08/08/2024
گزشتہ تتہ پانی مدرسہ کے سانحے کے بعد عوام میں اساتذہ اور مدارس کے حوالے سے بہت زیادہ منفی تاثرات پائے جا رہے ہیں۔ جو کہ دینی منافرت کی ایک جلھکتی صورت ہے
موجودہ دور میں مدارس کے اساتذہ اور طلباء کے حالات اور منافقانہ معاشرے کے ان پر تاثرات اور خیالات
ابتدائی طور پر جب والدین کو بچوں کو دینی تعلیم دلوانے کے لیے کہا جاتا ہے تو آگے سے والدین کی یہ تاثرات ہوتے ہیں کہ اگر مولوی بن جائے گا حافظ بن جائے گا تو کمائے گا کہاں سے۔نظام کیسے چلے گا
اور پھر والدین جو سب سے ذہین فتین اور چالاک بچے ہوتے ہیں ان کو دنیاوی شعبوں میں دنیاوی تعلیم میں لگا دیتے ہیں
لیکن دوسری طرف جو بچے کند ذہین نکمے اور دنیاوی تعلیم میں ناکام، لڑاکو اور شرارتی ہوتے ہیں والدین کے لئے سر کا بوجھ ہوتے ہیں جب والدین ان سے تنگ آ جاتے ہیں۔تب ان کو مدارس میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔
پھر جب وہی شرارتی اور کند ذہن بچے مدارس میں داخل ہو جاتے ہیں پھر بچوں کی مختلف صورتحال پر لوگوں کے مختلف تبصرے ہوتے ہیں۔
وہی بچے جب آپس میں لڑتے ہیں یا باہر کے بچوں سے لڑتے ہیں یا کھیل کود میں مصروف رہتے ہیں
تو عوام اٹھ کر اساتذہ اور طلباء پر تنقید کرنے لگ جاتے ہیں۔کہ استاد بچوں کو کنٹرول نہیں کرتے۔بچوں کی رہنمائی نہیں کرتے۔بچوں کو پابند نہیں کرتے
لوگ خودتونماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے لیکن طلباء کی شکایات لگانے اور اساتذہ پر چڑھائی کرنےکے لیے مسجد میں آ جاتے ہیں
اور دوسری جانب اگر استاد بچوں پر سختی کریں ان کو نماز اور دیگر معاملات کے لیے پابند کریں۔تو منافق معاشرہ کہتا ہے استاد بڑا سخت ہے بچوں پر پابندی کرتا ہے۔
اگر استاد بچوں پر سختی کرے اور اچھے طریقے سے پڑھاۓ پابندی کرے کہتے ہیں کہ بچوں کو مارتا ہے تنگ کرتا ہے۔
اور اگر بچوں پر سختی نہ کرے کہتے ہیں کہ جی استاد بچوں کو صحیح نہیں پڑھاتا بچوں کی تعلیم اور اخلاق اچھا نہیں ہے
ایک طرف اگر استاد طلباء کو محلے میں ختم شریف اور محافل میں جانے کی اجازت دے تو لوگ کہتے ہیں یہ پڑھتے کیا ہیں یہ تو ہر وقت ختم اور محفلوں پر ہوتے ہیں
اور اگر استاد بچوں پر سختی کرے انہیں محافل میں نہ جانے دے تو کہتے ہیں کہ استاد کون ہوتا ہے روکنے والا
اگر بچوں کی آپس میں لڑائی ہو جائے اور بچوں کو گھر بھیج دیا جائے۔تو کہتے ہیں کہ استاد بچوں کو نکال دیتا ہے۔
اور دوسری طرف اگر شرارتی بچوں کو نکالا نہ جائے تو جب آپس میں لڑتے اور کوئی بڑا واقعہ پیش آجاتا ہے تو کہتے ہیں یا ہیں کہ استاد نے مارا ہوگا یا پھر کہتے ہیں استاد کدھر تھا استاد کدھر تھا۔
موجودہ مہنگائی کے دور میں مختصراً 20 سے 25 ہزار مر کر تنخواہ دیتے ہیں اور ہزاروں باتیں کرتے ہیں
لیکن دوسری طرف اگر کوئی امام یا استاد اچھا لباس پہنے اچھی گاڑی موٹر سائیکل کار وغیرہ استعمال کرے تو کہتے ہیں کہ کوئی ضرور کوئی غلط کام کرتا ہوگا۔
سیاست میں حصہ نہیں لیا تو
سیاست میں حصہ نہ لے تو مولوی ناکارہ ہے، ان کو دنیا کا پتہ ہی نہیں انہیں کچھ نہیں آتا ہے،
اگر حصہ لے لیا تو کہتے ہیں مولویوں کا سیاسیت میں کیا کام یا بک گیا ہوگا،
چندہ کرکے بچوں کو پڑھائے تو بھیک مانگتا ہے،
او اگر اپنی تجارت کرے تو علم کو ضائع کردیا
سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں گیا تو دیکھو سرکاری لقمہ خور بن گیا،
اور اگر صرف مسجد تک رہے تو یہ صرف مسجد میں ہی رہتا ہے اس کو باہر کا کچھ پتہ ہی نہیں
ا
س طرح کی بے شمار باتیں ہیں جو کہ علماء اور مدارس کے خلاف کہیں جاتی ہیں اور یہ صرف اور صرف منافق اور دین بیزار لوگ ہی کرتے ہیں۔اور عام عوام کو گمراہ کرتے ہیں
ہمیں ان منافق لوگوں سے کوئی مطلب نہیں۔یہ تو حضور کے زمانے میں بھی اس طرح کی حرکتیں کرتے تھے
جیسے کہ جب جنگ تبوک کے موقع پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سارا ہی اثاث البیت لے کر حاضر ہوگئے تو منافق کہنے لگے کہ یہ سب کچھ دکھلاوا اور ریاکاری ہے
اور جب صحابی ابو عقیل رضی اللہ عنہ نے رات بھر مزدوری کی جس کی اجرت ایک صاع کھجور تھی۔ ان میں سے آدھا صاع گھر لے گیےاور آدھا صاع لا کر آپ کی خدمت میں حاضر کردیا تو منافق کہنے لگے کہ اتنے مال سے کونسی جنگی ضرورت پوری ہوسکتی ہے
اس (نصف صاع) کی اللہ کو کیا ضرورت تھی
دونوں صورتوں میں مذاق اڑاتے اور ٹھٹھا کرتے۔
موجودہ دور میں بھی منافقین کا یہی حال ہے یہ کسی صورت بھی رکنے والے نہیں ہیں
لیکن سادہ اور شریف عوام ان کے ہتھکنڈوں سے اپنے آپ کو بچاۓ۔
کسی بھی شعبے یا نظام میں ایک یا دو افراد کی غلطی کی وجہ سے پورے شعبے کو بدنام نہیں کیا جاتا
لیکن فقط علماء اور مدارس کے خلاف ہی پروپیگنڈے کیے جاتے ہیں
باقی شعبوں اور مختلف اداروں میں بھی طرح طرح کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔لیکن وہاں پر عوام خاموش ہوتی ہے
علماء اور مدارس پر اپنے حسد اور بعض کا کھل کر اظہار کرتے ہیں
ان علماء کی قدر کیجئے انہی کی بدولت آپکی نسلیں سنوریں گیں نہیں تو آنے والے دور میں اپنی نسلوں کے ایمان کو بچانا مشکل ہو جائے گا
اللہ پاک سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے