20/09/2026
"میڈم! ہم نے تو بہت کچھ کرکے دیکھ لیا، جب تک مار نہ ہو، بچے نہیں مانتے!"
یہ جملہ میں نے بہت سے teachers سے سنا ہے۔
معذرت کے ساتھ، میں اپنے تمام fellow teachers سے اس معاملے میں ذرا مختلف زاویۂ نظر رکھتی ہوں۔
میرا 15 سالہ teaching experience مجھے یہ سکھاتا ہے کہ بچوں سے مار کے بغیر بھی بہت اچھا result لیا جا سکتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ teacher کبھی ڈانٹے بھی نہیں۔ ایک سنجیدہ انداز میں سمجھانا بعض اوقات ضروری ہوتا ہے، لیکن کیا ہر مسئلے کا حل ڈانٹ یا مار ہے؟
میرے خیال میں نہیں۔
اگر طالب علم پڑھنے میں دلچسپی نہیں لے رہا، distract ہو رہا ہے یا آپ کی بات نہیں سن رہا تو صرف اسے blame کرنے کے بجائے اپنے teaching method کو بھی دیکھیں۔
کیا آپ کی teaching بچوں کو engage کر رہی ہے؟
کبھی کوئی چھوٹی سی activity کروا کر دیکھیں، کوئی دلچسپ سوال پوچھیں، کوئی نیا example دیں یا کبھی ہلکے پھلکے انداز سے ماحول بدل دیں۔ آپ دیکھیں گے کہ بچے دوبارہ آپ کے ساتھ connect ہونا شروع کر دیتے ہیں۔
بچوں سے friendship بھی ہو سکتی ہے، لیکن boundaries کے ساتھ۔ اگر آپ friendly رہتے ہوئے اپنی بات بھی منوا سکتے ہیں تو یہ تعلق بہت خوبصورت بن سکتا ہے۔ ورنہ respectful distance اور clear boundaries زیادہ بہتر ہیں۔
میں خود بچوں کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے connect ہوتی ہوں اور الحمدللہ آج تک ایسا موقع نہیں آیا کہ بچوں نے میری بات نہ مانی ہو یا مجھے respect نہ دی ہو۔
اور اگر کبھی محسوس ہو کہ آج بچے بالکل engage نہیں ہو رہے تو میں فوراً یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ "بچے ہی خراب ہیں۔"
میں سوچتی ہوں:
"چلو، آج teaching کا طریقہ بدل کر دیکھتے ہیں۔"
کیونکہ 60 یا 70 طلبہ کی کلاس میں ہر طالب علم ایک ہی انداز سے نہیں سیکھتا۔ کچھ فوراً connect کرتے ہیں، کچھ کو وقت چاہیے اور کچھ کو مختلف teaching strategy۔
اس لیے بچوں کو سزا دینے سے پہلے ایک بار اپنی strategy بدل کر دیکھیں۔
آپ کا teaching experience کیا کہتا ہے؟ کیا آپ نے بھی مار یا سخت سزا کے بغیر بچوں سے اچھا result لیا ہے؟ اپنا تجربہ ضرور شیئر کریں۔
Dr Shumaila Shafi / Educationist