SURAT UL BAQARAH
AYAT NO 185
Al Rahman Uloom e Qurania online Academy
The Quran Academy is running a project about Tajweed ul Quran through out the world.
22/11/2022
Tajweed Ul Quran Classes.
Recite the Holly Quran with Tajweed is Farz e aen( Necessary).
If we do, nt care about the makharij then one word will be change into other word mistakenly and there will be totally change in the translation of verses.
Therefore, teach your children the Holy Qur'an with Tajweed and make them accustomed to reminding them of the Namaz and Duas of the Occasion.
21/11/2022
Tajweed Ul Quran Classes.
Recite the Holly Quran with Tajweed is Farz e aen( Necessary).
If we do, nt care about the makharij then one word will be change into other word mistakenly and there will be totally change in the translation of verses.
Therefore, teach your children the Holy Qur'an with Tajweed and make them accustomed to reminding them of the Namaz and Duas of the Occasion.
♦️اَعُوذ باللّٰہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجَیْم-
♦️بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم -
♦️لَقَدْ جَاءَکُم رَسُولٌ مِّنْ
اَنْفُسِکُم عَزِیزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّم حَرِیصٌ عَلَیْکُم بِالْمُؤمِنِینَ رَؤُفٌ الرَّحِیْم-
♦️(سورۃ التوبہ آیت نمبر 128)♦️
✅ترجمہ: آئے ہیں تمہارے پاس رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)جو تم ہی میں سے ہیں
✅1. جو تمھیں تکلیف پہنچےاُن (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے بڑی بھاری ہے-( کسی کی تکلیف آپ صلی اللہ علیہ وسلم برداشت نہیں کر سکتے، کسی کو تکلیف میں دیکھ نہیں سکتے-)
✅2. مؤمنین کو فائدہ پہنچانے کے لئے بڑے حریص ہیں (اتنا فائدہ کوئی سوچ ہی نہیں سکتا جتنا فائدہ مؤمنین کو پہنچانے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہیں-) -
✅3.بڑے ہی شفیق ہیں-
✅4.نہایت مہربان ہیں -
🌺یہ میرے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی صفات ہیں جو قرآن مجید کی صرف اِس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار صفات قرآن مجید میں اللّٰہ تعالٰی نے بیان فرمائی ہیں-
♦️اگر کوئی انسان صرف اس آیت مبارکہ میں بیان کردہ اِن صفات کو اختیار کر لے تو خدا کی قسم ان فرقوں اور انکی نفرتوں کا جنازہ نکل جائے-
طالب دعا حافظ عبدالرحمن
10/10/2022
🌹🌹🌹🔘🔘🌹🌹🌹♦️♦️♦️♦️🌺🌺🌺📝📝📝❤️❤️❤️❤️🎋🎋🎁🎁🥉🥉🏅🏅🏆🏆📚
@
@
@
@
@
Tajweed Online Quran Academy
.
..
..
..
تجوید کا تیسرا سبق
1__ کیفیتِ تلاوت کے درجے
١ ترتیل- ٢: تدویر ٣:حدر
2__ تلاوت کرنے کے اصول
3__ عیوبِ تلاوت
4__ محاسنِ تلاوت
What is Tajweed?
Why is it necessary to recite Holy Quran with tajweed?
What is impoertence of Tajweed ul Quran.
28/07/2022
Asslam.o.Alaikum
Al Rahman Uloom e Qaurania online Academy teaching online Holly Quran to kids male and female via skype by screen sharing, imo, WhatsApp and Zoom..
Duration of class:
One by one classes of half an hour each
¦¦¦¦¦¦¦¦¦¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¬¦¦¦¦¦¦¦¦
in which 20 minutes for Quran lesson or Norani Qaida and 10 minutes for Namaz, tajweed , kalma, prayers short surahs and tarjuma with tafseer .
4 and 5 days classes in a week. Time of your choice.
Male and female teachers available
3 days free trial classes
JazakAllah
If anyone interested than Inbox me.
Thank you. WhatsApp number+923186033340
26/07/2022
تفسیر سورۃ العصر:
قسم ہے عصر کی
تفسیر:
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة العصر ہے۔ اس کی پہلی آیت میں عصر کا لفظ آیا ہے۔ جس سے یہ نام اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی تین آیات ہیں اور یہ سورة چودہ الفاظ اور ارسٹھ حروف پر مشتمل ہے۔
اس سورة کو قسم سے شروع کیا گیا ہے۔ اس میں انسانیت کی کامیابی کے لئے چار اٹل اصل اصول بیان کئے گئے ہیں۔ جن کا نتیجہ قطعی طور پر سامنے آئے گا اور اگر لوگ ان اصولوں کو اپنا لیں گے تو انہیں ضرور سعادت نصیب ہوگی۔
عصر کا مفہوم
والعصر قسم ہے عصر کی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ ١ ؎ کہ عام طور پر عصر سے زمانہ مراد لیا جاتا ہے۔ تاہم اس مقام پر عصر سے مراد عصر کی نماز بھی ہو سکتی ہے۔ عصر سے مراد خاص زمانہ یعنی حضور نبی (علیہ السلام) کا زمانہ بھی ہو سکتا ٢ ؎ ہے۔ اگر ایسا ہے ، تو بڑا مبارک اور فضیلت والا
١ ؎ روح المعانی ص 227/ج 30 ، معالم التنزیل ص 251/ج ٤ ، ٢ ؎، بیضاوی ص 438/ج ٢
زمانہ ہے۔ یہ کمالات کے لئے سب سے افضل زمانہ ہے۔ اس میں نبوت کے انوار کا ظہور ہوا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود ارشاد فرمایا۔ ١ ؎ خیر امتی قرنی سب سے بہتر زمانہ میرا ہے اس کے بعد میرے صحابہ کا زمانہ اور پھر ان سے ملنے والے لوگوں کا گویا خیر و برکت کے اعتبار سے یہ بہترین زمانہ بھی مراد ہو سکتا ہے۔
نماز عصر صلوۃ وسطی
اگر عصر سے مراد صلوۃ العصر ہے تو اس کی اہمیت مسلم ہے۔ عصر کا وقت ایسا ہے جب دنیا بھر کے لوگ اپنے کاروبار میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ وقت ان کے سود و زیاں کا وقت ہوتا ہے ، اس لئے بسا اوقات یہ نماز رہ جاتی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ ٢ ؎ من فاتتہ العصر فکانما و ترا ھلہ ومالہ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی ، یوں سمجھو کہ اس کا اہل اور مال سب کو ہلاک کردیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ والوسطی وقمو اللہ قنتین “ سب نمازوں کی حفاظت کرو ، خاص طور پر صلوۃ وسطی کی غزوہ خندق کے موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چار نمازیں فوت ہوگئیں تھیں۔ جن میں ع*ص کی نماز بھی شامل تھی۔ اس پر آپ کو صدمہ ہوا تھا اور آپ نے مشرکین کے حق میں بد دعا فرمائی تھی۔ ٣ ؎ کہ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں کو اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے کیونکہ شغلونا عن الصلوۃ الوسطی انہوں نے ہمیں عصر کی نماز نہیں پڑھنے دی۔ فوت شدہ نمازیں آپ نے مغرب اور عشاء کے درمیان قضا کیں۔ مقصد یہ کہ عصر سے مراد نماز عصر بھی ہو سکتا ہے۔
انسانی عمر قیمتی سرمایہ ہے
زمانے سے انسان کی عمر بھی مراد ہو سکتی ہے۔ یہ قلیل سی عمر انسان کا قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر انسان اس پونجی سے کوئی قیمتی سامان خرید لے ۔ تو وہ اس کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کارآمد ہوگا۔ ورنہ انسان خسارے میں مبتلا ہوجائے گا اور زمانے سے تاریخ بھی مراد لی
١ ؎ بخاری ص 515/ج ١ ، مسلم ص 309/ج ٢ ، ترمذی ص 223 ، ٢ ؎ مسلم ص 226/ج ١ ، بخاری ص 78/ج ١ ، بخاری ص 78/ج ١ ، ترمذی ص 52 ، ٣ ؎ مسلم ص 226/ج ١
جا سکتی ہے۔ تاریخ واقعات کو محفوظ رکھتی ہے۔ تو والعصر کا معنی یہ ہوا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ان الانسان لفی خسر تمام انسان خسارے میں ہیں۔ انسانوں کے تاریخی واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بیشتر انسان خسارے میں ہی مبتلا رہے۔ ان کے حالات ، ان کی لڑائیاں ، فسادات ، اعمال ، کردار اور عقائد جس چیز کا بھی مطالعہ کریں ، معلوم ہوگا کہ انسان نقصان میں مبتلا رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عمر جیسا قیمتی سرمایہ دے کر بھیجا تھا کہ دنیا میں جا کر آخرت کے لئے کوئی اچھا سامان خرید لائو۔ مگر اکثر و بیشتر انسان اس پونجی کو ضائع کردیتے ہیں۔
صحیح حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ١ ؎ کل الناس بغذوا فبائع نقشہ فمعتقھا اوموبقھا ہر رات کے بعد جب صبح ہوتی ہے تو انسان اپنے نفس کو بیچتا ہے اور ایسا سامان خریدتا ہے جو یا تو اس کے نفس کو آزاد کردیتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو آزاد کردیتا ہے اسے ہمیشہ کے لئے آزادی حاصل ہو جتای ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ عمر جیسی قیمتی چیز ہر آن ہر گھڑی کم ہوتی رہتی ہے۔ اس کی مثال برف جیسی ہے کہ اوپر سے بھادوں کی تپش ہے اور نیچے حبس زیادہ ہوتا ہے۔ اس مہینے میں ا وپر سے بھی گرمی پڑتی ہے اور نیچے زمین میں بھی تپش ہوتی ہے اس لئے برف کے جلدی جلدی پگھلنے کا امکان ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی عمر بھی جلدی جلدی اور بتدریج ختم ہو رہی ہے اگر انسان نے اس سے بروقت کوئی فائدہ حاصل نہ کیا تو یہ پگھل کر ختم ہوجائے گی۔ اور پھر انسان ہمیشہ کے لئے خسارے میں پڑجائے گا۔
عمر برف است و آفتاب تموز اند کے ماند و خواجہ عزہ ہنوز
قسم صرف اللہ کے نام کی ہونی چاہئے
حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کے ابرے میں یہ قانون بیان فرمایا کہ لاتقسموا لغیر اللہ یعنی اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم مت کھائو۔ جب بھی قسم کھائو ، اللہ کی اس کی صفت کی قسم کھائو ، آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ٢ ؎ لاتخلفوا بالطواغی یعنی طاغوت کے نام کی قسم نہ اٹھا۔ اللہ کے سوا ہر باطل قوت جس کی پرستش کی جائے وہ طاغوت ٣ ؎ ہے۔
١ ؎ مسلم ص 118/ج ١۔ ٢ ؎ مسلم ص 46/ج ٢ ، ابن ماجہ ص 152 ، ٣ ؎ تفسیر در منشور ص 330/ج ١
اسی طرح اپنے باپ دا کے نام کی قسم نہ اٹھائو۔ ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے ١ ؎ من حلف بغیر اللہ فقد اشرک یعنی جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔
قسم بطور گواہی ہوجائے تو تصفیہ کے لئے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو فریق گواہ پیش کر دیگا۔ اس کے حق میں فصلہ ہوجائے گا۔ اگر گواہ موجود نہ ہو۔ نو فریق ثانی کو یقین دلانے کے لئے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی جاتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قسم اٹھانے والا اللہ کو بطور گواہ پیش کرتا ہے کہ اس معاملہ میں وہ حق پر ہے۔
کسی معاملہ میں گواہی کے لئے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر گواہان کی عدم موجودگی میں صرف ایک اللہ تعالیٰ کی گواہی بطور قسم پیش کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی گواہی ، اس کی دو صفات یعنی علیم کل اور ق ادر مطلق کی بناء پر دو گواہیاں تسیم ہوتی ہیں پہلی صفت علیم کل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کو جاننے والا صرف اللہ ہے ، ان اللہ بکل شیء علیم ، مخلوق میں سے کوئی شخص خواہ کتنا بھی عالم فاضل ہو ، اس کا علم جزوی اور قلیل ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً “ تو عالم الغیب والشہادۃ یا علیم کل صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔
اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ قادر مطلق ہے۔ ” ان اللہ علی کل شیء قدیر اسے ہر چیز پر قدرت حاصل ہے ، لہٰذا جب کوئی …… شخص قسم اٹھاتا ہے۔ تو بخوبی سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ہر بات کو جانتا ہے۔ لہٰذا اگر میں جھوٹی قسم اٹھائوں گا۔ تو وہ مجھے سزا دینے پر بھی قادر ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز کو جاننے والا کوئی اور نہیں ہے۔ الغرض قسم ایک گواہی ہوتی ہے جو پیش کی جاتی ہے۔
ایمان اور عمل صالح
پوری تاریخ انسانی کو بطور گواہ پیش کیا کہ سب لوگ خسارے میں ہیں۔ البتہ بعض لوگ
١ ؎ ترمذی ص 240
ایسے بھی ہیں۔ جو اس نقصان سے بچ جائیں گے۔ وہ کون لوگ ہیں۔ پہلے نمبر پر فرمایا الا الذین امنوا یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے ایمان کی دولت حاصل کی۔ دوسرے نمبر پر فرمایا وعملوا الصلحت جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے۔ یہ لوگ ابدی نقصان سے بچ جائیں گے۔ کافر اور منافق جو ایمان کی دولت سے محروم رہے۔ انہیں کے متعلق فرمایا ” فما ربحت تجارتھم وما کانوا مھتدین “ ان کی سوداگری نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ انہوں نے اپنی قیمتی پونجی لگا کر کفر و شرک اور نفاق کے سوا کچھ نہ خریدا ، ان کی تجارت نے انہیں نقصان میں رکھا۔
ایمان مفصل
انسان کو چاہئے کہ وہ عمر جیسی قیمتی پونجی کے عوض ایمان خریدے ، جب تک ایمان موجود نہ ہو۔ عقیدہ درست نہ ہو ، کوئی عمل قابل قبول نہیں۔ قرآن پاک میں موجود ہے ” ومن یکفر باللہ وملٓئکتہ وکتبہ و رسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلاً بعیداً “ جس نے اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسول اور آخرت کے دن کا انکار کیا ، وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ باقی رہی یہ بات کہ ایمان کیا ہے۔ تو ہم ایمان مجمل اور مفصل میں پڑھتے ہیں امنت باللہ وملٓئکتہ و کتبہ و رسلہ والیوم الاخر والقدر خیرہ و شرہ من اللہ تعالیٰ والبعث بعد الموت انسان اقرار کرتا ہے کہ ان تمام چیزوں پر اس کا ایمان ہے۔ ایمان مجمل میں کہتے ہیں۔ امنت باللہ کما ھو باسمآء و صفاتہ و قبلت جمیع احکامہ اقراراً باللسان وتصدیقاً بالقلب یعنی میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر اس کی تمام صفات سمیت ایمان لاتا ہوں۔ میں نے اس کے جملہ احکام قبول کئے اس بات کا زبان سے اقرار کیا اور دل سے تصدیق کی۔ میرا یہ بھی یقین ہے کہ کائنات میں جو کچھ واقع ہوا یا ہوگا اللہ کے علم اور مشیت کے مطابق ہے۔
نظریات کی درستگی
جس شخص نے ایمان کو درست کیا ، اس کی فکر صحیح ہوگئی اس کے نظریات درست ہوگئے۔ ایمان کی درستگی نظریات کے صحیح ہونے کی علامت ہے۔ اب جو کام بھی کیا جائے گا۔ درست ہوگا اگر نظریات ہی غلط ہیں ، تو ہر عمل ضائع ہوگا۔ الغرض اس مقام پر فلاح کے جو چار اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سب سے اول نظریات کی تصحیح ہے موجود دور میں سے آئیڈیالوجی (Idjology) کہتے ہیں۔ تمام اعمال کا دار و مدار اسی پر ہے کہ نظریات یا عقائد صحیح ہوں۔ چناچہ قرآن پاک نے یہی بتایا ” فمن یعمل من اصلحت وھو مومن “ جو آدمی بھی کوئی نیک کام کرے بشرطیکہ وہ ایماندار ہو اس کی آئیڈیالوجی صحیح ہو۔ تو بہرحال اس کا جو بھی نام رکھ لیں مطلب ایک ہی ہے اور قرآن پاک میں یہی بات مختلف طریقوں سے سمجھائی گئی ہے کہ سب سے پہلا کام عقائد یا نظریات کی درستگی ہے۔ شاہ ولی اللہ اور شیخ مجد د الف ثانی بھی یہی فرماتے ہیں۔ ١ ؎ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام سے بھی یہی منقول ہے اور اسی کے مطابق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔
جماعت کی اہمیت
فلاح کا تیسرا اصول جو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ وہ ہے وتوا صوا بالحق یعنی ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرنا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ کے دین اسلام میں اجتماعیت پائی جاتی ہے۔ ایک دوسرے کو حق بات کی تلقین کا تعلق جماعت سے ہے ۔ یہ کام انفرادی نہیں۔ بلکہ جاتماعی ہے۔ پھر جماعت بھی وہ جس کے نظریات درست ہوں۔ جس میں ایمان اور نیک اعمال موجود ہوں۔ جب تک ایک دوسرے کے ساتھ شریک نہ ہوں۔ جماعت قائم نہیں ہو سکتی۔ جماعت کا تو معنی ہی یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ہو۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ جب یہ چیزیں امت میں پیدا ہوجائیں گی اور الٰہی پروگرام لے کر اٹھیں گے ، تو دنیا میں انقلاب برپا ہوگا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے ٢ ؎ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ جب ایک دوسرے سے ملتے تو سلام کے علاوہ سورة والعصر پڑھ لیا کرتے تھے۔ اس سے آپس میں مشترکہ مشن کی یاد دہانی ہوتی تھی۔
حق کی وصیت
وتواصوا بالحق کے لفظ وصیت میں ایک بڑی حقیقت پوشیدہ ہے۔ وصیت اس وقت کی جاتی ہے۔ جب انسان دنیا سے رخت سفر باندھ رہا ہوں۔ قرآن پاک میں ابر بار اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ” من بعد وصیۃ توصون بھا اودین “ وراثت کی تقسیم کا جب وقت آتا ہے ، تو حکم ہے کہ پہلے مرنے والے کی وصیت کو پورا کرو
١ ؎ تفیہمات الٰہیہ ص 12/ج ١ ، ٢ ؎ در منشور ص 392/ج ٦ ، روح المعانی 227/ج 30 تفسیر ابن کثیر ص 547/ج ٤
یا اس کا قرضہ ادا کرو۔ اور پھر باقی ترکہ کو تقسیم کرو۔ مطلب یہ ہے کہ وصیت اس چیز کی جاتی ہے ۔ جو نہایت اہم ہو تو یہاں پر وصیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم خواہشات اور باطل نظریات سے بالکل الگ ہیں۔ ہمارا مشن محض حق ہے۔ اس لئے جہاں کہیں حق کے خلاف کوئی چیز پائی گئی۔ فوراً وصیت کردی کہ اسے چھوڑ دو ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا یہی مطلب ہے اور یہ جماعت کا کام ہے۔ تو گویا توا صوابالحق میں جماعت کی ضرورت اور اہمیت کا مسئلہ بھی آ گیا۔
صبر کی تلقین
فلاح کا چوتھا اصول جو یہاں بیان کیا گیا ہے وہ وتوا صوا بالصبر یعنی ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرنا۔ ہمارے مشن میں یہ بھی ضروری ہے۔ خواہشات نفسانی کو روکنے کے لئے صبر ایک ضروری امر ہے۔ انسان خواہشات کی بجائے عبادات اور نیکی کے دوسرے کاموں کی طرف راغب ہوتا ہے۔ کوئی حادثہ پیش آجائے یا کوئی مصیبت آجائے تو۔ ” استعینوا بالصبر والصلوۃ کے مطابق اسے برداشت کرتا ہے اور صبر و نماز کے ساتھ استعانت حاصل کرتا ہے۔ تو یہ گویا نفس پر کنٹرول کرنے کا چوتھا اصول ہے ، جو یہاں بیان ہوا ہے کہ تکلیف کے وقت صبر سے کام لے جزع فزع نہ کرے۔ دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرے۔
فلاح کے چار اصول
ان چار اصولوں کو اس طرح سمجھنا چاہئے جیسے گاڑی کے چار پہیے ہوتے ہیں جس طرح گاڑی چار پہیوں کے بغیر نہیں چل سکتی ، اسی طرح ان چار اصولوں کو اپنائے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ جو انسان ان اصولوں کو اپنا لے گا۔ ہمیشہ کیلئے کامیابی حاصل کرلے گا۔ اور دنیا میں انقلاب برپا کرے گا ورنہ ہمیشہ کے لئے نقصان میں پڑجائے گا۔ انسانی تاریخ یہی بتلا رہی ہے کہ ان الانسان لفی خسر انسان ہمیشہ گھاٹے میں ہیں ، کیونکہ وہ کفر کرتے ہیں ان کے نظریات درست نہیں ، شرک کرتے ہیں بدعات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایمان صحیح نہیں ، سنت کا اتباع نہیں۔ برے اعمال کی کثرت ہے یہ سب ناکامی کے اسباب ہیں … انسان نے عمر کے قیمتی سرمائے سے غلط عقیدہ اور فاسد فکر خریدی ہے۔ ان کے قلب کی حالت اور اخلاق خراب ہوگئے ہیں حق کی بجائے باطل کی تشہیر ہو رہی ہے ۔ غلط چیزوں کا پراپیگنڈا ہو رہا ہے۔ حرام خوری ، بد اخلاقی ، بد نظمی ، کفر ، شرک ، فضول رسومات کی وصیت ہو رہی ہے حق گوئی سے روگردانی کی جا رہی ہے اس کا نتیجہ ہمیشہ کے لئے نقصان کی صورت میں نکلے گا۔
اس کے علاوہ یہ ہے کہ لوگ مصائب کے وقت اور نفس پر کنٹرول کرنے کے وقت صبر کا دامن چھوڑ رہے ہیں۔ نہ اطاعت پر دلجعی ہے اور نہ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف توجہ ہے صبر کی بجائے شور و شر ، واویلا اور نوحہ ہو رہا ہے۔ زندگی کے ان چار اصولوں کو قرآن پاک میں مختلف مقامات پر تفصیل کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے اور آخر میں خلاصے کے طور پر یہ اصول اس سورة میں یکجا کردیے ہیں۔ یعنی ایمان ، اعمال صالحہ ، ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین۔ اسی لئے فرمایا ” اصبروا وصابروا و رابطوا قف “ صبر کرو ، حق پر جمے رہو ، دوسروں کو بھی حق کی تلقین کرو اور خود ھبی صبر کرو۔ خدا سے ڈرتے رہو۔ ایمان میں پختگی ختیار کرو ” واتقوا اللہ لعلکم تفلحون “ تاکہ تم فلاح پا جائو۔
یہی باتیں لمبی سورتوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ یہاں پر مختصر طریقے سے ایک ایک لفظ اور ایک ایک جملہ میں بات کا خلاصہ بیان کردیا ہے۔ انسان کی عمر ، تاریخ ، زمانہ ، یا عصر کا وقت یہ سب چیزیں شاہد ہیں کہ بیشک انسان البتہ خسارے میں ہیں۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے ، اچھے عمل کئے جنہوں نے ایک دوسرے کے حق اور سچے دین پر قائم رہنے کی تلقین کی اور ایک دوسرے کو صبر کی تاکید کی ، وہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فلاح پا جائیں گے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Address
Lahore
54500