Asad Academy

Asad Academy

Share

Online Islamic Education

17/11/2025

💐کوئی ہم ساہوتوسامنےآئے💐
دنیامیں سب سے زیادہ عہدے رکھنے والی شخصیت شیخ الاسلام جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کون ہیں؟ایک عہدساز معروف نام۔کون جانتا تھا کہ 27 ’’اُکتوبر‘‘ 1943ء کو ہندوستان کے صوبہ اُترپردیش کے ضلع سہارنپورؔ کے مشہور قصبہ دیوبندؔ میں پیدا ہونے والے اِس فرزند نے عالمِ اِسلام کے اُفق پر کس چمک دمک کے ساتھ طلوع ہو کر چمکنا ہے کہ اِن کے مقابلے میں باقی سب کی چمک دمک ماند پڑجائے گی۔پاکستان بننے سے چار سال پہلے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور بانیانِ پاکستان اور بعداَزاں مفتیٔ اَعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے گھر میں اُن کے سب سے چھوٹے بیٹے محمد تقی عثمانی کی شکل میں ایک ایسا گوہر نایاب پیدا ہوا‘ جس کی چمک سے آج پوری دنیا کی علمی محفلیں پُر رونق ہیں۔ اگرچہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اپنے والد کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ لیکن اپنی خدمات میں وہ اپنے بڑے بھائی مفتیٔ اَعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب سے بھی بہت آگے ہیں۔ اور اگر حقیقتِ حال کو مدنظر رکھا جائے‘ تو اِس وقت اَہلِ حق میں اِن کی ٹکر کی کوئی دوسری علمی شخصیت پاکستان کیا پوری دُنیا میں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔سات براعظم میں پھیلی پوری اُمتِ مسلمہ میں یہ ایک واحد شخصیت ہیں‘ جن کی بات پر عرب و عجم اور دنیا جہاں میں پھیلی اُمت سرِ تسلیم خم کرتی ہے۔ اور ہر مشکل کی گھڑی میں اُمت کے طبقات کی پہلی اور آخری نظر اِنہی کی طرف جاتی ہے ۔افریقہ میں قادیانیوں کے غیرمسلم ہونے سے متعلق کیس چل رہا تھا، اور عدالت میں دلائل دینے تھے‘
تو افریقہ کے مسلمانوں کی پوری دُنیا میں اِس مقصد کے لئے جس ہستی کی طرف نظر گئی‘ وہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب تھے۔ جو افریقیوں کی دعوت پر افریقہ گئے،
اور کورٹ مین اپنے دلائل سے قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے میں کامیاب رہے فجی سے لے کر مغرب کے آخری کنارے تک،
اور ناروے سے لے کر جنوب کے آخری کنارے تک پھیلی ہوئی پوری اُمت جس کو اپنا متفقہ مفتیٔ اَعظم مانتی ہے، اور جس کے فتاویٰ کو حرفِ آخر کا درجہ دیتی ہے‘ وہ ہے مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ جس سے اگر اُمتِ مسلمہ میں کوئی ناواقف ہے‘ تو وہ صرف اور صرف پاکستانی قوم ہے‘
جو چراغ تلے اندھیرے والے محاورے کا عملی نمونہ بنی ہوئی ہے،
اور پاکستان کی اکثر آبادی مفتی صاحب سے یا تو سرے سے واقف ہی نہیں‘ یا پھر صرف نام کی حد تک شناسا ہے مفتی تقی عثمانی صاحب وہ ہستی ھیں ‘ جسے سعودی عرب عرصۂ دراز سے نیشنیلٹی دے کر مستقل سعودی شہریت اور رِہائش کا اِصرار کررہا ہے‘ مگر یہ درویش اپنی مٹی سے محبت کا قرض چکانے کےلئے حرمین کا پڑوس چھوڑے ہوئے ہے۔جسے اپنے ملک کے حکام نے بھلے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ نہ دیا ہو‘
مگر اُردن کے بادشاہ نے اُن کی دینی خدمات کے اِعتراف میں اُنہیں اپنے ملک کا سب سے بڑا ایورڈ دیا ہے.
صرف اِسلامی دُنیا کے حکمران نہیں‘ بلکہ برطانیہ (اِنگلینڈ) کے سابقہ وزیراعظم ڈیوڈکیمرون سے لے کر شمالی (لاطینی) اَمریکہ کے صُدُور تک مفتی تقی صاحب سے وقت لے کر اُن سے اِسلام کے نظامِ معیشت پر آگاہی لیتے ہیں،
اور اپنے سودی نظام کے مقابلے میں اپنے ہاں اُسے نافذالعمل کروانے کے لئے مشورے لیتے ہیں.
جنہیں خطابات کےلئے صرف پاکستان یا دیگرممالک کے مدارس سے ہی دعوت نامے نہیں ملتے‘
بلکہ دُنیا کی نامور اور مشہورِ زمانہ یونیورسٹیوں سے لے کر ورلڈ اِکنامک فورم جیسے عالمی فورمز پر معیشت کے موضوع پر خطاب اور آگاہی پروگراموں کےلئے مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا جاتا ہے۔
ڈیڑھ سو سے زائد عربی، اُردو، فارسی اور انگریزی زَبانوں پر مبنی کتابوں کا علمی خزانہ اُمت کو لکھ کر ہدیہ کرچکے ہیں.
اور یہ کوئی ڈیڑھ سو کتابچے نہیں‘
بلکہ ایک کتاب کئی کئی جلدوں پر محیط ہے،
اور ہر ہرجلد میں ہزاروں صفحات ہیں۔
پاکستان کی اَعلیٰ عدالت سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بینچ کے کم و بیش بیس سال چیف جسٹس رہ چکے ہیں
اور اِس دَوران کئی تاریخی اور یادگار فیصلے صادر فرماچکے ہیں۔ جن میں ’’رِبا (یعنی سود)‘‘ کے خلاف تاریخی فیصلہ ہمارے عدالتی فیصلوں کے ماتھے کے جھومر کے طور پر تاقیامت چمکتا دمکتا اور یادگار رہے گا.
سود سے لتھڑی ہوئی آلودہ بینکاری کے مقابلے میں دُنیا کو سود سے پاک اِسلامی اُصولوں پر مبنی بینکاری کا مکمل نظام لکھ کر دے چکے ہیں۔
(نوٹ: موجودہ اِسلامی بینکاری کے نام سے مشہور بینک اِن کے بتائے ہوئے نظام پر عمل کررہے ہیں یا نہیں‘
اِس میں مفتی صاحب کا کوئی دَوش نہیں.
اُنہوں نے مکمل نظام مرتب کر دیا ہے۔
اب اہلِ اِقتدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِسلامی بینکوں کو مفتی تقی صاحب کے مروج کردہ اُصولوں پر چلانے کےلئے قانون سازی کرے۔
اگر کہیں کوئی کمی کوتاہی ہے‘ تو
اُس میں مفتی تقی صاحب کا کوئی قصور نہیں
اور یہ واحد اِسلامی مصنف ہیں‘
جنہوں نے آسان ترجمہ قرآن کو زمین کی بجائے فضاء میں لکھ کر عالمِ اِسلام میں ایک نئے ریکارڈ کا اِضافہ کیا۔
تین جلدوں پر مبنی آج تک لکھے گئے تراجمِ قرآنیہ میں سب سے سلیس بامحاورہ اور شستہ اُردو سے مزین خوبصورت ’’آسان ترجمۂ قرآن‘‘ سارے کا سارا اپنے عالمی اَسفار کے دَوران جہاز کی پرواز میں لکھا،
اور یوں ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کرگئے.
اِن سے پہلے چند لوگوں نے انگریزی میں قرآن کا ترجمہ کیا تھا‘ مگر وہ لوگ چونکہ باقاعدہ مولوی اور عربی پر اِتنی مہارت نہیں رکھتے تھے‘
بلکہ اُنہوں نے قرآن کے اُردو تراجم کو انگریزی میں نقل کیا تھا؛
اِس لئے اُن انگریزی تراجم میں وہ چاشنی نہ تھی۔
اِس طرح مفتی تقی عثمانی صاحب وہ پہلے عالمِ دین ہیں‘ جنہیں بذاتِ خود عربی پر مادری زُبان جتنا عُبور تھا، اور انگریزی میں بھی مہارتِ تامہ حاصل تھی۔
یوں دونوں زُبانوں پر مکمل عبور کی وجہ سے اِن کا لکھا گیا انگریزی ترجمۂ قرآن پاک آج یورپ کے مسلمانوں کی متاعِ عزیز بنا ہوا ہے،
اور بلاشبہ اُردو کی طرح انگریزی میں بھی اِن کے جیسا ترجمہ قرآن دوسرا نہیں ملتا۔
زندگی کے ایک لمحے کو قیمتی بنانے والے اور اُسے ذریعۂ آخرت بنانا کوئی مفتی تقی صاحب سے سیکھے۔ کہ جہاز کی پرواز کے دوران کے وقت کو بھی ضائع ہونے سے بچایا،
اور اُردو کا سب سے خوبصورت، مستند ، بامحاورہ آسان ترجمۂ قرآن لکھنے جیسے خوبصورت کام میں لگاکر ذخیرۂ آخرت بنا لیا.
سن 2009 میں پی آئی اے
(پاکستان اِنٹرنیشنل اِئیرلائن)
پر پوری دُنیا میں سب سے زیادہ ٹریولنگ کرنے والے مفتی تقی عثمانی صاحب تھے۔
جس پر پی آئی اے نے اِنہیں بطور اِعزاز عمر بھر کےلئے پی آئی اے پر سفر کرنے کی صورت میں اِن کو ایک تہائی یا آدھے کرائے میں سفر کرنے کی سہولت دے رکھی ہے.
مفتی تقی عثمانی صاحب اپنی مادری زُبان اُردو کے ساتھ دیگر چار زُبانوں ’’عربی، انگریزی، فارسی، اور ہسپانوی (Spanish)‘‘ پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔ خاص کر عربی اور انگریزی میں بہت ہی زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔
چنانچہ اُن کے اُردو سے زیادہ عربی اور انگریزی کے بیانات سے اِنٹرنیٹ بھرا پڑا ہے.
اِس کے علاوہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب پاکستان کے علاوہ دُنیا بھر میں کن کن عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ؟
یا ابھی تک فائز ہیں‘
اُن کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ فرمائیں
تادم تحریر جن عہدوں پر فائز ہیں:
1: چیئرمین شریعہ بورڈ آف اسٹیٹ بینک پاکستان۔
2: نائب مہتمم، اور شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم کراچی۔
3: چیئرمین اِنٹرنیشنل شریعہ اسٹینڈرڈ کونسل، اَکاؤنٹنگ اینڈ ایڈیٹنگ آرگنائزیش آف اِسلامک فائنانشل اِنسٹیٹیوشن، بحرین۔
4: مستقل ممبر، اور نائب صدر اِنٹرنیشنل فقہ الاسلامی اکیڈمی، جدہ، سعودی عرب۔
5: آرگن آف آرگنائزیشن آف اِسلامک کانفرنس (OIC)۔
6: ممبر رابطۃ العالم الاسلامی فقہ اکیڈمی مکہ، سعودی عرب۔
7: مستقل ممبر، اور نائب صدر اِنٹرنیشنل فقہ الاسلامی اکیڈمی، جدہ،سعودی عرب، (اسپانسرڈOIC)۔
8: چیئرمین سنٹرآف اِسلامک اِکنامکس، پاکستان (1991)۔
9: چیئرمین شریعہ بورڈ، سنٹرل بینک بحرین۔
10: چیئرمین شریعہ بورڈ، ابوظہبی اِسلامی بینک،
یواے ای(UAE)۔
11: چیئرمین شریعہ بورڈ، میزان بینک لمیٹڈ کراچی پاکستان۔
12: چیئرمین شریعہ بورڈ اِنٹرنیشنل اِسلامک ریٹنگ ایجنسی، بحرین۔
13: چیئرمین شریعہ بورڈ، پاک کویت تکافُل کراچی۔
14: چیئرمین شریعہ بورڈ، پاک قطر تکافُل کراچی۔
15: چیئرمین شریعہ بورڈ ’’JS‘‘ اِنویسٹمنٹ اِسلامک فنڈز، کراچی۔
16: چیئرمین شریعہ بورڈ ’’JS‘‘ اِسلامک پینشن سیونگ فنڈز۔
17: چیئرمین شریعہ بورڈ عارف حبیب اِنویسٹمنٹ پاکستان اِنٹرنیشنل اِسلامک فنڈ، کراچی۔
18: چیئرمین ’’Arcapita‘‘ اِنویسٹمنٹ فنڈز، بحرینْ
19: ممبر متحدہ شریعہ بورڈ اِسلامک ڈیویلپمنٹ بینک، جدہ، سعودی عرب۔
20: ممبر شریعہ بورڈ، گائیڈنس فائنانشل گروپ،
یو۔ایس۔اے (USA)۔
ماضی_میں_جن_عہدوں_پرفائزرہ_چکے:
21: جسٹس فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان، (’’1980‘‘تا، مئی’’1982‘‘)
22: چیف جسٹس، شریعت ایپلٹ بینچ، سپریم کورٹ آف پاکستان، (’’1982‘‘تا، مئی’’2002‘‘)۔
23: چیئرمین سنٹرآف اِسلامک اِکنامکس، پاکستان (1991)۔
24: ممبر سنڈیکیٹ یونیورسٹی آف کراچی،(’’1985‘‘تا’’1988‘‘)۔
25: ممبر بورڈ آف گورنمنٹ اِنٹرنیشنل اِسلامی یونیورسٹی، اِسلام آباد، (’’1985‘‘تا’’1989‘‘)۔
26: ممبر اِنٹرنیشنل اِنسٹیٹیوٹ آف اِسلامک اِکنامکس ،(’’1985‘‘تا’’1988‘‘)۔
27: ممبر کونسل آف اِسلامک آئیڈیا لوجی،(’’1977‘‘تا’’1981‘‘)۔
28: ممبر، بورڈ آف ٹرسٹیز اِنٹرنیشنل اِسلامک یونیورسٹی، اِسلام آباد،(’’2004‘‘تا’’2007‘‘)۔
29: ممبر، کمیشن آف اِسلامائزیشن آف اِکانومی، پاکستان آف پاکستان۔
۔جس کو دُنیا جہان نے اِعزازاً اِس قدر بڑے بڑے عہدے دے رکھے ہیں،
اور اپنے نیشنل لیول کے اِداروں کا چیئرمین بنا رکھا ہے، اُسے پاکستانی حکومت ایک بلٹ پروف گاڑی دینے کو تیار نہیں۔
اور وجہ صرف اِسلام دُشمنی ہے،
اور کچھ نہیں
مفتی تقی عثمانی صاحب کو صرف مسلم ہی نہیں‘
بلکہ دُنیا جہان کے تعلیم یافتہ اور باشعور لوگ بہت عزت اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
لیکن نہ تو پاکستانی قوم اُن کو صحیح سے جانتی ہے، اور اُس قدر کی۔ اور نہ ہی پاکستان کی حکومتوں نے کبھی اُن سے اُن کی صلاحیتوں کے بقدر کوئی بڑا کام کیا
جو شخص امریکہ اور طالبان جیسی دو متحارب طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لاسکتا ہے‘
اُس شخص سے اگر حکومتِ پاکستان چاہے‘
تو دینی چھوڑ دُنیاوی اِعتبار سے کتنے فوائد حاصل کرسکتی ہے۔ اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں کس قدر گراں مایہ خدمات لے سکتی ہے ؟
مگر افسوس ہمارے دولت پرست حکمرانوں پر‘
جنہوں نے کبھی پاکستان کے گوہر نایاب کو جاننے اور پہچاننے کی کوشش نہ کی۔
ضیاءالحق مرحوم نے اُن کی صلاحیتوں کا معترف ہوکر اُنہیں سپریم کورٹ کی شریعت ایپلٹ کا چیف جسٹس لگایا تھا‘
مگر جنرل نامشرف نے ’’سود‘‘ کو حرام قرار دینے کے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹنے پر زبردستی قبل اَز وقت معزول کردیا
مفتی تقی صاحب کی تعریف میں دیوان بھی لکھ دیے جائیں‘ تو وہ بھی کم ہیں۔
بس اِتنا کہنا چاہوں گا کہ اگر آج کی دُنیا میں اِقبال کے شعر کی کوئی زندہ مثال ہے‘ تو
وہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے سوا کوئی دوسرا نہیں۔
یوں لگتا ہے کہ اِقبال اپنی قبر سے اُٹھ کر دوبارہ سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے پھر سے اپنے شعر کو ترکیبِ لفظی دیتے ہوئے مفتی تقی صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہہ رہا ہے ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور تقی جیسا پیدا۔

15/11/2025

قرآن سمجھنے کیلئے بنیادی عربی گرائمر کا کورس ۔
۔ مکمل قرآن کا ترجمہ عربی سمجھ بوجھ کے ساتھ
داخلے کی اہلیت چھٹی اور ساتوں کلاس کے سٹوڈنٹس
کورس کی مدت : دو سال
کورس بذریعہ وٹس ایپ
فیس آسان ہوگی
ٹیچر : با اعتبار اور مستند علما کرام ۔
وٹس ایپ پر رابطہ کریں

15/11/2025

Asad Academy – Online Quran Learning
By M***i Muhammad Saqib
📞 0334-4377955

📖 Learn the Quran with Expert Teachers
• Quran Recitation
• Tajweed (Proper Pronunciation)
• Quranic Arabic

🎁 Get 3 Free Trial Classes!
👩‍🏫👨‍🏫 Male and Female Tutors Available
⏰ Flexible Timings – Choose the time that suits you
⌛ Each class is 30 minutes

✨ Feel free to contact us and begin your Quran learning journey today!

07/10/2025

Assalam O Alaikum Brothar .
Sister
I am Online Quran teacher
Good news for Muslims living in Pakistan 🇵🇰 America🇺🇸 Canada🇨🇦 Australia 🇦🇺 London🇦🇮 and around the world❤️❤️You and your family's children can learn
(1) Nazra Quran with tajweed
(2) Hifz ul Quran with tajweed

السلام و علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

عزیزان محترم..

ھمارے پاس الحَمْدُ ِلله

👇👇👇👇👇👇👇

پاکستان 🇵🇰امریکہ🇺🇸 کینیڈا🇨🇦 آسٹریلیا 🇦🇺 لندن🇦🇮 اور دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے خوشخبری❤️❤️آپ اور آپ کے خاندان کے بچے سیکھ سکتے ہیں"

👇👇👇👇👇👇👇

(1) ناظرہ قرآن مع تجوید
(2)حفظ القرآن مع تجوید

📞 ہم سے رابطہ کریں۔
واٹس ایپ۔
+923344377955

26/07/2025

Asad Academy

Quranic Arabic

Six Month Course

Time Flexibility

Contact Whatsapp Number

0334 4377955

08/07/2025
05/06/2025

‏چالیس 40 بلائیں جن سے اللہ بچائے۔

ایسی چالیس 40 بلائیں جن سے نبی کریم ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔

اٙلْلّٙھُمّٙ اِنِّیْ اٙعُوْذُبِکٙ
☆ 1۔ منَ الْعٙجْزِ
☆ 2۔ وٙالْکٙسَلِ
☆ 3۔ وٙالْجُبْنِ
☆ 4۔ وٙالْبُخْلِ
☆ 5۔ وٙالْھٙرٙمِ
☆ 6۔ وَالْقٙسْوٙةِ
☆ 7۔ وٙالْغٙفْلٙةِ
☆ 8۔ وٙالْعٙیْلٙةِ
☆ 9۔ وٙالذِّلّٙةِ
☆ 10۔ والْمٙسْکٙنٙةِ
اے اللہ! میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں عجز سے اور کاہلی سے اور بزدلی سے اور بخل سے اور بڑھاپے سے اور دل کی سختی سے اور غفلت سے اور تنگدستی سے اور ذلت سے اور محتاجگی سے

وٙ اٙعُوْذُبِکٙ
☆ 11۔ مِنَ الْفٙقْرِ
☆ 12۔ وٙالْکُفْرِ
☆ 13۔ وٙالشِّرْکِ
☆ 14۔ وٙالْفُسُوْقِ
☆ 15۔ وٙالشِّقٙاقِ
☆ 16۔ وٙالنِّفٙاقِ
☆ 17۔ وٙالسُّمْعٙةِ
☆ 18۔ وٙالرِّیٙاءِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں فقر سے اور کفر سے اور شرک سے اور فسق سے اور بدبختی سے اور منافقت سے اور ریاکاری سے اور دکھاوے سے

وٙ اٙعُوْذُبِکٙ
☆ 19۔ مِنَ الصَّمٙمِ
☆ 20۔ وٙالْبُکْمِ
☆ 21۔ وٙالْجُنُوْنِ
☆ 22۔ وٙالْجُذٙامِ
☆ 23۔ وٙالْبٙرَصِ
☆ 24۔ وٙسٙیِّئِ الْاٙسْقٙامِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں گونگے پن سے اور بہرے پن سے اور پاگل پن سے اور کوڑھ سے اور برص سے اور بری بیماریوں سے

وٙاٙعُوْذُبِک
☆ 25۔ مِنْ غٙلٙبٙةِ الدّٙیْنِ
☆ 26۔ وٙقٙھْرِالرِّجٙالِ
اور میں آپکی پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبے سے اور لوگوں کی زیادتی سے

وٙاٙعُوْذُبِکٙ
☆27۔ مِنَ الْمٙأثَمِ
☆28۔ وٙالْمٙغْرٙمِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں گناہوں سے اور دھوکے سے

وٙاٙعُوْذُبِکَ
☆ 29۔ مِنْ زٙوٙالِ نِعْمٙتِکٙ
☆ 30۔ وٙ تٙحٙوُّلِ عٙافِیٙتِکٙ
☆31۔ وٙ فُجٙاءٙةِ نِقْمٙتِکْ
☆ 32۔ وٙجٙمِیْعِ سٙخٙطِکْ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں آپ کی نعمتوں کے زائل ہونے سے اور آپ کی عافیت کے چھن جانے سے اور اچانک آپکی سزا کے آجانے سے اور آپکی تمام ناراضگی سے

☆ وٙاٙعُوْذُبِکٙ
☆ 33۔ مِنْ جٙھْدِ الْبٙلٙاءِ
☆ 34۔ وٙدٙرٙکِ الشَّقٙاءِ
☆ 35۔ وٙسُوْءِ الْقٙضٙاءِ
☆ 36۔ وٙشٙمٙاتٙةِ الْاٙعْدٙآءِ

اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں بلاؤں کے آجانے سے اور بدبختی کے پاجانے سے اور برے فیصلے سے اور دشمنوں کے شر سے

وٙاٙعُوْذُبِکٙ
☆ 37 - مِنٙ الْغٙرٙقِ
☆ 38- وٙالْحٙرٙق
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ڈوبنے سےاور جلنے سے

☆ 39- وٙاٙعُوْذُبِکٙ مِنْ سُوْءِ الْاٙخْلٙاقِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں برے اخلاق سے

☆ 40- وَأعُوْذُبِكَ مِنْ إمْرَئَةٍ تٌشَّيِّبُنِيْ قَبْلَ الْمَشِيْبِ
اور میں آپ کی پناہ چاہتا ہوں ایسی عورت سے جو مجھے بوڑھا کردے بڑھاپے سے پہلے۔

منقول

🌟 Unlock the Beauty of the Quran🌟

ASAD ACADEMY

📖 Learn Quran Online with M***i Saqib Asad and a team of professional tutors (both male & female available).

✨ What We Offer:
✅ Daily 30-minute classes (4 days a week)
✅ Recitation with Tajweed – Perfect your pronunciation!
✅ Personalized sessions for all ages & levels
✅ Flexible & affordable fees (pay as you wish!)

📅 Limited Slots Available! Enroll now and deepen your connection with the Quran.

00923344377955

📩 DM or WhatsApp to register today!

25/04/2025

اسلام میں موسیقی

1. قرآن مجید کی آیات:
- سورہ لقمان (31:6):
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ"
"اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو بات (لہو الحدیث) مول لیتے ہیں تاکہ بے علمی کے ساتھ اللہ کی راہ سے بھٹکائیں اور اسے مذاق بنائیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔"
اکثر مفسرین(جیسے ابن عباس، مجاہد، حسن بصری) کے نزدیک "لہو الحدیث"سے مراد گانا بجانا (موسیقی) ہے۔

- سورہ الاسراء (17:64):
"وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ..."
"اور جنہیں تو بہکا سکے، اپنی آواز (شیطانی وسوسوں/فریب) کے ذریعے انہیں اکسانے کی کوشش کر۔"
بعض علماء (جیسے امام ابن قیم) اس آیت میں "صوتک" (تیری آواز) کی تفسیر گانے بجانے اور موسیقی سے کرتے ہیں، جو شیطان کا ذریعہ ہے۔

---

2. احادیث نبویہ (صلی اللہ علیہ وسلم):
- صحیح بخاری (5590):
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ..."
"میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی (معازف) کو حلال کر لیں گے۔"
یہ حدیث واضح طور پر موسیقی (المعازف)کو حرام قرار دیتی ہے۔

- سنن ابی داؤد (4928):
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"صوتان ملعونان فی الدنیا والآخرۃ: مزمار عند نعمۃ، ورنۃ عند مصیبۃ"
"دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں: نعمت کے وقت بانسری (موسیقی) اور مصیبت کے وقت چلانا (رونا پیٹنا)۔"

- صحیح بخاری (3931):
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"لیشربن ناس من أمتی الخمر یسمونھا بغير اسمھا یعزف علی رؤوسھم بالمعازف والمغنيات..."
"میری امت کے بعض لوگ شراب پیں گے اور اسے دوسرے ناموں سے پکاریں گے، ان کے سروں پر گانے والیاں اور موسیقی کے آلات ہوں گے۔"

---
3. صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال:
- حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "الغناء ینبت النفاق فی القلب" (گانا دل میں نفاق اگاتا ہے)۔
- امام ابن قیم رحمہ اللہ نے "اغاثۃ اللھفان" میں لکھا کہ موسیقی دل کی بیماری ہے اور اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے۔
- امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا موقف ہے کہ موسیقی مکروہ یا حرام ہے۔

---

4. عقلی اور طبی دلائل:
- موسیقی انسان کو ذکر الٰہی سے غافل کرتی ہے۔
- اس میں شیطانی وسوسوں کا اثر ہوتا ہے (جیسے نوجوانوں کو برے کاموں پر اکسانا)۔
- جدید تحقیقات بھی ثابت کرتی ہیں کہ موسیقی انسانی دماغ پر منفی اثرات ڈالتی ہے۔

---


موسیقی کے حرام ہونے کے دلائل قرآن، حدیث، صحابہ کے اقوال اور اجماع امت سے ثابت ہیں، البتہ بعض علماء (جیسے امام غزالی) نے بغیر آلاتِ موسیقی کے حلال گانے (جیسے نعت، اسلامی اناشید) کی گنجائش دی ہے، لیکن آلات موسیقی اور فحش گیتوں پر تمام علماء متفق ہیں کہ یہ حرام ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے لہو ولعب سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین!

21/04/2025

🌟 Unlock the Beauty of the Quran🌟

ASAD ACADEMY

📖 Learn Quran Online with M***i Saqib Asad and a team of professional tutors (both male & female available).

✨ What We Offer:
✅ Daily 30-minute classes (4 days a week)
✅ Recitation with Tajweed – Perfect your pronunciation!
✅ Personalized sessions for all ages & levels
✅ Flexible & affordable fees (pay as you wish!)

📅 Limited Slots Available! Enroll now and deepen your connection with the Quran.

00923344377955

📩 DM or WhatsApp to register today!

21/04/2025

📌 جمع بین الصلاتین کا قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں شرعی تجزیہ اور جمع کے قائلین کے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

✒️ مفتی محمد مجاہد فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ

📍 اس تحریر میں پہلے ہم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلہ کو سمجھیں گے اور پھر جمع کرنے والوں کے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ لیں گے

" قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ اور احادیثِ شریفہ سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ نمازوں کو ان کے وقتِ مقررہ پر ادا کرنا ضروری ہے، اور ان میں تقدیم یا تاخیر جائز نہیں۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے: "

{إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ‌كِتَابًا ‌مَوْقُوتًا} /النساء: 103

اہلِ سنت کے مطابق ہر نماز کا وقت شریعت میں واضح طور پر متعین ہے، جیسا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے دو دن تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرواتے ہوئے واضح فرمایا—پہلے دن ہر نماز اول وقت میں پڑھائی، اور دوسرے دن آخر وقت میں۔ پھر فرمایا: "ہر نماز کا وقت ان دونوں کے درمیان ہے"۔

اگر ظہر اور عصر، اور اسی طرح مغرب اور عشاء، چار الگ الگ نمازوں کے بجائے صرف دو نمازیں ہوتیں، تو مجموعی طور پر فرض نمازوں کی تعداد تین قرار پاتی۔ ایسی صورت میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کو دس مرتبہ آنے کے بجائے صرف چھ مرتبہ آنا کافی ہوتا۔

لیجیے وہ حدیث پیش خدمت ہے جس میں حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دو دن تک دس مرتبہ امامت کروانا اور ہر نماز کا وقت الگ الگ متعین کرنا ثابت ہے۔

📚 «سنن أبي داود» (1/ 107 ت محيي الدين عبد الحميد):

393 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ فُلَانِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عليه السلام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاكِ، وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ، وَصَلَّى بِيَ يَعْنِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ صَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَهُ، وَصَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّهُ مِثْلَيْهِ، وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ» ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ، هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ، وَالْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ ‌الْوَقْتَيْنِ»

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی۔ پہلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، مغرب اس وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے (یعنی سورج غروب ہوتے ہی)، عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، اور فجر اس وقت پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے، یعنی صبح صادق کے طلوع ہونے پر۔

دوسرے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو گنا ہو گیا، مغرب اسی وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے، عشاء تہائی رات میں پڑھائی، اور فجر اجالے میں پڑھائی۔ پھر جبرائیل علیہ السلام میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! یہی وقت آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا بھی رہا ہے، اور ہر نماز کا وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔

قرآنِ کریم، احادیثِ صحیحہ اور امت کے فقہاء و محدثین کا اجماع بھی اسی موقف کی تائید کرتا ہے۔ اس کے برخلاف، شیعہ مسلک امتِ مسلمہ کے اجماعی فہم سے ہٹ کر یہ الگ رائے رکھتا ہے کہ بلا عذر بھی دو نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔

یہ مضمون کہ حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام دس مرتبہ آئے، معنوی طور پر متواتر ہے، اور یہ حدیث دس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔

📚 «سنن الترمذي» (1/ 196):

«وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَأَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، وَالْبَرَاءِ، وَأَنَسٍ.»

دو نمازوں کو بلا عذر جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکتوب سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ بلا کسی شرعی عذر کے دو نمازوں کو اکٹھا ادا کرنا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔

📚 «تفسير ابن أبي حاتم» (3/ 932):

«5208 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ يَعْنِي: الْعَدَوِيَّ قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ عْمَرٍ: مِنَ ‌الْكَبَائِرِ ‌جَمْعٌ ‌بَيْنَ ‌الصَّلاتَيْنِ، يَعْنِي: مِنْ غَيْرِ عذر»

قال ابن كثير: هذا اسناد صحيح

ابو قتادہ العدوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ہم پر حضرت عمر کا خط پڑھا گیا، جس میں یہ لکھا تھا:

"بڑی کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ بغیر کسی عذر کے دو نمازوں کو جمع کرنا ہے۔"

(یعنی بغیر کسی شرعی عذر کے دو فرض نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرنا کبیرہ گناہ شمار ہوتا ہے۔)

ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ سند صحیح ہے۔

🔵 بلا عذر دو نمازوں کو جمع کرنا جمہور فقہاء و محدثین کے نزدیک ناجائز ہے

بغیر کسی عذر (جیسے سفر، بارش یا خوف) کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا صرف فقہائے احناف کے نزدیک ہی ممنوع نہیں، بلکہ یہ مسئلہ جمہور فقہاء اور محدثین کے نزدیک بھی متفق علیہ ہے۔ کتبِ ستہ میں شامل ایک اہم کتاب جامع ترمذی کے مؤلف اور محدثِ وقت، امام ترمذی رحمہ اللہ جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شاگرد رشید ہیں، انہوں نے اپنی کتاب العلل میں واضح طور پر بیان فرمایا کہ ان کی اس کتاب میں درج تمام احادیث پر اہلِ علم کا عمل ہے، سوائے دو احادیث کے۔ ان میں سے ایک وہ حدیث ہے جس میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بغیر خوف، بارش یا سفر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع فرمائیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس پر کسی بھی اہلِ علم کا عمل نہیں، بلکہ سب کا عمل اس کے خلاف ہے۔ اس صریح بیان سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بغیر عذر کے دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا امت میں کسی بھی فقیہ یا محدث کا معمول نہیں رہا، بلکہ یہ عمل متروک و منسوخ ہے۔

کتبِ ستہ میں سے ایک اہم کتاب کے مؤلف اور محدثِ وقت، امام بخاری رحمہ اللہ کے مایہ ناز شاگرد امام ترمذی رحمہ اللہ "کتاب العلل" میں فرماتے ہیں:

📚 «كتاب العلل الواقع بآخر جامع الترمذي» (6/ 227):

«‌‌كِتَابُ الْعِلَلِ

جَمِيعُ مَا فِي هَذَا الْكِتَابِ مِنَ الْحَدِيثِ فَهُوَ مَعْمُولٌ بِهِ، وَقَدْ أَخَذَ بِهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ‌مَا ‌خَلَا حَدِيثَيْنِ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ وَلَا مَطَرٍ، وَحَدِيثَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ. وَقَدْ بَيَّنَّا عِلَّةَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا فِي الْكِتَابِ.»

اس کتاب میں جتنی احادیث ہیں سب ہی معمول بہا ہیں، جنہیں بعض اہلِ علم نے اختیار کیا ہے، سوائے دو حدیثوں کے: ایک حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر کی نماز، اور مغرب و عشاء کی نماز مدینہ منورہ میں خوف، سفر یا بارش کے عذر کے بغیر جمع فرمائی۔ اور دوسری حدیث کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شرابی چوتھی بار بھی شراب پیے تو اسے قتل کردو۔ اور ہم (امام ترمذی) نے ان دونوں حدیثوں کی علّت کتاب میں بیان کردی ہے۔

اسی ضابطے کو علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے

📚 «جامع الأصول» (1/ 173):

ألا ترى أن الإمام أبا عيسى الترمذي رحمه الله وهو من المشهورين بالحديث والفقه - قال في آخر كتابه «الجامع» : إن جميع ما في كتابنا من الحديث معمول به، وأخذ به بعض أهل العلم، ما خلا حديثين.

أحدهما: حديث ابن عباس «أن النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين الظهر والعصر بالمدينة، والمغرب والعشاء من غير خوف ولا سفر

روایات میں "جمع" سے مراد صورتاً جمع ہے، حقیقتاً نہیں

بعض روایات میں ظہر اور عصر، اسی طرح مغرب اور عشاء کو اکٹھا ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ ان روایات میں "جمع" کرنے سے مراد حقیقتاً دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا نہیں، بلکہ صورتاً جمع کرنا ہے۔ اس کی وضاحت یوں ہے کہ ظہر کی نماز اتنی تاخیر سے پڑھی جائے کہ اس کا وقت ختم ہونے کے قریب ہو، اور جیسے ہی ظہر سے فارغ ہوں، تھوڑا سا انتظار کر کے عصر کی نماز اس کے وقت کے آغاز میں ادا کر لی جائے۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کے ساتھ بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے۔

اس صورت میں دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں پڑھی جاتی ہیں، مگر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا دونوں نمازیں اکٹھی ادا کی گئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بعض مواقع پر دو نمازوں کو اسی طریقے سے ادا فرمایا، تو بعض راویوں نے یہ تعبیر اختیار کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں کو جمع فرمایا، حالانکہ حقیقت کچھ اور تھی، جیسا کہ تفصیلی روایات میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں...

📚 «صحيح مسلم» (1/ 489 ت عبد الباقي):

«46 - (704) وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ. حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ (يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ) عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ. ثُمَّ ‌نَزَلَ ‌فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا. فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ، صَلَّى الظُّهْرَ ثم ركب.»

رسول اللہﷺ جب سورج کے زائل ہونے سے قبل سفر فرماتے تو ظہر کو مؤخرفرماتے عصر تک، پھر (سواری سے) اترتے،اور دونوں نمازوں کو جمع فرماتے۔

📚 «صحيح مسلم» (1/ 489 ت عبد الباقي):

«45 - (703) وحدثني حرملة بن يحيى. أخبرنا ابن وهب. أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ. قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ؛ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي ‌السَّفَرِ، ‌يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ.»

میں نے رسول اللہﷺکودیکھا کہ جب آپ کو سفر پر جانے میں عجلت ہوتی تو مغرب کی نماز کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء کو جمع فرماتے۔

🔵 جمع بین الصلاتین کی روایات کی صحیح تعبیر: جمعِ صوری

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دو نمازوں کو جمع فرمانا حقیقتاً نہیں، بلکہ صورتاً تھا، جیسا کہ اس کی وضاحت ماقبل میں کی جا چکی ہے۔ چنانچہ اگر ان روایات کو جمعِ صوری پر محمول کیا جائے تو تمام آیات اور احادیث کے درمیان کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔ لیکن اگر ان روایات کو حقیقتاً جمع پر محمول کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد آیاتِ قرآنیہ اور صحیح احادیث کو ترک کرنا لازم آتا ہے۔ اس لیے ان روایات کی صحیح تعبیر یہی ہے کہ انہیں جمعِ صوری پر محمول کیا جائے، تاکہ قرآن و حدیث دونوں پر مکمل عمل کیا جا سکے اور باہم تضاد و ٹکراؤ پیدا نہ ہو۔

🔵 احناف کا موقف: ہر نماز اپنے وقت پر

خلاصہ یہ ہے کہ ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنا واجب ہے۔ احناف کے نزدیک سفر میں بھی دو نمازوں کو ایک وقت میں حقیقتاً جمع کرنا جائز نہیں۔ البتہ ضرورت کے وقت صورتاً جمع کی گنجائش ہے، مثلاً:

ظہر کی نماز کو مؤخر کر کے آخری وقت میں ادا کیا جائے اور عصر کو ابتدائی وقت میں، اسی طرح مغرب کو تاخیر سے آخری وقت میں پڑھا جائے اور عشاء کو اول وقت میں، تو یہ جمعِ صوری کہلاتا ہے، جس کی سفر میں اجازت دی گئی ہے۔

"ایک نماز کو مؤخر کر کے اس کے آخری وقت میں ادا کرنا، اور دوسری نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں پڑھنا—اس صورت میں دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں ادا کی جاتی ہیں؛ لیکن ظاہری طور پر ان کے درمیان جمع پایا جاتا ہے، کیونکہ دونوں بظاہر ایک ساتھ پڑھی جاتی ہیں۔ احناف کے نزدیک قرآن و حدیث کی روشنی میں جمعِ حقیقی صرف عرفات اور مزدلفہ میں جائز ہے۔

احناف کے مؤقف کی مستدل روایت صحیح بخاری میں موجود ہے، جس میں بطورِ حصر یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو مواقع کے سوا کسی موقع پر نماز کو حقیقی طور پر جمع نہیں فرمایا، یعنی ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا نہیں کیا۔"

📚 «صحيح البخاري» (2/ 166):

1682 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ : حَدَّثَنَا أَبِي : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رضي الله عنه قَالَ: «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلَاةً بِغَيْرِ مِيقَاتِهَا، إِلَّا صَلَاتَيْنِ: جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيقَاتِهَا».

ایک اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت آئی ہے

📚 «سنن النسائي» (5/ 445):

«3013 - أخبرنا إسماعيلُ بنُ مسعودٍ عن خالد عن شعبة، عن سليمان، عن عُمارة بن عُمير، عن عَبْدِ الرَّحمن بن يزيدعن عبد الله قال: كان رسولُ الله صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي الصَّلاةَ ‌لوقتها إلا بجَمْعٍ وعرفات»
إسناده صحيح

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز اس کے وقت پر پڑھتے تھے، سوائے مزدلفہ اور عرفات کے

🔴 جمع نہ کرنے پر اعتراضات کا تحقیقی جائزہ

پندرہویں صدی میں آکر اگر کوئی کہتا ہے کہ بلاعذر نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے اور اس پر صحیح مسلم کی حدیث 1629 کو بطور دلیل پیش کرتا ہے جس میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں بغیر کسی خوف اور سفر کے جمع کر کے پڑھا تاکہ آپ اپنی امت کو تنگی و دشواری میں نہ ڈالیں۔

اس حدیث سے کہا جائے کہ چونکہ حدیث میں بغیر کسی خوف اور سفر کے نمازیں جمع کرنے کا ذکر ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ بلاعذر نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں اور یہ سب امت کی آسانی کے لیے ہے۔

«الجواب » : پہلی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حقیقی طور پر نمازیں جمع کرنا کہیں سے بھی ثابت نہیں اور جمع حقیقی اور جمع صوری کا حکم اور اسکا ثبوت ہم اوپر پیش کر چکے ہیں یہاں پر بلاعذر نمازیں جمع کرنے سے متعلق عرض ہے کہ اس حدیث سے مراد یہ نہیں ہے کہ بغیر عذر کے بلکہ یہ کہا گیا ہے بغیر کسی خوف اور سفر کے یعنی نہ سفر کا عذر تھا نہ کسی خوف کا عذر تھا لیکن کوئی تیسرا عذر بھی تو ہو سکتا ہے کہ نہیں؟ جیسے بارش کا عذر یا کوئی اور تیسرا عذر!

جیسے کہ صحیح بخاری 543 میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں اکھٹی پڑھیں تھیں تو راوی نے کہا شاید بارش میں ایسا کیا ہو یعنی بغیر خوف اور بغیر سفر کے علاوہ بھی عذر ہو سکتا ہے جیسے بارش کا عذر جس کی طرف راوی نے اشارہ کیا۔

جیسے صحیح بخاری 632 میں ہے کہ جب بارش ہو رہی ہوتی تو اذان میں « ألا صلوا في الرحال‏ » کہ " لوگو! اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو " کا اضافہ کر دیا جاتا یعنی یہ عذر نکل آیا بارش کا تو نماز گھر پڑھ سکتے ہیں۔

مزید دیکھیں صحیح مسلم 1636 میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ درس دے رہے تھے تو کسی نے کہا مغرب کا وقت گزر رہا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
اکھٹی مغرب اور عشاء پڑھ لیں گے۔

یعنی اب وہ درس دے رہے تھے تو یہ بھی ایک عذر ہو گیا کیونکہ درس ہو رہا ہوگا عوام متوجہ ہوگی اس لیے درس مکمل کیا گیا تا کہ عوام اچھی طرح بات سمجھ سکے جو درس میں سمجھائی جا رہی تھی کیونکہ وقفہ سے کچھ لوگ جا سکتے ہیں کچھ باتیں بھول سکتے ہیں اس لیے مغرب اور عشاء کو اکھٹا کر لیا گیا درس جاری کے عذر کی وجہ سے۔اب کسی کی ڈیوٹی عصر سے عشاء تک ہو سکتی ہے جیسے آرمی والے جو اپنی جگہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں چھوڑ سکتے تو وہ عصر پڑھنے کے بعد مغرب اور عشاء اکھٹی پڑھ سکتے ہیں کیونکہ انکا بھی عذر ہے۔

پھر دوسری بات یہ کہ حدیث سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نمازیں جمع کرنا امت کی آسانی کے لیے ہے تاکہ امت کسی دشواری میں نہ پڑے۔اس بات سے یہ استدلال کرنا کہ چونکہ یہ امت کی آسانی کے لیے عمل تھا لہٰذا ہم بغیر عذر کے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں حالآنکہ اگر اس پر تھوڑا سا غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حدیث کے یہ الفاظ کہ " اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں " یہ الفاظ بلاعذر نمازیں جمع نہ کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔

اب اس بات کو ذرا سمجھیں۔۔۔

ایک شخص جو بلکل فارغ گھر میں بیٹھا ہے اسے کوئی ضروری کام بھی نہیں ہے اب ایسا شخص بغیر کسی عذر کے نماز جمع کرے گا تو وہ گناہگار ٹہرے گا کیونکہ اس پر تو کسی قسم کی کوئی دشواری ہی نہیں تھی جو اس نے نمازوں کو جمع کیا جبکہ دشواری تو اس شخص کے لیے ہوگی جسے کوئی بہت ضروری کام ہوگا۔ایک ایسا شخص جسے کوئی ضروری کام ہی نہیں تو اسے نماز پڑھنے میں دشواری کس بات کی؟

اسی طرح حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ امت دشواری میں نہ پڑے تو اس سے مراد وہی شخص ہوگا جسے واقعی میں کوئی عذر پیش آئے گا کیونکہ اگر کسی شخص کو کوئی ضروری کام بھی ہو اور اسے شریعت نے پھر بھی وقت پر نماز پڑھنے کا سخت حکم دیا ہو تو یقیناً یہ ایسے شخص کے لیے ہی دشواری کا کام ہوگا لیکن شریعت نے اس میں اس کے لیے آسانی فرمائی لیکن جو شخص بلکل فارغ ہو اور وہ وقت پر نماز پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کوئی دشواری نہیں اور نا ہی وہ اس حدیث کا مصداق ٹہرتا ہے۔

🔵 نمازیں جمع کرنے کا طریقہ

امت کے اجماع کے خلاف 1446 ہجری میں کوئی یہ کہے کہ نمازیں جمع کر کے پڑھی جا سکتی ہیں لیکن کسی ایک بھی صحیح حدیث سے یہ نہیں بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نمازیں جمع کیسے اور کس وقت کر کے پڑھتے تھے۔یعنی ظہر کے وقت میں ہی ظہر کیساتھ عصر کو پڑھا کرتے تھے یا پھر ظہر کو مؤخر کر کے عصر کے قریب جا کر پڑھتے تھے تو اس کی غلطی واضح ہے ۔

اہل سنت والجماعت کے نزدیک تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جمع کردہ نمازیں صورتاً تھیں ناکہ حقیقتاً جیسا کہ اوپر ثابت کیا جا چکا

🔵 اجماع کے مخالفین کو نصیحت

یہ آپ لوگوں کی نمازوں کا مسئلہ ہے۔ کسی نا اہل شخص کے پیچھے لگ کر اپنی نمازیں ضائع ہونے سے بچائیں۔اگر یونہی بلاعذر نمازیں جمع کرتے رہیں گے اور وہ بھی حقیقی طور پر تو آپ گناہ کبیرہ کے مرتکب ٹہریں گے لہٰذا دین علماء کرام سے سیکھیں اور بلاعذر نمازیں جمع کر کے پڑھنے سے بچیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Lahore
53700