گزشتہ تتہ پانی مدرسہ کے سانحے کے بعد عوام میں اساتذہ اور مدارس کے حوالے سے بہت زیادہ منفی تاثرات پائے جا رہے ہیں۔ جو کہ دینی منافرت کی ایک جلھکتی صورت ہے
موجودہ دور میں مدارس کے اساتذہ اور طلباء کے حالات اور منافقانہ معاشرے کے ان پر تاثرات اور خیالات
ابتدائی طور پر جب والدین کو بچوں کو دینی تعلیم دلوانے کے لیے کہا جاتا ہے تو آگے سے والدین کی یہ تاثرات ہوتے ہیں کہ اگر مولوی بن جائے گا حافظ بن جائے گا تو کمائے گا کہاں سے۔نظام کیسے چلے گا
اور پھر والدین جو سب سے ذہین فتین اور چالاک بچے ہوتے ہیں ان کو دنیاوی شعبوں میں دنیاوی تعلیم میں لگا دیتے ہیں
لیکن دوسری طرف جو بچے کند ذہین نکمے اور دنیاوی تعلیم میں ناکام، لڑاکو اور شرارتی ہوتے ہیں والدین کے لئے سر کا بوجھ ہوتے ہیں جب والدین ان سے تنگ آ جاتے ہیں۔تب ان کو مدارس میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔
پھر جب وہی شرارتی اور کند ذہن بچے مدارس میں داخل ہو جاتے ہیں پھر بچوں کی مختلف صورتحال پر لوگوں کے مختلف تبصرے ہوتے ہیں۔
وہی بچے جب آپس میں لڑتے ہیں یا باہر کے بچوں سے لڑتے ہیں یا کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں
تو عوام اٹھ کر اساتذہ اور طلباء پر تنقید کرنے لگ جاتے ہیں۔کہ استاد بچوں کو کنٹرول نہیں کرتے۔بچوں کی رہنمائی نہیں کرتے۔بچوں کو پابند نہیں کرتے
لوگ خودتونماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے لیکن طلباء کی شکایات لگانے اور اساتذہ پر چڑھائی کرنےکے لیے مسجد میں آ جاتے ہیں
اور دوسری جانب اگر استاد بچوں پر سختی کریں ان کو نماز اور دیگر معاملات کے لیے پابند کریں۔تو منافق معاشرہ کہتا ہے استاد بڑا سخت ہے بچوں پر پابندی کرتا ہے۔
اگر استاد بچوں پر سختی کرے اور اچھے طریقے سے پڑھاۓ پابندی کرے کہتے ہیں کہ بچوں کو مارتا ہے تنگ کرتا ہے۔
اور اگر بچوں پر سختی نہ کرے کہتے ہیں کہ جی استاد بچوں کو صحیح نہیں پڑھاتا بچوں کی تعلیم اور اخلاق اچھا نہیں ہے
ایک طرف اگر استاد طلباء کو محلے میں ختم شریف اور محافل میں جانے کی اجازت دے تو لوگ کہتے ہیں یہ پڑھتے کیا ہیں یہ تو ہر وقت ختم اور محفلوں پر ہوتے ہیں
اور اگر استاد بچوں پر سختی کرے انہیں محافل میں نہ جانے دے تو کہتے ہیں کہ استاد کون ہوتا ہے روکنے والا
اگر بچوں کی آپس میں لڑائی ہو جائے اور بچوں کو گھر بھیج دیا جائے۔تو کہتے ہیں کہ استاد بچوں کو نکال دیتا ہے۔
اور دوسری طرف اگر شرارتی بچوں کو نکالا نہ جائے تو جب آپس میں لڑتے اور کوئی بڑا واقعہ پیش آجاتا ہے تو کہتے ہیں یا ہیں کہ استاد نے مارا ہوگا یا پھر کہتے ہیں استاد کدھر تھا استاد کدھر تھا۔
موجودہ مہنگائی کے دور میں مختصراً 20 سے 25 ہزار مر کر تنخواہ دیتے ہیں اور ہزاروں باتیں کرتے ہیں
لیکن دوسری طرف اگر کوئی امام یا استاد اچھا لباس پہنے اچھی گاڑی موٹر سائیکل کار وغیرہ استعمال کرے تو کہتے ہیں کہ کوئی ضرور کوئی غلط کام کرتا ہوگا۔
سیاست میں حصہ نہیں لیا تو
سیاست میں حصہ نہ لے تو مولوی ناکارہ ہے، ان کو دنیا کا پتہ ہی نہیں انہیں کچھ نہیں آتا ہے،
اگر حصہ لے لیا تو کہتے ہیں مولویوں کا سیاسیت میں کیا کام یا بک گیا ہوگا،
چندہ کرکے بچوں کو پڑھائے تو بھیک مانگتا ہے،
او اگر اپنی تجارت کرے تو علم کو ضائع کردیا
سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں گیا تو دیکھو سرکاری لقمہ خور بن گیا،
اور اگر صرف مسجد تک رہے تو یہ صرف مسجد میں ہی رہتا ہے اس کو باہر کا کچھ پتہ ہی نہیں
ا
س طرح کی بے شمار باتیں ہیں جو کہ علماء اور مدارس کے خلاف کہیں جاتی ہیں اور یہ صرف اور صرف منافق اور دین بیزار لوگ ہی کرتے ہیں۔اور عام عوام کو گمراہ کرتے ہیں
ہمیں ان منافق لوگوں سے کوئی مطلب نہیں۔یہ تو حضور کے زمانے میں بھی اس طرح کی حرکتیں کرتے تھے
جیسے کہ جب جنگ تبوک کے موقع پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سارا ہی اثاث البیت لے کر حاضر ہوگئے تو منافق کہنے لگے کہ یہ سب کچھ دکھلاوا اور ریاکاری ہے
اور جب صحابی ابو عقیل رضی اللہ عنہ نے رات بھر مزدوری کی جس کی اجرت ایک صاع کھجور تھی۔ ان میں سے آدھا صاع گھر لے گیےاور آدھا صاع لا کر آپ کی خدمت میں حاضر کردیا تو منافق کہنے لگے کہ اتنے مال سے کونسی جنگی ضرورت پوری ہوسکتی ہے
اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی
دونوں صورتوں میں مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے۔
موجودہ دور میں بھی منافقین کا یہی حال ہے یہ کسی صورت بھی رکنے والے نہیں ہیں
لیکن سادہ اور شریف عوام ان کے ہتھکنڈوں سے اپنے آپ کو بچاۓ۔
کسی بھی شعبے یا نظام میں ایک یا دو افراد کی غلطی کی وجہ سے پورے شعبے کو بدنام نہیں کیا جاتا
لیکن فقط علماء اور مدارس کے خلاف ہی پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں
باقی شعبوں اور مختلف اداروں میں بھی طرح طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔لیکن وہاں پر عوام خاموش ہوتی ہے
علماء اور مدارس پر اپنے حسد اور بعض کا کھل کر اظہار کرتے ہیں
ان علماء کی قدر کیجئے انہی کی بدولت آپکی نسلیں سنوریں گیں نہیں تو آنے والے دور میں اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا
اللہ پاک سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے
Al Quran Online Institute
We are providing best QURAN Education Around the World
contact us for learning Quran
27/08/2022
🌹نماز كى اہميت احاديث كى روشنى ميں🌹
حضرت ابو ہريرہ سے روايت ہے، رسول اللہ انے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائیگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا۔ (سنن ترمذى: 413، سنن نسائى: 465، سنن ابن ماجہ: 1425)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ا سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کی فرمانبرداری۔ میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسا عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ (صحيح بخارى: 2782، صحيح مسلم: 85)
حضرت ابو ہريرہ سے روايت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’اگر تمہارے گھر کے سامنے کوئی نہر بہتی ہو تو تم میں سے کوئی ہر روز پانچ بار اس میں غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی بچے گا‘‘؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: نہیں! اس کے بدن پر کوئی میل نہیں ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘۔ (صحيح البخارى: 528، صحيح مسلم: 667)
حضرت انس سے روايت ہے ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےارشاد فرمایا: ’’جو شخص مسلسل چالیس روز تک تکبیر اُولیٰ کے ساتھ نماز پڑھتا رہا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دو آزادیاں لکھ دیتا ہے، ایک جہنم سے آزادی اور دوسری منافقت سے آزادی‘‘۔ (سنن ترمذى: 241، شعب الايمان: 2615)
حضرت ابو مالك اشعرى سے روايت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر کرنا روشنی ہے اور قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے یا تمہارے خلاف دلیل ہے (یعنی اگر اسکی تلاوت کی اور اس پر عمل کیا تو یہ تمہاری نجات کا ذریعہ ہوگا ،ورنہ تمہاری پکڑ کا ذریعہ ہوگا)۔ (صحيح مسلم: 223، سنن نسائى: 2437، سنن ابن ماجہ: 280)
حضرت ابو ہريرہ سے روايت ہے، رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات قسم کے آدمی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنی (رحمت کے) سایہ میں ایسے دن جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اُن سات لوگوں میں سے ایک وہ شخص بھی ہے جس کا دل مسجد سے اٹکا ہوا ہو (یعنی وقت پر نماز ادا کرتا ہو) ۔ (صحيح بخارى: 660، صحيح مسلم: 1031)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ ایک دن میں آپ ا کے قریب تھا، ہم سب چل رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے پیغمبر! آپ مجھے ایسا عمل بتادیجئے جسکی بدولت میں جنت میں داخل ہوجاؤں اور جہنم سے دور ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے بڑی بات پوچھی ہے۔ لیکن اللہ جس کے لئے آسان کردے اساس کے لئے آسان ہے۔ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اوراللہ کے گھر کا حج کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اس معاملہ کی اصل، اس کا ستون اور اسکی عظمت نہ بتادوں؟ میں نے کہا ضرور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاملہ کی اصل اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اسکی عظمت اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ (سنن ترمذى: 2616، سنن ابن ماجہ: 3973، شعب الايمان: 2549)
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرتے؟ آپ ا نے تین مرتبہ اسکو کہا، تو ہم نے اپنے ہاتھ بیعت کے لئے بڑھادئے اوربیعت کی۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے کس چیز پر بیعت کی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اورنمازوں کی پابندی کرو۔ اس کے بعد آہستہ آواز میں کہا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو۔ (صحيح مسلم: 1043، سنن نسائى: 460، سنن ابن ماجہ: 2867)
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگی، اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی دلیل ہوگی اور قیامت کے دن عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا اس کے لئے قیامت کے دن نہ نور ہوگا، نہ اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی کوئی دلیل ہوگی، نہ عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہوگا۔ اور وہ قیامت کے دن فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (سنن دارمى: 2763، مسند احمد: 6573، صحيح ابن حبان: 1467)
27/08/2022
🌹نماز كے فضائل آیاتِ قرآنیہ كى روشنى ميں:🌹
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد چاہو، بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورۂ البقرۃ ۱۵۳)
جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے، یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ (سورۂ العنکبوت ۴۵)
اللہ تعالیٰ نے فرمادیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم رکھوگے اور زکاۃ دیتے رہوگے۔ (سورۂ المائدہ ۱۲)
اور اگر کوئی پریشانی یا مصیبت آئے تو نمازوں کی ادائیگی اور صبر کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں، یہ چیز شاق وبھاری ہے مگر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لئے مشکل نہیں۔ (سورۂ البقرہ ۴۵)
یقیناًان ایمان والوں نے فلاح (کامیابی) پائی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو اپنی نمازوں کی خبر رکھتے ہیں، یہی وہ وارث ہیں جو (جنت) الفردوس کے وارث ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (سورۂ المؤمنون ۱ ۔ ۱۱)
حقیقت یہ ہے کہ انسان بہت کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو خوب گھبراہٹ ظاہر کرتا ہے، اور جب اس کے پاس خوشحالی آتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔ مگر وہ نمازی ایسے نہیں ہیں۔ جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔ اور جو اپنی نماز کی پوری پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔ (سورۂ المعارج ۱۹۔۳۵)
نماز كى پوری حفاظت سے مراد اس کے تمام آداب کی رعایت ہے۔ مسلمانوں کے انہی جیسے اوصاف سورة مومنون کی ابتدائی آیات میں بھی گذرے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
LAHORE
Lahore