10/01/2023
Good news: 🎊🎊🎊
Nǐ hǎo! 你好!Welcome to HSK 1 Crash course - a Chinese course for beginners.
HSK stands for Hànyǔ (Chinese) Shuǐpíng (level) Kǎoshì (test), which is the most important Chinese proficiency test in use today. Chinese for HSK Level 1 is the first part of the 6 levels and assesses test takers’ abilities in the application of everyday Chinese.
Pak-China friendship is higher than mountains, deeper than oceans, stronger than steel, and sweeter than honey. Decades old friendship has become even stronger through China-Pakistan Economic Corridor (CPEC). The future will favor those who know Chinese language. 😍😍
In this course you will learn:
1. 15 hour lectures with dialogue role plays;
2. More than 150 commonly used words;
3. Around 50 key grammar points;
4. New words and texts via audio;
5. Quizzes for each lesson and HSK test papers;
6. Supplementary materials about China (optional)
In short, the course covers the four skills although only listening and reading are tested in HSK. At the end of the course, you will be able to understand and use simple Chinese phrases, meet basic needs for communication and possess the ability to further your Chinese language studies.
🎏:
Limited seats are available. Registered now:
https://form.jotform.com/230085305643450
Have a fantastic journey of Chinese learning.🎉
19/10/2021
آپ کو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو۔
18/10/2021
why you do winrar like that
17/10/2021
History of Freemasons, Night Tamplers and Illuminati in urdu
فری میسن کی تاریخ
نائٹ ٹیمپلرز سے فری میسن تک کا سفر و مقاصد۔ ۔
دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی ہے۔ جو نہایت جدید ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے۔ دنیا میں بڑھتی بھوک، افلاس، بے روزگاری اور جنگی حالات کیا یہ سب اتفاقاً ہے یا اس سب کو کوئی کنٹرول کر رہا ہے۔
دنیا میں مٹھی بھر لوگوں کی ایک ایسی خفیہ تنظیم موجود ہے جو دنیا کے حالات کو ہر دور میں کنٹرول کرتے آئے ہیں کیونکہ اس تنظیم کے پاس دنیا کے تمام وسائل، بینک، میڈیا ہائوسز سمیت تمام مالی وسائل موجود ہیں۔ یہ خفیہ تنظیم ان وسائل کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس خفیہ تنظیم کو فری میسن یا المناتی کے نام سے جانا جاتا۔
فری میسن کے لفظی معنی آزاد معمار کے ہیں۔ معمار کسی بھی چیز کو تعمیر کرنے والے کو کہا جاتا۔ اس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی تعمیر اور مثبت رویوں کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جیسے
Human Rights, women Empowerment,
Health for All, Education for All
جیسے دیگر سلوگن اس تنظیم نے دیے ہوئے ہیں مگر دراصل یہ سب جھوٹ ہے۔ یہ سب ایک دھوکا ہے دنیا کو بیوقوف بنانے کی چال ہے تاکہ دنیا کو دھوکہ دے کر یہ لوگ اپنے خفیہ مقاصد پورے کر سکیں۔ یہ لوگ دنیا کے تمام بڑے بڑے عہدوں پر فائض ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کے زہین ترین لوگ سمجھتے ہیں۔ باقی دنیا کو یہ لوگ اپنے بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں۔
پہلے یہ لوگ خفیہ طور پر اپنا کام کرتے تھے مگر اب انہوں سے کھلم کھلا اپنے مقاصد ظاہر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس عمل کے لیے انہوں نے دنیا بھر میں اپنے میسونگ سکول اور میسونک ہائوس قائم کر رکھے ہیں۔ جہاں انکی تعلیمات کو پڑھایا اور پھلایا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کے زیادہ تر لوگ نہایت امیر ترین لوگ ہیں۔ دنیا کی ٹاپ دس کمپنیاں انکی ہی ہے۔ یوں کہہ لیں پوری دنیا کی 90 فیصد دولت انکے ہاتھ میں ہے۔ مگر پھر بھی یہ ایک این جی او کی شکل میں فنڈ اکھٹے کرتے ہیں اور اپنے مقاصد کو جاری رکھتے ہیں۔
اس تنظیم کی منافقت دیکھنے کہ لیے اتنا کافی ہے کہ یہ لوگ خواتین کی امپاورمنٹ کی بات کرتے ہیں جبکہ انکی محفلوں میں خواتین کو بیٹھنے کی اجازت نہیں۔
اب آتے ہیں اس تنظیم کی تاریخ کی جانب۔ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس تنظیم کی بنیاد آج سے تقریباً تین سو سال پہلے 1717 میں 13 شاہی خاندانوں نے انگلینڈ میں رکھی۔ مگر یہ درست نہیں۔ اگر ہم قدیم مصری فرعونوں کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ فری میسنری سے بہت ملتی جلتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قوم کو فرعونوں کی غلامی سے نجات دلائی اس غلامی کے دوران انہوں نے فرعونوں سے کالا جادو جو کبالہ کے نام سے جانا جاتا وہ سیکھا۔ اور شیطان سے رابطے شروع کئیے۔ اسکے بعد یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ دریا پار کرکے سرزمین فلسطین پہنچے۔
اگر بات کی جائے اس خفیہ تنظیم کی ظاہری ابتداء کی تو انہوں سے اپنا اصل چہرہ صلیبی جنگوں کے دوران نائٹ ٹیمپلرز کی شکل میں دیکھایا۔ 1035 AD میں جب فرانس کے کرسچن پوپ نے مسلمانوں کے خلاف جنگوں کا آغاز کیا۔ جنہیں صلیبی جنگوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف نائٹ ٹیمپلر نام کے ایک گروہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کا مقصد یورشلم کو مسلمانوں سے آزاد کروانا تھا۔ 1096 میں یورشلم میں صلیبیوں کا قبضہ ہوگیا۔ جس کے لیے نائٹ ٹیمپلرز نے صف اول میں عیسائیوں کا ساتھ دیتے ہوئے مسلمانوں کو شکست دی۔ یہ لوگ اپنے آپ کو عیسائی ظاہر کرتے تھے مگر درحقیقت یہ لوگ بنی اسرائیلی تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے جھوٹ اور فریب کے ذریعے سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑوایا تھا۔ مسلمانوں سے جنگوں کے دوران جب یہ لوگ اپنا رہا سہا بھی کھونے لگے تو انہوں نے عیسائیوں کی شکل اختیار کر لی یا کچھ یورپ سمیت سمندروں کو نکل گئے۔ انکا مقصد تھا کہ یہ عیسائیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے جنگ کریں اور جب جنگ جیت جائیں تو اپنے مقاصد ظاہر کریں۔ اور وسائل پر قبضہ کریں۔
جب رومیوں نے فلسطین فتح کر لیا تو یہ اپنی اصل شکل میں آگئے اور ہیکلِ سلیمانی پر بھی قبضہ کر لیا۔ لہازا کچھ ہی عرصے میں عیسائیوں کو ان نائٹ ٹیمپلرز کا یہودی ہونے کا بھی علم ہو گیا۔ عیسائیوں کے ایمان کے مطابق وہ یہودی ہی تھے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکایا۔ اس وجہ سے عیسائی یہودیوں کو اپنا مزہبی دشمن بھی سمجھتے تھے۔1314 AD میں عیسائیوں نے نائٹ ٹیمپلر کے سربراہ کو پھانسی دے دی اور دیگر ٹیمپلرز کو بھی مارنا شروع کر دیا۔ لہازا انہیں پھر سے یورشلم کو چھوڑنا پڑا۔ پھر یہ لوگ سکاٹ لینڈ چلے گئے۔ اس وقت سکاٹ لینڈ انگلینڈ سے آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ انہوں نے اس جنگ میں سکاٹ لینڈ کا ساتھ دیا اور انہیں فتح حاصل ہوئی جس سے انہوں نے سکاٹ لینڈ کے دل میں اپنا مقام بنا لیا اور انہیں سکاٹ لینڈ میں فری ہینڈ مل گیا۔ پھر جو سرگرمیاں یہ لوگ خفیہ کرتے تھے انہیں کھل کر کرنا شروع کردیں۔ پھر جب سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ ایک ہو گئے تو ان یہودیوں کا اثرو رسوخ انگلینڈ میں بھی بڑھ گیا۔ یہودی نہایت ذہین اور سود خود قوم ہے انہوں نے اپنا سارا فوکس دولت اور دیگر وسائل اکھٹا کرنے پر رکھا ایک وقت ایسا بھی آگیا کہ انہوں نے یورپ حکومت کو بھی قرضے دے کر اپنے کنٹرول میں کر لیا۔ یونائیٹڈ کنگڈم کے یہ وہی یہودی نائٹ ٹیمپلر ہیں جنہوں نے اپنی کالی کرتویں چھپانے کے لیے 1717 میں اپنا نام نائٹ ٹیمپلر سے فری میسن رکھا۔ انہی یہودی کے ساتھی جو سمندروں میں نکل گئے تھے انہوں نے سمندری خزانے لوٹے وسائل پر قبضے کئیے اور امریکہ کو بھی دریافت کرنے والے یہی لوگ ہیں۔ دنیا میں امریکہ کے جتنے فاؤنڈ رہنما موجود ہیں جنہوں نے امریکہ کے قیام کو یقینی بنایا جیسے جارج واشنگٹن اور بنجمن فرینکلن دونوں امریکہ کے فائونڈنگ فادر تھے جو فری میسن تھے۔
18ویں صدی کے آخر میں جب امریکہ آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا اس وقت فری میسن نے تمام پالیسیاں سیٹ کر لیں تھیں۔ جس میں وہ تمام پہلوؤں شامل کئے گئے تھے جس سے اس بات کی مہر لگی کہ آنے والا امریکہ فری میسن کے کنٹرول میں ہوگا۔ لہازا 19ویں صدی میں یہ لوگ پوری کوشش کرتے رہے کہ ایسا معاشی نظام امریکہ میں لائیں جس سے وہ امریکی معیشت کو کنٹرول کرتے رہیں۔ اور جس کسی امریکی صدر نے اس معاشی نظام کو روکنے کی کوشش کی اسے قتل کر دیا گیا۔ اسکی ایک اہم مثال سابقہ امریکی صدر ابرائیم لنکن اور صدر کینڈی ہیں۔
یونائیٹڈ کنگڈم کے انہی فری میسن نے اپنی یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کی بھی تیاریاں کیں۔ جس کے لیے صہیونیت تحریک کو شروع کیا گیا۔ جو اللہ کے احکامات اور بنی اسرائیل قوم کو اللہ کی جانب سے بد دعا (کہ تم لوگ کبھی اپنی خود مختار ریاست نہیں بنا سکوں گے)کے بلکل برعکس تھی۔ اس تحریک کو صہیونیت (Zionism) اور اس تحریک کو ماننے والے کو صہیونی (Zionist) کہا جاتا ہے۔ اس تحریک میں اللّہ تعالیٰ کے احکامات کو ٹھکرا کر اسرائیل کے قیام کی کوشش شروع کی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کچھ یہودی جو آج بھی اللّہ تعالیٰ پر تھوڈا بھی ایمان رکھتے ہیں اسرائیل کے مخالفت کرتے ہیں۔ اسرائیل کا وعدہ پہلی جنگ عظیم اور خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد انگلینڈ میں کیا گیا جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک الگ یہودی ریاست کی شکل دی گئی۔ اور دنیا بھر کے یہودیوں کو یہاں آباد کیا گیا۔
اب بات کرتے ہیں انہوں نے دنیا کی معیشت کو کیسے کنٹرول کیا۔ درحقیقت یہ سب بینکنگ سسٹم کے زریعے ممکن ہوا۔ دنیا کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ دنیا کی معیشت کو کنٹرول کیا جائے۔ آپ سب کے علم میں تو ہو گا کہ پہلے وقتوں میں دنیا کی معیشت سونے اور چاندی کے سکوں پر چلتی تھی۔ انہوں نے بینک قائم کئے اور سونے اور چاندی کو اپنے قبضے میں لے کر نوٹ پہلی بار جاری کیا گیا۔ لوگ بینکوں میں اپنا سونا اور چاندی جمع کرواتے اور نوٹ وصول کرتے۔ انہی نوٹوں سے تجارت ہونے لگی اور لوگوں کا اعتماد ان کرنسی نوٹوں پر بڑھنے لگا۔جب یہ نظام چل گیا تو انہوں نے نوٹ چھاپنے شروع کر دیے اور راتوں رات امیر ہوتے گئے۔ جبکہ اصل دولت سونا اور چاندی اپنے کنٹرول میں کر لی۔ جب یہ نظام چل گیا تو ان یہودیوں نے امریکہ میں ایک بڑا بینک فیڈرل ریزرو بینک آف امریکہ قائم کیا۔ جو امریکی معیشت کو کنٹرول کرنے لگا۔ اس بات کا ثبوت آپکو ڈالر پر بھی نظر آئے گا جس پر احرام مصر کی موجودگی فرعونوں کے کنٹرول کو ظاہر کرتی ہے۔
فیڈرل ریزرو بینک آف امریکہ کے قیام کے بعد انہوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے بینک بنائے جو دیگر ممالک کو قرضے دے کر اپنی شرائط پوری کرواتے ہیں اور سود بھی وصول کرتے ہیں۔ کچھ یہی حال ہمارے غدار سیاست دانوں نے آئی ایم ایف سے قرضے لے کر پاکستان کے ساتھ بھی کیا۔ جسکی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر بھی انکا ہی کنٹرول ہے۔ انہی مالیاتی اداروں کے زریعے سے ہی پوری دنیا کو اپنے کنٹرول میں کرتے ہوئے اپنے مقاصد پورے کئے جاتے ہیں۔
اب بات کرتے ہیں فری میسن تنظیم کو بنانے والوں کے مقاصد کی ۔
1دنیا بھر میں صرف ایک حکومت قائم کرنا جس کے ذریعے پوری دنیا کی حکومتوں کو کنٹرول کرکے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا۔ جو کہ اقوام متحدہ کی صورت میں پورا کر چکے ہیں۔
2 دنیا کے تمام وسائل پر قبضہ کرنا۔
3 دنیا بھر سے فیملی سسٹم کو ختم کرنا
4 دنیا بھر کے تمام مذاہب کو ختم کرنا
5 دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنا
6 دنیا میں One Eye Hide Power کو نافذ کرنا یعنی ایک آنکھ والے دجال کے لیے تمام وسائل کو پیدا کرنا۔ جسے فری میسن اپنا عظیم لیڈر سمجھتے ہیں اور اپنے لیے ایک مسیحا سمجھتے ہیں۔جس کی آمد کا انتظار یہ لوگ صدیوں سے کر رہے ہیں۔
فری میسن کو جاننے کے لئے بہت سارے خفیہ لوگو اور سمبل بھی موجود ہیں۔ جو انکی پہچان ظاہر کرتے ہیں۔ انکے یہ سمبل انکے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ بقول انکے انکی تمام تعلیمات سمبل پر ہی بیس کرتی ہیں۔ یہ نشان زیادہ تر ایک آنکھ، مصری تکون یا یورپی شاہی خاندانوں کے نشانوں سے ملتے جلتے ہیں۔ جو سیگریٹ کی ڈبیوں۔ شراب کی بوتلوں، مشروبات ، میڈیا ہائوسز ، فوڈ چین یا دیگر کمپنیوں پر یہ سگنل دیکھے جا سکتے ہیں۔
میڈیا پر بھی فلموں، شوز یا دیگر بڑی تقریبات پر بھی انکے لوگوں ، دجال کی ایک آنکھ یا تکون کا نشان بہت سی فلموں اور کمرشل یا شوز پر نظر آتے ہیں۔ دنیا کے 90فیصد میڈیا ہائوسز پر انکا کنٹرول ہے جس کے ذریعے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کرکے دیکھا جاتا اور عام لوگوں کی مائنڈ پروگرامنگ کی جاتی ہے انکے دماغ کو کنٹرول کیا جاتا۔ جیسے انڈیا کا ایک شو بگ باس ہے۔ جس میں دجال کی ایک آنکھ انکی موجودگی ظاہر کرتی ہے۔ یا Tomorrow Land کے نام سے سجنے والا انکا میلہ۔
یہ فری میسن فیشن انڈسٹری، ہالی ووڈ ،بولی ووڈ، میڈیا ہائوسز اور دیگر ٹی وی چینلز بلکہ ہر جگہ یہ لوگ موجود ہیں۔ یہ دنیا کے تمام حالات سے واقف ہیں اور اپنے جھوٹے مسیحا دجال کے انتظار میں ہیں۔
انکے مطابق جب یہ ہیکلِ سلیمانی کی تیسری بار تعمیر کریں گے تو انکا مسیحا دجال کی آمد ہوگی۔ جس کی قیادت میں یہ پوری دنیا پر راج کریں گے۔
ہم مسلمانوں کو یہ کبھی بھولنا نہیں چائیے کہ ہم اس پروردگار کے ماننے والے ہیں جو تمام جہانوں کا خالق و مالک ہے۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ اللّہ تعالیٰ ایمان والوں کا کبھی نقصان نہیں ہونے دے گا۔ یہ لوگ جتنی بھی ترقی کر لیں، جتنی بھی طاقت لگا لیں، جتنے بھی ہربے آزما لیں مگر اللّہ تعالیٰ سب سے بہتر حکمت والا ہے۔ اللّہ تعالیٰ نے کچھ دیر کے لیے انکی رسی ڈھیلی کر رکھی ہے اور جب کھینچے گا تو یہ لوگ منہ کے بل گریں گے۔ انہیں اپنی دولت اور طاقت پر جو غرور ہے وہ خاک میں ملنے والا۔ حق غالب ہوگا۔ جس طرح اللّہ تعالیٰ نے پہلے کفر جھوٹ فریب اور دھوکہ باز قوموں پر عذابِ الٰہی نازل کیا انکی بھی باری آنے والی ہے۔ اور وہ وقت قریب قیامت کا وقت ہوگا
16/10/2021
Samsung tries to prove its foldable phones are tough.