Desi Arustoo

Desi Arustoo

Share

This page is aimed at highlighting Social, Cultural and Psychological problems of Paksitani Awaam.

Solution oriented discussion and criticism by our audience is encouraged.

28/11/2021

آپریشن اور کرامت

بہت پرانی بات ہے کہ ہمارے بزرگ سانگھڑ ہسپتال میں داخل ہوئے کیونکہ ان کی پُشت پر رسولی ہو گئی تھی، جب آپریشن کا وقت آیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کو بے ہوش کر دیا جائے تاکہ آپ کو تکلیف نہ ہو۔ انہوں نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب آپ اپنا کام کریں، مجھے میرا کام کرنے دیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کیا کام کریں گئے، بابا سائیں نے فرمایا کہ ہم اللہ کریم کی یاد میں مست ہو جائیں گے۔

ڈاکٹر صاحب وہ اہلحدیث تھے جو پیروں فقیروں کو نہیں مانتے تھَے بلکہ مذاق اُڑاتے تھے۔ جب آپریشن کا وقت ہوا، ڈاکٹر صاحب نے سب کچھ ریڈی کیا اور سرجری کرنی شروع کی تو بابا سائیں نے سورہ یس کی تلاوت کرنا شروع کر دی اور دوسری طرف آپریشن ہوتا رہا۔ کافی لمبا آپریشن تھا، ساری رسولی کو کاٹ کر سوراخ کو صاف کیا گیا اور اُس میں دوائی لگا کو کپڑا ڈال دیا گیا۔

جب آپریشن ختم ہوا تو وہ ڈاکٹر صاحب بابا سائیں سے بہت متاثر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے زندگی میں یہ پہلا واقعہ دیکھا ہے ورنہ عام شخص ہوتا تو مر گیا ہوتا تو بابا سائیں نے فرمایا کہ یہ اللہ کریم کا دیا ہوا حوصلہ ہوتا ہے جس کو عوام کرامت، طاقت اور اختیار سمجھ لیتی ہے ورنہ پیر فقیر اللہ کریم کے بندے ہوتے ہیں جو ہمیشہ اللہ کریم کی بندگی سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اُس ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ میرے گھر بیٹا نہیں ہے۔ آپ دعا کر دیں کہ اللہ کریم مجھے بیٹا عطا کر دے تو بابا سائیں نے فرمایا کہ ہم اللہ تو ہر گز نہیں ہیں مگر اللہ کے بندے اگر اللہ کریم کے آگے عرض کر دیں تو اللہ کریم اُن کا بھرم رکھ لیتا ہے، اسلئے تم اور تمہاری بیوی کو ایک وظیفہ کرنا ہو گا کہ وضو ہو یا نہ ہو مگر اپنے دل میں ہر کام کرتے ہوئے لفظ "اللہ، اللہ، اللہ" جاری رہے۔

اُس ڈاکٹر صاحب نے وعدہ کیا اور اپنی بیوی کو سمجھایا تو دونوں میاں بیوی نے ذکر کرنا شروع کر دیا۔ ایک سال نہ گذرا ، اللہ کریم نے اُن کو بیٹا دیا۔ اُس وقت موبائل دور نہیں تھا، اُس ڈاکٹر صاحب نے کیسٹ میں بچے کے رونے کی آواز بھیجی تو سب سُن کر حیران ہوئے کہ بچہ روتا ہے مگر اُس کا رونے کی آواز اللہ اللہ اللہ ہوتی ہے کبھی لمبی آواز میں اللہ، کبھی ہلکی آواز میں اللہ۔

بابا سائیں نے یہ کیسٹ سب کو سُنا کر فرمایا کہ اللہ کریم جس کو چاہے جسطرح چاہے ہدایت دے، اب یہ ڈاکٹر صاحب کو ہدایت دینی تھی تو اللہ کریم نے وسیلہ ہمیں بنا دیا۔ اب ہر کوئی کہے کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہو تو ایسا نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کو قدرت نئے نئے انداز میں سمجھاتی ہے۔ اصل مسئلہ بچہ نہیں بلکہ ہدایت تھا۔

ہر دن اللہ کریم کی ایک نئی شان ہے اور دعا کرنی چاہئے کہ یا اللہ جس وقت میں تو اپنی رحمتیں برساتا ہے، اُس وقت میں مجھے بھی شامل فرما لے، جس وقت میں تو اپنے نور سے سب کو ہدایت کی روشنی دیتا ہے، اُس وقت میں مجھے بھی شامل فرما لے، جس وقت میں دعائیں قبول فرماتا ہے، اُس وقت میں مجھے بھی شامل فرما لے۔

مُشکل: مسلمانوں کا اکٹھا ہونا مشکل نہیں بلکہ مشکل اپنی انانیت کو مارنا ہے جیسے دیوبندی اور بریلوی جماعتیں، ایک تعلیم، ایک عقیدے کے لوگ ہیں مگر دو مسالک سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں جماعتوں کی تعلیم وہی ہے جس کو سعودی عرب کے وہابی علماء + اہلحدیث نے بدعت و شرک کہا۔ اب سمجھنے والا سمجھ لے کہ بدعت و شرک اگر کسی عالم نے سکھایا ہو تو بتایا جائے کس اہلسنت عالم نے بدعت و شرک سکھایا ورنہ آج تک بدعت و شرک کسی نے نہیں سکھایا بلکہ اصول سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اصول: اہلحدیث حضرات کہتے ہیں کہ ہم قرآن وصحیح احادیث پر ہیں تو بالکل ٹحیک مگر یہ اصول کس مجتہد نے دیا اُس کانام نہیں بتا سکتے؟

23/11/2021

*✨کشفِ صوفیہ کا ثبوت حدیث سے✨*

ایک شخص مدینہ طیبہ میں حاضر ہوا اور عرض حال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خواب میں ارشاد ہوا کہ فضلِ رحمٰن یا حاجی وارث سے جا کر مرید ہو جاؤ ۔وہ شخص واپس آیا اور حضرت مولانا شاہ فضلِ رحمٰن گنج مُرادآبادی علیہ الرحمہ کا مرید ہو گیا لیکن دل میں یہ خیال بھی رہا کہ حاجی وارث علی بھی اکابرین میں سے ہے جن کی جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روحانی اشارہ ہوا تھا اس لئے ان کی خدمت میں حاضر ہونا چاہئے ۔اپنی پیر کی اجازت سے وہ حاجی صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو حاجی صاحب نے اس شخص کو دیکھتے ہی فرما دیا کہ ہم تو "یا" میں تھے{یعنی ایک اوپشن تھے)
{کتاب -حاجی وارث علی شاہ ۷۷-۷۸ ،مصنف -حیات وارثی }

اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص الٰہ آباد سے مرید ہونے کے لئے آ رہے تھے تو دوسرے ہمراہی شخص نے دل میں کہا کہ، "عجیب مصیبت ہے کہ شاہ فضلِ رحمٰن صاحب کے وہاں خشک دال روٹی کھانی پڑتی ہے "- اس وقت شاہ فضلِ رحمٰن صاحب کے جلال کا زمانہ تھا ۔جب سب لوگ کھانا کھانے کے لئے دستر خواں پر بیٹھے تو حضرت نے کہا، "بعض لوگ ہمارے یہاں آکر لزیز کھانا چاہتے ہے، فقیروں کے یہاں تو یہی خشک دال روٹی ہے "- اتنا کہہ کر آپ نے اس شخص کو دیکھ کر کہا، "سن رہے ہو نہ تم بھی " {مصباح العاشقین : ۳۶}

ماشاء اللہ! یہ ہوتے ہے اولیاءاللہ جو سامنے والے کے زکر کرنے سے پہلے خود ہی چھپی ہوئی بات کو کشف سے بتا دیتے ہے چاہے وہ خواب کی ہی بات کیوں نہ ہو ۔لیکن بعض وہابی اعتراض کرتے ہے کہ اولیاءاللہ کو بڑے کشف ہوتے تھے جبکہ صحابہ کرام سے تو ایسا کچھ بھی نہیں ثابت ہے تو آئیے صحابہ سے بھی یہ ثابت کر دیتے ہیں ۔

ایک مرتبہ ایک شخص نے راستے میں چلتے ہوئے ایک اجنبی عورت کو غلط نظر سے گھور گھور کر دیکھا ۔اس کے بعد وہ امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس شخص کو دیکھ کر آپ نے پر جلال لہجے میں ارشاد فرمایا، "تم لوگ ایسی حالت میں میرے پاس آتے ہو کہ تمہاری آنکھوں میں زنا کے اثرات ہوتے ہیں "- اس شخص نے جلے بھنے انداز میں کہا کہ، "ائے امیر المومنین! کیا رسول الله کے بعد اب آپ پر بھی وحی نازل ہونے لگی؟ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میری آنکھوں میں زنا کے اثرات ہوتے ہے؟ " - حضرت عثمان رضى الله عنه نے فرمایا، "میرے اوپر وحی تو نازل نہیں ہوتی مگر میں نے جو کہا وہ حق بات ہے کیونکہ الله تعالیٰ نے مجھے ایسی فراست عطا فرمائی ہے جس سے مجھے لوگوں کے دلوں کے حالات معلوم ہوتے ہے "

{ (۱) طبقات الشافیہ الکبریٰ - علامہ تاج الدین عبد الوہاب بن علی بن عبد الکافی السبکی}

(۲)حجت الله علی العالمین جلد ۲ صفحہ ۶۴۸،۶۴۹- علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی

(٣) ازالۃ الخفاء مقصد ۲ - حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ

(۴) کرامت صحابہ}

23/07/2021

The translation of this hadith below is incorrect. And the picture is designed to inflame feelings and misguidance. The correct translation with the Arabic is:

"…for they took the graves of their Prophets as places of prostration"
اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ

So the correct translation does not mention ‘building places ’ and nor does it mention ‘prayer’ or du’a. One can translate it to mean ‘places or worship’ but the exact translation is ‘places of sajdah’ or ‘places of prostration’, which is the true meaning of ‘masjid’. Thus, our beloved Prophet ﷺ is not forbidding visiting graves of the righteous and neither is he forbidding du’a and neither is he forbidding building structures in this hadith. He is forbidding copying the Jews and Christians. The Christians in that they have made Sayidinaa Esa as a sort of 'god' and the Jews & Christians for making places of prostration at their Prophets’ graves and installed images therein:

أُولَئِكَ قَوْمٌ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الْعَبْدُ الصَّالِحُ ـ أَوِ الرَّجُلُ الصَّالِحُ ـ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا، وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ

This is not the case for Muslims as these holy sites are places for visitation, reflection, du’a and for gaining blessings – not places of prostration. Let us be clear:

- To worship anyone or anything other than Allah is shirk.
- To visit graves is sunnah.
- To say salam to people of the graves is sunnah.
- To ask help from pious people in the grave is sunnah.
- To ask help from the living or pious dead is not shirk as still only Allah is being worshiped and no-one and nothing else is being worshipped.

Our beloved Prophet ﷺ stated:

“Visit the graves, for they will remind you of the Hereafter.” (Muslim, Ibne Majah. Abu Dawud, Tirmithi, all saheeh)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ زُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ ‏"‏ ‏
So visiting graves is a sunnah. Not forbidden. Not shirk.
And this fact is clarified:

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah ﷺ said, "O Allah! Do not make my grave an idol that is worshipped. The anger on those who took the graves of their Prophets as places of prostration was severe." (Muwatta 88)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ‏"‏.

Just as we must understand Qur'an with tafseer, so we must understand ahaadith with tafseer.
The ahaadith quoted are clear. Almighty Allah cursed the Jews and the Christians for building places where 'sajdah' is performed over their dead - places of sajdah or places of worship. And also cursed them for placing images of the dead pious from them and he did not wish his grave to be worshipped like idols are worshipped.

15/07/2021

معاف نہ کرنے کے نقصانات

جگالی !

یہ وہ چیز ھے جو حلال جانور کرتے ھیں ! چونکہ ان کا معدہ ملٹی اسٹیجز ھوتا ھے،یعنی کھانا مرحلہ وار ھضم ھوتا ھے ! وہ ایک ھی دفعہ کھا لیتے ھیں پھر بار بار اس کو واپس لا کر چباتے اور مکس کرتے رھتے ھیں ،، جوگالی جانور کی صحت کی علامت ھوتی ھے،، ڈاکٹر سب سے پہلے یہ ھی سوال کرتا ھے کہ جانور " گــَلۜی " کرتا ھے؟ اگر گــَـلی نہ کرے تو جانور بیمار سمجھا جاتا ھے،،

البتہ انسان کے دانت چونکہ اوپر نیچے کے ھوتے ھیں اور معدہ بھی ایک ھی ھوتا ھے لہذا انسان اگر جوگالی کرے تو یہ اس کے بیمار ھونے کی علامت ھے، انسان کو اللہ پاک نے بھی اور اس کے رسولﷺ نے بھی بار بار گــَلۜی کرنے سے منع کیا ھے اور جوگالی کرنے کے نقصانات بیان کیئے ھیں اور جوگالی نہ کرنے کے بےشمار فائدے بیان کیئے ھیں !

انسان نفسیاتی جوگالی کرتا ھے ! یعنی وہ دوسروں کی کی گئ ساری زیادتیاں اپنی ھارڈ ڈسک پہ محفوظ رکھتا ھے،، اور انہیں بار بار ریفریش کرتا رھتا ھے ! جنہیں وہ بظاھر حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر معاف کر دیتا ھے،یقین کریں وہ ری سائیکل بِن کبھی بھی empty نہیں کرتا بلکہ انہیں حسبِ ضرورت restore کرتا رھتا ھے !جب ھم کمپیوٹر آن کرتے ھیں اور سیٹنگز لوڈ ھوتی ھیں تو ری سائیکل بن میں پڑا گند بلا بھی اسے لؤڈ کرنا پڑتا ھے جس کی وجہ سے کمپیوٹر کے پراسیسر پر ایکسٹرا لؤڈ پڑتا ھے،، اسی طرح زیادتیاں معاف نہ کرنے والوں کے اندر ھر وقت " گھوں گھوں گھوں " چلتی رھتی ھے اور یہی بیماریوں کی فیکٹری ھے،، ھر بیماری یہیں سے پیدا ھوتی اور پھر بڑھتی ھے ! جب اللہ کی خاطر کسی کو معاف کر دیا جائے تو پھر کم از کم اللہ سے شرم کرتے ھوئے اسے دوبارہ ریسٹور نہیں کرنا چاھئے ! یہ تو کتے کی طرح قے کر کے چاٹنے والی بات ھے ! اور اپنے اندر آگ کا انگارہ رکھنے والی بات ھے !
انسان دنیا میں امتحان کے لئے بھیجا گیا ھے اور امتحانوں میں سب سے پہلا اور سب سے سخت امتحان رشتے دار ھیں،جو گھر میں پیدا ھوتے ھیں،، الاقرب فالاقرب کے اصول کے تحت جو جتنا قریبی ھوتا ھے وہ اُتنا ھی سخت ڈنگ مارتا ھے کیونکہ " الاقارِبُ کالعقارب " رشتے دار بچھؤں کی مانند ھوتے ھیں ! رشتے داروں کے ڈنگ کے زھر کو رگوں میں لیئے پھرنا ایک نقصان دہ عمل ھے، سب سے پہلی فرصت میں اسے نکال باھر کرنا چاھئے ! اس سے آپ کی دنیاوی صحت بھی ٹھیک رھتی ھے اور آخرت کی منزل بھی آسان ھو جاتی ھے اور بوقتِ موت جان بھی آسانی سے نکلتی ھے کیونکہ ڈیٹا کم ھوتا ھے تو شٹ ڈاؤن جلدی ھو جاتا ھے،ورنہ فرشتوں کو پروگرام بند کرتے کرتے کافی دن لگ جاتے ھیں !
ھم اللہ پاک سے معافیاں مانگتے ھیں اور معافی کی امید رکھتے ھیں مگر یقین جانیں اللہ بھی معاف کرنے والے کو معاف کرتا ھے،جو لوگ ایک دوسرے کو معاف نہیں کرتے اللہ بھی انہیں معاف نہیں کرتا،، عام تو عام خاص موقعوں پر بھی اللہ پاک فرشتوں کو کہتا ھے کہ ان کا کیس ایک طرف رکھ دو جب تک یہ ایک دوسرے کو معاف نہ کر دیں،، اس میں پیر اور جمعرات،، نصف شعبان اور لیلۃ القدر کے مواقع ایسے ھیں جن کا ذکر احادیث میں آیا ھے کہ اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتے ھیں مگر " شحن " والوں کی فائل ایک طرف رکھ دیتے ھیں،،شحن " چارج کو کہتے ھیں ،، جو ھر وقت چارج رھتے ھیں ،، وھی بلڈ پریشر کا زیادہ شکار ھوتے ھیں،،یہانتک کہ ان کے خواب بھی ھمیشہ ڈراونے اور نقصانات والے ھوتے ھیں ! ایک خاتون نے کہ جن کے بچے بھی پروفیسر ھیں مجھے کہا کہ وہ رات بھر سو نہیں سکتیں کیونکہ انہیں بہت ڈراونے خواب آتے ھیں ! جن میں ان کی ساس مرکزی کردار ھوتی ھیں،، میں نے ان سے کہا کہ آپ ساس کو معاف کر دیں اللہ پاک آپ کے لئے آسانی پیدا کرے گا،،وہ فوت ھو گئ ھیں آپ بھی ان کا لاشہ اپنے اندر سے نکال کر دفن کر دیں وھی مردہ آپ کو تنگ کر رھا ھے،، فرمانے لگیں کہ انہوں نے میرے ساتھ بہت زیادتیاں کی ھیں ،معاف تو میں ان کو کسی صورت نہیں کرونگی ،،میں نے کہا پھر یہ خواب بھی ختم نہیں ھونگے،،یہ عذاب باھر نہیں آپ کے اندر ھے اور بدبو باھر سے نہیں آپ کے اندر سے آتی ھے،کیونکہ مردہ آپ نے تہہ خانے میں رکھا ھوا ھے !

دو واقعات کے ساتھ بات کو ختم کرونگا کیونکہ مجھے بھی نیند آ رھی ھے !
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے زمین پر چلتا پھرتا جنتی دیکھنا ھے وہ اس شخص کو دیکھ لے جو ابھی آ رھا ھے،، سب کی نظریں مسجدِ نبوی کے دروازے پر لگ گئیں،، ایک صاحب داخل ھوئے وضو کا پانی ان کی داڑھی کے بالوں سے ٹپک رھا تھا اور جوتے انہوں نے ھاتھوں میں پکڑے ھوئے تھے ! دوسرے دن بھی یہی مکالمہ ھوا اور وھی داخل ھوئے،،تیسرے دن بھی یہی مکالمہ ھوا اور وھی داخل ھوئے،، جس پر حضرت عبداللہؓ کو تجسس ھوا کہ یہ بندہ کرتا کیا ھے کہ اللہ کے رسول ﷺ مسلسل تین دن سے اس کے جنتی ھونے کی بشارت دے رھے ھیں ،، وہ اس بندے کے پیچھے لگ گئے اور اس سے کہا کہ چچا میرے گھر والوں سے کچھ معاملات ھو گئے ھیں آپ مجھے کچھ دن اپنے گھر رکھ لیں،، تین رات وہ مسلسل اس کے گھر رھے اور رات بھر جاگتے رھے کہ یہ بندہ کونسی خاص عبادت کرتا ھے ؟ اس نے کوئی خاص عبادت نہیں کی ،بس عشاء کی نماز پڑھی اور سو گیا،، رات کو جب کبھی کروٹ بدلتا تو سبحان اللہ کہہ دیتا اور بس صبح اٹھ کر فجر پڑھ لیتا ،، عبداللہؓ فرماتے ھیں کہ جب اس کے عمل کی حقارت میرے دل میں آنے لگی تو میں نے اس کو اصل بات بتا دی کہ تین دں حضورﷺ بشارت دیتے رھے اور تینوں دن آپ مسجد میں داخل ھوتے رھے،جس کی وجہ سے میں آپ کا عمل دیکھنا چاھتا تھا،، اس بندے نے کہا کہ بھتیجے عمل تو میرے پاس وھی ھے جو تم نے دیکھ لیا ھے ،،میں جب واپس جانے کو پلٹا تو اس نے آواز دے کر بلایا اور کہا کہ ایک بات ھے " میں رات کو سینہ صاف کر کے سوتا ھوں ،کسی کے بارے میں میرے دل میں کوئی رنجش نہیں ھوتی ! جب اس بات کا تذکرہ نبی کریمﷺ کے سامنے کیا گیا تو آپ نے فرمایا " یہ میری سنت ھے تم میں سے جس سے بھی ھو سکے رات کو سونے سے پہلے سینہ صاف کر کے سوئے ! اس کا مطلب یہ نہیں کہ صبح پھر restore کر لے !! رات گئ بات گئ، اصل میں اس کے لئے کہا گیا تھا !

دوسرا واقعہ آخرت کے بارے میں ھے کہ ،،ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ پاک ایک شخص کو اپنے قریب کرتے کرتے اتنے قریب کر لیں گے کہ اس کے شانے پہ اپنا دستِ مبارک ٹیک لیں گے اور اسے اس کے گناہ یاد کرائیں گے وہ ان سب کو تسلیم کرے گا،،پھر اللہ پاک اسے کہیں گے کہ میں نے یہ سب معاف کیئے اور جانتے ھو کہ کیوں معاف کیئے ھیں،، وہ کہے گا کہ اے اللہ میں نہیں جانتا کہ تو نے میرے یہ گناہ کیوں معاف کر دیئے جبکہ تو نے ابھی ابھی تو انہیں گنوایا ھے،، اللہ پاک فرمائیں گے " اس لیئے کہ تو بھی تو لوگوں کو معاف کر دیتا تھا، پھر معاف کرنے میں تو مجھ سے آگے تو نہیں نکل سکتا میں سب سے بڑا معاف کرنے والا ھوں !

اس لیئے اٹھتے بیٹھتے ،کھڑے ،لیٹے دوسروں کی زیادتیوں کی جوگالی نہ کیا کریں،،جب معاف کیا کریں تو معاف کیا کریں فراڈ نہ کیا کریں ،، ایک صاحب تھے وہ جب بھی گانے سننے سے توبہ کرتے تو ساری کسیٹیں گاڑی سے نکال کر اچھی طرح پیک کر کے بریف کیس میں رکھ دیتے،، میں نے کہا کہ آپ ان کو توڑ کیوں نہیں دیتے تو آنکھیں ٹپٹپا کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگے بھائی صاحب میں یہ غلطی پہلے کر چکا ھوں ،،پھر جب وہ والے گانے سننے کو جی کیا تو خانہ خراب پوری ابوظہبی میں وہ کیسٹ نہیں ملی پنڈی سے منگوانی پڑی تھی،، بس اس دن کے بعد میں جب توبہ کرتا ھوں تو کیسیٹیں سنبھال دیتا ھوں !

06/07/2021

تاریخ کچھ یوں ہے
عرب شریف میں 1922 تک ترکی کی حکومت تهی.جسے خلافت_عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا هے.1922سے پہلے سعودی عرب کا نام سعودی عرب نہیں بلکہ حجازِ مقدس تھا۔
خلافت عثمانیہ دنیا کے تین براعظموں پر 623 سال (1299-1922) تک قائم رہی۔
جب بهی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم هوتا تها تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی.امریکہ ، برطانیہ ،یورپین ، نصرانی اور یہودیوں کو اگر سب سے زیادہ خوف تها تو وہ خلافت_عثمانیہ حکومت کا تها.
امریکہ ، یورپ جیسوں کو معلوم تها کہ جب تک خلافت_عثمانیہ هے' هم مسلمانوں کا کچهہ بهی نہیں بگاڑ سکتے هیں.
امریکہ و یورپ نے خلافت_عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی.
19ویں صدی میں سلطنتِ عثمانیہ اور روس کے درمیان بہت سی جنگیں بھی ہوئیں چونکہ مکہ اور مدینہ مسلمانوں کے نزدیِک قابلِ احترام ہیں اسی لئیے اس نے سب سے پہلا فتنہ وہیں سے شروع کروایا۔

امریکہ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کهڑا کیا جو کرسچیئن تها ' ایسی عربی زبان بولتا تها کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں آیااس نے عرب کے لوگوں کو خلافت_عثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی کہ تم عربی هو اور یہ ترکی عجمی(غیر عربی) هیں هم عجمی کی حکومت کو کیسے برداشت کر رهے هیں
پر لوگوں نےاسکی ایک نہ مانی.

یہ شخص "لارنس آف عریبیہ" کے نام سے مشہور هوا۔(آپ لارنس آف عریبین لکهہ کر گوگل پر سرچ کرسکتے ہیں)
پهر امریکہ نے ایک شخص کو کهڑا کیا جس کا نام عبدالوهاب نجدی تھا۔
عبدالوهاب نجدی کی ملاقات عرب کے ایک سوداگر سے هوئی
جس کا نام ابن سعود تها اس نے ابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا۔
پهر ابن سعود نے مکہ ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی

مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے لاکهوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے هاتهوں شہید هوئے جب ترکی نے دیکها کہ ابن سعود همیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ ، مدینہ شریف اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رها هے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ
"هم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے"
اس وجہ سے خلافت_عثمانیہ کو ختم کر دیا گیا۔

جس کی وجہ سے 40 نئے ممالک وجود میں آئے۔ پهر عرب اور کے مسلمانوں کا زوال شروع هوا حجاز_مقدس کا نام 1400 سال کی تواریخ میں پہلی بار بدلا گیاابن سعود نے حجاز_مقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکهہ دیا..

اور اس فتنے کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے اور اسی وجہ سے سرکارِ دو عالمﷺ نے سعودی عرب کے شہر نجد کے بارے میں دعا نہیں فرمائی تھی ۔ اسی نجد میں ابن عبدالوهاب نجدی پیدا ہوا جس سے انگریزوں نے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈلوائی اور یہی شہر مسیلمہ کذاب کا جائے پیدائش بھی ہے۔

لیکن دنیا بھر کے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئیے انگریزوں نے اس ’نجد‘ شہر کا نام بھی تبدیل کر کے ’ریاض‘ رکھ دیا جو آج کل سعودیہ کا دار الحکومت ہے۔
جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ رضوان الله اجمعین اور اهل_بیت علیهم السلام کے مزارات پر بلڈوزر چلایا گیا اور تمام قبروں کی بے حُرمتی کر کے ان کو ملیامیٹ کر دیا
(بدقسمتی سے آج بھی کئی بھولے بھالے مسلمان انہی قبروں کو سنت کے مطابق سمجھتے ہیں حالانکہ 1922سے پہلے وہ ایسی نہ تھیں)

حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اهل_بیت کے نام پر تهےان کا نام آل_سعود کے نام پر رکها گیا (آپ یہ ساری معلومات انٹرنیٹ کے علاوہ تمام تاریخ کی کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں)
انگریزوں نے اپنی اسی سازش کی کامیابی پر 1962 میں ہالی وُڈ نے ’’ Lawrence of Arabia‘‘ کے نام سے فلم بھی بنائی جو بہت زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے۔
یہود و نصاری کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن اک جشن هوا اس جشن میں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ملکوں کے پرائم منسٹر ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ گئے

جس عرب کے نام سے یہود و نصاری کانپتے تهے وه سعودیہ ' امریکہ کے اشارے پر ناچنے لگااور آج بهی رندوں کے ساتهہ ناچ رها هے
یہود و نصاری کی اس ناپاک سازش کا ذکر کرتے هوئے
"علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے کلام میں لکها هے"
وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدﷺ اسکے دل سے نکال دو
فکر_عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز اور یمن سے نکال دو
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے فتنوں سے محفوظ فرما کر پھر سے خلافت کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں ماضی کے تلخ حقائق کو سمجھنے کی عقل عطا فرمائے۔ آمین!

08/06/2021

”Every minute someone leaves this world behind.
We are all in “the line” without knowing it.
We never know how many people are before us.
We can not move to the back of the line.
We can not step out of the line.
We can not avoid the line.

So while we wait in line -

Make moments count.
Make priorities.
Make the time.
Make your gifts known.
Make a nobody feel like a somebody.
Make your voice heard.
Make the small things big.
Make someone smile.
Make the change.
Make love.
Make up.
Make peace.
Make sure to tell your people they are loved.
Make sure to have no regrets.
Make sure you are ready.”

30/05/2021

Emotional hijacking is when one particular emotion dominates all other emotions, suppressing or redirecting them, and inhibiting the normal cognitive and intuitive functions. It may be love, anger, jealousy or some other emotion taking control of emotional and thinking mind. One peculiar character associated with some types of emotional hijacking is the simultaneous induction of carelessness that feeds complacency which further promotes this hijacking.
In terms of neuroscience, human brain takes 23 to 24 years to complete all the major neuronal connection. So, age before reaching adulthood is the one in which humans are particularly vulnerable to this type of hijacking. That's why most people are emotionally unstable at this age, anger and desperation are generally at peak, most drug users start using at this age, most fellas fall in love at this age, and so on....
Awareness of this hijacking is the foremost step in minimizing the severity of this hijacking; it definitely takes time and practice. Still, after one thinks of himself being an emotionally stable one, there are much much chances of relapse. Realization of what triggers it is definitely of great importance as well.
Moreover, emotional intelligence is an extensive topic, infact a complete subject.

29/05/2021

Never take your past. mistakes as hindrance to your personal growth because even saint has a past.Most of the saints made tooba at some point.So you can have future no matter what mistakes you made in past.

27/05/2021

Success is sum of 60 percent luck and 40 percent competency,hard work and persistence.

19/05/2021

Poorly rate fb plz this evil app is banning accounts on criticizing israel

16/05/2021

Criticism,leg pulling and backbiting are very common in our society recent attacks on MTJ, a clothing brand launched by prominent scholar Maulana Tariq Jameel is an example of it.False allegations of selling drawstrings in 550 RS were thrown at them while in reality they never manufactured such item.

13/05/2021

Eid ul fitr 2021 Mubarak!!!

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Lahore