09/08/2024
ارشد ندیم
ارشد ندیم (پنجابی اور اردو: ندیم ارشد؛ پیدائش 2 جنوری 1997) ایک پاکستانی برچھی ہے۔
پھینکنے والا
[1] وہ اولمپک ریکارڈ کے ساتھ مردوں کے جیولن تھرو میں حکمران اولمپک چیمپئن ہیں۔
2024 کے سمر اولمپکس میں 92.97 میٹر کا تھرو۔ وہ دو بار کا اولمپیئن ہے،
[4] اور پہلا
پاکستانی اولمپک گیمز میں کسی بھی ٹریک اینڈ فیلڈ ایونٹ کے فائنل کے لیے کوالیفائی کرے گا،
[5] اور
عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ۔
[6]
2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں، اس نے ایک نیا قومی اور کامن ویلتھ گیمز تشکیل دیا۔
90.18 میٹر کی تھرو کے ساتھ ریکارڈ اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے جنوبی ایشیا کے پہلے ایتھلیٹ بن گئے۔
90m نشان
[7]
2023 میں، وہ دنیا میں تمغہ جیتنے والے پہلے پاکستانی ایتھلیٹ بن گئے۔
ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، چاندی کا تمغہ جیت کر۔
[8] وہ ڈومیسٹک میں واپڈا کی نمائندگی کرتا ہے۔
مقابلہ
ارشد ندیم میاں چنوں میں سکھیرا قبیلے کے ایک پنجابی راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے۔
پنجاب، پاکستان۔
وہ آٹھ بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہے۔
[9]
ارشد غیر معمولی تھا۔
اپنے ابتدائی اسکول کے سالوں سے ورسٹائل ایتھلیٹ۔ اگرچہ اس نے اپنی پیشکش پر تمام کھیلوں میں حصہ لیا۔
اسکول — کرکٹ، بیڈمنٹن، فٹ بال اور ایتھلیٹکس — اس کا جنون کرکٹ تھا اور اسے جلد ہی مل گیا۔
خود اسے ضلعی سطح کے ٹیپ بال ٹورنامنٹس میں کھیل رہے ہیں۔
[10]
ساتویں جماعت میں داخل ہونے پر
اسکول، ارشد نے ایتھلیٹکس مقابلے کے دوران رشید احمد ساقی کی آنکھ پکڑی۔ ساقی
ڈویژن میں کھلاڑیوں کی ترقی کی ایک تاریخ تھی، اور جلد ہی ارشد کو اپنے بازو میں لے لیا۔
بعد میں
[11]
جیولین تھرو پر اکتفا کرنے سے پہلے ارشد نے شاٹ پٹ اور ڈسکس تھرو کا بھی تعاقب کیا۔ میں گولڈ میڈل
[12]
لگاتار پنجاب یوتھ فیسٹیول میں جیولین پھینکنے اور ایک انٹر بورڈ میٹنگ نے انہیں آگے بڑھایا
قومی اسٹیج، تمام سرکردہ ڈومیسٹک ایتھلیٹکس ٹیموں بشمول آرمی،
فضائیہ اور واپڈا۔
[11]
یہ ان کے والد محمد اشرف تھے جنہوں نے انہیں عہدہ سنبھالنے پر آمادہ کیا۔
برچھی پھینکنے کا کھیل۔
[13]گذشتہ سالوں کی طرح ارشد شریف نے 2024 میں پیرس اولمپکس میں شرکت کرکے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا اور تقریباً 100 سال پرانا ریکارڈ جو ابھی تک نہیں ٹوٹا، ارشد شریف نے 92.97 کا ریکارڈ قائم کیا اور گولڈ میڈل جیتا۔ پاکستان زندہ
21/06/2024
Hani Quran Academy
وجہ کائنات حضرت محمد ﷺ پر لاکھوں درود و سلام #youtubeshorts #madinah
یاالله ہم بھی تیرے گناہگار بندے ہیں ہم کو بھی اپنے پیارے حبیب کے در پے بلا لے آمین 😭
31/03/2024
امیرالمومنین حضرت علیؑ کی سیرت و شہادت
ضربت شہادت سے دوچار ہونے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے منھ سے جو تاریخی جملے نکلے تھے وہ یہ تھے کہ ’’رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا‘‘۔
رمضان یوم شہادت شیر خدا، امیر المومنین حضرت علیؑ ابن ابیطالب ہے۔ حضرت علیؑ کی ولادت ہجرت نبوی سے 23 سال قبل یعنی 30 عام الفیل مطابق 600 عیسوی 13 رجب یوم جمعہ خانۂ کعبہ میں ہوئی۔ آپ کے والد حضرت ابوطالب بن عبدالمطلب اور والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔ والدہ نے آپؑ کا نام حیدر و اسد اور والد نے اپنے جد اعلیٰ قصی کے نام پر زید رکھا جبکہ سرورکائناتؐ نے علی رکھا۔ دامادِ رسولؐ، فاتح خبیر، حامل ذوالفقار، امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ کے فضائل ومناقب محاسن ومحامد بے شمارہیں اورکیوں نہ ہوں جبکہ فضائل وکمالات برکات وحسنات کا مخزن ومعدن آپ ہی کا گھرانہ ہے۔
21 رمضان تاریخ اسلام میں انسانیت کے اس عظیم انسان کا روز شہادت ہے، جس کو اس کی حق پسندی وعدالت کے سبب 40ہجری میں محراب مسجد کوفہ میں دوران نماز فجر اپنے وقت کی دہشت گرد اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں زہرآلود تلوار سے شہید کر دیا جاتا ہے۔ مسجد کوفہ میں شہادت سے ہم آغوش ہونے والے اس انسان کامل کو زمانہ علی مرتضیٰؑ شیر خدا کے نام سے جانتا ہے۔راہ خدا میں شہادت جیسی نعمت عاشقانہ خدا کی معراج ہوا کرتی ہے، یہی سبب ہے کہ ضربت شہادت سے دوچار ہونے کے بعد ہمیشہ شہادت کی آرزو رکھنے والے دین اسلام کے اس عظیم مجاہد کے منھ سے جو تاریخی جملے نکلے تھے وہ یہی تھے کہ’’ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا‘‘۔
تاریخ اسلام میں امیر المومنین حضرت علی ؑ کواپنی دیگر فضیلتوں کے ساتھ یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ آپ کی ولادت خانۂ کعبہ میں اور شہادت بھی خدا کے گھر مسجد کوفہ میں نصیب ہوئی۔ تاریخ اسلام میں ایسی فضیلت کسی فرد بشر کو حاصل نہ ہوسکی۔ علی ؑابن ابی طالب کی مثالی شخصیت جنھوں نے پیغمبر اسلامؐ کی دعوت پر کمسنوں میں سب سے پہلے لبیک کہا تھا اوررسول خدا کے اس مشن میں ہمیشہ آپ کی نصرت کی کسی بھی طرح محتاج تعارف نہیں۔ حضرت علیؑ کی مثالی زندگی نصرت حق وعدالت کاایسا نمونہ ہے جس کے تصور کے بغیر تاریخ اسلام کا ہر باب نامکمل ہوکر رہ جاتا ہے۔ بات شب ہجرت میں دشمنوں کی تلواروں کے سائے میں بستر رسول خدا ؐ پر سوکر حیات پیغمبرؐ کو تحفظ دیا ہو یا اسلامی معرکوں میں جنگ بدر ، جنگ احد ، جنگ خندق، جنگ خیبر، جنگ حنین، یا جنگ صفین کا ذکر ہو ،تاریخ اسلام کے ان دفاعی معرکوں میں فتح وکامیابی کا تصور علی مرتضیٰؑ کی شجاعت کے بغیر ناممکن نظر آتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ فتح خندق میں کامیابی کے بعد پیغمبرخدا حضرت محمدؐ نے کہا تھا۔’’جنگ خندق میں علی کی ایک ضربت جن وانس کی عبادت پر افضل ہے‘‘۔
دین اسلام کی آبیاری اور حق وعدالت کے نفاذ کی راہ میں امیر المومنینؑ نے اپنی حکمت و دانش، عدالت پسندی،نصرت حق انسانی اقدار ومساوات، مدبرانہ شجاعت، تسلیم صبر ورضا کے ساتھ غیر معمولی ایثار وفدا کاری کے جو عملی نمونے پیش کئے اس سے زمانہ کے حق پسندافراد متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔یہی سبب ہے کہ ہرزمانے کے حق بین مورخین نے تاریخ انسانیت کے اس یکتائے زمانہ علیؑ کو اپنا خراج عقیدت پیش کیا۔ یہاں تک کہ غیرمسلم مورخین بھی اس انسان کامل کی عظمتوں کے معترف نظرآتے ہیں۔ دنیائے عیسائیت کا مشہور زمانہ مورخ جارج جرواق حضرت علی ؑ کی عظیم المرتبت شخصیت آپ کے بے کراں علم، آپ کی عدالت آپ کی منکسرالمزاجی آپ کی انسان دوستی اور آپ کے مساوات کے جذبہ سے والہانہ طورپر متاثر نظر آتا ہے ۔اس نے اپنی مشہور زمانۂ تصنیف ’’ندائے عدالت انسانی‘‘ میں اپنے دل کی گہرائیوں کے تاثرات اپنے خوبصورت انداز میں پیش کئے ہیں۔
حضرت علیؑ کے نزدیک ملک وبادشاہی جو حق کو قائم کرنے اور باطل کو زائل کرنے کے لئے نہ ہوتو وہ دنیاکی پست ترین چیزوں سے بھی زیادہ پست تھی۔ یہی سبب ہے حضرت علی ؑ کے نزدیک اس حکومت کی قیمت جو عدل وانصاف قائم کرنے میں ناکام ہو ان کی پھٹی ہوئی جوتیوں سے بھی کمتر تھی، جس میں سماج کے ستم زدہ اور مظلوموں کو انصاف نہ مل سکے۔ پیغمبر اسلامؐ کی مشہور حدیث ہے ’’علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے‘‘۔ یقینا جہاں علی ہیں وہاں حق ہے عدالت ہے اور حقوق انسانی کا تحفظ ہے، یہی سبب ہے کہ علی ؑ کی عدالت آج بھی زمانہ کو حیرانی میں مبتلا کردیتی ہے کہ وہ میدان جنگ میں بھی جہاں سب کچھ جائز ہوتا ہے دامن عدالت کو ہاتھوں سے جانے نہیں دیتے۔ جنگ خندق میں جب اپنے حریف جو عرب کا مشہور ترین پہلوان تھا کو زیر کرلیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس پر وار کرکے اس کا کام تمام کردیں اسی لمحہ وہ آپ ؑکے دہن مبارک پر تھوک دیتا ہے۔ انسانی فطرت کے تقاضے کے مطابق ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ علی ؑ غصہ میں آگ بگولہ ہوکر اس پرشدید وار کرتے لیکن علی نے ایسا نہیں کیا بلکہ تلوار پھینک کر ٹہلنے لگتے ہیں ، دشمن بھی حیران تھا کہ علی ؑ نے ایسا کیوں کیا۔ دشمن کے سوال کرنے پر کہ اے علی آپ نے اتنا اچھا موقع ہاتھ سے کیوں جانے دیا تو آپ نے دشمن کویہ جواب دیا۔ ’’اے عمروجان لے میری تلوار صرف اور صرف خدا کی خوشنودی کے لئے چلتی ہے ناکہ اپنے نفس کے لئے میں نہیں چاہتا کہ تجھے قتل کرنے میں میرا نفس بھی شامل ہوجائے‘‘۔
امیر المومنین حضرت علیؑ حقیقی اسلامی آئیڈیالوجی کے ایسے حکمراں ہیں جوبیت المال کا مصرف عدالت اسلامی کے اصولوں پر اس طرح قائم کرتے ہیں کہ مساوات اور عدالت کا دامن مجروح ہونے نہیں دیتے، خواہ اس راہ میں ان کے اپنے حقیقی بھائی ہی کیوں نہ مطالبہ کریں۔ حضرت علی ؑکے بھائی عقیل بھوکے اور پژمردہ بچوں کے ہمراہ جب امیرالمومنین حضرت علی ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اوربیت المال سے اپنے لئے زیادہ حصہ کے طلب گار ہوئے تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بھائی کے بھوکے بچوں کو دیکھ کر بھائی کی محبت اصولوں پر غالب آجاتی مگر یہاں ایسا نہیں ہوا، آپ نے صاف طور پر اپنے بھائی کو منفی جواب دیا۔ انھوں نے اپنے منفی جواب کے فلسفہ کو اپنے بھائی کے سامنے پیش کرنے کے لئے لوہے کی ایک سلاخ کو آگ میں تپا کر ان کے جسم کے قریب لے گئے وہ چیخ اٹھے، تب آپ نے کہا اے عقیل! تم دنیاکی آگ سے ڈرتے ہو اورمیں جہنم کی آگ سے ، نہ ڈروں؟‘‘ ۔آج کے اس دور میں یہ بات کتنی عجیب ہے کہ اسلامی سربراہ مملکت کے پاس کوئی ذاتی ملکیت نہ تھی کہ وہ اپنے بھائی کا وعدہ پورا کرے جبکہ آج سربراہان مملکت کی عیش پرستی، بین الاقوامی بنکوں میں اکاؤنٹ ایک عام روش ہے کیایہ طریقۂ کار امانت اوردیانتداری کے اصولوں کے خلاف نہیں ہے۔!
Hani Quran Academy
25/03/2024
(خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ)
ترجمہ:تم میں سےبہتروہ ھے جو قرآن سیکھے اورسکھائے
(الحدیث)
السلام علیکم۔۔۔۔۔
امیدھےآپ خیریت سےھوں گے
قرآن مجید کی تعلیم ھر گھر میں چھوٹے بڑے کی اھم ضرورت ھے
وہ تمام احباب جو اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے ابھی تک قرآن کریم کی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔
یا جنہیں قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول گیا ہے۔
یا صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔
یا اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔
ایسے تمام افراد کے لیئے سنہری موقعہ۔
خواہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہائش پذیر ہوں
اب گھر بیٹھے آن لائن بذریعہ
واٹس ایپ Whatsapp. Zoom. Skype
ہم سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کریں اور اپنی دنیاء و آخرت کو سنواریں۔
کیا آپ اُن لوگوں میں شامل ہوناچاہتے ہیں جن کو پیارے نبیﷺ نے بہترین لوگ کہا
تو آیے قرآن کا دامن' تھامیے اور ان لوگوں میں شامل ہو جاٸیے
اپنے گھر بیٹھے ھی تعلیم حاصل کریں
❶بچوں کیلۓ ابتداٸ قاعدہ تجوید کے ساتھ
❷ناظرة القرآن تجوید کے ساتھ
❸حفظ القرآن تجوید کے ساتھ
❹تلفظ کی درستگی تجوید کے ساتھ
❺عمر کی کوٸ قید نہیں
❻ہفتہ کے اندر 5 دن کلاسسز
❼کلاس کا دورانیہ 30 منٹ
اور اسلام کی بنیادی باتیں بھی ۔إن شاءالله۔
* نماز اور روز مرہ کی دعاٸیں.داخلہ جاری ہے ۔جلد رابطہ کریں۔ اور اپنے بچوں کی رجسٹریشن کروائیں۔کلاسز انشاءاللہ شروع ہو گئی ہیں
30/10/2023
Assalam o alaikum everyone!
actually i teach quran online and i need students..if you want to learn quran online so direct inbox me
Hani Quran Academy