16/08/2026
میونسپل کمیٹی کوٹ سمابہ میں سی ای او ندیم باری کے آتے ہی ترقیاتی کام ٹھپ ہو چکے ہیں۔ سابقہ چیف افسر زہیب افضل کے دور میں جو لائبریری چوک خوبصورتی کا شاہکار بنا تھا، وہ اب پھر خستہ حالی کا شکار ہے۔ شہریوں کے پوچھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ سی ای او کو شہر کی بہتری کے بجائے صرف اپنے ذاتی مفادات سے غرض ہے۔
ذرائع اور ملازمین کے مطابق سی ای او ندیم باری کا ذہنی توازن بھی درست نہیں ہے۔ وہ اپنا ذہنی توازن برقرار رکھنے کے لیے ادویات کا استعمال کرتے ہیں اور میڈیسن کی مقدار کم یا زیادہ ہونے پر بلاوجہ ملازمین پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر دو چار ملازمین کو دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ "تمہیں معطل کر رہا ہوں اور تمہاری نوکری کے خلاف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو خط لکھ رہا ہوں"، جس سے تمام عملہ شدید ڈپریشن اور بیماریوں کا شکار ہو چکا ہے۔ دفتر آنے والے سائلین کو بھی "باہر بھگاؤ" کے احکامات دے کر نکال دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سابقہ افسر زہیب افضل نے غیر قانونی تجارتی عمارتوں کے نقشوں کی تفتیش شروع کی تھی، جس سے بچنے کے لیے کرپٹ بلڈنگ انسپکٹر نوید اختر نے اثر و رسوخ سے ان کا تبادلہ کروایا اور ندیم باری کو تعینات کروایا۔ نوید اختر فی نقشہ لاکھ روپیہ رشوت لیتا ہے اور اس نے e-Biz (ای بز) کے آگاہی پینا فلیکس بھی اکھاڑ پھینکے ہیں تاکہ لوگ آن لائن پورٹل سے ناواقف رہیں۔
ندیم باری اب مظلوم بننے کا ڈراما کر رہے ہیں، جبکہ خان گڑھ میں ان پر 4 کروڑ 10 لاکھ کی کرپشن کا کیس چلتا رہا ہے اور ڈیرہ غازی خان، راجن پور و ظاہر پیر میں بھی ان کا ریکارڈ انتہائی متنازع رہا ہے۔ اہلیانِ شہر نے اسسٹنٹ کمشنر رحیم یار خان سے سی ای او کے خان گڑھ کیس، ملازمین پر مظالم، میڈیکل ہسٹری اور بلڈنگ انسپکٹر کی کرپشن کی فوری اور شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
زرائع: میونسپل کمیٹی کوٹسمابہ