی تاکہ دشمنان کے ارادے جان سکیں۔

آپ ایک عظیم سفارتکار تھے۔ آپ نے اپنے دشمن کے دوستوں سے دوستیاں کی تاکہ ان کا اثر کم ہوسکے۔ مدینہ کے شمال میں خیبر اور جنوب میں مکہ تھا۔ اور ان دونوں شہروں کے باشندے مسلم مخالف تھے۔ آپ نے کمال ذہانت سے صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی کسی جنگ میں دشمن کا ساتھ نہ دیں گے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے خیبر اور اہل مکہ کے مشرکین کو جدا کر کے شکست دی۔

آپ ایک کمال سپہ سالار تھے۔ مدینہ شہر کے تینوں اطراف پہاڑ تھے اور واحد زمینی راستہ پر آپ نے خندق کھود کر مدینہ کو آنچ نہ آنے دی۔ آپ نے یہودیوں کے دس قبائل سے معاہدے کئے کہ وہ اپنے مختلف مذہب کے باوجود مسلمانوں کی جنگی مدد کریں گے اور جنگی اخراجات مل کر برداشت کریں گے۔

آپ ایک بہترین منتظم تھے، آپ نے اپنی بہترین نظامت سے ایک اسلامی ریاست کو بام عروج پر پہنچایا۔ آپ نے پولیس اور انصاف کا نظام متعارف کروایا۔ اور مجرم کو گردن سے پکڑنے کی ذمہ داری حضرت علی کے سپرد کی۔ آپ نے مختلف ریاستوں کے گورنر نامزد کئے اور ان سے خط و کتابت سے امور مملکت جانتے رہے۔

آپ ایک بہترین معلم تھے، آپ نے کچھ نہ ہونے کے باوجود صفہ کا قیام عمل میں لایا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام واضع کیا۔ میں کیا، دنیا کا کوئی فلسفی، کوئی دانشور یا کوئی محقق دنیا کی عظیم ترین شخصیات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل پاتا ہے۔

لیکن۔۔ ہم نے اپنے نبی کے مقام و مرتبہ کے ساتھ ناانصافی کی۔ ہم ساری زندگی چاند کو توڑنے اور واقعہ معراج جیسے معجزات بیان کرتے رہے، لیکن بطور بشر آپ کے کمالات کو کبھی بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بالکل ایسے جیسے امام حسین کے واقعہ کربلا کے علاوہ کسی کو امام کی ذات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور نبی معجزات سے نہیں بلکہ بطور بشر تن تہنا، ایک ایسی ریاست کا قیام عمل میں لائے جسے دیکھ کر قیصر و قصری اور فارس کے محلات بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ پھر وہ وقت آن پہنچا، جب دنیا کا عظیم ترین انسان میدان عرفات میں لاکھوں کے جھرمٹ میں یہ اعلان کر رہا تھا
"الیوم اکملت لکم دینکم " (آج کے دن دین مکمل ہوگیا)۔ گویا وہ بشری معراج پر پہنچ چکے تھے اور اس کے بعد یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے بند کردیا گیا۔

دنیا کے عظیم ترین لیڈر، عظیم ترین سیاست دان، عظیم ترین سفارتکار، عظیم ترین سپہ سالار اور عظیم ترین معلم پر لاکھوں کروڑوں سلام
صلی اللہ علیہ وسلم
Copied

30/09/2023

التکاثر - پہلی آیت:
“تمہیں حرص نے غافل کر دیا۔”

ایک دوڑ ہے!
نہ ختم ہونے والی دوڑ✨

پہننے اوڑھنے سے لے کر گھر کی آرائش، ہوٹلنگ، فون سیٹ، گاڑی کا ماڈل۔ بچے ہو جائیں تب بھی کون سا سکول، کون سا کلب۔ لنچ میں کیا ہے؟

ایک دوڑ ہے کہ انسان ہلکان ہوا جاتا ہے۔
یہ اِن سیکیورٹی کیا ہے؟ یہ حسد کیوں ہے؟

کیا محبتوں کا مل جانا بھی رزق نہیں؟
ہم اپنے رزق پر راضی کیوں نہیں ہیں؟
دوسرے کا رزق چھیننا کیوں چاہتے ہیں؟

دل گرفتگی!
ابنِ آدم سے متعلق وہ حدیث ذہن میں آ رہی ہے کہ سونے کی دو وادیاں مل جائیں تو تیسری کے لئے بے چین ہو جائے گا۔ “اور اس کا پیٹ کسی چیز سے نہیں بھرے گا، سوائے مٹی کے۔”

اللہ ہمارے رزق میں برکت ڈالیں، اور ہمیں اس پر راضی کر دیں۔
تھکا دینے والی اس دوڑ سے بے نیاز کر دیں۔
ہمیں بے رغبت کر دیں۔

سورۃ التکاثر - آخری آیت:
“پھر اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق سوال ہو گا۔”

دعا ہے کہ ہم اپنی نعمتوں پر نظر رکھنے والے ہوں، اور اپنے رزق پر راضی ہو جائیں تا کہ ہمیں اپنا قد اونچا کرنے کی خاطر دوسروں کی ٹانگیں کاٹنی نہ پڑیں۔ آمین✨









30/09/2023

‏اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں بہترین مذہب، عقیدہ یا نظریہ صرف آپ کا ھے.... تو دنیا میں بہترین کردار پیش کرنا بھی آپ ہی کی ذمہ داری ہے. 💯 ✅









28/09/2023

(1) ہر سال جشن سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
2۔ ہر سال غسل خانہ کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
3۔ ہر سال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
4۔ غلاف کعبہ پر آیت لکھی جاتی ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
5۔ مکہ مکرمہ مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا ثبوت قرآن و حدیث میں نہیں
6۔ ۔مدارس میں ہر سال ختم بخاری ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
7۔ محافل سجائی جاتی ہے جلسہ عام ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
8۔ ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے چلّے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
9۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
10۔ ذکر میلادِ مصطفیٰ صلی الله عليه وسلم منانے کا کسی صحابی ائمہ محدث و بزرگان دین نے منع کیا ہو اس کا بھی قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ۔
لیکن جیسے ہی میلادالنبی صلی الله عليه وسلم منانے کی بات آ جائے سارے نام و نہاد مفتی دین کے ٹھیکیدار کھڑے ہو جاتے ہیں اور شرک و بدعت کا شور الاپنا شروع کر دیتے ہیں ۔ جب کہ انہیں خود شرک و بدعت کی تعریف نہیں معلوم ۔

نثار تیری چہل پہل پر ہزار عیدیں ربيع الاول
سواے ابلیس کی جہاں میں سبھی تو خوشیاں مانا رہے ہیں💯🎉✨♥️

ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے❣️✨

ہر طرف نور چھایا... آقا کا میلاد آیا...😍✨













23/09/2023

لابی میں چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اُس نے مجھ سے پوچھا:
مدینہ میں ہے کوئی جان پہچان والا؟
اس سوال میں جانے کیا تھا کہ مضطرب دل کے سارے تار جھنجھلا اٹھے اور پورے بدن میں ارتعاش بپا ہو گیا.میں نے کوئی جواب دیئے بغیر اپنے آپ سے پوچھا:
مدینے میں ہے کوئی جان پہچان والا؟
اور اس سوال کے ساتھ ہی میری آنکھیں بھر آئیں،حلق میں نمک سا گھلنے لگا.
"مدینے میں بھی بھلا کوئی اجنبی ہوتا ہےکیا؟"

22/09/2023

نماز کا ایک انوکھا اور حیران کن پہلو:⬇️♥️

‏میں تلاوت کر رہا تھا تو سورہ المعارج کی ایک آیت پر آ کر رک سا گیا.... بات انسان کی تخلیق کے بارے میں تھی کہ انسان اصل پیدا کیسا ہوا ہے۔
ایسی کوئی بھی آیت آئے تو میں رک کر تھوڑا سا سوچنے لگتا ہوں۔
آیت تھی:

اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا
حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے ___

میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا، تو ”ھلوعا“ کا مطلب اینگوئش لکھا تھا، اب اینگوئش کا مطلب اردو میں سمجھوں تو یہی لگتا ہے کہ ایسا انسان جس میں بے چینی، تشویش، یا بے صبری سی ہو۔
بہرحال میں نے”کم ہمت“پر ہی اکتفا کر لیا اور اسے بے صبری کے معنوں میں لے لیا۔
اگلی آیت کچھ اور بھی معنی خیز تھی:

اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا
جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے___

”جزوعا“ کا لفظ تو مجھے سمجھ آ گیا.... انگریزی میں ترجمہ بھی قریب قریب ہی تھا، امپیشنٹ، مطلب بے چین، یعنی تکلیف پہنچے تو انسان چاہتا ہے بس اب یہ رفع ہو جائے، بس ختم ہو جائے کسی طرح..

وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا
اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے___

”منوعا“ یعنی کنجوس
جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے، تو اس کا دل چاہتا ہے بس اس کے پاس ہی رہے وہ نعمت، کسی اور کو نہ مل جائے۔

جو رلا دینے والی آیت تھی، وہ بعد میں آئی:

اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ
مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں___

یعنی نماز پڑھنے والے لوگوں کے علاوہ ‏انسان کی حالت اسی طرح کی ہے۔

انسان کی یہ پیدائشی حالت صرف اس صورت میں بدل سکتی ہے، جب وہ نماز قائم کر لیتا ہے۔

مجھے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی یہ سوچ کرمیں پہلی تین آیات پڑھ کر حیران ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ہی بنائے انسان کی کمیاں اور خامیاں گنوا رہا ہے۔ ‏

لیکن ”الّا المصلّین“ پڑھا تو دل مطمئن سا ہو گیا کہ ان کمیوں اور خامیوں کو پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے راستہ رکھا ہوا ہے کہ اگر کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ.....
◼️”ھلوعا“
◼️”جزوعا“
◼️”منوعا“
کی دلی اور جذباتی حالتوں سے نکل سکتا ہے۔

اور میں سوچنے لگا، یعنی تصور کرنے لگا، کہ انسان سے تشویش، ‏بے چینی، اور کنجوسی نکل جائیں تو کیسی حالت ہوتی ہے انسان کی۔
یعنی نماز کی برکت سے اگر انسان کے دل سے تشویش، بے چینی اور کنجوسی نکل جائیں، اور اس کی پریشانی، گھٹن اور تنگدلی دور ہو جائے، تو انسان میں کیسی وسعت، اور کیسی کشادگی آ جاتی ہے۔
انسان کی طبیعت کتنی ہلکی پھلکی ہو جاتی ہے، اور اس کے دل پر بوجھ ڈالنے والی چیزیں کس طرح غائب ہو جاتی ہیں۔
بے شک نماز ایک عظیم نعمت ہے۔
منقول











Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00