22/09/2026
کبھی کبھی ایک بچہ ٹیچر کے سامنے شرارت کرتا ہے، بات نہیں مانتا، کلاس کے ساتھ نہیں چلتا اور بار بار ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جسے ہم فوراً بدتمیزی، ضد یا شرارت کا نام دے دیتے ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے وہ بچہ دراصل ایک ایسی زبان بول رہا ہو جس کے الفاظ اسے خود بھی معلوم نہیں۔ اس کی شرارت شاید اس کی بے چینی، توجہ کی ضرورت، گھر یا اسکول کے کسی تجربے، عدمِ تحفظ، بوریت، غصے یا صرف اس احساس کا اظہار ہو کہ “کوئی مجھے سمجھنے کی کوشش کرے۔” اچھا ٹیچر صرف بچے کے رویے کو نہیں دیکھتا، وہ اس رویے کے پیچھے چھپی کہانی کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ فوراً لیبل نہیں لگاتا، بلکہ خود سے پوچھتا ہے: یہ بچہ مجھے اپنے رویے کے ذریعے کیا بتا رہا ہے؟ یہی اصل ڈی سائفرنگ ہے بچے کو توڑنا نہیں، اسے پڑھنا؛ اسے خاموش کرانا نہیں، اس کی خاموش زبان سمجھنا۔ کیونکہ اکثر بچے اپنی اندر کی دنیا الفاظ سے نہیں، اپنے رویے سے باہر دکھاتے ہیں، اور ایک اچھا ٹیچر وہ ہوتا ہے جو شرارت کے پیچھے چھپی پکار سن لیتا ہے۔